Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Payar Howa Tha (Episode 27) Last Episode

Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel

وہ ابھی مائے نور کے بیڈروم سے اپنے بیڈروم میں آیا تھا کل رات لیٹ نائٹ سکندر ولا پہنچنے پر اسے واچ مین سے مائے نور کے بارے میں معلوم ہوچکا تھا پھر صبح اسے مائے نور نے بتایا کہ کیسے عرا اس کو واش روم میں اٹھاکر باہر لائی کیسے وہ عون کو سنبھالنے کے ساتھ ہی اس کو بھی ہاسپٹل لے کر گئی، سارا دن اس کی ضرورتوں کا خیال رکھنا اور دیکھ بھال کرتی رہی مائے نور اس وقت اس قدر حساس ہورہی تھی ریان کو ساری تفصیل بتاتی ہوئی خود رو پڑی۔۔۔ شام تک عشوہ بھی ریان کی کال پر مائے نور کے پاس آچکی تھی

اس وقت ریان مائے نور کے کہنے پر عون کو اس کے حوالے کرتا ہوا خود اپنے کمرے میں چلا آیا جہاں عرا دوسرے کاموں میں مصروف تھی آج اسے تزئین سے ملنے کے لیے جانا تھا مگر مائے نور کی طبیعت کی وجہ سے وہ اپنی پھپھو کے گھر جانے کا پروگرام کینسل کرچکی تھی وہ عون کے دھلے ہوئے کپڑوں کی چھوٹی تہہ بناتی ہوئی وارڈروب میں رکھ رہی تھی تب ریان اسے دیکھ کر بولا

“کتنے دن کی چھٹی لے کر گئی ہے شمع اگر وہ کل تک نہیں آتی تو کسی دوسری میٹ کا ارینج ہو جائے گا تمہیں خود کو تھکانے کی ضرورت نہیں ہے”

آدھے گھنٹے پہلے ریان نے اسے کچن میں مائے نور کے لیے سوفٹ ڈائیٹ بناتے دیکھا تھا اب وہ دوسرے کاموں میں مصروف تھی جسے دیکھ کر ریان عرا کا خیال کرتا بولا

“میں نے کون سا سارے گھر کا جھاڑو پوچھا کیا ہے یا پھر برتن مانچے ہیں یہ تو چھوٹے موٹے کام ہیں انسان روٹین میں خود کرلیتا ہے صرف ایک کھانا بنانے کا کام کا اضافہ ہوا ہے وہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے آنٹی کے لیے کم نمک مرچ کا کھانا بنادیا ہے اب ہمارے لیے بنانے جارہی ہوں”

ریان سے باتیں کرنے کے ساتھ اس نے بیڈ پر بکھرا ہوا عون کا سامان سمیٹ دیا ریان اس کے سامنے آکر عرا کے دونوں ہاتھ پکڑتا ہوا باری باری ان کو چومنے لگا عرا خاموشی سے ریان کو دیکھنے لگی جو اب اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامے خود بھی خاموش کھڑا اسی کو دیکھ رہا تھا

“ایسے کیا دیکھ رہے ہو”

عرا اس کے چہرے پر چھائی سنجیدگی کو دیکھ کر ریان سے پوچھنے لگی آج سارے دن میں اب اسے موقع ملا تھا جو وہ ریان کے سامنے کھڑی اس سے بات کررہی تھی

“دیکھ رہا ہوں تمہارے ساتھ ساتھ تمہارا دل بھی کتنا پیارا ہے، کہاں سے لےکر آئی ہو اتنا پیارا دل”

ریان عرا کا چہرہ تھامے اس سے پوچھنے لگا تو عرا نہ سمجھنے والے انداز میں ریان کو دیکھنے لگی

“آج ماں نے اس بات کو تسلیم کرلیا کہ تم ایک اچھی بہو ہو، معلوم نہیں وہ تمہارے سامنے اس بات کا اعتراف کریں یا پھر نہیں لیکن جس طرح وہ مجھ سے تمہارے بارے میں باتیں کررہی تھیں مجھے لگتا ہے اب ان کے دل میں تمہارے لیے کوئی بدگمانی یا غصہ نہیں ہے”

ریان نے عرا کو بتاتے ہوئے اپنے حصار میں لے لیا

“تھینکس یار میری ذمہ داری میرے فرض کو تم نے میری غیر موجودگی میں اس قدر اچھے طریقے سے انجام دیا آج تو مجھے خود کی قسمت پر رشک آرہا ہے کہ میں نے اپنے لیے تمہارا انتخاب کر کے اپنی زندگی کو صرف خوشگوار ہی نہیں بلکہ آسان بھی بنایا ہے”

وہ عرا کے وجود کو اپنے سینے میں چھپائے عرا کے سامنے اعتراف کرنے کے ساتھ اس کے بالوں پر اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا

“تم بھی آنٹی کے جیسے ایموشنل ہورہے ہو میری جگہ کوئی دوسرا ہوتا وہ بھی یہی کام کرتا اب ایسا بھی کوئی بڑا کام نہیں کیا ہے میں نے”

عرا ریان کے سینے سے اپنا سر ہٹاکر اونچا کرتی ہوئی ریان کا چہرہ دیکھ کر بولی

“ہر کسی کا ظرف اتنا بلند نہیں ہوتا ماں نے تمہارے ساتھ ہمیشہ سے جو رویہ رکھا اس کے باوجود تم نے ان کے مشکل وقت میں ان کو نوکروں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا یا پھر میرے واپس آنے کا ویٹ نہیں کیا۔۔۔ تم جانتی ہو مجھے آج ایک مرتبہ دوبارہ تم سے محبت ہوچکی ہے تمہارے اِس خوبصورت دل کی وجہ سے”

ریان بولتا ہوا اس کے چہرے پر جھکا محبت بھری مہر عرا کی پیشانی پر ثبت کرتا پیچھے ہوا تو عرا ریان کی بات پر ہنس دی

“اب تم اور بھی زیادہ جذباتی ہورہے ہو اچھا ابھی مجھے چھوڑو، رات کے ڈنر کی بھی تیاری کرنی ہے”

عرا ریان سے بولتی ہوئی اس کے حصار سے باہر نکلنے لگی

“ہمارا ڈنر باہر سے آجائے گا اور تم مجھے جذباتی ہونے سے نہیں روک سکتی کیونکہ رات میں تمہیں سوتا ہوا دیکھ کر میں اپنے جذبات پر قابو پاچکا تھا اس لیے اب اچھی بیوی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے تمہیں میرے جذبات کا خیال رکھنا چاہیے”

ریان عرا سے بولتا ہوا اسے اپنے بازوؤں میں اٹھاکر بیڈ پر لے آیا

“ریان یہ کوئی وقت ہے آنٹی کو کبھی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے شمع بھی موجود نہیں ہے کچھ تو خیال کرو ابھی تھوڑی دیر میں عون بھی آجائے گا”

عرا شام کے وقت ریان کا موڈ دیکھ کر ہڑبڑاتی ہوئی بولی

“عاشو ماں کے پاس موجود ہے وہ ماں کو دیکھ لے گی اور عون کا پیٹ بھرا ہوا ہے وہ ابھی ہمہیں ڈسٹرب نہیں کرے گا اس وقت عون کے باپ کو زور کی بھوک لگی ہے ویسے بھی رول (rule) نمبر سکس کے مطابق تمہیں اچھی بیوی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے شرافت سے مان جانا چاہیے ورنہ رول نمبر( 10) کے مطابق اس دوپٹے سے میں تمہارے دونوں ہاتھ باندھ دو گا”

ریان عرا کا دوپٹہ گلے سے اتار کر سائیڈ پہ رکھتا ہوا اسے دھمکانے کے ساتھ ساتھ عرا پر جھک گیا

“بہت بدتمیز ہو تم اپنی اس بےوقت کے بھوک کا علاج کرو، اب ایسا بھی ٹھیک نہیں ہے بندہ ہر وقت ہی کسی بھی ٹائم بس شروع ہو جائے”

وہ عرا کی گردن پر جھکا اپنی شدتیں اس پر عیاں کرنے لگا تب اسے عرا کی آواز سنائی دی

“میری اس بے وقت کی بھوک کا علاج صرف تم ہی ہو میری جان، پرسوں رات میں تمہیں بےشرم لگا تھا اور اب اچانک بدتمیز ہوگیا پہلے تم خود ڈیسائیڈ کرلو کہ میں زیادہ بے شرم ہوں یا بدتمیز”

ریان اپنی شرٹ اتار کر بیڈ پر پھینکتا ہوا عرا کے ہونٹوں پر جھک گیا اس وقت نہ چاہتے ہوئے بھی عرا کو ریان کی مانتے ہوئے اس کی جانب متوجہ ہونا پڑا

“ریان پیچھے ہٹو دروازہ ناک ہوا ہے”

چند سیکنڈ بعد وہ ریان کو پیچھے ہٹاتی ہوئی دوپٹہ لے کر اپنے بال سمیٹتی ہوئی بیڈ سے اتری

