Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Payar Howa Tha (Episode 9)

Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel

“ٰعرا آنکھیں کھولو اُٹھو پلیز”

زیاد عرا کو اپنے کمرے میں لانے کے بعد صوفے پر لٹاتا ہوا اس کا گال تھپتھپاکر بولا تو عرا آہستہ سے آنکھیں کھول کر اُس کو دیکھنے لگی

“یہ کیا حرکت کی تھی تم نے پول کتنا گہرا تھا اور تم نے اس میں جمپ لگادی”

زیاد عرا کو ہوش میں واپس آتا دیکھ کر اسے بولا تو عرا اٹھ کر بیٹھی

“اُس آدمی نے شیرو کا بیلٹ چھوڑا تو شیرو میری طرف تیزی سے بھاگتا ہوا آنے لگا زیاد میں ڈر گئی تھی ایک پل کے لیے مجھے کچھ سمجھ میں ہی نہیں آیا”

عرا سہمی ہوئی زیاد کو بتانے لگی

“عرا وہ آدمی ریان ہے میرا چھوٹا بھائی اور تمہارا بچپن کا دوست اس نے شیرو کا بیلٹ جان بوجھ کر نہیں چھوڑا بلکہ اُسی نے تمہیں بچایا ہے”

زیاد عرا کا ہاتھ تھامے اُس کو بتانے لگا

“وہ ریان تھا مجھے لگا پتہ نہیں کون ہے۔۔۔۔ اووو ہاں کل رات اُس کو پاکستان آنا تھا۔۔۔ زیاد کل رات تم کہاں تھے تم کل رات بھی اہنے روم میں نہیں آئے”

عرا زیاد کو دیکھتی ہوئی افسوس سے بولی تو عرا کی بات پر زیاد اُس کا چہرہ دیکھنے لگا

“ریان کے ساتھ باتیں کرتے وقت کا احساس نہیں ہوا کافی سالوں بعد ہم یوں مل کر بیٹھے تھے اور جب لیٹ نائٹ میں واپس آیا تب تک تم سو چکی تھی پھر تمہیں جگا کر ڈسٹرب نہیں کیا۔۔۔ کیا تم نے میرا کل رات کو انتظار کیا تھا”

زیاد عرا کے ہاتھوں کو چھوڑ کر اُس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھامے عرا کے قریب آتا ہوا اس سے پوچھنے لگا

“کیا تھا، کافی دیر تک تمہارا انتظار اور پرسوں رات بھی انتظار کیا تھا”

زیاد کے یوں قریب آنے پر عرا نظریں جھکاتی ہوئی زیاد سے بولی عرا کے منہ سے یہ بات سن کر زیاد کے لب ہلکے سے مسکرائے اِس وقت اُس کو عرا پر ٹوٹ کر پیار آیا

“سوری یار مجھے کل رات تمہارے پاس جلدی آنا چاہیے تھا لیکن اِس کا ازالہ میں آج رات پورا کردو گا”

زیاد نے بولنے کے ساتھ ہی عرا کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے جس پر عرا کی ہارٹ بیٹ ایک دم تیز ہوگئی

“میں چینج کر کے آتی ہوں”

یوں اچانک زیاد کی بےباک حرکت پر وہ گھبراتی ہوئی پیچھے ہٹی اور صوفے سے اٹھنے کی کوشش کرنے لگی مگر زیاد نے اسے بازوؤں سے تھام کر خود سے قریب کرلیا

“ایسے کیوں شرما رہی ہو یار کوئی غیر نہیں تمہارا شوہر ہوں”

عرا کے شرمانے پر وہ عرا سے بولتا ہوا دوبارہ عرا کے ہونٹوں کو پر جھکا اور اس کی سانسوں کو اپنی سانسوں میں قید کرنے لگا اب کی مرتبہ عرا نے اس کو پیچھے نہیں کیا نہ ہی وہ زیاد سے دور ہوئی زیاد اس کے ہونٹوں پر جھکا اپنی پیاس بجھا رہا تھا تبھی اچانک کمرے کا دروازہ کھلا

“یہ وہی عرا ہے بچپن والی۔۔۔

ریان بولتا ہوا زیاد کے بیڈ روم میں داخل ہوا مگر زیاد کو ایک دم اپنی بیوی سے دور ہوتا دیکھ کر اور عرا کے یوں گھبرانے پر ریان کی زبان اور قدم دونوں کو بریک لگا

“سوری آئی تھنک مجھے ناک کرکے اندر آنا چاہیے تھا”

