Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel NovelR50397 Payar Howa Tha (Episode 10)
No Download Link
Rate this Novel
Payar Howa Tha (Episode 10)
Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel
عرا چینج کر کے بیڈ روم میں واپس آئی تو زیاد کو وہی کھڑا اپنا منتظر پایا اپنی جانب اٹھتی زیاد کی نگاہیں دیکھ کر وہ حیا سے پلکیں جھکا گئی زیاد نے اُس کے قریب آکر اپنے دونوں ہاتھوں سے عرا کا چہرہ تھام کر اُس کا چہرہ اونچا کیا
“زیاد معلوم نہیں کیوں مگر ریان جب مجھے دیکھتا ہے تو بہت عجیب۔۔۔۔
عرا زیاد سے بول ہی رہی تھی بات مکمل ہونے سے پہلے زیاد نے اپنی انگلی عرا کے ہونٹوں پر رکھ کر اسے چُپ کروا دیا
“عرا میں اِس وقت تمہاری مکمل توجہ چاہتا ہوں پلیز اپنے اور میرے درمیان کسی دوسری سوچ کو مت آنے دو”
زیاد عرا سے بولتا ہوا عرا کے ہونٹوں پر جھکا اور اُس کی سانسوں کو اپنی سانسوں میں شامل کرنے لگا شرم کے مارے عرا زیاد سے دور ہونے لگی مگر زیاد نے اس کی کمر پر اپنے بازوؤں کی گرفت سخت کردی اور اپنے ہونٹ عرا کے ہونٹوں سے جدا کرتا ہوا وہ عرا کے چہرے کا ایک ایک نقش چومنے لگا عرا کو اتنے قریب دیکھ کر وہ خود کو مکمل طور پر اس کی ذات میں کھوتا ہوا محسوس کرنے لگا عرا کے بالوں میں انگلیاں پھنسائے وہ عرا کا چہرہ اونچا کر کے اس کی گردن پر جھک گیا عرا کی گردن پر جگہ جگہ اپنے ہونٹوں کی مہر چھوڑتا وہ عرا کو اپنے بازوؤں میں اٹھاکر بیڈ پر لے آیا
ٰعرا کو بیڈ پر لٹانے کے بعد زیاد اس پر جھکنے سے پہلے اپنی شرٹ کے بٹن کھول چکا تھا جس پر عرا نے شرم سے اپنی آنکھیں بند کرلی زیاد کے اِس انداز پر وہ اِس قابل ہی نہیں رہی تھی کہ آنکھیں کھول کر زیاد کا چہرہ دیکھ سکتی اپنی ٹانگوں سے اوپر کی جانب سرکتی ہوئی نائٹی کے ساتھ زیاد کے ہاتھوں کا لمس اسے بےچین کرنے لگا اپنی ٹانگوں پر زیاد کے ہونٹوں کا لمس محسوس کر کے عرا کا دل بری طرح دھڑکنے لگا زیاد کا ہاتھ اپنے پیٹ پر محسوس کر کے عرا نے اُس کے ہاتھ کو پکڑنے کی ہمت کی۔۔۔ زیاد اٹھ کر عرا کے چہرے پر جھکا وہ عرا کی ہاتھوں کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں پیوست کرتا عرا کے خوبصورت چہرے کو دیکھنے لگا
وہ بچپن سے ہی اِس چہرے پر مر مٹا تھا اور شاید اُس کا چھوٹا بھائی بھی۔۔۔
ریان کا خیال آتے ہی زیاد نے بےساختہ عرا کی انگلیوں میں پھنسائی اپنی انگلیاں باہر نکالی۔۔۔اپنے دل میں عجیب سا گلٹ محسوس کرکے وہ عرا کے اوپر سے اٹھا تو عرا آنکھیں کھول کر اُسے دیکھنے لگی عرا کی سوالیہ نظریں دیکھ کر زیاد ریان کا خیال ذہن سے جھٹک کر دوبارہ عرا کی جانب مائل ہوتا اُس پر جھکا
“اگر تم نے اُسے اُس کا حق دیا تو روزِ محشر والے دن میں تمہیں دودھ نہیں بخشوں گی”
مائے نور کی آواز جیسے ہی زیاد کے کان میں گونجی زیاد عرا دوبارہ اٹھ کر اپنی شرٹ کے بٹن بند کرنے لگا
“کیا؟؟ کیا ہوا”
عرا زیاد کے اِس طرح دور ہونے پر پوچھے بغیر نہیں رہ سکی
“کچھ نہیں ایک کام یاد آگیا تھا”
زیاد عرا سے نظریں ملائے بغیر بولا تو عرا کو اُس کی بات پر حیرت کا جھٹکا لگا
“کام۔۔۔ اِس وقت۔۔۔ کون سا کام”
عرا زیاد کے یوں اچانک بدلتے ہوئے موڈ پر اُس سے پوچھنے لگی
“آفس کا ضروری کام ہے تم ایسا کرو سو جاؤ پلیز”
زیاد بولتا ہوا بیڈ سے اٹھنے لگا تو عرا نے اُس کا ہاتھ کلائی سے پکڑلیا جس پر زیاد نہ چاہتے ہوئے بھی عرا کا چہرہ دیکھنے لگا
“کیا تم روم سے باہر جارہے ہو”
عرا زیاد سے پوچھنے لگی اُس کے لہجے میں افسوس شامل تھا
“یہاں تمہاری نیند ڈسٹرب ہوگی اِس لیے اسٹڈی روم میں جارہا ہوں”
زیاد نے عرا سے بولتے ہوئے اپنی کلائی پر سے اُس کا ہاتھ ہٹادیا
“نہیں مجھے اِس وقت نیند نہیں آرہی ہے تم آفس ورک کرکے آجاؤ میں تمہارا ویٹ کررہی ہوں”
عرا زیاد کا چہرہ غور سے دیکھتی ہوئی بولی زیاد کے تاثرات بالکل تبدیل تھے نہ جانے ایسی کیا بات ہوئی تھی جو اُس کے شوہر کو بری لگی تھی عرا کو کچھ سمجھ نہیں آیا عرا کی بات سن کر زیاد نے اُس کو دونوں کندھوں سے تھام کر بیڈ پر لٹادیا
“میرا ویٹ مت کرنا سو جانا مجھے واپس لوٹتے دیر ہوجائے گی اور اب مجھے رکنے کے لئے فورس مت کرنا”
