Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel NovelR50397 Payar Howa Tha (Episode 17)
No Download Link
Rate this Novel
Payar Howa Tha (Episode 17)
Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel
“مم۔۔۔۔ مجھے یہاں نہیں رہنا مجھے زیاد کے کمرے میں لے چلو شمع”
عرا شمع کو دیکھتی ہوئی بولی تو شمع عرا کی عجیب سی بات پر حیرت ذدہ ہوکر اس کو دیکھنے لگی
“زیاد بھائی کا کمرہ تو لاک ہے اور چابی ریان بھائی کے پاس موجود ہے کیوکہ بیگم صاحبہ (مائے نور) ان کے کمرے میں وقت گزارنے لگی تھیں جس سے اُن کی طبیعت خراب رہتی تھی اس لیے ریان بھائی نے اس کمرے کو لاک کردیا اور ویسے بھی اگر آپ زیاد بھائی کے کمرے میں جائیں گی تو شاید ریان بھائی کو برا لگ سکتا ہے تب میں اور اب میں کافی فرق آگیا ہے”
شمع اپنی عقل کے مطابق اس کو سمجھاتی ہوئی بولی تو عرا شمع کا چہرہ دیکھنے لگی
“صحیح بول رہی ہو تب میں اور اب میں بہت فرق آگیا ہے لیکن اس فرق کے باوجود میں زیاد کے کمرے میں جانا چاہتی ہوں پلیز شمع میری خاطر کسی طرح سے زیاد کے کمرے کا لاک کھول دو مجھے یہاں بہت زیادہ گھبراہٹ ہورہی ہے”
عرا بےچارگی سے شمع کو دیکھتی ہوئی بولی
“اچھا آپ پریشان نہ ہوں میں کوشش کرتی ہوں”
شمع عرا کی بےبسی پر اسے دیکھ کر بولی اور وہاں سے چلی گئی
تھوڑی دیر بعد عرا زیاد کے کمرے میں موجود تھی نہیں یہ کمرہ صرف زیاد کا نہیں بلکہ اس کا بھی ہوا کرتا تھا اس کمرے میں وہ پہلی مرتبہ دلہن بن کر زیاد کی ہمراہ آئی تھی آج اکیلے اس کمرے میں قدم رکھتے اس کے قدم لڑکھڑائے تو عرا نے بےاختیار دیوار کا سہارا لیا یہ کمرہ اِس کمرے کی ایک ایک چیز سے اُس کو انسیت تھی اِس کمرے میں اُس کو زیاد کی خوشبو محسوس ہورہی تھی کمرے کی سیٹنگ بالکل ویسی ہی تھی مگر سامنے دیوار پر اب اس اور کی زیاد کی شادی کی تصویر موجود نہ تھی بلکہ اُس کی جگہ زیاد کی دوسری تصویر جس میں وہ اکیلا کھڑا مسکرا رہا تھا اس تصویر کو بڑا کرکے دیوار پر لگایا گیا تھا
“زیاد” تصویر کے قریب جاکر زیاد کا نام پکارتے ہوئے کئی آنسو عرا کی آنکھوں سے ٹپک کر گرے
“مجھ سے ناراض مت ہونا آج میں نے اپنے نام کے ساتھ تمہارا نام ہٹادیا ایسا میں نے خود پر جبر کرکے بہت مجبوری کے عالم میں کیا ہے صرف عون کے مستقبل کا سوچ کر، تم جانتے ہو ناں میں نے ایسا ہمارے بیٹے کے لیے کیا ہے میرے دل میں میری یادوں میں تم آج بھی زندہ ہو۔۔۔ تم کیوں چلے گئے مجھے چھوڑ کر مجھے تمہاری ضرورت تھی ہمارے بیٹے کو تمہاری ضرورت تھی۔۔۔ تم نے بھی تو اچھا نہیں کیا ہم دونوں کو چھوڑ کر چلے گئے یہ تک نہیں سوچا کہ ہم تمہارے بغیر تنہا کیسے رہیں گے میں اکیلی کیسے ہمارے بیٹے کو پالوں گی۔۔۔ تمہارا یوں دور چلے جانا کاش یہ میرا کوئی برا خواب ہوتا تم واپس لوٹ آؤ زیاد تمہارے بغیر میں کیسے ساری زندگی گزار سکتی ہوں پلیز تم واپس لوٹ کر آجاؤ”
