Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel NovelR50397 Payar Howa Tha (Episode 23)
No Download Link
Rate this Novel
Payar Howa Tha (Episode 23)
Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel
صبح ریان کی آنکھ اٹھ بجے کے قریب کھلی عموماً وہ سات بجے اٹھتا تھا کل کی بانسبت آج اس کا شولڈر زیادہ پین کررہا تھا اس لیے جاگنگ کا ارادہ ترک کرکے اٹھنے لگا تو اُس کی نظر اپنے قریب سوئی ہوئی عرا پر پڑی عرا کے جاگنے کا یہی وقت ہوتا تھا لیکن وہ اِس وقت گہری نیند میں سوئی ہوئی تھی نہ جانے کب رات میں اس کا بیڈروم میں آنا ہوا تھا ریان کو یاد نہ تھا
وہ آگے بڑھ کر عرا چہرے پر جھکا۔۔۔ ریان ابھی تک کنفیوز تھا اس کو سمجھ نہیں آتا تھا عرا اپنے دل میں کیا چھپائے بیٹھی ہے کبھی اس کو لگتا وہ عرا کو اپنے جانب متوجہ کرنے میں کامیاب ہوچکا ہے آہستہ آہستہ عرا کا دل اس کی طرف مائل ہورہا ہے تو کبھی ریان کو یہ گمان ہوتا عرا ابھی تک ذیاد کی یادوں میں گم اس کو بھلا نہیں پائی ہے وہ ابھی بھی زیاد کو ہی سوچتی ہے تبھی وہ اس کی قربت میں ابھی تک جھجھک محسوس کرتی ہے۔۔ ریان کو صحیح سے اندازہ نہیں ہو پایا تھا کہ اس کی بیوی کے دل میں کیا تھا لیکن اتنا ریان کو معلوم تھا کل عرا اس کے کہنے پر عمل کرتی صرف اس کی خوشی کی خاطر اس کے پاس آئی تھی حقیقتاً وہ اب بھی وقت چاہتی تھی۔۔۔ ریان نے ساری باتوں کو سوچتے ہوئے معمول کی طرح عرا کے گال پر اپنے ہونٹ رکھے تاکہ جب عرا جاگے اس کو جاگنے کے ساتھ سب سے پہلے اسی کا خیال آئے۔۔۔ وہ بیڈ سے اٹھتا ہوا کارٹ میں سوئے ہوئے عون کے پاس آیا اور جھک کر عون کو پیار کرنے لگا کل سارا دن اس نے عون کو نہیں دیکھا تھا اس لیے اسے عون پر ٹوٹ کر پیار آیا۔۔۔ اس ننھی سی جان میں بھی اس کی اپنی جان بسنے لگی تھی اتنا پیار اس نے شاید ہی زیاد سے کیا ہو جتنا زیاد کا بیٹا اسے عزیز ہوچکا تھا آج اُس کو آفس لازمی جانا تھا اس لیے بناء آہٹ کیے وارڈروب سے کپڑے لیتا ہوا واش روم میں چلاگیا
****
شمع معمول کی طرح کچن میں موجود ناشتہ تیار کررہی تھی ریان ڈائینگ ہال میں مائے نور کو موجود نہ پاکر اس کے کمرے میں چلا آیا
“کیسی طبیعت ہے آپ کی کیا ہوا آج ناشتے کا موڈ نہیں ہے”
ریان مائے نور کے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔ مائے نور کو راکنگ چیئر پر بیٹھا ہوا دیکھ کر پوچھنے لگا وہ جاگ رہی تھی تب بھی ناشتے کی ٹیبل پر موجود ہونے کی بجائے اپنے کمرے میں اس کا ہونا لازمی کوئی بات تھی ریان اس کے سامنے صوفے پر بیٹھ گیا
“فرصت مل گئی تمہیں ماں کی خبر گیری کرنے کی”
مائے نور جو کل رات سے عرا کی باتوں پر غصے میں بھری بیٹھی تھی ریان کو دیکھ کر طنزیہ لہجے میں اس سے پوچھنے لگی
“کل کافی مصروف دن گزرا تھا ماں۔۔۔ سیریسلی آفس سے آنے کے بعد تھکن اتنی زیادہ تھی کہ کب میری آنکھ لگ گئی معلوم ہی نہیں ہوا”
