Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel NovelR50397 Payar Howa Tha (Episode 18)
No Download Link
Rate this Novel
Payar Howa Tha (Episode 18)
Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel
عون کے عقیقے کی تقریب اچھے سے گزر گئی تھی رات میں جب ریان اپنے کمرے میں آیا تو عرا پہلے سے اس کے کمرے میں موجود تھی
“کیا ہوا تمہیں”
عرا کو بالکل سیریس اور چپ دیکھ کر ریان اس سے پوچھتا ہوا ہاتھ میں پہنی ہوئی رسٹ واچ اتارنے لگا
“مجھے کیا ہونا ہے”
عرا جو تھوڑی دیر پہلے عون کو فیڈ کروا چکی تھی سوئے ہوئے عون کو بیڈ پر لٹانے کے غرض سے صوفے سے اٹھنے لگی تو اس سے پہلے ریان نے اس کی گود سے عون کو لے لیا سوئے ہوئے عون کو پیار کرتا ہوا وہ اسے بیڈ پہ لٹانے لگا
“اتنی خاموش کیوں ہو”
عرا کے مختصر سے جواب دینے پر ریان اب دوبارہ اس کی طرف متوجہ ہوتا اس سے پوچھنے لگا ساتھ ہی اپنی پاکٹ سے والٹ اور موبائل نکال کر سائیڈ ٹیبل پر رکھنے لگا
“تم بھول گئے ہو میں تم سے پہلے بھی زیادہ بات چیت نہیں کرتی تھی پلیز مجھے کام کرنے دو”
عرا عون کے کپڑے تہہ کرتی ہوئی ریان سے بولی ریان خاموشی سے اُس کو دیکھنے لگا وہ کپڑے وارڈروب میں رکھ رہی تھی تو ریان اس کی پشت پر آکر کھڑا ہوگیا عرا نے پلٹ کر ریان کو دیکھا تو ریان اس کو دیکھتا ہوا بولا
“پہلے کی بات اور تھی لیکن اب ہمارا رشتہ بدل گیا ہے اب میں تم سے باتیں بھی کرو گا اور تم سے اپنے لئے تمہارا وقت بھی مانگو گا جو تمہیں مجھے دینا بھی پڑے گا”
ریان عرا کا چہرہ دیکھتا ہوا اسے بولا تو عرا اس کے سنجیدہ انداز پر ریان کو دیکھنے لگی ریان نے عرا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام لیا وہ صبح کی طرح نہ تو اس کا ہاتھ جھٹک سکی تھی نہ ہی اس کی گرفت سے اپنا ہاتھ نکال سکی تھی ریان اس کا ہاتھ پکڑ کر صوفے تک لایا اور عرا کو بٹھاتا ہوا اس کے برابر میں بیٹھ گیا
“بےشک تم مجھ سے ریزرو رہو لیکن میں جانتا ہوں ابھی تمہاری خاموشی کی وجہ کوئی نہ کوئی بات ہے عرا جو بھی بات تمہارے دل میں چھپی ہے وہ تم مجھ سے شیئر کرسکتی ہو۔۔۔ بلکہ بیوی ہونے کی حیثیت سے تمہیں اپنی ہر بات یا ہر پرابلم مجھ سے شئیر کرنی چاہیے”
ریان نے نرمی سے بولتے ہوئے اس کا ہاتھ دوبارہ تھام لیا۔۔۔ ریان کی بات سن کر بھی وہ خاموش رہی اس سے کچھ نہ بولی
“پلیز عرا اپنے اور میرے درمیان اجنبی بھرے اس تعلق کو ختم کرو ٹھیک ہے جن حالات کی وجہ سے ہم دونوں ایک رشتے میں باندھ گئے ہیں فوری طور پر اس کو قبول کرنا تمہارے لیے مشکل سہی لیکن یوں لاتعلقی برتنا بھی ٹھیک نہیں ہے تم مجھ سے اپنی بات کرسکتی ہو عون کی بات کرسکتی ہو تمہیں جو کوئی بھی مسئلہ ہے وہ تم مجھ سے شیئر کرسکتی ہو مگر اس طرح ایک ہی کمرے میں ایک چھت کے نیچے رہتے ہوئے یوں اجنبی جیسا بی ہیو مت کرو بےشک فوری طور پر تم اپنے اور میرے رشتے کو ایکسیپٹ نہیں کرسکتی مگر اس کو تھوڑی سی تو ویلیو دو”
