Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Payar Howa Tha (Episode 11)

Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel

“کیا ضرورت تھی تمہیں ماں کے آگے زبان چلانے کی”

زیاد آفس سے کافی لیٹ واپس آیا تھا اور آنے کے ساتھ ہی کپڑے تبدیل کر کے مائے نور کے بلاوے پر وہ اُس کے کمرے میں چلا گیا واپس اپنے کمرے میں آنے کے بعد اب وہ عرا کے سامنے کھڑا غصے میں اُس سے سوال کررہا تھا جس پر عرا کو شدید حیرت کا جھٹکا لگا

“کیا۔۔۔ میں نے زبان چلائی، آنٹی نے تمہیں یہ بولا ہے۔۔۔زیاد میں نے آنٹی کے آگے کچھ نہیں بولا بلکہ ریان نے انہیں۔۔۔

عرا نے بیڈ سے اٹھ کر بولنا چاہا تو زیاد اُس کی بات کاٹتا ہوا بولا

“مجھے کچھ بھی بتانے کی ضرورت نہیں ہے سب معلوم ہوچکا ہے مجھے، دیکھو عرا ریان جو بھی کرتا پھرے وہ ان کا بیٹا ہے ماں سے کتنی ہی بدتمیزی کیوں نہ کرلے یا پھر زبان چلالے ماں اس سے کتنا ہی ناراض ہو ریان اُن کو دو منٹ میں منا سکتا ہے لیکن عرا تم۔۔۔۔ تم بہو ہو تمہیں اُن سے بحث کرنے کی کیا ضرورت تھی اگر ریان کا دیا ہوا پینڈینٹ انہوں نے تم سے مانگ لیا تو تم نے وہاں ریان کو بلالیا کتنی چھوٹی حرکت کی ہے تم نے”

زیار غصہ کرتا عرا سے بولا تو عرا صدمے کے مارے زیاد کو دیکھنے لگی بھلا اس نے وہاں ریان کو کب بلایا تھا

“زیاد آنٹی نے غلط بیانی کی ہے تمہارے آگے وہ جھوٹ بول رہی ہیں میں نے وہاں ریان کو۔۔۔۔

ابھی عرا کا جملہ بھی مکمل نہیں ہوا تھا زیاد نے غُصے میں اُس کو بازو سے پکڑ کر پیچھے بیڈ پر دھکا دیا عرا آگے سے کچھ بھی بولے بغیر رک کر شاکڈ سی زیاد کو دیکھنے لگی جبکہ زیاد ابھی بھی غصے میں کھڑا عرا کو گھور رہا تھا

“میرے آگے میری ماں کو جھوٹا بولنے کی ہمت کیسے کی تم نے میں نے تمہیں پہلے بھی بنایا تھا میری نظر میں میری ماں کی اہمیت کیا ہے تمہاری بڑی سے بڑی غلطی معاف کرسکتا ہوں لیکن اپنی ماں کے متعلق کچھ غلط نہیں سنوں گا یہ بات آئندہ یاد رکھنا”

زیاد اُس کو غصے میں بولتا ہوا دوسری جانب بیڈ پر لیٹ گیا

وہ آفس سے پہلے ہی لیٹ آیا تھا آفس کے مسئلوں میں اُس کا ذہن الجھا ہوا تھا گھر آنے کے بعد نئے اور عجیب ہی مسئلے مسائل اس کے منتظر تھے جس پر زیاد کو غصہ آنے لگا۔۔۔ غُصے میں وہ مائے نور کو روتا ہوا دیکھ کر اپنی ماں کو کیا بولتا واپس اپنے کمرے میں آکر سارا غصہ عرا پر نکال کر بیڈ پر لیٹ گیا

“روم کی لائٹ بند کرو اور آکر لیٹو”

زیاد بیڈ کے کنارے پر خاموش بیٹھی عرا کو دیکھ کر بولا تو عرا لائٹ بند کر کے کمرے سے باہر نکلنے لگی

“روم سے باہر نکلنے کو نہیں بولا میں نے میں بول رہا ہوں واپس آکر بیڈ پر لیٹو”

زیاد اب کی بار سخت لہجے میں بولا وہ خاموشی سے بناء کچھ بولے اپنا تکیہ زیاد کے تکیے سے فاصلے میں کر کے بیڈ پر لیٹ گئی کمرے میں بیس منٹ تک خاموشی چھارہی جب زیاد کا غصہ ٹھنڈا ہوا تب وہ عرا سے بولا

“سوری میں غصّے میں کچھ اوور ری ایکٹ کر گیا مجھے تم پر یوں چلانا نہیں چاہیے تھا۔۔۔ یار ماں بہت زیادہ رو رہی تھیں اُن کے آنسو دیکھ کر غصہ آگیا مجھے”

زیاد عرا کا بازو پکڑ کر نرمی سے اسے اپنی جانب کھینچتا ہوا بولا

“پلیز زیاد میں اِس وقت صرف ریسٹ کرنا چاہتی ہوں”

