Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Payar Howa Tha (Episode 15)

Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel

سر کو جھکا کر اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامے وہ اسپتال کے ویٹنگ روم میں موجود کرسی پر گم سم بیٹھا تھا ذہن کسی فلم کی طرح گزرے ہوئے سارے منظر دھرا رہا تھا

زیاد کا اُس سے بچپن میں کسی بات پر لڑنا، اُس کا زیاد کو جان کر تنگ کرنا، چھیڑنا، مذاق اڑانا، زیاد کی مائے نور سے شکایت کرکے اپنے بھائی کو ڈانٹ پڑوا کر خوش ہونا،۔۔۔ اُس کی اسکول کے لڑکوں سے لڑائی ہونے پر ہمیشہ سے زیاد کا اُس کا ساتھ دینا، زیاد کی ہر چیز پر اپنا حق جتاکر اس کی چیزوں کو استعمال کرنا۔۔۔ زیاد سے عرا کے لیے لڑنا اور تھوڑی دیر پہلے زیاد کے زخمی بےہوش وجود کو روتے ہوئے یہاں ہسپتال تک لانا۔۔۔ زیاد کی حالت کا سوچ کر ایک مرتبہ دوبارہ اُس کی آنکھیں نم ہونے لگی جنہیں وہ رگڑ کر دوبارہ سے صاف کرنے لگا

زیاد اور عرا دونوں ہی اس وقت انڈر ٹریٹمنٹ تھے تب لیڈی ڈاکٹر ریان کے پاس آئی تو ریان لیڈی ڈاکٹر کو اپنی جانب آتا دیکھ کر اپنی سیٹ سے اٹھ کھڑا ہوا

“پیشنٹ آپ کی کیا لگتی ہیں”

لیڈی ڈاکٹر پروفیشنل انداز اپنائے سوال کرتی ریان سے پوچھنے لگی

“وہ میرے بھائی کی وائف ہے جس کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے کیسی ہے اب عرا کی طبیعت”

ریان لیڈی ڈاکٹر سے عرا کی طبیعت کے متعلق پوچھنے لگا

“ناؤ شی از فائن سارے ٹیسٹ اور الٹرا ساونڈ کرلیے ہیں اُن کا بےبی بھی سیف ہے یہ ایک طرح سے معجزہ ہے کہ اتنے خطرناک ایکسیڈنٹ کے باوجود اوپر والے نے اُن کو اور اُن کے بچے کو حفاظت سے رکھا آپ چاہیں تو اپنی بھابھی سے مل سکتے ہیں”

لیڈی ڈاکٹر عرا کے بارے میں ریان کو تسلی بخش خبر سناتی ہوئی وہاں سے چلی گئی جس پر ریان کو عرا کی طرف سے اطمینان ہوا وہ اس سے ملنے جانے لگا تبھی مائے نور کی اُس کے موبائل پر کال آنے لگی

“تم اور زیاد اِس وقت کہاں پر رہ گئے ہو اور یہ زیاد میری کال کیوں نہیں اُٹھا رہا اس سے کہو اگر عرا اس کی بات ماننے کو تیار نہیں تو وہ اسے چھوڑ کر فوراً سکندر ولا پہنچے میں کب سے اُس کے آنے کا انتظار کررہی ہوں”

مائے نور اپنی کال ریسیو دیکھ کر ریان کے کچھ بولنے سے پہلے اُسے بولی۔۔۔۔ رؤف کتنی دیر پہلے آکر اسے زیاد کا پیغام دے چکا تھا مائے نور تب سے زیاد کے واپس آنے کا انتظار کررہی تھی

“ماں آپ زیاد کے پاس آجائیں وہ آپ کے پاس نہیں آسکے گا۔۔۔ ہوش میں آنے کے بعد وہ مجھ سے آپ کا پوچھے گا آپ پلیز یہاں ہسپتال میں آجائیں”

ریان روہانسی لہجے میں بولا تو دوسری طرف مائے نور ریان کی بات سن کر پریشان ہوگئی

“کک۔۔۔ مطلب کیا ہے تمہارا۔۔۔ اس نے تو رؤف سے یہ کہا تھا کہ ماں سے کہو میرا انتظار کریں وہ تو گھر آرہا تھا ناں۔۔۔۔ کیا ہوا ہے زیاد کو وہ اس وقت کہاں پر ہے ریان مجھے جلدی سے بتاؤ”

مائے نور بےقرار لہجے میں ریان سے پوچھنے لگی تو ریان نے اس کو تفصیل کی بجائے سرسری سا زیاد کے ایکسیڈنٹ کے بارے میں بتایا اور رؤف کے ساتھ اُسے اسپتال آنے کا بول کر خود عرا کے روم میں چلا آیا

“ریان زیاد کیسا ہے مجھے اُس سے ملنا ہے مجھ کو اُس کے پاس لے چلو پلیز”

ریان کو ہسپتال کے کمرے میں آتا دیکھ کر عرا بیڈ سے اٹھتی ہوئی کھڑی ہونے لگی

“واپس بیٹھ جاؤ عرا وہ ابھی انڈر ٹریٹمینٹ ہے اُس سے میں یا کوئی بھی دوسرا فوری طور پر نہیں مل سکتا اور ابھی تمہیں خود اپنی طبیعت کا دھیان رکھنا ہے پلیز اپنا خیال رکھو کیونکہ تمہارا خیال رکھنے والا اس وقت اپنے ہوش میں نہیں ہے”

ریان سرخ آنکھوں کے ساتھ عرا کو دیکھتا ہوا بولا بار بار آنسو صاف کرنے کی وجہ سے اُس کی آنکھیں بےتحاشہ سرخ ہورہی تھی

“وہ ٹھیک ہوجائے گا نہ ریان۔۔۔ بس اتنا بول دو کہ وہ ٹھیک ہوجائے گا”

عرا روتی ہوئی ریان کو دیکھ کر اُس سے پوچھنے لگی کیونکہ جس کنڈیشن میں وہ لوگ اسے ہسپتال لے کر آئے تھے زیاد کی کنڈیشن کافی خراب تھی اُس کی باڈی پوری طرح جل چکی تھی بلیڈنگ بھی کافی زیادہ ہو رہی تھی عرا کے سوال پر ریان کی آنکھیں دوبارہ گیلی ہونے لگی وہ خود کو رونے سے روکتا ہوا اسے بولا