“یار اس وقے عاشو کو کیا مسئلہ ہوگیا اسے جلدی فارغ کرنا باتوں میں مت لگ جانا”

ریان عرا سے بولتا ہوا ڈریسنگ روم میں چلے گیا۔۔۔ عرا نے کمرے کا دروازہ کھولا تو عشوہ عون کو گود میں لیے کھڑی تھی

“اس کا موڈ خراب ہورہا تھا یہ کبھی بھی رونے کا پروگرام شروع کرسکتا تھا اس سے پہلے اس کا باجا بجتا میں اس کو تمہارے پاس لے آئی”

عشوہ عرا کو عون کے بارے میں بتاتی ہوئی بولی عون جو کہ رونے والا تھا عرا کی گود میں آکر اپنے رونے کا پروگرام کینسل کرچکا تھا

“ہاں اس کو بھوک لگ گئی ہوگی”

عرا مسکراتی ہوئی عشوہ سے بولی ان دونوں کے درمیان سرد دیوار آج شام گر چکی تھی عشوہ نے خود سے پہل کر کے عرا سے بات چیت کی تھی اور عرا سے اچھی طرح ملی تھی

“کیا ہوگیا میری جان کو پھپھو کے پاس رونا آرہا تھا”

عرا عون کو گود میں لیے بہلاتی ہوئی فیڈ کروانے کے ارادے سے بیڈ پر لےکر بیٹھ گئی ریان جب ڈریسنگ روم سے واپس آیا تو ریان کو دیکھ کر عرا کو بےساختہ ہنسی آگئی وہ کندھے اچکاتی ہوئی اسے دیکھنے لگی مطلب اب وہ کچھ نہیں کرسکتی تھی ریان ٹھنڈی آہ بھر کر وہی عون کے پاس لیٹ گیا

“پی لے میرے لعل سارا تو ہی پی جا”

ریان عون کو پیار کرتا ہوا حسرت سے بولا جس پر عرا نے آنکھیں نکال کر ریان کو گھورا

“توبہ ہے ریان کبھی کبھار کس قدر فضول بولتے ہو تم”

عرا کے ٹوکنے پر ریان واپس اپنی شرٹ پہننے لگا

“اچھا خاصا موڈ بن گیا تھا اب رات پہلے مجھے اپنی اولاد کو خود سلانا پڑے گا نہیں تو آج رات بھی میں بھوک برداشت کرتا رہ جاؤ گا”

ریان اپنی دھن میں شرٹ کے بٹن بند کرتا ہوا بول رہا تھا تبھی اس کے موبائل پر میسج آیا

“موبائل دینا یار معلوم نہیں کون میسج کررہا ہے” موبائل اس کی پہنچ سے دور تھا اس لیے وہ بے دھیانی میں عرا سے بولا۔۔۔

ریان کا موبائل عرا نے اپنے قریب ہونے کی وجہ سے اٹھایا اور ریان کو دینے کی بجائے خود اس کا میسج پڑھتی ہوئی بولی

“بیوٹی فل میموریز”

یہ واٹس ایپ پر آئی کچھ پکس تھی جو نیٹ سلو ہونے کی وجہ سے ابھی تک اپلوڈ نہیں ہوئی تھی عرا نے میسج بھیجنے والے کا نام پڑھا

“یہ ایلکس کون ہے کہیں سنا سنا لگ رہا ہے یہ نام”

عرا خود سے بولتی ہوئی واٹس ایپ پر آئی پکس کھلنے کا انتظار کرنے لگی جبکہ ایلکس کا نام سن کر ریان کو بری طرح کرنٹ لگا اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر عرا سے فوراً اپنا موبائل لینا چاہا

“عرا دکھاؤ مجھے موبائل”

اس سے پہلے وہ اپنا موبائل عرا کے ہاتھ سے لیتا عرا ریان کا ارادہ بھانپتی ہوئی اس سے پہلے ہی اپنا ہاتھ پھرتی سے کمر کے پیچھے کرچکی تھی

“نہیں پہلے مجھے یہ پکس دیکھنی ہیں پھر تمہیں موبائل دوگی”

عرا ریان کے چہرے پر اڑتی ہوائیاں دیکھ کر بے ساختہ بولی

“پکس میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے جسے دیکھنے کے لیے تم بچوں کی طرح ری ایکٹ کررہی ہو موبائل دو یار”

ریان سیریس ہوکر عرا کا چہرہ دیکھتا ہوا بولا تھوڑی دیر پہلے چھائی شوخی اس کے چہرے سے غائب ہوکر اب گھبراہٹ اس کے چہرے پر واضح دکھائی دے رہی تھی جس کی وجہ سے عرا کو مزید تجسس ہوا

“جب ان پکس میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے تو تم اتنے پریشان کیوں ہورہے ہو اب یہ پکس دیکھنے کے بعد ہی میں تمہیں موبائل دو گی”

ریان کے بار بار موبائل مانگنے پر عرا اس سے بولی ریان کا موبائل ابھی بھی اس کے ہاتھ میں تھا جو اس نے کمر کے پیچھے کیا ہوا تھا

“میں کیوں پریشان ہونگا تم دیکھ لو پکس مگر اسے تو صحیح سے فیڈ کرواؤ رو رہا ہے میرا بچہ”

ریان عرا سے بولتا ہوا اس کی توجہ موبائل کی بجائے عون کی طرف دلانے لگا اور خاموشی سے وہی بیٹھ گیا

“اس کا پیٹ بھر گیا ہے اب تم اسے کارٹ میں لٹا دو”

عرا بالکل سیریس ہوکر بولی تو ریان نے اس کا موڈ دیکھ کر بنا کچھ بولے عون کو اس کی گود سے لےکر پیار کرتا ہوا کارڈ کی طرف بڑھنے لگا بہت ہی وہ اپنے دماغ پر زور دے پکس کے مطابق سوچنے لگا ایلکس نے اس کو کون سے پک سینڈ کی ہوگی۔۔۔ عون دو کوٹ میں لٹاتے ہوئے عرا ریان کے تاثرات نوٹ کررہی تھی وہ وقت کسی سوچ میں ڈوبا گم دکھائی دے رہا تھا پھر اچانک عرا پر نظر پڑتے ہی ریان ایک دم مسکرایا

“کیا ہوگیا ہے تم تو ایک دم شکی بیوی کی طرح ری ایکٹ کر رہی ہو جیسے مجھے کتنی بار رنگے ہاتھوں پکڑ چکی ہو”

ریان عرا کے پاس آکر اس کے قریب بیٹھتا ہوا بولا عرا اس سے کچھ بولے بناء اس کا موبائل دیکھنے لگی ریان خود بھی عرا سے سر جوڑ کر بیٹھ گیا اور اپنا بازو پھیلا کر اس نے عرا کی کمر پر رکھ لیا

پہلی تصویر اس کی ایلکس کے ساتھ تھی وہ دونوں اس تصویر میں مسکرا رہے تھے یہ ایرک کے گھر کی تصویر تھی۔۔۔ دوسری تصویر بروکلین ہائٹس کے پارک کی تھی جہاں وہ دونوں جاکنگ کے بعد بینچ پر بیٹھے ہوئے تھے جس میں ریان کسی بات پر زور سے ہنس رہا تھا اور ایلکس اس کے بےحد نزدیک بیٹھی مسکرا رہی تھی اس تصویر کو دیکھ کر ریان نے عرا کی جانب ہلکی سی آنکھیں گھمائی لیکن عرا نے اس تصویر کو دیکھ کر کوئی ری ایکٹ نہیں کیا ریان دل میں شکر ادا کرنے لگا۔۔۔ عرا تیسری تصویر دیکھنے لگی یہ ایک ویڈنگ پک تھی جہاں ایلکس کے علاوہ ریان کے دوسرے دوست بھی تصویر میں موجود تھے سارے دوست گروم اور برائٹ کے ساتھ کھڑے عجیب اوٹ پٹانگ پوز بنائے ہوئے تھے۔۔۔ اس کے بعد والی تصویر دیکھ کر ریان کی آنکھیں باہر آگئی یہ تصویر ایک کوکٹیل پارٹی کی تھی جہاں ایلکس واہیات سا اسکرٹ پہنے ہوئے ہاتھ میں وائن کا گلاس لیے ریان سے چپک کر کھڑی تھی، اعتراض اٹھانے والی بات اس تصویر میں ریان کی نظریں تھی جو ایلکس دلکش ابھار پر جمی ہوئی تھی عرا نے یہ منظر دیکھ کر گردن موڑ کر ریان کی جانب دیکھا ریان نے اس سے نظریں ملانے کی بجائے عرا کی کمر سے اپنا ہاتھ ہٹایا اور اے سی کی کولنگ بڑھانے لگا کیونکہ اب اہستہ اہستہ اس کے پسینے چھوٹ رہے تھے

عرا نے ضبط کرتے ہوئے واپس اپنی نگاہیں موبائل کی اسکرین پر ٹکائیں اور اگلی تصویر دیکھنے لگی جسے دیکھ کر ریان کی آنکھیں ابل پڑی یہ بیچ کی تصویر تھی جہاں ریان اس پک میں ایلکس کی ٹانگ پر ہاتھ رکھے ریت پر بیٹھا ہوا اسکو دیکھ رہا تھا