عرا زیاد سے بولتی ہوئی اپنا بازو اس سے چھڑوا کر دوبارہ فاصلہ بناکر لیٹ گئی تو زیاد نے بھی بناء کوئی دوسری بات کیے خاموشی اختیار کرکے اپنی آنکھیں بند کرلیں تھکن کے سبب اُس کو جلد نیند آگئی جب عرا یقین ہوگیا کہ زیاد سوچکا ہے تب عرا بیڈ روم سے باہر نکلتی ہوئی لان میں آگئی اُس کا دل زیاد کے رویے پر اس سے خفا تھا

رات کے وقت اپنے کمرے کی کھڑکی سے عرا کو باہر لان میں ٹہلتا ہوا دیکھ کر ریان کھڑکی سے عرا کو دیکھنے لگا۔۔۔ ساری رات اسٹڈی روم میں گزار کر صبح زیاد کا اپنے بیڈ روم میں جانا اور جب زیاد روم میں ہو تو عرا کا یوں بیڈ روم سے باہر ہونا۔۔۔ زیاد اور عرا کے رشتے میں شوہر بیوی جیسی بےتکلفی نظر نہیں آتی تھی جسے شروع دن سے ہی نہ صرف ریان نے بلکہ سکندر ولا کے ہر فرد نے اس چیز کو نوٹ کیا تھا

رات کے پہر ریان کا دل ایک مرتبہ دوبارہ اس لڑکی کی جانب مائل ہونے لگا ریان بےاختیاری کی سی کیفیت میں اُس کی جانب دیکھتا رہا وہ چاہ کر بھی اس کے اوپر سے اپنی نظریں نہیں ہٹاسکا ریان کے کھڑکی سے دیکھنے پر عرا بھی ریان کی طرف متوجہ ہوکر اُس کی طرف دیکھنے لگی ریان نے عرا کے دیکھنے پر اُسے وہی ٹہرنے کا اشارہ کیا اور خود بیڈ روم سے نکل کر لان میں جانے لگا جب ریان لان میں پہنچا عرا اپنے کمرے میں جاچکی تھی گہری اداسی اُسے اپنے گھیرے میں لینے لگی

****

عرا واپس بیڈ روم میں آئی تو زیاد کو گہری نیند میں سوتا ہوا پایا عرا خود بھی زیاد کے برابر میں لیٹ گئی اور ریان کے رویہ کو سوچنے لگی جو دوسرے سب افراد کے مقابلے میں بےحد عجیب سا تھا اچھا ہی تھا جو وہ اُس کے لان میں آنے سے پہلے وہاں سے چلی آئی تھی ورنہ بلاوجہ مائے نور اُس کو اپنے بیٹے کے ساتھ دیکھتی تو نیا جھگڑا شروع ہوجاتا عرا سارے خیالات کو جھٹک کر آنکھیں بند کرکے سونے کی کوشش کرنے لگی

اندھیری رات میں شہر سے دور وہ آج پھر اُسی پرانے کھنڈر سے قبرستان میں موجود تھا جہاں گہرا سکوت چھایا ہوا تھا وہ آج اُس گمنام قبر کے پاس موجود نہ تھا جو اس نے تیرا سال کی عمر میں کھودی تھی بلکہ یہ کوئی نئی قبر تھی جس پر وہ مٹی ڈال رہا تھا تب اچانک اسے اپنے موبائل بجتا ہوا سنائی دیا زیاد نے اپنی جیب ٹٹول کر موبائل نکالنے کی کوشش کی مگر اُس کا موبائل جیب میں موجود نہ تھا رنگ ٹون کی آواز گہرے سناٹے کو چیرتی مسلسل اُس کو سنائی دے رہی تھی غور کرنے پر اُس کو معلوم ہوا اُس کے موبائل کی آواز قبر کے اندر سے آرہی تھی شاید کسی وجود کو دفن کرتے وقت اُس کا موبائل بھی قبر میں گر گیا تھا لیکن اُس نے یہ قبر کس کے لیے بنائی تھی قبر کے اندر کون تھا وہ کس کو دفنا رہا تھا کوشش کرنے کے باوجود اُس کو یاد نہیں آرہا تھا ایک مرتبہ پھر رنگ ٹون کی آواز نے زیاد کی توجہ اپنی جانب دلائی

تب زیاد نے اُس تازہ قبر کو دوبارہ کھودنا شروع کیا موبائل کی آواز ابھی بھی اُس کے کانوں میں گونج رہی تھی۔۔۔ قبر کھودنا اس کے لیے ایک مشکل کام ثابت ہوا تھا مگر قبل کی مٹی سے جو دوپٹے کا ٹکڑا باہر جھانک رہا تھا اُس کو دیکھ کر زیاد خوف میں مبتلا ہوچکا تھا اس نے بہت تیزی سے ساری مٹی ہٹائی اور عرا کو قبر میں دیکھ کر دہشت کے مارے اُس کی چیخ نکل گئی

“عرا” عرا کا نام چیخ کر پکارتا ہوا وہ بیڈ سے اٹھا اور گہری سانسیں لینے لگا۔۔۔۔ ایک اور نائٹ میئر مگر پچھلے کئی سالوں سے بالکل مختلف دل دہلا دینے والا

زیاد کے چیخنے پر برابر میں لیٹی عرا کی بھی آنکھ کھل گئی لیمپ جلا کر وہ خود بھی اٹھ بیٹھی