زیاد کی تصویر سے باتیں کرتے وقت اُس کا چہرہ آنسوؤں سے پوری طرح بھیگ چکا تھا عرا کو احساس بھی نہ ہوا کہ کوئی اُس کی پشت پر موجود اس کی ساری باتیں سن رہا تھا ریان نے عرا کے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھا تو عرا دھندلی آنکھوں سے مڑ کر اُسے دیکھنے لگی
“زیاد تم آگئے میں جانتی ہوں تم واپس آجاؤ گے تم میری کوئی بھی بات نہیں ٹال سکتے”
عرا ریان کے سینے پر اپنا سر رکھتی ہوئی بولی اس نے روتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ ریان کی کمر پر باندھے لیے اس وقت وہ اپنے حواسوں میں موجود نہیں تھی
زیاد کے کمرے میں زیاد کی تصویر سے باتیں کرتے ہوئے وہ دھوکہ کھاکر ریان کو زیاد سمجھ بیٹھی تھی۔۔۔ ریان کا دل کیا کہ وہ عرا کو بتائے کہ زیاد نے مرنے سے پہلے بھی نہ صرف اس کا اور اس کے بچے کا خیال کیا تھا بلکہ اس نے اپنے بھائی کی خوشی کا بھی سوچا تھا تبھی دنیا سے جانے سے پہلے اس نے ریان سے وہ وعدہ لیا تھا لیکن ریان عرا سے اس وقت کچھ بھی نہیں بول سکا وہ عرا کے گرد بازو لپیٹ کر اس کے وجود کو اپنے حصار میں لے چکا تھا
“عرا تم ریسٹ کرلو تمہیں ابھی بھی بخار ہورہا ہے”
ریان اس کو حصار میں لیے آہستگی سے بولا تزئین اسے کھانا کھلا چکی تھی اب اسے آرام کی ضرورت تھی ریان اسے اپنے کمرے میں لے جانے کی بجائے اسی کمرے میں اپنے بازوں میں سمائے بیڈ تک لے آیا
“تم مجھے سلا دو میں جانے کتنی راتوں سے سکون کی نیند نہیں سو پائی ہوں میں اب سونا چاہتی ہوں”
ریان جانتا تھا عرا صحیح کہہ رہی ہوگی وہ سچ میں اس سے شادی کا سوچ کر کہیں راتوں سے پریشان ہوگی ریان نے عرا کو بیڈ پہ لٹانے کے بعد خود بھی بیڈ پر لیٹتے ہوئے عرا کا سر اپنے سینے پر رکھ دیا
“اِس طرح دوبارہ مت رونا عرا تمہاری آنکھوں میں آنسو دیکھ کر میرے دل کو بہت تکلیف ہوتی ہے”
ریان نے اپنے دایاں بازو پھیلا کر عرا کے کندھے پر رکھا، عرا اس کے سینے پر سر رکھے لیٹی تھی ریان اپنا بایاں بازو عرا کے گرد باندھتا ہوا اسے اپنے حصار میں لےکر بولا
“تم وعدہ کرو مجھے دوبارہ چھوڑ کر نہیں جاؤ گے”
ریان کی دسترس میں اس کے بازووں کے حصار میں عرا خود کو محفوظ اور پُرسکون محسوس کرتی اس کے سینے سے سر اٹھائے بغیر بولی تو ریان نے عرا کی کمر پر رکھا ہوا اپنا ہاتھ ہٹاکر عرا کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہونٹوں سے لگایا اور واپس اس کا ہاتھ اپنے سینے پر رکھتا ہوا بولا
“میں وعدہ کرتا ہوں تمہیں اور عون کو کبھی بھی خود سے دور نہیں کرو گا ہمیشہ تم دونوں کو اپنے پاس رکھوں گا تم دونوں ہی میرے لیے بہت قیمتی ہو مجھے تم دونوں سے بےحد محبت ہے”
ریان عرا سے وعدہ کرتا ہوا بولا
“عون کہاں ہے زیاد۔۔۔ کہاں ہے وہ اسے میرے پاس لے آؤ”