ریان مائے نور کا خراب موڈ دیکھتے ہوئے اپنے ایکسیڈنٹ والی بات کو سرے سے ہی گول کرتا مائے نور کو اپنی مصروفیت کا بتانے لگا
“اور اس مصروفیت میں بھی بیوی کا دیدار کرنے کے لیے اسے تم نے اپنے پاس بلوالیا”
مائے نور ریان کی پیشانی پر چوٹ کے نشان کو نظر انداز کرتی چھبتے ہوئے لہجے میں بولی تو ریان مائے نور کا چہرہ دیکھنے لگا جس پر غصہ صاف دکھائی دے رہا تھا
“بات کیا ہوئی ہے ماں مجھے وہ بتائیں”
ریان مائے نور کے غصے والے تیور دیکھ کر اسے پوچھنے لگا
“وہ تم اپنی بد زبان بیوی سے پوچھو کیسے اُس نے میرے آگے زبان چلائی، مجھے تمہارے کمرے میں آنے سے تم سے بات کرنے سے روکا اور کل رات عون کو بھی اس نے اپنے پاس ہی سلایا”
مائے نور غصے میں آنکھیں دکھاتی ہوئی ریان سے بولی تو ریان گہرا سانس اندر کو کھینچتا ہوا سیدھا ہوکر بیٹھا
“وہ آپ کے آگے تو کیا کسی کی بھی آگے زبان نہیں چلاسکتی اس کی نیچر ہی نہیں ہے ایسی یہ بات تو آپ خود بھی اچھی طرح جانتی ہیں۔۔۔ میں کل بہت زیادہ تھکا ہوا تھا اور ریسٹ کرنا چاہتا تھا اِس لیے اُس نے میرے خیال سے آپ کو ایسا بول دیا ہوگا تاکہ میں ڈسٹرب نہ ہوں اور ماں عون اُس کا بیٹا ہے اُس کی اولاد وہ۔۔۔ اگر ایک دن اس نے عون کو اپنے پاس سلا لیا تو یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے۔۔۔ بڑی بات تو یہ ہے عون کا زیادہ وقت اُس کی بجائے آپ کے پاس گزرتا ہے اور اس بات کی وہ کسی سے شکایت بھی نہیں کرتی اس کا بھی دل چاہتا ہوگا کہ اپنے بیٹے کے ساتھ وقت گزارے۔۔۔ آپ خود وہ وقت یاد کریں جب نانا یا آنی میں سے کوئی مجھے اور زیاد کو اپنے گھر روکنے کے لیے بلاتے تھے لیکن آپ ان دونوں کو یہ کہہ کر ہمیشہ انکار کردیا کرتی تھی کہ آپ کو ہم دونوں کے بغیر رات میں نیند نہیں آتی۔۔۔ ہر ماں کا دل اپنی اولاد کے لیے ایسا ہی ہوتا ہے لیکن عرا آپ کا احساس کرتی ہے کیونکہ آپ اپنا بیٹا کھو چکی ہے وہ آپ کے درد کو سمجھتی ہوئی وہ آپ سے عون کے لیے ضد نہیں کرتی پلیز اس کے لیے دل میں برا خیال مت لایا کریں”
ریان نرمی سے مائے نور کو سمجھانے لگا جس پر وہ چپ رہی لیکن ایسا ہرگز نہیں تھا عرا کے لیے اس کے دل میں غصہ کم ہوگیا ہو
“یہ ماتھے پر کیسا نشان آیا تمہارے”
مائے نور ساری باتوں کو ذہن سے جھٹکتی ہوئی ریان کی پیشانی پر لگی چوٹ کے بارے میں اُس سے پوچھنے لگی
“پاؤں سلپ ہونے کی وجہ سے چوٹ لگ گئی تھی معمولی سی چوٹ ہے کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔۔۔۔ آئیے ناشتہ کرتے ہیں”
ریان صوفے سے اٹھتا ہوا مائے نور سے بولا تو مائے نور ریان کے پیچھے ڈائینگ ہال کی طرف چل دی
****
“شمع جاؤ جاکر میرے پوتے کو میرے پاس سے لے آؤ”
مائے نور دوپہر کے وقت اپنے کمرے کے پاس سے گزرتی ہوئی شمع سے بولی مائے نور کو محسوس ہورہا تھا کہ کل سے ہی عرا اس پر یہ ظاہر کرنے میں لگی ہوئی ہے کہ عون اس کا بیٹا ہے اسی پر عون کا سب سے زیادہ حق ہے
“عرا بھابھی تو عون بابا کو باتھ دلوا رہی ہیں عون بابا باتھ لے کر آجائیں گے تو میں آپ کے پاس لےکر آتی ہوں”
