Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel NovelR50397 Payar Howa Tha (Episode 3)
No Download Link
Rate this Novel
Payar Howa Tha (Episode 3)
Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel
“عرا وہ دیکھو سامنے یہ وہی بندہ ہے جو پرسوں ہمیں مال میں بھی دکھا تھا یاد آیا”
شہرینہ عرا کو دوستوں کے جھرمٹ سے کھینچتی ہوئی ایک سائیڈ پر لائی انگلی سے اشارہ کرتی ہوئی عرا کو بتانے لگی۔۔۔ عرا نے جلدی سے اس کی انگلی موڑ کر نیچے کی
“یوں اشارے مت کرو بےوقوف خاتون میں پہلے ہی دیکھ چکی ہوں اس کو اور پہچان بھی چکی ہوں اس نے پرسوں بھی مال میں ہمارا پیچھا کرنے کی کوشش کی تھی ابھی تھوڑی دیر پہلے بھی یہ آدمی ہماری طرف دیکھ رہا تھا مجھے تو یہ بندہ کوئی مشکوک قسم کا انسان لگ رہا ہے اپنی حرکتوں سے”
عرا شہرینہ کو دیکھتی ہوئی سنجیدہ لہجے میں بولی جو اپنی انگلی سہلاتی ہوئی ہونق بنی منہ کھول کر عرا کو دیکھنے لگی
“ہیںںں تم نے کب اس کو کوئی حرکت کرتے دیکھ لیا اور اسکی حرکت میرے نوٹس میں کیو نہیں آئی مجھے تو یہ پرسوں بھی کوئی شریف سا بندہ ہی لگ رہا تھا اور ابھی بھی شریف سا ہی لگ رہا ہے”
شہرینہ دور کھڑے زیاد کے بارے میں تبصرہ کرتی ہوئی بولی وہ اس وقت موبائل کان سے لگائے کافی سیریس کھڑا کسی سے بات کررہا تھا
“حرکت سے مراد میرا کوئی چھچھوری حرکت نہیں ہے شہرینہ نہ جانے تمہارا دماغ کہاں چلا جاتا ہے تم نے نوٹ نہیں کیا یہ آدمی اس دن بھی موبائل پر باتیں کرتا ہمہیں ہی گھور رہا تھا اور آج بھی مسلسل موبائل اس کے کان سے لگا ہے شاید یہ ہمارے بارے میں کسی کو انفارمیشن دے رہا ہے یا پھر ایسے ہی کوئی سین ہے میں کنفرم بتارہی ہوں دال میں کچھ کالا ہے”
وہ شہرینہ کا ہاتھ پکڑتی ہوئی آہستہ قدم اٹھاتی وہاں سے دور جانے لگی
“ارے یاررر ایک تو تم ہر وقت جاسوسی فلمیں دیکھ کر اور ایسی کہانیاں پڑھ کر ہر کسی دوسرے بندے کو مشکوک ہی سمجھ بیٹھتی ہو آج کل تو ہر دوسرے انسان کے کان سے موبائل چپکا ہوتا ہے مجھے تو %100 یقین ہے یہ تمہارے چکر میں یہاں آیا ہے وہ دیکھو ہمارے دور جانے سے بیچارا کیسے آہستہ قدم اٹھاکر ہماری طرف ہی آرہا ہے”
شہرینہ کے بولنے پر عرا نے ایک نظر زیاد پر ڈالی جو ابھی بھی موبائل پر بات کرنے میں مصروف نظر آرہا تھا
“ہمہیں اس کی کمپلین کرنی چاہیے شہرینہ کہیں کوئی مسئلہ نہ کھڑا ہوجائے نہ اس وقت یہاں تمہاری فیملی موجود ہے نہ ہی میرا کوئی اپنا، اگر ہمارے ساتھ کچھ الٹا سیدھا ہوگیا تو پھر۔۔۔
عرا کی بات پر شہرینہ اپنا ہاتھ ماتھے پر مارتی ہوئی بولی
“ارے کچھ نہیں ہورہا بہن، کون سی صدی میں جی رہی ہو میری بات ذرا غور سے سنو تمہیں جاکر اس بندے سے بات کرنی چاہیے کیونکہ بات کیے بغیر تو ہم معاملے تک نہیں پہنچ سکتے اور یہ دیکھ بھی تمہیں ہی رہا ہے مجھے دیکھ رہا ہوتا تو میں تو کب کی اس سے جاکر اس کی پریشانی پوچھ چکی ہوتی آخر اس انسان سے بات کرنے میں حرج کیا ہے یہ شریف بندہ لگتا ہے مجھے”
شہرینہ کی بات سن کر عرا اس کو گھورتی رہ گئی آخر یہ سب شہرینہ اسے اتنی آسانی سے کیسے بول سکتی تھی کہ وہ کسی بھی اجنبی مرد سے جاکر بات کرلے
“پہلی بات تو یہ شریف آدمی نہیں ہے برانڈڈ کپڑے اور مہنگا موبائل رکھنے سے کوئی شریف نہیں ہوجاتا لفنگوں کی طرح پرسوں بھی گھور رہا تھا اب یہ بھی کن اکھیوں سے بار بار یہی دیکھ رہا ہے اور تم مجھے اتنا بوگس مشورہ کیسے دے سکتی ہو کہ میں کسی ایرے غیرے مرد سے جاکر بات کرلو فارغ لڑکی نظر آرہی ہوں میں تمہیں”
عرا شہرینہ کے خیالات جان کر اس کو جھڑکتی ہوئی بولی بات کرنے کا مشورہ شہرینہ اسے ایسے دے رہی تھی جیسے وہ پہلے بھی ایسے کام کرتی آئی ہے
“اوہو تمہیں تو بلاوجہ مرچیں لگ گئی میرے کہنے کا مطلب یہ تھا شریف آدمیوں کے بھی جذبات ہوتے ہیں۔۔۔ وہ سچ میں لفنگا ٹائپ کا کوئی ٹھرکی انسان ہوتا تو پرسوں مال میں ہی تم سے تمہارا نمبر وغیرہ مانگتا یا پھر فری ہونے کی کوشش کرتا اور بات کرنے کا مشورہ میں تمہیں اس لیے دے رہی ہوں کیونکہ جو لڑکا سوری لڑکا نہیں بلکہ جس انکل کا رشتہ تمہاری پھپھو نے تمہارے لیے پسند کیا ہے ڈیم شیور اس انکل سے یہ بندہ ہر لحاظ سے بہتر ہے”
شہرینہ کی آخری بات پر عرا نے ایک نظر شہرینہ کو اور پھر دور کھڑے اس مرد کو دیکھا جو اس کے دیکھنے پر ایک دم رخ پھیر کر موبائل میں مصروف نظر آنے کی ایکٹنگ کررہا تھا
