Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Payar Howa Tha (Episode 8)

Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel

“ناشتہ کیے بغیر ٹیبل سے کیوں آگئی”

زیاد اپنے کمرے میں آتا ہوا عرا کو دیکھ کر اس سے پوچھنے لگا جو کمرے میں آکر صوفے پر بیٹھ گئی تھی مگر زیاد کو بھی کمرے میں دیکھ کر وہ صوفے سے اٹھی اور اپنا رُخ پھیر کر وارڈروب کی جانب بڑھ گئی

“کچھ پوچھ رہا ہوں تم سے عرا یہاں کیوں آئی ہو ناشتہ ادھورا چھوڑ کر”

زیاد دوبارہ عرا سے پوچھنے لگا اس کے سامنے عرا کی پشت تھی وہ نہ جانے کیا چیز وارڈروب میں تلاش کررہی تھی

“بھوک مر گئی ہے زیاد اب ناشتہ کرنے کا دل نہیں چاہ رہا پلیز تم جاکر ناشتہ کرلو”

عرا بناء زیاد کی طرف دیکھے اسے جواب دینے لگی تو زیاد اُس کا بھیگا ہوا لہجہ محسوس کر کے عرا کے پاس آیا

“یہاں پر میری طرف دیکھو”

ذیاد نے بولتے ہوئے خود ہی عرا کا رخ اپنی جانب کیا

“رونا کس بات پر آرہا ہے تمہیں”

زیاد عرا کا جھکا ہوا چہرہ تھام کر اوپر کرتا ہوا عرا سے پوچھنے لگا وہ بھیگی آنکھوں سے زیاد کا چہرہ دیکھنے لگی

“کیا تم بالکل انجان ہو، نہیں جانتے مجھے رونا کیوں آرہا ہے”

یہ پہلا شکوہ شادی کے بعد جو پہلی صبح عرا نے زیاد سے کیا تھا زیاد بےبسی سے عرا کی آنکھوں میں آنسو دیکھنے لگا اور اپنے ہاتھ عرا کے چہرے سے ہٹا کر گہرا سانس کھینچتا ہوا بولا

“تم اِس وقت کسی چھوٹی بچی کی طرح ری ایکٹ کررہی ہو عرا جس سے اُس کا کوئی کھلونا لےکر کسی دوسرے کو دے دیا جائے اور وہ بچی کمرے میں آکر رونا شروع کردے پلیز یار بڑے پن کا ثبوت دو۔۔۔ کیا تھا وہ ایک معمولی سا نیکلس یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے جس پر تم اپنا اور میرا موڈ خراب کردو”

زیاد عرا کے رونے پر اس کو سرزش کرتا بولا تو عرا حیرت سے زیاد کو دیکھنے لگی۔۔۔ کیا اپنا اور زیاد کا موڈ اُس نے خراب کیا تھا

“زیاد وہ نیکلس تمہارے لیے معمولی تھا مگر میرے لیے اہمیت رکھتا تھا کیونکہ وہ تمہاری طرف سے دیا گیا ویڈنگ گفٹ تھا اُس کی ویلیو جو میری نظر میں تھی وہ میں تمہیں رات کو بتاچکی تھی خیر اب وہ نیکلس میری ملکیت نہیں ہے تو سچ میں مجھے یوں ری ایکٹ بھی نہیں کرنا چاہیے بلکہ بقول تمہارے بڑے پن کا ثبوت دینا چاہیے کیونکہ اِس گھر کے بڑوں سے تو ایسی توقع رکھنا بےکار ہے شاید”

ٰعرا اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی زیاد سے بولی تو زیاد کے چہرے کے تاثرات ایک دم بدلے

“کیا بکواس کی تم نے ابھی ماں کے بارے میں”

وہ سختی سے عرا کا بازو پکڑ کر لہجے بھی سخت اپناتا ہوا عرا سے پوچھنے لگا تو عرا اس کے ہاتھ پر سخت گرفت اور اس کے انداز پر ایک پل میں سہم گئی اب کی بار زیاد کے سامنے عرا سے کچھ بولا ہی نہیں گیا جبکہ دوسری طرف زیاد اپنے چہرے پر غضیلے تاثرات لیے عرا کو دیکھتا ہوا دوبارہ بولا

“ایک معمولی سے نیکلس کے لیے تم میری ماں کی انسلٹ کرو گی تو میں تمہیں اس کی اجازت ہرگز نہیں دوں گا ایسے سو نیکلس میں اپنی ماں کے اوپر سے وار کر پھینک سکتا ہوں یہ اہمیت ہے زیاد سکندر کی نظر میں اُس کی ماں کی سمجھ آرہی ہے تمہیں۔۔۔ آگے سے میں اپنی ماں کے لیے کچھ بھی برداشت نہیں کروں گا اس لیے اب تمہاری زبان سے ماں کے لیے کبھی بھی کچھ نہ نکلے۔۔۔ تم میری محبت تھی جسے میں نے بیوی بنایا ہے مطلب یہ کہ تم سے رشتہ میں نے خود بنایا مگر وہ میری ماں ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے اس سے میرا رشتہ بنا بنایا ہے سمجھ سکتی ہو اِس بات کا مطلب”