“انشاء اللہ وہ ٹھیک ہوجائے گا اور اسے ٹھیک ہونا چاہیے۔،۔۔ میں بھی دعا کررہا ہوں اپنے بھائی کے لیے تم بھی اس کے لیے دعا کرو”

ریان اس کو کیسے حوصلہ اور تسلی دیتا اسے کچھ سمجھ نہیں آیا اتنے میں ایک نرس کمرے میں آئی

“زیاد سکندر آپ کے پیشنٹ ہیں؟؟؟ سر آپ کو ڈاکٹر صاحب اپنے روم میں بلارہے ہیں”

نرس کے پیغام پر عرا پریشان سی ریان کو دیکھنے لگی پھر خود بھی ڈاکٹر کے پاس جانے کے لیے اُٹھنے لگی

“عرا پلیز لیٹی رہو تمہیں ڈاکٹر نے سختی سے تاکید کی ہے بیڈ ریسٹ کی۔۔۔ میں آتا ہوں ڈاکٹر سے مل کر”

وہ عرا کو سمجھاتا ہوا ڈاکٹر کے روم میں چلا گیا

****

“مسڑ ریان سکندر آپ کے بھائی زیاد سکندر کی تسلی بخش حالت نہیں ہے میں آپ کو اُن سے ریلیٹ کوئی اچھی خبر نہیں سنا سکتا کیوکہ ان کی باڈی نائنئی پرسنٹ برن ہوچکی ہے ان کے انٹرنل باڈی پارٹس بری طرح متاثر ہوئے ہیں، جسم کی ہڈیاں ٹوٹ چکی ہیں صرف ہارٹ ہے جو مشکل سے ہی کام کر پارہا ہے جس کی وجہ سے وہ ابھی تک سروائیو کررہے ہیں اس کریٹیکل کنڈیشن میں وہ مشکل سے مزید چند گھنٹے ہی سروائیو کر پائیں گے۔۔۔ ہم سے جتنا ہوسکا ہم نے اپنی پوری ایفرڈ کی ہے باقی زندگی اور موت کا معاملہ تو اللہ کے ہاتھ میں ہے”

ڈاکٹر کی بات سن کر ریان سکتے کی کیفیت میں ڈاکٹر کو دیکھنے لگا

“آپ کو ہمت اور حوصلہ سے کام لینا ہوگا”

ریان کی صدمے والی کیفیت دیکھ کر ڈاکٹر اسے تسلی دیتا ہوا بولا

“میں اپنے بھائی سے ملنا چاہتا ہوں”

ریان نے اپنی آنکھوں سے آنسو کو صاف کرتے ہوئے خود کو ڈاکٹر سے کہتے سنا

****

مشینوں میں جکڑا جلا ہوا یہ خاکستر وجود زیاد سکندر یعنٰی اس کا بڑا بھائی تھا۔۔۔ ریان کو زیاد کی اس حالت پر ایک مرتبہ پھر رونا آنے لگا۔۔۔ کیا زیاد کو اُس کی نظر لگ گئی تھی مگر اُس نے تو کبھی زیاد کو بددعا نہیں دی تھی وہ تو اس کی زندگی سے دور جانا چاہتا تھا تاکہ وہ عرا کے ساتھ خوشحال زندگی گزار سکے پھر کیوں اس کے بھائی کے ساتھ یہ سب کچھ ہوا تھا

“زیاد” ریان اپنے آنسو صاف کرنے کے بعد خود کو مضبوط ظاہر کرتا زیاد کا نام لےکر اسے پکارنے لگا جس پر زیاد نے اپنی بند آنکھیں کھولی

“تم فکر مت کرنا زیاد ڈاکٹر بول رہے ہیں تم ٹھیک ہوجاؤ گے بس تم ہمت رکھنا انشاءاللہ سب ٹھیک ہوجائے گا میری ابھی ڈاکٹر سے بات ہوئی ہے پریشانی والی کوئی بھی بات نہیں”

ریان زیاد کا جھلسا ہوا چہرہ دیکھ کر اُسے جھوٹی تسلی دیتا ہوا اس کی ہمت باندھنے لگا

“ریان۔۔۔ عرا مم میرا بچ چہ۔۔۔ وہ دونوں۔۔۔ کک۔۔۔

زیاد مشکل سے جملہ ادا کر پایا

“بالکل ٹھیک ہے عرا بھی اور تمہارا بچہ بھی سہی سلامت ہے تم اُن دونوں کی بالکل فکر مت کرو بس اب تمہیں جلدی سے ٹھیک ہونا ہے عرا کے لیے اور اپنے بچے کے لیے”

ریان زیاد کو دیکھتا ہوا بولا کاش ڈاکٹر کا بولا ہوا کچھ بھی سچ نہ ہو اس کا بھائی ٹھیک ہوجائے وہ جانتا تھا اپنے بچے کی آمد کا زیاد کو کس قدر انتظار تھا وہ اِن دنوں کس قدر خوش تھا

“ماں۔۔۔ ماں کو یہاں بلاؤ ریان وہ میرا گھر میں ویٹ کررہی ہوگیں”

زیاد اب کی بار مائے نور کے بارے میں ریان سے بولا اس کی آواز میں ہلکی سی لرزش تھی

“میں نے رؤف کو بول دیا ہے وہ لاتا ہوگا ماں کو تم اسطرح پریشان کیوں ہورہے ہو یار تم تو بہت ہمت والے ہو مجھ سے بھی زیادہ ہمت تم میں ہے سب ٹھیک ہوجائے گا”

زیاد کی آنکھیں نم دیکھ کر ریان اپنا دل اور لہجہ مضبوط بناتا ہوا اس کو دوبارہ حوصلہ دینے لگا

“میری بات مانو گے ریان وعدہ کرو۔۔۔ مجھ سے وعدہ کرو تم واپس نہیں جاؤ گے اب تمہیں ماں کا، عرا اور میرے بچے کا خیال رکھنا ہے بول دو اب تم واپس نہیں جاؤ گے”