عرا کے یوں خاموش رہنے پر ریان اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامے سمجھاتا ہوا بولا تو عرا جو خاموشی سے اپنا ہاتھ ریان کے ہاتھوں میں دیکھ رہی تھی ویلیو دینے والی بات پر سر اٹھاکر ریان کو دیکھنے لگی
“آنٹی نے تمہارے لیے عشوہ کا سوچا ہوا تھا وہ بھی تم میں انٹرسٹڈ تھی تمہیں پسند کرتی تھی تمہیں آج اسے روک لینا چاہیے تھا۔۔۔ اس کو اس کے فادر کے ساتھ جانے نہیں دیتے”
عرا کے بولنے پر ریان کنفیوز ہوتا اسے دیکھنے لگا
“اُسے روک کر کیا کرتا مطلب؟؟؟ کیوں روک لیتا اسے جانے سے”
ریان عرا سے بالکل سنجیدہ تاثر لیے سوال پوچھنے لگا
“مطلب وہ لائک کرتی تھی تمہیں۔۔۔ تو تمہیں اُس کے بارے میں سوچنا چاہیے تھا اپنی نئی زندگی کا آغاز تم اُس کے ساتھ کرتے”
عرا اپنی بات کا مطلب ریان کو سمجھانے لگی تو اس کی بات کے جواب میں ریان بولا
“وہ کرتی تھی پسند میں اس کو پسند نہیں کرتا تھا نہ کبھی میں نے اُس کو کسی بات کی اُمید یا آس دلائی تھی اسے ہمیشہ سے بہنوں کی طرح ٹریٹ کیا جیسے زیاد کرتا تھا اس کے باوجود اگر وہ میرے لیے کچھ الگ فیلنگز رکھتی تھی تو میں کیا کرسکتا ہوں۔۔۔ میں اُس کے لیے کیوں سوچتا اُس کے بارے میں سوچنے کے لیے دانش انکل اس کے ڈیڈ موجود ہیں میں تو اپنے لیے سوچوں گا ناں۔۔۔ اور وہی سوچوں گا جو مجھے ٹھیک لگے گا۔۔۔ تمہیں عاشو کے متعلق یہ ساری باتیں سوچنے کی بجائے اب میرے اور اپنے متعلق سوچنا چاہیے، ہمارے رشتے کے متعلق سوچنا چاہیے عون کے متعلق سوچنا چاہیے”
ریان کی بات پر عرا خاموشی سے اُس کو دیکھنے لگی تو ریان بھی اُس کو دیکھ کر دوبارہ بولا
“عاشو کی اتنی فکر ہورہی ہے تھوڑی فکر میری بھی کرلو شوہر ہوں تمہارا”
اچانک ریان کے بات پر اس کے دیکھنے کے انداز پر عرا اُس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑا کر کھڑی ہوگئی
“مجھے سونا ہے”
وہ نیند کو جواز بناتی ہوئی وہاں سے جانے لگی تبھی ریان نے عرا کا ہاتھ پکڑ کر اسے واپس اپنے پاس بٹھالیا
“تم سے اپنے لیے صرف وقت مانگا ہے رومینس کرنے کو نہیں کہہ رہا جو یوں ڈر کر بھاگ رہی ہو۔۔۔ سنو آگے جاکر بھی تم مجھ سے پیار ویار کے چکر میں مت پڑ جانا بس میری فکر کرلیا کرنا، تھوڑی توجہ دے دیا کرنا اور اپنا تھوڑا سا وقت میرے لیے نکال لیا کرنا باقی رہا پیار تو وہ مجھے تمہارے بس کی بات لگ بھی نہیں رہا۔ ۔۔۔ پیار محبت کے معاملات میں خود دیکھ لیا کرو گا”
ریان کی بات پر وہ خاموش نظروں سے ریان کو دیکھنے لگی تو ریان نے مسکرا کر اپنی پاکٹ سے خوبصورت سے بریسلیٹ نکالا