عون کو یاد کر کے وہ بےقرار لہجے میں بولی اس سے پہلے وہ ریان کے سینے سے سر اٹھاتی ریان نے اپنا ہاتھ اس کے گال پر رکھ دیا
“ٰعرا ریلیکس لیٹی ہوجاؤ عون اپنی دادی کے پاس موجود ہے میں اس کو دیکھ کر یہاں تمہارے پاس آیا ہوں وہ سو رہا ہے تم بھی سو جاؤ ماں عون کو دیکھ لے گیں تمہیں اس وقت آرام کی ضرورت ہے”
ریان نے بولتے ہوئے جھک کر اس کے بالوں کو اپنے ہونٹوں سے چھوا ایک مرتبہ دوبارہ وہ نرمی سے عرا کے گرد اپنا حصار باندھ چکا تھا
“تم مجھے اب چھوڑ کر نہیں جاؤ گے تم مجھ سے پیار کرتے ہو میں جانتی ہوں”
بند آنکھوں کے ساتھ وہ ایک مرتبہ پھر بولی اس کا ذہن آہستہ آہستہ غنودگی میں جارہا تھا اس کے حواسوں پر نیند کا غلبہ طاری ہورہا تھا ریان کی باہوں میں خود کو سپرد کر کے وہ مکمل طور پر گہری نیند میں چلی گئی
“پیار نہیں محبت کرتا بیٹھا ہوں تم سے بہت شدت سے۔۔۔ تم میری زندگی ہو میری واحد خوشی جس کو پانے کی مجھے بالکل امید نہ تھی لیکن تم میرے نصیب میں لکھ دی گئی ہو میرا نصیب تمہارے نصیب سے جڑ گیا۔۔۔ آج میں نے تمہیں پالیا ہے میں جانتا ہوں یہ تمہارے لیے خوشی کی بات نہیں مگر میں تمہیں پاکر بےحد خوش ہوں میرے دل میں آج تک جو طوفان برپا تھا تمہیں پاکر وہ تھم گیا ہے تمہیں اپنا بناکر میں اب پرسکون ہوں تمہارا یہ وجود میرے لیے کسی قیمتی تحفے سے کم نہیں”
ریان نے عرا سے اپنے دل کا حال بیان کرتے ہوئے نرمی سے اس کے وجود کو اپنے حصار سے آزاد کیا اور اُس کا سر تکیہ پر رکھا۔۔۔
وہ عرا کے اوپر جھک کر اس کا چہرہ دیکھنے لگا
“اس طرح سے کون روتا ہے”
ریان دل میں عرا سے خفا ہوکر بولتا ہوا اس کی سُوجھی ہوئی آنکھوں کو باری باری چومنے لگا۔۔۔ ریان کی نظریں عرا کے ہونٹوں پر پڑی تو چاہ کر بھی وہ عرا کے ہونٹوں سے اپنی نظریں نہ ہٹاسکا اور نہ ہی وہ اپنے تشنہ لب عرا کے ہونٹوں پر رکھ کر اپنی پیاس بجھا سکا کیوکہ اس عمل سے عرا کی نیند خراب ہونے کا خدشہ تھا اس نے آرام سے عرا کا دوپٹہ سینے سے ہٹاکر سائیڈ پہ رکھا اس کے جذبات یک دم شور مچانے لگے جن کو وہ خاموش کرواتا ہوا خود بھی عرا کے برابر میں سونے کے لیے لیٹ گیا
****
خود کو تکیہ پر لیٹا دیکھ کر وہ نیند میں دوبارہ ریان کے قریب آکر اس کے سینے پر سر رکھ کر لیٹ گئی جس کی وجہ سے ریان کی آنکھ کھلی گھڑی اِس وقت صبح کے 11 بجارہی تھی ریان کو اپنی اتنی دیر تک سونے پر حیرت ہوئی وہ اتنی دیر تک نیند لینے کا عادی نہیں تھا اس نے سر جھکا کر اپنے سینے کی طرف دیکھا جہاں سر رکھے عرا ابھی بھی نیند میں اس کے بےحد قریب لیٹی تھی۔۔۔ ریان نے ذرا سا سر اٹھاکر اپنے ہونٹ عرا کے سنہری بالوں پر رکھے اور اپنا ہاتھ اس کے گال پر رکھتا ہوا بولا
“عرا جاگ جاؤ ہم لوگ کافی لیٹ ہوگئے ہیں”