زیاد ریان کی بات کو نظر انداز کرتا اس سے بولا

“ٹھیک ہے میں واپس نہیں جاؤ گا تم جیسا بولو گے میں وہ وہی کروں گا بس تم پہلے کی طرح ٹھیک ہوجاؤ تم جانتے ہو ناں ماں شروع سے ہی تم سے زیادہ اٹیچ ہیں وہ تمہیں خود سے دور نہیں دیکھ سکتی تم یہاں اسپتال میں رہوگے تو وہ ہر وقت پریشان رہیں گیں۔۔۔ تمہیں ماں کے لیے عرا کے لیے اور اپنے بچے کے لیے جلدی خود کو ری کور کرنا پڑے گا کیونکہ ماں کو عرا کو اور تمہارے بچے کو۔۔۔ مجھے بھی ہم سب کو تمہاری ضرورت ہے”

ریان کے بولنے پر زیاد ایک لمحے کے لیے خاموش ہوا شاید وہ بولتے بولتے تھک گیا تھا یا پھر اگلی بات کہنے کے لیے ہمت اکٹھا کررہا تھا

“عرا بہت حساس ہے ریان اس کا بچپن میری وجہ سے محرومیوں میں گزرا ہے میں نے سوچا تھا اُس کی زندگی میں اسے ہر خوشی دو گا تاکہ کوئی احساس محرومی اس کے دل میں باقی نہ رہے لیکن ایسا نہیں ہوسکا اور اب لگتا ہے ایسا ہو بھی نہیں سکتا۔۔۔ ریان عرا کو بتانا میں نے اُس کے ڈیڈ کو جان کر نہیں مارا تھا۔۔۔ آگے جاکر اب تمہیں عرا کا خیال رکھنا ہے بلکہ مجھے معلوم ہے تم اُس کا خیال رکھو گے اور اسے خوش بھی رکھو گے۔۔۔ تم محبت کرتے ہو عرا سے۔۔۔ ریان تم عرا سے شش۔۔۔ شادی کرلینا”

آگے بولتے ہوئے زیاد کی آواز لرزی وہی ریان کا ضبط بھی جواب دینے لگا وہ جو زیاد کو کتنی دیر سے تسلی دے رہا تھا کہ وہ ٹھیک ہوجائے گا شاید زیاد پہلے سے جانتا تھا وہ اب ٹھیک نہیں ہوسکے گا

“کیا فضول بولے رہے ہو میں نے کہا ناں کہ سب صحیح ہوجائے گا تم پہلے جیسے ہوجاؤ گے میری ڈاکٹر سے خود ابھی بات ہوئی ہے”

ریان اپنا لہجہ ہموار رکھتا ہوا زیاد سے بولا تو اس کے چہرے کے جھلسے نقش تبدیل ہوئے جیسے وہ ریان کی بات سن کر ہنسا ہو

“میں بےوقوف نہیں ہوں۔۔۔ جانتا ہوں میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے تم وعدہ کرو میرے دنیا سے جانے کے بعد عرا کو اپناؤ گے اور میرے بچے کو بھی۔۔۔ بولو ریان تم عرا کو اپناؤ گے۔۔۔ مجھ سے وعدہ کرو”

زیاد کے بولنے پر ریان کب سے ضبط کیا بیٹھا تھا اس کا ضبط بکھرنے لگا بناء کچھ بولے آنکھوں سے اشک جاری ہونے لگے

“خاموش کیو ہو، جواب کیوں نہیں دے رہے مجھے۔۔۔ مجھ سے وعدہ کرو پلیز”

زیاد ریان کو روتا ہوا دیکھ کر ایک مرتبہ پھر اس سے بولا زیاد کی آواز سے لگ رہا تھا شاید اب اُس کو بولنے میں تکلیف محسوس ہورہی تھی

“زیاد پلیز یار میں تم سے بہت شرمندہ ہوں مجھے معاف کردو۔۔۔ مجھے ایسے نہیں۔۔۔

ریان روتا ہوا بولا تو زیاد اس کی بات کاٹتا ہوا بولا

“وعدہ کرو ریان ورنہ میں تکلیف میں رہو گا مجھے مرنے کے بعد بھی سکون نہیں آئے گا وعدہ کرو عرا کو اپناؤ گے”

زیاد تکلیف محسوس کرتا ریان سے ایک مرتبہ پھر بولا

ریان سے کچھ نہیں بولا گیا زیاد کو تکلیف میں دیکھ کر اس نے اپنا سر اقرار میں ہلادیا تو زیادہ دوبارہ ہنسا

“دیکھو میں نے تمہیں واپس جانے سے روک لیا۔۔۔ ماں مجھے ہی نہیں تمہیں بھی ہمیشہ اپنے پاس دیکھنا چاہتی ہیں ان کو بولنا زیاد نے جانے سے پہلے آپ کا انتظار کیا تھا۔۔۔ انہیں بولنا وہ مجھے میری ساری غلطیوں کے لیے معاف کردیں جن کی وجہ سے میں نے اُن کا دل دکھایا ہو ان سب غلطیوں کے لیے مجھے معاف کردیں۔۔۔ ریان میرے بچے کا خیال رکھنا، باپ بن کر اس کی پرورش کرنا۔۔۔ عرا میری نہیں اب تمہاری پارٹنر بن کر رہے گی بچپن کی طرح۔۔۔ میرا کلمہ پڑھنے کا وقت۔۔۔ مجھے کلمہ۔۔۔

ایک دم اس کی سانسیں اکھڑنے لگی ریان کا چہرہ آنسوؤں سے مکمل بھیگ چکا تھا ڈاکٹرز نے آخری کوشش کرنے سے پہلے ریان کو کمرے سے باہر نکال دیا مگر ہسپتال کے کمرے سے باہر جانے سے پہلے اس نے زیاد کو کلمہ پڑھتے سنا تھا

دھندلی آنکھوں کے ساتھ وہ کوریڈور سے مائے نور کو اپنی جانب بھاگ کر آتا ہوا دیکھنے لگا اس کے ساتھ عشوہ بھی موجود تھی

“ریان زیاد کہاں پر ہے تم ایسے کیوں رو رہے ہو مجھے زیاد کے پاس لے چلو جلدی سے”

مائے نور ریان کی حالت دیکھ کر انجانے خدشے سے اُس کو جھنجھوڑتی ہوئی پریشان سی بولی

“اُس نے آپ کا انتظار کیا تھا آپ آنے میں لیٹ کیوں ہوگئیں ماں”

