Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Payar Howa Tha (Episode 21)

Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel

“جاؤ عون کو لے کر آؤ آنٹی کے پاس سے”

صبح کے وقت جب وہ جاگنگ کر کے واپس اپنے روم میں آیا تو بر خلاف توقع عرا پہلے سے جاگی ہوئی تھی نہ صرف جاگی ہوئی تھی بلکہ چیزیں پٹخ پٹخ کر رکھنے سے ریان کو اندازہ ہوچکا تھا اس کا موڈ کل رات کی طرح ابھی تک بگڑا ہوا ہے

“ماں ابھی تک جاگی نہیں ہیں عون بھی اُن کے پاس سو رہا ہوگا وہ جاگ جائے گیں تو روز کی طرح شمع کے ہاتھ عون کو تمہارے پاس بھجوا دیں گیں آج تم کیوں جاگ گئی ہو اتنی جلدی تم بھی تھوڑی دیر ریسٹ کرلو”

ریان ٹاول سے پسینہ صاف کرتا ہوا بولا تو عرا نے ریان کی بات سن کر تہہ شدہ چادر بیڈ پر پٹخی اور ریان کو غصے سے دیکھنے لگی

“تم ابھی آنٹی کے کمرے میں جاکر عون کو لارہے ہو یا پھر میں خود جاکر اپنے بیٹے کو لے آؤ”

ریان کو اتنا تو اندازہ ہوگیا تھا کل شام اس کے پیچھے کوئی بات ضرور ہوئی تھی اور جس میں غلطی عرا کی نہیں ہوگی وہ اگر ابھی بھی خراب موڈ میں غصہ کررہی ہے تو اس کا غصہ بھی جائز ہوگا۔۔۔ ویسے بھی ریان کو اس بات کا اندازہ تھا کہ عرا یہ غصہ صرف اسی کو دکھا سکتی ہے مائے نور کے سامنے نہ تو وہ اس طرح غصہ کرسکتی ہے اور نہ ہی مائے نور اس کے غصے کو سیریس لیتی اس لیے خاموشی سے کمرے سے نکل کر مائے نور کے بیڈ روم سے عون کو لے آیا

“آرام سے یار کیا کررہی ہو کیوں اُس کی نیند خراب کررہی ہو”

عرا جو عون کو ریان سے لے کر بیڈ پر لٹانے کے بعد اس کا ڈائپر چیک کررہی تھی ریان عرا کو ٹوکتا ہوا بولا

“کیا میں کچھ نہیں کرسکتی میرا حق نہیں ہے میرے اپنے بیٹے پر”

ریان کے بولنے کی دیر تھی عرا اس پر بری طرح بھڑکی اس کے انداز پر ریان دنگ رہ گیا کیونکہ اس طرح کا انداز اس نے پہلے کبھی نہیں اپنایا تھا۔۔۔ کل شام جب وہ آفس سے آیا تھا تو مائے نور اور عرا کے رویے سے اتنا تو جان گیا تھا کہ کوئی بات ضرور ہوئی ہے لیکن رات میں عرا کے پوچھنے پر عرا نے اس کو کچھ نہیں بتایا اور بگڑے ہوئے موڈ کے ساتھ وہ سوگئی تھی

“عرا اب اونچی آواز میں مت بولنا میں اس لیے عون کو یہاں لےکر نہیں آیا ہوں کہ اس کی نیند ڈسٹرب ہو اگر ماں نے تمہیں کچھ بولا ہے تو مجھے علم ہونا چاہیے اصل بات کا پلیز یوں اپنا خون جلانے کی بجائے مجھے بتاؤ کہ ماں نے تمہیں کیا بولا ہے”

ریان آئستہ آواز اور سنجیدہ لہجے میں عرا سے پوچھنے لگا جس پر عرا اس سے بولی

“آنٹی کو صرف اتنا بتادو کہ عون میرا بیٹا ہے میرا”

عرا اپنی انگلی اپنے سینے پر رکھتی ہوئی باور کرانے والے انداز میں بولی تو ریان خاموشی سے اُس کو دیکھنے لگا

“اُس کی ماں میں ہوں اُس کو میں اس دنیا میں لے کر آئی ہوں۔۔ عون اُن کا پوتا ہے وہ اس کو پیار کرسکتی ہیں اسے اپنے پاس رکھ سکتی ہیں مگر میرے بچے پر ہر بات کو لے کر اپنا حق نہیں جتاسکتی یہ بات تم آنٹی کو آفس جانے سے پہلے بتا دینا”

عرا ریان سے بولتی ہوئی ڈریسنگ روم میں چلی گئی تو ریان سوئے ہوئے عون پر ایک نظر ڈال کر کمرے سے باہر نکل گیا اس کا رخ کچن کی طرف تھا جہاں شمع ناشتہ تیار کررہی تھی

“شمع کل میرے آفس جانے کے بعد گھر میں کیا ہوا تھا”

اصل کہانی اس کو شمع سے معلوم ہوسکتی تھی اس لیے وہ کچن میں شمع کے پاس چلا آیا

“عرا بھابھی نے آپ کو نہیں بتایا کل شام میں اُن کی پھپھو اور کزن یہاں پر آئی تھیں عون بابا کے لیے کچھ کپڑے اور سامان لے کر بڑی بیگم صاحبہ نے وہ سارا سامان اُن لوگوں کے سامنے ہی رؤف (ڈرائیور) کو اُس کے چھوٹے بیٹے کے لیے دے دیا اور تو اور اُن کی پھپھو سے بھی ڈھنگ سے بات نہیں کی اور نہ ہی عون بابا کو اُن لوگوں سے ملنے کی اجازت دی۔۔۔ اُن لوگوں کے جانے کے بعد عرا بھابھی بیگم صاحبہ کے رویے پر کافی دلبرداشتہ ہو رہی تھیں”

شمع سے ساری تفصیل جاننے کے بعد ریان کو مائے نور کے رویے پر کافی افسوس ہوا اس نے اپنے ٹراؤزر میں رکھے ہوئے والٹ سے چند ہزار کے نوٹ نکالے