زیاد عرا سے بولتا ہوا کمرے سے جانے لگا عرا بیڈ پر لیٹی ہوئی خاموشی سے زیاد کو کمرے سے جاتا ہوا دیکھنے لگی کسی احساس کے تحت وہ مڑ کر دوبارہ عرا کے پاس آیا
“اپنے ذہن پر زیادہ بوجھ مت ڈالو مجھے کچھ برا نہیں لگا میری یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا تم صرف میری ہو میں کسی بھی حال میں تمہیں نہیں چھوڑ سکتا نہ خود سے دور کرسکتا ہوں، نہ ہی تم سے دوری برداشت کرسکتا ہوں لیکن اِس وقت تم سے دوری بنائے رکھنے پر مجبور ہوں پلیز میری مجبوری کو سمجھنے کی کوشش کرنا”
وہ عرا کے گال پر ہاتھ رکھ کر بولتا ہوا اس پر کمفرٹر ڈال کر کمرے سے باہر نکل گیا عرا کو زیاد کی کوئی بھی بات سمجھ نہیں آئی تھی وہ صرف اور صرف زیاد کے رویے پر حیران تھی
****
اپنے کمرے سے نکل کر اُس کا ارادہ اسٹڈی روم میں جانے کا تھا مگر مائے نور کے کمرے کی جلتی لائٹ دیکھ کر زیاد کے قدم مائے نور کے کمرے کی جانب اٹھے کمرے سے باہر آتی آہستگی سے سسکیوں کی آواز پر اس نے مائے نور کے کمرے کا دروازہ کھولا
“ماں کیا ہوا آپ کو آپ اِس طرح کیوں رو رہی ہیں”
زیاد ساری باتوں کو فراموش کیے راکنگ چیئر پر بیٹھی مائے نور کے پاس آتا ہوا مائے نور سے اُس کے رونے کی وجہ پوچھنے لگا
“میرے منع کرنے کے باوجود تم اُس لڑکی کے پاس ہو میری یا میری بات کی کوئی اہمیت ہی نہیں رہی ہے اب شادی کے بعد تمہاری نظر میں”
مائے نور کے یوں روتے ہوئے شکوہ کرنے پر زیاد کو اب اُس کے رونے پر ہنسی آنے لگی
“کیا سوچ رہی ہیں ماں اپنے آنسو صاف کرلیں اور خوش رہا کریں”
وہ مائے نور کے آنسو صاف کرتا ہوا اُس کا ہاتھ پکڑ کر مائے نور کو بیڈ کے پاس لایا اور خود اُس کے کمرے سے باہر جانے لگا
“کہاں جارہے ہو تم”
مائے نور کے سوال پر زیاد مڑ کر اپنی ماں کا چہرہ دیکھنے لگا
“کہا تو ہے بس آپ خوش رہا کریں میں اپنے روم میں نہیں اسٹڈی روم جارہا ہوں سو جائیں آپ بھی سکون سے”
زیاد مائے نور سے بولتا ہوا اس کے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔ اسٹڈی روم کی طرف جاتے ہوئے حیرت ذدہ سی دو آنکھوں نے زیاد کا پیچھا کیا تھا اور آہستہ سے اپنے کمرے کا دروازہ بند کرلیا
****
ریان شاور لینے کے بعد بالوں میں انگلیاں پھیرتا ہوا اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس آکر کھڑا ہوا تب اس کی نظر عرا پر پڑی جو گھر سے باہر بنے لان میں چہل قدمی کررہی تھی ریان جلدی سے پردے کی آڑھ میں کھڑا ہوگیا تاکہ عرا اُس کو دیکھ نہ سکے ریان نے زرا سا جھانک کر دیکھا وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی آس پاس سے بالکل انجان دکھائی دے رہی تھی ریان خود پردے کی آڑھ میں چھپ کر عرا کو دیکھنے لگا
نہ جانے وہ کون سی کشش تھی جو اُس کو اِس لڑکی کی جانب کھینچتی تھی اُس کا دل خود بخود اِس لڑکی کی جانب کھینچا چلا آتا ایسا مسئلہ اُس کے ساتھ ابھی سے نہیں تھا بلکہ وہ بچپن سے ہی ایسا محسوس کرتا تھا اُس کا دل چاہتا وہ دیر تک پلکیں جھپکائے بناء اِس حسین چہرے کو ایسے ہی دیکھتا رہے جیسے اِس وقت دیکھ رہا تھا۔۔۔ ریان کی نظر بھٹکتی ہوئی عرا کی گردن پر پڑی جہاں سے اپنا دیا ہوا پینڈنٹ دکھائی دیا جسے دیکھ کر بےساختہ ریان کے لب مسکرائے تبھی اُس کے موبائل پر کال آنے لگی سائیڈ ٹیبل سے اپنا موبائل اٹھاکر ریان نے اسکرین پر نظر ڈالی تو اسکرین پر سے زیاد کا نام جگمگا رہا تھا جسے دیکھ کر ریان نے وہی کھڑے کال ریسیو کرلی
“کیا آفس میں تمہیں کچھ کام نہیں ہے کرنے کو، لگ رہا ہے فارغ بیٹھے ہو”
ریان طنزیہ انداز اپنائے زیاد سے پوچھنے لگا جو اس وقت آفس میں موجود تھا زیاد اُس کی بات پر ہنستا ہوا بولا
“اگر میرے پاس فارغ وقت ہوتا تو تمہاری بجائے اپنی بیوی کو کال کرتا تم سے تو کام تھا اِس لیے کال کی ہے میں نے”
زیاد آفس کی چیئر پر بیٹھا ہوا ریان سے بولا
“تمہیں مجھ سے کون سا کام پڑ گیا”
ریان ابھی بھی اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑا لان میں دیکھتا ہوا زیاد سے بات کررہا تھا
“کام بعد میں بتاؤ گا پہلے تم بتاؤ کہ اِس وقت کیا کررہے ہو”
زیاد اپنا کام بولنے سے پہلے ریان سے پوچھنے لگا
“میں اِس وقت جو کام کررہا ہوں شاید وہ کام تمہیں کچھ خاص پسند نہ آئے اِس لیے اس بات کو جانے دو کہ میں کیا کررہا ہوں تم بولو تمہیں کیا کام ہے جس کی وجہ سے تم نے کال کی ہے”