“اچھا لگ رہا تھا تو تمہارے لیے لے لیا۔۔ کیا یہ میں تمہیں پہنا دو؟؟؟ ریان عرا سے اجازت طلب کرتا ہوا اس کے بولنے کا انتظار کیے بغیر عرا کو اپنے ہاتھ سے بریسلیٹ پہنانے لگا کل عرا کے خالی ہاتھ دیکھ کر آج ریان کو خیال آیا کہ وہ اُس کے خوبصورت ہاتھوں کے لیے کوئی چیز لے لے۔۔ بریسلیٹ پہنانے کے بعد وہ اس کی سفید اجلی کلائی دیکھنے لگا پھر اپنی انگلی سے اس کی کلائی پر لکیر بنانے لگا عرا نے غور کیا تو وہ اس کی کلائی پر اپنی انگلی سے اپنے نام کی اسپیلنگ لکھ رہا تھا عرا نے اپنا ہاتھ کھینچا تو ریان اس کو دیکھنے لگا وہ عرا کو کچھ بولتا اس سے پہلے کمرے کا دروازہ ناک ہوا ریان نے اٹھ کر دروازہ کھولا تو مائے نور کمرے کے اندر آگئی
“آپ ابھی تک جاگ رہی ہیں سوئی نہیں”
ریان مائے نور کی نم آنکھوں کو دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا عرا اور ریان دونوں ہی جانتے تھے وہ عشوہ کے یوں سکندر ولا سے جانے کی وجہ سے بےحد اداس تھی
“نیند کیسے آسکتی ہے مجھے پہلے میرا بیٹا دنیا چھوڑ کر چلا گیا اِس لڑکی کی وجہ سے اور آج میری بیٹی یہ گھر چھوڑ کر چلی گئی اِسی لڑکی کی وجہ سے”
مائے نور غصے میں صوفے پر بیٹھی ہوئی عرا کی طرف انگلی سے اشارہ کرتی بولی تو عرا افسوس سے مائے نور کی طرف دیکھنے لگی
“ماں پلیز آپ زیاد کی موت کا یا پھر عاشو کے گھر چھوڑ کر جانے کا بلیم عرا کو نہیں دے سکتی۔۔۔ میں بالکل برداشت نہیں کرو گا اگر آپ اپنے دل میں اس کے لیے غصہ رکھے گیں۔۔۔ یہ بیوی ہے میری آپ کو اِسے اس گھر میں وہی عزت اور ویلیو دینا ہوگی جو میری بیوی ڈیزرو کرتی ہے”
ریان مائے نور کے سامنے کھڑا دو ٹوک لہجے میں بولا تو مائے نور ریان کا چہرہ دیکھنے لگی یہ زیاد نہیں تھا بلکہ ریان تھا مائے کو غصہ آنے لگا
“تو پھر سنبھال کر رکھو اپنی بیوی کو میں یہاں زیاد کے بیٹے کو لینے آئی ہوں”
مائے نور ریان سے بولتی ہوئی بیڈ کی طرف بڑھی اور سوئے ہوئے عون کو اپنی گود میں اٹھالیا تو عرا ایک دم سے پریشان ہوکر مائے نور کے راستے میں آگئی
“اِس وقت رات ہورہی ہے آپ ابھی عون کو کیوں لےکر جارہی ہیں پلیز اسے مجھے دے دیں”
عرا پریشان ہوتی مائے نور سے بولی تو مائے نور نے عرا کی بجائے ریان کو مخاطب کیا
“اسے کہہ دو یہ میرے راستے سے ہٹ جائے عون اب سے رات میں میرے پاس سوئے گا”
مائے نور کی آنکھوں میں نمی کے ساتھ اِس وقت چہرے پر اداسی بھرے تاثرات بھی رقم تھے اور لہجے میں ضد سمائی ہوئی تھی
“عرا عون کو ماں کے ساتھ جانے دو”
ریان کے بولنے پر عرا حیرت سے منہ کھولے ریان کو دیکھنے لگی
“مگر ریان میں عون کے بغیر۔۔۔
وہ اتنا ہی بولی ریان نے آگے بڑھ کر عرا کی کلائی پکڑ کر اسے مائے نور کے راستے سے ہٹادیا تو مائے نور کاٹ دار نگاہ عرا کے زرد پڑتے چہرے پر ڈال کر عون کو گود میں لیے کمرے سے باہر نکل گئی ریان نے آگے بڑھ کر کمرے کا دروازہ بند کیا تو عرا بےیقین سی ریان کی طرف دیکھنے لگی