زیاد عرا کو دیکھتا ہوا بولا تو عرا خاموشی سے زیاد کا چہرہ دیکھنے لگی اُس کا شوہر جو اسے باور کروا رہا تھا وہ بات اُس کو سمجھ میں آنے لگی

“اچھا ہوا تم نے پہلے دن ہی مجھے بتا دیا آنٹی تمہاری نظر میں کس رتبے پر فائز ہیں آگے جاکر میری ویلیو تمہاری نظر میں کیا ہوگی اب مجھے زیادہ پریشانی یا پھر دکھ نہیں ہوگا کسی بات کو لےکر”

عرا زیاد سے بولتی ہوئی ہلکا سا مسکرائی تو زیاد ہونٹوں کو بھینچ کر اپنا غصہ کنٹرول کرنے لگا

“عرا میں اس وقت تم سے کوئی فضول بحث میں نہیں پڑنا چاہتا خود کو تھکا ہوا محسوس کررہا ہوں تھوڑی دیر ریسٹ کرو گا اگر بھوک لگے تو ناشتے کے لیے شمع کو بول دینا پلیز اب روم کی لائٹ بند کردو”

زیاد عرا کو بولتا ہوا بیڈ پر لیٹ گیا پوری رات جاگنے اور اسٹریس لینے سے اِس وقت اُس کا دماغ بری طرح جھنجھنا رہا تھا اسے خود کو ریلکس کرنے کی اور نیند کی ضرورت تھی عرا کمرے کی لائٹ بند کر کے خود بھی وہی صوفے پر بیٹھ گئی

****

“نہیں اِس کا ڈیزائن تو سمجھ نہیں آرہا آپ سمجھ نہیں رہے نیکلس ایسا ہونا چاہیے جو میری وائف کی خوبصورتی کا تھوڑا تو مقابلہ کرتا ہو یہ سارے نیکلس تو بالکل عام سے لگ رہے ہیں میری وائف کے آگے”

زیاد عرا کے گلے سے بیش قیمت نیکلس اتارنے کے ساتھ جیولر کو واپس لوٹاتا ہوا بولا تو ایک نظر عرا نے اپنے برابر میں بیٹھے زیاد پر ڈالی جو دسواں نیکلس عرا کو خود پہنانے کے بعد اُسے ریجیکٹ کرچکا تھا وہ ذرا سا بھی مطمئن نظر نہیں آرہا تھا۔۔۔ بالکل اسی طرح اُس نے عرا کا نکاح کے ڈریس منتخب کرتے ہوئے بھی کیا تھا بہت مشکل سے اُس نے عرا کے لیے ڈریس پسند کیا تھا جس پر عرا نے شکر ادا کیا تھا

شام میں جب زیاد سو کر اٹھا تو عرا کو اپنے ساتھ ڈنر پر لےگیا رات کا ڈنر اُن دونوں نے باہر کیا تھا اُس کے بعد زیاد اُسے جیولری شاپ پر لے آیا تھا وہ اب عرا کے لیے خود ہی نیکلس پسند کررہا تھا

“زیاد صاحب کے لیے وہ والا نیکلس لے آؤ جو ملک صاحب نے آرڈر پر بنوایا تھا شاید انہیں اس نیکلس کا ڈیزائن پسند آجائے”

جیولر اپنے پاس کام کرنے والے سے بولا جو اوپر بنے پورشن میں نیکلس لینے چلا گیا

“تم اُس دن کی طرح تنگ تو نہیں ہو رہی میرے ساتھ یہاں آکر دراصل مجھے کوئی بھی چیز ذرا مشکل سے ہی پسند آتی ہے اور جب تک اپنی من پسند چیز حاصل نہ کرلوں سکون نہیں آتا مجھے”

زیاد عرا کو دیکھتا ہوا مسکرا کر اپنے بارے میں بتانے لگا عرا زیاد کی بات پر اُس کو دیکھتی ہوئی بولی

“اور جب من پسند چیز حاصل ہوجائے تو وہ اپنی قدر و قیمت کھو بیٹھتی ہے”

نہ چاہتے ہوئے بھی عرا زیاد سے پوچھ بیٹھی تو اس کی بات پر زیاد غور سے عرا کا چہرہ دیکھنے لگا

“میں اپنی من پسند چیزوں کی حفاظت کرنے والا اور اُن کی قدر کرنے والا انسان ہوں عرا۔۔۔ چاہے حاصل ہوجانے والی شے قیمتی ہو یا پھر معمولی۔۔۔ وہ چیز ہو یا پھر انسان جو زیاد سکندر حاصل کرلے مرتے دم تک اُس کی محبت کا دم بھرتا ہے اور اس کو خود سے دور نہیں کرسکتا”

زیاد نے عرا سے بولتے ہوئے عرا کی گود میں رکھا ہوا اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر نرمی سے دبایا اور پھر اپنا ہاتھ واپس ہٹالیا وہ نرم تاثُر لیے چہرے پر مسکراہٹ سجائے عرا کو دیکھنے لگا شاید صبح والے اپنے رویہ سے عرا کی اداسی محسوس کرکے وہ ایسے کررہا تھا عرا زیاد کو دیکھتی ہوئی سوچنے لگی۔۔۔ وہ اب نیکلس کی طرف متوجہ تھا جو ابھی اسپیشلی اُس کے لیے منگوایا گیا تھا