زیاد کے بری طرح گھورنے پر وہ ایک دم نادم ہوتا اپنی غلطی مان کر بولا پھر عرا کے جانب دیکھنے لگا جو اُس کو دیکھ کر بری طرح شرمندہ ہوئی تھی اور اب اس کی بجائے باہر کھڑکی کی طرف دیکھ رہی تھی

“عرا”

ریان نے بےحد آہستگی سے عرا کو اُس کے نام سے پکارا تو عرا ریان کی طرف دیکھنے لگی زیاد خود بھی ریان کے تاثرات دیکھنے لگا وہ عرا کو بس خاموش نظروں سے دیکھے جارہا تھا اُس کے چہرے پر ایکسائٹمنٹ یا کوئی خوشی سے ملتا ہوا کوئی تاثر نہ تھا زیاد نے دوسری نظر عرا پر ڈالی جو ریان کے یوں دیکھنے پر نروس ہوکر زیاد کو دیکھنے لگی

“شی از مائے وائف اسے گھورنا بند کرو وہ تمہارے یوں دیکھنے سے نروس ہورہی ہے”

زیاد ریان کو ٹوکتا ہوا اس کے گھورنے کا احساس دلانے لگا تو ریان ایک دم ہوش میں آیا پھر ہلکا سا مسکراتا ہوا زیاد کو دیکھنے لگا

“تو یہ تھا تمہارا سرپرائز اُس کو دیکھ کر تو مجھے ایسے ہی شاکڈ ہوکر دیکھنا بنتا تھا”

ریان عرا کی جانب دوبارہ دیکھتا ہوا بولا پھر کچھ سوچ کر مسکراتے ہوئے اس نے اپنا سر جھٹکا اُس کی مسکراہٹ کچھ عجیب سی تھی جس کے بعد ریان بناء کچھ بولے خاموشی سے اُس کے کمرے سے باہر نکل گیا

“عجیب طریقے سے ملا ہے یہ تو، بچپن میں تو یہ ایسا نہیں تھا”

عرا ریان کے جانے کے بعد زیاد سے بولی جیسے ریان اس کو دیکھ رہا تھا عرا کو عجیب ہی لگ رہا تھا مگر زیاد نے عرا کی بات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا وہ ابھی بھی خاموش کھڑا تھا اور ریان کے رد عمل کو سوچ رہا تھا جس پر عرا دوبارہ بولی

“شاید میں ریان کو بھی کچھ خاص پسند نہیں آئی”

عرا بےدلی سے بولتی ہوئی اداس ہوئی مائے نور، شیرو اور اب ریان سکندر۔۔۔۔ یعنٰی سکندر ولا کا تیسرا فرد بھی اس لسٹ میں شامل ہوچکا تھا جو اُسے ناپسند کرتا تھا

“اور مجھے لگ رہا ہے کچھ زیادہ ہی پسند آگئی ہو”

زیاد بےخیالی میں منہ ہی منہ میں بڑبڑایا جس پر عرا کو کچھ سمجھ نہیں آیا

“کیا؟؟”

عرا کے پوچھنے پر وہ عرا کی طرف متوجہ ہوا

“کچھ نہیں۔۔۔ جاؤ چینج کر کے آجاؤ پھر ناشتے کی ٹیبل پر چلتے ہیں سب ویٹ کررہے ہوگے ہمارا”

زیاد عرا کو دیکھتا ہوا بولا اور خود بھی وارڈروب کی جانب بڑھ گیا اور اپنے آفس کے لیے ڈریس نکالنے لگا

****

“کیا سوچ رہے ہو”

13 سالہ زیاد اپنے کمرے میں موجود کرسی پر بیٹھا ہوا تھا تب ریان اس کے پاس آتا ہوا پوچھنے لگا

“عرا کے بارے میں سوچ رہا ہوں اُس کی پھپھو اسے لےکر چلی گئی ہیں معلوم نہیں عرا سے اب کیسے دوبارہ ملاقات ہوگی”

زیاد اداس ہوکر ریان سے بولا

“اُس کے ڈیڈ کا مرڈر کرنے کے باوجود ابھی بھی تم عرا کے متعلق ہی سوچ رہے ہو”

ریان زیاد کی بات پر تعجب کرتا بولا تو زیاد کے چہرے پر ناگواری در آئی

“ماہی نے بولا تھا وہ ماڈر نہیں تھا بلکہ ایک برا حادثہ تھا اور ہم لوگوں کو اُس کے متعلق بات نہیں کرنی چاہیے ویسے بھی اس کے ڈیڈ اچھے انسان نہیں تھے لیکن عرا بہت اچھی اور انوسنٹ ہے اور میں اُس کے بارے میں سوچ سکتا ہوں”