“میں ماں ہوں اُس کی، عون بیٹا ہے میرا تم یا پھر کوئی دوسرا مجھے میرے بیٹے سے الگ نہیں کرسکتا”
نم آنکھوں کے ساتھ وہ احتجاج کرتی بولی کیونکہ عرا کو بالکل توقع نہ تھی کہ ریان مائے نور کے کہنے پر عون کو یہاں سے جانے دے گا
“میں جانتا ہوں تم ماں ہو اُس کی اور سب سے زیادہ عون پر حق تم ہی رکھتی ہو لیکن اِس وقت ماں عاشو کے جانے پر ڈسٹرب ہیں انہوں نے بچپن سے اُسے پالا تھا وہ اس وقت خود کو اکیلا محسوس کررہی ہیں تم خود بھی ماں ہو تو پلیز اُن کے درد کو سمجھو”
ریان عرا کے قریب آکر اسے نرمی سے سمجھاتا ہوا بولا تو عرا اس کی بات پر ایک دم بگڑی
“اگر عشوہ یہاں سے چلی گئی تو اس میں میرا کیا قصور ہے ریان مجھے میرے چھوٹے سے بچے سے دور کر کے کس بات کی سزا دے رہے ہو میں کچھ نہیں جانتی مجھے عون میرے پاس چاہیے ابھی اور اسی وقت”
ریان سے غصے میں بولتے ہوئے اُس کو اپنی بےبسی پر خود رونا آگیا وہ اس لیے تو سکندر ولا واپس نہیں آئی تھی کہ اُس کا بچہ اس سے دور کردیا جائے عرا کو روتا ہوا دیکھ کر ریان پریشان ہوگیا
“یار اِس بات کے لیے رو کیوں رہی ہو عرا عون کہیں دور تو نہیں گیا دو کمرے چھوڑ کر موجود ہے وہ کسی غیر کے پاس نہیں بلکہ اپنی دادی کے پاس ہے۔۔۔ ماں بھی تو حق رکھتی ہیں وہ اُن کا پوتا ہے اُن کا بیٹا اس دنیا میں موجود نہیں ہے وہ زیاد کا عکس عون میں دیکھتی ہیں تم پلیز اُن کی فیلنگز کو سمجھو تھوڑی دیر کی بات ہے۔۔۔ تھوڑا وقت گزر جانے دو میں خود سونے سے پہلے عون کو لے آؤ گا تمہارے پاس”
ریان آگے بڑھ کر عرا کے آنسو صاف کرتا ہوا اس سے بہلا کر بولا یہی اس لڑکی کی خوبی تھی وہ غصہ یا ضد نہیں کرتی تھی بلکہ بات کو سمجھ جاتی تھی
ریان عرا کی کلائی پکڑ کر اسے بیڈ تک لایا تو عرا خاموشی سے بیڈ پر بیٹھ گئی ریان نے جگ سے گلاس میں پانی انڈیل کر اُس کی جانب بڑھایا جسے وہ تھوڑا سا پی کر گلاس واپس جگ کے ساتھ رکھ چکی تھی۔۔۔ کمرے کی لائٹ بند کرکے ریان چینج کرنے چلاگیا واپس آکر بیڈ پر لیٹا تو عرا دونوں پاؤں بیڈ پر رکھے بالکل خاموش بیٹھی تھی نائٹ بلب کی روشنی میں وہ اپنے ہاتھ میں موجود بریسلٹ دیکھ رہی تھی جو تھوڑی دیر پہلے ریان نے اس کو پہنایا تھا
“لیٹ جاؤ تھوڑی دیر کے لیے ریسٹ کرلو”
آج عقیقے کی تقریب کی وجہ سے سارا دن رشتے داروں کے درمیان مصروف گزرا تھا وہ بھی تھک چکی تھی ریان اس کا خیال کرتا اس کو لیٹنے کے لیے بولنے لگا
“میں ایسے ہی ٹھیک ہوں”
عرا ریان کے برابر میں لیٹنے سے کترانے لگی کل رات کی طرح دوبارہ زیاد کے کمرے میں بھی نہیں جاسکتی تھی اس کی تصویر سے اب نظریں ملانا اُس کو اور بھی مشکل لگ رہا تھا اس لیے وہی بیڈ کے کنارے پر بیٹھی ہوئی ریان سے بولی تو ریان نیم اندھیرے میں عرا کا چہرہ دیکھنے لگا