“شمع ایک کام کرو یہ پیسے رؤف کو دے آؤ اس سے کہنا وہ اِن پیسوں سے اپنے بچے کی شاپنگ کرلے اور عرا کی پھپھو کا دیا ہوا سارا سامان اس سے لے کر میرے روم میں رکھوا دو”

ریان شمع کی جانب پیسے بڑھاتا ہوا بولا

“ہیلو ہینڈسم ابھی تک آفس جانا نہیں ہوا آپ کا”

ریان کچن سے باہر نکلا تو عشوہ کی چہکتی ہوئی آواز نے اُس کا استقبال کیا آج صبح پھر سکندر ولا میں اس کی آمد ہوچکی تھی

“ہاں آج تھوڑا لیٹ جانا تھا تم سناؤ خیریت ہے”

ریان عشوہ کو دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا

“ہاں سب خیریت ہے ماہی کی یاد آرہی تھی تو سوچا یہاں آکر اُن سے مل لو”

عشوہ ریان کو دیکھتی ہوئی مسکرا کر بولی

“اچھا کیا جو آگئی ماں ابھی تک جاگی نہیں ہیں ویسے، یہ بتاؤ ناشتہ کیا تم نے”

ریان اپنے کمرے کے بند دروازے پر نظر ڈال کر عشوہ سے پوچھنے لگا

“نہیں کیا بھئی ابھی آپ کے ساتھ ہی کرو گی”

عشوا نے مسکراتے ہوئے ریان کو جواب دیا

“شیور” ریان عشوہ سے بولا تو عرا کی بیڈ روم سے آمد ہوئی ریان نے نوٹ کیا عرا عشوہ کو ریان کے ساتھ کھڑا دیکھ کر ایک لمحے کے لیے وہی رکی اس کے چہرے کے تاثرات پل بھر کے لیے تبدیل ہوئے۔۔۔ عشوہ نے آگے بڑھ کر رسماً عرا سے ملنا ضروری نہیں سمجھا لیکن ریان کو تعجب کی بات تب لگی کہ اب کی مرتبہ عرا نے بھی اخلاق کو ایک طرف رکھتے ہوئے عشوہ سے نہ تو رسماً ملنے کی زحمت کی نہ ہی یا اس کی خیریت اس سے پوچھی اور بےزاری چہرے سے ظاہر کرتی بناء کچھ بولے کچن میں چلی گئی

****

“شمع ذرا جاکر عون بابا کو لے آؤ میرے پاس”

عشوہ اور ریان ڈائینگ ہال میں چیئر پر بیٹھے ہوئے تھے عرا کی وہاں آمد پر عشوہ شمع کو آواز دیتی ہوئی بولی تو شمع عون کو لینے کے لیے جانے لگی

“رہنے دو شمع عون سو رہا ہے ابھی اس کی نیند خراب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اسے یہاں لانے کی”

عرا جو کرسی پر بیٹھنے والی تھی خاص طور پر رک کر شمع سے بولی تو عشوہ کے ساتھ ساتھ ریان نے بھی ایک نظر عرا کے سنجیدہ چہرے پر ڈالی پھر شمع کو کچن میں جانے کا اشارہ کیا جبکہ عشوہ عرا کی بات سن کر ہلکا سا منہ بناتی ہوئی اپنی پلیٹ میں جھک گئی

“آپ کچھ لے کیوں نہیں رہے”

عشوہ اپنی پلیٹ میں موجود املیٹ فورک کی مدد سے کھاتی ہوئی ریان سے پوچھنے لگی

“عرا کے آنے کا ویٹ کررہا تھا”

ریان کے بولنے پر عرا جتانے والی نظروں سے عشوہ کو دیکھ کر اپنی کرسی پر بیٹھ گئی اور ریان کی پلیٹ میں املیٹ رکھنے لگی

“ریان کو چیز املیٹ پسند نہیں ہے وہ یہ نہیں کھائیں گے”

اس سے پہلے ریان خود عرا کو اپنی پلیٹ میں املیٹ ڈالنے سے روکتا عشوہ عرا کو دیکھ کر ایک دم بولی جس پر عرا کے ماتھے پر ہلکا سا بل نمودار ہوا جو ریان کی نظر سے چھپ نہ سکا

“پہلے پسند نہیں تھا لیکن اب اس کو پسند ہے اور وہ روز چیز املیٹ کا ہی ناشتہ کرتا ہے”

عرا کی بات سن کر ریان کا منہ حیرت سے کُھلا کا کُھلا رہ گیا

“اسٹرینج میں روز چیز املیٹ ناشتہ میں لیتا ہوں اور یہ بات مجھے آج پتہ چل رہی ہے”

ریان ہلکی آواز میں عرا کو دیکھ کر بڑبڑایا جبکہ عشوہ کنفیوز ہوکر عرا کے بعد ریان کو دیکھنے لگی

“کھاؤ” عرا نے سنجیدگی سے ریان کو پلیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تو وہ عرا کی بات کا بھرم رکھنے کے لیے فورک کی مدد سے ناپسندیدہ ناشتہ حلق سے نیچے اتارنے لگا تھوڑی دیر بعد ڈائینگ ہال میں مائے نور کی آمد ہوئی

“عون کو کون لےکر گیا تھا میرے کمرے سے اتنی جلدی”

عشوہ سے خوش دلی سے ملنے کے بعد وہ ماتھے پر بل لیے عرا کو دیکھ کر پوچھنے لگی

“عون کو میں لےکر گیا تھا کل آفس سے لیٹ آنا ہوا تھا تو میں اپنے بیٹے کے ساتھ وقت نہیں گزار سکا”

عرا کے کچھ بولنے سے پہلے ریان بولتا ہوا نیپکین سے منہ صاف کرکے کرسی سے اٹھ گیا اسے آفس جانے کی تیاری کرنی تھی جس کے لیے وہ لیٹ ہوچکا تھا

****

ناشتے سے فری ہوکر عرا جب کمرے میں آئی تو روم میں عالیہ کا لایا ہوا سارا سامان دیکھ کر بری طرح چونکی وہ حیرت سے عون کا سارا سامان دیکھ رہی تھی تبھی ریان آفس جانے کے لیے تیار ہوکر ڈریسنگ روم سے باہر آیا تو عرا ریان کو دیکھنے لگی