****
“تمہارا کیا بنے گا زیاد سکندر مارکیٹنگ کی دنیا میں تم اپنے نام سے جانے جاتے ہو ہزاروں کے مجموعے میں بغیر جھجھکے بناء ہچکچائے کانفیڈنس سے ایک گھنٹے تک اسپیچ دے سکتے ہو، اپنی باتوں سے سامنے والے کو قائل کرنے والا انسان ایک بالش بھر کی لڑکی سے بات کرتے ہوئے ایسے جھجھک رہا ہے جیسے اُس کو کوئی پہاڑ سر کرنا ہو حد ہوتی ہے یار”
ریان موبائل پر زیاد کو شرم دلاتا ہوا بولا
“یہ سب باتیں جو تم مجھے بول رہے ہو یہ میرا پیشہ ہے جو میں کرتا آرہا ہوں وہ کام زیادہ آسان ہے بانسبت اُس کام کہ۔۔۔ اُس لڑکی سے بات کرنا جس سے بات کرنے کے بعد مجھے یہ خطرہ لاحق ہو کہیں معاملہ بگڑ نہ جائے میں اس لڑکی پر اپنا غلط امپریشن نہیں ڈالنا چاہتا تھا لیکن آج وہ اور اُس کی فرینڈ دونوں ہی نوٹ کرچکی ہیں کہ میں اُس کو دیکھ رہا ہوں یار قسم سے بہت اکورڈ فیل کررہا ہوں بےوقوفی کی میں نے جو تمہارے کہنے پر یہاں آگیا مجھے کسی دوسرے طریقے سے اِس لڑکی کے بارے میں معلومات حاصل کرنی چاہیے تھی”
زیاد ریان سے موبائل پر بولا وہ خود کنفیوز ہوچکا تھا یہی پر کھڑا رہے یا پھر یہاں سے چلا جائے
“میں نے تمہیں بالکل صحیح مشورہ دیا ہے دیکھو آج یہ لڑکی بائے چانس تمہیں تیسری مرتبہ ملی ہے سمجھ لو اگر آج تم نے اس لڑکی سے بات نہیں کی تو قسمت تمہیں چوتھی مرتبہ اِس لڑکی سے ملنے کا چانس نہیں دے گی اِس موقع کا فائدہ اٹھاؤ اتنا کیا سوچ رہے ہو جاؤ جاکر بات کرو اُس سے”
ریان ایک مرتبہ پھر اُس کو سمجھاتا ہوا بولا
“شٹ ریان وہ تو خود یہاں چلتی ہوئی آرہی ہے یار”
زیاد عرا کو اپنی جانب آتا ہوا دیکھ کر موبائل پر ریان کو بتانے لگا
“دیکھ لو وہ لڑکی ہوکر پہل کررہی ہے اب تم بھی تھوڑی ہمت دکھاؤ پلیز جاؤ جاکر اُس سے بات کرو۔۔۔ بول دو پچھلے دو سال سے میں تمہارے لیے خوار ہورہا ہوں آئی لو یو”
ریان کی بات سن کر وہ کال کاٹ چکا تھا ہاتھ میں موبائل پکڑے خود بھی عرا کی جانب قدم بڑھانے لگا۔۔۔ عرا جو شہرینہ کے کہنے پر اُس اجنبی انسان سے بات کرنے کے لیے اس کے پاس جارہی تھی زیاد کو اپنی جانب آتا ہوا دیکھ کر ایک دم وہی رک گئی اور پیچھے مڑ کر شہرینہ کو دیکھنے لگی جو اُسی کی طرف متوجہ تھی اور آنکھوں کے اشارے سے اُس کو آگے بڑھنے کا کہہ رہی تھی
جبکہ دوسری جانب زیاد بھی عرا کو بینکوئیٹ کے بیچ و بیچ کھڑا دیکھ کر کنفیوز ہوکر خود بھی رک گیا۔۔۔ دس قدم کے فاصلے سے وہ دونوں ایک دوسرے کی جانب دیکھنے لگے۔۔۔ اب کی مرتبہ ہمت زیاد کو خود کرنی تھی اِس لیے ہمت جمع کرتا وہ عرا کی جانب آیا اور اُس کے روبرو آکر کھڑا ہوا
اتنے سالوں بعد اتنے قریب سے اسے دیکھ کر زیاد کا دل بےاختیار زور و شور سے دھڑکنے لگا جبکہ عرا اس کے یوں دیکھنے پر عجیب سا محسوس کرنے لگی
“میرے خیال میں آپ میرے چہرے کا مکمل جائزہ لے چکے ہیں”
عرا کے بولنے پر وہ ایک دم ہوش میں آیا
“جی بالکل۔۔۔ آ آ مطلب نہیں۔۔۔ آئی مین سوری”
زیاد کو سمجھ نہیں آیا وہ اُس کے سامنے بات کہاں سے شروع کرے اِس لیے بری طرح کنفیوز ہوگیا جبکہ عرا اُس کے یوں بوکھلاہٹ پر خاموش کھڑی اُس کا ایک ایک انداز نوٹ کرنے لگی جو اب ویٹر کو ہاتھ کے اشارے سے بلاکر ٹرے میں رکھا ہوا پانی کا گلاس اٹھا چکا تھا۔۔۔ تین چار لفظ بولنے میں اُس کا حلق خشک ہونے لگا
“آپ پیئے گیں پانی”
ایٹیکیٹس کا خیال رکھتے ہوئے اُس نے عرا کی جانب پانی کا گلاس بڑھاتے ہوئے پانی کا پوچھا
“نہیں پانی کی آپ کو زیادہ ضرورت ہے”
عرا انکار کرتی ہوئی بولی مگر اُس کے جملے پر زیاد کا رہا سہا کانفیڈنس اور ڈگمگانے لگا وہ پانی کا گلاس منہ تک لے جانے کی بجائے دو قدم دور ٹیبل پر گلاس رکھ چکا تھا
“کیا میں آپ سے بات کرسکتا ہوں”
زیاد لمبا سانس کھینچ کر بات کا آغاز کرتا ہوا بولا
“کس سلسلے میں بات کرنی ہے آپ کو”
اب کی بار عرا غور سے زیاد کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی اسے محسوس ہوا جیسے کہ اُس نے اِس انسان کو پہلے بھی کہیں دیکھا ہے مگر کہاں یہ اسے یاد نہیں آرہا تھا
“میں آپ سے کہنا چاہ رہا تھا کہ۔۔۔ ابھی زیاد بول ہی رہا تھا کہ اُس کے ہاتھ میں موجود موبائل فون بج اٹھا وہ دانت پیس کر اپنے موبائل پر ریان کی آتی ہوئی کال دیکھنے لگا
“ایکسکیوز می” عرا کا چہرہ دیکھتا ہوا ضبط سے کام لےکر بولا اور ریان کی کال ریسیو کرکے اپنا موبائل کان سے لگالیا