“ایسے کتنی دیر تک بیٹھی رہو گی لیٹ جاؤ”
ریان کے دوبارہ بولنے پر وہ جھجھکتی ہوئی بیڈ پر بالکل کونے میں ہوکر لیٹ گئی اُن دونوں کے درمیان بیڈ پر کافی فاصلہ موجود تھا جسے محسوس کرتا ریان اس سے بولا
“فاصلے صرف دوریاں بڑھانے کی وجہ بنتے ہیں جبکہ میں تمہارے اور اپنے رشتے میں نزدیکیاں چاہتا ہوں جانتا ہوں تم ذہنی طور پر ان نزدیکیوں کے لیے تیار نہیں ہو لیکن اس رشتے کی نوعیت کو سمجھتے ہوئے تمہیں تھوڑی بہت کوشش کرنا پڑے گی پلیز میرا ساتھ دو ورنہ اس طرح ہم دونوں کی زندگی کبھی نارمل نہیں ہوسکے گی”
ریان نے بولتے ہوئے عرا کو ہلکا سا اپنی جانب کھینچا تو ریان کی اس حرکت پر عرا کا دل بری طرح سہم گیا اب ریان اور اس کے درمیان فاصلہ کافی کم تھا عرا کا دل ڈرنے لگا وہ اس کے اور اپنے رشتے میں نہ جانے اور کتنی نزدیکی چاہتا ہے
“کچھ بولو گی نہیں”
کل کی رات وہ اس سے کافی کچھ بول چکی تھی مگر تب وہ اپنے حواسوں میں نہیں تھی ریان آج اس سے اس کے ہوش و حواس میں باتیں کرنا چاہتا تھا
“کیا بولوں میرے پاس بولنے کے لیے کچھ نہیں ہے ویسے بھی تمہیں دیکھ کر مجھے سمجھ نہیں آتا کہ میں تم سے کیا بات کروں”
عرا بناء اس کی طرف دیکھے بالکل سچ بولی کیوکہ وہ شروع سے ہی اس کو عجیب انداز میں دیکھتا تھا ویسے بھی وہ صبح اس کے سامنے جتنی دلیری اور غصہ دکھاسکتی تھی دکھاچکی تھی اس وقت تو اس کے قریب لیٹی عرا کو ڈر لگ رہا تھا
“میں کچھ بولوں تم سے میرے پاس بولنے کے لیے اور تم سے باتیں کرنے کے لیے بہت کچھ ہے”
ریان کی بات پر عرا اپنے چہرے کا رخ اس کی جانب کرتی ریان کا چہرہ دیکھنے لگی اس شخص کی آنکھیں تو شروع دن سے ہی اس سے باتیں کرتی تھی نہ جانے اب وہ خود کیا کہنا چاہتا تھا ریان نے عرا کے جواب کا انتظار کیے بغیر اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑ کر اپنے دل پر رکھ دیا ریان کی اس حرکت سے عرا کے دل کی دھڑکنیں رک رک کر چلنے لگیں وہی عرا کا ہاتھ اپنے دل پر محسوس کرکے ریان کے دل کی دھڑکنیں مزید تیز ہوگئیں جن کا شور عرا باآسانی سن سکتی تھی
“کتنی عجیب بات ہے ناں زیاد اور میں ہم دونوں بھائی ایک ہی لڑکی کو اپنے دل میں بسائے بیٹھے تھے اور ہم دونوں ہی شروع سے ایک دوسرے کے دل کا حال بھی سمجھتے تھے ایک دوسرے کی فیلنگز سے بھی واقف تھے جب تم اپنے پھپھو کے ساتھ چلی گئی تھی تب مجھے یا پھر زیاد کو بالکل بھی امید نہیں تھی کہ تم کبھی دوبارہ ہم لوگوں کو مل سکتی ہو لیکن اتنے سالوں بعد تمہارا زیاد سے ملنا اور زیاد کا فوراً ہی تم سے شادی کرلینا بالکل ویسا ہی عمل تھا جس کا زیاد کو بھی اچھی طرح اندازہ تھا کہ اگر تم میری موجودگی میں اس سے ملی ہوتی تو میں کبھی بھی تمہاری اس سے شادی نہیں ہونے دیتا”
