Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Payar Howa Tha (Episode 26) 2nd Last Episode

Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel

ہال میں قدم رکھتے ہی اس کی نظر ریان پر پڑی جو عرا کے چہرے پر جھکا اس کے کان میں کچھ کہہ رہا تھا عرا اس کی بات پر اسے پیچھے کرتی ہوئی اسے آنکھیں دکھانے لگی ریان کا عرا کی طرف محبت لٹاتی نظروں سے دیکھنا اور عرا کو شرماتے ہوئے دیکھ کر مسکرانا۔۔۔ مائے نور نے اپنا گلا کھنگارا وہ دونوں ہی مائے نور کی طرف متوجہ ہوگئے

“میں آپ ہی کے روم میں آنا والا تھا شمع بتا رہی تھی آپ بریک فاسٹ کرچکی ہیں”

ریان آفس جانے کے لیے تیار مائے نور کے پاس آتا ہوا اسے پوچھنے لگا عام دنوں کی بانسبت وہ کافی فریش اور ہشاش بشاش نظر آرہا تھا ریان کی بات پر مائے نور مسکرائی

“ناشتہ میں روز وقت پر ہی کرتی ہوں آج تم اپنی روٹین سے لیٹ ہوگئے ہو”

مائے نور مسکرا کر جتاتی ہوئی بولی

“آنکھ کافی لیٹ کھلی تو اس لیے سب کچھ لیٹ اسٹارٹ ہوا اب آفس کے لیے نکلتا ہوں اپنا خیال رکھیے گا”

ریان مائے نور سے بولتا ہوا عرا کو بائے بول کر باہر نکل گیا تب مائے نور عرا کی طرف متوجہ ہوئی

“آج ریان کافی خوش دکھائی دے رہا ہے”

وہ عرا کو مخاطب کرتی چلتی ہوئی اس کے پاس آنے لگی عرا اس کی بات کے جواب میں کچھ نہیں بولی ہلکا سا مسکرائی اور کرسی سے اٹھ گئی

“ویسے تمہیں تو خوش رکھا ہوا ہے ناں ریان نے”

مائے نور کے دوبارہ مخاطب کرنے پر عرا کو حیرت ہوئی

“جی ریان ہر لحاظ سے کوشش کرتا ہے کہ میں خوش رہو بہت کیرئنگ ہے میرے لیے”

مائے نور کے پوچھنے پر عرا اس کی بات کے جواب میں بولی

“اور پھر بدلے میں تم کیسے خوش کرتی ہو ریان کو، مطلب ایسا کیا کرتی ہو جو وہ تم سے خوش رہے”

مائے نور کے عجیب سے سوال پر عرا کنفیوز ہوکر اسے دیکھنے لگی عرا کو سمجھ نہیں آیا کہ مائے نور اس سے پوچھنا کیا چاہ رہی تھی

“بہت بھولی ہو ناں تم، سمجھ میں نہیں آرہی میری باتیں کہ میں کیا پوچھنا چاہ رہی ہوں تم سے۔۔۔ واہ بھئی واہ بچہ پیدا کرلیا، دو مختلف مردوں سے محبت پالی مگر معصومیت وہی کی وہی برقرار ہے ابھی تک”

مائے نور باقاعدہ تالی بجاتی ہوئی عرا پر طنز کرتی بولی جس پر عرا کو ڈھیروں شرمندگی نے گھیرے میں لے لیا

“اتنی جلدی بھول گئی تم زیاد کی محبت کو، اسی کے بھائی کے ساتھ وقت گزارتے ہوئے تمہیں زیاد کی یاد نہیں آتی یہ بھی یاد نہیں آتا کہ زیاد کس قدر محبت کرتا تھا تم سے۔۔۔ ایسے ہی کل کو ریان کو بھول کر کسی تیسرے مرد کے پاس بھی چلی جانا جو تمہیں ریان سے زیادہ خوش رکھنے کی کوشش کرے دراصل تم جیسی چھوٹی سوچ رکھنے والی لڑکیاں ایسی ہی تربیت حاصل کرتی ہیں اپنے بڑوں سے، وفا نام کی کوئی چیز ہوتی ہی نہیں تم تھرڈ لڑکیوں کے اندر۔۔۔ میں نے اپنی ساری جوانی، اپنی ساری عمر اس شخص کی وفا میں گزار دی جس نے اپنی زندگی میں مجھے کبھی اہمیت دینا ضروری ہی نہیں سمجھا اور ایک میری بہو ہے جو آرام سے اپنے شوہر کے مرنے کے بعد اب اسی کے بھائی سے محبت وصول کرنا اپنا حق سمجھ رہی ہے۔۔۔ تف ہے تمہارے اوپر شرم سے ڈوب مرنا چاہیے تمہیں”

مائے نور کی باتیں سن کر وہ روتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی اور بیڈ پہ گرتی ہوئی بری طرح سسکنے لگی آج مائے نور نے جس طرح اس کو ذلیل کیا تھا اتنی ذلت اور سبکی اُس کو آج سے پہلے کبھی بھی محسوس نہیں ہوئی

***

جب وہ آفس گیا تھا تب عرا نے مسکراتے ہوئے اسے الوداع کیا تھا اب واپس لوٹنے پر عرا کا رویہ عجیب تھا جس کو محسوس کر کے ریان اس سے اس کے رویے کی وجہ پوچھنے لگا عرا ریان کی بات کا جواب دیے بغیر کمرے سے باہر نکلے نکلنے لگی

“میری بات کا جواب دیے بغیر تم کمرے سے باہر نہیں جاسکتی بتاؤ کیا ہوا ہے تمہارے موڈ کو”

عرا جو کمرے سے باہر جانے والی تھی ریان اس کو بازو سے پکڑ کر دوبارہ پوچھنے لگا

“میرے موڈ کو کچھ نہیں ہوا ہے ریان لیکن کل رات جو میرے اور تمہارے بیچ ہوا شاید وہ ٹھیک نہیں تھا بلکہ تمہیں مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہیے تھی”