زیاد ریان کو دیکھتا ہوا بولا

“ویسے تم عرا کے بارے میں کیا سوچ رہے ہو”

ریان تجُسس سے زیاد کو دیکھتا ہوا اُس سے پوچھنے لگا

“میں عرا کے متعلق جو بھی سوچ رہا ہوں وہ میں تمہیں نہیں بتاؤ گا”

زیاد ریان کو دیکھ کر صاف انکار کرتا ہوا بولا

“ویسے عرا کو تو میں بھی کافی مس کررہا ہوں وہ تھی ہی اتنی کیوٹ سی میری وش ہے جب میں بڑا ہو جاؤں تو میں عرا کو تم سے پہلے ڈھونڈ لوں”

ریان زیاد کی بات سننے کے بعد جلدی سے اس کو دیکھتا ہوا بولا

“اچھا پھر اُس سے کیا ہوگا”

زیاد ریان سے پوچھنے لگا جس پر ریان کے چہرے پر شرارت بھری مسکراہٹ ابھری

“یہ تو میں تمہیں تبھی بتاؤں گا جس دن عرا مجھے مل جائے گی”

وہ زیاد کو چڑانے والے انداز میں بولا اور ہنسا۔۔۔ ریان کی اِس بات پر زیاد سچ میں چڑ بھی گیا

“اور میں دعا کرتا ہوں تمہاری یہ وش کبھی بھی پوری نہ ہو اسٹوپڈ انسان جاؤ یہاں سے میرا دماغ مت خراب کرو”

ریان زیاد کے اس طرح جلنے پر ہنسا تھا اور کمرے سے باہر چلا گیا

“تو میری بچپن کی وش پوری نہیں ہوسکی تمہاری دعاؤں نے میری وش کا راستہ روک لیا۔۔۔ یہ میرے ساتھ اچھا نہیں ہوا”

ریان اپنے شرٹ تبدیل کرتا ہوا اپنی سوچوں میں زیاد کو مخاطب کرتا بولا عرا کو زیاد کی بیوی کے روپ میں دیکھ کر نہ جانے کیوں اُس کو اندر سے خوشی نہیں ہوئی تھی اور نہ وہ جھوٹ موڈ خوش ہونے کی ایکٹنگ کرسکا تھا اُس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ زیاد عرا کو ڈھونڈ نکالے گا اور زیاد موبائل فون پر اب تک اُس سے عرا کا ذکر کرتا آرہا تھا ایک مرتبہ بھی ریان کا دماغ اِس طرف نہیں گیا بےدلی سے شرٹ پہننے کے بعد وہ اپنے ہینڈ کیری سے وہ لاکٹ نکالنے لگا جو اُس نے اسپیشلی زیاد کی بیوی کے لیے خریدا تھا ریان اُس لاکٹ کو دیکھنے لگا جو اُس جیولری شاپ کا سب سے خوبصورت لاکٹ تھا بقول زیاد کے اُس کی بیوی کے شان و شایان منہ دکھائی کا تحفہ ہونا چاہیے مگر زیاد کی بیوی کے آگے اب اس لاکٹ کی خوبصورتی ریان کو معمولی محسوس ہورہی تھی دل میں نہ جانے کیوں ہوک سی اٹھی ریان نے وہ لاکٹ وہی ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ دیا وہ ناشتے کے لیے ڈائینگ ہال کی طرف جانے کے لیے اپنے کمرے سے باہر نکلنے لگا مگر اس سے پہلے ہی ریان کے کمرے کا دروازہ کھلا اور کمرے کے اندر آتی عشوہ اچانک اس کے سینے سے لگ گئی یہ عمل اِس قدر تیزی سے ہوا کہ ریان کو سنبھلنے کا موقع بھی نہ ملا

“کب سے انتظار کررہی تھی آپ کا، آنکھیں ترس گئی تھی آپ کو قریب سے دیکھنے کے لیے اسطرح اپنے قریب محسوس کرنے کے لیے ہر لمحہ ہر پل ہر گھڑی میں نے آپ کو بہت شدت سے یاد کیا ہے”

عشوہ ریان کے سینے سے لگی ہوئی اپنے دونوں ہاتھ اس کی کمر پر باندھ کر آنکھیں بند کرتی جذب کے عالم میں ریان سے بولی عشوہ کی اس حرکت پر ریان کے چہرے پر ایک ناگوار سا تاثر ابھرا ساتھ ہی ریان نے عشوہ کے دونوں ہاتھ اپنی کمر سے ہٹاکر اسے بازو سے پکڑ کر پیچھے کیا تو عشوہ آنکھیں کھولتی ہوئی ریان کا چہرہ دیکھنے لگی