“کیا ہوا”

عرا کو یاد تھا رات سونے سے پہلے زیاد نے اس کا دل دکھایا تھا لیکن اِس وقت زیاد کی حالت دیکھ کر وہ اس سے پوچھے بغیر نہ رہ سکی

“زیاد کیا ہوا تمہیں”

عرا کے دوبارہ پوچھنے پر وہ خوف زدہ سا عرا کو دیکھنے لگا وہ خواب تھا۔۔۔ ہاں خواب ہی تھا مگر وہ خواب میں اُس کے ساتھ۔۔۔۔

“زیاد” عرا اُس کی کیفیت سمجھ نہیں پائی تھی زیاد کے اِس طرح دیکھنے پر عرا نے زیاد کا نام پکارتے ہوئے اس کے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھنا چاہا اس سے پہلے زیاد نے عرا کو پکڑ کر خود میں چھپالیا

“میں۔۔۔ میں ایسا نہیں کرسکتا۔۔۔ میں تمہیں کسی بھی طرح تکلیف نہیں دے سکتا پھر میں نے کیسے تمہیں۔۔۔ مجھے معاف کردو عرا۔۔۔ میں پیار کرتا ہوں تم سے میرا یقین کرو میں تمہارے ساتھ کبھی بھی کچھ غلط نہیں کرسکتا نہ تمہیں خود سے دور کرسکتا ہوں”

زیاد عرا کو سینے سے لگائے عجیب اضطراب کی کیفیت میں بولے جارہا تھا عرا کو یہ تو اندازہ ہوگیا تھا وہ کسی بھیانک خواب سے جاگا تھا تو کیا وہ اپنے خواب میں بھی اُس کو ہرٹ کررہا تھا یا پھر وہ اپنے رات والے رویے پر پشیمان تھا عرا کو سمجھ میں نہیں آیا

“زیاد میں بالکل ٹھیک ہوں کچھ نہیں ہوا مجھے”

عرا زیاد سے بولتی ہوئی اُس کے حصار سے نکلی تو عرا نے زیاد کا بھیگا ہوا چہرہ دیکھا عرا کو سمجھ نہیں آیا وہ رو رہا تھا یا پھر اُس کا چہرہ پسینے سے تر ہوچکا تھا

“ہاں تم ٹھیک ہو میں تمہیں کیسے نقصان پہنچا سکتا ہوں بھلا تم میری محبت ہو میری زندگی”

زیاد عرا کا چہرہ تھام کر اسے بولنے لگا وہ اس وقت شاید گھبرایا ہوا تھا یا پھر اپنے حواسوں میں نہ تھا عرا کو اس کا رویہ سمجھ نہیں آیا

“لیٹ جاؤ زیاد”

عرا نے بولتے ہوئے زیاد کے سینے پر دباؤ ڈالتے ہوئے اسے پیچھے بیڈ پر لٹادیا اور لیمپ بند کرنے لگی کیونکہ ابھی چار بج رہے تھے

“عرا پلیز یہاں میرے پاس جاؤ”

اندھیرے میں عرا کو زیاد کی آواز سنائی دی وہ زیاد کے قریب ہوکر لیٹ گئی زیاد عرا کے وجود کو اپنے حصار میں لیتا ہوا کمفرٹر اس پر ڈالنے لگا

“مجھ سے کبھی بھی دور مت جانا کبھی بھی بدگمان مت ہونا میں جی نہیں پاؤ گا تمہارے بغیر سچ میں جی نہیں پاؤ گا”

عرا کے ٹھنڈے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں چھپاتا ہوا وہ عرا سے بولا

“زیاد سو جاؤ میں تمہارے پاس ہی موجود ہوں آنکھیں بند کرلو تمہیں نیند آجائے گی”

عرا زیاد کے سینے پر سر رکھتی ہوئی بولی تو زیاد خاموش ہوگیا تھوڑی دیر بعد عرا کو یقین ہوگیا کہ وہ سو چکا تھا عرا نے آہستہ سے اُس کے سینے سے سر اٹھاکر تکیہ پر رکھا اور زیاد کی طرف سے اپنا رخ پھیرتی ہوئی کروٹ لےکر لیٹ گئی تو زیاد بھی اس کی طرف کروٹ لےکر عرا سے قریب ہوکر لیٹ گیا اور دوبارہ عرا پر کمفرٹر ڈالنے لگا عرا سمجھ نہیں پائی وہ جاگ رہا تھا یا نیند میں تھا عرا کی پشت اُس کے سینے سے لگی ہوئی تھی زیاد کا ہاتھ عرا کی کمر کو چھوتا ہوا بیڈ پر رکھا تھا اس طرح وہ دوبارہ سے عرا کو اپنی دسترس میں لے چکا تھا

“کیا تم ابھی بھی جاگ رہے ہو”

عرا آہستہ آواز میں زیاد سے پوچھنے لگی مگر زیاد کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا شاید وہ نیند میں ٹھنڈ کے سبب اس پر کمفرٹر ڈال رہا تھا عرا آنکھیں بند کر کے سونے کی کوشش کرنے لگی