عرا اپنے بازو سے ریان کا ہاتھ ہٹاتی ہوئی بولی تو ریان پہلے ہکا بکا سا اسے دیکھنے لگانا نہ چاہتے ہوئے بھی عرا کی بات سن کر اسے غصہ آنے لگا

“اچھا یعنی ہماری شادی ہوجانے کے بعد جب تم مجھے دل سے ایکسیپٹ کرچکی ہو اور ہم دونوں کے بیچ سب کچھ نارمل ہوچکا ہے تب تمہیں لگ رہا ہے یہ جو بھی کچھ ہوا ہے وہ سب نہیں ہونا چاہیے، ویسے یہ تمہارا اپنا ذاتی خیال ہے یا پھر کسی دوسرے نے تمہارے دماغ میں خناس بھرا ہے”

ریان نے غصے میں عرا سے پوچھا جس پر عرا برا مناتی ہوئی بولی

“میرے دماغ میں کوئی کچھ کیوں ڈالے گا”

وہ مائے نور کا نام لے کر بات کو مزید بڑھانا نہیں چاہتی تھی اور ریان کا خراب موڈ دیکھ کر دوبارہ کمرے سے باہر جانے لگی تو ریان نے اس کا بازو پکڑ کر اسے صوفے کی جانب سختی سے بٹھایا۔۔۔ عرا ریان کے اس انداز پر حیرت سے اسے دیکھنے لگی

“مجھے یوں غصہ دلاکر تم اس کمرے سے باہر نہیں جاسکتی اگر کسی نے تمہارے دماغ میں کچھ ڈالا تو تمہارے دل میں یہ خیال کیوں آیا مجھے جواب چاہیے ابھی اس بات کا”

ریان اس کے سامنے کھڑا غصے میں عرا سے پوچھنے لگا اس کا انداز ایسا تھا کہ عرا گھبرا گئی

“تم میرے اوپر اِس طرح غصہ نہیں کرسکتے”

پہلی مرتبہ اس نے یہ انداز عرا کے ساتھ اپنایا تھا ورنہ آج سے پہلے عرا نے اس کو اسطرح غصہ کرتے ہوئے مائے نور اور زیاد کے ساتھ ہی دیکھا تھا

“تم مجھے ان فضول باتوں سے مینٹلی ٹارچر کرو گی میں بھی تمہیں اس کی اجازت نہیں دو گا، اور جب تک تم مجھے اصل بات نہیں بتاؤ گی یہاں سے اٹھنے کی کوشش بھی مت کرنا”

ریان مزید غصہ میں عرا سے بولا اس کو اپنے اوپر غصہ کرتا دیکھ کر عرا کو رونا آنے لگا

“ہمارے معاشرے کے لوگ، یہ دنیا والے ایسی لڑکیوں کو ٹھیک نہیں سمجھتے جو دوسری شادی دیور یا جیٹھ کے ساتھ کرکے ایڈجسٹ ہوجاتی ہیں تم دوسروں کی منٹیلٹی نہیں سمجھ سکتے مجھ سے نہ تو ایسی باتیں برداشت ہوتی ہیں نہ ہی میں ایسی مذاق اڑاتی نظروں کا سامنا کرسکتی ہوں”

عرا مائے نور کا نام لیے بغیر اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی ریان سے بولی جس پر ریان نے غصے میں عرا کو بازو پکڑ کر صوفے سے اٹھایا اور اپنے ساتھ کمرے سے باہر لے جانے لگا

“کہاں لےکر جارہے ہو مجھے کیا کررہے ہو ریان پلیز چھوڑو میرا ہاتھ، دیکھو کوئی ہنگامہ مت کرنا”

عرا گبھراتی ہوئی مسلسل ریان سے بولے جارہی تھی جو عرا کی بات سنے بغیر اسے کمرے سے ہال میں لے آیا جہاں کام کرنے والا ملازم صفائی چھوڑ کر ریان کو دیکھنے لگا وہی شمع بھی عرا کی آواز پر کچن سے باہر نکل کر ہال میں آچکی تھی جبکہ مائے نور جو عون کو گود میں لیے اپنے کمرے میں جارہی تھی عرا اور ریان کو دیکھ کر وہی رک گئی

“اس گھر میں کس کو تکلیف ہورہی ہے میرے اس کے ساتھ شادی کرنے پر”

ریان وہی کھڑا تیز آواز میں بولا تو سب خاموشی سے اسے دیکھنے لگے عرا بری طرح گھبرا گئی اس نے غلطی سے بھی مائے نور کی طرف نہیں دیکھا کہیں ریان اس کے دیکھنے پر مائے نور پر نہ برس پڑتا وہ اپنا سر نیچے جھکائے کھڑی رہی

“کیا تمہیں لگتا ہے میں نے اپنے بھائی کی بیوی سے نکاح کر کے کوئی گناہ کیا ہے”

ریان عرا کا بازو چھوڑ کر بوڑھے ملازم فضل کی طرف دیکھتا ہوا اس سے مخاطب ہوا

“نہیں صاحب میں ایسا کیوں سوچوں گا یہ تو بہت نیک عمل ہے اپنے مرے ہوئے بھائی کی بیوہ اور اس کے یتیم بچے کو سہارا دینا، اللہ آپ کو اس کا اجر دے گا”

ملازم ریان کو دیکھتا ہوا بولا تو ریان نے دوسرے سمت کھڑی شمع کی طرف اپنا رخ کیا

“تم بتاؤ شمع تمہیں کیا برائی نظر آتی ہے میرے اس کے ساتھ رشتے میں”