“سنو شام میں تیار رہنا میں تم اور عون ہم تینوں تمہاری پھپھو سے ملنے جائیں گے کافی دن ہوگئے ہیں ان سے ملاقات ہوئے”

ریان کا پروگرام سن کر عرا کی آنکھیں نم ہوگئی عرا کو ذرا یقین نہ تھا کہ ریان اس چھوٹی سی بات کا نوٹس لے گا اور اس کی نظر میں اسکی پھپھو اور کزن کی بھی ویلیو ہوسکتی ہے

“تم اچھے ہو ریان”

بےساختہ عرا کے منہ سے جملہ نکلا عرا کی اس بےساختگی پر ریان ایک دم ہنسا

“کتنا اچھا ہوں میں ذرا صحیح سے بتاؤ”

وہ عرا کے چہرے کو بہت توجہ سے دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا

“بہت اچھے ہو”

عرا اپنے جذبات پر قابو پاکر نم آنکھوں کو صاف کرتی ہوئی دوبارہ بولی

“لیکن تم ذرا بھی اچھی نہیں ہو میں نے صرف عاشو کے سامنے تمہاری بات کا بھرم رکھنے کے لیے وہ املیٹ کھایا تھا جس کا ذائقہ سوچ کر ابھی بھی مجھے متلی ہورہی ہے آئندہ میں ایسا ہرگز نہیں کرو گا اوکے”

ریان کی بات پر نہ چاہتے ہوئے بھی عرا کو ہنسی آگئی اس کو مسکراتا ہوا دیکھ کر ریان نے اچانک عرا کو اپنے حصار میں قید کرلیا وہی ریان کی اس حرکت پر عرا کی ہنسی کو بریک لگا

“کک۔۔۔ کیا؟؟ کیا کررہے ہو تم”

عرا ریان کی بازوؤں میں قید اس کی حرکت پر پریشان ہوتی ہوکر پوچھنے لگی

“سوچ رہا ہوں اپنے منہ کا ذائقہ درست کرلو”

ریان نے عرا کے گلابی ہونٹوں کو دیکھتے ہوئے کہا عرا کے احتجاج کرنے سے پہلے وہ اس کے ہونٹوں پر جھک گیا ریان کی اس بےباکی پر عرا کا دماغ بری طرح جھنجھنا اٹھا

ریان نے کب اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں کی قید سے آزاد کیا کب اس کے نرم و نازک وجود کو اپنے سخت حصار سے باہر نکالا کب وہ بیڈ روم سے آفس جانے کے لیے باہر نکلا عرا کو ہوش نہ تھا وہ یونہی پتھر کی مورت بنی ریان کی اس بےباک حرکت کا سوچ کر شاک کھڑی رہی

“عرا بھابھی کیا ہوگیا آپ کو”

اسے ہوش تب آیا جب شمع نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے پکارا

“وہ ابھی ریان نے۔۔۔ نہیں کچھ نہیں ہوا۔۔ خیریت تم کس کام سے آئی ہو”

وہ غائب دماغی سے شمع کو دیکھ کر پوچھنے لگی دل کی دھڑکنیں تھیں کہ ابھی تک قابو میں آنے کا نام نہیں لے رہی تھی

“بیگم صاحبہ آپ کے پاس سے عون کو لانے کا بول رہی ہیں”

شمع عرا کو دیکھتی ہوئی بولی

“ہاں تو لے جاؤ عون کو ان کے پاس”

عرا بولتی ہوئی گم صم سی صوفے پر بیٹھ گئی معلوم نہیں وہ اب تک کیسے کھڑی تھی

“آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا”

شمع فکر کرتی ہوئی عرا سے پوچھنے لگی

“ہاں ٹھیک ہے تم عون کو لے جاؤ”

عرا کے بولنے پر شمع عون کو کمرے سے لے کر چلی گئی تب اس کا موبائل بجنے لگا عرا نے موبائل کی اسکرین پر ریان کا نام جگمگاتا ہوا دیکھا تو نئے سرے سے اس کے دل میں عجیب سا شور برپا ہوا

“کیا تمہاری ہارٹ بیٹ بھی ابھی تک میری ہارٹ بیٹ جتنی فاسٹ چل رہی ہے یا اب نارمل ہوچکی ہے” موبائل کان سے لگاتے ہی اسے ریان کی سنجیدہ آواز سنائی دی

“تم۔۔۔ ریان تم بہت بدتمیز انسان ہو”

عرا برا مانتی ہوئی ریان سے اتنا ہی بول پائی جس پر ریان نے گہرا سانس لیا تھوڑی دیر پہلے تک وہ اچھا انسان تھا مگر اب وہ ایک ذرا سے عمل سے بدتمیز انسان بن چکا تھا

“اور اگر اس بدتمیز انسان کا دل مزید بدتمیزی کرنے کا چاہے تو کیا تم اس بدتمیز انسان کو بدتمیزی کرنے کی اجازت دو گی”

ریان کی یوں پوچھنے پر عرا کے گال سرخ ہونے لگے عرا نے بناء کوئی جواب دیے لائن کاٹ دی تو چند سیکنڈ بعد عرا کے موبائل پر میسج آیا ریان کے میسج پر اس نے دوبارہ موبائل اٹھایا

“تو پھر تمہاری اس خاموشی کو میں ہاں سمجھوں ویسے روز آفس جانے سے پہلے اگر میں اسی طرح اپنے منہ کا ذائقہ ٹھیک کرلیا کرو تو میں ڈیلی ناشتے میں چیز املیٹ کھانے کے لیے تیار ہو”

میسج پڑھنے کے بعد عرا نے موبائل کی اسکرین کو ایسے گھورا جیسے وہ موبائل نہ ہو بلکہ ریان ہو

“اب اگر تم نے مجھ سے کوئی بھی فضول بات کی یا پھر کوئی بھی فضول حرکت کی تو میں تم سے سچ میں خفا ہوجاؤں گی”

عرا نے ریان کو دھمکی بھرا میسج سینڈ کیا اور موبائل واپس ٹیبل پر رکھ دیا

****

“اللہ معاف کرے تمہاری ساس تو کوئی ایسی بد لحاظ اور بد اخلاق قسم کی عورت ہے جس کی کوئی حد نہیں۔۔ ارے اجازت کیسے دے دی آج اُس عورت نے تمہیں عون کو لےکر یہاں آنے کی”