ریان عرا سے نظریں ہٹاکر دونوں کھڑکی کے پردوں کو برابر کر کے صوفے پر جا بیٹھا
“کل کے ایونٹ میں عرا نے جو ڈریس پہننا ہے وہ میں نے ابھی تک بوتیک سے نہیں اٹھایا مجھے آج آفس میں تھوڑا ٹائم لگ جائے گا اگر تمہیں مسئلہ نہ ہو تو پلیز عرا کا ڈریس جاکر لے آؤ میرے لیے آسانی ہوجائے گی”
زیاد کی بات سن کر ریان فوراً بولا
“عرا کو اپنے ساتھ لے جاؤں”
ریان کے اچانک پوچھنے پر زیاد ایک لمحے کے لیے چپ ہوا تھوڑے وقفے کے بعد بولا
“ٹھیک ہے میں عرا کو کال کر کے ان فارم کردیتا ہوں وہ تمہارے ساتھ ہوگی تو تمہیں ایڈریس کے لیے بھی پریشان نہیں ہونا پڑے گا”
چار سال ملک سے باہر گزار کر شاید وہ راستوں کو ہی نہ بھول گیا ہو اس لیے زیاد ریان سے بولا
“تم مجھے ایڈریس ٹیکس کردو پرانا کچھ نہیں بھولا ہوں میں سب یاد رہتا ہے مجھے”
ریان زیاد کی بات پر بولا تو زیاد اس کی بات کا مفہوم سمجھتے ہوئے خاموش ہوگیا موبائل پر اُس کی خاموشی محسوس کرکے ریان زیاد سے بولا
“سوری”
زیاد اس کے یوں سوری کہنے پر ریان سے پوچھنے لگا
“کس بات کے لیے”
زیاد سمجھ گیا تھا ریان اسے کل رات کے لیے سوری بول رہا تھا جب وہ عرا کو لاکٹ دینے روم میں آیا تھا لیکن پھر بھی ریان سے پوچھنے لگا زیاد کی بات سن کر ریان ہلکا سا مسکرایا
“تم جانتے ہو میں نے تمہیں سوری کیوں بولا ہے”
ریان زیاد سے بولا زیاد سے بات ہونے کے بعد ریان اپنا موبائل لےکر صوفے سے اٹھا اور کمرے سے باہر نکلنے لگا
“ریان آپ اس وقت بزی تو نہیں ہیں دراصل مجھے ضروری کام سے مال جانا کل بھائی کا ریسپشن ہے اس لیے۔۔۔۔
عشوہ تیار کھڑی ریان کو بتانے لگی مگر اُس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ریان بول اٹھا
“تم ڈرائیور کے ساتھ چلی جاؤ مجھے ضروری کام سے جانا ہے”
زیاد کا سینڈ کیا ہوا ایڈریس موبائل اسکرین پر دیکھتا ہوا ریان عشوہ سے بولا اور اسے ساتھ لے جانے سے انکار کرتا ہوا آگے بڑھنے لگا اس نے عشوہ پر ایک نگاہ ڈالنا بھی گوارا نہیں کی یہ بات عشوہ کو بڑی کھلی
“تمہیں جہاں بھی جانا ہے تم عاشو کو اس کے مطلوبہ پتے پر چھوڑ کر اپنے راستے نکل جاؤ”
مائے نور ہال میں آکر بیچ میں مداخلت کرتی ہوئی ریان سے بولی
“میری منزل اور اِس کی منزل جدا جدا ہے ماں پلیز ہمہیں ایک نہ کریں ورنہ آگے جاکر ہم دونوں کے لیے مسئلہ کھڑا ہوجائے گا یہ بات میں نے آپ کو پہلے بھی سمجھائی تھی اب بھی بول رہا ہوں۔۔۔ رؤف فری ہے عاشو کو اُس کے ساتھ بھیج دیں”
ریان مائے نور کو اپنی بات اچھی طرح سمجھاتا ہوا وہاں سے جانے لگا
“ریان رکو”
مائے نور کی آواز پر وہ رکا مگر اُس کے کچھ بولنے سے پہلے خود بول پڑا
“سمجھوتا کرکے صرف زندگیاں برباد ہوتی ہیں ماں، میں ڈیڈ کی طرح نہیں جو کسی کے پریشر میں آکر اپنی زندگی سمجھوتا کی بنیاد پر گزار دو میری نظر میں اپنی ترجیحات اہم ہیں تو آپ مجھ سے یہ توقع مت رکھیئے گا میں کسی دوسرے کے لیے اپنی لائف کے ساتھ کامپرومائز کرو گا”
ریان مائے نور کو کلیئر ہر بات کا جواب دیتا ہوا ایک نظر عشوہ کے چہرے پر ڈال کر وہاں سے چلا گیا
“تم ابھی رؤف کے ساتھ چلی جاؤ میں ریان سے سکون سے بات کروں گی”
مائے نور عشوہ کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر اُس سے بولی
****
شام کا خوبصورت سماں تھا خوشگوار موسم دیکھ کر عرا باہر لان میں ٹہلنے کے لیے آگئی شکر تھا کہ اِس وقت شیرو اپنے ہٹ میں موجود سو رہا تھا اچھا ہی تھا وہ سو رہا تھا ورنہ اُس کو دیکھ کر ناپسندیدگی سے غُراتا عرا سکندر ولا میں بستے والے تمام افراد کے رویے سمجھنے سے قاضر تھی اُس کی ساس مائے نور جو نہ جانے کیو اُس سے شروع دن سے خائف نظر آتی۔۔۔ عشوہ جو اُس سے دو یا تین سال چھوٹی تھی وہ بھی اس سے زیادہ بات نہیں کرتی تھی شاید اپنی خالہ مائے نور کی ناراضگی کے ڈر سے ایسا تھا۔۔۔ پھر اُس کا دیور جو اس کے بچپن کا اچھا دوست رہا تھا وہ پاکستان واپس لوٹ کر آیا تھا اس کا رویہ بھی کافی عجیب تھا وہ بچپن والے اُس آن سے بالکل مختلف تھا۔۔۔ اور سب سے آخر میں اُس کا شوہر، زیاد سکندر عرا اُس کا رویہ بھی ابھی تک نہیں سمجھ پائی تھی ویسے تو زیاد اُس کے ساتھ ٹھیک رہتا تھا مگر رات ہونے کے ساتھ ہی وہ اجنبی بن جاتا کل رات اچانک زیاد کے کمرے سے جانے پر عرا ابھی تک کنفیوز تھی وہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھی جب اُس کی پشت پر کسی نے اپنا گلا کھنگارا عرا اپنی سوچوں میں اِس قدر غرق تھی کہ خاموشی میں آواز پیدا ہونے سے وہ بری طرح اچھل کر پیچھے مڑی اور بڑی بڑی آنکھیں پھیلا کر ریان کو دیکھنے لگی اُس کے یوں ڈرنے پر ریان بھی حیرت سے اسکو دیکھنے لگا