ریان آنسو صاف کرکے بولتا ہوا مائے نور کے پتھرائے ہوئے چہرے کو دیکھ کر آگے بڑھ کر سینے سے لگا چکا تھا ریان کی بات پر عشوہ نے رونا شروع کردیا جبکہ مائے نور سکتے کی کیفیت میں کھڑی رہی۔۔۔ اسے ریان کی بات سمجھ نہیں آئی یا پھر وہ سمجھنا نہیں چاہتی تھی

“اُسے جاتے ہوئے بھی اپنی فکر نہیں تھی۔۔۔ اسے خیال تھا تو آپ کا, اپنے بچے کا, عرا کا۔۔۔۔ جو ذمہ داری وہ مجھ پر ڈال گیا ہے میں وہ بوجھ کیسے اٹھا پاؤ گا”

ریان روتا ہوا بولا تو کوریڈور میں آتی عرا اُن سب کو روتے ہوئے خوف ذدہ نظروں سے دیکھنے لگی اس کی ٹانگوں میں اتنی جان نہ تھی کہ وہ زیادہ دیر تک کھڑی رہتی بےجان ہوتی ٹانگوں کے ساتھ وہ دیوار سے ٹیک لگائے نیچے بیٹھتی چلی گئی

****

سکندر ولا میں اِس وقت گہرے سوگ کا سماں تھا رات سے صبح، اور صبح سے اب شام ہوچکی تھی آج صبح سے ہی سکندر ولا میں لوگوں کا ہجوم اکٹھا تھا گھر کے مکینوں کے علاوہ سکندر ولا کے تمام ملازمین یہاں تک کہ شیرو بھی زیاد کی یوں اچانک موت پر غمگین دکھائی دے رہا تھا وہ آج کسی پر غُرائے یا بھونکے بنجائے سکندر ولا میں ہر آنے جانے والے فرد کو خاموشی سے دیکھ رہا تھا کل رات زیاد کی ڈیتھ کے بعد آج عصر کے وقت اُس کی تدفین کردی گئی تھی زیاد کی یوں اچانک موت پر ہر فرد کی آنکھ اشکبار تھی

اِس وقت مائے نور اور عشوہ کے پاس مائے نور کی چھوٹی دیورانی موجود تھی جبکہ عرا کے پاس عالیہ اور تزئین کے علاوہ شہرینہ بھی موجود تھی۔۔۔ آج کے دن جہاں مائے نور گہرے غم سے نڈھال اپنے کمرے میں موجود تھی وہی عرا بھی زیاد کے کمرے میں اُس کے دنیا سے چلے جانے کا سوگ منارہی تھی۔۔۔ مائے نور کو جہاں عشوہ اور سائرہ بار بار دلاسہ دے کر خاموش کروا رہی تھی وہی عرا کی حالت کی پیشن نظر تزئین اور شہرینہ نے اس کو سنبھالا ہوا تھا

تدفین کے بعد زیادہ تر رشتہ دار جاچکے تھے اس وقت ریان کے دو دوست موجود تھے جن کے ساتھ وہ ڈرائنگ روم میں خاموش بیٹھا ہوا اپنے ہاتھوں کو غور ست دیکھ رہا تھا جن سے تھوڑی دیر پہلے وہ زیاد کو قبر میں اتار کر اُس پر مٹی ڈال کر آیا تھا

“ریان یہاں آئیے گا”

ڈرائنگ روم کے بیرونی حصے سے عشوہ کی آواز پر وہ متوجہ ہوا

“تمہیں صبح سے بخار ہورہا ہے تھوڑی دیر آرام کرلو اب ہم دونوں کو اجازت دو ہم دونوں کل آئیں گے اور یار خود کو اکیلا نہیں سمجھنا”

اشعر اور عاصم ریان سے اجازت لیتے ہوئے ڈرائینگ روم سے رخصت ہوئے تو ریان صوفے سے اٹھ کر عشوہ کے پاس چلا آیا اور اُس کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا

“مجھے ماہی کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی وہ وقفے وقفے سے بھائی کو یاد کر کے روتی ہیں پھر اپنا ہوش کھو بیٹھتی ہیں واپس ہوش میں آنے کے بعد پھر سے رونا شروع کردیتی ہیں ریان مجھ سے مائی کی یہ حالت نہیں دیکھے جارہی آپ پلیز کچھ کریں”

عشوہ روتی ہوئی ریان سے بولی جس وقت زیاد کی ڈیڈ باڈی سکندر ولا میں لائی گئی تھی اس وقت مائے نور اور عرا کے علاوہ عشوہ تھی جو زیاد کی ڈیڈ باڈی کو دیکھ کر بےتحاشہ روئی تھی کیونکہ اس نے زیاد کو بچپن سے ہی اپنے سگے بھائی کی طرح سمجھا تھا زیاد کی موت کا رنج اُس کو بھی کافی زیادہ تھا

“میں ڈاکٹر کو کال کرکے بلوا لیتا ہوں تم پریشان مت ہو”

ریان عشوہ سے بولتا ہوا عالیہ کو دیکھنے لگا جو تھوڑے فاصلے پر کھڑی اسی کی منتظر تھی ریان چلتا ہوا عالیہ کے پاس آیا

“دفنا آئے اپنے بھائی کو”

عالیہ افسوس کرتی ریان سے بولی تو تڑپتی ہوئی نگاہ ریان نے عالیہ کے رنج زدہ چہرے پر ڈالی۔۔۔ زیاد کو لہد میں اتارتے وقت وہ بری طرح ٹوٹ کر بکھرا تھا مائے نور اور عرا کے برعکس اُس کو سنبھالنے والا کوئی نہ تھا تھوڑی دیر بعد اُس نے خود اپنے آپ کو سنبھالا جس کے بعد سے وہ اب تک بالکل خاموش تھا

“عرا کی طبیعت کیسی ہے اب”

ریان دھیمے لہجے میں عالیہ سے عرا کے متعلق پوچھنے لگا کیونکہ جب اسے زیاد کی ڈیڈ باڈی کو دکھانے کے لیے لایا گیا تھا اُس وقت عرا صدمے سے نڈھال ہوکر بےہوش ہوچکی تھی

“وہ بدنصیب تو اپنے شوہر کی موت کے ساتھ ساتھ اپنے باپ کی موت کا سوگ بھی منارہی ہے خود سوچ لو کیسی ہو سکتی ہے اس کی حالت”