عالیہ اپنے کانوں کو ہاتھ لگاتی ہوئی عرا سے مائے نور کے بارے میں بولی تو عرا عالیہ کی بات کے جواب میں فوراً کچھ نہ بول پائی وہ بیڈ پر بیٹھی ہوئی تزئین کو دیکھنے لگی جو عون کو بیڈ پر لٹائے ہوئے اس سے کھیلنے میں مصروف تھی۔۔۔ ریان کے انفارم کرنے پر وہ دوپہر میں ہی ڈرائیور کے ساتھ عون کو لے کر اپنی پھپھو کی طرف آگئی تھی

“چھوڑیں پھپھو اُن کی باتوں کا برا مت مانیں کل ویسے بھی ان کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی اس لیے وہ چڑچڑے پن کا مظاہرہ کر گئیں ورنہ تو ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔ ریان نے اُن کو آفس جانے سے پہلے ہی میرے پروگرام کا بتا دیا تھا اور ویسے بھی صبح سے گھر میں عشوہ آئی ہوئی ہے اس لیے اُن کا دھیان بھی ذرا بٹ گیا اور میں عون کو لےکر آپ کے پاس آگئی”

عرا کی بات پر تزئین بھی اس کی طرف متوجہ ہوئی عالیہ کو عرا کی بات سن کر تسلی نہیں ہوئی اس لیے وہ دوبارہ عرا سے بولی

“ارے بی بی رہنے دو اپنی ساس کے کرتوتوں پر پردہ نہ ڈالو جب زیاد زندہ تھا تب اس نے کتنا ناک میں دم کر کے رکھا تھا تمہارا، مجھے لگا کہ بیٹے کی موت کے غم میں اُس نک چڑی بڑھیا کے مزاج میں کچھ نرمی آگئی ہوگی مگر نہیں وہ تو اور زیادہ بد اخلاق ہوچکی ہے معلوم نہیں ابھی بھی کیسا سلوک کرتی ہوگی تمہارے ساتھ ویسے ریان کا رویہ تو اچھا ہے ناں تمہارے اور عون کے ساتھ”

عالیہ عرا سے ریان کے بارے میں پوچھنے لگی جس پر عرا گہرا سانس لیتی ہوئی بولی

“وہ چھوٹی سی چھوٹی بات کا خیال رکھنے والا اچھا انسان ہے عون کو تو ایسے پیار کرتا ہے لگتا ہی نہیں عون زیاد کا بیٹا ہو اور وہ میرا بھی خیال رکھتا ہے”

عرا نے مسکرا کر عالیہ کو جواب دیا تو عالیہ کو تسلی ہوئی

“دیکھا میں نے صحیح فیصلہ کیا تھا تمہاری ریان سے شادی کروا کے تمہیں ہی وسوسے ستا رہے تھے بلاوجہ کے مجھے تو شروع دن سے ہی وہ لڑکا اچھا لگا تھا نہ صرف تمہارا اور عون کا خیال رکھتا ہے بلکہ تزئین کو بھی بہن بول کر بھائی والا حق ادا کیا ہے اس نے”

عالیہ کی بات سن کر عرا بری طرح چونکی

“کیا مطلب بھائی والا حق ادا کیا ہے”

عرا نہ سمجھنے والے انداز میں عالیہ کو پھر تزئین کو دیکھنے لگی تو اب کی مرتبہ تزئین عرا سے بولی

“کیا تمہیں ریان بھائی نے نہیں بتایا انہوں نے میری رخصتی کے لیے اچھی خاصی رقم پھپھو کو دی ہے”

تزئین کے بولنے پر عرا ہونق بنی نفی میں سر ہلاکر اس کو دیکھنے لگی تو عالیہ بھی عرا سے بولی

“میں تو سمجھ رہی تھی تمہارے علم میں ہوگی یہ بات اس نے تمہیں نہیں بتایا۔۔۔ چار دن پہلے میری خیریت پوچھنے یہاں آیا تھا تو اتفاق سے تزئین کے سسرال والے بھی رخصتی کی ڈیٹ لینے آئے ہوئے تھے ان کے جانے کے بعد اس نے تزئین کے لیے 10 لاکھ کا رقم کا چیک مجھے دیا، میں نے لینے سے لاکھ منع کیا مگر اس نے مجھے یہ کہہ کر چپ کروا دیا کہ تزئین اس کے لیے بہنوں جیسی ہے”

عالیہ کی بات پر عرا خاموش ہوئی تو تزئین ایک دم عرا سے بولی

“عرا وہ جو تمہیں زیاد بھائی کی زندگی میں کبھی کبھی نائٹ میرز آتے تھے اب تو نہیں آتے”

تزئین عرا کی خاموش دیکھ کر اس سے پوچھنے لگی تو عرا کی توجہ ریان سے زیاد کی جانب چلی گئی

“نہیں اب مجھے ویسے کوئی خواب نہیں آتے سب کچھ ٹھیک ہے”

عرا تزئین کو دیکھتی ہوئی بولی ریان سے شادی کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب وہ فرصت سے اپنی پھپھو کے گھر بیٹھی ہوئی ان لوگوں سے باتیں کررہی تھی

“سب کچھ ٹھیک رہے یہ تمہارے اوپر بھی ہے تم نے مجھے پہلے بتایا تھا ناں جو ریان بھائی کی کزن ہے عشوہ وہ شروع سے ہی ریان بھائی کو پسند کرتی ہے تمہیں اب اس لڑکی سے محتاط ہوکر رہنا چاہیے” تزئین کی بات پر عرا خاموشی سے تزئین کو دیکھنے لگی جبکہ عالیہ تزئین پر برس پڑی

“اس کے ذہن میں الٹی سیدھی باتیں ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے اور یہ عون کو عرا کو دے دو بچے کو اب نیند آرہی ہے اور جاکر رات کے لیے کھانے کی ذرا اہتمام کے ساتھ تیاری کرو آج ریان کھانا یہی کھائے گا”