ریان کی بات پر عرا نے اس کے سینے پر رکھا اپنا ہاتھ کھینچنا چاہا مگر ریان اس کا ہاتھ چھوڑنے کی بجائے یونہی پکڑے اپنے سینے پر رکھا رہا
“تمہیں زیاد کے ساتھ دیکھ کر میں شاکڈ تھا یا پھر یوں سمجھ لو کہ اندر سے ناخوش تھا وہ لڑکی جس سے میں نے اپنے لیے پسند کیا تھا وہ میری نہیں بلکہ میرے ہی سگے بھائی کی بیوی تھی یہ سوچ مجھے اذیت دیتی تھی ہر پل ہر گزرتا دن تمہیں زیاد کے ساتھ دیکھ کر میں شاید اندر ہی اندر ختم ہوجاتا اس لیے میں نے تم دونوں کی زندگی سے دور جانے کا فیصلہ کیا لیکن اوپر والا ہماری زندگیوں کے متعلق کیا سوچ بیٹھا تھا اس بات سے نہ میں واقف تھا نہ زیاد اور نہ ہی تم۔۔۔ زیاد کو تمہارے ساتھ دیکھ کر بہت مرتبہ میرے دل میں خیال آیا کہ تمہیں چھین لوں اُس سے، تمہیں زبردستی اپنا بناکر کہیں دور لے جاؤ کیونکہ تم میری محبت تھی مگر کبھی بھی یہ نہیں چاہا تھا کہ زیاد یوں اس دنیا سے چلا جائے۔۔۔
ریان اُس سے بات کرتے زیاد کی موت کے ذکر پر خاموش ہوا تو عرا کے دل میں ٹھیس سے اٹھی کچھ وقفے کے بعد اندھیرے میں اسے ریان کی آواز ایک مرتبہ دوبارہ سنائی دی
عرا وہ میرا بھائی تھا۔۔۔ میں اُس سے کتنا ہی لڑتا، اُس پر غصہ کرتا، اُسے تنک کرتا یا اس کو چڑاتا یا پھر ماں سے اُس کو ڈانٹ پڑھوا کر خوش ہوتا لیکن میں اس سے بہت پیار کرتا تھا وہ یوں ہماری زندگی سے چلا جائے گا یہ بات کبھی میں نے وہم و گمان میں بھی نہیں سوچی تھی مگر اس نے اس دنیا سے جاتے ہوئے بھی میرے لیے، تمہارے لیے، اپنے بچے کے لیے سوچا تمہیں شاید یہی لگتا ہے نہ اپنے بھائی کے مرتے ہی میں نے تم سے شادی کرلی جیسے میں اِسی کا انتظار کررہا تھا”
بولتے ہوئے ریان نے عرا کا پکڑا ہوا ہاتھ اپنی آنکھوں پر لگالیا تو عرا کو اندازہ ہوا اس کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھی شاید زیاد کے ذکر پر وہ رو رہا تھا
“ایسا زیاد چاہتا تھا کہ میں تمہیں اور اُس کے بچے کو اپنالوں اس نے اپنی سانسیں بند ہونے سے پہلے مجھ سے وعدہ لیا تھا”
ریان کی بات پر عرا کے ہاتھ میں ہلکی سی لرزش ہوئی یہ کیسا انکشاف تھا زیاد ایسا چاہتا تھا عرا کو اپنی آنکھوں میں بھی نمی اترتی محسوس ہوئی
“اس لیے تمہیں اپنی بیوی کے روپ میں دیکھ کر میں تصور میں اپنے بھائی کے سامنے یا کسی دوسرے کے سامنے شرمندہ نہیں ہوسکتا بےشک تمہیں اپنانا میرے دل کی خوشی تھی مگر میں نے اُس سے کیا وعدہ بھی نبھایا ہے”
ریان نے بولتے ہوئے عرا کا پکڑا ہوا ہاتھ اپنے ہونٹوں پر رکھ دیا تو عرا کا دل ریان کی حرکت پر کانپ اٹھا
“تم سے محبت مجھے شادی سے پہلے بھی تھی اور اب بھی ہے اور ہمیشہ رہے گی چاہے میری محبت کا جواب تم غصے سے دو، بےرخی سے دو یا پھر مجھ سے لاتعلقی کا اظہار کرو مگر میرا اور تمہارا بہت گہرا تعلق بن چکا ہے اس بات کو ہمیشہ اپنے ذہن میں محفوظ رکھنا کہ اب تم پر صرف میرا حق ہے”