عالیہ اپنے دوپٹے کے کونے سے آنکھوں کے نم گوشے صاف کرتی ہوئی بولی تو ریان ضبط سے آنکھیں بند کرگیا

“اس سے بولیے گا کہ اپنی حالت پر ترس کھائے اُس کے پاس زیاد کی نشانی موجود ہے جس کی وجہ سے اُسے اپنا بہت زیادہ خیال رکھنا ہے کیونکہ سکندر ولا کی در و دیوار اتنی مضبوط نہیں کہ کوئی دوسرا حادثہ برداشت کر پائے”

ریان عالیہ کو دیکھتا ہوا بولا

“تم سے اسی سلسلے میں بات کرنے آئی ہوں دیکھو بیٹا شرعی لحاظ سے اب عرا کی عدت بچے کی ولادت کے بعد ختم ہوگی۔۔۔ اس کا خیال رکھنے والا اس دنیا سے جاچکا ہے، عرا میرے پاس موجود ہوگی تو میں اُس کا اچھے طریقے سے خیال رکھ لوں گی جس طرح اُس کی حالت ہے اُس کو دیکھ بھال کی ضرورت ہے اس لیے میں عرا کو اپنے ساتھ لے جانا چاہتی ہوں”

عالیہ ریان کو سمجھاتی ہوئی بولی عالیہ کی بات سن کر ریان کچھ پل کے لیے سوچ میں پڑ گیا پھر تھوڑے وقفے کے بعد بولا

“اگر آپ کو یہ مناسب لگ رہا ہے اور عرا بھی ایسا چاہتی ہے تو ٹھیک ہے آئیے میں آپ کو اور عرا کو گھر ڈراپ کردیتا ہوں” ریان سنجیدہ تاثرات لیے ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولا

“رہنے دو بیٹا تھکے ہوئے لگ رہے ہو جاکر آرام کرلو پریشانی والی بات نہیں ہے ہم ڈرائیور کے ساتھ چلے جائیں گے”

عالیہ ریان کا کملایا ہوا چہرہ دیکھ کر اُس کے خیال سے بولی زیاد کا یہ چھوٹا بھائی اُس کو تبھی اچھا اور مہذب سا لگا تھا جب وہ تزئین کے نکاح والے دن عرا کو اُن لوگوں سے ملوانے لایا تھا

“ڈرائیور کے ساتھ جانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ زیاد اپنے بچے اور عرا کی ذمہ داری مجھے سونپ کر گیا ہے میں عرا کے کسی کام سے بھی غفلت نہیں برت سکتا بےشک وہ یہاں رہے یا آپ کے پاس اُس کا ڈاکٹر سے چیک اپ ہو یا پھر کوئی بھی دوسرا کام آپ اس کے لیے مجھ سے رابطہ کریں گیں۔۔۔ آپ کو کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو آپ عرا کو بتائے بغیر بلاجھجک مجھے کال کرلیے گا میں خود بھی آپ کے گھر کا چکر لگاتا رہوں گا عرا اور اس کے بچے کو کچھ نہیں ہونا چاہیے وہ دونوں ہی میرے لیے بہت زیادہ اہم ہیں”

ریان کے آخری جملے پر عالیہ بےاختیار چونک کر اسے دیکھنے لگی پھر خاموشی سے اقرار میں سر ہلاتی ہوئی زیاد کے کمرے میں چلی آئی جہاں تزئین اور شہرینہ عرا کے کپڑے وارڈروب سے نکال کر سوٹ کیس میں رکھ رہی تھی جبکہ عرا بیڈ پر بیٹھی ہوئی سامنے دیوار پر اپنی اور زیاد کی شادی کی تصویر دیکھ رہی تھی عالیہ عرا کے پاس آکر اسے گلے لگاتی ہوئی بڑی سی چادر اس پر ڈالنے لگی تاکہ اسے اپنے ساتھ لے جاسکے

****

زیاد کو دنیا سے گئے ہوئے پورے پانچ ماہ ہونے والے تھے اس کے بچے کی ولادت کے دن نزدیک آچکے تھے زیاد کی ڈیتھ کے بعد عرا عالیہ کے پاس موجود تھی ان گزرے ہوئے پانچ ماہ کے عرصے میں ریان ہر ماہ باقاعدگی سے تھوڑی دیر کے لیے عالیہ کے پاس آتا تاکہ عرا اور اس کے بچے کی خیریت معلوم کرسکے وہ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی عالیہ کے پاس سے ہوکر گیا تھا۔۔۔ عرا اِس وقت غصے میں اپنے کمرے کے چکر کاٹتی عالیہ کا اپنے کمرے میں آنے کا انتظار کرنے لگی

“وہ آپ کے سامنے میرے متعلق اتنی بڑی بات بول کر چلا گیا اور آپ اُس کو باتیں سنانے کی بجائے خاموش بیٹھی رہی آپ کو تو اس کی بات پر اُسی وقت دھکے مار کر گھر سے باہر نکال دینا چاہیے تھا پھپھو”

عالیہ کے کمرے میں آنے پر عرا اُس سے شکوہ کرتی ہوئی بولی مگر عالیہ کے تحمل بھرے انداز میں رتی برابر فرق نہ آیا

“کیوں دھکے مار کر نکال دیتی، اُس نے کوئی غیر اخلاقی بات نہیں کی ہے اکثر دیور اپنے بھائی کے مرنے کے بعد اُن کی بیوی سے شادی کرلیتے ہیں یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے جو تم یوں غصے میں لال پیلی ہورہی ہو وہ اپنے بھائی کے بچے کے لیے قدم اٹھا رہا ہے تو اس میں برائی کیا ہے آخر”

عالیہ ریان کی بات کو فیور دیتی ہوئی اس کی وکالت میں بولی تو عرا مزید غصہ آنے لگا

“وہ اپنے بھائی کے بچے کے لیے یہ قدم نہیں اٹھا رہا ہے اس کی میرے اوپر بری نظر ہے ابھی سے نہیں شروع دن سے۔۔۔ میں اُس سے شادی نہیں کروں گی اور نہ ہی واپس سکندر ولا جاؤ گی”

جہاں اس کی ذات کو ناپسندیدگی سے دیکھا جاتا تھا وہ بھلا دوبارہ اس جگہ کیو جاتی اس لیے عرا عالیہ کو اپنا فیصلہ سناتی ہوئی بولی