عالیہ کے گھرکنے پر تزئین عون کو گود میں اٹھا کر عرا کی گود میں تھماتی ہوئی دوبارہ بولی

“میں اس کے دماغ میں کوئی الٹی سیدھی بات نہیں ڈال رہی ہوں ابھی آپ خود بھی اس کی ساس کے بارے میں گلفشانی کررہی تھی تو کیا پھر اس کی ساس یہ نہیں سوچ سکتی کہ میرا پوتا اب جب میرے گھر میں آہی گیا ہے تو کیوں نہ میری بھانجی بھی ہمیشہ کے لیے اس گھر میں آجائے”

تزئین بولتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی

“چھوڑو اس باولی کی باتوں پر دھیان مت دو عون کو مجھے دے دو میں سلا دیتی ہوں تم بھی تھوڑی دیر آرام کرلو”

عالیہ عرا کے چہرے پر سوچ کی پرچھائیاں دیکھتی ہوئی بولی تو عرا عون کو عالیہ کے حوالے کرکے بیڈ پر لیٹ گئی اس کے ذہن میں تزئین کی باتیں چلنے لگی

****

“کیا ہوا اچھا لگ رہا ہوں”

عالیہ کے گھر سے واپسی پر ڈرائیونگ کے دوران تیسری مرتبہ عرا کا دیکھنا ریان کی نظر سے چھپ نہ سکا اس لیے اب کی مرتبہ ریان عرا کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا

“مجھے نہیں میری پھپھو کو اچھے لگنے لگے ہو کافی ساری تعریفیں کررہی تھی تمہاری اور آج مجھے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ تم نے تزئین کو بھی بہن بنالیا ہے”

عرا اپنی گود میں موجود عون کو دیکھتی ہوئی اس سے بولی جس پر ریان ہنسا

“ترئین کو اس کی شادی پر گفٹ تو دینا تھا میں نے سوچا اماؤنٹ دے دو وہ خود اپنے لیے من پسند چیز لے لے گی جو اس کو مناسب لگے گی۔۔ ویسے تزئین کو ‘بھی’ بہن بنالیا ہے سے کیا مطلب ہے تمہارا اور دوسری بہن کون سی ہے میری”

ریان ڈرائیونگ کرتا ہوا عرا سے پوچھنے لگا

“عشوہ۔۔۔ وہ بھی تو بہن ہے ناں تمہاری”

عرا خاص طور پر عشوہ کے نام پر زور دیتی ہوئی بولی جس پر ریان کو ہنسی آگئی

“ہاں میں تو اُس کو بہن ہی سمجھتا ہوں مگر مسئلہ یہ ہے کہ وہ مجھے بھائی قبول نہیں کرتی”

ریان عرا کو تنگ کرتا ہوا مزے سے بول کر عرا کو دیکھنے لگا اس کی بات پہ عرا کے چہرے پر سنجیدگی کے اثار نمایاں ہونے لگے

“تو اس میں بھی قصور تم مردوں کا ہی ہوتا ہے، تمہیں بھی شروع سے اس کو اتنا زیادہ فری نہیں کرنا چاہیے تھا”

عرا ریان کو دیکھ کر کافی سنجیدگی سے بولی

“فری کرنے کی کیا بات ہے وہ بچپن سے ہی میرے اور زیاد کے ساتھ پلی بڑھی ہے جیسے زیاد اس کو اپنی بہن سمجھتا تھا ویسے ہی میں نے بھی اس کو بہن سمجھا، اب یہ تو اس کی سمجھ کا قصور ہے کہ اس نے میری محبت کو کس انداز میں لیا”

ریان بھی سیریس ہوکر ڈرائیونگ کرتا عرا سے بولا جس پر عرا کا منہ بن گیا

“زہر لگتی ہے مجھے ایسی اوور ٹائپ کی لڑکیاں جو بلاوجہ اپنے کزنز سے فری ہوجاتی ہیں”

عرا نے ریان کے سامنے اپنی رائے کا اظہار کرنا ضروری سمجھا جس پر ریان خاموش رہا وہ دونوں سکندر ولا پہنچ چکے تھے گاڑی رکنے پر ریان چہرے پر مسکراہٹ سجائے عرا کو دیکھنے لگا

“کیا ہوگیا مسکرا کیوں رہے ہو”

ریان کی مسکراہٹ دیکھ کر عرا ریان سے یوں بےمقصد مسکرانے کی وجہ پوچھنے لگی

“تم عاشو سے جیلس ہورہی ہو ناں کیوکہ وہ مجھے بھائی نہیں سمجھتی”

ریان عرا کی گود سے عون کو لےکر پیار کرتا ہوا گاڑی سے نیچے اتر گیا عرا ریان کے جملے پر غور کرتی گاڑی میں ہی بیٹھی جم گئی ریان کے دروازہ کھولنے پر وہ بھی گاڑی سے باہر نکل آئی

“میں کیوں عشوہ سے جیلس ہونے لگی میری بلا سے وہ تمہیں لائک کرے یا پھر کچھ بھی کرے مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا”

عرا ریان کی خوش فہمی دور کرتی ہوئی بولی تو ریان کے تاثرات سنجیدگی میں ڈھل گئے

“سیریسلی تمہیں کوئی فرق نہیں پڑتا”

ریان عون کو گود میں اٹھائے ایک مرتبہ دوبارہ عرا کو دیکھتا ہوا سیریس ہوکر پوچھنے لگا

“مجھے فرق پڑے گا ہی کیوں بھئی میرا کیا لینا دینا عشوہ سے میں نے اس دن بھی تم سے کہا تھا کہ تم اُس کو وقت دو یا پھر وہ تم سے فری ہو تب بھی مجھے ان باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا”

عرا ریان کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر بولتی ہوئی گھر کے اندر جانے لگی۔۔۔ عرا سمجھ گئی تھی وہ اب اس کو عشوہ کا نام لےکر تنگ کرے گا لیکن عرا ریان پر یہی تاثر دینا چاہتی تھی کہ وہ اس بات سے بالکل تنگ نہیں تھی