“میں انسان ہوں کوئی بھوت یا جن نہیں جسے دیکھ کے تم یوں ڈر گئی”
ریان عرا کا چہرہ دیکھتا ہوا بولا ریان کی بات پر عرا کی پھیلی ہوئی آنکھوں کا سائز دوبارہ نارمل ہوا
“پلیز آہستہ بولو اگر شیرو جاگ گیا تو مجھے دیکھ کر برا مانے گا”
عرا ریان کو ٹوکتی ہوئی بولی مگر تب تک شیرو جاگ کر اپنے ہٹ سے باہر آچکا تھا جسے دیکھ کر عرا کی جان خشک ہونے لگی
“شیرو سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے یہ تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا کیوکہ اسے میرے ہاتھوں مرنے کا شوق نہیں”
ریان شیرو کے پاس آتا ہوا پیار سے شیرو پر ہاتھ پھیرتا عرا سے بولا عرا بالکل سہمی ہوئی کھڑی تھی اگر وہ بھاگنے کی کوشش کرتی تو یقیناً شیرو اُس کے بھاگنے پر ضرور اُس کے پیچھے لپکتا اِس وقت زیاد بھی گھر پر موجود نہ تھا اِس لیے عرا کو خود اپنی فکر ہونے لگی
“کیا ہوا تم ایسے کیوں ڈر رہی ہو میں نے کہا ہے نہ یہ تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا”
ریان عرا کے چہرے پر خوف دیکھ کر شیرو کے پاس سے اٹھتا ہوا عرا کے پاس چلا آیا تو شیرو بھی ریان کے پیچھے آنے لگا جسے دیکھ کر عرا نے خوف سے ریان کی کلائی سختی سے پکڑلی جس پر ریان ایک دم چونک کر اپنا ہاتھ دیکھنے لگا
“ریان پلیز اسے بولو یہ یہاں سے چلا جائے۔۔۔ پلیز پلیز پلیز اُس کو یہاں سے دور کرو ورنہ میں۔۔۔
عرا شیرو کو اپنے قریب دیکھ کر خوف سے ریان کے مزید قریب آتی ہوئی بولی جبکہ ریان عرا کی بات کو نظر انداز کیے یا پھر شیرو کو جانے کا بولے بغیر ابھی تک اپنی کلائی دیکھ رہا تھا جس پر عرا نے خوف کے مارے اپنی گرفت سخت کی ہوئی تھی عرا کے چھونے پر اُس کے جسم کا رواں رواں بیدار ہوا تھا ایسا احساس جو کسی دوسرے کے چھونے سے نہ پیدا ہوا ہو۔۔۔ ریان کو سمجھ نہیں آیا وہ اس احساس کو کیا نام دے وہ گُم سُم سا عرا کو دیکھنے لگا
“ریان پلیز”
عرا کی آواز پر وہ ہوش میں آیا
“شیرو گو بیک”
ریان اپنی کیفیت پر قابو پاکر شیرو کو وہاں سے ہٹ کی طرف جانے کا بولتا ہوا اپنی کلائی ر سے عرا کا ہاتھ ہٹاتا ہوا خود بھی وہاں سے جانے لگا اُس کے لیے وہاں مزید ٹھہرنا مشکل ہوگیا
“ریان کیا تمہیں زیاد نے کال کرکے کچھ بولا تھا”
شیرو کو وہاں سے جاتا دیکھ کر عرا کی جان میں جان آئی مگر جب ریان بھی وہاں سے جانے لگا تب عرا جلدی سے اُس سے پوچھنے لگی عرا کی بات پر ریان کے قدم وہی رکے وہ تو اِس بات کو فراموش ہی کر بیٹھا تھا کہ اُسے عرا کے ساتھ اُس کا ڈریس لینے جانا تھا
“او ہاں یاد آیا میں بھول گیا تھا تمہارا ڈریس لینا ہے ہمہیں”
ریان عرا سے بولتا ہوا واپس اُس کے پاس آیا اب وہ اپنی کیفیت پر قابو پاچکا تھا
“ڈریس تو زیاد خود پسند کرچکا ہے مگر اُس کی فٹنگ صحیح نہیں تھی اِس لیے اُسی وقت لینے سے رہ گئی ابھی زیاد کی میرے پاس کال آئی تھی وہ بول رہا تھا کہ تمہارے ساتھ۔۔۔ کیا تم اِس وقت فری ہو”
عرا ریان سے پوچھنے لگی
“میں فری ہوں آؤ چلتے ہیں”
ریان عرا سے بولتا ہوا اسے گاڑی کی جانب اشارہ کرنے لگا تو عرا اُس کی گاڑی کی جانب بڑھ گئی گھر سے باہر نکلتی عشوہ کے قدم وہی رک گئے ریان اور عرا کو ایک ساتھ گاڑی میں بیٹھتے دیکھ کر عشوہ کا دل ہی نہیں چاہا وہ کہیں باہر جائے اپنا پروگرام کینسل کرتی ہوئی عشوہ واپس اپنے کمرے میں چلی گئی
****
“بڑی ہوکر اتنی چپ چپ سی کیوں ہوگئی ہو تمہیں یاد ہے بچپن میں تم مجھ سے ڈھیر ساری باتیں کیا کرتی تھی” ریان ڈرائیونگ کرتا ہے عرا سے بولا تو عرا اُس کو دیکھتی ہوئی بولنے لگی
“بڑے ہوکر تم کافی بدل گئے ہو”
عرا اپنے دل کی بات ریان سے شیئر کرتی بولی تو ریان ڈرائیونگ کرتا حیرت سے اسے دیکھنے لگا