ریان نے عرا کو بازووں میں تھامے آہستہ آواز میں بولتے ہوئے اس کے گال پر رکھا اپنا ہاتھ ہٹایا عرا نے ریان کی آواز پر اپنی آنکھیں کھولی اور اس کے سینے سے اپنا سر اٹھایا خود کو ریان کے اس قدر قریب دیکھ کر جیسے وہ ایک دم کرنٹ کھاتی ہوئی فوراً پیچھے ہٹی
“تم۔۔۔” وہ شاک سے پوری آنکھیں کھول کر ریان کو دیکھنے لگی جو اس کو یوں پیچھے ہوتا دیکھ کر خود بھی اٹھ کر بیٹھ گیا اب وہ خاموشی سے عرا کا چہرہ دیکھ رہا تھا جس پر آہستہ آہستہ بےیقینی چھانا شروع ہوچکی تھی
“کل رات اس کمرے میں تم موجود تھے یعنی وہ سب میرا خواب نہیں بلکہ تم۔۔۔ اور میں سمجھی زیاد۔۔۔
عرا نے خود سے بولتے ہوئے بےیقینی سے اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھا عرا کو یوں پریشان دیکھ کر ریان اُٹھ کر اُس کے پاس آیا
“تمہاری طبیعت کل رات ٹھیک نہیں تھی تمہارے ذہن کو ریسٹ کی ضرورت تھی اس لیے تمہیں محسوس ہی نہیں ہوا کہ۔۔۔
وہ عرا کا ہاتھ پکڑے آہستہ آواز میں اسے بتانے لگا تبھی عرا نے اُس کا ہاتھ زور سے جھٹکا
“تم نے کل رات اس بات کا فائدہ اٹھایا، تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے ہاتھ لگانے کی، مجھے چھونے کی”
وہ دبی آواز میں احتجاجاً چیختی ہوئی ریان سے بولی اُس کی بےیقینی آہستہ آہستہ غصے میں ڈھلنے لگی
“کل رات میں نے تمہارے ساتھ ایسا کچھ نہیں کیا جس پر تم یوں غصہ کررہی ہو میں نے ہی شمع کو زیاد کے روم کی چابی دی تھی خود تمہیں یہاں بلانے آیا تو تم زیاد کی تصویر کے سامنے کھڑی رو رہی تھی”
ریان اس کو غصہ ہوتا دیکھ کر نرم لہجے میں اسے بتانے لگا تو عرا کی نظر زیاد کی تصویر پر پڑی
“اور تم نے زیاد کی تصویر کے سامنے ہی۔۔۔۔ اُس کے کمرے میں اس کی بیوی کو چھوا، میرے ساتھ۔۔۔
عرا آگے بولتی ہوئی خود ہی چپ ہوگئی اسے زیاد کی تصویر کو دیکھتے ہوئے شرمندگی نے گھیرے میں لے لیا
“تم اس کی بیوی نہیں میری بیوی ہو۔۔۔ میرے نکاح میں موجود ہو”
ریان اس کی غلط بات کو درست کرتا ہوا بولا جس پر عرا برہم ہوئی
“شیٹ اپ”
وہ غصے میں بولتی ہوئی اپنا دوپٹہ بیڈ سے اٹھاکر سلیپرز دونوں پاؤں میں ڈالتی کمرے سے نکلنے لگی اب مزید وہ زیاد کے کمرے میں نہیں رہنا چاہتی تھی
“عرا میری بات سنو”
عرا کو کمرے سے باہر جاتا دیکھ کر ریان عرا پیچھے کمرے سے باہر آگیا وہ کوریڈور میں کھڑی بےبسی سے ریان کے کمرے کو دیکھنے لگی ریان کے کمرے میں بھی وہ نہیں جانا چاہتی تھی۔۔۔ ڈائینگ ہال سے آتی آوازیں اس بات کو ظاہر کررہی تھی کہ ڈائینگ ہال میں ناشتہ چل رہا تھا معلوم نہیں گھر میں کتنے افراد موجود تھے
“عرا گھر میں چچا کی فیملی بھی موجود ہیں پلیز روم میں چلو”
اس سے پہلے وہاں کوئی آتا ریان عرا کو بولتا ہوا اس کی کلائی پکڑ کر اپنے روم میں لے آیا جہاں آکر عرا نے ریان سے اپنا ہاتھ چھڑوایا اور خاموشی سے صوفے پر بیٹھ گئی ریان بھی اس کے سامنے بیٹھتا ہوا عرا کو دیکھنے لگا جو ذہنی طور پر اس وقت بھی زیاد کے کمرے میں موجود تھی