“یہ اس نیکلس کے مقابلے میں دگنی قیمت کا ہے جو آپ یہاں سے پہلے لےکر گئے تھے مگر امید ہے آپ کو چیز پسند آئے گی”

جیولر کیس میں سے نیکلس نکالتا ہوا زیاد سے بولا

“قیمت معنی نہیں رکھتی بس چیز پسند آنی چاہیے”

زیاد ہاتھ میں پکڑے نیکلس کا جائزہ لیتا ہوا بولا پھر کرسی سے اٹھ کر دوبارہ عرا کو پہنانے لگا آئینہ عرا کے سامنے ہی شوکیز پر موجود تھا جس میں سے عرا وہ خوبصورت سے نیکلس کو دیکھنے لگی جو زیاد اس کو پہنا رہا تھا نیکلس پہنانے کے بعد زیاد خود بھی ذرا سا جھک کر آئینے میں اس نیکلس کا جائزہ لینے لگا

“اٹس بیوٹیفل”

اس نے زیاد کو بولتے ہوئے سنا تو عرا رُخ موڑ کر زیاد کو دیکھنے لگی

“مگر تم سے کم میری جان”

زیاد عرا کے یوں دیکھنے پر جلدی سے بولا اپنے بند ہونٹوں کو ذرا سا کھول کر اسے کس کرنے کا اشارہ کرتا ہوا وہ سیدھا ہوا جیولر سے عرا کے لیے نیکلس لےکر شاپ سے باہر نکلا تبھی اس کے موبائل پر مائے نور کی کال آنے لگی

“جی ماں ہم ڈنر کرچکے ہیں, کیسی باتیں کررہی ہیں آپ”

زیاد موبائل کان سے لگائے مائے نور کی کسی بات پر خفا ہوکر بولا یا شاید باہر ڈنر کرنے پر مائے نور اپنے بیٹے سے نہ خوش تھی عرا گہری سانس لےکر آگے چلنے لگی تبھی روڈ کراس کرتے ہوئے ایک بائیک تیزی سے روڈ پر سے گزری مگر اس سے پہلے ہی زیاد عرا کو بازو سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچ چکا تھا وہ موبائل سے کان لگائے مگر عرا کے غائب دماغی پر اُس کو گھورنے لگا پھر عرا کا ہاتھ پکڑ کر احتیاط سے روڈ کراس کرنے لگا

“نہیں ماں میرا دھیان اور کہیں نہیں ہے میں آپ ہی کی بات سن رہا ہوں آپ بولیں پلیز”

زیاد نے موبائل پر بولتے ہوئے ریموٹ سے کار کا لاک کھولا اور عرا کے لیے کار کا دروازہ کھولا اس کا موبائل مسلسل اس کے کان سے لگا ہوا تھا نہ تو اس نے مائے نور کو نظر انداز کیا تھا نہ عرا کی طرف سے اپنی توجہ ہٹائی تھی

“اوکے ماں زیادہ دیر نہیں لگے گی میں بس پہنچنے والا ہوں, جی مجھے یاد ہے ہوجائے گا وہ کام بھی ڈونٹ وری”

ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر سیٹ بیلٹ باندھتا ہوا وہ کال کاٹ کر موبائل پاکٹ میں رکھ چکا تھا

“ریان بھی پہنچنے والا ہوگا اس لیے ماں جلدی آنے کا بول رہی ہیں”

زیاد اپنی کار اسٹارٹ کرتا ہوا عرا سے بولا تو وہ اداس ہوگئی

“پھر پھپھو کی طرف رہنے دو گھر چلتے ہیں”

کیونکہ ڈنر کے دوران عالیہ کی کال زیاد کے موبائل پر آئی تھی زیاد خود ہی عالیہ سے اپنے اور عرا کے آنے کا بول چکا تھا

“نہیں تمہاری پھپھو تمہارا ویٹ کررہی ہوگیں راستے میں ہی تو ہے ٹچ کرلیتے ہیں تھوڑی دیر کے لیے بیٹھ جائیں گے اُن کے پاس”

زیاد ڈرائیونگ کرتا ہوا عرا سے بولا تو وہ خاموش ہوگئی

“ہیپی ناں؟؟”

زیاد عرا کا چہرہ دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا تو اتنے عرصے میں پہلی مرتبہ عرا نے زیاد کو اسمائل دی کیونکہ شہرینہ وہی موجود عرا کا ویٹ کررہی تھی عرا کا دل چاہ رہا تھا وہ شہرینہ اور تزئین سے ملے اور اپنی پھپھو کو بھی دیکھے

“شکر ہے تمہارے چہرے پر مسکراہٹ تو آئی میں یہ اسمائل دیکھنے کو شام سے ترس رہا تھا ایسے ہی مسکراتی رہا کرو یار”

ذیاد ڈرائیونگ کرنے کے ساتھ عرا کا ہاتھ تھام کر اپنے ہونٹوں سے لگاتا ہوا بولا

****

“یہ کوئی گھر آنے کا وقت ہے کن تھرڈ کلاس لوگوں کے ساتھ وقت گزار کر آرہے ہو رات کے بارہ بجنے والے ہیں کوئی احساس ہے تمہیں کہ نہیں”