“تم اب چھوٹی بچی نہیں رہی ہو بڑی ہوگئی ہو تمہیں اس بات کو یاد رکھ کر مجھ سے ملنا چاہیے اور مخاطب ہونا چاہیے”

ریان عشوہ کو دیکھ کر جتاتا ہوا بولا اُس کے چہرے پر چھائی ناگواری میں کوئی کمی نہیں آئی تھی جس کو محسوس کرنے کے باوجود عشوہ اُس کو دیکھ کر مسکرائی

“شکر ہے آپ نے اِس بات کو تسلیم تو کیا کہ میں اب بچی نہیں رہی ہوں بلکہ بڑی ہوگئی ہوں، بس اب میرے دل میں موجود اپنے جذبات کو بھی تسلیم کرلیں”

عشوہ ریان کو دیکھتی ہوئی بولی

“ہاں بڑی ضرور ہوگئی ہو مگر عقل ابھی تک تمہاری گھٹنوں میں موجود ہے بچکانہ سوچ ہے تمہاری اِس طرح کی فضول باتیں میرے سامنے دوبارہ مت کیا کرو مجھے پسند نہیں”

ریان اسے تنبیہ کرتا ہوا اپنے کمرے سے جانے لگا

“واؤ اٹس بیوٹی فل”

عشوہ کی نظریں ڈریسنگ ٹیبل پر رکھے اس لاکٹ پر پڑی تو بےساختہ اُس کے منہ سے تعریفی جملے نکلے ساتھ ہی اُس نے لاکٹ کو اپنے گلے کی زینت بنانا چاہا تبھی ریان نے آگے بڑھ کر عشوہ سے وہ لاکٹ لےلیا

“عاشو یہ تمہارے لیے نہیں ہے زیاد کی بیوی کے لیے لیا تھا میں نے”

ریان اُس سے لاکٹ لےکر واپس ٹیبل پر رکھتا ہوا عشوہ سے بولا تو عشوہ برا مانے بغیر مسکرا دی

“میرے لیے آپ کی آمد ہی سب سے بڑا تحفہ ہے، ماہی ویٹ کررہی ہیں آپ کا ناشتے کی ٹیبل پر”

عشوہ ریان کو بولتی ہوئی اُس کے کمرے سے باہر چلی گئی ریان خاموشی سے عشوہ کو اپنے کمرے سے جاتا ہوا دیکھنے لگا پھر بےدازی سے سر جھٹک کر خود بھی ڈائینگ ہال کی طرف جانے لگا

****

What do you mean you are pregnant???

زیاد کے آفس سے لوٹنے کا انتظار کرتی عرا جب شام کے وقت لان میں آئی تب عرا کے قدم مردانہ آواز پر رکے وہ موبائل کان سے لگائے عرا کی جانب پشت کیے انگریزی میں بےحد سنجیدگی سے بات کررہا تھا عرا ریان کو دیکھے بغیر ہی اُس کے اونچے قد کاٹھ سے پہچان چکی تھی

“ایلکس اگر یہ مذاق ہے تو نہایت ہی بےہودہ قسم کا مذاق ہے اور اگر یہ سچ ہے جس کے چانسز نہ ہونے کے برابر ہیں تو اِس قصّے کو فوراً ہی ختم کردو کیوکہ تم اچھی طرح جانتی ہو میں اس قسم کی کوئی بھی ذمہ داری نہیں اٹھاؤں گا”

ریان ایلکس سے بات کرتا ہوا جیسے ہی پلٹا وہاں عرا کو کھڑا دیکھ کر ایک پل کے لیے چونکا اُس کے چہرے کا رنگ فق ہوا ویسے ہی عرا بھی ریان کو اپنی جانب متوجہ دیکھ کر شرمندہ ہوئی ریان نے فون کال کاٹی

“تم۔۔۔ تم یہاں کیا کر رہی ہو خیریت تھی”

ریان اپنے چہرے کے زاویے درست کرتا عرا کو چہرے سے جانچتا ہوا اس سے پوچھنے لگا نہ جانے اُسے کیو شک گزرا تھا کہ وہ اُس کی ایلکس سے گفتگو سن چکی تھی

“زیاد ابھی تک آفس سے واپس نہیں آیا میں اُسی کا ویٹ کررہی تھی”

عرا نے جو کچھ اُس کے موبائل پر گفتگو سنی تھی اُس کو اپنے ذہن سے جھٹک کر خود کو نارمل رکھتی ہوئی ریان سے بولی ریان عرا کا چہرہ غور سے دیکھتا ہوا قدم اٹھاکر چلتا ہوا عرا کی جانب آیا تو عرا بھی غور سے ریان کا چہرہ دیکھنے لگی وہ بچپن میں کافی شرارتی ہوا کرتا تھا مگر اب وہ بہت زیادہ بدل چکا تھا اور جس طرح کی وہ نیچر اور طبیعت رکھتا تھا عرا کو اُسے دیکھ کر کافی مایوسی ہوئی تھی