“کیا ہوا نام معلوم ہوا اُس لڑکی کا۔۔۔ بات کرنے میں کیسی ہے ایڈریس اور موبائل نمبر تو لے لیا ناں اُس سے۔۔۔ یہ سب چھوڑو بلکہ یہ بتاؤ کہ تم نے اسے آئی لو یو بولا”
زیاد کے کچھ بولنے سے پہلے ریان نے ایک ہی سانس میں بےصبری سے سارے سوالات پوچھنے لگا
“تم مجھے بات کرنے دو گے تو میں یہ سب باتیں بھی شاید کرسکو اب دوبارہ کال مت کرنا”
زیاد دبی ہوئی آواز میں ریان کو ڈانٹتا ہوا اُس کی کال کاٹ کر اپنا موبائل پاکٹ میں رکھ چکا تھا
“سوری آپ کو ویٹ کرنا پڑا وہ میرے بھائی کی کال تھی”
زیاد عرا کی طرف متوجہ ہوتا اس سے بولنے لگا اور خود کو اس سے بات کرنے کے لیے تیار کرنے لگا
“کیا کہہ رہا تھا آپ کا بھائی”
عرا زیاد کے فیس ایکسپریشن دیکھ کر اُس سے پوچھنے لگی جیسے وہ خود کو اس سے بات کرنے کے لیے تیار کررہا ہو
“یار بول رہا ہے کہ آپ کو آئی لو یو بول دو۔۔ اب پہلی ملاقات میں ایسے منہ اٹھا کر کون آئی لو یو بول دیتا ہے”
وہ ساری ٹینشن کو ایک طرف رکھ کر ریان کی بولی ہوئی بات عرا کو دیکھتا ہوا بولا تو اب کی بار بوکھلا کر دیکھنے کی باری عرا کی تھی وہ ہونق بنی حیرانی سے آنکھیں کھولی زیاد کو دیکھنے لگی
“میں نے بولا بھی تھا یہ پاکستان ہے یہاں ایسے نہیں ہوتا اگر کوئی لڑکی پسند آجائے تو شرافت سے اُس کے گھر رشتہ لےکر جایا جاتا ہے مگر پھر بھی اُس نے بولا کہ اب ہر جگہ ایسا ہی ہوتا ہے پہلے لڑکی کو آئی لو یو بولو اور پھر اُس کے گھر رشتہ لے کے جاؤ۔۔۔ پھر آپ بتائیے کہ میں اپنی مدر کو لےکر آپ کے گھر کب آؤ”
زیاد کے اچانک پوچھنے سے عرا ابھی تک منہ کھولے زیاد کو دیکھ رہی تھی تھوڑی دیر پہلے تک وہ سمجھ رہی تھی اُس کے سامنے کھڑا یہ بندہ جس میں کانفیڈنس نام کی کوئی چیز نہیں ہے مگر وہ ابھی اُس کو نہ صرف اتنے نارمل انداز میں آئی لو یو بول چکا تھا بلکہ پہلی ہی ملاقات میں رشتہ لےکر آنے کا بھی پوچھ رہا تھا
“عرا میں نے پوچھا میں اپنی مدر کو آپ کے گھر کب لےکر آؤ”
اب کی مرتبہ زیاد مزید دو قدم قریب آکر عرا کا حیرت ذدہ چہرہ دیکھتا ہوا اُس سے پوچھنے لگا۔۔۔ عرا ابھی تک خاموش کھڑی زیاد کو ہی دیکھ رہی تھی
“پرسوں کا پروگرام رکھ لیتے ہیں، ایسا کریں آپ پرسوں رشتہ لے کر آجائیں”
پیچھے سے شہرینہ کی آواز آئی تو زیاد کے ساتھ ساتھ عرا بھی مڑ کر شہرینہ کو دیکھنے لگی
“میرا نام شہرینہ ہے میں عرا کی دوست ہوں اور عرا کو تو آپ جانتے ہی ہیں”
شہرینہ عرا کو مکمل طور پر اگنور کر کے زیاد سے اپنا تعارف کرواتی ہوئی اُسے بولی تب عرا کو یاد آیا کہ تھوڑی دیر پہلے زیاد نے اُس کو اُس کے نام سے پکارا جبکہ عرا نے تو ابھی تک اس بندے کو اپنا نام نہیں بتایا تو پھر وہ اُس کا نام کیسے جانتا تھا
“نہیں میں اِن کو صرف نام جانتا ہوں باقی اِن کا ایڈریس اور موبائل نمبر وہ آپ مجھے دے دیں”
اب کی مرتبہ زیاد شہرینہ کو دیکھتا ہوا بولا وہ دونوں ایسے بات کررہے تھے جیسے عرا وہاں پر موجود ہی نہ ہو
“اف کورس میں موبائل نمبر دیتی ہوں آپ نوٹ کرلیں”
شہرینہ کے بولنے پر زیاد نے فوراً اپنی پاکٹ سے موبائل نکالا مگر عرا شہرینہ کا ہاتھ کلائی سے پکڑ کر چند قدم کے فاصلے پر اُسے کھینچتی ہوئی لے گئی
“تمہارا دماغ خراب تو نہیں ہوگیا ہے تم ایسے کیسے میرا نمبر کسی اجنبی کو دے رہی ہو”
عرا شہرینہ کا ہاتھ چھوڑتی ہوئی غصے میں اس سے بولی
“زیاد اجنبی کہاں ہے اُس نے ابھی تو تمہیں پروپوز کیا ہے پگلی یہ تمہاری پھپھو کے ڈھونڈے ہوئے اس آنکل سے %100 بیٹر ہے۔۔۔ ذرا لُکس دیکھو بندے کی کانفیڈنس دیکھو ویل مینرڈ بندہ ہے اور سب سے بڑی بات وہ تمہیں پسند کرتا ہے عرا”
شہرینہ عرا کو سمجھاتی ہوئی بولی جبکہ عرا چند قدم کے فاصلے پر زیاد کو دیکھنے لگی، چند قدم کے فاصلے پر کھڑا زیاد ان دونوں کو ہی دیکھ رہا تھا
“یہ کوئی بہت بڑا مینٹل کیس لگ رہا ہے پہلی ملاقات میں کون یوں منہ اٹھاکر ایسے پرپوز کرتا ہے اور خبردار جو اب تم نے اس آدمی سے کوئی بھی بات کی تو چلو اب ہمیں گھر چلنا چاہیے”
عرا شہرینہ کو غصے میں بولتی ہوئی دوبارہ شہرینہ کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے باہر نکلنے لگی ان دونوں کو باہر جاتا ہوا دیکھ کر زیاد بھی اُن کے ہم قدم چلتا ہوا ایک مرتبہ پھر عرا کو مخاطب کرتا بولا
“پلیز عرا مجھے غلط مت سمجھیں آئی سوئیر جو کچھ بھی تھوڑی دیر پہلے کہا تھا وہ سب سچ ہے آپ اچھی لگی ہیں ای رئیلی لائک یو”
زیاد کے دوبارہ بولنے پر عرا کے قدم رکے تو شہرینہ بھی رکی تو زیاد کو بھی رکنا پڑا