عرا کے ہاتھ کی پشت ابھی بھی ریان کے ہونٹوں کے نزدیک تھی ریان کے بات کرنے سے اس کے ہونٹ بار بار عرا کے ہاتھ کی پشت کو چھورہے تھے ریان عرا کے پکڑا ہوا ہاتھ ایک مرتبہ پھر ہونٹوں سے لگاتا ہوا دوبارہ اپنے دل پر رکھ چکا تھا
“میرا دل تمہیں مکمل طور پر اپنانے کا خواہش مند ہے لیکن اپنی اس خواہش کی تکمیل میں تمہاری مرضی پر چاہتا ہوں جب تک تم ذہنی طور پر اپنے اور میرے رشتے کے لیے تیار نہیں ہوجاتی تب تک میں تم سے اپنا حق وصول نہیں کرو گا لیکن اس بات کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوگا کہ ہمارے بیچ تکلف والا یا سرے سے لاتعلقی والا رشتہ ہوگا۔۔۔ تم اُس وقت میرے دل میں اٹھتا ان دھڑکنوں کا شور سن کر صاف محسوس کرسکتی ہو کہ میرا دل تمہیں دیکھ کر یا تمہارے ذرا سا چھونے پر کس قدر بےقابو ہوجاتا ہے۔۔۔ میں اپنے دل پر جبر کر کے اسے روک سکتا ہوں مگر اپنے دل کی بےاختیاری پر مکمل طور پر قابو پانا میرے بس میں نہیں ہے اور تم اس کے لیے مجھ سے خفا نہیں ہوگی بلکہ میری فیلنگز کا احساس کرو گی”
ریان عرا کا اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر اپنے مطلب کی بات کررہا تھا جس پر عرا کا سانس رکنے لگا وہ کس طرح اسے اپنے تھوڑا سا بھی قریب آنے دے سکتی تھی
“عرا تم میری بات سن رہی ہو”
عرا کا کوئی جواب نہ ملنے پر ریان سر اٹھا کر عرا کے جانب دیکھتا ہوا پوچھنے لگا مگر عرا فوراً سوتی ہوئی بن گئی
“تم جانتی ہو میرا دل اس وقت بھی تمہارے ہونٹوں کو چھونے کی خواہش میں بےقرار ہورہا ہے”
ریان عرا کی بند آنکھوں کو دیکھ کر لیمپ کی روشنی جلاتا ہوا اس کے قریب آکر بولا تو عرا تب بھی سوتی بنی رہی ریان اس پر جھگ کر اس کے گلابی ہونٹوں پر اپنا انگوٹھا پھیرنے لگا ریان کی اس حرکت پر عرا کا چہرہ گھبراہٹ لیے شرم سے گلابی پڑنے لگا جس کو دیکھ کر ریان کے ہونٹوں کو مسکراہٹ چھو گئی کیونکہ وہ جان گیا تھا وہ اس وقت جاگ رہی تھی
“تمہارے ہونٹوں کو چھونے کی خواہش میں ابھی نہیں تمہارے مکمل حواس میں جاگتے ہوئے پوری کرو گا جس کا تم یقیناً برا بھی نہیں مناؤ گی کیونکہ اس وقت تو تم سو چکی ہو اس لیے اب عون کو بھی ماں کے پاس ہی رہنے دو”
ریان عرا کا چہرہ دیکھتا ہوا بولا عرا کی جانب اپنے کروٹ لیے اپنا تکیہ عرا کے تکیے سے ملا کر خود بھی سونے کے لیے لیٹ گیا جبکہ عون والی بات پر عرا کا دل چاہا وہ آنکھیں کھول کر ریان کو بتادے کہ وہ جاگ رہی ہے لیکن اگر ریان عون کو لانے سے پہلے اپنی کوئی فضول سی خواہش کی تکمیل کر بیٹھتا تو۔۔۔۔
آگے عرا سے سوچا نہیں گیا وہ سوتی بنی رہی لیکن تھوڑی دیر بعد اُس کو سچ میں نیند آگئی
****