“کیا ہم دونوں تھوڑی دیر کے لیے بات کرسکتے ہیں”

ریان عرا کا چہرہ دیکھتا ہوا اُس سے پوچھنے لگا

“نہیں۔۔۔ میرا مطلب ہے ابھی نہیں”

بےساختہ ہی اُسے انکار کرنے کے بعد عرا بات بناتی ہوئی بولی۔۔۔۔ ریان کے یوں اتنے قریب سے دیکھنے پر ہی اسے عجیب گھبراہٹ ہونے لگی تھی وہ کچھ عجیب سا ہی انسان تھا عجیب سی نیچر کا مالک عرا اسے انکار کرتی ہوئی گھر کے اندر جانے لگی

“عرا پلیز رک جاؤ”

عرا کے یوں دور جانے پر نہ جانے کیو ایک پل کے لیے اسے بےچینی کا سا احساس ہوا تھا ریان نے بےساختہ اسے رکنے کے لیے بولا تو عرا رک کر ریان کو دیکھنے لگی اُس کے چہرے پر شرمندگی اور انداز عجیب بےچینی لیے ہوئے تھا

“آئی ڈونٹ نو تم نے کال پر کیا سنا کیا سمجھا مگر جو تم سمجھ رہی ہو ایسی بات نہیں میں ویسا انسان نہیں ہوں”

نہ جانے کیوں اُس نے عرا کو اپنے کردار کی وضاحت دینا ضروری سمجھا یہ حرکت اُس نے اپنے مزاج اور اپنی لاپرواہ طبیعت کے خلاف کی تھی وہ کسی کی پرواہ کرنے والا انسان نہ تھا بلکہ نڈر اور بےباک قسم کی طبیعت رکھتا تھا لیکن سامنے کھڑی لڑکی کی نظروں میں اپنا گرتا ہوا امیج اُس نے کلیئر کرنا ضروری سمجھا تھا

“اوکے اب میں جاؤں”

عرا ریان کی بات سن کر بولی اس کے جواب کا انظار کیے بغیر گھر کے اندر چلی گئی

“شٹ”

وہ غصے میں بالوں میں انگلیاں پھنسائے لان میں کرسی پر بیٹھا ایلکس سے اُس کی ہونے والی موبائل پر بات پر وہ غصے میں ایلکس کو کال ملانے لگا مگر دوسری طرف نمبر بزی تھا ریان نے اپنا موبائل سامنے ٹیبل پر پٹخا اپنے پاس آتے شیرو کی جانب متوجہ ہوا

****

“عرا کہاں پر ہے یہاں ساری فیملی موجود ہے اُس کو بھی بلاؤ ناں یہاں”

رات کے ڈنر کے بعد جب سب سٹنگ روم میں بیٹھے تھے تب ریان زیاد کو مخاطب کرتا بولا زیاد کی بیوی جو بےضرر سی لڑکی معلوم ہوتی تھی نہ کسی سے بات کرتی تھی اور نہ ہی نظر اٹھاکر کسی کی طرف دیکھتی تھی پھر بھی اُس کی موجودگی ریان کو اچھی لگی تھی ریان کی بات سن کر زیاد نے ایک نظر مائے نور پر ڈالی جس کے چہرے کی مسکراہٹ ریان کی بات سے غائب ہوچکی تھی

“وہ بہتر فیل نہیں کررہی ہے اِس لیے بیڈ روم میں چلی گئی ہے ریسٹ کرنے کے لیے”

زیاد مائے نور پر سے نظریں ہٹاکر ریان سے بولا زیاد نہیں چاہتا تھا مائے نور عرا کو دیکھ کر دوبارہ کوئی ایسی بات کرے جس پر عرا ہرٹ ہو مائے نور نے آج صبح ناشتے کی ٹیبل پر اور ڈنر کے وقت ریان کی موجودگی کا لحاظ کرکے عرا پر اپنی ناگواری نہیں جتائی تھی عرا خود بھی مائے نور کے رویے کو سمجھ چکی تھی اس لیے ڈنر کے بعد خود ہی خاموشی سے بیڈ روم میں چلی گئی تھی جس طرح مائے نور کا عرا سے رویہ تھا بہتر یہی تھا کہ عرا کمرے میں رہتی