“یہ ہم سب فرینڈ ویکیشن انجوائے کرنے گئے تھے یہاں پر ایلکس کے پاؤں پر چوٹ آگئی تھی مے بی کریمپنگ کی وجہ سے وہ پین فیل کررہی تھی میں بس چیک کر رہا تھا اور کچھ نہیں”

اس سے پہلے عرا اس کی طرف دوبارہ دیکھتی ریان وضاحت دیتا ہوا بولا عرا بنا کچھ بولے اسکرول کرنے لگی تبھی ریان نے اس کے ہاتھ سے اپنا موبائل لینا چاہا

“چھوڑو یار یہ فضول سی پکچر ہیں میں اِن کو ڈیلیٹ کرنے والا ہوں”

ریان عرا کے تاثرات دیکھتا ہوا بولا

“ہاتھ پیچھے ہٹاؤ”

وہ ریان کو دیکھ کر بس اتنا ہی بولی ریان نے اپنا ہاتھ پیچھے ہٹایا اور پچھتانے لگا اس نے کیوں عرا کو اپنا سیل فون اٹھانے کو بولا تھا مگر اگلی تصویر دیکھ کر ایک مرتبہ پھر ریان کو زوردار جھٹکا لگا۔۔۔ یہ نائٹ کلب کی تصویر تھی جس میں ایلکس ریان کے اس قدر قریب کھڑی تھی کہ اس کا سینہ ریان سے ٹچ ہورہا تھا وہی ریان کا آدھا گریبان کھلا ہوا تھا ریان کے دونوں ہاتھ ایلکس کی کمر پر ٹکے ہوئے تھے یہ تصویر دیکھ کر عرا کو پہلے سے شدید غصہ آیا

“یار اس نے ڈرنک زیادہ کرلی تھی تو میں اس کو سنبھال رہا تھا اس سے زیادہ کچھ نہیں”

ریان کی فضول سی وضاحت دینے پر عرا نے غصے میں اس کا موبائل کھینچ

کر اس کی طرف پھینکا

“کیا کررہی ہو یار، اگر غلطی سے غلط جگہ پر لگ جاتا تو جانتی ہو کتنا بڑا نقصان ہوجاتا میرا بھی اور تمہارا بھی”

بروقت ریان اپنا موبائل کیچ نہ کرتا تو خطرناک جگہ پر موبائل لگنے کی وجہ سے اس کی آنکھوں کے سامنے تارے رقص کرنے لگتے۔۔۔ عرا ریان کو نظر انداز کرتی کمرے سے نکلنے لگی وہی ریان مانٹی کو بڑی بڑی گالیوں سے نوازتا ہوا عرا کو منانے کے لیے اس کے پیچھے جانے لگا۔۔۔ کاش کہ وہ مونٹی خبیث سے دوستی نہ کرتا تو کوئی بھی ایلکس کے ساتھ اس کی یہ بےہودہ پیکچرز نہ کھینچتا جو آج اسے (inpotent) بنانے والی تھی

“ڈارلنگ۔۔۔ سنو ناں میری جان، میری زندگی پلیز میری بات سن لو تمہارا غصہ ایک دم جائز ہے مگر ویسا کچھ بھی نہیں ہے جیسا تم سوچ رہی ہو ایلکس بس میری فرینڈ ہے اور کچھ نہیں تم جانتی ہو ناں یہ گوریاں ذرا کھلے دماغ کی مطلب اوپن مائنڈ ہوتی ہیں اس لیے پکچرز میں اس طرح کلوز ہوکر۔۔۔

ریان کے مزید کچھ بولنے سے پہلے عرا اس کو دیکھ کر بولی

“مجھے کچھ نہیں سننا ہے ریان پلیز یہاں سے جاؤ مجھے ڈنر بنانے دو”

عرا ریان سے بولتی ہوئی کچن میں چلی آئی جہاں پہلے ہی عشوہ موجود تھی اس لیے ریان بنا کچھ بولے واپس اپنے روم میں چلا گیا

***

“ریان پلیز نہیں میں آپ کی یہ بات میں نہیں مان سکتی پلیز مجھ سے ایسی بات مت کریں جو میرے لیے مشکل پیدا کردے”

ڈنر کے بعد عرا نے ہال میں قدم رکھا تو اس کی نظر روتی ہوئی عشوہ پر پڑی جو ریان کے سینے پر سر رکھ کر اسے کسی بات کا انکار کررہی تھی مائے نور بھی وہی موجود تھی عرا کو ہال میں آتا ہوا دیکھ کر ریان عشوہ کو کندھوں سے تھام کر دور کرتا ہوا بولا

“کب تک ایسے زندگی گزارو گی شادی تو ایک نہ ایک دن ہر لڑکی کو کرنا پڑتی ہے آج نہیں تو کل دانش انکل بھی تمہاری شادی کا سوچیں گے۔۔۔ دیکھو عاشو میں تم سے یہ نہیں بول رہا کہ تم میرے کہنے پر احد سے فوراً شادی کرلو لیکن ایک مرتبہ میرے کہنے پر اس سے مل لو اس سے بات وغیرہ کر کے دیکھو اگر تمہیں وہ اپنے قابل لگتا ہے تب میں آگے دانش انکل سے اس کے بارے میں بات کرو گا۔۔۔ تم یہ مت سمجھنا احد میرا دوست ہے تو میں اس کا فیور کررہا ہوں، نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے میرے لیے احد سے زیادہ تم امپورٹنٹ ہو یہ بات امپورٹنٹ نہیں ہے کہ وہ تمہیں پسند کرتا ہے اور تم سے شادی کرنا چاہتا ہے بلکہ امپورٹنٹ یہ بات ہے کہ میں پرسنلی اس کو جانتا ہوں وہ پڑھا لکھا سمجھدار اور اسٹیبل انسان ہے ہر لحاظ سے مجھے تمہارے قابل لگا تبھی میں آج تم سے اس کا ذکر کررہا ہوں”

ریان کی بات سن کر عشوہ ریان کو دیکھ کر مزید رونے لگی مائے نور بالکل خاموش بیٹھی تھی عرا ابھی تک وہی کھڑی تھی اسکی نظریں ابھی بھی ان دونوں پر ٹکی ہوئی تھی ریان کی پوری توجہ عشوہ کی جانب تھی عشوہ کو روتا ہوا دیکھ کر ریان اس کے آنسو صاف کرتا عشوہ کا ہاتھ تھام چکا تھا

“ہم انسان بہت عجیب ہوتے ہیں ہمیشہ اسی کی قدر کرتے ہیں جس سے ہمہیں محبت ہوتی ہے جبکہ ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے جو ہم سے محبت کرتے ہیں اگر ون پرسنٹ مجھے شک ہوتا کہ احد تمہارے قابل نہیں ہے اس کی زبان سے تمہارا نام سن کر میں اس کا منہ توڑ ڈالتا لیکن اس نے جس انداز میں مجھ سے تمہارے لیے بات کی میں نے اس کے لب و لہجے میں تمہارے لیے ریسپیکٹ دیکھی ہے مجھے لگتا ہے احد تمہیں بہت خوش رکھے گا اور میں دلی طور پر چاہتا ہوں کہ تم اپنی باقی کی زندگی ہنسی خوشی گزارو ایک ایسے انسان کے ساتھ جو تمہیں محبت دینے کے ساتھ ساتھ تمہاری قدر بھی کرسکے”

ریان آہستہ آہستہ اس کو بہلاتا ہوا سمجھانے لگا تب مائے نور نے عرا وہ مخاطب کر کے بیچ میں خلل ڈالا

“تم کھڑی کیوں ہو چاہو تو بیٹھ سکتی ہو”

مائے نور کے بولنے پر ریان اور عشوہ عرا کو دیکھنے لگے سب کے یوں دیکھنے پر وہ ایک دم نروس ہوگئی

“نہیں آپ لوگ باتیں کریں میں بس عون کو لینے آئی تھی”

عرا مائے نور سے بولتی ہوئی اس کی گود سے عون کو لے کر وہاں سے چلی گئی

***

عرا بیڈ روم میں ٹہلتی ہوئی عون کو اپنے کندھے سے لگائے آہستہ سے تھپک کر سلانے کی کوشش کررہی تھی تبھی بیڈ روم کا دروازہ کھلا ریان کو کمرے میں آتا ہوا دیکھ کر عرا نے اپنا کام جاری رکھا

“لاؤ مجھے دو میں لٹا دیتا ہوں سو چکا ہے”

ریان آہستہ آواز میں بول کر سوئے ہوئے عون کو عرا کی گود سے لےکر پیار کرتا ہوا بےبی کارٹ میں لٹانے لگا۔۔۔ عرا ڈریسنگ روم چینج کرنے جارہی تھی تب ریان تیزی سے اس کی جانب آیا اور عرا کا راستہ روک کر اسے اپنے بازوؤں کے حصار میں لیتا ہوا پوچھنے لگا