زیاد نے عرا کے ساتھ سکندر ولا میں قدم رکھا تو ہال میں ہی مائے نور کے غصے نے اُن دونوں کا استقبال کیا

“تم روم میں جاؤ میں آتا ہوں تھوڑی دیر میں”

زیاد مائے نور کو غُصے میں دیکھ کر عرا سے بولا مائے نور اپنے بیٹے کی بجائے اُسی کو خونخوار نظروں سے گھور رہی تھی جیسے دیر سے آنے پر وہ عرا کو زندہ سالم ہی نگل ڈالے گی

عرا زیاد کی بات پر فوراً عمل کرتی ہوئی وہاں سے زیاد کے کمرے میں چلی گئی عرا کے وہاں سے جانے کے بعد مائے نور خود بھی غُصے بھری نظر زیاد پر ڈال کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی زیاد بھی مائے نور کے پیچھے اُس کے کمرے میں چلا آیا

“ریان نے مجھے کال کرکے بولا تھا کہ اس کی فلائٹ دو گھنٹے لیٹ ہے تبھی میں عرہ کی پھپھو کے گھر تھوڑی زیادہ دیر رک گیا آپ کو کال کر کے انفارم بھی اِسی لیے کیا تھا تاکہ آپ پریشان نہ ہوں ریان اگر یہاں موجود ہوتا اور میں سُسرال میں بیٹھا ہوتا تو آپ غصہ بھی کرسکتی تھی ریان تو ابھی تک آیا ہی نہیں پھر مسئلہ کیا ہے آخر جو آپ یوں غصہ کررہی ہیں”

زیاد مائے نور کے سامنے کھڑا اُس سے بولا تو زیاد کی بات پر مائے نور کے چہرے پر ایک رنگ آیا اور دوسرا جانے لگا وہ صوفے سے اٹھ کر قدم اٹھاتی ہوئی چل کر زیاد کے پاس آئی

“تم مجھ سے پوچھ رہے ہو مسئلہ کیا ہے میرا سب سے بڑا مسئلہ طارق کی بیٹی ہے”

مائے نور آنکھیں پھیلا کر بڑی کرتی ہوئی غصے میں بولی جس پر زیاد فوراً بولا

“وہ اب میری بیوی ہے ماں اور آپ کی اجازت پر ہی میں نے اُس سے شادی کی ہے اِس بات کو آپ نظر انداز نہیں کرسکتیں”

زیاد مائے نور کو یاد دلاتا ہوا بولا کیونکہ بار بار عرا کی انسلٹ کرنا اور اُس کی فیملی کو اُس کے سامنے ڈی گریڈ کرنا یہ سب کچھ زیاد کو بالکل اچھا نہیں لگ رہا تھا

“اور تم نے اُس کے باپ کی گری ہوئی حرکت کو نظر انداز کردیا جو کل میں نے تمہارے سامنے بیان کی تھی تمہیں تو وہ سب سننے کے بعد اُس لڑکی کو اب تک دھکے مار کر یہاں سے نکال دینا چاہیے تھا مگر تم اُس کو باہر لے جاکر کھانے کھلا رہے ہو اپنے ساتھ گھما پھرا رہے ہو شرم نہیں آرہی تمہیں جس لڑکی کے باپ نے تمہاری ماں کی عزت کو روندھ ڈالا تھا تم اسی کی بیٹی کے ساتھ۔۔۔۔

مائے نور کا جملہ مکمل نہیں ہو پاتا تبھی زیاد نے مائے نور کے بازووں کو زور سے پکڑا

“لےلی تھی ناں اُس کے باپ کی جان اپنے ہاتھوں سے مر چکا ہے آپ کا مجرم پھر کیوں بار بار یہ بات میرے سامنے دہرا کر مجھے نئے سرے سے روز اذیت میں مبتلا کررہی ہیں کیا دوبارہ قبر سے نکال کر اُسے زندہ کرکے پھر مار ڈالوں تب سکون ملے گا آپ کو یا پھر اُس کی بیٹی وہ بھی مار ڈالوں اپنے اِن ہاتھوں سے۔۔۔ اُس کے باپ کی سزا دوں اپنی بیوی کو یہ چاہتی ہیں آپ یہی سب سلوک کرنا تھا تو آپ مجھے سیدھے طریقے سے بول دیتی مت کرو اُس لڑکی سے شادی۔۔۔ اب کرلی ہے تو اِس طرح تکلیف دیں گی آپ مجھے۔۔۔ یہ ٹھیک نہیں ہے ماں”

زیاد نے افسوس سے بولتے ہوئے مائے نور کے دونوں بازووں سے اپنے ہاتھ ہٹائے اُس کا ضبط جواب دے گیا جبھی وہ اپنا غُصے دبائے بغیر مائے نور کے سامنے اونچا بولا تھا

“چھوڑ دو اُس لڑکی کو”