ریان اب کی بار شمع کو دیکھتا ہوا اس کے پاس آکر پوچھنے لگا مائے نور عون کو گود میں لیے خاموش کھڑی سارا تماشہ چپ چاپ دیکھ رہی تھی عرا ابھی بھی سر جھکائے کھڑی تھی

“مجھے تو کوئی برائی نظر نہیں آتی ریان بھائی میں تو دلی طور پر عرا بھابھی کو دوبارہ سکندر ولا میں دیکھ کر بےحد خوش ہوں اور اگر کسی دوسرے کو آپ کے رشتے میں برائی نظر آتی ہے تو یہ اس کی چھوٹی سوچ کا مسئلہ ہوگا جب بیوہ بھابھی سے نکاح کی اجازت ہمارا دین دیتا ہے تو کسی دوسرے کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ کچھ بولے”

شمع کی بات سن کر ہال میں خاموشی چھا گئی ریان عرا کی طرف مڑا

“دنیا والے تو ایسا کچھ نہیں سوچتے سمجھتے”

ریان عرا سے مخاطب ہوا تو عرا سر اٹھاکر اسے دیکھنے لگی عرا کی آنکھوں میں التجا تھی کہ وہ اب خاموش ہوجائے لیکن ریان اس کی ماننے کے موڈ میں نہ تھا۔۔۔ اب کی مرتبہ اس کا رخ مائے نور کی طرف تھا

“اس لڑکی کا رشتہ میرے بھائی سے اس کی زندگی میں تھا لیکن اس کے دنیا سے جانے کے بعد وہ تعلق ختم ہوچکا ہے اب یہ اُس کی بیوہ نہیں بلکہ میری بیوی ہے۔۔۔ میں نے اپنے ہوش و حواس میں دلی رضامندی کے ساتھ اس سے اپنا رشتہ جوڑا ہے اگر کوئی بھی میری بیوی کو اس کی گزری زندگی کے طعنے دے گا یا پھر اسے الٹی سیدھی باتیں بولے گا تو میں ہرگز برداشت نہیں کرو گا، اگر کسی کو بھی اس رشتے سے تکلیف ہوتی ہے تو وہ یہاں میرے سامنے آکر مجھ سے بات کرے”

ریان اونچی آواز میں بولتا ہوا باری باری سب پر نظر ڈال کر مائے نور کے پاس آیا اور اس کی گود سے عون کو لے کر اپنے بیڈ روم کی جانب بڑھ گیا مائے نور کھا جانے والی نظروں عرا کو دیکھنے لگی عرا سر جھکاکر خود بھی ریان کے پیچھے بیڈ روم میں چلی گئی

***

جب وہ کمرے میں آئی تو ریان عون کو گود میں لیے ریلیکس موڈ میں صوفے پر بیٹھا اسمائل دیتا عون سے باتیں کررہا تھا عرا ریان کے برابر میں آکر بیٹھ گئی مگر ریان اس کی جانب متوجہ نہ ہوا وہ ابھی بھی عون سے باتیں کررہا تھا

“کیا تم مجھ سے ناراض ہو”

عرا ریان کے یوں نظر انداز کرنے والے رویے پر اس سے پوچھنے لگی عرا کی بات پر ریان اس کی جانب متوجہ ہوا

“تم اگر ابھی بھی اپنے اور میرے ریلیشن پر کنفیوز رہو گی یا پھر کسی بھی تھرڈ پرسن کی باتوں میں آؤ گی تو پھر بتاؤ مجھے کیا کرنا چاہیے”

ریان سیریس ہوکر عرا کو دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا تو عرا نے اس سے عون کو اپنی گود میں لے لیا

“کم از کم ناراض تو نہیں ہونا چاہیے”

عرا عون کو گود میں لےکر پیار کرتی ہوئی ریان سے بولی اس کی بات سن کر ریان خاموشی سے عرا کو دیکھنے لگا پھر تھوڑے وقفے کے بعد بولا

“ہاں میں بھول گیا تھا ناراض ہونے کا حق تو تمہارے پاس موجود ہے میں تم سے ناراض نہیں ہوسکتا”

وہ طنز کرتا ہوا بولا ساتھ ہی اس نے عون کو عرا کی گود سے لے لیا جس پر عرا گھور کر ریان کو دیکھنے لگی جو اس کی طرف دیکھے بغیر عون کے بھرے بھرے دونوں گالوں کو چوم رہا تھا

“جی ہاں ایسا ہی ہے جب محبت کا دعوی کیا ہے تو اس کو نبھانے کا بھی دم رکھو”

عرا ریان سے دوبارہ عون کو گود میں لیتی ہوئی اٹھ کر بیڈ پر چلی آئی ریان ابرو اچکا کر اسے دیکھتا ہوا خود بھی صوفے سے اٹھ کر عرا کے پاس آکر کھڑا ہوا

“تمہاری نظر میں محبت نبھانے کے کیا رولز (rules) ہیں”

ریان اب سنجیدہ کھڑا عرا سے پوچھنے لگا تو عرا عون کو سافٹ ٹوائے پکڑاتی ہوئی ریان کے سامنے کھڑی ہوگئی شہادت کی انگلی اوپر کرتی ہوئی بولی

“رُول (rule) نمبر ون ہمیشہ مجھ سے محبت سے اور ذرا تمیز سے پیش آؤ گے۔۔۔ رُول نمبر ٹو ہمارے درمیان اگر کوئی بھی لڑائی جھگڑا ہوا تو تم مجھے منانے میں ہمیشہ پہل کرو گے اور منانے کے بعد مجھے باہر ڈنر پر لے جاؤ گے رول نمبر تھری اگر تمہیں مجھ پر کسی بھی بات پر غصہ آیا چاہے غلطی تمہاری ہو یا میری، بچپن کی طرح سوری ہمیشہ تم ہی کرو گے رول نمبر فور آفس سے واپس گھر آنے کے بعد تمہارا سارا ٹائم صرف اپنی فیملی کے لیے ہوگا آفس کے کسی مسئلہ کو لے کر گھر نہیں آو گے۔۔۔ رول نمبر فائو عرا مزے سے اپنی انگلیوں پر ریان کو سارے رولز گنوا رہی تھی تبھی ریان نے آگے بڑھ کر اس کا چہرہ تھام کر ایک دم اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے جس سے اس کی بولتی اچانک بند ہوگئی جب ریان اس کے ہونٹوں پر کس کر کے دور ہوا تو عرا کے گھورنے پر وہ خود سے بول پڑا