“چلو اچھا ہوا تم نے اس بات کو ابھی کلیئر کردیا میں بلاوجہ سوچ کر پریشان ہورہا تھا کہ عاشو سے بےتکلف ہوکر بات کرنے پر کہیں تم برا نہ مان جاؤ ویسے تمہاری اطلاع کے لیے عرض ہے کہ آج تمہاری نند اووو سوری یعنٰی میری کزن رات میں یہی اسٹے کرے گی”

ریان عرا کو اطلاع دیتا ہوا عون کو گود میں لیے گھر کے اندر داخل ہوگیا جبکہ عشوہ کی سکندر ولا میں موجودگی کا سن کر عرا کا منہ حلق تک کڑوا ہوگیا کتنا ہی اچھا ہوتا کہ عشوہ اس کی آمد سے پہلے یہاں سے جاچکی ہوتی وہ بھی مرے مرے قدموں سے ریان کے پیچھے گھر کے اندر داخل ہوئی لیونگ روم میں ہی مائے نور کے ساتھ عشوہ کو دیکھ کر عرا کا چہرہ مزید مرجھا سا گیا اس نے بہت آہستگی سے مائے نور کو سلام کیا

“آگئی تم سیر سپاٹے کر کے۔۔ لاؤ بھئی ریان عون کو تو مجھے دے دو اتنی یاد آرہی تھی مجھے اپنے پوتے کی اور عاشو بھی بار بار تمہارا پوچھ رہی تھی بیوی بچے اور سسرال والوں کو تو تم نے ٹائم دے دیا ہے اب تھوڑ ٹائم مجھے اور عاشو کو بھی دے دو”

مائے نور ریان سے عون کو گود میں لیتی ہوئی عرا کو نظر انداز کرکے شکوہ بھرے لہجے میں ریان سے بولی

“اب میرا ٹائم آپ لوگوں کے لیے ہی ہے خاص طور پر عاشو کے لیے۔۔۔ سوئی کیوں نہیں تم ابھی تک اب یہ مت بولنا کہ تم میرا ہی ویٹ کررہی تھی”

ریان بےتکلفی سے بولتا ہوا وہی عشوہ کے برابر میں صوفے پر بیٹھ کر عشوہ سے پوچھنے لگا

“ایسا ہی ہے ریان میں آپ کے ہی انتظار میں ابھی تک جاگ رہی تھی ماہی تو مجھے صبح سے ٹائم دے رہی ہیں لیکن آپ کو تو فرصت ہی نہیں ہے”

عشوہ ایک سرسری نظر عرا پر ڈالتی ہوئی ریان سے بچے کی طرح شکوہ کرنے لگی جبکہ وہی دوسرے صوفے پر مائے نور عون کو گود میں لیے بیٹھی ریان اور عشوہ کی جانب دیکھ کر مسکرانے لگی

“تم کیوں کھڑی ہو تمہیں کیا بیٹھنے کے لیے اسپیشلی کہا جائے گا بیٹھ جاؤ”

ریان عرا کو دیکھتا ہوا بولا جو وہی خاموشی سے کھڑی سب کے چہرے کے تاثرات دیکھ رہی تھی ریان کے بولنے پر مائے نور اور عشوہ کا منہ بن گیا شاید وہ دونوں ہی نہیں چاہتی تھی کہ وہ وہاں اُن لوگوں کے ساتھ بیٹھے

“نہیں آپ لوگ باتیں کریں میں تھک گئی ہوں ریسٹ کرو گی”

عرا ریان کو دیکھ کر بُجھے دل سے بولتی ہوئی بیڈ روم کی طرف بڑھ گئی

بیڈروم میں آکر اس نے اپنے کپڑے چینج کیے اور بیڈ پر لیٹ گئی اسے کافی دیر تک عشوہ مائے نور اور ریان کے ہنسنے اور باتیں کرنے کی آوازیں آتی رہی گھڑی اب رات کے دو بجارہی تھی ریان اب بھی اپنے کمرے میں نہیں آیا تھا عرا بیڈ پر لیٹی ہوئی بےچینی سے کروٹ بدلنے لگی۔۔۔ بےشک ریان اور اس کے تعلق میں اب تک شوہر بیوی والی بےتکلفی قائم نہیں ہو پائی تھی اس کی بڑی وجہ عرا کا گریز تھا لیکن اس کے باوجود ریان کو اِس وقت اپنے بیڈ روم میں موجود ہونا چاہیے تھا عرا نہ چاہتے ہوئے بھی جاگ کر ریان کے آنے کا انتظار کرنے لگی۔۔۔ اسے کبھی بھی زیاد اور عشوہ کی بےتکلفی پر اعتراض نہیں ہوا تھا لیکن ریان کی عشوہ سے بےتکلفی نہ جانے کیو اس کو ایک آنکھ نہیں بھا رہی تھی اور وہ چاہ کر بھی اپنے جذبات کا اظہار ریان کے سامنےکھل کر نہیں کر پارہی تھی

تھوڑی دیر بعد ایل ای ڈی کی اونچی آواز سے اس کو اندازہ ہوگیا تھا وہ لوگ اب مووی یا کوئی شو دیکھ رہے تھے لیکن مائے نور کو تو لیٹ جاگنے کی عادت نہ تھی عون کی نیند کا سوچ کر وہ لازمی عون کو لےکر اپنے روم میں چلی گئی ہوگی تو کیا پھر اس وقت وہاں ہال میں عشوہ اور ریان ہی موجود تھے یہ سوچ کر عرا کو مزید بےچینی ہونے لگی لیکن اس میں ہمت نہ تھی کہ وہ کمرے سے باہر جاکر دیکھتی اس لیے خاموش لیٹی رہی یونہی کافی دیر لیٹے لیٹے نہ جانے کب اس پر نیند کی دیوی مہربان ہوئی تو عرا کو احساس نہ ہوا ہاں کچھ دیر بعد وہ نیند میں اپنے چہرے پر انگلیوں کا لمس اور پھر اپنے گال پر ہونٹوں کا لمس صاف محسوس کرسکتی تھی مگر نیند سے بوجھل آنکھیں کھولنے کی اس میں سکت نہ تھی