“میں نہیں بدلا تمہارا نظریہ، سوچنے کا انداز بدل گیا ہے میں اب بھی وہی ہوں بچپن والا آن۔۔۔۔ اور ویسے بھی میں اگر اتنے عرصے میں بدلاو آیا بھی ہے تو تمہارے لیے نہیں۔۔۔ ریان سکندر دنیا کے لیے تو بدل سکتا ہوں مگر تمہارے لیے کبھی بھی نہیں”
ریان عرا کو دیکھتا ہوا بولا تو عرا ریان کی بات سن کر وہ خاموش ہوگئی
“تمہیں وہ مصطفٰی انکل یاد ہیں جن کا گھر ہماری اسٹریٹ پر لاسٹ والا تھا”
ریان ڈرائیونگ کرنے کے ساتھ بچپن والی بات یاد کرتا ہوا عرا سے پوچھنے لگا تو عرا اپنے دماغ پر زور دیتی ہوئی ایک دم بولی
“وہی مصطفٰی انکل ناں جن کے پاس ایک خوفناک سا بُل ڈوگ ہوا کرتا تھا تمہیں یاد ہے اس بُل ڈوگ نے مجھے زخمی کر ڈالا تھا”
عرا اپنا بچپن یاد کرتی ریان سے پوچھنے لگی تو ریان بولا
“پھر وہ بُل ڈوگ اگلے دن مرا ہوا پایا گیا تھا”
ریان کے سیریس ہوکر بولنے پر عرا افسوس کرتی بولی
“معلوم نہیں کس ظالم نے اُس بےچارے کو مار دیا تھا”
عرا پرانی یادوں کو سوچتی ہوئی بل ڈوک کے لیے رحمدلی سے بولی
“حیرت ہے تمہیں معلوم ہی نہیں ہوسکا اُس کی جان کس نے لےلی تھوڑا اپنے زہن پر ڈالو شاید جان سکو۔۔۔
ریان ڈرائیونگ کرتا ہوا سامنے کی بجائے عرا کو دیکھ کر بولا
“بہت زیادہ درد ہورہا ہے عرا، تم رو مت میں مصطفٰی انکل کے اُس ڈوگ کو مار ڈالو گا”
ریان کا بولا گیا جملہ عرا یاد کرتی ہوئی ڈرائیونگ کرتے ریان کو منہ کھولے بےیقینی سے دیکھنے لگی
“تمہیں اُس وقت لگا ہوگا تمہیں روتا ہوا دیکھ کر بہلانے کے لیے میں نے ویسا بولا تھا مگر تمہارے ہاتھ پر اس بُل ڈوگ کے پنجھے کے نشان دیکھ کر اور تمہارے آنسوؤں کو دیکھ کر مجھے سچ میں بہت غصہ آیا تھا شدید غُصہ”
عرا ریان کی بات سن کر ابھی تک شاک تھی تب ریان دوبارہ بولا
“میں کچھ بولتا نہیں تھا اور تم نے کچھ سمجھنے کی کوشش نہیں کی”
ریان کی بات پر وہ اب بھی خاموش تھی ریان اس پر نظر ڈال کر ڈرائیونگ کرنے لگا تھوڑی دیر کے لیے خاموشی ہوئی جو عرا کو محسوس تو ہوئی مگر اس کو سمجھ نہیں آیا وہ ریان سے کیا بات کرے
“جب تم زیاد سے ملی تھی تو تم نے اُس سے میرے بارے میں پوچھا تھا مطلب یا میرا کوئی ذکر کیا تھا”
ریان عرا کو خاموش دیکھ کر اس سے پوچھنے لگا ریان کی بات سن کر عرا فوراً بولی
“کیو نہیں پوچھا تھا ایسا ہوسکتا ہے میں نے آنٹی کا عشوہ کا تمہارا اور انکل کا سب کا ہی پوچھا تھا اور سکندر انکل کے بارے میں جان کر مجھے یقین ہی نہیں ہوا کہ اُن کی ڈیتھ ہوگئی”
عرا بول ہی رہی تھی ریان ایک دم بولا
“میں سب کی نہیں صرف اپنی بات کررہا ہوں”
ریان کی بات سن کر عرا دوبارہ چپ ہوگئی جانے وہ اس سے کیا کہلوانا چاہ رہا تھا عرا کو چپ دیکھ کر ریان پھر بولا
“میرا انتظار بھی نہیں کیا تم نے”
اس کے لہجے میں ایسا کچھ تھا عرا ریان کو دیکھنے لگی ریان بھی آنکھوں میں نہ جانے کون سی شکایت لیے اُسی کو دیکھ رہا تھا ریان کے اِس طرح دیکھنے پر عرا کو گھبراہٹ سی ہونے لگی ریان پر سے اپنی نظر ہٹاکر وہ سامنے دیکھنے لگی تبھی اس کی آنکھیں خوف سے پھیلی
“ریان سامنے دیکھو”
روڈ کراس کرتی ایک فیملی کو دیکھ کر عرا ایک دم چیخی تو ریان نے ہوش میں آکر بروقت بریک لگایا
“سوری تمہیں دیکھتے ہوئے مجھے اور کسی چیز کا ہوش نہیں رہا”
ریان عرا کے چہرے پر خوف دیکھ کر اسے عام سے لہجے میں بولا
“ریان مجھے نہیں پلیز سامنے دیکھ کر ڈرائیونگ کرو”
عرا ناراض لہجے میں بولی تو ریان اُس کی بات پر عمل کرتا اب کی مرتبہ خاموشی سے ڈرائیونگ کرنے لگا
****
“اچھا لگ رہا ہے ناں”
مطلوبہ بوتیک پر آکر اپنا تیار شدہ ڈریس دیکھتی ہوئی وہ ریان کو ڈریس کی جانب متوجہ کرتی پوچھنے لگی
“نائس۔۔۔ یہ ڈریس زیاد کی پسند کا ہے تو مجھے اُس کی پسند کی ہوئی ہر چیز بچپن سے ہی پسند آجاتی ہے تم جانتی ہو”
ریان ڈل گولڈن اور لائٹ پنک کلر کی میکسی پر نظر ڈال کر عرا کا چہرہ غور سے دیکھتا ہوا اسے بولا جس پر عرا مشکل سے مسکرائی
“جیسے اس کی بائی سائیکل، ویڈیو گیمز اُس کا فیورٹ بیٹمینٹن اُس کے اسکیٹز۔۔۔ تم زیاد سے سب لے لیا کرتے تھے”
عرا یاد کرتی ہوئی ریان سے بولی اُس کی بات پر ریان مسکراتا ہوا عرا کو دیکھنے لگا
“آسانی سے نہیں دیتا تھا وہ مجھے اپنی چیزیں یاد نہیں ہے کتنی فائٹ ہوتی تھی ہماری دونوں کی آپس میں”