****

اپنے ارد گرد پھولوں کی بھینی خوشبو محسوس کرکے عرا کے حواس تو بیدار ہونا شروع ہوگئے تھے مگر کل رات نیند خراب ہونے کے سبب وہ اپنی آنکھیں نہیں کھول پارہی تھی تب اسے اپنے چہرے پر نرم و ملائم سی کسی چیز نے آنکھیں کھولنے پر مجبور کیا

“گڈ مارننگ میری جان”

زیاد اس کے بالکل قریب تکیہ پر کہنی ٹکائے لیٹا عرا کے آنکھیں کھولنے پر بولتا ہوا اس کے چہرے پر تازہ گلاب کی پتیاں ڈالنے لگا

“تم کب جاگے” اپنے چہرے پر سے پھول کی پتیاں ہٹاتی ہوئی وہ گھڑی میں ٹائم دیکھنے لگی جو صبح کے آٹھ بجارہی تھی

“گھنٹہ بھر ہوچکا ہے”

وہ مزید پھولوں کی پتیاں عرا کے چہرے پر ڈالتا ہوا عرا کو بتانے لگا اس وقت زیاد رات والی کیفیت کی بجائے عام دنوں کی طرح اُس کو لگا تھا

“اور اتنی دیر سے جاگ کر کیا کررہے تھے”

عرا نے زیاد سے پوچھتے ہوئے دوبارہ سے اپنے چہرے پر سے پتیاں ہٹائی

“بیوی کے سوتے ہوئے بھلا کیا کرسکتا ہے شوہر، تمہارے جاگنے کا انتظار کررہا تھا اب تم جاگ گئی ہو تو کچھ کرلیتا ہوں”

زیاد نے عرا سے بولتے ہوئے کھینچ کر اسے اپنے قریب کیا اور عرا کی گردن پر جھکا۔۔۔ اپنی گردن پر پھولوں کی پتیوں کے ساتھ زیاد کے ہونٹوں کا لمس محسوس کرکے عرا نے زیاد کو دونوں شانوں سے تھام لیا زیاد عرا کی گردن پر جھکا اپنی محبت کی مہر ثبت کرتا اپنے ہونٹ اس کی گردن سے نیچے لے جانے لگا اس کی مزید پیش قدمی پر عرا بوکھلا گئی

“زیاد” عرا شرم سے آنکھ بند کرتی زیاد کی حرکت پر اس کا نام لےکر زیاد کو پکارنے لگی عرا کے پکارنے پر زیاد نے اپنا چہرہ اٹھاکر عرا کی جانب دیکھا وہ سرخ چہرے لیے نفی میں سر ہلا کر منع کرنے لگی

“یہ سب کچھ تو فرسٹ نائٹ ہونا تھا ایک تو تمہاری یہ شرم مجھے اور کنفیوز کر ڈالتی ہے کہ آگے کیا کرو۔۔۔ سنو آج ہمارے ریسپشن کے بعد تم بالکل بھی اس طرح سے ری ایکٹ نہیں کرو گی اور نہ آج رات میں کہیں روم سے باہر جاؤ گا”

وہ عرا کو بولتا ہوا بیڈ سے اٹھ کر روم کا دروازہ کھولنے لگا جو چند منٹ پہلے ناک ہوا تھا

عرا خود بھی بیڈ پر بیٹھ گئی شمع ٹرالی میں ناشتہ کے سارے لوازمات سجائے کمرے کی ٹیبل پر اُن دونوں کا ناشتہ رکھنے لگی تو عرا واش روم چلی گئی لگی

“تم نے ناشتہ یہی منگوا لیا خیریت”

واپس آکر عرا زیاد سے پوچھنے لگی جو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا آفس جانے کے لیے تیار ہورہا تھا جبکہ شمع بیڈ روم سے جاچکی تھی

“ہاں آج کا بریک فاسٹ میں تمہارے ساتھ یہاں اپنے روم میں کرنا چاہتا ہوں”

زیاد نے عرا سے بولتے ہوئے اپنا ہاتھ عرا کی جانب بڑھایا جسے عرا نے تھام لیا وہ عرا کے شانے پر اپنا ہاتھ دراز کر کے اسے روم میں ٹیبل کے پاس لے آیا

کل جو کچھ ہوا تھا اس کے بعد زیاد کو روم میں ہی ناشتہ کرنا ٹھیک لگا ورنہ صبح صبح مائے نور کا موڈ عرا کو دیکھ کر خراب ہوجاتا اور مائے نور کی باتوں اور رویہ سے عرا بھی ہرٹ ہوتی

“زیاد میں نے کل آنٹی سے بدتمیزی نہیں کی تھی”

عرا صوفے پر بیٹھتی ہوئی زیاد کو بتانے لگی

“آئی نو تم کسی سے بدتمیزی کر بھی نہیں سکتی نہ ماں سے نہ ہی کسی دوسرے سے آئی ایم سوری میں نے کل رات غصے میں تمہارا دل دکھایا اب مجھے خود اچھا فیل نہیں ہورہا”

زیاد اس کا ہاتھ کو تھام کر بولا

“زیاد میرا تمہارے علاوہ اور کوئی دوسرا نہیں ہے پلیز مجھ پر اس طرح غصہ مت کیا کرو”