“سب سے پہلی بات تو یہ اپنے ذہن میں بٹھالو کہ کوئی بھی مرد جس کسی عورت پر بری نظر رکھتا ہے تو اس عورت سے شادی کرکے اسے عزت ہرگز نہیں بخشتا اور دوسری بات اپنے ذہن میں یہ بٹھالو کہ جیسے ہی تمہارا بچہ اس دنیا میں آیا تمہاری ساس تمہارے بچے کو تم سے لینے میں ایڑھی چوٹی کا زور لگادے گی کیونکہ تمہارا بچہ اُس کے بیٹے کی آخری نشانی ہے وہ لوگ کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ زیاد کا بچہ اُن سے دور رہے اس لیے خاموشی سے ریان سے شادی کرلو کیونکہ میں اب مزید تم تمہاری یا تمہارے بچے کی ذمہ داری نہیں اٹھاؤ گی”

عالیہ کے یوں سنگ دلی سے فیصلہ سنانے پر عرا بالکل خاموش مگر افسوس بھری نظروں سے اس کو دیکھنے لگی شروع سے ہی عالیہ کی یہی عادت رہی تھی غصے میں وہ بےمروتی پر اتر آتی تھی

“آپ جانتے بوجھتے مجھے اُس گھر میں دوبارہ بھیج رہی ہیں جس گھر میں میرے ڈیڈ کا مرڈر ہوا تھا”

عرا دکھی دل سے عالیہ کو یاد کروانے لگی

“وہ قتل ریان نے نہیں زیاد نے کیا تھا یعنٰی تمہارے شوہر نے اور اُس شوہر کو یاد کر کے روز تم آج تک آنسو بہاتی ہو۔۔۔ عرا تم ریان سے شادی نہ کرنے کے جتنے بھی جواز بنالو مگر یہ بات اپنے دماغ میں بٹھالو تمہاری ڈیلیوری کے بعد میں تمہاری ریان سے شادی کروا دو گی”

عالیہ عرا کو دیکھ کر جتاتی ہوئی بولی زیاد کے مرنے کے چند دنوں بعد مائے نور کی کال عرا کے پاس آئی تھی اور اس نے پورے واقعے کی تفصیل عرا کو بتائی تھی کیونکہ غلطی طارق کی تھی کوئی بھی بیٹا اپنی ماں پر بری نظر برداشت نہیں کرسکتا۔۔۔ اس لیے زیاد کے رد عمل کو سامنے رکھ کر عرا اس کے مرنے کے بعد زیاد سے شکوہ ختم کرچکی تھی ویسے بھی زیاد سے اس کی شادی کو کم عرصہ گزرا تھا وہ محبت کرنے والا شوہر تھا اس لیے عرا کو آج بھی زیاد کی یاد شدت سے ستاتی تھی وہ زیاد کو یاد کرکے آنسو بہانے لگتی

“میں زیاد کی جگہ کسی دوسرے مرد کو نہیں دے سکتی پھپھو پلیز آپ میری فیلنگز کو سمجھیں۔۔۔ میرا بچہ اور میری ذات آپ پر کبھی بھی بوجھ نہیں بنیں گے میں جاب کر کے اپنے بچے کو پال لوں گی مگر میں زیاد کے بھائی سے شادی نہیں کرسکتی”

اب کی مرتبہ عرا بےبسی سے بولی اس کی آنکھیں خود بخود بھیگنے لگی

“یہ سب کچھ وقتی اور جذباتی باتیں ہوتی ہیں اگر کسی لڑکی کا شوہر مر جائے تو اُس کو دوسرے مرد کو جگہ دینا پڑتی ہے اور تم ماں بن کر سوچو، ایک عورت جب ماں بن جاتی ہے تو پھر اسے اپنے لیے نہیں بلکہ اپنے بچے کے بہتر مستقبل کے لیے سوچنا پڑتا ہے تم ساری عمر ٹیچنگ کر کے اپنی اولاد کی ذمہ داری نہیں اٹھاسکو گی میں آج زندہ ہوں کل نہیں رہوگی تب بھی آگے جاکر تمہیں دوسری شادی کا اسٹیپ لینا پڑے گا کیونکہ ہمارے معاشرے میں عورت کا تنہا زندگی گزارنا مشکل ہوجاتا ہے ہر کوئی عالیہ جیسی زندگی نہیں گزار سکتا عرا تم میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو۔۔۔ زیاد کے بچے کو بہتر مستقبل اور مرتبہ صرف اس کا چچا ہی دے سکتا ہے اور کوئی دوسرا مرد نہیں۔۔۔۔ اس لیے اب میرے سامنے کوئی بھی فضول قسم کی بحث مت کرنا بس اپنا ذہن ریان کے لیے تیار کرلو”

عالیہ اپنی بات مکمل کر کے عرا کے کمرے سے چلی گئی جبکہ عرا بےبسی سے آنسو بہاتی زیاد کو یاد کرنے لگی

****

ان گزرے پانچ ماہ میں اُس کی ذات میں کافی حد تک تبدیلی آچکی تھی، یہ ریان اُس ریان سے بالکل مختلف تھا جو نیویارک میں رہتا تھا۔۔۔ اپنی زندگی میں وہ ذمہ داریوں سے بھاگنے والا اور اپنی الگ دنیا میں خوش رہنے والا اپنی لائف کو بھرپور طریقے سے انجوائے کرنے والا انڈیپینڈنٹ انسان وہ پہلے ہوا کرتا تھا جسے اپنے ملک میں رہنے میں یا بزنس کرنے میں کوئی خاص دلچسپی نہ تھی بزنس سے زیادہ وہ جاب کرنا پسند کرتا تھا روشنیوں اور رونقوں میں زندگی گزارنا اُسے اچھا لگتا تھا لیکن پاکستان آنے بعد آئستہ آئستہ اُس کی زندگی میں سب کچھ بدلنے لگا اور اب زیاد کے جانے کے بعد اُس کی زندگی پوری طرح تبدیل ہوچکی تھی زیاد اگر اس کو پابند نہ بھی بناکر جاتا وہ تب بھی اس صورتحال میں اپنی ماں کو تنہا چھوڑ کر نیو یارک نہیں جاسکتا تھا