وہ لڑکی جو آج اس کے بیٹے کو اُس کے مقابل لے آئی تھی مائے نور نہیں چاہتی تھی وہ لڑکی اُس کے بیٹے کی زندگی میں موجود رہے جبکہ زیاد مائے نور کی بات سن کر اسے دیکھتا رہا پھر نفی میں سر ہلاتا ہوا بولا

“چھوڑنے کے لیے اُس کو نہیں اپنایا تھا ماں اب اپنالیا ہے تو میں اس کو نہیں چھوڑ سکتا اگر وہ لڑکی زیاد سکندر کی زندگی میں نہیں رہے گی تو یاد رکھیے گا زیاد سکندر اِس دنیا میں نہیں رہے گا”

زیاد اپنا فیصلہ سناتا ہوا مائے نور سے بولا تو مائے نور کو مزید غصہ آنے لگا کیونکہ آج تک زیاد نے اُس کی کسی بات سے انکار نہیں کیا تھا

“ٹھیک ہے تم اُسے اس گھر میں اپنی بیوی بناکر رکھو لیکن تم اس کے قریب نہیں جاؤ گے اگر تم نے اُسے اس کا حق دیا تو روز محشر والے دن میں تمہیں اپنا دودھ نہیں بخشوں گی زیاد یہ میری یہ بات یاد رکھنا”

مائے نور کی بات سن کر زیاد کو تکلیف پہنچی تھی وہ بےیقین سا ہوکر اپنی ماں کو دیکھنے لگا اُس نے زندگی بھر اپنی ماں کی ہر بات کو حکم کا درجہ دیا تھا آج اُس کی ماں اُس کی خوشی کی خاطر اُس لڑکی کو دل سے اپنا نہیں سکتی تھی بلکہ ایسی شرط رکھ کر وہ اپنے بیٹے کو صرف اذیت میں مبتلا کررہی تھی

“آپ میرے ساتھ صحیح نہیں کررہی ہیں ماں یہ سب کچھ جو کررہی ہیں یہ جائز نہیں ہے”

وہ افسوس سے مائے نور کو دیکھتا ہوا بولا جبھی کوئی کمرے کا دروازہ کھول کر اندر آیا

“کیا باتیں چل رہی ہیں اِس وقت ماں اور بیٹے کے درمیان”

ریان رازداری سے پوچھتا ہوا کمرے میں آیا ریان کو وہاں دیکھ کر مائے نور اور زیاد دونوں ہی حیرت اور خوشی میں مبتلا ہوگئے ریان کی آمد سے تھوڑی دیر پہلے کمرے میں موجود تلخی کا اثر یک دم زائل ہوا تھا

“ہائے آگیا میرا بیٹا”

مائے نور خوشی سے بولتی ہوئی آگے بڑھی اور ریان کے سینے سے لگ گئی

“میری ماں میری جنت میری زندگی میں نے یہاں پر سب سے زیادہ اگر کسی کو مس کیا تھا تو وہ آپ ہیں لو یو سو مچ ماں”

ریان مائے نور سے بول کر باری باری اس کے دونوں ہاتھوں کو چومتا ہوا پھر زیاد کی جانب بڑھا

“اور بھئی دولہے راجہ اپنی بھی سناؤ کل کی کیسی گزری”

اب کی مرتبہ آنکھوں اور لہجے میں شرارت لیے وہ زیاد سے پوچھتا ہوا اس سے بغلگیر ہوچکا تھا زیاد اُس کی بات کا مفہوم سمجھتا ہوا اپنی ہنسی کنٹرول کرتا ریان سے ملنے لگا ساتھ ہی اس نے ریان کے کندھے پر دو مُکے بھی رسید کردیئے وہ جانتا تھا اُس کا بھائی بچپن سے ہی کنتی پہنچی ہوئی شے ہے جو کبھی بھی سدھر نہیں سکتا بلکہ کسی کے بھی سامنے کچھ بھی بےتُکا بول سکتا ہے مائے نور اپنے دونوں بیٹوں کو اکھٹا ایک ساتھ دیکھ کر خوش ہوکر مسکرانے لگی ریان کی آمد پر اُس کا غصہ کہیں دور جا بھاگا تھا

“خود کیوں آگئے مجھے کال کردی ہوتی میں ریسیو کرلیتا تمہیں”

زیاد ریان سے بولتا ہوا الگ ہوا

“اگر کوئی مسئلے والی بات ہوتی تو ضرور تمہیں بلالیتا پاکستان میں قدم رکھتے ہی دل چاہ رہا تھا بس اُڑ کر کیسے بھی سکندر ولا پہنچ جاؤ”

ریان بولتا ہوا بےتکلفی سے صوفے پر نیم دراز ہوا تو زیاد بھی اس کے ساتھ ہی مائے نور کے کمرے میں بیٹھ گیا

“تھک گیا ہوگا میرا بیٹا اتنی لمبی فلائٹ لےکر آیا ہے جاؤ اپنے کمرے میں جاکر ریسٹ کرلو تمہارا روم آج صبح ہی نئے سرے سے سیٹ کروایا ہے میں نے”

مائے نور ریان کا چہرہ دیکھ کر اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتی ہوئی پیار سے بولی تو ریان نے اس کا ہاتھ پیار سے تھپتھپایا