شمع کی بات پر مائے نور کے ماتھے پر شکن پڑی لیکن وہ گھر کے ملازموں کے سامنے کوئی تماشہ نہیں چاہتی تھی اس لیے شمع کو ہاتھ کے اشارے سے وہاں سے جانے کا بولا اور کاریڈور کی طرف چل دی جہاں اسے زیاد کے کمرے کا دروازہ ہلکا سا کھلا ملا مائے نور کے قدم ریان کے کمرے کی بجائے زیاد کے کمرے کی جانب بڑھے دروازے کی جھری سے اسے کمرے کے اندر عرا دکھائی دی جو شاید موبائل کان سے لگا ہے کسی سے بات کررہی تھی زیاد کے کمرے میں عرا کو دیکھ کر مائے نور کو تعجب ہوا
“کیا شمع نے مجھ سے جھوٹ بولا تھا کہ عرا عون کو باتھ دلوا رہی ہے اگر عرا یہاں پر موجود ہے تو پھر عون۔۔۔ مائے نور سوچتی ہوئی ریان کے کمرے کی جانب بڑھی جہاں سے اسے عون کے رونے کی آواز آنے لگی لیکن کمرے میں عون موجود نہ تھا مائے نور کی نظروں نے عون کو تلاشنے کے بعد تیزی سے باتھ روم کا رُخ کیا جہاں عون باتھنک ٹب میں لیٹا ہوا بلک بلک رو رہا تھا بےشک ٹب میں پانی نہیں بھرا تھا لیکن مائے نور کو عرا کی لاپرواہی پر غصہ آیا وہ غصے میں عون کو گود میں لیے عرا کے پاس جانے لگی لیکن کچھ سوچ کر اُس کے قدم وہی رک گئے کل رات گھر کے ملازموں کے سامنے عرا کافی کچھ بول رہی تھی آج اسے سب نوکروں کے سامنے سبق سکھانے کا وقت آچکا تھا اور ریان پر بھی وہ بہت کچھ ظاہر کرنا چاہتی تھی یقیناً اس کے ہاتھ یہ ایک اچھا موقع آیا تھا عرا کو نیچے دکھانے کا
****
“شکر ہے خدا کا اس نے کرم کیا بہت اچھا کیا جو تم پھپھو کو وقت پر ہاسپٹل لے گئی۔۔۔ ریان آفس سے آجائے تو پھر میں شام کو چکر لگاتی ہوں”
موبائل پر سگنل نہ آنے کی وجہ سے عرا جو عجلت میں زیاد کے کمرے میں چلی آئی تھی کیونکہ تزئین کی بار بار کال آنا اس بات کی علامت تھی کہ ضرور کوئی خاص بات تھی جبھی وہ کال کیے جارہی تھی۔۔۔ وہ عون کو باتھنگ ٹپ میں لٹا کر بےدھیانی میں زیاد کے کمرے میں آچکی تھی جہاں وہ زیاد کی زندگی میں تزئین یا اپنی پھپھو سے اکثر بات کیا کرتی تھی اس سے پہلے وہ تزئین کی کال کاٹتی مائے نور کی چیخ و پکار نے اس کو زیاد کے کمرے سے نکلنے پر مجبور کردیا
“رؤف سے بولو جلدی سے ہاسپٹل کے لیے گاڑی نکالے” تولیے میں لپٹے ہوئے عون کو مائے نور اپنی گود میں چھپائے تیزی سے گھر سے باہر نکلتی ہوئی بولی یہ منظر دیکھ کر اچانک ہی عرا کے ہاتھ پاؤں پھولنا شروع ہوگئے
“آنٹی کیا ہو گیا ہے عون کو۔۔۔ پلیز مجھے جلدی سے بتائیں۔۔۔ عون کو کیا ہوا ہے اسے مجھے دیں پلیز”
عرا گھبرائی ہوئی مائے نور کے پاس بھاگتی ہوئی آئی اور اس نے مائے نور سے عون کو لینا چاہا تو مائے نور نے غصے میں اس کا ہاتھ جھٹک کر عرا کو پیچھے کی طرف دھکا دیا
“خبردار جو اب تم نے اسے چھونے کی کوشش کی میرے بیٹے کو تو مار ہی ڈالا ہے اب اُس کی آخری نشانی بھی چھیننا چاہتی ہو مجھ سے اگر اسے کچھ ہوگیا ناں تو میں تمہیں نہیں بخشوں گی یاد رکھنا یہ بات”
مائے نور عرا پر چیختی ہوئی بولی اور عون کو خود سے لپٹائے سکندر ولا سے باہر چلی گئی
