Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel NovelR50397

Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel NovelR50397 Last updated: 24 November 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel

وہ عرا کے وجود کو اپنے سینے میں چھپائے عرا کے سامنے اعتراف کرنے کے ساتھ اس کے بالوں پر اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا "تم بھی آنٹی کے جیسے ایموشنل ہورہے ہو میری جگہ کوئی دوسرا ہوتا وہ بھی یہی کام کرتا اب ایسا بھی کوئی بڑا کام نہیں کیا ہے میں نے" عرا ریان کے سینے سے اپنا سر ہٹاکر اونچا کرتی ہوئی ریان کا چہرہ دیکھ کر بولی "ہر کسی کا ظرف اتنا بلند نہیں ہوتا ماں نے تمہارے ساتھ ہمیشہ سے جو رویہ رکھا اس کے باوجود تم نے ان کے مشکل وقت میں ان کو نوکروں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا یا پھر میرے واپس آنے کا ویٹ نہیں کیا۔۔۔ تم جانتی ہو مجھے آج ایک مرتبہ دوبارہ تم سے محبت ہوچکی ہے تمہارے اِس خوبصورت دل کی وجہ سے" ریان بولتا ہوا اس کے چہرے پر جھکا محبت بھری مہر عرا کی پیشانی پر ثبت کرتا پیچھے ہوا تو عرا ریان کی بات پر ہنس دی "اب تم اور بھی زیادہ جذباتی ہورہے ہو اچھا ابھی مجھے چھوڑو، رات کے ڈنر کی بھی تیاری کرنی ہے" عرا ریان سے بولتی ہوئی اس کے حصار سے باہر نکلنے لگی "ہمارا ڈنر باہر سے آجائے گا اور تم مجھے جذباتی ہونے سے نہیں روک سکتی کیونکہ رات میں تمہیں سوتا ہوا دیکھ کر میں اپنے جذبات پر قابو پاچکا تھا اس لیے اب اچھی بیوی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے تمہیں میرے جذبات کا خیال رکھنا چاہیے" ریان عرا سے بولتا ہوا اسے اپنے بازوؤں میں اٹھاکر بیڈ پر لے آیا "ریان یہ کوئی وقت ہے آنٹی کو کبھی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے شمع بھی موجود نہیں ہے کچھ تو خیال کرو ابھی تھوڑی دیر میں عون بھی آجائے گا" عرا شام کے وقت ریان کا موڈ دیکھ کر ہڑبڑاتی ہوئی بولی "عاشو ماں کے پاس موجود ہے وہ ماں کو دیکھ لے گی اور عون کا پیٹ بھرا ہوا ہے وہ ابھی ہمہیں ڈسٹرب نہیں کرے گا اس وقت عون کے باپ کو زور کی بھوک لگی ہے ویسے بھی رول (rule) نمبر سکس کے مطابق تمہیں اچھی بیوی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے شرافت سے مان جانا چاہیے ورنہ رول نمبر( 10) کے مطابق اس دوپٹے سے میں تمہارے دونوں ہاتھ باندھ دو گا" ریان عرا کا دوپٹہ گلے سے اتار کر سائیڈ پہ رکھتا ہوا اسے دھمکانے کے ساتھ ساتھ عرا پر جھک گیا "بہت بدتمیز ہو تم اپنی اس بےوقت کے بھوک کا علاج کرو، اب ایسا بھی ٹھیک نہیں ہے بندہ ہر وقت ہی کسی بھی ٹائم بس شروع ہو جائے" وہ عرا کی گردن پر جھکا اپنی شدتیں اس پر عیاں کرنے لگا تب اسے عرا کی آواز سنائی دی "میری اس بے وقت کی بھوک کا علاج صرف تم ہی ہو میری جان، پرسوں رات میں تمہیں بےشرم لگا تھا اور اب اچانک بدتمیز ہوگیا پہلے تم خود ڈیسائیڈ کرلو کہ میں زیادہ بے شرم ہوں یا بدتمیز" ریان اپنی