“ایک پرسنٹ بھی تھکن کا احساس نہیں ہے بلکہ میں تو سارے راستے وقفے وقفے سے سوتا آیا ہوں البتہ فلائٹ میں کچھ کھایا نہیں ہے اس لیے بہت زور سے بھوک لگ رہی ہے اِس وقت”

ریان مائے نور کا ہاتھ تھام کر اُسے بتانے لگا

“بتاؤ کیا کھانا ہے ابھی فوراً ہی بنوا دیتی ہوں”

مائے نور پیار بھرے لہجے میں ریان کو دیکھتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی ریان کی آمد پر اس کے چہرے پر الگ ہی خوشی نظر آرہی تھی زیاد بھی چہرے پر اسمائل لیے اُن دونوں کو باتیں کرتا دیکھنے لگا

“بنوا نہیں دیتی ہوں ماں مجھے آپ کے ہاتھ کا کھانا ہے یار”

ریان لاڈ کرتا ہوا مائے نور سے بولا

“ماں کے ہاتھ کا کھانا ہے پھر تو کرارے تھپڑ ہی کھالو اچھا ہے بچپن کی یادیں بھی تازہ ہوجائے گی”

زیاد نے لقمہ دیا تو ریان اور مائے نور دونوں ہی اُس کی بات پر ہنسنے لگے

“میں پاستہ بناکر لاتی ہوں تمہارے لیے”

مائے نور ریان سے بولتی ہوئی کمرے سے چلی گئی ریان کو بچپن سے ہی مائے نور کے ہاتھ کا بنا ہوا پاستہ پسند تھا ریان وہاں سے اُٹھ کر اپنے کمرے میں آگیا تو زیاد بھی اپنے کمرے میں جانے کی بجائے ریان کے پیچھے اُس کے ساتھ اُس کے کمرے میں چلا آیا۔۔۔

“ہہممم ویری نائس”

نیو فرنیچر نئے کارٹنز دیکھ کر ریان سرہانے والے انداز میں بولا پھر اُس کی نظر زیاد پر پڑی

“اور بتاؤ بیگم کہاں ہے تمہاری, کیسا رہا فرسٹ ایکسپیرینس میرے جوان۔۔۔ محاز پر ڈٹے رہے ناں امید ہے تم نے ہار نہیں مانی ہوگی”

اپنے بیڈ روم میں آنے کے بعد مائے نور کی غیر موجودگی میں ریان پوری کمینگی کا ثبوت دیتا ہوا زیاد کو چھیڑنے والے انداز سے پوچھنے لگا جس پر زیاد اپنا قہقہہ روکتا ہوا بناء لحاظ کیے ریان کے پیٹ میں زور کا مُکا جڑ چکا تھا

“خبیث آدمی انسان کے بچے بن جاؤ۔۔۔ دو سال بڑا ہوں تم سے کچھ لحاظ اور شرم کرلو”

ریان زوردار مُکا کھانے کے باوجود ڈھیٹ بنا ہنس رہا تھا زیاد کو بھی اُس کے بےغیرتی والے انداز پر ہنسی آگئی

“میری بےشرمی کا عالم تم بچپن سے ہی جانتے ہو ویسے یار میں تو شادی کا ایکسپیرینس پوچھ رہا ہوں تمہارا اپنا ذہن شادی کے بعد والی ایکٹیوٹی کی طرف چلا گیا تو میں کیا کرسکتا ہوں”

ریان زیاد سے بولتا ہوا اپنے پاؤں کو جاگرز کی قید سے آزاد کرتا ہوا بولا

“ذرا اپنے ایکسپیرینس بھی شیئر کرو چار سالوں میں کتنی بار اپنی من پسند ایکٹیویٹیز میں مشغول رہے

جینیفر، سُوشی، ایلکس، ماریہ جینی اِن سب کے بارے میں بھی پھوٹو اپنے منہ سے”

زیاد اُس کو شرمندہ کرتا ہوا اس کے بیڈ پر بےتکلف انداز میں بیٹھ گیا

“من پسند ایکٹیویٹیز استغفر اللہ۔۔۔۔ اللہ معاف کرے یار میں کوئی پلے بوائے نہیں ہوں جو تم ایسی بکواس کررہے ہو اور یہ جو تم نے نام گنوائے ہیں ان سب سے میری اچھی دوستی تھی صرف”

ریان زیاد کی بات سن کر باقاعدہ اپنے کانوں کو ہاتھ لگاتا ہوا سے بولا جس پر زیاد نے “ایلکس” کا نام لےکر اس کو مشکوک نگاہ اس پر ڈالی

“اب ایک عدد چھوٹی موٹی غلطی تو ہر بندہ کر ہی لیتا ہے میں یہ کب بول رہا ہوں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں وہ تو بس تجربے کے چکر میں ویسا ہوگیا مگر دیکھ لو آیا میں ابھی بھی خالی ہاتھ ہوں کوئی گوری میم نہیں لےکر آیا اپنے ساتھ”

ریان صوفے پر بیٹھا ہوا زیاد سے بولا تو زیاد ہنس پڑا

“گوری میم ساتھ نہیں لےکر آیا مگر وہاں گوریوں کا دل توڑ کر آگیا میرا بھائی۔۔۔ ویسے اگر تم اپنے ساتھ گوری لےکر آتے تو ماں تمہارا جوتوں سے ہی استقبال کرتیں”