“عرا بھابھی آپ عون بابا کو باتھنگ ٹب میں لٹاکر پانی کھلا چھوڑ کر کہاں چلی گئی تھیں”
شمع کی بات سن کر عرا کے پیروں تلے زمین نکل گئی یہ شمع کیا بول رہی تھی
“ایسا کیسے ممکن ہوسکتا ہے ٹب میں پانی تو موجود نہیں تھا نہ ہی میں نے نل کھولا تھا ایسا کیسے ہوگیا۔۔۔ یااللہ میرا بچہ”
شمع کی بات سن کر عرا چکرا کر گرنے لگی تو شمع نے آگے بڑھ کر عرا کو تھام لیا
****
“تمہاری بیوی اس قدر لاپروا اس قدر غیر ذمہ دار ہے دیکھ لو آج اپنی بیوی کی حماقت اپنی آنکھوں سے اگر یہ بچے کو سنبھال نہیں سکتی اس کی صحیح سے دیکھ بھال نہیں کرسکتی تو آخر اس کو ضرورت ہی کیا ہے عون کے کام کرنے کی اب میرے سامنے اپنی بیوی کی طرفداری مت کرنا ریان، تمہاری بیوی اس وقت زیاد کے کمرے میں موجود اس کی یادوں کا سوگ منارہی تھی اگر میں عون کو بروقت نہیں بچاتی تو آج ہم دونوں زیاد کی آخری نشانی بھی کھو بیٹھتے صرف تمہاری بیوی کی وجہ سے”
ریان کو مائے نور نے اسپتال سے آنے کے بعد گھر بلوالیا تھا جہاں ایک نیا باب کھلا ریان کا منتظر تھا عرا مجرموں کی طرح روتی ہوئی سر جھکائے مائے نور کے کمرے کے دروازے کے باہر موجود تھی اسے اندر آنے کی یا عون کو دیکھنے تک کی اجازت نہ تھی جبکہ ریان مائے نور کے کمرے میں سوئے ہوئے عون پر نظر ٹکائے مائے نور کی ساری باتیں خاموشی سے سنتا جارہا تھا جب وہ مائے نور کے کمرے سے باہر نکلا تو عرا کو وہی کمرے کے باہر موجود پایا
“ریان” عرا روتی ہوئی ریان کے سینے سے لگ گئی ریان کو کمرے سے باہر آتا دیکھ کر سارے ملازم اپنے اپنے کاموں میں لگ گئے
“ریان میں نے جان کر کچھ نہیں کیا میں نے پانی نہیں کھلا چھوڑا تھا مجھے نہیں معلوم یہ سب کیسے ہوگیا میں عون کی قسم کھا کر کہتی ہوں میں بالکل سچ بول رہی ہوں پلیز مجھے ایک مرتبہ میرے بیٹے کو دیکھنے دو آنٹی مجھے اس کو چھونے کی بھی اجازت نہیں دے رہی ہیں۔۔۔ میں بس اسے دور سے دیکھ لوں گی تو مجھے تسلی ہوجائے گی بس ایک مرتبہ عون کو۔۔۔۔
عرا ریان کے سینے سے لگی ہوئی رونے کے ساتھ اسے صفائی دیتی ہوئی بار بار عون کو دیکھنے کی ضد کیے جارہی تھی
“تم زیاد کے کمرے میں کیا کررہی تھی”
ریان کی آواز پر عرا اس کے سینے سے سر اٹھاتی ہوئی ریان کا چہرہ دیکھنے لگی جیسے وہ اس سوال کا مقصد جاننا چاہ رہی ہو۔۔۔ کیا تھا اس وقت ریان کی آنکھوں میں شکایت یا پھر محض وہ اس سے ویسے ہی سوال کررہا تھا عرا ریان کا چہرہ دیکھتی ہوئی بناء کچھ بولے وہاں سے جانے لگی اس کا رخ باہر دروازے کی طرف تھا تب ریان نے اس کا بازو پکڑا
“کہاں جارہی ہو”
ریان اس کو دیکھتا ہوا سنجیدگی سے پوچھنے لگا
“ُپھپھو کے گھر۔۔ آج اُن کو”
عرا اس سے پہلے جملہ مکمل کرتی ریان ترش لہجے میں اس کی بات کاٹتا ہوا بولا
“مزید کوئی بھی بےوقوفی کرنے کی ضرورت نہیں ہے بیڈروم میں جاؤ”
ریان کا لہجہ سختی لیے ہوئے تھا عرا ریان کا چہرہ دیکھنے لگی جو اس وقت غصہ ضبط کرتے ہوئے سکندر ولا سے باہر جارہا تھا جبکہ عرا سُست قدم اٹھاتی بیڈ روم کی جانب بڑھ گئی