عرا زیاد کو دیکھتی ہوئی بولی تو زیاد نے اسے اپنے حصار میں لے لیا۔۔۔ وہ اپنی ماں کو خوش کرنے کے لیے نہ تو اِس معصوم لڑکی کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی کرنے کا ارادہ رکھتا تھا نہ ہی اُس کی حق تلفی کرنے کا ارادہ رکھتا تھا

“آئندہ ایسا نہیں ہوگا ایم سوری”

زیاد اس کے سنہری بالوں کو چومتا ہوا بولا تو عرا نے اسمائل دے کر اس کو دیکھا وہ فاصلے پر ہوکر بیٹھتی ہوئی زیاد کے لیے کیٹل سے چائے نکالنے لگی

****

لائٹ پنک کلر کی میکسی پہنے وہ تیار ہوکر اس قدر حسین لگ رہی تھی نہ صرف زیاد کی ستائشی نظریں بار بار عرا کی جانب اٹھ رہی تھی بلکہ کوئی اور بھی وقفے وقفے سے اُسے اپنی نظروں کے حصار میں لیے ہوئے تھا

“عرا یہ تمہارا دیور کس قدر ہینڈسم بندہ ہے اُس کو کہاں چھپاکر رکھا تھا تمہاری ساس نے۔۔۔ ہائے میری قسمت کتنی جلدی میری منگنی ہوگئی آخر میرے ساتھ ایسا حسین اتفاق کیو نہ ہوا کاش کہ میں بھی کسی ہنڈسم مرد کی بچپن کی دوست نکل آتی”

شہرینہ چند قدم کے فاصلے پر ریان کو کھڑا دیکھ کر بڑے غمگین انداز میں عرا سے بولی

“زیادہ منہ پھاڑ کر بولنے کی ضرورت نہیں ہے وہ اتنا دور بھی نہیں کھڑا یہ نہ ہو کہ اسے تمہاری ساری باتیں سمجھ آرہی ہو اور پلیز اس کو یوں گھورنا تو بند کرو ورنہ وہ مجھے بھی تمہاری طرح کی چھچھوری لڑکی سمجھے گا تھوڑا سا شرم کرلو شہرینہ منگنی کے بعد تمہیں ہر دوسرا مرد ہینڈسم لگنے لگا ہے”ٰ

عرا شہرینہ کو ٹوکتی ہوئی بولی

“ہائے تمہارا شوہر اور ساس شاید یہی آرہے ہیں میں تو چلی”

شہرینہ اس کی توجہ سے زیاد اور مائے نور کی جانب دلاتی ہوئی وہاں سے چلی گئی

“واہ بھئی زیاد تم تو پورے نمبر لے گئے خاندان کے تمام لڑکوں میں سب سے خوبصورت بیوی تمہاری ہے”

مائے نور کے ساتھ کھڑی سائرہ خوش دلی سے عرا کی تعریف کرتی بولی جس پر زیاد مسکراتا ہوا عرا کو دیکھنے لگا جبکہ مائے نور طنزیہ ہستی ہوئی بولی

“مہنگے کپڑے اور قیمتی جیولری پہن کر ہر دوسری لڑکی خوبصورت ہی نظر آتی ہے سائرہ ویسے بھی یہ سارا کریڈٹ تو پارلر کو جاتا ہے جو عام سے عام چہروں کو بھی نکھار کر شاندار بنا دیتے ہیں کہ بندہ دھوکا ہی کھا جائے”

مائے نور کے تبصرہ کرنے پر جہاں سائرہ حیرت زدہ سی مائے نور کو دیکھنے لگی وہی زیاد کی مسکراہٹ معدھم ہوئی اُس کی نظروں میں افسوس تھا جبکہ عرا اپنے اوپر تبصرہ سُن کر کچھ شرمندہ سی ہوگئی

“ماں آپ کی بات کوئی معقول انسان مشکل سے ہی ہضم کر پائے گا، مجھے نہیں معلوم آپ کی نظر میں خوبصورتی کی ڈیفینیشن کیا ہے لیکن اِس میں کوئی شک نہیں زیاد کی بیوی حقیقتاً بہت خوبصورت ہے عام سے کپڑوں میں سادگی میں بھی یہ ایسے ہی نظر آتی ہے جیسے مہنگے کپڑوں اور قیمتی جیولری میں نظر آرہی ہے انفیکٹ اسے اِس ارٹیفیشل لُکس کی ضرورت بھی نہیں تھی میں زیاد کی جگہ ہوتا تو اُس کو کبھی بھی پارلر نہیں جانے دیتا کیونکہ اس کی سادگی اور سمپلیسیٹی زیادہ اپیل کرتی ہے بس پرکھنے والی نظر ہونی چاہیے”

ریان اپنے دوستوں کے پاس سے آتا ہوا مائے نور کی بات پر بولا تو سب ہی ریان کی بات پر اس کی جانب متوجہ ہوئے عرا نے ایک نظر ریان کے چہرے پر ڈالی کاش یہ ساری باتیں اِس وقت اس کا شوہر بولتا عرا دل میں سوچتی ہوئی خاموش کھڑی رہی