مائے نور کو اُس کی ضرورت تھی صرف وہی اپنی ماں کا اکلوتا سہارا رہ گیا تھا زیاد کی موت کے فوراً بعد اس کو سمجھ نہیں آیا تھا وہ اچانک سے اِن بگڑے حالات کو کیسے قابو میں کرے زیاد کی موت کا صدمہ اُس کو بہت زیادہ تھا مگر مائے نور کی بکھری حالت دیکھ کر اسے خود کو مضبوط بنانا پڑا تھا۔۔۔ زیاد کے جانے کے غم میں مائے نور میں بھی جینے کی طلب کم ہوگئی تھی مگر ریان اس کو آئستہ آئستہ زندگی کی طرف لایا

آج کل وہ زیاد کی کمپنی کو اپنا وقت دے رہا تھا وہ کمپنی جو زیاد اور زیاد کے دوست نے پارٹنرشپ کی صورت بڑی محنت سے قائم کی تھی۔۔۔

پچھلے پانچ ماہ سے ریان اپنے دماغ کی سوچوں کو مختلف حصے میں بانٹ چکا تھا تاکہ عرا کی سوچ اس کے دل اور دماغ پر حاوی نہ ہوسکے کیوکہ مناسب وقت آنے پر ہی وہ اس کو اپناتا۔۔۔ اب وہ پہلے کی طرح ہر وقت عرا کے بارے نہیں سوچتا اس نے اپنے ذہن کو نئی سوچ پر لگادیا تھا یعنیٰ زیاد کے آنے والے بچے کی طرف۔۔۔ ریان کو انتظار تھا تو اس ننھے وجود کا جو ابھی اس دنیا میں نہیں آیا تھا جس کی آمد کا نہ صرف اس کو بلکہ مائے نور کو بھی بہت شدت سے انتظار تھا

ان گزرے پانچ ماہ میں ریان نے ہر طرح سے کوشش کی تھی کہ وہ عرا اور اس کے بچے کا خیال رکھے عرا کو اپنی پھپھو کی طرف رہتے ہوئے کسی بھی طرح کا کوئی مسئلہ درپیش نہ آئے وہ عرا کی گائنی سے بھی کانٹیکٹ میں رہتا تاکہ عرا کی کنڈیشن اور بچے کے متعلق معلوم کرسکے کیوکہ اب پانچ ماہ کا عرصہ گزر چکا تھا زیاد کے بچے کی ولادت کے دن قریب آچکے تھے اس لیے ریان مائے نور پر اپنا ارادہ ظاہر کرچکا تھا کہ زیاد کے بچے کی پیدائش کے بعد وہ عرا سے شادی کر کے اُس کو دوبارہ سکندر ولا میں لانے والا ہے جس پر مائے نور نے کوئی اعتراض نہیں کیا تھا شاید اعتراض کرنے والی اس کی عادت زیاد کی زندگی کے ساتھ ختم ہوچکی تھی یا پھر مائے نور کو صرف اور صرف اپنے پوتے کی آمد سے مطلب تھا۔۔۔۔ ریان آفس کے بعد آج عرا کی پھپھو کی طرف گیا تھا تاکہ اُس کی پھپھو سے اپنے اور عرا کے متعلق بات کرسکے جس پر اس کی پھپھو نے کوئی اعتراض نہیں کیا تھا لیکن ریان اندر سے یہ بات جانتا تھا اعتراض عرا کی جانب سے لازمی اٹھتا جس کے لیے وہ ذہنی طور پر پہلے سے تیار تھا۔۔۔ عرا کے انکار پر وہ خود کو تیار کرتا اپنے اُس کے نکاح کے سارے جواز پہلے ہی سوچ بیٹھا تھا کیونکہ سکندر ولا میں عرا کی موجودگی صرف اس کے دل کی خوشی نہ تھی جس کا خیال اس کا بھائی مرتے وقت کر گیا تھا بلکہ زیاد کا بچہ بھی ایک اہم وجہ بن چکا تھا۔۔۔ اب عرا کے ساتھ اس کا بچہ بھی ریان کے لیے اتنی ہی اہمیت رکھتا تھا

“آج بھی ساری لائٹس بند ہیں پورے گھر میں اندھیرا کر رکھا ہے ماں یہ کیا عادت بنالی ہے آپ نے اپنی”

ریان رات کے آٹھ بجے کے قریب گھر میں داخل ہوا سکندر ولا اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا وہ مائے نور کے کمرے میں آتا ہوا مائے نور سے بولا کیونکہ مائے نور ملازموں کو گھر کی لائٹس آن نہیں کرنے دیتی تھی

“زندگی میں بھی تو اندھیرا ہوگیا ہے زیاد کے جانے کے بعد۔۔۔ سکندر ولا کی روشنیاں، میری زندگی کی خوشیاں وہ سب اپنے ساتھ لے گیا ریان۔۔۔۔ میں نے اُس کو اُس کی پسند کی شادی کی ایسی سخت سزا دی۔۔۔ میں نے اپنے بیٹے کو اُس کی خوشی میں خوش نہیں ہونے دیا اس سے جھوٹ تک بول دیا کہ طارق نے میرے ساتھ اُس رات۔۔۔ تاکہ وہ اپنی بیوی کو چھوڑ دے اس کو پل پل ذہنی اذیت دی وہ میری وجہ سے اتنی جلد اِس دنیا سے چلا گیا میں کیسے اپنے آپ کو معاف کروں گی ریان کیسے”

مائے نور آج پھر زیاد کی تصویر سینے سے لگائے اس کو یاد کرکے روتی ہوئی ریان سے وہی سب باتیں دہرا رہی تھی جو پچھلے پانچ ماہ سے دہراتی آرہی تھی

“بار بار آپ کو یہی سمجھاتا ہوں کہ وہ آپ کی وجہ سے نہیں گیا، وہ اپنی زندگی اتنی ہی لکھوا کر آیا تھا خود کو اس کی موت کا ذمہ دار سمجھنا چھوڑ دیں اور زیاد اس دنیا سے ہم کو چھوڑ کر نہیں گیا بلکہ اُس دن آپ خود ہی مجھ سے بول رہی تھی کہ وہ اپنے بچے کے روپ میں آپ کے پاس دوبارہ آنے والا ہے تو پھر کیوں اپنے دل کو اُداس کررہی ہیں آپ کو تو خوش ہونا چاہیے اپنے بچے کے روپ میں زیاد آپ کے پاس دوبارہ آجائے گا”