****

صبح کی سفیدی میں بکھرا چاروں سُو سبزہ اس کی بوجھل طبیعت پر خوشگوار اثر مرتب کررہا تھا گھاس اسے پیروں کے نیچے سبز مخمل کی مانند محسوس ہورہی تھی چہرے پر پڑنے والی نمی کے ننھے ننھے قطرے پھولوں کی پتیوں سمیت اس کے چہرے پر بکھرتے نیچے گرے۔۔۔ جنہوں نے اسے بند آنکھیں کھولنے پر مجبور کیا یوں صبح سویرے اس کے چہرے پر پھولوں کی پتیاں بکھیرنا بھلا اور کس کی عادت تھی

زیاد۔۔۔ ہلکے سے لب ہلتے ہی اس نے اپنی پوری آنکھیں کھولی تو سامنے زیاد کی بجائے ریان کو کھڑا پایا جو مسکراتا ہوا اُس کی طرف دیکھ کر اپنا ہاتھ اس کی جانب بڑھا رہا تھا۔۔۔ ریان کی جانب اپنا ہاتھ بڑھانے کی بجائے عرا کی نگاہیں زیاد کو تلاشنے لگی زیاد عرا کو اپنے آپ سے دور جاتا ہوا دکھائی دیا

تھوڑی دیر پہلے اپنی طبیعت پر چھائی خوشگواریت اچانک کہیں گم سی ہوگئی اس کے وجود میں ایک دم تھکن سی اترنے لگی۔۔۔ وہ پریشان ہوکر ریان کی جانب دیکھنے لگی جو ابھی بھی اُس کی جانب ہاتھ بڑھائے اُسی کا منتظر تھا اس سے پہلے وہ ریان کی جانب اپنا ہاتھ بڑھا کر اس کا ہاتھ تھام لیتی اچانک ہی ریان کا ہاتھ کسی نسوانی ہاتھ نے تھام لیا

“ریان نہیں۔۔۔

نیند میں بےساختہ عرا کے منہ سے نکلا اور خواب ٹوٹنے پر وہ اُٹھ کر بیٹھ گئی اس وقت وہ ریان کے بیڈ روم میں لیٹی ہوئی کوئی خواب دیکھ رہی تھی بہت دنوں بعد اس کو کوئی ایسا خواب دکھائی دیا تھا جس کے بعد اس کی کیفیت عجیب سی ہونے لگی صبح ہوچکی تھی مگر ریان اس وقت بھی اپنے کمرے میں موجود نہ تھا عرا اپنے لاغر وجود کو گھسیٹتی ہوئی واش روم چلی گئی جب وہ فریش ہوکر واش روم سے باہر نکلی تو خود کو آئینے میں دیکھنے لگی وہ ابھی بھی مرجھائی ہوئی سی لگ رہی تھی کمرے سے باہر نکل کر اس نے لان کی طرف رخ کیا

****

جاگنگ کے بعد وہ سکندر ولا میں داخل ہوا تو سامنے لان میں پہلے سے عرا کو موجود پایا شیرو کا بیلٹ چھوڑ کر وہ لان میں چہل قدمی کرتی عرا کے پاس چلا آیا

“کیا ہوا آج اتنی صبح کیسے آنکھ کھل گئی تمہاری یا پھر رات بھر نیند نہیں آئی”

ریان عرا کا ستا ہوا چہرہ اور آنکھوں میں اتری ہوئی سرخی کو غور سے دیکھ کر اس سے جلد جاگنے کی وجہ پوچھنے لگا عموماً وہ ریان کے جاگنگ کرکے آنے کے بعد ہی جاگتی تھی اور جب ریان آفس جانے کے لیے تیار ہوتا تو وہ روز شمع کے پاس کچن میں جاکر اس کی ناشتے میں ہیلپ کروایا کرتی ریان کا سوال سن کر عرا اپنے خواب کو ذہن سے جھٹکتی ہوئی استزائیہ انداز میں ہنسی

“نیند نہ آنے والی کیا بات کل رات تو مجھے اتنی تھکن تھی کہ بیڈ پر لیٹتے ہی آنکھ لگ گئی تھی اسی وجہ سے تو اتنی جلدی آنکھ کھل گئی”

وہ ریان پر یہ تاثُر ہرگز نہیں دینا چاہتی تھی کہ وہ رات میں اس کا کافی دیر تک جاگ کر کمرے میں آنے کا انتظار کرتی رہی تھی لیکن حقیقت یہی تھی کہ ساری رات اُس کی بےسکونی میں گزری تھی

“اچھا لیکن تمہاری آنکھیں تو کوئی اور کہانی بیان کررہی ہیں”

عرا جوکہ اپنے قدموں کے پاس شیرو کو جھک کر پیار کررہی تھی ریان کی بات سن کر اٹھتی ہوئی ریان کے سامنے کھڑی ہوئی وہ کھوجنے والی نظروں سے عرا کو ہی دیکھ رہا تھا جیسے اُس کے چہرے پر کچھ تلاش کررہا ہو

“تمہیں میری آنکھیں پڑھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے جاؤ جاکر کر اس کی آنکھیں پڑھو جس کو پوری رات ٹائم دیتے رہے ہو”

نہ چاہتے ہوئے بھی عرا کے لہجہ ترش ہوا وہ آنے والے غصے کو ضبط کرتی لان میں موجود کرسی پر بیٹھ گئی جبکہ اس غصے سے ریان کے ہونٹوں پر شوخی بھری مسکراہٹ ابھری

“تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ میں ساری رات عاشو کو ٹائم دیتا رہا ہوں بقول تمہارے تم تو رات میں جلدی سو گئی تھی”

ریان بھی اس کے برابر میں کرسی پر بیٹھتا ہوا عرا سے بولا تو عرا کو اپنے غلط جملہ بولنے کا احساس ہوا

“تمہارا یہ خوشگوار موڈ اس بات کی نشاندہی کررہا ہے ورنہ تو روز صبح تمہارے چہرے پر 12 بجے ہوتے ہیں”

عرا سے اور کوئی بات نہ بن پڑی تو اُس کے جو منہ میں آیا وہ اس نے بول دیا جس پر ریان پوری آنکھیں کھول کر عرا کا چہرہ دیکھنے لگا

“اب تم میرے ساتھ زیادتی کررہی ہو اور یہ بہت غلط بات ہے”