“ابھی تک ناراض ہوں مجھ سے” ریان نرم تاثر آنکھوں میں لیے نرم لہجے میں عرا سے پوچھنے لگا

“کس نے کہا میں تم سے ناراض ہوں”

عرا الٹا ریان سے پوچھنے لگی اس کی بات پر ریان عرا کو گھورتا ہوا دیکھنے لگا

“تمہاری ناراضگی کا پتہ آج تمہارے ہاتھ کے بنے ہوئے کھانے نے دیا ہے۔۔۔ میری جان تم نے غصے میں کھانے میں اس قدر مرچیں تیز کردی تھی کہ ابھی تک منہ اور کانوں سے دھواں نکل رہا ہے لیکن ٹینشن والی بات نہیں کیو کہ تمہارے ہونٹ ڈیزرٹ (Dessert) کا کام کرتے ہیں”

ریان بولتا ہوا اس کی ہونٹوں پر جھکنے لگا لیکن اس سے پہلے عرا نے اپنا منہ پھیر لیا

“مٹھاس تم کسی دوسری جگہ سے لےلو گھاٹ گھاٹ کا پانی تو تم پی چکے ہو”

عرا بولتی ہوئی ریان کا ہاتھ اپنی کمر سے ہٹاکر وہاں سے جانے لگی تب ریان نے اس کی کلائی پکڑ کر عرا کا رخ اپنی جانب موڑا

“عرا ایسا نہیں جو تم سمجھ رہی ہو ایلکس صرف ایک فرینڈ کی حیثیت رکھتی ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا تمہیں مجھ پر یقین نہیں”

ریان بالکل سیریس ہوکر عرا سے بولا

“ہاں یقین نہیں ہے تم پر تم قسم کھاؤ عون کی کہ وہ بس تمہارے نزدیک ایک فرینڈ ہے حیثیت رکھتی ہے اور کچھ نہیں”

عرا کی بات سن کر وہ پل بھر کے لیے خاموش ہوا

“میں کیوں قسم کھاؤ عون کی قسمیں تو ویسے بھی جھوٹے لوگ کھاتے ہیں، تمہیں مجھ پر اس طرح شک نہیں کرنا چاہیے”

ریان ایلکس کو اپنا نمبر دے کر آج اندر سے پچھتا رہا تھا لیکن وہ عرا کو ایسا سچ بتانے کا ارادہ ہرگز نہیں رکھتا تھا جس کے بعد عرا اور اس کے رشتے میں دراڑ آجائے

“مجھے معلوم تھا تم کبھی بھی قسم نہیں کھاؤ گے کیوکہ تمہارے دل میں چور ہے”

عرا ریان سے بولتی ہوئی ڈریسنگ روم میں جانے کے لیے مڑی تو ریان نے دوبارہ اس کی کلائی کو پکڑا اب کی مرتبہ اس کی گرفت اتنی سختی تھی عرا چونک کر ریان کو دیکھنے لگی جو بنا کچھ بولے اسے یوں ہی کلائی سے پکڑ کر بیڈ تک لایا اور عرا کو بیڈ پر بٹھاتا ہوا خود اس پر جھک کر عرا کے چہرے کے قریب اپنا چہرہ لاتا ہوا بولا

“عون مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے میں اس کی قسم کھا کر بولتا ہوں کہ میرے نزدیک ہمیشہ ایلکس کی حیثیت ہمیشہ ایک فرینڈ کی رہی ہے اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں بس عرا اب مزید کوئی بھی سوال مت کرنا”

ریان سنجیدگی کے عالم میں بولتا ہوا بیڈ کے دوسری سائیڈ پر لیٹ گیا جبکہ عرا کنفیوز سی بیڈ پر بیٹھی ہوئی یہی سوچ رہی تھی کہ کچھ بھی ہوجائے ریان عون کی جھوٹی قسم ہرگز نہیں کھا سکتا پھر اس نے جو کچھ ریان کے منہ سے سنا تھا، زیاد کی زندگی میں وہ ایلکس نام ہی لڑکی سے موبائل پر بات کررہا تھا عرا کو وہ بات صحیح سے یاد تو نہ تھی لیکن اس وقت ریان کی باتوں سے اس نے یہی اندازہ لگایا تھا کہ ریان کسی لڑکی کے ساتھ ریلیشن میں ہے اب معلوم نہیں اصل حقیقت کیا تھی لیکن عرا اتنا جانتی تھی کہ ریان عون کی جھوٹی قسم نہیں کھا سکتا کیونکہ وہ عون کو اپنی اولاد سمجھتا تھا عرا اپنی ساری سوچوں کو جھٹک کر ڈریسنگ روم میں چلی گئی

عرا کے کمرے سے جانے کے بعد ریان بیڈ سے اٹھ کر کارٹ تک آیا اور کارٹ میں سوئے ہوئے عون کو گود میں اٹھاکر پیار کرنے لگا

“یہ سب سے بڑی حقیقت ہے کہ میں عون کو اپنی زندگی سے بڑھ کر محبت کرتا ہوں میں نے تھوڑی دیر پہلے عرا سے کچھ غلط نہیں بولا میں نے ایلکس کو ہمیشہ اپنی دوست جانا ہے اور کچھ نہیں”

وہ عون کو سینے سے لگا ہے خود سے بولتا ہوا عون کو واپس کارٹ میں لیٹاکر کمرے کی لائٹ بند کرتا ہوا بیڈ پر آکر لیٹ گیا جب عرا چینج کر کے آئی تب اسے محسوس ہوا ریان آنکھوں پہ ہاتھ رکھے سو چکا ہے عرا اس کے برابر میں خاموشی سے لیٹ گئی

“تم شاید خفا ہوگئے ہو مجھ سے”

چند لمحات گزرنے کے بعد اسے اندھیرے میں عرا کی آواز سنائی دی تو ریان نے اپنی آنکھوں سے ہاتھ ہٹایا

“رول نمبر تھری کے مطابق اگر تمہیں مجھ پر کسی بھی بات پر غصہ آئے اس میں غلطی میری ہو یا پھر تمہاری سوری ہمیشہ میں ہی بولوں گا بچپن کی طرح”

ریان لیمپ کی روشنی آن کرتا ہوا عرا کو دیکھ کر بولا تو نہ چاہتے ہوئے بھی عرا کو ہنسی آگئی۔۔۔ عرا مسکراتا ہوا دیکھ کر ریان نے اسے کھینچ کر اپنے سے قریب کرلیا

“سوری” وہ عرا کی گال پر ہاتھ رکھتا ہوا اس سے بولا جس پر عرا دوبارہ مسکرا دی۔۔۔ ریان کو اپنے اندر گلٹ سا محسوس ہونے لگا یہ سوری اس نے اس بےایمانی کے لیے کی تھی جو وہ ایلکس کے ساتھ رات گزار کرچکا تھا

“ریان میری نزدیک شوہر کی محبت سے زیادہ اس کی لائلٹی معنٰی رکھتی ہے میں ان لڑکیوں میں سے ہوں جو اپنے شوہر سے محبت سے پہلے وفا کی امید رکھتی ہیں جنھیں یہ یقین ہوکہ ان کا شوہر صرف انہی کا ہے اگر شوہر اور بیوی کے رشتے میں وفا نہیں تو میرے نزدیک اس رشتے کی ویلیو نہیں”

عرا ریان کو دیکھ کر بولی تو اس نے عرا کو اپنی پناہوں میں لے لیا

“میں صرف اور صرف تمہارا ہو آج میں تم سے یہ وعدہ کرتا ہوں کہ اپنی آخری سانس تک تم سے وفا نبھاؤں گا آئی لو یو سو مچ میری جان”

ریان نے عرا سے وعدہ کرتے ہوئے اس کے بالوں پر اپنے ہونٹ رکھے تو عرا کو اپنے اندر اطمینان سا ہوا

“سنو تم کچھ بھول رہی ہو”

وہ ریان کے سینے سے لگی ہوئی تھی تب ریان اس کے کان میں ہلکی سے سرگوشی کرتا ہوا بولا

“کیا؟ ؟”

عرا کے پوچھنے پر وی دوبارہ آہستہ آواز میں بولا

“عون سو چکا ہے اب لگا دوں تمہیں محبت والا انجیکشن”

ریان کے شرارت بھرے لہجے میں بولنے پر عرا اس کو گھور کر دیکھنے لگی

“ریان اب چپ کر کے سو جاؤ میں کتنا زیادہ تھک چکی ہوں آج”

عرا اس کو آنکھیں دکھا کر بولتی ہوئی ریان کے سینے پر سر رکھ کر لیٹ گئی ریان ہنستا ہوا اسے حصار میں لےکر لیمپ کی روشنی مدھم کرتا ہوا خود بھی سونے کی کوشش کرنے لگا