ریان مائے نور کے آنسو صاف کرتا ہے اس کو بچوں کی طرح بہلاتا ہوا سمجھانے لگا جس پر وہ فوراً بہل بھی گئی

“کب۔۔۔ کب آئے گا زیاد کا بچہ اس دنیا میں تو کب سے انتظار کررہی ہوں۔۔۔ عرا کو جلدی سے سکندر ولا لےکر آؤ تاکہ سکندر ولا میں دوبارہ سے روشنیاں اتریں مجھے زیاد کا بچہ چاہیے ریان پلیز اس کا بچہ مجھے لادو”

مائے نور کے لہجے میں بےقراری سمٹ آئی تھی جسے محسوس کر کے ریان بولا

“میں آج عرا کی پھپھو کی طرف گیا تھا ان سے اپنے اور عرا کے متعلق بات کرنے انہیں کوئی اعتراض نہیں عرا کی ڈلیوری میں ہفتہ بھر رہ گیا ہے تو جلد آپ خوشخبری سنیں گی اس کے بعد عرا اور زیاد کا بچہ دوبارہ سکندر ولا میں ہوگے لیکن اب کی بار عرا زیاد کی بیوہ کی حیثیت سے یہاں نہیں آئے گی بلکہ میری بیوی کی حیثیت سے سکندر ولا میں قدم رکھے گی آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں ہے ماں”

ریان مائے نور کو دونوں کندھوں سے تھام کر اس سے پوچھنے لگا تو مائے نور نے جلدی سے نفی میں سر ہلایا ایک بیٹے سے اس کی خوشیاں چھیننے کے چکر میں وہ اس کو کھوچکی تھی دوسرے بیٹے کی خوشیاں بھی اس لڑکی میں بستی تھی اب کی مرتبہ مائے نور عرا کے آگے ہار گئی تھی وہ ریان کی شادی پر اعتراض کر کے ریان کو ناخوش نہیں کرنا چاہتی تھی ویسے بھی اب اسے صرف زیاد کے بچے سے غرض تھا اور کسی دوسری بات سے نہیں

“چینج کرکے آتا ہوں پھر ہم ساتھ میں ڈنر کرتے ہیں”

ریان مائے نور سے بولتا ہوا اس کے کمرے سے باہر نکلا تو عشوہ کو دروازے پر کھڑا دیکھ کر چونکا اس کی آنکھوں میں آنسو اس بات کی نشاندہی کررہے تھے کہ عرا سے شادی والی بات وہ سن چکی تھی

“آپ۔۔۔ آپ ریان عرا سے کیسے شادی کرسکتے ہیں میں نے عرا کو وہ ویڈیو صرف اس لیے بھیجی تھی تاکہ وہ سکندر ولا سے چلی جائے مجھے نہیں معلوم تھا ان سب میں بھائی اِس دنیا سے چلے جائیں گے”

عشوہ روتی ہوئی بولی تو ریان غصے میں عشوہ کو بازو سے پکڑ کر اسے کھینچتا ہوا ہال میں لے آیا

“آج اگر اس گھر کی رونقیں ختم ہوچکی ہیں تو کہیں نہ کہیں اس کی وجہ تمہاری ذات ہے اگر تم نے اُس دن بےوقوفی سے کام نہ لیا ہوتا تو شاید آج میرا بھائی زندہ ہوتا ایک بات میری کان کھول کر سن لو اب اگر تمہاری وجہ سے عرا کی ذات کو یا پھر زیاد کے بچے کو نقصان پہنچا تو میں تمہیں زندہ گاڑھ ڈالوں گا۔۔۔ تمہارے اس عمل کی وجہ سے نفرت ہوچکی ہے مجھے تمہارے اس وجود سے، سنا تم نے نفرت کرتا ہوں میں تم سے اب تمہارے لیے بہتر یہی ہے کہ یہاں سے چلی جاؤ ویسے بھی سے دانش انکل (عشوہ کا باپ) شارجہ سے واپس آچکے ہیں تمہیں اپنی باقی کی زندگی اپنے فادر کے ساتھ گزارنی چاہیے”

ریان عشوہ سے بولتا ہوا وہاں سے جانے لگا تبھی اس کے موبائل پر عالیہ کی کال آئی

“خیریت ہے آنٹی کیا ہوا”

عالیہ کی گھبرائی ہوئی آواز پر وہ چونکا مائے نور اپنے کمرے سے نکل کر اُسی وقت ہال میں آئی تھی

“تمہارے جانے کے بعد عرا شادی والی بات پر غصے میں تھی اوپر سے میں نے بھی اُس کو کافی کچھ بول دیا جس کی وجہ سے ٹینشن میں اُس کی طبیعت خراب ہوگئی میں اُس کو تھوڑی دیر پہلے ہاسپٹل لےکر آئی ہوں سوچا تمہیں بھی فون کر کے ساری صورتحال بتادوں”

عالیہ پریشان لہجے میں ریان سے بولی تو عالیہ کی بات سن کر ریان بھی پریشان ہوگیا

“آپ کو کم از کم اس معاملے میں اس پر سختی سے کام نہیں لینا چاہیے تھا اس کی کنڈیشن کا تو آپ کو سوچنا چاہیے تھا۔۔۔ اچھا آپ پریشان مت ہو میں پہنچ رہا ہوں تھوڑی دیر میں ہاسپٹل”

ریان جو تھوڑی دیر پہلے سکندر ولا آیا تھا اب واپس جانے لگا تبھی اس کو پریشان دیکھ کر مائے نور اس کی پریشانی کی وجہ پوچھنے لگی

“ڈلیوری کے لیے وقت کم رہ گیا تھا تو ہوسکتا ہے ڈاکٹر آج ہی۔۔۔۔ رکو میں بھی تمہارے ساتھ چلتی ہوں”

ساری بات سن کر مائے نور بھی ریان کے ساتھ ہسپتال جانے کے لیے تیار ہوگئی، یہ پانچ ماہ میں پہلی مرتبہ تھا جب اس نے زیاد کی موت کے بعد سکندر ولا سے باہر قدم نکالا تھا ورنہ زیاد کی ڈیتھ کے بعد سے اس نے باہر جانا چھوڑ دیا تھا

****