“رول نمبر فائیو تم ریان سے اپنی چھوٹی سے چھوٹی ہر بات ہر فیلگز شیئر کرو گی ایسا نہ کرنے کی صورت تم پر پینلٹی لگا کرے گی رول نمبر سکس تمہیں ریان کا ڈھیر سارا پیار برداشت کرنا پڑے گا اور اس پیار کی کوئی حد مقرر ہوگی نہ ہی کوئی اوقات مقرر ہوگے جب جب ریان کا رومینٹک موڈ ہوگا تب تب تمہیں اپنا امپورٹنٹ سے امپورٹنٹ کام چھوڑ کر ریان کے پاس آنا ہوگا، رول نمبر سیون تمہیں ہفتے میں دو مرتبہ مجھے اچھا سا باڈی مساج دینا ہوگا جو اگر تم نے نہ دیا تو تمہیں محبت کے انجیکشن دو مرتبہ لگے گے اب باقی بچتے ہیں تین رولز تو وہ میں تمہیں یہاں کھڑے کھڑے نہیں بتاؤ گا بلکہ آج کی رات عون کے سونے کے بعد بیڈ پر لیٹ کر بتاؤں گا”

ریان عرا سے بولتا ہوا اس کو شرارت سے آنکھ مار کر وارڈروب سے اپنے کپڑے نکال کر چینج کرنے چلا گیا جبکہ عرا جو اس کے رولز سن کر سُن کھڑی تھی عون کے رونے پر اس کی جانب متوجہ ہوتی اسے گود میں اٹھاکر بہلانے لگی

***

“دیکھو عاشو بات سمجھنے کی کوشش کرو عرا کو سکندر ولا لانے کا مقصد صرف اور صرف عون کی ذات تھی کیونکہ عدالت کبھی بھی ماں کے علاوہ کسی دوسرے کو اتنے چھوٹے بچے کی کسٹڈی نہیں دیتی ہے اس وجہ سے مجھے ریان کی اس سے شادی کروانی پڑی اور اب عون سکندر ولا میں موجود ہے بس مجھے کسی طرح ریان پر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ عرا ایک غیر ذمہ دار لڑکی ہے جسے اپنے بچے کی کوئی پرواہ نہیں اور میں کچھ نہ کچھ کر کے یہ ثابت کردو گی بس تمہیں دوبارہ سکندر ولا آنا ہوگا کیوکہ جب ریان کا دل عون کی لاپرواہی دیکھ کر عرا سے خراب ہوگا تبھی وہ تمہاری محبت اور توجہ سے تمہاری جانب مائل ہوسکے گا اس کے لیے تمہارا سکندر ولا میں موجود ہونا ضروری ہے تم سمجھ رہی ہو میری بات کو”

مائے نور اپنے کمرے میں موجود اس بات سے بےخبر کوئی اس کی ساری باتیں سن رہا تھا وہ موبائل کان سے لگائے اس وقت عشوہ کو سکندر ولا میں واپس آنے کے لیے فورس کررہی تھی

“ماہی یہ سب کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ میں ریلائز کرچکی ہوں ریان صرف بولنے کی حد تک عرا سے محبت نہیں کرتے وہ عرا کی بڑی سے بڑی غلطی ہی نہیں گناہ بھی معاف کرسکتے ہیں میں نے ریان کی آنکھوں میں عرا کے لیے جو محبت دیکھی ہے مجھے نہیں لگتا ریان کا دل کبھی بھی عرا کی طرف سے بدگمان ہوسکتا ہے لیکن اگر ریان کو آپ کی یہ ساری باتیں معلوم ہوجائیں تو ریان آپ سے ضرور بدگمان ہوجائیں گے میرے خیال میں آپ کو اس حقیقت کو ایکسیپٹ کرلینا چاہیے کہ عرا آپ کی بہو ہے، تھوڑا سا اپنا دل کھول کر ظرف کو بلند کرکے آپ عرا کو ایکسیپٹ کرلیں اس طرح عون بھی ہمیشہ آپ کے پاس رہے گا اور ریان بھی آپ سے دور نہیں جاسکے گے۔۔۔ میری باتوں سے یہ مت سمجھیے گا کہ ریان کے لیے میرے دل میں اب محبت ختم ہوگئی ہے میں ریان سے اب بھی محبت کرتی ہوں مگر ریان کو عرا کے ساتھ خوش دیکھ کر ان کی خوشی میں خوش ہوں دل سے دعا کرتی ہوں کے وہ ہمیشہ خوش رہیں آہستہ آہستہ مجھے یہ بات سمجھ آرہی ہے کہ محبوب کو پالینا محبت نہیں بلکہ اصل محبت محبوب کی خوشی میں خوش رہنے کا نام ہے”

عشوہ کی بات سن کر مائے نور نے غصے میں موبائل بیڈ پر پھینکا

“بےوقوف لڑکی”

وہ عشوہ کو بول کر سر جھٹکنے لگی تبھی اس کی نظر دروازے پر کھڑی عرا پر پڑی جسے دیکھ کر مائے نور بری طرح چونکی دوسرے ہی پل وہ اپنے چہرے کے تاثرات بدلتی چہرے پر ناگواری لاتی بولی