زیاد کی بات سن کر ریان ہنسنے لگا

“چلو اپنا استقبال جیسا بھی ہوتا تمہارا اور تمہاری بیگم کا استقبال تو اچھے طریقے سے کیا ہے نا ماں نے۔۔۔ ماں کو پسند آئی تمہاری وائف”

ریان کی بات سن کر زیاد کے چہرے کی مسکراہٹ پھیکی پڑ گئی جس کو ریان فوراً نوٹس لیا اس سے پہلے وہ کچھ پوچھتا زیاد بول پڑا

“تم ریسٹ کرلو تھوڑی دیر میں چلتا ہوں صبح ناشتے پر ملاقات ہوگی”

ریان زیاد سے بولتا ہوا بیڈ سے اٹھنے لگا تو ریان فوراً بولا

“میں تھکا ہوا ہرگز نہیں ہوں جو ریسٹ کرلوں اگر تم جانا چاہتے ہو تو ضرور جاؤ تمہاری وائف بھی تمہارا ویٹ کررہی ہوگی”

ریان کی بات پر زیاد نے اپنے کمرے میں جانے کا ارادہ ملتوی کردیا

“نہیں مجھے اپنے کمرے میں جانے کی کوئی جلدی نہیں عرا کو معلوم ہے تم آنے والے ہو میں تمہارے آرام کے غرض سے بول رہا تھا”

زیاد نے جان کر عرا کا نام لیا تھا جس پر ریان پہلی بار چونکا زیاد خود بھی تھوڑی دیر ریان کے ساتھ وقت گزارنا چاہتا تھا کیونکہ اس کا بھائی چار سال بعد واپس پاکستان لوٹ کر آیا تھا

“عرا۔۔۔ ہہمم نائس نیم”

ریان کے بولنے پر فلحال زیاد نے کوئی تبصرہ نہیں کیا کیونکہ مائے نور ٹرالی میں کھانے کی مختلف اشیاء لےکر ریان کے روم میں آچکی تھی جس کے بعد وہ تینوں کافی دیر تک بیٹھ کر باتیں کرتے رہے

****

صبح کے وقت عرا کی آنکھ کُھلی تو اُس نے اپنے پہلو میں زیاد کو سوتا ہوا پایا اس نے کل رات بھی کافی دیر تک زیاد کے کمرے میں آنے کا انتظار کیا تھا مگر اُس کا شوہر پرسوں رات کی طرح کل رات بھی اُس کو اپنے کمرے میں اکیلا چھوڑ کر چلا گیا تھا نہ جانے آج صبح جاگنے کے بعد زیاد کا موڈ کیسا ہوتا کل صبح کمرے میں آنے کے بعد تو وہ عرا کو خود سے خوفزدہ کرچکا مگر شام تک عرا کو لگا کہ زیاد اپنی صبح والی حرکت کو بھول گیا تھا یا پھر شرمندہ تھا اسی وجہ سے وہ اسے باہر ڈنر کے لئے گیا تھا جس کے بعد جیولری شاپ سے پہلے سے زیادہ مہنگا اور خوبصورت نیکلس خرید کر اس نے عرا کو دیا تھا وہ الگ بات تھی کہ عرا کو اس نیکلس پر کوئی خاص خوشی محسوس نہیں ہوئی تھی مگر اس بات کا اظہار وہ زیاد کے سامنے کرکے اُس کا دل نہیں توڑنا چاہتی تھی۔۔۔ پھر رات ہوتے ہی سکندر ولا آنے کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر کمرے سے غائب ہوگیا تھا یہ ساری باتیں وہ کل رات شہرینہ اور تزئین سے نہیں کر پائی تھی وہ دونوں عالیہ سمیت زیاد کے ساتھ اُسے دیکھ کر خوش تھی لیکن اِس وقت زیاد کا رویہ اور خاص طور پر مائے نور کا رویہ سوچ کر عرا کو عجیب گھبراہٹ سے ہونے لگی کمرے میں اکسیجن کا احساس نہ ہونے کے برابر تھا وہ دوپٹہ لیتی ہوئی بیڈ سے نیچے اتر کر سلیپر میں پاؤں ڈالتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی صبح کے چھ بج رہے تھے اِس وقت گھر کے تمام فرد سوئے ہوئے تھے وہ آہستہ قدم اٹھاتی ہوئی گھر کا دروازہ کھول کر باہر کی طرف نکل آئی سب سے پہلی نظر اس کی لان میں باندھے ہوئے شیرو پر پڑی جو زیاد کے گھر کا پلا ہوا پالتو کُتا تھا