“اگر وہ بہتر فیل نہیں کررہی ہے تو پھر تم یہاں کیا کررہے ہو تمہیں اس وقت اپنی وائف کے پاس ہونا چاہیے تمہاری نیچر ڈیڈ جیسی لاپرواہ تو ہرگز نہیں تھی”

ریان زیاد کو دیکھتا ہوا بولا جس پر زیاد سے پہلے ہی مائے نور بولی

“اِس میں تمہارے ڈیڈ کا ذکر بیچ میں کہاں سے آگیا اور وہ اپنی بیوی کے چکر میں کیا اپنی باقی کی فیملی کو اگنور کردے اِس کی بیوی کے تو مزاج ہی نہیں مل رہے پہلے دن سے ہی ہر وقت اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائے رہتی ہے اور تمہیں اُس لڑکی کی زیادہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے”

مائے نور چہرے پر ناگواری لائے ریان سے بولی اسے بالکل بھی برداشت نہیں ہورہا تھا اُس کا دوسرا بیٹا بھی اُس لڑکی کی حمایت میں بول رہا تھا جو لڑکی اسے روزِ اوّل سے ناپسند تھی جبکہ زیاد نے مائے نور کی بات پر شکوہ بھری نظر مائے نور پر ڈالی وہ ساری اخلاقیات بلائے طاق رکھ کر ریان کے سامنے عرا کے لیے ایسے لفظ استعمال کررہی تھی

“چلو جی اب سکندر ولا میں بھی ساس بہو والے جھگڑے اور تماشے شروع ہوگئے ہیں آئی ہیٹ دس انوائرمنٹ۔۔۔ کیا عورتیں ایک گھر میں سکون سے مِل جُل کر نہیں رہ سکتیں یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے ماں۔۔۔ اور میں نے آپ سے ہرگز یہ ایکسپیکٹ نہیں کیا تھا کہ آپ ٹیپیکل ساس جیسی نکلے گیں”

ریان مائے نور کو دیکھتا ہوا افسوس بولا بےشک صبح ناشتے اور رات کے ڈنر پر کوئی ایسی خاص بات تو نہیں ہوئی تھی مگر اس نے اپنی ماں کے چہرے پر چھائی بےزاریت تبھی محسوس کرلی تھی جب عرا ڈائینگ ہال کی ٹیبل پر آئی تھی

“تم اُس لڑکی کی حمایت میں مجھ سے کیسی باتیں بول رہے ہو اپنی ماں سے یہ بکواس کرتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آرہی ہے”

مائے نور کو ریان کی باتیں سُن کر شدید غصہ آیا جبھی وہ چہرے پر غصہ لائے ریان کے اوپر ہی برس پڑی اِس سے پہلے مائے نور کی بات پر ریان کچھ بولتا زیاد بول اٹھا

“ریان تمہیں ماں سے ایسے بات نہیں کرنی چاہیے انہیں سوری بولو”

زیاد کی بات سُن کر ریان حیرت سے اُس کو دیکھتا ہوا بولا

“یعنٰی اِس کا مطلب ہے ماں جو کچھ بھی تمہاری بیوی کی نیچر کے متعلق بول رہی ہیں وہ سب ٹھیک ہے مطلب تم بھی ماں کی بات سے ایگری کرتے ہو جبھی مجھے سوری بولنے کا کہہ رہے ہو”

ریان ابرو اچکا کر زیاد سے طنزیہ لہجے میں پوچھنے لگا زیاد اپنا غُصّہ ضبط کیے ریان کو دیکھنے لگا پھر کچھ بولے بناء اُٹھ کر اپنے کمرے کی طرف چل دیا زیاد کے جانے کے بعد ریان مائے نور کے پاس آکر صوفے سے نیچے اُس کے قدموں کے پاس بیٹھا

“آئی ایم سوری ماں میرا مقصد آپ کو ہرٹ کرنا یا پھر غُصّہ دلانا ہرگز نہیں تھا اگر آپ کو میری بات بری لگی ہے تو اُس کے لیے میں آپ سے معافی مانگتا ہوں لیکن عرا بہت انوسینٹ ہے ویسے ہی جیسے وہ بچپن میں تھی آپ پلیز اس بات کو ذہن میں رکھیں وہ بچپن سے ہی ماں کے پیار کو ترسی ہوئی ہے اور اس کے ڈیڈ۔۔۔ کہیں نہ کہیں اس کا بچپن ہماری وجہ سے بھی متاثر ہوا ہے اگر وہ یہاں ایڈجسٹ نہیں کر پارہی تو اس کو تھوڑا ٹائم دیں اس سے اپنا دل مت خراب کریں”