“کیا کررہی ہو میرے کمرے کے دروازے پر کھڑی ہوکر میری باتیں سن رہی ہو یہی کچھ سکھایا ہے تمہاری پھپھو نے تمہیں”

مائے نور عرا کے پاس آتی ہوئی غرا کر اس سے بولی

“میری پھپھو نے مجھے وہ نہیں سکھایا جو آپ ابھی اپنی بھتیجی کو سکھارہی تھی آخر ایسا کیا کردیا ہے میں نے آپ کے ساتھ جو آپ کو میرا وجود اس حد تک ناگوار لگنے لگا ہے کہ آپ باقاعدہ پلاننگ کر کے ریان کی زندگی سے مجھے نکالنا چاہ رہی ہیں”

عرا مائے نور کے غصے کی پرواہ کیے بغیر اس سے پوچھنے لگی وہ تو صبح کے وقت عون کو لینے آئی تھی مگر مائے نور کی باتیں سن کر اسے کافی دکھ پہنچا تھا

“جب تم جان ہی گئی ہو کہ میں تمہیں ناپسند کرتی ہوں، نہ تمہیں اپنے بیٹے کی زندگی میں برداشت کرسکتی ہوں اور نہ ہی اس گھر میں تو پھر خود کیوں نہیں چلی جاتی ہماری زندگی سے دور”

مائے نور غصے میں عرا کو دیکھتی ہوئی ایک ایک لفظ چبا کر بولی جس پر عرا کو سامنے کھڑی اس عورت پر افسوس ہونے لگا

“مجھے ریان کی محبت ایسا نہیں کرنے دے گی ورنہ میں آپ کی خواہش کا احترام ضرور کرتی، ہاں اس وقت میں یہاں سے چلی جاؤ گی جب مجھے محسوس ہوگا کہ ریان کی بھی یہی خواہش ہے پھر میں عون کو آپ کے پاس چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے یہاں سے دور چلے جاؤ گی یہ وعدہ ہے میرا آپ سے”

عرا کے بولنے پر مائے نور طنزیہ ہنسی وہ جانتی تھی ایسا کبھی نہیں ہونے والا اس کا بیٹا تو بڑے بیٹے سے بھی بڑھ کر اس لڑکی کی محبت میں دیوانہ ہوچکا ہے

“اور اب آگے کیا کرنے والی ہو تم ریان کی ہمدردی سمیٹنے کے لیے یقینًا میری ساری باتیں اس کو بتاکر میرے بیٹے کو میرے خلاف کرو گی”

مائے نور اپنا خدشہ ظاہر کرتی ہوئی عرا سے پوچھنے لگی جس پر عرا نے نفی میں سر ہلایا

“میری پھپھو زبان کی کڑوی ضرور ہے مگر انہوں نے میری ایسی تربیت نہیں کی جو میں ماں کے خلاف بیٹے کے کان بھرو آپ بےفکر رہیں میں ریان کو آپ کے متعلق کچھ نہیں بتاؤ گی لیکن یہ سوچ بھی اپنے دل سے نکال دیں کہ میں ریان کی زندگی یا پھر سکندر ولا سے جانے والی ہوں”

عرا کی بات سن کر مائے نور غصے میں دانت پیستی ہوئی کچھ بولنے والی تھی مگر ریان کو باہر کے دروازے سے گھر کے اندر آتا دیکھ کر خاموش رہی

“کیا چل رہا ہے بریک فرسٹ ریڈی نہیں ہے”

وہ ٹریک سوٹ میں موجود چھوٹے سائز کے ٹاول سے اپنا پسینہ خشک کرتا ہوا کچن میں شمع کی غیرموجودگی پر عرا سے پوچھنے لگا

“دو دن کے لیے شمع چھٹی پر گئی ہے تم چینج کر کے آجاؤ بریک فاسٹ میں ریڈی کرچکی ہوں”

عرا کے بولنے پر ریان چہرے پر نرم سا تاثر لیے اس کو اسمائل دیتا ہوا مائے نور کی جانب متوجہ ہوا

“آپ کی طبیعت بہتر ہے کچھ ڈل سی لگ رہی ہیں”

وہ ابھی تک نائٹ ڈریس میں موجود تھی عموما اس وقت وہ ڈائننگ ہال میں فریش موجود نظر آتی تھی تبھی ریان مائے نور کو دیکھ کر اس سے پوچھنے لگا

“میری طبیعت ٹھیک ہے بس ناشتہ کرنے کا موڈ نہیں ہے میڈیسن لے لی ہے میں نے اب تھوڑی دیر ریسٹ کرو گی”

مائے نور منہ بناتی ہوئی بولی اس لڑکی کے ہاتھ کا بنا ہوا کچھ بھی وہ مرتے دم تک نہ کھاتی اس لیے ریان سے بولتی ہوئی بیڈ کی جانب بڑھ گئی

“چلیں ٹھیک ہے آپ تھوڑی دیر ریسٹ کرلیں میں عون کو لے جاتا ہوں”

ریان مائے نور کے کمرے میں آکر سوئے ہوئے عون کو گود میں اٹھاتا ہوا باہر آنے لگا

“ریان تزئین کے ڈاکومنٹ تیار ہوچکے ہیں وہ سعودیہ جانے والی ہے، میں کل اس سے ملنے جانا چاہتی ہوں”

عرا کچن میں جانے سے پہلے تزئین کا دیا جانا والا میسج یاد کرتی ہوئی ریان سے بولی

“اوکے تم صبح عون کو لےکر چلی جانا میں رات میں تمہیں پک کرلو گا تزئین اور تمہاری پھپھو سے میری رات میں ملاقات ہوجائے گی”

جہاں ریان کی بات سن کر عرا نے مسکرا کر اسے دیکھا وہی مائے نور کو غصہ آنے لگا

“جہاں جانا ہے وہاں چلے جاؤ مگر یہاں میرے سر پر کھڑے ہوکر فضول باتیں مت کرو میں ریسٹ کرنا چاہتی ہوں میرے روم کا دروازہ بند کرکے چلے جاؤ”