“پھر تم بھی اپنے بھائی کی طرح اس جیسی دوسری خوبصورت لڑکی ڈھونڈ لو”

سائرہ مائے نور کا بنا ہوا منہ دیکھ کر ریان سے ہلکے پھلکے انداز میں بولی

“دوسری اِس جیسی ملنا ناممکن ہے یہ ایک ہی شاہکار تھا جو قسمت سے زیاد کے حصّے میں آگیا مجھے تو بس اب لڑکی پر ہی گزارا کرنا پڑے گا”

ریان ایک نظر عرا پر ڈال کر اپنی بات کو مذاق کا رنگ دیتا ہوا بولا زیاد بناء مسکرائے بالکل سنجیدہ کھڑا ریان کو دیکھنے لگا جبکہ ریان مائے نور کے پاس آکر اس کے شانے پر اپنا بازو دراز کرتا ہوا بولا

“ویسے سائرہ آنٹی آپ کے خاندان میں زیاد کی بیوی خوبصورتی میں دوسرے نمبر پر آتی ہے کیوکہ ماں کا نمبر آج بھی پہلا ہے اور میری اس بات میں کوئی شک نہیں”

ریان کے بولنے پر زیاد کے علاوہ سب مسکرا دیئے مائے نور اور سائرہ وہاں سے چلی گئیں

“تمہاری بکواس کچھ زیادہ ہی اوور نہیں ہوگئی تھی آج”

ریان خود بھی زیاد اور عرا کے پاس جانے لگا تو زیاد سنجیدہ لہجے میں اُس سے بولا جس پر ریان پلٹ کر زیاد کو دیکھنے لگا

“کون سی بکواس میرا کہا ہوا ایک ایک لفظ سچ ہے زیاد سکندر تمہیں تو میری بات سے اتفاق کرنا چاہیے آفٹر ال ہماری سوچیں عادتیں اور سب سے بڑھ کر ہم دونوں کی پسند ایک ہی جیسی ہی تو ہے”

ریان ڈریس پینٹ کی دونوں پاکٹس میں ہاتھ ڈالے ڈھٹائی کی انتہا پر پہنچا ہوا تھا

“اب تم حد سے بڑھ رہے ہو ریان”

زیاد خاموش کھڑا عرا پر ایک نظر ڈالتا ہوا ناگواری چہرے پر لائے ریان سے بولا

“میرے خیال میں تمہیں تب بھی ایسا ہی ری ایکٹ کرنا چاہیے تھا جب کسی دوسرے کے سامنے ماں حد سے بڑھ رہی تھیں محبت ڈھونڈ لینا اُس کو پالینا امپورٹنٹ نہیں ہوتا بلکہ دوسروں کے سامنے اُس محبت کے لیے اسٹینڈ لینا امپورٹنٹ ہوتا ہے اُمید ہے تم میری بات سمجھ گئے ہوگے”

ریان زیاد سے بولتا ہوا وہاں سے چلاگیا تو زیاد دو قدم پیچھے کھڑی عرا کے پاس آیا جو غور سے زیاد کا چہرہ دیکھ رہی تھی جہاں حد درجہ سنجیدگی چھائی ہوئی تھی

“اُس کی باتوں کو سیریس مت لینا تم جانتی ہو وہ بچپن سے اِسی طرح بکواس کرنے کا عادی ہے”

زیاد عرا کے یوں دیکھنے پر اُس کا ہاتھ تھام کر نرمی سے بولا نہ جانے ریان کی باتیں سن کر وہ کیا سوچ رہی ہو

“ریان کا بولا ہوا مجھے آج کچھ بھی برا نہیں لگا بلکہ اس کی باتوں سے اپنائیت کا احساس ہوا ایسا لگا کوئی ہے جو میرے لیے میری فیور میں بھی بول سکتا ہے”

عرا کی بات سن کر زیاد نے بےاختیار عرا کے ہاتھ پر اپنی گرفت سخت کی تو عرا چونک کر اپنے ہاتھ کی جانب دیکھنے لگی جو زیاد کے ہاتھ میں تھا

“میرے خیال میں اب ہمیں واپس چلنا چاہیے جاؤ اپنی پھپھو اور کزن سے مل لو”

زیاد عرا سے بولتا ہوا وہاں سے چلا گیا

****

“کوئی آپ کی نظر کا بھی منتظر ہے ریان یہاں بھی نظر کرم ڈال لیں” ریان دور سے زیاد اور عرا کو ایک ساتھ کھڑا دیکھ رہا تھا تب عشوہ اُس کے پاس آتی ہوئی بولی تو ریان اُس کی جانب دیکھنے لگا

“نظریں کسی پر بھی زبردستی نہیں ڈالی جاتی بلکہ ہماری آنکھیں خود اُس فرد کو ڈھونڈ لیتی ہیں جس کو ہم دیکھنا چاہتے ہیں اور تمہیں کیا معلوم ریان سکندر کی نظریں کس کو تلاش کررہی ہیں”

ریان عشوہ کا چہرہ دیکھتا ہوا بولا جو اُس کی توجہ نہ پاکر آج کی محفل میں بُجھا بُجھا دکھائی دے رہا تھا