****
گھڑی رات کے گیارہ بجا رہی تھی جب ریان اپنے کمرے میں آیا تو عرا کو سوتا ہوا پایا اس نے ہاتھ آگے بڑھ کر عرا کا بیڈ سے نیچے لٹکا ہوا ہاتھ پکڑ کر اور اس کے سینے پہ رکھنا چاہا تو ریان کو اس کے بدن میں حرارت سی محسوس ہوئی
“عرا آنکھیں کھولو”
ریان عرا کی پیشانی چھوتا ہوا بیڈ پر عرا کے قریب بیٹھ کر اسے جگانے لگا عرا نے ریان کی آواز پر اپنی آنکھیں کھولی جو بخار کی شدت سے سرخ ہورہی تھی
“ریان۔۔ عون، وہ میرا بیٹا معلوم نہیں”
عرا نقاہت زدہ آواز میں بولی ریان نے عرا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا
“عون بالکل ٹھیک ہے اس کو کچھ نہیں ہوا وہ سکون سے سو رہا ہے تم اس کے لیے پریشان مت ہو، تم ٹھیک نہیں ہو تمہیں بخار ہورہا ہے تم نے رات کا کھانا بھی نہیں کھایا نہ چلو تھوڑی سی ہمت کرو اٹھ کر بیٹھو پہلے کھالو”
ریان نے بولنے کے ساتھ عرا کو سہارا دیتے ہوئے خود ہی اٹھایا۔۔۔ چند گھنٹے پہلے والی اجنبیت کہیں غائب ہوچکی تھی اس کا غصہ جھانک کی مانند بیٹھ گیا تھا وہ پہلے کی طرح کا احساس کرنے والا اور فکر کرنے والا بن چکا تھا
“ریان میرا یقین کرو میں سچ بول رہی ہو پانی کا نل میں نے نہیں کھولا ٹب میں پانی کیسے آگیا میں نہیں جانتی”
عرا ریان کو نرم پڑتا دیکھ کر ایک مرتبہ پھر سے بولی وہ ریان کے دل میں اپنے لیے بدگمانی نہیں چاہتی عرا کی بات سن کر ریان نے اس کے وجود کو اپنے حصار میں لے لیا
“مجھے تم پر پورا یقین ہے تم نے ایسا کچھ نہیں کیا ہوگا جس سے عون کو نقصان پہنچے۔۔۔ اب ایسا بالکل نہیں سوچنا کہ میں تم پر غصہ کرسکتا ہوں یا پھر تم سے ناراض ہوسکتا ہوں اور عالیہ پھپھو بھی گھر آگئی ہیں ہسپتال سے۔۔ تمہیں ان کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے”
ریان نے عرا سے بولتے ہوئے آخری جملے پر عرا کی آنکھوں میں حیرت دیکھی تو مزید بولا
“تھوڑی دیر پہلے تزئین کی میرے پاس کال آئی تھی وہ بتارہی تھی کہ پھپھو کو انجئینا کا اٹیک آیا تھا لیکن اب وہ ٹھیک ہیں کل تک تمہارا بخار اتر جائے گا ہم دونوں اُن کو دیکھنے چلیں گے۔۔۔ میں شمع سے جاکر بولتا ہوں وہ تمہارے لیے کھانا لے آئے”
ریان عرا سے بولتا ہوا بیڈ سے اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گیا
****
“کون سے ہسپتال لےکر گئے تھے عون کو”
سامنے کھڑے رؤف سے ریان نے پوچھنے کے بعد رؤف سے ڈاکٹر کا نام بھی پوچھا تاکہ اصل حقائق اس کے سامنے آئیں
“مجھے کال کرکے ان فارم کیوں نہیں کیا تم نے اُسی وقت”
ریان نے رؤف سے دوسرا سوال کیا
“بیگم صاحبہ نے منع کیا تھا کہ آپ پریشان ہو جائیں گے بیگم صاحبہ خود بہت پریشان تھیں اور عون بابا کی حالت دیکھ کر میں بھی گھبرا گیا تھا اس لیے نہیں بتا سکا آپ کو”
رؤف ریان کے تیور دیکھ کر کچھ پریشان سا ریان کو بتانے لگا