***

ہفتہ بھر گزرنے کے بعد اب مائے نور پہلے کی طرح آرام سے چل پھر سکتی تھی عرا کی ذات کو لے کر اس کے رویے میں نرمی تو آئی تھی مگر وہ خود سے جھک کر یا پہل کرکے عاجزی دکھانے والی عورتوں میں سے ہرگز نہ تھی اس نے عرا سے اپنے رویے کی معافی تلافی نہیں کی تھی لیکن اب عرا کو ریان کی بیوی اور اپنی بہو قبول کرچکی تھی۔۔ یہ شام کا وقت تھا جب مائے نور اور ریان لان میں کرسی پر بیٹھے ہوئے شام کی چائے پی رہے تھے عون بھی کیری کوٹ میں وہی پر موجود تھا شیرو کے کوٹ کے پاس آکر بار بار اسے پیار کرنے کی کوشش میں لگا ہوا تھا جس پر مائے نور کا موڈ خراب ہونے لگا

“میں نے کتنی بار بولا ہے تم سے کہ اپنے اس شیرو کو عون سے دور رکھا کرو پلیز مجھے ذرا بھی نہیں پسند یہ عون کو چاٹے یا پیار کرے بس انگریزوں کی نقل اتارتے ہوئے اولاد کو بلیوں کتوں کے ساتھ چھوڑ دو”

مائے نور کوفت زدہ سی ریان سے بول کر پلیٹ میں رکھا بسکٹ وہاں سے دور ہٹ کے پاس پھینک چکی تھی جسے شیرو لینے کے لیے ہٹ کے پاس چلا گیا

“آپ کو تو شروع دن سے ہی شیرو برا لگتا ہے اسے بالکل گلی کے کتوں جیسا ٹریٹ کرتی ہیں آپ ماں وہ عون سے پیار کرتا ہے اس کی محبت پر شک نہ کیا کریں، میں خود شیرو کی صحت اور صفائی کا خیال رکھتا ہوں ابھی کل ہی اس کی ویکسین بھی کروائی ہے”

ریان مائے نور کو بتانے لگا جو وائپ لے کر عون کے ہاتھ صاف کررہی تھی جہاں تھوڑی دیر پہلے شیرو پیار کررہا تھا ریان کی بات سن کر اس نے اپنا سر جھٹکا

“بیگم کہاں غائب ہے تمہاری معلوم نہیں کیسی عجیب نیچر ہے یہ نہیں ہوتا کہ ساس اور شوہر کے ساتھ آکر بیٹھ جائے بس موبائل کان سے لگائے اپنی پھپھو اور کزن کے ساتھ باتوں میں مصروف رہتی ہے”

مائے نور ناک چڑاتی ہوئی ریان سے بولی جس پر ریان کے ماتھے پر ہلکی سی شکن پڑی

“شمع جاؤ عرا کو بلا کر لاؤ”

وہاں سے گزرتی شمع کو دیکھ کر ریان اس سے عرا کو بلانے کا بولتا ہوا دوبارہ مائے نور سے مخاطب ہوا

“یہ آپ گھر کے ملازموں کے سامنے عرا کے لیے کچھ مت بولا کریں پلیز مجھے پسند نہیں یہ بات، وہ اپنی پھپھو یا کزن سے بات نہیں کررہی تھی بلکہ آپ کے لیے رات کا کھانا بنا رہی تھی کیونکہ اب آپ کو شمع کے ہاتھ کا ذائقہ پسند نہیں آرہا”

ریان کے بتانے پر مائے نور کے تیور درست ہوئے شمع کے واپس آنے کے بعد سے مائے نور کو اس کے ہاتھ کا بنا ہوا کھانا ذرا پسند نہیں آرہا تھا جس کی وجہ سے مائے نور کے لیے کھانا بنانے کی ڈیوٹی عرا نے بغیر کسی کے بولے خود سنبھال لی تھی

“احد سے عاشو کی ملاقات کیسی رہی کیا بتارہی تھی عاشو آپ کو”

ریان چائے کا گھونٹ بھرتا ہوا مائے نور سے عشوہ کے متعلق پوچھنے لگا ساتھ ہی اس کی توجہ عون کی طرف بھی تھی جو ہاتھ میں پکڑا ٹوائے بار بار اپنے منہ میں ڈالنے کی کوشش کررہا تھا

“جس طرح احد کا ذکر کررہی تھی انداز سے تو پوزیٹو وائبس ہی آرہی تھی مجھے اچھا لگا کہ تم نے عاشو کے مطابق سوچا ایسا ہے میں دانش بھائی سے بات کرلیتی ہوں تم احد کو فیملی کے ساتھ یہی ٹی پر انوائٹ کر دو اچھا ہے دونوں فیملیز ایک دوسرے سے مل لیں گی اور باتیں وغیرہ کرلیں گی اور پلیز عرا سے بول دینا کہ اس دن وہ گھر پر ہی رہے اپنی پھپھو کے گھر جاکر نہ بیٹھ جائے”

مائے نور اپنی چائے ختم کر کے چائے کا کپ میز پر رکھتی ہوئی ریان سے بولی

“ماں عرا کی کزن سعودیہ جارہی تھی اس لیے پرسوں عرا اس سے ملنے گئی تھی اب آپ مجھے یوں مت دیکھیں کہ میں اپنی بیوی کی ہر بات پر اس کی سائیڈ لے رہا ہوں آپ خود بھی تھوڑا سا انڈر اسٹینڈ کریں”

ریان مائے نور کی بات کے جواب میں بولا ایک مرتبہ دوبارہ اس نے عون کے ہاتھ میں موجود ٹوائے اس کے منہ سے نکالا

“یہ کون آگیا اس وقت”

مائے نور اور ریان دونوں ہی مین گیٹ سے اندر آتی گاڑی کو دیکھنے لگے گاڑی میں ایلکس کو دیکھ کر ریان بری طرح چونکا

“یہ لڑکی کون ہے”

ایلکس جو ریان کو مسکراتی ہوئی دیکھ کر اس کی جانب بڑھ رہی تھی مائے نور ریان سے پوچھنے لگی جو اب کرسی سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا تھا

“میری فرینڈ”

ریان اتنا بول کر ایلکس سے ملنے آگے بڑھا تو مائے نور بھی اٹھ کر کھڑی ہوگئی

“بہت بے مروت دوست نکلے تم تو نہ میری کال ریسیو کررہے ہو نہ میرے میسجز کا رپلائی کررہے ہو میں یہاں تمہارے ملک میں موجود ہوں اور تم اس قدر اجنبی والا برتاؤ کررہے ہو”

وہ ریان سے بےتکلفی سے گلی لگتی ہوئی اس سے شکوہ کرنے لگی تو مائے نور کے ماتھے پر شکن سی ابھری

“میٹ مائے مدر”

وہ ایلکس کو خود سے دور کرتا ہوا اسے مائے نور کی طرف متوجہ کرتا بولا وہ نہیں چاہتا تھا ایلکس گھر پر آئے اس وجہ سے وہ پچھلے دو دن سے اس کی کالز اور میسجز کو اگنور کررہا تھا لیکن اب وہ آچکی تھی ریان ایلکس سے اس کا حال دریافت کرنے لگا ساتھ ہی اس کی نظر پرام میں موجود ایک بچے پر پڑی جو عون سے چند ماہ بڑا لگ رہا تھا

“میں عرا کو بھیجتی ہوں اب میں تھوڑی دیر ریسٹ کروں گی”

مائے نور ریان کی دوست سے بہت لیے دیئے انداز میں ملی کیونکہ بہت کم لوگ اس کو پہلی ملاقات میں پسند آتے تھے ایلکس اسے کچھ خاص پسند نہیں آئی تھی اس لیے وہ مسکرا کر ایکسکیوز کرتی ہوئی عون کو اپنے ساتھ لیے گھر کے اندر چلی گئی

“شاید تمہاری مدر کو میرا آنا اچھا نہیں لگا”

ایلکس مائے نور کے جانے کے بعد تبصرہ کرتی ہوئی ریان سے بولی

“ارے نہیں ایسی بات نہیں ہے دراصل ماں کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اس لیے وہ صرام کرنا چاہتی ہیں تم کھڑی کیوں ہو بیٹھو اور یہ کیوٹ سا بےبی کس کا ہے”

ریان اس کو کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کرتا ہوا خود بھی بیٹھ گیا مائے نور کی طبیعت کے متعلق بات بناکر وہ ایلکس سے اس بچے کے متعلق پوچھنے لگا جس کے نین نقش فارنرز سے کم ایشین سے زیادہ میل کھاتے تھے

“میں اپنے ساتھ لائی ہوں تو آف کورس یہ میرا بچہ ہے کیسی باتیں کرتے ہو ریان تم بھی”

ایلکس شرارت آنکھوں میں سمائے ریان کو سرپرائز دیتی ہوئی بولی اور اس کی بات سن کر ریان سچ میں سرپرائز ہوا تھا

“یو مین یہ تمہارا بچہ ہے یہ کب ہوا شادی کب کی تم نے اور مجھے کیو نہیں بتایا”