شرٹ اتار کر بیڈ پر پھینکتا ہوا عرا کے ہونٹوں پر جھک گیا اس وقت نہ چاہتے ہوئے بھی عرا کو ریان کی مانتے ہوئے اس کی جانب متوجہ ہونا پڑا "ریان پیچھے ہٹو دروازہ ناک ہوا ہے" چند سیکنڈ بعد وہ ریان کو پیچھے ہٹاتی ہوئی دوپٹہ لے کر اپنے بال سمیٹتی ہوئی بیڈ سے اتری "یار اس وقے عاشو کو کیا مسئلہ ہوگیا اسے جلدی فارغ کرنا باتوں میں مت لگ جانا" ریان عرا سے بولتا ہوا ڈریسنگ روم میں چلے گیا۔۔۔ عرا نے کمرے کا دروازہ کھولا تو عشوہ عون کو گود میں لیے کھڑی تھی "اس کا موڈ خراب ہورہا تھا یہ کبھی بھی رونے کا پروگرام شروع کرسکتا تھا اس سے پہلے اس کا باجا بجتا میں اس کو تمہارے پاس لے آئی" عشوہ عرا کو عون کے بارے میں بتاتی ہوئی بولی عون جو کہ رونے والا تھا عرا کی گود میں آکر اپنے رونے کا پروگرام کینسل کرچکا تھا "ہاں اس کو بھوک لگ گئی ہوگی" عرا مسکراتی ہوئی عشوہ سے بولی ان دونوں کے درمیان سرد دیوار آج شام گر چکی تھی عشوہ نے خود سے پہل کر کے عرا سے بات چیت کی تھی اور عرا سے اچھی طرح ملی تھی "کیا ہوگیا میری جان کو پھپھو کے پاس رونا آرہا تھا" عرا عون کو گود میں لیے بہلاتی ہوئی فیڈ کروانے کے ارادے سے بیڈ پر لےکر بیٹھ گئی ریان جب ڈریسنگ روم سے واپس آیا تو ریان کو دیکھ کر عرا کو بےساختہ ہنسی آگئی وہ کندھے اچکاتی ہوئی اسے دیکھنے لگی مطلب اب وہ کچھ نہیں کرسکتی تھی ریان ٹھنڈی آہ بھر کر وہی عون کے پاس لیٹ گیا "پی لے میرے لعل سارا تو ہی پی جا" ریان عون کو پیار کرتا ہوا حسرت سے بولا جس پر عرا نے آنکھیں نکال کر ریان کو گھورا "توبہ ہے ریان کبھی کبھار کس قدر فضول بولتے ہو تم" عرا کے ٹوکنے پر ریان واپس اپنی شرٹ پہننے لگا "اچھا خاصا موڈ بن گیا تھا اب رات پہلے مجھے اپنی اولاد کو خود سلانا پڑے گا نہیں تو آج رات بھی میں بھوک برداشت کرتا رہ جاؤ گا" ریان اپنی دھن میں شرٹ کے بٹن بند کرتا ہوا بول رہا تھا تبھی اس کے موبائل پر میسج آیا "موبائل دینا یار معلوم نہیں کون میسج کررہا ہے" موبائل اس کی پہنچ سے دور تھا اس لیے وہ بے دھیانی میں عرا سے بولا۔۔۔ ریان کا موبائل عرا نے اپنے قریب ہونے کی وجہ سے اٹھایا اور ریان کو دینے کی بجائے خود اس کا میسج پڑھتی ہوئی بولی "بیوٹی فل میموریز" یہ واٹس ایپ پر آئی کچھ پکس تھی جو نیٹ سلو ہونے کی وجہ سے ابھی تک اپلوڈ نہیں ہوئی تھی عرا نے میسج بھیجنے والے کا نام پڑھا "یہ ایلکس کون ہے کہیں سنا سنا لگ رہا ہے یہ نام" عرا خود سے بولتی ہوئی واٹس ایپ پر آئی پکس کھلنے کا انتظار کرنے لگی جبکہ ایلکس کا نام سن کر ریان کو بری طرح کرنٹ لگا اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر عرا سے فوراً اپنا موبائل لینا چاہا "عرا دکھاؤ مجھے موبائل" اس سے پہلے وہ اپنا موبائل عرا کے ہاتھ سے لیتا عرا ریان کا ارادہ بھانپتی ہوئی اس سے پہلے ہی اپنا ہاتھ پھرتی سے کمر کے پیچھے کرچکی تھی "نہیں پہلے مجھے یہ پکس دیکھنی ہیں پھر تمہیں موبائل دوگی" عرا ریان کے چہرے پر اڑتی ہوائیاں دیکھ کر بے ساختہ بولی