کل رات کا منظر سوچتی ہوئی وہ خیالوں میں گم بےخیالی میں اپنا ہاتھ سر کے بالوں تک لے گئی اور ہاتھوں کی انگلیوں سے اپنے بالوں کو رگڑنے لگی جیسے اپنے بالوں سے کچھ ہٹانا چاہ رہی ہو ریان عرا کی حرکت پر کنفیوز ہوکر غور سے اسے دیکھنے لگا لیکن عرا اس کی طرف متوجہ نہ تھی اب وہ اپنے ہاتھ کی پشت پر دوسرا ہاتھ رگڑ رہی تھی تب ریان کو یاد آیا اس نے رات میں اس کے ہاتھ اور بالوں کو اپنے ہوٹوں سے چھوا تھا وہ اس کے ہونٹوں کا لمس خود پر سے ہٹارہی تھی ریان اپنی پیشانی رگڑتا ہوا اٹھ کر عرا کے پاس آکر کھڑا ہوا
“عرا ایسا کچھ نہیں ہوا ہمارے درمیان جو تم ایسے ری ایکٹ کررہی ہو میں نے کچھ نہیں کیا تمہارے ساتھ”
ریان اسے ڈسٹرب دیکھ بولا تب عرا ہوش کی دنیا میں آئی اور اُس کو گھور کر دیکھتی ہوئی بولی
“تم ذرا کچھ کر کے دکھاؤ میرے ساتھ”
وہ صوفے سے اٹھ کر کھڑی ہوتی ریان سے بولی
“کیا میں اسے اپنے لیے چیلنج سمجھوں”
عرا کے یوں غصہ کرنے پر ریان بےحد سنجیدگی سے عرا کے چہرے پر اپنی نظر گاڑھے اس سے پوچھنے لگا
“شٹ اپ ریان تم اپنی حد میں رہو”
ریان کی اس ڈھٹائی پر وہ غصے میں لال پیلی ہوئی تو ریان دو قدم آگے بڑھ کر اس کے نزدیک آیا پیچھے صوفے تھا وہ مزید پیچھے نہیں ہوسکتی تھی اس لیے بےحد قریب سے ریان کا چہرہ دیکھنے لگی ریان اپنا چہرا عرا کے مزید قریب لایا تو عرا کی سانس رکھنے لگی
“میں کل رات بھی حد میں تھا اور اس وقت بھی اپنی حد میں ہوں۔۔۔ ان حدوں کا پابند میں نے خود کو صرف اس وجہ سے کیا ہے کیوکہ میں تمہارے ساتھ زبردستی کا تعلق قائم نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ کل رات تم میرے بےحد قریب اور نیند میں خود سے غافل تھی میں چاہتا تو تمہاری ذات پر بہت آرام سے اپنی مکمل چھاپ چھوڑ سکتا تھا مگر میں نے ایسا نہیں کیا شرعی اور قانونی حق ہونے کے باوجود میں نے کوئی لمٹ کراس نہیں کی صرف تمہاری ذات کا احساس کرکے لیکن تمہارا یوں بار بار میرے ساتھ روڈ ہونا میں یہ بھی ڈیزرو نہیں کرتا آئندہ خیال رکھنا”
ریان چہرے پر سنجیدہ تاثرات لائے عرا سے بولا اس کو اس قدر سیریس دیکھ کر عرا کا غصہ کہیں دور جا سویا وہ بھلا یوں کسی پر کیسے حاوی ہوسکتی تھی غصہ کرنا یا لڑنا جھگڑنا تو اس کی نیچر کا حصہ بھی نہ تھا۔۔۔ ریان کی بات پر عرا نے بناء کچھ بولے اپنا سر جھکالیا ریان اسکے جھکے سر کو دیکھ کر وارڈروب کی جانب بڑھنے لگا
“میرے کپڑے بھی منگوا دو شمع سے مجھے ڈریس چینج کرنا ہے”
عرا کے ایک دم نرم پڑنے اور خود سے مخاطب کرنے پر ریان دل میں مسکرایا وہ بچپن سے ہی سامنے کھڑی اس لڑکی کو اچھی طرح جانتا تھا جو صلح جو طبیعت اور بہت پولائٹ سی نیچر کی لڑکی تھی
“تمہارے سارے کپڑے اور یوز کی تمام چیزیں تمہیں اسی کمرے میں ملیں گی اور اب سے یہی تمہارا کمرہ ہے”