مائے نور غصہ کرتی ہوئی بولی تو ریان نے بنا کچھ بولے مائے نور کے کمرے کا دروازہ بند کردیا

“عون بھی جاگ چکا ہے ایسا کرو اپنا اور میرا ناشتہ لےکر بیڈ روم میں آجاؤ”

ریان عون کو جاگتا ہوا دیکھ کر اسے پیار کرتا عرا سے بولا اور عون کو لیے بیڈ روم کی طرف بڑھ گیا جبکہ عرا مائے نور کے کمرے کے بند دروازے کو دیکھ کر کچن میں چلی آئی مائے نور کی باتیں سن کر اسے دلی طور پر رنج ہوا تھا مائے نور کے چہرے پر وہ خوف بھی واضح طور پر دیکھ چکی تھی مائے نور کو یقینًا اس بات کا ڈر تھا کہ عرا یہ سب باتیں ریان کو نہ بتادے لیکن وہ ریان کا دل اپنی ماں کی طرف سے برا نہیں کرسکتی تھی

“فضل بابا آپ پلیز یہ فریش جوس آنٹی کو دے کر آجائیں انہوں نے ناشتہ نہیں کیا اور اگر وہ پوچھیں کہ یہ جوس کس نے بنایا ہے تو بول دیئے گا کہ آپ نے بنایا ہے”

عرا بوڑھے ملازم کے ہاتھ میں جوس کا گلاس پکڑاتی ہوئی ٹرالی میں اپنا اور ریان کا ناشتہ رکھنے لگی

***

“عون کل مما کے ساتھ نانو کے گھر جائے گا وہاں آنی سے ملے گا، عون کی آنی اچھی ہیں”

عرا عون کے ساتھ بیڈ روم میں موجود تھی ریان صبح آفس جاچکا تھا اب دوپہر کا وقت تھا شمع کی غیر موجودگی کی وجہ سے آج اس نے خود کوکنگ کرنے کا سوچ رکھا تھا تبھی اس کے موبائل پر ریان کی کال آنے لگی وہ جمایاں لیتے عون کو کارٹ میں لٹاکر کی ریان کی کال ریسیو کرچکی تھی

“یار تمہارے پاس موو (mouve) کلر کا ڈریس نہیں ہے”

عرا کو محسوس ہوا ریان گہری سوچ میں اس سے مخاطب تھا

“ہاں مجھے موو شیڈ خاص پسند نہیں کیو تم کیوں پوچھ رہے ہو”

عرا ریان کے اچانک کال کرکے اسپیشلی کلر کے متعلق پوچھنے پر حیرت کا اظہار کرتی ہوئی بولی

“آج آفس میں مس ثمرا یہی شیڈ پہن کر آئی ہیں انہیں دیکھ کر مجھے یاد آیا کہ تم نے کبھی میرے سامنے موو کلر نہیں پہنا اچھا لگے گا تم پر، تمہیں ٹرائے کرناچاہیے”

ریان کی بات سن کر عرا کو تعجب ہوا

“آر یو سیریس ریان تم اپنے آفس میں بیٹھے خواتین کے کپڑوں کے شیڈز دیکھتے ہو اور مجھے لگا میرا شوہر کوئی مذہب اور ذمہ داری والے کام کے لیے ڈیلی آفس جاتا ہے”

عرا کارٹ میں سوئے ہوئے عون پر نظر ڈال کر ریان کو شرمندہ کرتی بولی

“تم مجھے کبھی شرم دلانے کی کوشش مت کرنا ڈارلنگ، شرمندہ میں کبھی بچپن میں ڈیڈ سے پٹنے پر بھی نہیں ہوتا تھا اور رہی بات مذہب اور ذمہ داری والے کام کی تو وہ میں آفس میں جاکر تب کرو گا جب تم مجھے اِن کاموں کے قابل چھوڑو گی پچھلے دو دنوں سے تم نے میرا روٹین اچھا خاصا بگاڑا رکھا ہے رات دیر تک تم مجھے اپنے ساتھ جگانے پر مجبور کرتی ہو پھر آفس جانے سے پہلے دوبارہ سے مجھے اپنے ساتھ بزی کرلیتی ہو اب ایسے روٹین کے بعد بندہ کہاں کسی دوسرے کام کے قابل رہتا ہے”

رات اور صبح والے کام کا سوچ کر عرا کا چہرہ شرم سے سرخ ہوچکا تھا۔۔۔ یہ شخص شرمندہ ہونے والا نہیں بلکہ سامنے والے کو شرمندہ کرنے والا تھا

“تمہیں رات اور صبح، میں بزی رکھتی ہوں ریان شرم نہیں آرہی تمہیں فضول باتیں بولتے ہوئے اب ذرا رات ہونے دو پھر میں تمہیں اچھی طرح بتاؤں گی”

ریان کی بات پر عرا غصے میں لال پیتلی ہوتی اسے دھمکی دے کر بولی

“ڈارلنگ پھر ذرا آج رات میری اچھی طرح خبر لینا اگر آج کی رات بھی تم نے شرما حضوری سے کام لیا تو میں تم پر کل رات والا رول نمبر نائن لاگو کردو گا پھر مجھ سے شکوہ مت کرنا ریان تم بہت بےشرم ہو”

ریان کا لہجہ شوخی اور شرارت سے بھرپور تھا اس کی بات سن کر عرا کے کان کی لوہے سرخ ہونے لگی وہ اپنا آپ آئینے میں دیکھ کر خود سے نظریں چرا گئی

“تم نے یہی سب باتیں کرنے کے لیے مجھے کال کی تھی”