“شاید آپ کو اندازہ نہ ہو مگر آپ کی ہر نظر پر میری نظر ہے۔۔۔ ویسے جہاں رسائی ممکن نہ ہو وہاں دیکھنا اور اُس کو سوچنا فضول ہے یہ بات اپنے ذہن میں بٹھالیں”

عشوہ کی بات پر ریان کے ماتھے پر بل واضح ہوا لیکن وہ اطمینان سے عشوہ کو جواب دیتا ہوا بولا

“بالکل یہی بات تمہیں بھی اپنے ذہن میں بٹھانے کی ضرورت ہے عاشو کہ جہاں رسائی ممکن نہ ہو وہاں دیکھنا اور اُس کو سوچنا فضول ہے لاحاصل چیزوں کے پیچھے بھاگنا عقلمندی نہیں اس لیے فضول میں اپنے آپ کو مت تھکاؤ ہاتھ میں کچھ بھی نہیں آنے والا”

ریان عشوہ کو جتانے والے انداز میں بولتا ہوا وہاں سے چلاگیا

“تھک ہار کر تو آپ کو لوٹنا پڑے گا میری طرف ریان اور آپ ایسا ہی کریں گے”

عشوہ اپنے سے دور جاتے ریان کو دیکھ کر خود سے بولی

****

تقریب کے اختتام پر عرا زیاد کی ہمراہ اُس کی گاڑی کے پاس آئی جو اُس وقت ہوٹل کی سیڑھیوں کے پاس ہی لاکر کھڑی کی گئی تھی زیاد نے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے سے پہلے عرا کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولا مگر عرا کے بیٹھنے سے پہلے ہی تیزی سے سیڑھیاں اترتی مائے نور اُس کی جگہ (فرنٹ سیٹ) پر بیٹھ گئی جس پر عرا کے ساتھ زیاد بھی تعجب کرتا مائے نور کو دیکھنے لگا

“شمع میرے ساتھ اِسی کار میں پیچھے والی سیٹ پر بیٹھو اور عاشو تم ریان کے ساتھ اس کی کار میں چلی جاؤ”

مائے نور زیاد اور عرا کو نظر انداز کرتی سیڑھیوں سے اترتی ہوئی شمع اور عشوہ دونوں کو بیک وقت مخاطب کرتی بولی

“اور عرا کہاں بیٹھے گی”

زیاد مائے نور کو دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا تو مائے نور زیاد کی طرف متوجہ ہوئی

“یہ کہاں بیٹھے گی ہمارے سر پہ تو بیٹھنے سے رہی ظاہری بات ہے شمع کے ساتھ ہی بیٹھے گی”

مائے نور بھنویں چڑھا کر خار بھری نظر عرا پر ڈال کر زیاد سے بولی زیاد نے ایک نظر اپنی کار کی بیک سیٹ پر ڈالی جہاں شمع بیٹھ چکی تھی اگر اُس کی ماں یہ جتانا چاہتی تھی کہ اُس کی بیوی کی حیثیت اور مقام گھر کی ملازمہ کے برابر ہے تو یہ بات زیاد کو بری لگی تھی

“شمع کو ریان کی گاڑی میں بھیج دیں پھر عرا پیچھے بیٹھ جائے گی”

زیاد نے عرا کو بیک سیٹ پر بیٹھنے پر واضح طور پر منع کیا اور مائے نور سے مخاطب ہوا کیونکہ وہ اپنی ماں کو اپنی گاڑی سے نیچے اتر جانے کے لیے نہیں بول سکتا تھا اور نہ ہی بیوی کو ملازمہ کے ساتھ بٹھا سکتا تھا

“شمع اسی کار میں جائے گی زیاد،۔۔۔ ریان اور عاشو کو ایک ساتھ اکیلے جانے دو”

مائے نور زیاد کو دیکھتی ہوئی بولی

“کیا ہوگیا کوئی مسئلہ ہے کیا”

ریان سیڑھیاں اتر کر زیاد اور مائے نور کے پاس آتا ہوا پوچھنے لگا اس سے پہلے زیاد کچھ بولتا مائے نور فوراً بولی

“مسئلہ تو زیاد بنارہا ہے معلوم نہیں اپنی بیوی کو بیک سیٹ پر بٹھانے میں کیوں اس کی شان گھٹ رہی ہے یا پھر سیدھے سیدھے مجھے بول دے میں کار سے اتر جاتی ہوں دوسری کار رؤف لے جاچکا ہے اس میں کافی گفٹس اور سامان موجود تھا ورنہ میں شمع کو اس گاڑی میں بھجوا دیتی”

مائے نور اب کی مرتبہ چڑتی ہوئی بولی ریان نے بیک سیٹ پر بیٹھی شمع کو دیکھا پھر ایک نظر عرا کے چہرے پر ڈالی جو خود بھی ابھی تک کنفیوز کھڑی ہوئی تھی کے کار میں بیٹھے یا نہ بیٹھے

“عرا تم میری کار میں بیٹھ جاؤ اور زیاد تم ماں اور شمع کو لے جاؤ”

ریان مسئلے کا حل نکالتا ہوا بولا تو مائے نور اور زیاد دونوں ہی کو اس پر اعتراض ہوا مگر اُن دونوں کے اعتراض اٹھانے سے پہلے ریان عرا کی مرضی جانے بغیر اُس کا ہاتھ پکڑ کر بولا