وہ اس قدر شاکڈ تھا اپنے پیچھے آتی عرا کے قدموں کی آہٹ ریان کو محسوس نہیں ہوسکی عرا لان میں ایلکس کو دیکھ کر ایک پل میں اسے پہچان گئی تھی، نہ جانے کیوں وہ اس پل پلر کی آڑھ میں کھڑی ہوگئی یہ حرکت اس نے کیوں کی تھی وہ خود بھی نہیں جان پائی تھی شاید وہ اپنی غیر موجودگی میں ان دونوں کو مذید گفتگو کرنے کا موقع دینا چاہتی تھی

“میں نے کب کہا تھا کہ میں نے شادی کی ہے اس کا باپ میرے ساتھ رات گزار نے میں انٹرسٹنگ تھا شادی تو اسے اس لڑکی سے کرنی تھی جس سے اس کو محبت ہو جائے”

ایلکس کرسی پر بیٹھی بہت نارمل سے انداز میں ریان سے بولی اس کی بات سن کر ریان کے تاثرات یکدم بدلے بھنویں سکھیڑ کر اس نے اپنے سامنے بیٹھی ایلکس کو دیکھا پھر ایک دم غصے میں برہم ہوا

“شٹ اپ اگر تم بولنا چاہ رہی ہو یہ بچہ میرا ہے تو ایسا ناممکن ہے کیونکہ اس رات میں نے سیفٹی کا پورا دھیان رکھا تھا اس لیے اپنا یہ بیہودہ مذاق میرے سامنے دوبارہ مت کرنا”

ریان چہرے پر ناگواری لاتا ہوا ایلکس کو جھاڑ چکا تھا۔۔۔ ایلکس ریان کو کچھ بولنے کی بجائے اس کے پیچھے کھڑی لڑکی کو دیکھنے لگی ایلکس کی نظروں کے تعاقب میں ریان نے اپنے پیچھے مڑ کر دیکھا دوسرا جھٹکا اسے عراق کو دیکھ کر لگا عرا کی آنکھوں میں بےیقینی اور چہرے پر چھائی صدمے کی کیفیت دیکھ کر ریان کرسی سے کھڑا ہوکر عرا کی جانب بڑھنے لگا مگر اس سے پہلے عرا وہاں سے گھر کے اندر چلی گئی

“شاید یہ تمہاری وائف۔ ۔۔ مائے گاڈ مجھے لگ رہا ہے اس نے ہماری باتیں سن لی ہیں سو سوری میں بس مذاق کررہی تھی دراصل داؤد کی فیملی پاکستان سے بی لانگ کرتی ہے میری اس سے شادی تمہارے جانے کے فوراً بعد ہوگئی تھی۔،۔۔ رکو میں تمہاری وائف کو جاکر خود بتاتی ہوں ایسا کچھ نہیں ہے”

ایلکس ریان کے تاثرات دیکھ کر پریشان ہوتی کرسی سے اٹھ کر گھر کے اندر جانے لگی

“پلیز یہاں سے چلی جاؤ اگر تم چاہتی ہو میرے اور میری وائف کے درمیان کوئی ایشو کری ایڈ نہ ہو تو پلیز اس وقت یہاں سے چلی جاؤ”

ریان اپنا غصہ ضبط کرتا ہوا ایلکس سے بولا اور گھر کے اندر چلا گیا

***

“آخر اصل بات بتا کیوں نہیں رہی ڈھنگ سے میں تم سے یہ پوچھ رہی ہوں اس طرح یہاں آنے کے پیچھے کیا وجہ ہے”

کل رات وہ ریان کے روکنے کے باوجود عالیہ کے پاس آچکی تھی ایک پورا دن گزر کر دوسری رات ہونے والی تھی عالیہ کے پوچھنے پر ایک ہی جواب دیئے جارہی تھی

“بول تو رہی ہوں آپ سے کہ تزئین کے جانے سے آپ اکیلی محسوس کررہی ہوگیں اس لیے آپ کے پاس آئی ہوں ایک ہی بات آپ بار بار پوچھے جارہی ہیں”

ٰعرا ایک مرتبہ دوبارہ وہی بات دہراتی ہوئی اس بار رو پڑی تھی عالیہ اس کو خاموشی سے آنسو بہاتا دیکھنے لگی

“پھر یہ آنسو کس خوشی میں بہا رہی ہو، عرا میں تم سے کچھ پوچھ رہی ہوں رو کیوں رہی ہو”

عالیہ اس کے جواب نہ دینے پر سختی سے پوچھنے لگی

“عون کی یاد آرہی ہے”

بےبسی اس کے چہرے پر عیاں تھی کل شام وہ یہاں آئی تھی آج پورا دن گزر گیا تھا عون کو دیکھے بغیر اپنے بیٹے کو یاد کرتی وہ مزید آنسو بہانے لگی

“لڑائی کس بات پہ ہوئی ہے تمہاری دیان سے”

عالیہ کے سوال پر عرا اپنے آنسو خشک کرتی خاموشی سے عالیہ کو دیکھنے لگی اس کی پھپھو اتنے وثوق سے کیسے بول سکتی تھی کہ اس کی ریان سے لڑائی ہوئی تھی جس بناء پر وہ یہاں آئی تھی

“میں تمہیں بےوقوف نظر آتی ہوں جو تم مجھے کچھ بھی بولو گی اور میں یقین کر لوں گی، اس کی ماں کی باتیں سن کر تو تم وہی رہ کر سب برداشت کرتی آئی ہو، میرے پاس آنے کا مقصد پھر یہی ہے ناں کہ ریان سے لڑائی ہوئی ہے تمہاری۔۔۔۔ مجھے بتاؤ ریان نے کیا کیا ہے”

عالیہ کے پوچھنے پر وہ کچھ نہیں بولی تو عالیہ کو اس کی خاموشی پر غصہ آنے لگا

“ٹھیک ہے مت بتاؤ لیکن میری ایک بات کان کھول کے سن لو میں تمہیں کل تمہارے سسرال چھوڑ کر آؤ گی چاہے تمہاری مرضی ہو یا پھر نہ ہو یہاں تمہیں جب بھی آنا ہو اپنے شوہر کے ساتھ آیا کرو یہ لڑائی جھگڑے اپنے سسرال میں ہی نبھٹایا کرو”

عالیہ اب سخت لہجہ اختیار کرتی ہوئی اس سے بولی

“میں اب وہاں پر واپس نہیں جاؤں گی میں ریان سے ڈئیورس لے رہی ہوں”

بہت آہستہ آواز اور دھیمے لہجے میں وہ اپنا فیصلہ سنا کر عرا کمرے سے نکل گئی اس کی بات سن کر عالیہ بالکل خاموش ہوگئی وہ اپنے موبائل سے ریان کو کال ملانے لگی

***

رات کے وقت مائے نور ریان کے کمرے میں آئی وہ کل رات کی طرح آج بھی اپنے بیڈ روم میں موجود نہ تھا مائے نور کوریڈور عبور کرتی ہوئی دائیں جانب بیڈ روم میں چلی آئی جہاں عون بیڈ پر لیٹا ہوا سو رہا تھا جبکہ ریان سونے کی بجائے راکنگ چیئر پر خاموش بیٹھا تھا، کل عرا ایلکس کی آمد پر اس سے ناراض ہوکر عون کو وہی چھوڑ کر جاچکی تھی کل رات بھی عون کو ریان نے اپنے پاس سلایا تھا آج بھی وہ عون کو لےکر کل کی طرح مختلف روم میں سونے کے غرض سے آگیا تھا

“جاگ کیوں رہے ہو”

مائے نور کمرے میں آتی ہوئی پوچھنے لگی تو ریان اپنی سوچوں سے نکل کر اس کی آمد پر چونکا

“ویسے ہی نیند نہیں آرہی تھی آپ کیوں نہیں سوئی ابھی تک”

ریان اٹھ کر مائے نور کے پاس صوفے پر آبیٹھا

“جب اولاد پریشان ہوتی ہے تو پھر ماں کیسے سکون کی نیند سو سکتی ہے لیکن یہ ساری پریشانی تمہاری اپنی پیدا کردی ہے اگر وہ روٹھ کر چلی گئی ہے تو تم جاکر منالو اپنی بیوی کو لے آؤ واپس بلکہ مجھے تو لگا تھا کہ تم آج اس کی پھپھو کے گھر جاکر اسے آؤگے”

مائے نور ریان کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر اسے بولی

“وہ میرے جانے پر بھی واپس نہیں آئے گی، بری طرح ہرٹ ہوئی ہے مجھ سے”

ریان مائے نور سے نظر ملائے بغیر بولا تو مائے نور ریان کا چہرہ دیکھنے لگی

“تمہیں معلوم ہے ریان عورت اپنی زندگی میں شوہر کی بڑی سے بڑی غلطی برداشت کرجاری ہے زیادتی ہونے پر کڑوے سے کڑوا گھونٹ آرام سے پی جاتی ہے۔۔۔ اگر کچھ اس سے برداشت نہیں تو وہ دوسری عورت کا وجود، جب ایک لڑکی اپنا گھر بار اپنے پیارے اپنا سب کچھ چھوڑ کر ایک شخص کے بندھن میں بند کر اس کی زندگی میں داخل ہوتی ہے تو وہ لڑکی توقع رکھتی ہے کہ اس کا شوہر اسی کا ہوکر رہے”