“میں پہلی نظر کی محبت پر یقین نہیں رکھتی مسٹر زیاد”
عرا شہرینہ کا ہاتھ چھوڑ کر زیاد سے بولتی ہوئی دوبارہ چلنے لگی زیاد بھی دوبارہ اس کے ساتھ چلتا ہوا بولا
“تو تمہیں کس نے کہا مجھے پہلی نظر میں تم سے محبت ہوئی ہے”
زیاد اس کے ساتھ چلتا ہوا عرا سے بولا شہرینہ ان دونوں کے پیچھے جان بوجھ کر آہستہ چل رہی تھی تاکہ وہ دونوں ایک دوسرے سے بات چیت کرسکے
“یعنٰی آپ کو مجھ سے پرسوں مال میں محبت نہیں ہوئی”
عرا اس سے پوچھتی ہوئی طنزیہ مسکرائی وہ اب بینکوئیٹ سے باہر نکل چکی تھی
“نہیں یہ سالوں پرانا قصہ ہے مگر تب اس وقت میں نے تمہیں نہیں بتایا تھا پلیز رکو عرا ایک منٹ صرف تھوڑی دیر کے لیے میری بات تو سن لو”
زیاد کے اصرار کرنے والے انداز کا نوٹس لیے بغیر وہ فٹ پاتھ پر آکر کھڑی ہوگئی
“اگر یہ صدیوں پرانا قصہ ہے تب بھی مجھے اس قصے کو جاننے میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے آپ پلیز تنگ نہیں کریں چلیں جائے یہاں سے”
عرا زیاد سے بولتی ہوئی ٹیکسی کا ویٹ کرنے لگی
“تم اکیلی گھر کیسے جاؤ گی آؤ میں تمہیں ڈراپ کردیتا ہوں”
اس کو ٹیکسی کا ویٹ کرتا دیکھ کر زیاد عرا سے بولا شہرینہ بالکل خاموش کھڑی عرا کی بےمروتی پر اس کو گھور رہی تھی
“سوری میں اجنبیوں سے لفٹ نہیں لیتی بولا ناں آپ یہاں سے جاسکتے ہیں”
زیاد کی آفر پر عرا اس کو دیکھے بغیر بولی اور دور سے آنے والی ٹیکسی کو ہاتھ کے اشارے سے روکنے لگی
“ویسے جو ہمہیں ٹیکسی ڈرائیور گھر چھوڑ کر آئے گا وہ بھی اجنبی ہوگا”
اب کی مرتبہ شہرینہ مداخلت کرتی ہوئی بولی جس پر عرا نے پوری آنکھیں کھول کر اسے گھورا
“تمہیں زیادہ لفٹ لینے کا شوق چڑھا ہے تو تم شوق سے اِن کی آفر قبول کرلو ویسے بھی میں بلاوجہ فری ہونے والے انسانوں کو پسند نہیں کرتی”
عرا غصے میں شہرینہ کو بولتی ہوئی آخری جملہ زیاد سے کو دیکھ کر بولی اب کی مرتبہ عرا کے رویے پر زیاد مایوس ہوکر اس کو دیکھنے لگا تبھی شہرینہ ایک مرتبہ پھر بولی
“اوفو زیاد آپ اِس کو چھوڑیں آپ ایسا کریں میرا نمبر نوٹ کرلیں یہ بی بی تو خود کو کوئی حور پری سمجھ بیٹھی ہے آپ رات میں مجھے کال کرلیے گا ہم دونوں باتیں کریں گے”
شہرینہ کے بولنے پر عرا نے غصے میں شہرینہ کا نام پکارا ٹیکسی آکر رک چکی تھی
“ارے تم تو چپ کرو تمہارا نمبر تھوڑی نہ دے رہی ہو اپنے منگیتر کو میں پرسوں ہی طلاق دے چکی ہوں اس بدتمیز کے بڑے ہی نخرے ہوچکے ہیں آپ نوٹ کریں 032۔۔۔۔
عرا شہرینہ کا ہاتھ کھینچ کر اسے ٹیکسی میں دھکا دیکھ کر بٹھا چکی تھی مگر شہرینہ ڈھیٹ بنی زیاد کو اپنا نمبر بتاچکی تھی اور ٹیکسی چلنے سے پہلے اس نے زیاد کو کال کرنے کا اشارہ بھی کیا تھا زیاد ٹیکسی کو جاتا ہوا دیکھ کر اپنی کار کی طرف بڑھ گیا
****
“ہائے سویٹی ہاؤ آر یو کتنے دنوں بعد بات ہو رہی ہے ہماری”
ویڈیو کال پر عشوہ کو دیکھ کر ریان عشوہ سے اس کا حال پوچھنے لگا
“کہاں سے آرہے ہیں آپ اس وقت”
عشوہ دوسری باتوں کو نظر انداز کرتی ریان کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی لیدر کی جیکٹ اور سر پر بلیک کلر کا اونی ٹوپہ پہنے وہ ابھی اپنے اپارٹمنٹ میں داخل ہوا تھا تبھی عشوہ کی ویڈیو کال اُس کے پاس آنے لگی جسے وہ ریسیو کرچکا تھا
“یار ویک اینڈ تھا تو دوستوں کے ساتھ نکلا ہوا تھا تم بتاؤ کیسی ہو تمہارا ٹرپ کیسا رہا ماں بتارہی تھیں تم یونیورسٹی کی طرف سے ناردرن ایریاز پر گئی تھی یعنٰی خوب انجوائے ہو رہا ہے”
ریان عشوہ سے بولتا ہوا ہاتھوں سے دستانے اتارنے کے بعد سر سے اونی ٹوپا اتار کر اپنے بال سیٹ کرنے لگا عشوہ بچپن سے ہی بہت کم کسی سے گھلتی ملتی تھی جب ریان کو مائے نور سے معلوم ہوا کہ عشوہ یونیورسٹی کے طرف سے ٹرپ پر گئی ہے تو ریان کو عشوہ کے اندر اس تبدیلی کا جان کر اچھا لگا
“بس بیا نے ضد کی تو پروگرام بنالیا اچھا رہا ٹرپ مگر ماہی اور بھائی کو بہت مس کیا میں نے”
بیا عشوہ کی یونیورسٹی کی دوست تھی جس کے ضد کرنے پر وہ ٹرپ پر گئی تھی مگر آج ریان کو کال ملانے کی خاص وجہ ٹرپ کے بارے میں معلومات دینا نہیں بلکہ کچھ اور تھی
“بہت اچھا کیا جو تم نے اپنی فرینڈ کی بات مانی، اپنے اندر چینج لے کر آؤ یار گھوما پھرا کرو لائف کو انجوائے کرو یہی تو دن ہوتے ہیں مجھے تو بہت اچھا لگا سن کر ویسے تم نے صرف ماں اور زیاد کو ہی مس کیا میری یاد نہیں آئی تمہیں”
ریان مصنوعی انداز میں اس سے شکوہ کرتا ہوا پوچھنے لگا
“کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب عاشو آپ کو یاد نہیں کرتی آپ کی یاد تو ہر لمحہ ہر پل آتی ہے آپ ہی نہ جانے کیوں پردیس جاکر بیٹھ گئے ہیں”
عشوہ کے اس طرح بولنے پر ریان ایک پل کے لیے کچھ بول نہ سکا مگر جب بولا تو اس کے لہجے میں پہلے جیسے خوشگواریت نہ تھی
“عاشو میں کال رکھ رہا ہوں ضروری کام یاد آگیا ہے مجھے”
وہ سنجیدہ لہجے میں بولا اس کے چہرے کے تاثرات یک دم سنجیدہ ہوچکے تھے
“آپ کال نہیں رکھیں گے ریان جب تک آپ میری بات کا جواب نہیں دیں گے تب تک آپ میری کال ڈسکنینکٹ نہیں کریں گے”
عشوہ اُس کے انداز کو اُس کے موڈ کو خوب سمجھتی تھی لیکن اتنا جانتی تھی اگر وہ کہہ رہی تھی کہ وہ بات کرنا چاہتی ہے تو ریان کبھی بھی کال نہیں کاٹنے والا تھا کیونکہ دور پردیس میں بیٹھے ہونے کے باوجود وہ گھر کے کسی بھی فرد کو اگنور نہیں کرسکتا تھا
“بولو کیا بات کرنی ہے تمہیں مگر ایک منٹ، آگے سے تم کوئی بھی بےمعنٰی بات نہیں کروں گی جس کا سر یا پیر نہ ہو”
ریان اس کو وارن کرتا ہوا بولا وہ سمجھ رہا تھا اُس کے نیویارک آنے سے پہلے وہ اس لڑکی کو اتنی اچھی طرح جھاڑ پلا چکا تھا کہ اِس لڑکی کے دماغ کا ڈھیلا پرزہ درست جگہ پر فٹ ہوچکا ہوگا مگر آج اس کو معلوم ہورہا تھا وہ غلط تھا
“میری کوئی بھی بات بےمعنٰی نہیں ہوتی ہے ریان صرف آپ میری باتوں کا مفہوم سمجھنے سے کتراتے ہیں ورنہ بےوقوف تو آپ بھی ہرگز نہیں ہیں”
ریان کی حرکت سے عشوہ کا دل دکھا ہوا تھا تبھی آج وہ اپ سیٹ ہوکر ریان سے ایسی باتیں بول رہی تھی مگر افسوس اس بات کا تھا کہ اس دور بیٹھے شخص کو اندازہ بھی نہ تھا اُس کی کس حرکت نے اسے اس قدر ہرٹ کیا تھا جو آج وہ یہ سب بولنے پر مجبور ہوچکی تھی
“تمہیں یہی سب باتیں کرنی ہیں یا پھر آگے بھی کچھ بولنا ہے”
اپنے لہجے میں بےزاری ظاہر کرتا وہ عشوہ سے بولا تو عشوہ کا دل دکھنے لگا
“کبھی آپ نے مجھ سے کہا تھا کہ آپ میرا دل نہیں دکھاسکتے یاد کریں ریان آپ ہی نے بولا تھا ناں کہ میری آنکھوں میں آنسو آپ کو ہرٹ کریں گے”
عشوہ نم آنکھوں سے ریان کے چہرے پر چھائی بےزاری دیکھ کر اُس کو یاد دلانے لگی
“وہ سب باتیں میں نے چار سال پہلے ایک ایسی لڑکی سے بولی تھی جسے بچپن سے میں نے اپنے سامنے پلتے بڑے ہوتے دیکھا تھا جو میری فیملی کا حصہ تھی بالکل اسی طرح جیسے ماں اور زیاد۔۔۔ وہ لڑکی بھی مجھے اپنی فیملی کی طرح عزیز تھی وہ ایک معصوم اور چھوٹی بچی تھی عاشو تم نے اس معصوم بچی کو مار کر اچھا نہیں کیا یہ جو لڑکی میرے سامنے موجود ہے میں اس کو نہیں جاننا چاہتا اور اب میں تم سے مزید بات نہیں کرسکتا”
ریان نے ایک مرتبہ پھر اس کو جتایا تھا وہ اس موضوع پر بات ہی نہیں کرنا چاہتا تھا
“میں نے آپ سے کہا ہے آپ کال نہیں رکھیں گے”
اب کی مرتبہ عشوہ غصے میں چیخ کر بولی تو آنکھیں خود بخود آنسووں سے بھر گئی جس پر ریان غصے میں اس کا چہرہ دیکھنے لگا وہ عشوہ سے بھی زیادہ زور سے چیخا
“کیا ہے یہ سب آنسو صاف کرو اپنے بےوقوف لڑکی۔۔۔ یہی سب باتیں کرکے میرا دماغ خراب کرنے کے لیے کال ملائی ہے تم نے مجھے، بتاؤں ابھی تمہاری اِس حرکت کا ماں کو”
ریان عشوہ کو یوں روتا ہوا دیکھ کر غصے میں پھٹ پڑا ساتھ ہی اس نے عشوہ کو مائے نور کے نام کی دھمکی دی
“ماہی کے نام کی دھمکی مت دیجئے گا مجھے میں کسی سے نہیں ڈرتی آپ اچھی طرح جانتے ہیں کیوں ہرٹ کیا آپ نے مجھے وہاں بیٹھ کر آخر کیوں دل دکھایا آپ نے میرا”
آنسوؤں کے ساتھ وہ موبائل کی اسکرین پر ریان کو دیکھتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی
“پہلے اپنے آنسو صاف کرو اور پھر مجھے بتاؤ کہ ہوا کیا ہے”
ریان اب کی بار غصے ضبط کرتا سنجیدگی سے اس کو دیکھ کر پوچھنے لگا اس کی بات مانتی ہوئی عشوہ اپنے آنسو صاف کرتی بولی
“ایلکس کل رات آپ کے ساتھ تھی”
عشوہ اپنا غصہ ضبط کرتی ہوئی ریان سے پوچھنے لگی تبھی وہ چونکا لازمی اُس کو زیاد سے معلوم ہوا ہوگا مگر یہ کوئی ایسی بات تو نہ تھی جس پر وہ یوں غصے میں رو رہی تھی
“کل رات میں صرف ایلکس ہی ساتھ نہیں بلکہ دوسرے فرینڈز بھی میرے ساتھ تھے ہم سب نے ساتھ مل کر ڈنر کیا تھا۔۔۔ اب آگے بولو اس میں پریشانی والی کیا بات ہے”
ریان اپنا غصہ دباتا ہوا لہجے کو نارمل رکھ کر عشوہ سے بولا
“اگر سارے فرینڈز آپ کے ساتھ تھے تو صرف ایلکس کے ساتھ آپ کی انسٹا پر پکس کیوں موجود ہیں وہ آپ سے کس قدر کلوز ہوکر کھڑی تھی آپ اس کو اسمائل دے رہے تھے ریان یہ سب کچھ مجھے بالکل بھی پسند نہیں”