عرا روم سے باہر نکلتی ہوئی ریان سے پوچھنے لگی اس کا رخ کچن کی طرف تھا

“نہیں میں نے تو تم سے موو کلر کے متعلق پوچھنے کے لیے کال کی تھی، اِن باتوں میں تو تم نے مجھے لگادیا ورنہ میں تو شریف سا انسان آفس میں بیٹھا ہوا مذہب اور ذمہ داری والا کام کررہا تھا”

ریان بولتا ہوا خود اپنی بات پر ہنسا اس کی بات سن کر عرا خاموش ہوگئی ایک تو اس انسان سے دوسرا باتوں میں نہیں جیت سکتا تھا عرا خاموشی محسوس کر کے ریان ایک مرتبہ پھر بولا

“اچھا ناں میری جان اب ناراض مت ہوجانا نہیں تو رول نمبر ٹو کے مطابق مجھے تمہیں منانے کے بعد ڈنر پر لے جانا پڑے گا اور آج رات تمہیں ڈنر پر لے جانا پاسیبل نہیں ہوگا کیونکہ آج مجھے واپس آنے میں کافی دیر ہوجائے گی۔۔۔ ارے ہاں یار یہی بتانے کے لیے تو میں نے تمہیں کال کی تھی میں آفس سے لیٹ ہوجاؤ گا سنو ماں کو بھی بتادینا پلیز ورنہ وہ فکر مند رہے گیں میں انہیں کال کررہا تھا لیکن وہ میری کال ریسیو نہیں کررہی میرا سیل فون سگنل نہ ہونے کی وجہ سے شاید آف ملے تم پریشان مت ہونا رات کو لیٹ آؤ گا تو آج رات والا پروگرام ہم نیکسٹ رات کو رکھ لیں گے اوکے بائے اپنا خیال رکھنا”

ریان ساری باتیں روانی میں بول کر اسے کس کرتا ہوا لائن کاٹ چکا تھا عرا گہرا سانس لے کر ریان کی باتیں سوچتی رہ گئی اب اس کا رخ مائے نور کے کمرے کی جانب تھا تاکہ وہ اسے ریان کے لیٹ آنے کے بارے میں انفارم کرسکے

***

“کوئی ہے یہاں آکر مجھے اٹھاؤ اللہ جی میں کیسے اٹھو”

عرا مائے نور کے کمرے میں پہنچی تو اسے مائے نور کے چیخنے کے ساتھ رونے کی آواز آنے لگی

“یا اللہ” عرا مائے نور کی آواز پر گھبراتی ہوئی واش روم کی جانب دوڑی

“یہ۔۔۔ یہ کیسے ہوا آنٹی”

شکر تھا واش روم کا دروازہ اندر سے لاک نہیں تھا عرا مائے نور کو فرش پر گرا ہوا دیکھ کر پریشان ہوگئی مائے نور کے سر پر چوٹ آئی تھی جس سے خون بہہ رہا تھا پاؤں مڑنے کی وجہ سے وہ اٹھ نہیں پارہی تھی۔۔۔ وہ باتھ لے کر نکل رہی تھی تب اس کا پاؤں پھسلا تھا اور وہ واش روم میں بری طرح سلپ ہوگئی تھی

عرا اس کو دیکھ کر آگے بڑھی اور اسے سہارا دے کر اٹھانے کی کوشش کرنے لگی جس پر مائے نور نے تڑپ کر رونا شروع کردیا

“نہیں اٹھا جارہا پاؤں میں بہت درد ہو رہا ہے کسی دوسرے کو بلاؤ جلدی سے”

مائے نور روتی ہوئی عرا سے بولی تو عرا اس کی بات سن کر پریشان ہوگئی

“اس وقت تو گھر پر واچ مین کے علاوہ کوئی دوسرا موجود نہیں ہے آپ تھوڑی سی ہمت کریں میں آپ کو سہارا دے کر اٹھاتی ہوں”

عرا نے ایک مرتبہ پھر سے مائے نور کو سہارا دے کر اٹھانے کی کوشش کی اب کی مرتبہ مائے نور نے بھی اٹھنے کی کوشش کی عرا مائے نور کو اس کے بیڈ تک لاتی ہوئی بری طرح ہانپ چکی تھی کیونکہ مائے نور کا سارا وزن اس نے اپنے اوپر لیا ہوا تھا اس لیے اس کا سانس بری طرح پھولنے لگا

“پانی۔۔۔ پلیز مجھے پانی دے دو”

مائے نور بیڈ پر لیٹی ہوئی خود بھی ہانپتی ہوئی عرا سے بولی کیونکہ مسلسل ایک گھنٹے سے چیخنے کی وجہ سے اس کے حلق میں خراشیں پڑنے لگی تھی۔۔۔ عرا اثبات میں سر ہلا کر جلدی سے اس کے لیے جگ سے پانی نکال کر مائے نور کو دینے لگی مائے نور کے ہاتھ بری طرح کانپ رہے تھے سارا پانی اس کے کپڑوں پر گر گیا

“سوری مجھے خود یہ پانی آپ کو پلانا چاہیے تھا لائیے میں آپ کو پانی پلادو”

عرا مائے نور کو بےبس دیکھ کر پانی کا گلاس اس کے ہاتھ سے لیتی ہوئی مائے نور کو خود پانی پلانے لگی اور کوئی وقت ہوتا تو شاید مائے نور اس کے ہاتھ سے پانی پینا پسند نہ کرتی مگر مجبوری انسان کو کیا کچھ کروا دیتی ہے

“ریان کو کال کرو اسے جلدی سے یہاں آنے کے لیے بولو”

وہ پانی کا گلاس دور کرتی ہوئی یہ عرا سے بولی تو کمرے سے نکلتے ہوئے ایک دم عرا کو یاد آیا

“وہ تو آفس کے کام میں بزی ہوگا اس نے کہا تھا کہ رات کو لیٹ آنا ہوگا اس کا”