ریان مائے نور سے بولتا ہوا خود بھی وہاں سے اپنے روم میں چلا گیا

“دیکھا تم نے کیسے یہ دونوں بھائی مل کر اُس لڑکی کی حمایت کررہے ہیں اس لڑکی کو سکندر ولا سے نہ نکلوایا تو میرا نام مائے نور نہیں”

مائے نور خاموش بیٹھی ہوئی عشوہ کو دیکھ کر بولی جو سارے وقت بالکل خاموشی سے سب کی باتیں سن رہی تھی پہلی مرتبہ اسے مائے نور کے بات بری نہیں لگی تھی کیونکہ ریان کا یوں عرا کی حمایت میں بولنا اسے بھی کچھ خاص پسند نہیں آیا تھا

****

عرا جو بیڈ روم میں آنے کے بعد زیاد کے آنے کا انتظار کررہی تھی زیاد نے اپنے بیڈ روم میں قدم رکھا تو عرا کو کھڑکی سے باہر لان کی جانب دیکھتا ہوا سوچوں میں گم پایا۔۔۔۔ وہ عرا کے پاس آکر اس کے بالوں پر اپنے ہونٹ رکھتا ہوا پشت سے عرا کو حصار میں لے چکا تھا جس پر عرا نے مڑ کر زیاد کی طرف دیکھا تو عرا کے دیکھنے پر زیاد ہلکا سا مسکرایا

“ابھی تھوڑی دیر پہلے ریان کی آنٹی سے کس بات پر بحث ہورہی تھی”

عرا کی بات سن کر زیاد کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئی اس نے عرا کے گرد باندھے اپنے ہاتھ ہٹائے

“جب تمہیں معلوم ہے اُن دونوں کی بحث ہورہی تھی تو یہ بھی جانتی ہوگی کس ٹاپک پر بحث ہورہی تھی”

زیاد عرا کا چہرہ دیکھتا ہوا اس سے بولا تو عرا نے پلٹ کر اپنا رُخ اُس کی جانب کیا

“زیاد میں ڈنر کے بعد بیڈ روم میں اس لیے آگئی تھی تاکہ میری وجہ سے آنٹی کا موڈ خراب نہ ہو وہ غلط سمجھ رہی ہیں میں بھلا ڈیڑھ اینٹ ہی مسجد کیو بناؤ گی نہ تو میری ایسی تربیت کی گئی ہے اور نہ ہی میری ایسی نیچر ہے”

عرا زیاد کی جانب دیکھتی ہوئی اسے بتانے لگی عرا بات سن کر زیاد نے اُس کے دونوں ہاتھوں کو تھاما

“میں نے تم سے کوئی شکایت کی یا پھر تم سے کچھ بولا میں جانتا ہوں تمہاری نیچر کیسی ہے تمہیں مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے”

زیاد عرا کو دیکھتا ہوا نرم لہجے میں بولا وہ چاہ کر بھی اُس کو اپنے گھر میں خوشگوار ماحول نہیں دے پایا تھا اِس بات کا زیاد کو خود بھی دلی طور پر رنج تھا

“تو پھر تم ریان کو آنٹی سے سوری کہنے کا کیوں بول رہے تھے”

عرہ کے پوچھنے پر زیاد کے تاثرات سنجیدہ ہوئے اس نے عرا کے تھامے ہوئے دونوں ہاتھ چھوڑے

“عرا میرے ڈیڈ بہت جلد ہمیں چھوڑ کر چلے گئے ہیں ماں نے ہم دونوں بھائیوں کو اکیلا پالا ہے میں نہیں چاہتا میری یا پھر ریان کے کسی بھی رد عمل یا بات سے ماں کو تکلیف پہنچے اِس لیے ریان سے سوری کہنے کا بولا تھا ریان کی عزت نہیں گھٹ جائے گی اگر وہ ماں کو سوری کہہ دے گا تو”

زیاد بولتا ہوا وارڈروب کی جانب بڑھا اپنے لیے کپڑے نکال کر وہ چینج کرنے چلا گیا عرا کا دل چاہا وہ زیاد سے پوچھے آخر مائے نور کو اُس سے کیا مسئلہ ہے مگر وہ یہ سوال زیاد سے پوچھنے کی ہمت نہیں کرسکی وہ خود بھی چینج کرنے کا سوچ رہی تھی تبھی دروازہ ناک ہوا زیاد ڈریس چینج کرچکا تھا اُسی نے کمرے کا دروازہ کھولا تو کمرے کے دروازے پر ریان کو موجود پایا زیاد کی نظر ریان کے ہاتھ میں موجود جیولری کیس پر پڑی

“آج سب کو سب کے گفٹ دے دیے تھے یہ تمہاری وائف کے لیے لایا تھا”