ریان کے یاد دلانے پر عرا کو دھندلا دھندلا بچپن یاد آنے لگا جس کو یاد کرکے اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی ریان غور سے اُس کا مسکراتا ہوا چہرہ دیکھنے لگا جو بےحد حسین اور دلکش تھا اچانک ہی اداسی اُسے اپنے چاروں سُو پھیلتی محسوس ہوئی
“پر جب کبھی زیاد ضد میں آکر مجھے کوئی چیز نہیں دیتا تھا تو تم زیاد کو سمجھاتی تھی۔۔۔ کہ ریان تمہارا چھوٹا بھائی ہے اور تمہارے بولنے پر وہ مجھے اپنی من پسند چیز دے دیا کرتا تھا۔۔۔ کاش وہ بچپن ایک بار پھر لوٹ آئے”
ریان کے مزید بولنے پر عرا کی مسکراہٹ سمٹ گئی وہ ریان کی آنکھوں میں اداسی اُسے صاف نظر آئی
“واپس چلیں”
عرا ریان کے چہرے سے نظریں ہٹاتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی تو ریان شاپ سے باہر نکل گیا
“ہیلو سوئٹی دوستی کرنا پسند کرو گی”
ایک منچلا سا لڑکا مال میں عرا سے فاصلہ بناکر چلتا ہوا بولا۔۔۔ کان پر اُس نے موبائل لگایا ہوا تھا جس سے یہ تاثُر پڑ رہا تھا وہ موبائل پر بات کررہا ہو عرا اُس لڑکے کو اگنور کرتی اپنے سے چار قدم آگے چلتے ریان کی جانب بڑھنے لگی
“ارے میں آپ ہی سے مخاطب ہو کہاں چل دی بیوٹی کوئن”
اپنے پیچھے عرا کو اس لڑکے کی آواز سنائی دی مگر عرا کی بجائے ریان پلٹ کر دیکھنے لگا
“کیا مسئلہ ہے”
ریان عرا سے نہیں ڈائریکٹ اُسی لڑکے سے پوچھنے لگا اُس کی انداز اِس قدر غضیلہ تھا عرا ڈر گئی اور وہ لڑکا بھی ریان کو دیکھ کر وہی رک گیا
“ریان چلو یہاں سے”
عرا ریان کو دیکھ کر آئستہ آواز میں منمنائی مگر وہ عرا کی بجائے اُس لڑکے کی جانب متوجہ تھا جو اب ریان کے غضیلے تاثرات دیکھ کر پلٹ کر دوسری طرف جانے لگا
“اے ہیلو کیا بول رہے تھے تم ابھی”
ریان اونچی آواز میں اُس لڑکے سے بولتا اس کے پیچھے جانے لگا تو عرا نے ریان کی شرٹ کو بازو کی طرف سے پکڑ کر اسے روکا
“کیا کررہے ہو ریان اُس نے مجھے کچھ نہیں بولا پلیز گھر چلو”
عرا وہاں لوگوں کا ہجوم دیکھنے کے بعد ریان کے غصے والے تیور دیکھ کر اس سے بولی
“تم کیا بچوں کی طرف چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاکر چل رہی ہو میرے ساتھ نہیں چل سکتی”
اب ریان بگڑے موڈ سے اس کی طرف دیکھتا ہوا بولا
“اوکے غصہ تو مت ہو میں چل رہی ہوں تمھارے ساتھ اب چلو پلیز”
عرا کے نرمی سے بولنے پر ریان ایک نظر عرا کے چہرے پر ڈالتا ہوا چلنے لگا عرا بھی اُس کے ساتھ ہی چلنے لگی
“معلوم نہیں اِس نسل کو کیا ہوگیا ہے یہ کب اپنی لائف کو سیریس لےگی”
ریان عرا کے ساتھ چلتا ہوا تبصرہ کرتا بولا
“آج کل کی جنریشن کے ساتھ یہی بڑا مسئلہ سیریس نہیں ہوتے یہ لوگ۔۔۔ ایسے لوگوں کو بس اگنور کرنا چاہیے جبھی میں نے تمہیں روکا۔۔۔ نہ تو ایسے لوگ سیریس ہوتے ہیں نہ انہیں بات سمجھ آتی ہے”
عرا ریان کے ساتھ چلتی خود بھی سیریس ہوکر بولی
“بلاوجہ تم نے مجھے روک دیا نہیں تو میں اُس بےچارے لڑکے کو لڑکیاں پٹانے کی تین چار کچھ اچھی تھوڑی ڈفرنٹ ٹپس ہی دے دیتا اُس کا بھلا ہو جاتا”
جتنی سنجیدگی سے ریان عرا سے بولا عرا منہ کھولے اُس کو دیکھنے لگی ریان کے چہرے پر صرف اور صرف شرارت رقصاں تھی عرا افسوس کرتی گاڑی میں جا بیٹھی
****
عرا نے جیسے ہی اون سے بیک ہوا ہوا بٹر کیک نکالا پورے کچن میں بٹر کیک کی خوشبو پھیل گئی دو گھنٹے پہلے ہی وہ ریان کے ساتھ اپنا ڈریس لےکر واپس آئی تھی زیاد ابھی تک آفس میں موجود تھا اس کو لیٹ آنا تھا اپنے ڈنر کا اس نے عرا کو منع کردیا تھا اس لیے عرا نے زیاد کے لیے خود سے ہی کیک بیک کرنے کا سوچا کیونکہ عرا جانتی تھی زیاد کو بٹر کیک پسند تھا۔۔۔ چھری کی مدد سے احتیاط سے وہ کیک کو ٹرے سے باہر نکال رہی تھی تبھی اچانک مائے نور تیزی سے قدم اٹھاتی کچن میں چلی آئی اور اُس نے عرا کو بازو سے پکڑ کر زور سے پیچھے دھکا دیا عرا اچانک ہوئے اِس حملے کے لیے تیار نہ تھی اُس کی پشت کچن کی دیوار سے جا ٹکرائی اور چھری ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے قدموں میں گر پڑی عرا حیرت سے مائے نور کو دیکھنے لگی جو غصے میں آنکھیں نکال کر اُس کو گھورتی ہوئی عرا کے مزید قریب چلی آئی
“کہاں گئی تھی تم ریان کے ساتھ”
مائے نور عرا کو غُصے میں دیکھتی ہوئی اُس سے پوچھنے لگی