“یہ تمہاری آخری غلطی ہے رؤف جو میں معاف کررہا ہوں آئندہ کوئی بھی ایمرجنسی ہو کسی بھی قسم کی بات ہو تم مجھے سب سے پہلے انفارم کرو گے، اب تم جاسکتے ہو”
ریان شمع کو آتا دیکھ کر رؤف کو نیکسٹ ٹائم کے لیے وارن کرتا وہاں سے جانے کے لیے بولا
“دوپہر میں تم نے خود اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا عون باتھنگ ٹپ میں ڈوبا ہوا ہاتھ پر مار رہا تھا”
رؤف کے جانے کے بعد ریان شمع سے سوال کرنے لگا جس پر شمع نفی میں سر ہلاتی ہوئی بولی
“نہیں جی میں نے اپنی آنکھوں سے تو نہیں دیکھا مگر اس وقت بیگم صاحبہ سخت گھبرائی ہوئی تھیں انہوں نے ہی مجھے روتے ہوئے بتایا۔۔۔ عون بابا اس وقت ان کی گود میں ٹاول میں لپٹے ہوئے تھے اور بری طرح رو رہے تھے۔۔۔ ان کے بتانے پر میں خود گھبرا گئی اور بھاگتی ہوئی رؤف کو بلانے لگی”
ریان غور سے شمع کی بات سنتا ہوا کچھ سوچ کر اس سے پوچھنے لگا
“عرا کیا کررہی تھی اس وقت زیاد کے کمرے میں اور کمرے کی چابی میں نے تمہیں صفائی کرنے کے بعد کمرے کو واپس لاک کرنے کے لیے دی تھی تو پھر کمرہ ان لاک کیوں تھا زیاد کا”
ریان کی بات پر شمع گھبرا گئی
“میں نے عرا بھابھی کو کمرے میں جاتے ہوئے تو نہیں دیکھا تھا لیکن جب وہ زیاد بھائی کے کمرے سے باہر آئی تو اُن کے ہاتھ میں اپنا موبائل تھا مجھے نہیں معلوم جی عرا بھابھی کمرے میں کس سے بات کررہی تھی یا پھر کیا کررہی تھی اور کمرے کی صفائی کے بعد دوسرے کاموں میں لگ کر مجھے یاد نہیں رہا کہ میں دوبارہ کمرہ لاک کردو اس کے لیے میں آپ سے معافی چاہتی ہوں”
شمع اپنی غلطی مان کر شرمندہ ہوتی بولی
“جاؤ جاکر عرا کو روم میں کھانا دے کر آؤ اور اس کو یہ میڈیسن کھانے کے بعد دے دینا”
ریان شمع کو میڈیسن دیتے ہوئے مائے نور کے کمرے میں آگیا جہاں مائے نور آرام سے پرسکون نیند سو رہی تھی عون کارڈ میں لیٹا ہوا اپنے ہاتھ پاوں چلا رہا تھا ریان کو دیکھ کر عون مسکرانے لگا ریان نے خود بھی اسمائل کرتے اس کو آہستہ سے گود میں اٹھالیا وہ عون کو پیار کرتا ہوا وہی صوفے پر بیٹھ گیا ریان جانتا تھا عون مدر فیڈ لیے بغیر نہیں سوتا تھا یہی وجہ تھی عون کے جاگنے کی، وہ عون کے ننھے منھے سے ہاتھوں کی بند مھٹی کو چومنے لگا
“ریان میں نے اُسے اُس کی پسند کی شادی کی ایسی سخت سزا دی۔۔۔۔ میں نے اپنے بیٹے کو خوش نہیں ہونے دیا اس سے جھوٹ تک بولا کہ۔۔۔ طارق نے اس رات میرے ساتھ۔۔۔ میں نے جھوٹ اس لیے بولا تھا تاکہ وہ اپنی بیوی کو چھوڑ دے”
مائے نور کو سوئے ہوئے دیکھتے ریان کو مائے نور کی بولی ہوئی بات یاد آنے لگی وہ بات جو زیاد کے جانے کے بعد پچھتاوے کی صورت وہ ریان سے شئیر کرچکی تھی
“آج ایک مرتبہ پھر اسی طرح آپ نے جھوٹ بولا ہے ماں لیکن میں آپ کے اِس جھوٹ کو نہ تو آپ کے سامنے ظاہر کر کے آپ کو شرمندہ دیکھ سکتا ہوں نہ عرا کو اصل بات بتاکر اس کی نظروں میں آپ کا مقام اور مرتبہ کم کرسکتا ہوں لیکن آپ نے آج جو بھی کیا وہ صحیح نہیں تھا عرا کے ساتھ بہت بڑی زیادتی کی ہے آپ نے”