ریان کی بات پر عرا نے سر اٹھاکر اسے دیکھا وہ ابھی بھی سنجیدہ اور خاموش نظروں سے اُسی کو دیکھ رہا تھا
“وہ رہا وارڈروب اس میں تمہارے سارے ڈریسز موجود ہیں جاؤ تم فریش ہوکر آجاؤ ناشتہ میں یہی روم میں منگوا لیتا ہوں”
ریان عرا کو دیکھتا ہوا بولا
سب لوگ یقیناً ناشتے سے فارغ ہوچکے ہوگے شاید عرا کسی کی موجودگی میں سہی سے ناشتہ نہ کرپاتی اس لیے ریان نے اپنا اور اس کا ناشتہ روم میں منگوالیا لیکن عرا نے اس کے سامنے بھی کسی دوسری چیز کو ہاتھ لگائے بغیر صرف ایک بریڈ کا پیس اٹھایا اور اسی کو کترتی رہی ریان اس یہ تکلف بھرا انداز دیکھ کر گہرا سانس لیتا اس کے پاس سے اٹھ کر اپنے کپڑے وارڈروب سے نکالتا ہوا شاور لینے چلے گیا جس کے بعد وہ اطمینان سے ناشتہ کرنے لگی
****
“تم یہاں میرے کمرے میں”
مائے نور عرا کو اپنے کمرے میں آتا دیکھ کر ایک دم بولی اس کا انداز ایسا تھا کہ عرا اس کے کمرے میں آکر شرمندگی سی محسوس کرنے لگی
“روم کا دروازہ پہلے ہی کھلا تھا اس لیے ناک نہیں کیا”
عرا وضاحت دیتی ہوئی بولی اس کی نظریں مائے نور کی بجائے بیڈ پر سوئے ہوئے عون پر ٹکی ہوئی تھی
“پھر بھی یوں منہ اٹھاکر کوئی میرے کمرے میں چلا آئے تو مجھے پسند نہیں ہے آئندہ خیال رکھنا”
مائے نور کی بات سن کر عرا شرمندگی محسوس کرتی اس سے بولی
“مجھے کل رات آپ کا رویہ دیکھ کر محسوس ہوا تھا کہ آپ مجھے معاف کرچکی ہوگیں”
عرا جان گئی تھی اس کے ڈیڈ کی وجہ سے مائے نور اُس کو بھی سخت ناپسند کرتی تھی مگر کل رات اپنی سکندر ولا میں آمد پر عرا کو لگا شاید مائے نور ساری پرانی باتیں بھول کر اس سے ملی تھی مگر ایسا نہ تھا
“میری گُڈ بک میں کسی کا شامل ہونا اتنا آسان نہیں ہے جو انسان مجھے ایک مرتبہ ناپسند آجائے مشکل سے ہی میرے دل میں اپنے لیے جگہ قائم کرتا ہے اور اگر تم اس خوش فہمی میں ہوکہ میں تم سے کل رات اچھی طرح سے ملی ہوں تو ظاہر سی بات ہے تم عون کی ماں ہو مجھے پوتا دینے پر اتنا تو حق رکھتی ہو کہ میں تمہارا اپنے گھر میں اچھی طرح سے ویلکم کرو”
مائے نور کی بات سن کر عرا نے اس کے رویے کو دل سے لگانے کی بجائے نظر انداز کرنا ضروری سمجھا وہ عون کو اٹھانے کے لیے آگے بڑھنے لگی
“رکو یوں منہ اٹھائے وہاں کدھر جارہی ہو”
مائے نور نے عرا کو اپنے بیڈ کی جانب جاتا دیکھ کر ماتھے پر بل لیے اس سے پوچھنے لگی
“اپنے بیٹے کو لینے”
لفظ اپنے بیٹے پر عرا نے کافی زور دیا تھا جس پر مائے نور ایک پل کے لیے خاموش ہوئی عرا نے آگے بڑھ کر عون کو اٹھانا چاہا
“وہ ابھی سویا ہوا ہے اسے ڈسٹرب مت کرو”
اب کی مرتبہ مائے نور ناگواری ظاہر کرتی عرا سے بولی تو عرا حیرت سے مائے نور کو دیکھنے لگی کیا اب وہ اپنے بیٹے کو لینے کے لیے بھی اس کی پرمیشن لے گی
“کیا چل رہا ہے بیوٹی فل لیڈیز یہاں سب ٹھیک ٹھاک ہے”