عرا پریشان ہوتی مائے نور کو بتانے لگی

“میرے پاؤں میں شدید تکلیف ہورہی ہے شاید میری پاؤں کی ہڈی ٹوٹ چکی ہے میں اب کبھی بھی چل نہیں سکو گی”

مائے نور تکلیف سے روتی ہوئی بولی

“آپ پلیز پریشان مت ہو میں کچھ کرتی ہوں”

عرا خود بھی پریشان تھی مائے نور کے کمرے سے باہر نکل کر ہر مین گیٹ پر پہنچی اور واچ مین کو ساری صورتحال بتاکر اسے ٹیکسی لانے کا بولتی ہوئی واپس مائے نور کے کمرے میں آئی تو مائے نور اپنے گیلے کپڑوں کو دیکھ کر رو رہی تھی عرا جانتی تھی کہ وہ صفائی اور نفاست پسند عورت تھی اس طرح کا حلیے سے اسے سخت چڑ تھی

“ؐاختر کو ٹیکسی لینے کے لیے بھیجا ہے میں آپ کو ہسپتال لے جاتی ہوں آپ پریشان مت ہو اگر آپ کو ان کپڑوں سے الجھن ہورہی ہے تو میں آپ کے کپڑے چینج کروانے میں ہیلپ کردیتی ہوں”

عرا کے بولنے پر مائے نور رونا بند کر کے اسے دیکھنے لگی

“آپ مجھے تھوڑی دیر کے لیے عشوہ سمجھ لیں اس طرح مت روئیں پلیز”

وہ دراز سے سنی پلس نکال کر مائے نور کی پیشانی پر لگانے کے بعد وارڈروب سے اس کے لیے کپڑے نکالنے لگی

“عاشو کو دوبارہ کال کرو پلیز معلوم نہیں وہ میری کال کیوں نہیں ریسیو کر رہی ہے”

مائے نور کافی دیر سے ریان اور عشوہ کو کال ملائے جارہی تھی۔۔۔ عرا ہی اس کو سہارا دے کر دروازے تک لائی پھر عون کو لےکر مائے نور کو ہسپتال لےگئی جہاں پاؤں مڑنے کی وجہ سے اس کو تین سے چار دن کے لیے بیڈ ریسٹ کا بتایا گیا

عون کو مائے نور کے پاس چھوڑ کر وہ اس وقت کچن میں کھڑی مائے نور کے لیے لائٹ سا کھانا بنارہی تھی آج سارا دن اُس کو مائے نور اور عون کو دیکھتے ہوئے گزرا۔۔۔ ریان کے ساتھ ساتھ اسے شمع اور رؤف کی کافی کمی محسوس ہوئی تھی

“لائیں عون کو مجھے دے دیں ورنہ یہ کھانا کھاتے ہوئے آپ کو تنگ کرے گا”

عرا ٹرالی میں مائے نور کے کمرے میں اس کے لیے کھانا لاتی ہوئی بولی اور عون کو اس کی گود سے لینے لگی

“تم نے کھانا نہیں کھایا”

عرا کا تھکن زدہ چہرہ دیکھ کر مائے نور اس سے کھانے کا پوچھنے لگی مائے نور کی بات سن کر عرا کو شدید حیرت کا جھٹکا لگا عرا کی جگہ وہاں ریان عشوہ شمع یا کوئی دوسرا بھی ہوتا اسے ہی حیرت ہوتی جیسے اس وقت عرا کو ہوئی تھی

“ابھی کچھ خاص بھوک نہیں لگی، آپ ایزی ہوکر کھانا کھالیں پھر آپ کی میڈیسن کا ٹائم ہوجائے گا”

عرا ٹھہرے ہوئے لہجے میں مائے نور سے بولی مائے نور جو صبح تک اس کے ہاتھ سے بنا کچھ کھانے کو تیار نہ تھی آج اسی لڑکی کے رحم و کرم پر اس کا سارا دن گزرا تھا مائے نور نے پہلا نوالہ لیا تو اسے وہ وقت یاد آیا جب اس نے چند دن پہلے اس لڑکی کو بغیر کسی وجہ کے بھوکا رکھا تھا وہ نوالہ مائے نور کو اپنے حلق میں اٹکتا ہوا محسوس ہوا مائے نور کے کھانسنے پر عرا نے آگے بڑھ کر اسے پانی کا گلاس تھمایا

“ریان نہیں آیا نہ تو مجھے اس کی فکر ہورہی ہے”

مائے نور اپنے آنسو پونچھ کر عرا پر یہ تاثر دینے لگی وہ ریان کے دیر سے آنے پر پریشان تھی

“آپ فکر مت کریں میں خود تھوڑی دیر بعد ریان کو کال کررہی ہوں جیسے ہی اس کی کال کنیکٹ ہوگی میں اسے آنے کا کہہ دو گی یہ آپ اپنی میڈیسن ہے، عون آپ کو تنگ کرے گا آج رات میں اس کو اپنے پاس سلا لیتی ہوں”

عرا کے بولنے پر مائے نور خاموشی سے اسے دیکھنے لگی آج صبح ہی اس نے اس لڑکی کو گھر سے نکالنے کے لیے کیا کچھ سوچ رکھا تھا مائے نور کو اپنے اوپر ڈھیروں ندامت ہونے لگی اُس نے کیسے سب کے سامنے اس لڑکی کی ذات کی تذلیل کی تھی جسے یہ لڑکی خاموشی سے برداشت کرتی رہی آج اوپر والے نے ایک موقع اس کو بھی دیا تھا اگر وہ چاہتی تو وہ اس کی لاچاری اور بےبسی کا فائدہ اٹھا کر اسے اچھی طرح سبق سکھا سکتی تھی مگر اس لڑکی کا ظرف دیکھ کر مائے نور صحیح معنوں میں شرمسار ہوگئی تھی

***