ریان زیاد سے بولتا ہوا وہی کھڑا عرا کو دیکھنے لگا جو کمرے کے بیچ و بیچ کھڑی اُسی کو دیکھ رہی تھی زیاد نے ریان کی بات سن کر بناء کچھ بولے ریان کو کمرے میں آنے کا راستہ دیا ریان چلتا ہوا عرا کے پاس آیا زیاد خود دروازے پر کھڑا خاموش نظروں سے ریان اور عرا کی طرف دیکھنے لگا

“یہ تمہارے لیے ہے”

ریان عرا کا چہرہ دیکھتا ہوا اسے بولا

“تھینکس”

عرا نے ریان کے ہاتھ سے جیولری کیس لیا تھا اور ساتھ ہی اس کا شکریہ ادا کیا

“اوپن اٹ”

ریان کے بولنے پر عرا نے وہ جیولری کیس کھولا تو اس کے اندر ڈائمنڈ کا خوبصورت سا لاکٹ جگمگا رہا تھا

“آٹس بیوٹی فل”

عرا وہ لاکٹ دیکھ کر تعریفی کلمات ادا کرتی ہوئی ریان سے بولی

“مگر تمہارے جتنا بلکل بھی نہیں”

ریان کی یوں بولنے پر عرا حیرت سے ریان کو دیکھنے لگی جو اب بھی اُس کے چہرے پر اپنی نظریں جمائے کھڑا تھا

“یو آر رئیلی بیوٹی فل”

عرا کے حیرت سے دیکھنے پر ریان دوبارہ اس سے بولا عرا کچھ کنفیوز ہوکر دروازے پر کھڑے اپنے شوہر کی جانب دیکھنے لگی جو خود بھی خاموش کھڑا اُن دونوں کی طرف ہی دیکھ رہا تھا

“یہ صبح بول رہی تھی کہ میں ریان کو پسند نہیں آئی”

اب کی مرتبہ زیاد کے یوں بےدھڑک بولنے پر عرا ریان کا چہرہ دیکھ کر بری طرح سٹپٹائی تھی بھلا زیاد کو یہ بات اپنے بھائی کو بتانے کی کیا ضرورت تھی جبکہ ریان زیاد کی بات سن کر عرا کو دلچپسی سے دیکھنے لگا

“تم اِس قدر پسند آئی ہو کہ تمہارا یہ شوہر خود بھی اچھی طرح جانتا تھا اگر تم اِس سے پہلے مجھے مل جاتی تو وہ کبھی بھی تم سے شادی نہیں کر پاتا کیونکہ میں ایسا ہرگز نہیں ہونے دیتا”

ریان عرا سے بولتا ہوا اُس کو حیرت اور پریشانی میں مبتلا چھوڑ کر دروازے تک آیا جہاں زیاد تیوری پر بل لیے خاموش کھڑا تھا

“تم اچھا نہیں کررہے ہو”

زیاد نے اتنا آہستہ بولا اُس کا جملہ صرف ریان کو سنائی دیا

“تم نے بھی تو اچھا نہیں کیا میرے ساتھ تم جانتے تھے میری وش کے بارے میں لیکن پھر بھی تم نے۔۔۔۔”

ریان نے بھی اُس کو آہستہ سے جواب دیا شکوہ بھری نظر زیاد پر ڈال کر وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔ زیاد خاموشی سے ریان کو اس کے کمرے کی جانب جاتا ہوا دیکھنے لگا پھر اپنے بیڈروم کا دروازہ بند کرکے خاموش کھڑی عرا کے پاس آیا

“ریان یہ سب کیا بول رہا تھا زیاد اس کی باتیں بہت عجیب سی ہیں بلکہ وہ خود بھی بہت عجیب سا ہے”

عرا ریان کی بات پر پریشان ہوکر زیاد کو دیکھتی ہوئی بولی

“اتنا مت سوچو اُس کی باتوں کو اُسے شروع سے ہی مذاق کرنے کی عادت ہے جاؤ چینج کر کے آجاؤ”

زیاد عرا کی بات پر اس سے بولا تو عرا وارڈروب سے اپنے لیے کپڑے نکالنے لگی زیاد عرا کی پشت پر آکر کھڑا ہوا اور عرا کا نکالا ہوا لباس دوبارہ وارڈروب میں رکھ کر خود وارڈروب میں موجود نائٹی نکال کر اُس نے عرا کی جانب بڑھائی

“یہ پہنو ابھی”

زیاد عرا کو دیکھتا ہوا بولا تو عرا نے زیاد کے ہاتھوں سے نائٹی لے کر اپنی نظریں جھکائی اور چینج کرنے چلی گئی

****