مائے نور کے بولنے پر ریان ایک دم بولا

“میں نے اُس سے پوری ایمانداری کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑا ہے میں کبھی بھی اس رشتے میں خیانت کرنے کا تصور نہیں کرسکتا میں اس کے ساتھ اپنی زندگی میں لائل ہوں۔۔۔ ایلکس میرے ماضی کا حصہ رہی تھی اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں”

ریان سر جھکائے مائے نور کے سامنے بولا اسے اندازہ بھی نہیں تھا ماضی میں کیا جانے والا ایک برا عمل یوں حال میں آکر اس کی شادی شدہ خوشحال زندگی کو متاثر کرے گا

“اگر تم اپنا ماضی ٹھیک رکھتے تو تمہیں حال میں پچھتانا نہیں پڑتا جو حرکتیں تم کرچکے ہو اس پر افسوس کرنا یا پھر نصیحتیں کرنے کا اب کوئی فائدہ نہیں ہے جاکر اپنی بیوی کو بریف کرو کہ ایلکس تمہاری زندگی میں اب کہیں بھی نہیں ہے”

مائے نور ریان کو دیکھ کر دوبارہ بولی

“آپ کو کیا لگ رہا ہے میں نے اسے یہ سب نہیں بولا مگر وہ کچھ سننے کے لیے یا ماننے کے لیے تیار نہیں”

ریان اب بھی نظریں ملائے بغیر مائے نور سے بولا تو اس کے موبائل پر کال آنے لگی

“عرا کی پھپھو”

مائے نور کے سوالیہ نظروں پر ریان اسے بتاتا ہوا کال ریسیو کرچکا تھا

“نہیں ایسی کوئی خاص بات نہیں ہوئی بس معمولی سی بات تھی۔۔۔

بعد سلام کے وہ عالیہ کے لب و لہجے سے اور پوچھنے کے انداز سے اندازہ لگا چکا تھا عرا نے عالیہ کو وہاں آنے کی اصل وجہ نہیں بتائی تھی ریان اس سے بولا

“معمولی سی باتوں پر طلاق نہیں ہوتی عرا تم سے طلاق چاہتی ہے”

عالیہ طنزیہ لہجہ اختیار کرتی ہوئی ریان سے بولی

“واٹ ڈائیورس”

وہ اتنا شاکڈ ہوکر بولا پاس بیٹھی مائے نور بھی حیرت سے ریان کی اڑتی ہوئی رنگت دیکھنے لگی عالیہ آگے کیا بول رہی تھی ریان کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ بےیقین سا ڈائیورس کے لفظ پر غور کرنے لگا عرا اس سے علیحدگی چاہتی تھی اتنی محبت دینے کے بعد صرف ایک غلطی اور ان کا تعلق ہمیشہ کے لیے ختم۔۔۔

ریان میری نزدیک شوہر کی محبت سے زیادہ اس کی لائلٹی معنٰی رکھتی ہے میں ان لڑکیوں میں سے ہوں جو اپنے شوہر سے محبت سے پہلے وفا کی امید رکھتی ہیں جنھیں یہ یقین ہوکہ ان کا شوہر صرف انہی کا ہے اگر شوہر اور بیوی کے رشتے میں وفا نہیں تو میرے نزدیک اس رشتے کی ویلیو نہیں”

ریان کو عرا کی بولی ہوئی بات یاد آئی وہ اپنا سر دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر لفظ طلاق کو بار بار سوچنے لگا عرا اس سے طلاق چاہتی تھی اس کو یقین نہیں آرہا تھا

***

تپتی ہوئی دھوپ گزرنے کے بعد اب شام کا موسم کافی خوشگوار تھا ٹھنڈی ہوا کے ساتھ آسمان پر گہرے کالے بادل چھانے لگے تھے شاید رات بارش برس جاتی عرا ابھی شاور لےکر نکلی تھی عالیہ بینک کے کام سے باہر گئی ہوئی تھی ڈور بیل پر عرا عالیہ کا گمان کرتی ہوئی کمرے سے باہر نکلی اور دروازہ کھولنے لگی مگر عالیہ کی جگہ وہاں مائے نور کو دیکھ کر اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا

وہ ریان کی آمد کے متعلق تو سوچ سکتی تھی مگر مائے نور کا شاہانہ مزاج اسے ہرگز اجازت نہیں دیتا تھا کہ وہ اس کی پھپھو کے غریب خانے میں دوبارہ آئے مائے نور کی گود میں عون کو دیکھ کر عرا کے اندر کی ممتا عون کو سینے سے لگانے کے لیے بری طرح مچل اٹھی

“میرا بیٹا میری جان”

وہ مائے نور کو سلام کرتی اس سے عون کو اپنی گود میں لےکر پیار کرتی رونے لگی مائے نور دروازے پر خاموش کھڑی عرا کو دیکھتی رہی

“اندر آجائیے”

عرا اسے راستہ دیتی ہوئی بولی اور ڈرائنگ روم میں لے آئی مائے نور کے صوفے پر بیٹھنے کے بعد وہ عون کو گود میں لیے خود بھی سامنے سنگل صوفے پر بیٹھ گئی چند سیکنڈ بھی نہیں گزرے تھے جب ریان بھی ڈرائنگ روم میں داخل ہوا جسے دیکھ کر عرا پہلو بدل کر رہ گئی وہ مائے نور کے ساتھ ہی بیٹھ گیا اور ناراض نظروں سے عرا کو دیکھنے لگا عرا نے ریان کی طرف دیکھنے سے مکمل گریز کیا تھا ایک مرتبہ دوبارہ عون کو پیار کرنے لگی

“پھپھو کہاں پر ہے تمہاری”

کمرے میں چھائی خاموشی کو مائے نور کی آواز نے ختم کیا تھا

“وہ اپنے کام سے باہر گئی ہیں”

عرا مائے نور کو دیکھ کر آہستہ آواز میں بولی اپنے چہرے پر ریان کی نظریں وہ محسوس کرسکتی تھی اس کے باوجود اس نے ریان کی جانب دیکھنے سے مکمل گریز کیا

“تو پھر اپنے شوہر کا کارنامہ بتادیا اپنی پھپھو کو”

مائے نور نے دوسرا سوال بھی سنجیدہ لہجے میں کیا جس پر عرا نے ایک سرسری نظر ریان کے چہرے پر ڈال کر فوراً ہٹالی

“انہیں اس بارے میں کچھ نہیں معلوم”

عرا بہت آہستہ آواز میں بولی

“جب طلاق والا سوشہ اپنی پھپھو کے سامنے چھوڑ ہی چکی ہو تو پھر بتادیتی ناں اپنے شوہر کا کارنامہ ضرورت کیا تھی پردہ ڈالنے کی”

اب کی مرتبہ مائے نور کا لہجہ سخت تھا جس پر ریان نے مائے نور کو ٹوکنا چاہا

“تم بیچ میں کچھ نہیں بولو گے خاموش رہو میں یہاں آئی ہوں تو مجھے بات کرنے دو”

مائے نور اب کی بار باقاعدہ تیز آواز میں ریان کو انکھیں دکھاتی ہوئی بولی تو وہ خاموش ہوگیا

“عون کو چھوڑ کر کیسے چلی گئی تم اپنی اولاد کی یاد نہیں آئی تمہیں”

مائے نور عرا کو شرمندہ کرتی ہوئی بولی تو عرا شکایتی نظروں سے مائے نور کو دیکھنے لگی

“اس کو اپنے ساتھ لے کر آتی تو یہ بات آپ سے برداشت نہیں ہوتی”

عرا مائے نور کو دیکھ کر بولی مائے نور ابرو اچکا کر اسے دیکھنے لگی

“یعنی اپنا پورا مائنڈ بناچکی ہو شوہر کے ساتھ ساتھ اولاد کو بھی چھوڑنے کا”

مائے نور کے بولنے پر عرا رونے لگی تو ریان جو عرا سے طلاق والی بات پر خفا تھا عرا کو روتا ہوا دیکھ کر خفگی بھر کر مائے نور کو دیکھنے لگا

“تم جانتے ہو ریان میں اسے سکندر ولا اور تمہاری زندگی سے نکالنے کا ارادہ رکھتی تھی اور یہ میرے ارادوں سے واقف بھی ہوچکی تھی تب اس نے میرے سامنے بہت کانفیڈنس سے بولا تھا کہ یہ تمہاری زندگی اور سکندر ولا سے تب تک نہیں جائے گی جب تک تمہاری ایسی خواہش نہیں ہوگی”

مائے نور کے بولنے پر ریان ان دونوں کو باری باری دیکھنے لگا یہ کب کی بات تھی اسے نہیں معلوم یہ بات اس کے علم میں ہرگز نہ تھی

“میں تمہیں یہاں یہ بتانے آئی ہوں کہ میرا بیٹا تمہیں چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا میرے بیٹے کے ساتھ ساتھ تمہارے اپنے بیٹے کو بھی تمہاری ضرورت ہے اس لیے بناء ضد کیے یا پھر بناء نخرے دکھائے ہمارے ساتھ چلو”