شکر تھا کہ شیرو اس وقت وہاں موجود نہ تھا جس پر عرا نے سکون کا سانس لیا زیاد نے اسے بتایا تھا کہ شیرو ریان کا پالا ہوا کتا تھا جو سکندر ولا میں تمام افراد کو پہچانتا تھا مگر اجنبیوں کو دیکھ کر وہ ایسے ہی غراتا تھا جیسے وہ عرا کو زیاد کے ساتھ دیکھ کر دو دن سے غُرا رہا تھا۔۔۔ عرا صبح کی تازہ ہوا محسوس کرتی اپنے سوچوں میں گُم پول کی سائیڈ پر آگئی تو سوئمنگ پول کے گہرے پانی کو دیکھ کر اسے خوف سے چکر آنے لگے وہ پول کی طرف سے ہٹنے ہی والی تھی تبھی اسے محسوس ہوا جیسے گھر کا مین گیٹ کھول کر کوئی اندر داخل ہوا تھا ٹریک سوٹ میں موجود وہ کوئی شخص تھا جس نے شیرو کی چین ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھی عرا اس سے پہلے ریان کو دیکھ کر کچھ سمجھتی یا پھر ریان دور کھڑی لڑکی کو دیکھ کر مکمل طور پر اُس کی جانب متوجہ ہوتا اچانک ہی شیرو ریان سے اپنی بیلٹ چھڑوا کر بھونکتا ہوا تیزی سے عرا کی جانب بھاگا جس پر عرا کی آنکھیں خوف سے پھیلی وہ اپنے جانب آتے شیرو کو دیکھتے ہوئے زور سے چیخی

“شیرو اسٹاپ”

ریان اس صورتحال پر شیرو کے پیچھے بھاگا اس سے پہلے شیرو اچھل کر عرا پر حملہ کرتا عرا نے بناء سوچے سمجھے پول میں چھلانگ لگادی

“شیرو آئی سیڈ نو”

ریان نے شیرو کو ڈانٹا مگر وہ لڑکی۔۔۔ ریان کی نظریں پول میں موجود اُس لڑکی پر گئی

“بچاؤ آہ ہیلپ می”

شاید اس کو سوئمنگ نہیں آتی تھی جبھی وہ پانی میں اپنے ہاتھ پیر مارتی ہوئی اُسے مدد کے لیے پکار رہی تھی

“عرا”

گھر کے دروازے سے باہر نکلتا زیاد عرا کو پکارتا ہوا سوئمنگ پول کی جانب تیزی سے دوڑا مگر جب تک زیاد وہاں پہنچتا ریان نے زیاد کا ویٹ نہیں کیا بلکہ خود اس کی بیوی کو بچانے کے لیے تیزی سے. پول میں اتر کر پانی میں ہاتھ پیر مارتی ہوئی عرا کو اپنی جانب کھینچا جو ریان کے شولڈر سے اپنا ماتھا ٹیک کر دوبارہ گرنے لگی تو ریان نے اُس کو جلدی سے تھام لیا

“شٹ یہ کیسے ہوا اِس کو تیرنا نہیں آتا پھر یہ پول میں کیسے گر گئی۔۔۔ کیا تم نے اِس کو ڈرایا تھا”

زیاد پریشان ہوتا ریان سے پوچھنے لگا ساتھ ہی جھک کر وہ عرا کو پول سے باہر نکالنے لگا… جسے ریان نے پکڑا ہوا تھا کیونکہ عرا خوف سے مکمل طور پر اپنے حواس کھو چکی تھی

“میں کوئی جن یا بھوت ہوں جو اسے ڈراؤں گا شیرو کے ڈر سے تمہاری وائف نے پول میں چھلانگ لگادی۔۔۔ شٹ یار میں تو پورا ہی بھیگ چکا ہوں”

ریان خود بھی پول سے باہر آتا ہوا بولا جبکہ زیاد نے عرا کو اپنی بازووں میں اٹھالیا جو اِس وقت ہوش میں نہیں تھی

“چیک کرلو تمہاری پیاری سی بیوی کہیں اللہ کو ہی پیاری نہ ہوگئی ہو”

ریان اپنے گیلے کپڑوں سے چڑتا ہوا زیاد کو بولا جو اپنی بیوی کو بازوں میں اٹھائے فکر مند سا ہوکر اُسے دیکھ رہا تھا اُس کی بیوی کا چہرہ تو ریان نے ابھی تک غور سے دیکھا بھی نہ تھا کیونکہ ریان کو اپنی خود کی حالت اتنی عجیب لگ رہی تھی اس کی مکمل توجہ اپنے گیلے کپڑوں پر تھی

“شٹ اپ ریان اُس کو ایکوا فوبیا ہے میں اِس لیے پریشان ہورہا ہوں”

زیاد ریان کو ڈانٹتا ہوا پریشان ہوکر عرا کو بازووں میں اٹھائے واپس اپنے کمرے میں لے جانے لگا

“ایکوا فوبیا یو مین گہرے پانی کا خوف۔۔۔ او رئیلی ڈونٹ لائک دیز ٹائپ گرلز”

ریان اس کے پیچھے چلتا ہوا اکتائے ہوئے لہجے میں بولا تو زیاد مڑ کر برا منانے والے انداز میں ریان کو دیکھنے لگا

“مطلب یار بچے نہیں ڈرتے آجکل کے پانی جیسی چیز سے۔۔۔ اچھا گھورو مت جاکر اپنی بیوی کو اکسیجن وغیرہ دو ہوش میں لاؤ”

ریان جلدی سے بولتا ہوا اس کی بیوی پر ایک نظر ڈال کر زیاد سے پہلے گھر کے اندر داخل ہوچکا تھا

****