اچانک کمرے میں ریان کی آمد پر مائے نور کے ماتھے کے بل پل بھر میں غائب ہوگئے
“میں اس کو سمجھارہی ہوں عون تھوڑی دیر پہلے ہی سویا ہے ابھی اس کو گود میں مت لو اس کی نیند خراب ہوگی”
مائے نور مسکراتی ہوئی عام سے انداز میں ریان کو بتانے لگی تو ریان عرا کی روہانسی شکل دیکھنے لگا جیسے وہ ابھی رو دے گی ریان نے آگے بڑھ کر خود عون کو گود میں اٹھایا اُس کی پیشانی پر پیار کرتا ہوا اسے عرا کی گود میں دے دیا جس پر عرا نے تشکر بھری نظروں سے ریان کو دیکھا اور عون کو اپنے سینے سے لگاکر ایک نظر مائے نور کے تاریک چہرے پر ڈال کر وہ اس کے کمرے سے باہر نکل گئی تو مائے نور خفا سی ریان کو دیکھنے لگی
“کیا ہوگیا ماں، وہ ماں ہے عون کی کل رات سے عون آپ کے پاس موجود تھا ابھی تو وہ اپنے بیٹے کے ساتھ تھوڑا وقت گزارے گی ناں اس میں یوں خفا ہونے والی کیا بات ہے۔۔۔ اب آپ اپنے اِس بیٹے کو وقت دیں”
ریان مائے نور کے یوں منہ بنانے پر اُس کو پیار سے سمجھاتا ہوا بولا کیوکہ زیاد کے جانے کے بعد وہ کافی حساس ہوچکی تھی اسے اکثر پیار سے ہینڈل کرنا پڑتا
“تمہیں اور زیاد کو جتنا وقت دینا تھا وہ میں تم دونوں کو بچپن میں دے چکی ہوں اب سے میری ساری توجہ اور وقت صرف اور صرف عون کے لیے ہے۔۔۔ دیکھو عون کے رونے کی آواز آرہی ہے کتنی بےوقوف اور کم عقل لڑکی ہے یہ جگا دیا اس بچے کو”
مائے نور ریان سے بولتی ہوئی کمرے سے جانے لگی تو ریان نے مائے نور کی نرمی سے کلائی پکڑی
“اب اُسے اُس کی بےوقوفی کی سزا بھگتنے دیں خود خاموش کروا لے گی اپنے بیٹے کو آپ یہ بتائیں کہ بریک فاسٹ لیا آپ نے”
ریان مائے نور کو اس کی چیئر پر واپس بٹھاتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“ہاں کرلیا تھا بھئی جاؤ عون کو لےکر آؤ میرے پاس کس قدر رو رہا ہے بچہ”
مائے نور جھنجھلا کر ریان سے بولی
“آپ دادی ہوکر عون کے لیے کس قدر پریشان ہورہی ہیں اس نے نو ماہ اپنے وجود میں رکھا ہے اپنی اولاد کو، کیا اسے اپنے بچے کی رونے کی فکر نہیں ہوگی اگر عون اُس کے پاس رو رہا ہے تو وہ اس کو چپ کروا لے گی۔۔۔ تھوڑا سا وقت گزار لینے دیں اس کو اپنے بیٹے کے ساتھ آپ ریلیکس ہوجائیں یہ بتائیں صبح والی میڈیسن لی تھی آپ نے”
ریان مائے نور کو بہلاتا ہوا اسے سمجھانے لگا پھر اٹھ کر میڈیسن باکس میں ساری میڈیسنز دیکھنے لگا
“میں نے میڈیسن لےلی تھی ریان مجھے دوسری باتوں میں مت الجھاؤ آج شام گھر عقیقے کی تقریب ہے عون کیا پہنے گا یہ میں پہلے ہی ڈیسائڈ کرچکی ہوں جاکر عرا سے بول دو وہ تھوڑی دیر بعد عون کو میرے پاس لے آئے عون کو باتھ میں خود دلوا کر اسے تیار کردو گی اسے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں”
مائے نور کی بات پر ریان گہرا سانس کھینچ کر رہ گیا یقیناً یہ ایک مشکل مرحلہ تھا ماں اور بیوی کے رشتے کو متوازن رکھنا
****