ریان سیریس ہوکر عرا سے بولا بھلا اس کے چہرے پر کب 12 بجے ہوتے ہیں وہ تو ہر وقت اپنی بیوی سے بات کرنے کے بہانے تلاشتا رہتا تھا

“اب یہاں پر کیوں بیٹھ گئے ہو میرے سر پر۔۔۔ آج میرا ناشتہ بنانے کا موڈ نہیں ہے جاؤ جاکر ناشتہ کرو شمع تمہارا ناشتہ بنارہی ہے”

عرا ریان کی نظروں سے تنگ ہوکر بُھرائے ہوئے لہجے میں بولی نہ جانے کیوں اُس کو رونا آنے لگا لیکن وہ ریان کے سامنے ہرگز رونے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی وہ چاہ رہی تھی کہ ریان یہاں سے چلا جائے جبکہ ریان سنجیدگی سے عرا کے چہرے کو غور سے دیکھ کر کرسی سے اٹھا اور اچانک عرا کا ہاتھ پکڑ کر اسے بھی کرسی سے اٹھانے لگا

“آؤ چل کر ناشتہ کرتے ہیں”

وہ نرم لہجے میں عرا کی کلائی پکڑتا ہوا بولا

“ناشتہ اسی کے ساتھ کرو جس کے ساتھ تم پوری رات۔۔۔

ریان نے اس کا جملہ مکمل ہونے سے پہلے اچانک عرا کا چہرہ کا تھام کر اپنے ہونٹ عرا کے ہونٹوں پر رکھ دیے عرا ریان کے اس عمل پر بری طرح سٹپٹائی اور اس نے ریان کو پیچھے دھکیلنا چاہا مگر ریان اب عرا کی کمر پر اپنے دونوں بازوؤں کو باندھ کر عرا کے وجود کو اپنی گرفت میں لے چکا تھا عرا کی آنکھیں خود بخود نم ہونے لگی جو اس کے گالوں کو بھگوتی چلی گئی جبکہ اس کی سانسیں ریان اپنی سانسوں میں قید کرنے لگا ریان کی حرکت پر عرا کا چہرہ سرخ پڑگیا اور اس کا ضبط جواب دینے لگا تب ریان اس کے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ جدا کرتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ عرا کی کمر سے ہٹائے ریان کی گرفت سے آزادی ملتے ہی وہ دو قدم پیچھے ہوئی اور ریان سے نظریں ملائے بغیر اپنی آنکھوں سے نکلنے والے آنسو پوچھنے لگی جو ابھی تک تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے

ریان ایک مرتبہ دوبارہ عرا کے قریب آیا اور اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھامتا ہوا بولا

“کل رات ڈھائی بجے اشعر کی کال آئی تھی اس کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا کل رات میں نے عاشو کے ساتھ نہیں گزاری بلکہ اشعر کے ساتھ ہاسپٹل میں گزاری ہے۔۔۔ بلاوجہ کب تک لڑتی رہوگی خود سے آخر یہ بات تم تسلیم کیو نہیں کرلیتی کہ میں صرف تمہارا ہوں کیوں نہیں سمجھ آتی تمہیں اتنی سی بات”

ریان کی بات پر عرا کو مزید رونا آیا تو ریان نے عرا کو اپنے بازوؤں میں چھپالیا اور اس کے بالوں کو چومتا پیار سے اسے خاموش کروانے لگا

“تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے میں اس وجہ سے تو نہیں رو رہی ہوں کہ تم ساری رات عشوہ کے پاس رہے یا پھر اشعر کے پاس رہو مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا مجھے تو اپنی پھپھو کی یاد آرہی تھی تو رونا آگیا”

ریان کے سینے میں اپنا منہ چھپائے عرا رونے کے درمیان ریان کو بتانے لگی جس پر ریان نے گہرا سانس لیا اور خود ہی اپنی ہار تسلیم کرتا ہوا بولا

“ہاں میں جان گیا ہوں تمہیں ایک پرسنٹ بھی میری پروا نہیں رات کے وقت میں عاشو کے ساتھ رہو یا پھر ایمرجنسی میں اپنے دوست کے ساتھ ہسپتال میں تمہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن شوہر کے کِس کرنے پر اچانک پھپھو کا یاد آجانا یار یہ کوئی لاجک ہی نہیں بنتی لیکن تم میری وائف ہو اور میں ایک اچھے ہسبینڈ کی طرح تمہاری کسی بات کو غلط نہیں بول سکتا آؤ اب بریک فاسٹ کرلیتے ہیں”

ریان بالکل سنجیدگی سے اس کی ساری باتوں کو تسلیم کرکے عرا کے آنسو صاف کرتا ہوا اس کی سرخ آنکھیں دیکھنے لگا

“تمہیں منع کیا ہے اس طرح مت رویا کرو میرے دل کو سچ میں تکلیف ہوتی ہے یار تمہارے یہ آنسو دیکھ کر”

وہ عرا کی سرخ آنکھوں کو دیکھ کر اس کا چہرہ تھامے باری باری اس کی آنکھوں کو چومنے لگا ریان کے اس عمل پر عرا نے اسے خود سے دور نہیں کیا بلکہ عرا کی نظر شیرو پر پڑی جو نیچے گھاس پر بیٹھا ہوا اُن دونوں کو ہی خاموشی سے دیکھ رہا تھا عرا کے دیکھنے پر ریان بھی شیرو کو دیکھنے لگا

“اس نے ہمارا پورا سین انجوائے کیا ہے اور ابھی بھی کتنے مزے سے بیٹھا ہوا ہم دونوں کو دیکھ رہا ہے۔۔۔ اب شیرو کے دیکھنے پر ایسے مت شرماؤ وہ کسی کو کچھ نہیں بتانے والا ہمارے بارے میں چلو اندر چلتے ہیں”

ریان عرا کی خفگی مٹاتا ہوا عرا کو اپنے ساتھ لیے اندر لے گیا اپنے کمرے سے نکلتی ہوئی عشوہ سامنے سے ریان اور اس کے ساتھ عرا کو دیکھ کر واپس اپنے کمرے میں چلی گئی

****