عشوہ کی بات سن کر وہ بری طرح چونکا اس نے انسٹا پر کوئی بھی پکس شیئر نہیں کی تھی یقیناً یہ شرارت بھی ایلکس کی ہی تھی
“عاشو وہ میری فرینڈ ہے معلوم نہیں تم کیا سمجھ رہی ہو یار”
اسے وضاحت دینے کی ضرورت تو نہیں تھی نہ جانے کیوں وہ پھر بھی عشوہ سے بولا
“اگر فرینڈ ہے تو اُس کو لمٹ میں رکھیں اگر اگلی مرتبہ وہ آپ کے ساتھ اس طرح چپکی نظر آئی تو میں اُس کو شوٹ کر ڈالوں گی”
عشوہ اس کے موبائل کی اسکرین پر غصے میں بولی یہ ہنسنے والی بات تو نہ تھی مگر نہ جانے کیوں ریان کو عشوہ کے اس انداز پر ہنسی آئی
“تم پاگل ہو عاشو بالکل چھوٹے بچوں کی طرح ری ایکٹ کررہی ہو”
ریان ہنستا ہوا اسے دیکھ کر بولا ریان کو مسکراتا ہوا دیکھ کر وہ بھی مسکرا دی
“پاگل تو میں سچ میں ہوں یہ بات آپ اچھی طرح جانتے ہیں”
عشوہ اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی بولی تو ریان کو چار سال پہلے والا وہ دن یاد آگیا جب اسے اس لڑکی نے بناء کسی کے ڈر یا بےخوفی کے اپنے جذبے کو اس پر عیاں کیا تھا
“پاگل نہیں ہو سویٹی تم میں آج تک بچپنا بھرا ہوا ہے جو ابھی تک ختم نہیں ہوا بالکل بھی میچورٹی نہیں آئی ہے تم میں ان گزرے ہوئے سالوں میں”
ریان اپنا سر جھٹکتا ہوا عشوہ سے بولا
“ریان آپ واپس کب آئیں گے میں آپ کو بہت مس کرتی ہوں”
عشوہ سیریس ہوکر ریان سے پوچھنے لگی
“ہاں میں جلدی واپس آؤں گا ابھی کال رکھو مجھے ایک ضروری کام یاد آگیا ہے بعد میں بات کرتے ہیں”
ریان واپس آنے والی بات پر اس کو نہ محسوس طریقے سے ٹالتا ہوا بولا
“ٹھیک ہے میں کال رکھتی ہوں مگر ایک بات آپ اپنے ذہن میں رکھیے گا ریان آپ صرف میرے ہیں”
عشوہ ریان سے بولتی ہوئی اس کا جواب سنے بغیر یا چہرے کے تاثرات دیکھے بغیر کال کاٹ چکی تھی جبکہ ریان اس کی بات پر ناگواری کے تاثرات چہرے پر لیے بیٹھا اس کے جملے پر غور کرتا غصہ ہونے لگا
“بہت بڑی ڈھیٹ ہے یہ لڑکی پاکستان جاکر دوبارہ سے اس کا دماغ ٹھکانے لگانا پڑے گا”
ریان دل میں خود ہی سوچتا ہوا کچن میں آیا اور اپنے لیے کافی بنانے لگا
****
“بہت پیار کرتی ہوں آپ سے”
چار سال پہلے عشوہ کا بولا ہوا جملہ آج پھر اس کی سماعت سے ٹکرایا تھا اس انکشاف کے بعد اس کا رد عمل کیا ہونا چاہیے تھا ریان کافی کا کپ سائیڈ ٹیبل پر رکھتا ہوا صوفے پر بیٹھ کر اپنے ہاتھ کو غور سے دیکھنے لگا
(اپنے گال پر پڑنے والے تھپڑ پر ہاتھ رکھے وہ چند سیکنڈ بےیقینی سے ریان کو دیکھتی رہ گئی تھوڑی دیر پہلے تک یہی بےیقینی ریان کی آنکھوں میں بھی نظر آرہی تھی تھی جب سامنے کھڑی اُس 16 سالہ لڑکی نے اتنی آرام سے اس کے سامنے ایسی بات بولی تھی کہ وہ اسے پیار کرتی ہے)
“اب دوبارہ دہرا کر دیکھو یہ جملہ میرے سامنے”
ریان کا لہجہ سختی لیے ہوئے تھا اور غصہ اس کے ہر انداز سے چھلک رہا تھا جیسے یہ بات اس کو بےتحاشہ ناگوار گزری ہو
(آج پھر عشوہ کے کانوں میں ریان کی آواز گونجی تھی۔۔۔ اُس وقت کو یاد کرتے ہوئے ایک تلخ سی مسکراہٹ عشوہ کے ہونٹوں تلے بکھر گئی۔۔۔ دل میں چھپی بات آج اپنے ہونٹوں سے بول کر اس کے دل سے خوف بھی نکل چکا تھا تبھی وہ ریان کے غصے کرنے اور دھمکانے کے باوجود دوبارہ سے بولی)
“ریان میں بہت پیار کرتی ہوں آپ سے”
ایک مرتبہ پھر ریان نے اس کے منہ سے یہی جملہ سنا تھا وہ غصے میں اس لڑکی کی دیدہ دلیری پر اُس کو گھورنے لگا۔۔۔ریان کو بالکل اندازہ نہ تھا اس کا تھپڑ کھانے کے بعد اب دوبارہ وہ یہ جملہ دہرانے کی ہمت کرے گی۔۔۔ کیا تھی وہ اسکول گرل میٹرک کی اسٹوڈنٹ وہ کیسے اس کے متعلق اس طرح سوچ رکھ سکتی تھی ریان نے اب کی مرتبہ اس کا منہ سختی سے جبڑوں سے پکڑا
“اگر اب دوبارہ تم نے میرے سامنے یہ فضول بکواس کی تو میں تمہاری زبان گدی سے کھینچ ڈالوں گا”
عشوہ بیڈ پر لیٹی ہوئی چار سال پہلے اُس وقت کو سوچنے لگی تب اس کی بات پر ریان کس قدر غصے میں آگیا تھا ورنہ بچپن سے لے کر اب تک ریان نے کبھی بھی اس سے تیز آواز یا سخت لہجے میں بات تک نہ کی تھی
(اس لڑکی کا انداز بےخوفی اپنائے ہوئے تھا وہ کتنے دھڑلے سے اس کے سامنے یہ بات دوسری مرتبہ دہرا رہی تھی اور دوسری مرتبہ بولنے کے بعد بھی بناء شرمندہ ہوئے وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بنا ڈرے اسی کو دیکھ رہی تھی عشوہ کے اس انداز نے اس وقت اس کو کتنا غصہ دلایا تھا آج پھر سے ریان اس گزرے ہوئے وقت کو سوچنے لگا جب عشوہ اس کی دھمکی بھی خاطر میں نہ لائی تھی)