“میرا ڈریس ریڈی ہوگیا تھا اُسے لینے کے لیے”
عرا مائے نور کا غصہ دیکھ کر اپنی گھبراہٹ چھپاتی ہوئی اس کو بتانے لگی تب مائے نور کی نظر عرا کے گلے میں موجود پینڈنٹ پر پڑی ریان کا دیا ہوا پینڈنیٹ دیکھ کر مائے نور کو مزید غُصہ آیا
“کیا سمجھا ہوا ہے تم نے میرے بیٹے کو اپنے باپ کا نوکر یا پھر اپنا ڈرائیور جو وہ تمہارے کام کے لیے تمہیں باہر لے جائے”
مائے نور عرا کو دیکھکر غصے میں بولی تو عرا بےبسی سے کچن سے باہر دیکھنے لگی اچھا ہوتا کہ زیاد آفس سے آجاتا وہ دل ہی دل میں دعا کرنے لگی
“آپ غلط سمجھ رہی ہیں آنٹی زیاد نے مجھے کال کر کے بولا تھا کہ میں ریان کے ساتھ چلی جاؤ کیونکہ آج زیاد کو آفس سے لیٹ آنا تھا”
عرا مائے نور کو دیکھتی ہوئی بتانے لگی تو مائے نور غصے میں غرائی
“زیاد کون ہوتا ہے بولنے والا، ریان میرا بیٹا ہے، سنا تم نے میرا۔۔۔ آئندہ تم مجھے ریان کے آس پاس دکھی تو۔۔۔
مائے نور نے اپنا جملہ ادھورا چھوڑ کر فرش پر گری ہوئی چھری اٹھائی تو عرا کی آنکھیں خوف سے پھیل گئی مائے نور نے عرا کے چہرے پر خوف دیکھا تو اپنا ادھورا جملہ پورا کیا
“تو میں تمہیں ایسی جگہ پر زندہ دفنا کر آؤ گی جہاں تمہارا نام و نشان دنیا کو نہیں مل سکے گا”
مائے نور کے بولے گئے جملے پر عرا کو اپنے بھیانک خواب والا منظر یاد آگیا مکھوٹے میں چھپا وہ چہرا جو اس کو زندہ دفن کرنا چاہتا تھا۔۔۔ عرا مائے نور کو خوفزدہ ہوکر دیکھنے لگی۔ ۔۔ مائے نور نے عرا کے چہرے پر خوف دیکھ کر اُس کے گلے میں موجود پینڈینٹ کھینچ کر اپنی مٹھی میں دبالیا وہ چھری کو شیلف پر رکھتی ہوئی کچن سے باہر جانے لگی تبھی اس کی نظر بیک ہوئے کیک پر پڑی
“کس کی پرمیشن پر تم کچن میں داخل ہوئی اور یہ کیک بیک کیا تم نے۔۔۔۔ میری ایک بات کان کھول کر اچھی طرح سن لو یہ میرا گھر ہے یہاں کی ایک ایک چیز کی مالک میں ہوں اگر تم نے بغیر اجازت کے کسی بھی چیز کو استعمال کیا تو دو منٹ میں دھکے دے کر نکال دو گی میں تمہیں سکندر ولا سے”
مائے نور نے عرا کو دھمکانے کے ساتھ ہی غصے میں کیک پر ہاتھ مار کر اسے نیچے فرش پر پھینک دیا اس قدر بےعزتی پر عرا کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے جو اُس نے کب سے برداشت کیے ہوئے تھے عرا کی آنکھ میں آنسو دیکھ کر مائے نور طنزیہ ہنسی
“چھوٹے لوگ چھوٹی سوچ کے ہی مالک ہوتے ہیں۔۔۔ معدے کے ذریعے دل میں اترنے والے یہ چیپ حربے میرے اِس گھر میں مت آزمانا ورنہ اس کیک کے جیسا حشر کر ڈالوں گی میں تمہارا”
مائے نور عرا کو مزید بولتی ہوئی کچن سے جانے کے لیے پلٹی تو کچن کی دہلیز پر ریان کو دیکھ کر اُس کے قدم ٹھٹھکے وہی عرا بھی ریان کو دیکھ کر جلدی سے اپنے گال پر آئے آنسو صاف کرنے لگی ریان نے ایک نظر فرش پر بکھرے ہوئے کیک پر ڈالی دوسری نظر عرا کی نم آنکھوں پر۔۔۔ وہ چلتا ہوا مائے نور کے پاس آیا
“اس لڑکی کو دل میں اترنے کے لیے چیپ حربے استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے ماں اس کو پہلے ہی آپ کا بیٹا اپنے دل میں بسائے بیٹھا ہے جبھی تو یہ سکندر ولا میں موجود ہے”
ریان کے بولنے پر مائے نور کے چہرے پر غصے میں ایک رنگ آیا دوسرا جانے لگا
“بکواس بند کرو اپنی شرم نہیں آرہی تمہیں اپنی ماں کے سامنے ایک تھرڈ کلاس لڑکی کے بارے میں بات کرتے ہوئے”
مائے نور ریان پر غصہ کرتی ہوئی بولی
“حقیقت بیان کرتے ہوئے مجھے ذرا بھی شرم نہیں آرہی ہے یہ لڑکی تھرڈ کلاس نہیں ہے اس کی کلاس کا اندازہ آپ اس بات سے لگالیں کہ ریان سکندر اِس کی حمایت میں اپنی ماں کے سامنے کھڑا اُس سے بات کررہا ہے۔۔۔ سوری ٹو سے بٹ تھرڈ کلاس وہ حرکت تھی جو تھوڑی دیر پہلے آپ سے ہوچکی ہے”
ریان کی بات سن کر مائے نور غصے میں آگ بگولہ ریان کو دیکھنے لگی عرا نے ریان کے چہرے کی جانب دیکھا مگر وہ اُس کی بجائے مائے نور کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اُسی کو دیکھ رہا تھا عرا نے وہاں سے چلے جانے میں اپنی عافیت جانی وہ کچن سے جانے لگی تبھی ریان نے عرا کلائی پکڑ کر اسے جانے سے روک دیا یہ دیکھ کر مائے نور کو مزید غصہ آیا
“ماں یہ لاکٹ عرا کا ہے پلیز اُس کا لاکٹ اسے واپس کردیں”