“یار اُس میں اتنا سوچنا کیا ہے اب کیا یہی کھڑے رہنا ہے۔۔۔ دوسرے گیسٹ کا بھی خیال کرو عرا چلو تم میرے ساتھ”

ریان بولتا ہوا عرا کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی گاڑی کی طرف لے گیا جو زیاد کی گاڑی کے بالکل پیچھے کھڑی تھی زیاد نے خفا ہوکر مائے نور کو دیکھا جو غصے میں ریان کو دیکھ رہی تھی ریان عرا کا ہاتھ تھامے اُس کو اپنی گاڑی کی طرف لے جارہا تھا اُس نے عشوہ کو اپنی گاڑی کے فرنٹ سیٹ سے اتر جانے کے لیے کہا اور عرا کو اپنی کار کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھنے کے لیے اشارہ کرنے لگا زیاد اور مائے نور دونوں ہی یہ منظر دیکھ سکتے تھے تبھی زیاد ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے کی بجائے ریان کی گاڑی کی جانب بڑھا

“عاشو جاؤ تم جاکر شمع کے ساتھ بیٹھو اور تم بھی نکلو اپنی کار سے باہر”

زیاد بیک وقت عشوہ اور ریان دونوں سے بولا برخلاف توقع ریان ڈرائیونگ سیٹ سے اتر کر باہر نکلا تو زیاد نے اُس کا چہرا دیکھتے ہوئے اسکی جانب اپنا ہاتھ بڑھایا ریان زیاد کے ہاتھ کا اشارہ سمجھتا ہوا اپنی گاڑی کی چابی زیاد کے ہاتھ پر رکھ چکا تھا

“تم میری کار میں ماں اور عاشو کو لے جاؤ میں اپنی بیوی کے ساتھ یہ سفر طے کرنا چاہتا ہوں”

زیاد ریان کی گاڑی میں بیٹھتا ہوا بولا تو ریان ہلکا سا سر خم کرتا ہوا زیاد کی گاڑی کی جانب بڑھ گیا

****

“مانا کہ آج اور بھی زیادہ حسین لگ رہی ہو مگر اُس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تم مغرور ہوکر مجھ سے بات ہی نہ کرو کچھ تو بولو یار”

ڈرائیونگ کرتا زیاد عرا کا ہاتھ تھام کر اپنے ہونٹوں سے لگاتا ہوا اس سے بولا

“مجھے لگ رہا تھا تم آنٹی اور شمع کو اپنے ساتھ لے جاؤ گے اور مجھے ریان کے ساتھ اس کی کار میں آنا پڑے گا”

عرا اپنا خیال ظاہر کرتی زیاد سے بولی

“اور تم کیا چاہتی تھی”

زیاد نے ڈرائیونگ کے دوران ایک نظر عرا پر ڈال کر اُس سے اُس کی مرضی جاننا چاہی تو عرا زیاد کی طرف دیکھتی ہوئی بولی

“میں اپنی زندگی کا ہر سفر صرف اپنے شوہر کے ساتھ طے کرنا چاہتی ہوں”

عرا کی بات سن کر زیاد کے لب بےساختہ مسکرائے

“لو یو ڈارلنگ” زیاد نے بولتے ہوئے دوبارہ عرا کا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگایا

“زیاد ہمیں یہاں سے یو ٹرن لینا تھا تم نے غلط مور کاٹ لیا یہاں سے ہم سکندر ولا نہیں پہنچ پائیں گے”

عرا ایک دم سے زیاد سے بولی کیونکہ وہ راستہ گھر کی طرف نہیں جاتا تھا

“میں تمہیں اِس وقت سکندر ولا لےکر بھی نہیں جارہا ہوں میری جان”

زیاد کی بات سن کر عرا کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی

“تو پھر کہاں لےکر جارہے ہو”

عرا کنفیوز ہوکر زیاد سے پوچھنے لگی مگر زیاد اُس وقت پرسکون سا ڈرائیونگ کررہا تھا

“میں آج کی رات تمہارے ساتھ ٹینشن فری ہوکر گزارنا چاہتا ہوں میں نے ہوٹل میں روم بک کروا لیا تھا شام میں ہی”

زیاد ڈرائیونگ کرتا ہے عرا کو اپنا کارنامہ بتانے لگا جس پر عرا خاموش ہوکر زیاد کو دیکھنے لگی بےشک سکندر ولا میں زیاد کا روم سیپرٹ تھا اس کے باوجود عجیب ماحول کی وجہ سے وہ اپنے اور عرا کے ریلیشن کو صحیح معنٰوں میں ابتک محسوس نہیں کر پایا تھا

“چپ کیوں ہوگئی ہو جتنا بولنا ہے اس کار میں بات کرلو ہوٹل کے روم میں پہنچ کر میں تمہیں کچھ بھی بولنے کا موقع نہیں دینے والا”

زیاد نے اپنی بات مکمل کرکے ایک نظر عرا پر ڈالی جو اُس کی بات پر اپنی پلکیں جھکا گئی تھی

****