مائے نور عرا کو دیکھتی ہوئی حاکمانہ انداز میں بولی تو وہ آنکھوں میں آنسو لیے مائے نور کو دیکھنے لگی یعنٰی اس کی ساس آج اس کو ساتھ لے جانے کے لیے آئی تھی اس سے پہلے کوئی کچھ بولتا عالیہ چابی سے لاک کھول کر گھر کے اندر داخل ہوئی وہ ڈرائینگ روم میں ریان کے ساتھ مائے نور کو دیکھ کر حیرت ذدہ تھی مائے نور خود آگے بڑھ کر عالیہ سے ملی تو عالیہ بھی مہمان نوازی کا تقاضہ نبھاتے ہوئے اس سے اچھی طرح ملی اور بیٹھنے کے لیے بولنے لگی

“نہیں اب ہم چلیں گے بس عرا کو اپنے ساتھ لے جانے کے لیے آئے تھے”

مائے نور عالیہ سے بولتی ہوئی عرا کو دیکھنے لگی ریان نے آگے بڑھ کر عون کو عرا کی گود سے لے لیا

“اپنے گھر چلو”

ریان کے لہجے میں التجا کے ساتھ ساتھ امید بھی تھی عالیہ عرا سے ملتی ہوئی مائے نور اور ریان کی ہمراہ سکندر ولا جانے لگی

***

تھوڑی دیر پہلے ہی عون سویا تھا جسے شمع گود میں لیے مائے نور کے کمرے میں لے جاچکی تھی عرا ریان کے بیڈروم میں کھڑکی سے باہر برستی ہوئی برسات کو خاموشی سے دیکھ رہی تھی تب کمرے کا دروازہ کھلا کمرے میں آنے والے شخص کو عرا اس کی خوشبو سے پہچان چکی تھی اس لیے پلٹنے کی یا اس کو دیکھنے کی بجائے کھڑکی سے باہر برستی برسات کو دیکھتی رہی

“تمہارا مجھ سے ناراض ہونے کا حق پر تھا مگر ناراضگی میں ڈائیورس والی بات بولنا بالکل جائز نہ تھا، تم ایسا کیسے سوچ سکتی ہو میں تمہارے بغیر اکیلے رہنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا اور تم نے غصے میں اتنی بڑی بات بول دی”

ریان عرا کو بازو سے پکڑ کر اُس کا رخ اپنی جانب کرتا ہوا شکوہ بھرے لہجے میں بولا تو عرا ریان کا چہرہ دیکھنے لگی

“میں نے تم سے عون کی وجہ سے شادی کی تھی اور آج بھی تمہارے ساتھ عون کی وجہ سے اس گھر میں آئی ہوں۔۔۔ ایسا انسان میرا آئیڈیل نہیں ہوسکتا جو اپنے رشتے کے ساتھ مخلص نہ ہو”

عرا کے بولنے پر ریان خاموشی سے اسے دیکھنے لگا تھوڑے وقفے کے بعد بولا تو اس کا لہجہ بےحد سنجیدہ تھا

“ایلکس میری گرل فرینڈ نہیں تھی نہ میری اس کے ساتھ کوئی وابستگی والا معاملہ نہیں تھا۔۔۔ ایک بڑی غلطی جو ایک رات مجھ سے ہوئی تھی جس کے بعد میں خود کو گلٹی محسوس کررہا تھا اپنی اس غلطی کا اعتراف میں نے ایلکس کے سامنے بھی کیا تھا اس رات جو بھی کچھ ہوا تھا وہ صحیح نہیں تھا لیکن تب تم میری زندگی میں نہیں تھی تو تم یہ نہیں بول سکتی کہ میں اپنے رشتے کو لےکر تم سے مخلص نہیں ہوں اگر تم سے رشتہ جوڑنے کے بعد میں کوئی شرمناک عمل انجام دو تب تمہارا یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ میں تم سے مخلص نہیں لیکن تم سے میں نے پوری ایمانداری کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑا ہے تمہارے ہوتے میں کسی دوسری لڑکی کا تصور بھی نہیں کرسکتا یہی مکمل سچ ہے۔۔۔ مجھ تم سے محبت زیاد کی زندگی میں ہوئی تھی تم میرے لیے اس خواب کی طرح تھی جس کی تعبیر ناممکن تھی وقت اور حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ تم مجھے حاصل ہوئی جس کا امکان دور دور تک نہ تھا بتاؤ میں کیسے تمہارے ہوتے ہوئے کسی دوسرے کے لیے سوچ سکتا ہوں”

ریان عرا کے دونوں بازو پکڑے اس کے دل سے اپنی غلط فہمی دور کرنے لگا

“پھر اس رات تم نے عون کی جھوٹی قسم کیوں کھائی”

عرا نے اس سے دوسرا شکوہ کیا عرا کو اس بات کا بھی بےحد رنج تھا

“میں نے عون کی جھوٹی قسم نہیں کھائی میں تمہیں تھوڑی دیر پہلے کلیئر کرچکا ہوں ایلکس سے میرا نہ تو افیئر رہا ہے نہ ہی وہ میری پسند رہی ہے۔۔ بہکانے والا ایک لمحہ میری زندگی میں آیا تھا اور بس۔۔۔ ایلکس سے میری صرف فرینڈ شپ تھی اور یہی بات میں نے عون کی قسم کھا کر بولی تھی”

ریان عرا سے بولتا ہوا اسے بیڈ پر لاکر بٹھاتا ہوا خود اس کے قریب بیٹھ گیا

“عون میرے لیے کیا اہمیت رکھتا ہے یا مجھے اس سے کتنی محبت ہے یہ میں تمہیں یا کسی دوسرے کو نہیں بتاؤں گا اب تم صرف مجھے یہ بتاؤ کہ تمہارا دل میری طرف سے صاف ہوا ہے یا پھر ابھی بھی میرے لیے اپنے دل میں بدگمانی لیے بیٹھی ہو”

ریان عرا کی آنکھوں میں جھانکتا ہوا اس سے پوچھنے لگا

“مجھے تمہاری فرینڈ پسند نہیں ہے”

عرا صاف گوئی سے ریان کو بتانے لگی جس پر ریان کو ہنسی آگئی

“ٹھیک ہے میں اس سے فرینڈ ختم کرلوں گا اور بولو”

وہ عرا کو نرم پڑتا دیکھ کر اس کو اپنے بازووں میں سمائے بولا

“تم آگے زندگی میں بھی کسی دوسری لڑکی سے دوستی نہیں کرو گے”

عراکی اگلی بات پر ریان ہلکا سا ماتھے پر بل لیے اسے دیکھنے لگا

“یعنی تمہارے دل میں ابھی شک و شبات باقی ہیں”

وہ عرا کو حصار میں لیے خفا ہوکر اس سے پوچھنے لگا

“جس طرح سے تم ایلکس کو تصویر میں دیکھ رہے تھے میرا مائنڈ اتنی جلدی کلیئر نہیں ہوسکتا”

عرا سیریس ہوکر بولی تو ریان نے گہرا سانس بھرا

“پھر میں آج سے ہر دوسری لڑکی کو بہن کی نگاہ سے دیکھوں گا یہ ٹھیک ہے”

ریان کے بولنے پر عرا کو ہنسی آگئی اس کا اچھا موڈ دیکھ کر ریان عرا کے ہونٹوں پر جھک گیا عرا اپنے دل اور دماغ سے ریان کے لیے ساری بدگمانیاں نکالنے لگی

“تم جانتی ہو تمہارے جانے کے بعد میں اس بیڈ روم میں نہیں سویا کیونکہ یہاں مجھے اکیلے لیٹتے ہوئے تمہاری یاد ستاتی تھی”

ریان عرا کو بیڈ پہ لٹا کر اس پر جھکتا ہوا بولا

“پھر میری یاد آنے پر تم نے کیا کیا”

عرا ریان کا روشن چہرہ دیکھتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی۔۔۔ اپنے شوہر کے دل میں موجود اپنے لیے جذبات سے وہ واقف تھی ایلکس کو وہ برا خواب سمجھ کر بھول جانے کا ارادہ رکھتی تھی

“خود سے دو عہد کیے تھے ایک عہد یہ کے محبت کے ایسے رولز بناؤں گا جس سے تمہیں میری وفا پر کبھی شک نہ ہو”

ریان عرا کی پیشانی پر اپنے ہونٹ رکھنے کے بعد اسے بتانے لگا

“اور دوسرا عہد”

عرا ریان سے پوچھنے لگی

“اور دوسرا عہد یہ کیا تھا میری جان کہ جب تمہیں مناکر میں اپنے بیڈ روم میں لاؤ گا تب عون کے بہن یا بھائی کی بنیاد ڈالنے کا آغاز کردو گا”

ریان کی شرارت بھرے انداز پر عرا نے گھور کر ریان کو دیکھا۔۔۔ ریان مسکراتا ہوا دوبارہ اس کے ہونٹوں پر جھک گیا

***

اختتام