ریان سوئی ہوئی مائے نور کو دل میں مخاطب کرتا بولا اور عون کو تھوڑی دور کے لیے عرا کے پاس لے جانے لگا تاکہ عرا کو بھی عون کا چہرہ دیکھ کر اطمینان آجائے
****
“تو پھر فائنلی تم نہیں جارہی میرے ساتھ”
ریان عرا کو دیکھتا ہوا سنجیدہ سا ایک مرتبہ پھر پوچھنے لگا وہ تھوڑی دیر پہلے عرا کو اس کی پھپھو سے ملوا کر لایا تھا کل صبح اُس کی شارجہ کی فلائٹ تھی میٹنگ کے سلسلے میں اسے شارجہ جانا تھا اور وہ عرا کو اپنے ساتھ لےکر جانا چاہ رہا تھا جس کے لیے عرا صبح سے ہی ٹال مٹول کررہی تھی
“میں کیا کرو گی وہاں جاکر صرف تین دن کی تو بات ہے تم ہوکر آجاؤ ناں”
عرا ریان کے کپڑے تہہ کرکے بیگ میں رکھتی ہوئی ریان سے بولی
“تین دن تمہارے لیے ہیں جو مجھے دیکھے بغیر تم آسانی سے گزار سکتی ہو لیکن میرے یہ تین دن تمہیں دیکھے بغیر کیسے گزرے گیں اس کا تمہیں اندازہ نہیں جبھی ایسے بول رہی ہو”
ریان اسے بولتا ہوا عرا کو دیکھنے لگا جس پر عرا گھور کر ریان کو دیکھنے لگی
“میرے سامنے یوں زیادہ اداس ہونے کی ایکٹنگ مت کرو تم شارجہ آفس کے کام سے جارہے ہو کوئی ہنی مون منانے کے لیے نہیں”
عرا آخری جملہ بول کر خود ہی جھینپ گئی اور فوراً سر کو نیچے جھکاکر بیگ کی زپ بن کرنے لگی جبکہ ریان اس کی بات پر ایک دم ہنسا
“میں تو یہی چاہ رہا تھا کہ دونوں کام ایک ساتھ ہی ایک ٹور میں نبھٹالوں میٹنگ بھی ہوجائے گی اور تمہارے ساتھ چلنے پر ہنی مون بھی ویسے یہ ائیڈیا بالکل بھی برا نہیں ہے تو پھر کیا خیال ہے”
وہ صوفے سے اُٹھ کر عرا کو اپنے حصار میں لیتا ہوا شرارت سے عرا کو دیکھ کر اس سے پوچھنے لگا
“میرا ایسا کوئی خیال نہیں ہے تم اپنے خیالات بھی فی الحال اپنی میٹنگ تک اور آفس کے کام تک ہی محدود رکھو”
وہ ریان کے حصار سے نکلتی ہوئی اسے مشورہ دے کر وہاں سے جانے لگی
“مجھے اصل وجہ بتاؤ میرے ساتھ نہ چلنے کی، تم عون کی وجہ سے نہیں جارہی کیا یہی ہے اصل بات یا پھر کچھ اور”
ریان کی بات پر عرا پیچھے پلٹ کر ریان کو دیکھنے لگی جو چہرے پر نرم سی مسکراہٹ لیے اُسی کی جانب دیکھ رہا تھا۔۔۔ اُس کی مسکراہٹ یہی ظاہر کررہی تھی وہ اس کے دل میں چھپی اصل بات جان کر بھی اس سے خفا نہیں ہونے والا تھا
“اگر تم یہ سمجھ رہے ہو عون کے علاوہ کوئی دوسری وجہ ہوسکتی ہے تو ایسا نہیں ہے کیا تم عون کو ساتھ لےکر نہیں جاسکتے ہو”
عرا ریان کے قریب آکر آئستہ آواز میں بولی۔۔۔ مائے نور اسے کل سے عون کے پاس نہیں آنے دے رہی تھی لیکن اس کا بیٹا اسی چھت کے نیچے اُس کی انکھوں کے سامنے تھا یہ اطمینان عرا کے لیے کافی تھا۔۔۔ عرا چاہ رہی تھی ریان اس کے ساتھ ساتھ عون کو بھی اپنے ساتھ لے کر چلے جبکہ وہ خود شام میں سن چکی تھی ریان کی اسی بات پر مائے نور نے ریان کو اچھی خاصی باتیں سنائی تھی وہ عون کو کسی صورت سکندر ولا سے باہر بھیجنے کو تیار نہ تھی
“تم عون سے زیادہ پیار کرتی ہو یا پھر مجھ سے ہے۔۔۔ ہے تو یہ کافی بچگانہ سا سوال اس کا جواب بھی میں جانتا ہوں لیکن میں تمہارے منہ سے سننا چاہتا ہوں”