“ایک بار نہیں بلکہ بار بار بولوں گی کہ آپ سے پیار کرتی ہوں اور یہ بات صرف آپ کے سامنے ہی نہیں پوری دنیا کے سامنے بول سکتی ہوں کہ عشوہ ملک ریان سکندر سے بےحد پیار کرتی ہے آپ میری گدی سے زبان نہیں کھینچے بلکہ مجھے جان سے مار ڈالے تب بھی میں یہی بولتی رہوں گی اور یہ بات میں تب تک بولتی رہوں گی جب تک آپ کو میرے پیار پر یقین نہیں آجائے گا”
عشوہ کا بولا ہوا ایک ایک لفظ یاد کر کے ریان کو اِس وقت بھی غصہ آنے لگا اس نے اپنا سر جھٹکا
“بدتمیز اور ڈھیٹ لڑکی ابھی تک عشق و محبت کا بھوت سر پر سوار کر کے بیٹھی ہے ماں اور زیاد مجھے بول رہے تھے کہ اب سدھر گئی ہے اِس کے عشق کا علاج تو میں اب پاکستان جاکر خود کرو گا حد ہوتی ہے بےشرمی کی”
ریان غصے میں سوچتا ہوا صوفے سے اٹھ گیا
****
“عاشو یونیورسٹی نہیں جانا آج چلو جلدی سے ناشتہ کرنے کے لیے آجاؤ”
وہ ریان سے بات کر کے بیڈ پر لیٹی ہوئی سسک رہی تھی مائے نور عشوہ کو پکارتی ہوئی اس کے کمرے میں چلی آئی
“عاشو میری جان کیا ہوگیا اس طرح کیوں رو رہی ہو”
مائے نور اس کو روتا ہوا دیکھ کر پریشان ہوتی عشوہ سے پوچھنے لگی مائے نور کو دیکھ کر عشوہ اٹھ کر بیٹھ گئی مگر اس نے اپنے رونے کا سلسلہ جاری رکھا
“ماہی آپ جانتی ہیں ناں آپ جانتی ہیں کہ میں ریان سے بہت محبت کرتی ہوں پھر آخر کیوں ریان میری محبت کو میری فیلنگز کو نہیں سمجھتے ہیں ان کو کیوں احساس نہیں ہوتا میری محبت کا، وہ کیوں اس قدر روڈ ہوجاتے ہیں میری باتوں کو سن کر”
عشوہ روتی ہوئی مائے نور سے بولی تو مائے نور اس کی بات پر ایک دم چونکی
“مطلب تمہاری ابھی ریان سے بات ہوئی ہے اور تم نے یہ باتیں دوبارہ سے اس کے سامنے بول دیں”
مائے نور ایک دم اپنا خدشہ ظاہر کرتی ہوئی عشوہ سے پوچھنے لگی کیونکہ ریان پہلے ہی پاکستان آنے کو تیار نہ تھا اگر اسے عشوہ کی اِن حرکتوں کا معلوم ہوجاتا تو اُس کو پاکستان نہ آنے کا ایک بہانہ مل جاتا
“کیوں نہ بولتی ان سے یہ سب، معلوم نہیں وہاں پر کیسی عجیب و غریب لڑکیوں سے دوستی کر کے بیٹھے ہیں ماہی میں ریان کی زندگی میں کسی دوسری لڑکی کا وجود برداشت نہیں کرسکتی آپ اُن کو یہاں بلائیں ان سے کہیں کہ وہ پاکستان آجائیں میں نہیں رہ سکتی اُن کے بغیر۔۔۔ آپ نے مما سے پرامس کیا تھا ناں کہ آپ ہمیشہ مجھ سے محبت کریں گی اور مجھے میری محبت دیں گی مجھے ہر وہ چیز دیں گی جو مجھے چاہیے ہوگی مجھے ریان چاہیے ماہی آپ پلیز ریان کو یہاں بلائیں”
عشوہ کے رونے پر مائے نور نے اس کو گلے سے لگالیا تبھی زیاد بھی عشوہ کے رونے کی آواز سن کر اس کے کمرے میں آگیا مائے نور زیاد کو کمرے میں آتا ہوا دیکھ کر اس کی طرف متوجہ ہوئی ذیاد اشارے سے عشوہ کے رونے کی وجہ پوچھنے لگا تو مائے نور گہرا سانس لیتی ہوئی نفی میں سر ہلاتی بولی
“عاشو تمہیں فلحال ریان سے یہ سب باتیں نہیں کرنی چاہیے تھی میری جان میں نے جب تم سے کہا ہے کہ اس کی وائف کی صورت صرف تم ہی اس کی زندگی میں آسکتی ہو اور کوئی دوسری لڑکی نہیں تب تمہیں میری بات کا یقین کرنا چاہیے تھا وہ چاہے کسی بھی لڑکی سے فرینڈ شپ کرے مگر اُس کی وائف تم ہی بنو گی یہ میرا وعدہ ہے تم سے اب خاموش ہوجاؤ شاباش”
مائے نور اسے پیار سے بہلاتی ہوئی بولی تو ذیاد کو بھی پورا معاملہ سمجھ میں آگیا وہ تعجب سے مائے نور کو دیکھتا ہوا آگے بڑھا
“عاشو جلدی اٹھو بیڈ سے، چلو اٹھ کر ناشتہ کرو”
زیاد نے اس ٹاپک کو ختم کرنے کے لیے عشوہ کو بازو سے پکڑ کر اٹھایا اور اس کے آنسو صاف کرنے لگا
“آپ جانتے ہیں ناں ایلکس کے بارے میں ایسا نہیں ہوسکتا ریان نے آپ کو کچھ نہ بتایا ہو بھائی پلیز ریان کو یہاں واپس بلائیں”
اب کی مرتبہ وہ زیاد سے بولی
“وہ جلد واپس آجائے گا پاکستان، تم چل کر ناشتہ کرو پھر تمہیں یونیورسٹی ڈراپ کر کے آفس جاؤں گا ماں آپ بھی ہال میں آجائیں”
زیاد مائے نور سے بولتا ہوا اپنے ساتھ عشوہ کو کمرے سے باہر لے گیا
****
تینوں نے ناشتہ بالکل خاموشی سے کیا تھا جس کے بعد عشوہ اپنے کمرے میں یونیورسٹی جانے کے لیے تیار ہونے چلی گئی تبھی زیاد مائے نور سے بولا
“آپ کو عاشو کو خوش کرنے کے لیے ایسی بات نہیں کرنی چاہیے تھی ماں آپ کو ریان کی خوشی کے متعلق بھی سوچنا چاہیے”
زیاد مائے نور سے بولا تو وہ گہری سوچ میں ڈوبی ایک دم چونک کر زیاد کو دیکھنے لگی