ریان عرا کی کلائی پکڑے مائے نور کو دیکھ کر بولا تو مائے نور کا دل چاہا وہ ریان کا گال زوردار طماچے سے لال کردے جو اس لڑکی کے سامنے اپنی ماں سے اس لہجے میں مخاطب تھا
“یہ لاکٹ اب اس کو نہیں ملے گا کیا کرلو گے تم”
مائے نور ایک ایک لفظ چباتی ہوئی ریان سے بولی تو ریان کو مائے نور کہ اِس رویے پر افسوس کے ساتھ ساتھ غصہ بھی آنے لگا
“آپ یہ لاکٹ اب اسے دیئے بغیر یہاں سے نہیں جائیں گیں”
ریان نے بولتے ہوئے عرا کا ہاتھ چھوڑا اور کچن میں شیلف پر رکھی ہوئی پلیٹس میں سے ایک پلیٹ اٹھاکر فرش پر پھینکی جس پر عرا اپنی جگہ کھڑی کھڑی سہم گئی جبکہ مائے نور نے ریان کو غصے میں گھورا جو اتنا مہنگے اور قیمتی ڈنر سیٹ کی پلیٹ کو توڑ چکا تھا
“ماں یہ لاکٹ عرا کو واپس کردیں”
ریان نے آرام سے بولتے ہوئے دوسری پلیٹ اُٹھائی
“تم مجھے مجبور نہیں کرسکتے”
مائے نور غصے میں بولی تو ریان نے وہ پلیٹ بھی فرش پر پٹخ کر تیسری پلیٹ اٹھالی
stop your childish attitude
مائے نور ریان کی حرکت پر چیختی ہوئی بولی مگر تیسری پلیٹ بھی زمین بوس کر کے وہ چوتھی پلیٹ اٹھاچکا تھا
“مجھے نہیں چاہیے وہ لاکٹ”
عرا بیچ میں مداخلت کرتی ہوئی بولی اور کچن سے دوبارہ جانے لگی تو ریان اُس کو دیکھ کر بری طرح دھاڑا
“اپنی جگہ سے ہلی تو تمہاری ٹانگیں توڑ ڈالو گا میں”
ریان کے یوں زور سے دھاڑنے پر وہ بری طرح سہم گئی چوتھی پلیٹ بھی چکنا چور ہوچکی تھی ریان پانچویں پلیٹ اٹھا چکا تھا شور کی آواز سے عشوہ بھی کچن میں آگئی اور خاموش کھڑی سارا تماشہ دیکھنے لگی مائے نور نے مٹھی میں دبا ہوا لاکٹ کھینچ کر عرا کو مارا جو عرا کے کندھے سے ٹکرا کر نیچے فرش پر گر پڑا
“دیکھ لوں گی میں تمہیں”
مائے نور عرا کو بولتی ہوئی غصہ بھری نظر ریان پر ڈال کر وہاں سے چلی گئی وہ جانتی تھی اس کا چھوٹا بیٹا کس قدر ضدی اور جذباتی ہے اگر وہ لاکٹ عرا کو واپس نہیں کرتی تو ریان کچن میں موجود ایک ایک برتن کو توڑ کر پوری کچن کی چیزوں کو تہس نہس کر ڈالتا عشوہ بھی مائے نور کے پیچھے اس کے کمرے میں جانے لگی ریان نے ہاتھ میں موجود پلیٹ واپس شیلف پر رکھی اور عرا کے پاس آکر نیچے جھک کر گرا ہوا لاکٹ اٹھانے لگا
“تمہیں یوں آنٹی کے ساتھ پیش نہیں آنا چاہیے تھا”
عرا ریان سے بولی جو اس کی بات سن کر بناء کچھ بولے عرا کو لاکٹ پہنانے لگا عرا اُس کا ارادہ جان کر ایک دم پیچھے ہوئی جس پر ریان عرا کو آنکھیں دکھاتا ہوا بولا
“تھوڑی دیر پہلے کیا بولا تھا میں نے اپنی جگہ سے ہلی تو تمہاری ٹانگیں توڑ ڈالوں گا محبت نہیں ہے تمہیں اپنی ٹانگوں سے”
وہ عرا کو ڈانٹتا ہوا دوبارہ سے لاکٹ پہنانے لگا اب کی مرتبہ عرا ایک انچ بھی نہیں ہلی اپنا سانس روکے بالکل خاموش کھڑی رہی۔۔۔ سکندر ولا میں موجود ہر فرد کا انداز ہی انوکھا، نرالا تھا اور دل دہلانے والا بھی جسے دیکھ کر اس کی جان ہلکان ہوجاتی یہ فیملی کس قدر عجیب تھی عرا کو یہاں رہ کر پتہ چل رہا تھا
“ماں کے اس بی ہیویئر پر مجھے کافی زیادہ افسوس ہے انہیں تمہارے ساتھ اس طرح نہیں کرنا چاہیے تھا پلیز ماں کے لیے برا خیال اپنے دل میں مت لانا”
ریان عرا کو لاکٹ پہنانے کے بعد پیچھے ہوا اب کی مرتبہ نرم لہجے میں عرا سے بولا
“آنٹی تمہاری حرکت پر تم سے ناراض ہوچکی ہیں شاید”
عرا ریان کا نرم لہجہ دیکھ کر اس سے اتنا ہی بولی
“وہ شروع سے ہی میری ضد اور غصے کو جانتی ہیں۔۔۔ اُن کو اپنی چھوٹی اولاد کی حرکتوں کا اچھی طرح علم ہے میں شروع سے یہی کچھ کرتا ہوں اپنی بات منوانے کے لیے اور اُن کو منانا تمہارے ہسبینڈ کے لیے مشکل ہے مگر میں ان کو دو منٹ میں منا سکتا ہوں”
ریان عرا سے بولتا ہوا کچن سے جانے لگا
“وہ کافی غصے میں تھیں تم کیسے اُن کی ناراضگی ختم کرو گے”
عرا مائے نور کا غصے دیکھکر ریان سے پوچھنے لگی جس طرح وہ غصے میں کچن سے نکلی تھی مشکل ہی تھا ریان مائے نور کو مناسکے
“کوئی ٹینشن والی بات نہیں ہے انہیں گود میں اونچا اٹھاکر تب تک گول گول چکر دوں گا جب تک اُن کی ناراضگی ختم نہیں ہوجاتی یا وہ مجھے معاف نہیں کردیتیں سمپل”
ریان عام سے لہجے میں بولتا ہوا وہاں سے چلا گیا جبکہ عرا وہی کھڑی ریان کی پشت کو گھورنے لگی دیکھنے لگی پھر اس کا دھیان کچن کی طرف گیا تو سر جھکا کر نیچے فرش کی ابتر حالت دیکھ اُسے افسوس ہونے لگا
****