ریان عرا کو دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“جب جواب جانتے ہو تو پھر پوچھ کیوں رہے ہو ویسے بھی ہر ماں اپنے بچے کو ہی دنیا میں سب سے زیادہ پیار کرتی ہے۔۔۔ ویسے اگر یہ سوال میں تم سے کرو تو تم کیا جواب دو گے تم مجھے زیادہ پیار کرتے ہو یا پھر عون سے”
عرا کے پوچھنے پر ریان نے دوبارہ اس کے گرد بازووں کا حصار بناکر اسے اپنی پناہوں لےلیا
“تمہیں کیا لگتا ہے میں کس سے زیادہ پیار کرتا ہوں تمہیں یا پھر عون کو”
ریان محبت بھرے لہجے میں عرا سے پوچھنے لگا تو عرا سوچ میں پڑ گئی
“جواب ایسا مشکل بھی نہیں ہے جو یوں سوچنے بیٹھ گئی ہو میری آنکھوں میں جھانک کر دیکھو جواب تمہیں آسانی سے مل جائے گا”
ریان نرم لہجے میں عرا سے دوبارہ بولا تو عرا اس کی آنکھوں کو غور سے دیکھنے لگی جہاں اسے اپنا کا عکس صاف دکھائی دے رہا تھا عرا مسکرائی
“کیا تم مجھے عون سے بھی زیادہ پیار کرتے ہو”
وہ آئستگی سے نظریں جھکاتی ہوئی دھڑکتے دل کے ساتھ ریان سے پوچھنے لگی
“اُف میرے خدا یہ خوش فہمی”
ریان نے جس انداز میں جملہ بولا عرا خفا ہوکر اس کو دیکھتی ہوئی ریان کے حصار سے نکلنے لگی لیکن ریان نے اُس کی یہ کوشش ناکام کردی اور جھکتا ہوا عرا کے کان میں بولا
“میری جان میں تمہیں عون سے یا پھر عون کو تم سے دور نہیں کرسکتا اس لیے جدائی کا کڑوا گھونٹ خود پیتا ہوا تین دن کے لیے تم سے دور جارہا ہوں، دعا کرنا جیسے تمہارے تین دن آسانی سے گزر جائیں ویسے ہی میرے بھی یہ دن تمہیں دیکھے بغیر آسانی سے گزر جائیں۔۔۔ رہی بات زیادہ پیار کرنے کی تو تم اور عون دونوں ہی میری زندگی کا اہم حصہ ہو تم دونوں کے بغیر میری زندگی اب ادھوری ہے”
ریان اس کے کان میں بولتا ہوا بالوں پر ہونٹ رکھ کر عرا سے الگ ہوا
“زخم دکھاؤ اپنا اب بہتر ہے آج بینڈج کروائی تھی تم نے”
عرا کو اچانک سے اس کے ہاتھ پر لگی چوٹ یاد آئی وہ خود سے ریان کی آستین اوپر کرتی ہوئی دیکھنے لگی
“اتنی فکر مت کیا کرو میری کہیں مجھے یہ خوش فہمی نہ لے ڈوبے کہ میری بیوی مجھ سے سچ میں محبت کرنے لگی ہے”
ریان اپنی آستین نیچے کرتا ہوا بولا تو عرا اسے گھورتی ہوئی کمرے سے باہر جانے لگی
“یار سنو ہنی مون شارجہ میں نہ سہی یہی بنالیتے ہیں۔۔۔ میرا مطلب آج کی رات۔۔۔
ریان کی لو دیتی نظریں اور ادھورا جملہ عرا کو شرم سے پانی کر گیا ریان نے عرا کے چہرے کو حیا سے سرخ ہوتا دیکھا اور اس کو اپنی جانب کھینچا
“تم پاگل تو نہیں ہوگئے ہو صبح چھ بجے کی تمہاری فلائٹ ہے دو گھنٹے پہلے تمہیں نکلنا ہوگا ابھی تھوڑی دیر آرام کرلو”
عرا ریان سے اپنا آپ چھڑاتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔ ریان ڈھیلے ڈھالے انداز میں بیڈ پر تھوڑی دیر آرام کرنے کے غرض سے لیٹ گیا مگر اس کا ذہن ابھی تک یہی سوچ رہا تھا کل عرا زیاد کے کمرے میں آخر کیا کررہی تھی۔۔۔ زیاد کا کمرہ اب اس نے دوبارہ لاک نہیں کیا تھا
****