“ریان کی خوشی کس میں ہے زیاد” مائے نور زیاد سے سوال کرنے لگی جس پر ایک پل کے لیے زیاد چپ ہوا پھر دوبارہ بولا
“عاشو میں ہرگز نہیں ہے اس کی خوشی اتنا میں جانتا ہوں ریان نے میری طرح عاشو کو صرف بہن ہی سمجھا ہے وہ اس کے متعلق ایسی بات کبھی بھی نہیں سوچ سکتا جیسے عاشو ریان کے بارے میں سوچ رہی ہے یہ ناممکن سی بات ہے آپ کو عاشو کو سمجھانا چاہیے”
زیاد نے اپنی بات مکمل کرکے چائے کا کپ اٹھالیا
“زیاد عاشو مجھے تمہارے اور ریان کی جتنی ہی عزیز ہے بےشک اسے میں نے پیدا نہیں کیا مگر وہ میری مری ہوئی بہن کی آخری نشانی میرے پاس موجود ہے۔۔۔ اُس بہن کی بیٹی جس بہن نے مجھے بیٹی کی طرح پالا تھا اور جب خود اس کو خوشیاں نصیب ہوئی تو زندگی نے اُسے اتنی بھی مہلت نہ دی وہ اپنی خوشیوں کو دیکھ سکتی۔۔۔ میں نے تمہاری آنی سے وعدہ لیا تھا کہ عاشو کو ہمیشہ اپنی بیٹی بناکر رکھوں گی اگر عاشو کو ریان سے محبت نہ بھی ہوتی تب بھی میں ریان کی شادی عاشو سے کرواتی اور ریان اگر مجھ سے محبت کرتا ہے تو اسے عاشو کو اپنانا پڑے گا اور مجھے یقین ہے وہ ایسا ہی کرے گا ریان کی صرف عاشو سے ہی شادی ہوگی”
مائے نور کا لہجہ پُر اعتماد تھا جس پر زیاد غور سے اس کو دیکھتا ہوا بولا
“کیا چاہتی ہیں آپ۔۔۔ ماضی کی کہانی ایک مرتبہ پھر دہرائی جائے” زیاد کے جملے پر مائے نور بالکل کنگ ہوکر زیاد کو دیکھنے لگ گئی ماضی کی کوئی بھی بات کوئی بھی راز اس کے بڑے بیٹے سے پوشیدہ نہ تھا
“ریان سکندر آپ کا بیٹا۔۔۔ وہ شہریار سکندر کا بھی بیٹا ہے یہ بات آپ کو یاد رکھنی چاہیے”
زیاد نے اب کی بار بولتے ہوئے شہریار سکندر کے نام پر زور دیا تو مائے نور کے سامنے گزرا ہوا وقت گھوم گیا
“کوئی بھی فیصلہ کرنا ہو سوچ سمجھ کر کیجئے گا عاشو کو دوسری ماہی مت بننے دیئے گا وہ ماہی جس نے محبت عذاب کی صورت سہی ہے”
زیاد مائے نور سے بولتا ہوا ٹیبل سے اٹھ کر ہال سے باہر چلا گیا جبکہ مائے نور کی آنکھوں میں نمی اتر آئی
****
“آپی میں بہت پیار کرتی ہوں سکندر سے۔۔۔ بابا اُس کا رشتہ کیسے آپ کے ساتھ طے کرسکتے ہیں میں کیسے رہوں گی سکندر کے بغیر میں مر جاؤں گی آپی اگر سکندر مجھے نہ ملا تو میں سچ میں مر جاؤں گی”
مائے نور کے بولے ہوئے جملے پر آئے نور بالکل ساکت ہوکر رہ گئی تھی
سکندر اور آئے نور۔۔۔۔ دونوں کے ایک ساتھ زندگی ساتھ گزارنے کے دیکھے ہوئے خواب۔۔۔ رشتہ طے ہونے کی خبر سنتے ہی وہ کس قدر خوش تھی اور سکندر بھی۔۔۔ لیکن اپنی چھوٹی روتی تڑپتی بہن کی خاطر شاید اسے اپنی محبت کی قربانی دینی تھی اس بہن کی خاطر جسے اس نے ماں بن کر پالا تھا
“اس طرح نہیں روتے ماہی سکندر تم سے شادی کرے گا تم بیوی بنو گی اس کی میں وعدہ کرتی ہوں تم سے”
آئے نور اپنی چھوٹی بہن کو گلے لگاتی ہوئی اس سے بولی
زیاد عشوہ کو لےکر جاچکا تھا سکندر ولا میں اِس وقت خاموشی پہرا تھا وہ راکنگ چیئر پر بیٹھی ایک مرتبہ دوبارہ ماضی کی بھول بھلیوں میں کھو گئی
“نہ جانے وہ کون سی منحوس گھڑی تھی جب آئے نور نے رشتے سے انکار کیا اور میری شادی تم سے کردی گئی۔۔۔ تم زبردستی مسلط کی گئی ہو مجھ پر سنا تم نے۔۔۔ آئے نور میری محبت تھی تم ایک کم عمر، کم عقل، بےوقوف اور امیچور لڑکی ہو جو بیوی بننے کے لائق ہی نہیں ہے ایسی بیوی سے بہتر ہے انسان خود کشی کرلے صرف اپنے باپ کے دباؤ میں اور مجبور کرنے پر میں نے تم سے شادی کی ہے تم نے مجھے زیاد اور ریان کے علاوہ کوئی دوسری خوشی نہیں دی مجھے نفرت ہے تم سے اور تمہاری ساری بچکانہ حرکتوں سے”
سکندر کی بولی ہوئی باتیں یاد کرکے آج بھی اس کا دل چھلنی ہوجایا کرتا تھا نہ جانے کب سے مائے نور کے آنکھوں سے آنسو نکل کر اس کے چہرے کو بھگوئے جارہے تھے مائے نور کو خبر ہی نہ ہوئی
“زیاد نے بالکل غلط جج کیا ہے اب کی مرتبہ ماضی خود کو نہیں دہرایا گا ریان اگر سکندر کا بیٹا ہے تو اس کو پیدا کرنے والی ماں میں ہوں وہ کبھی بھی عاشو کو سکندر کی طرح ذہنی ٹارچر نہیں کرے گا۔۔۔ اپنی کم عمری اور کم عقلی سے میں نے اپنی بہن کی محبت اس سے چھین لی تھی لیکن اب اُس کی بیٹی کو اُس کی محبت ضرور ملے گی ریان کو عاشو سے شادی کرنا پڑے گی اب وقت آگیا ہے کہ ریان واپس آئے اور اس کی عاشو سے شادی ہوجائے کیونکہ اب عاشو بچی نہیں رہی ہے”
مائے نور خود سے باتیں کرتی ہوئی اپنا موبائل اٹھا کر ریان کو کال ملانے لگی تھی
****
