Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Payar Howa Tha (Episode 4)

Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel

“مس عرا میڈم تاج نے آپ کو اپنے روم میں بلایا ہے آپ کا کوئی کزن آپ کو لینے آیا ہے”

پریڈ ختم ہونے کے بعد عرا اسٹاف روم میں دوسری ٹیچرز کے ساتھ ابھی آکر بیٹھی تھی تب آیا عرا کے لیے میڈم تاج کا پیغام لائی اتفاق سے آج تزئین نے بھی اسکول سے آف لیا تھا آیا کے پیغام پر عرا حیرت سے شہرینہ کو دیکھنے لگی جو خود بھی آئی برو اچکا کر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی

“یہ میرا کون سا کزن پیدا ہوگیا جو مجھے لینے کے لیے آیا ہے”

عرا دل میں سوچتی ہوئی آیا کے پیچھے چلتی ہوئی میڈم تاج کے روم میں پہنچی

“آئیے مس عرا یہاں تشریف رکھیے”

میڈم تاج نے اپنے روم کے دروازے پر عرا کو دیکھتے ہوئے اندر آنے کی اجازت دی عرا میڈم کو سلام کرتی ہوئی اُس مرد کو دیکھنے لگی جس کی پشت اُس کی جانب تھی عرا نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے جیسے ہی اپنے برابر میں نظر ڈالی

“آپ” وہ ذیاد کو اپنے اسکول میں دیکھ کر بری طرح چونکی

“ہاں میں۔۔۔مجھے آنا پڑا کیونکہ پھپھو کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اس لیے تمہیں لینے کے لیے آیا ہوں” زیاد نے جلدی سے عرا کو دیکھتے ہوئے بولا تو عرا کنفیوز سی زیاد کو دیکھنے لگی پھر میڈم تاج کی طرف اپنے چہرے کا رخ کیا

“پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے آپ اپنے کزن کے ساتھ چلی جائیں آپ کی کلاس کا نیکسٹ پیریڈ مس علیشہ لے لیں گیں”

میڈم تاج نے شائستگی سے بولتے ہوئے اس کو زیاد کے ساتھ جانے کی پرمیشن دے دی عرا شکریہ کہہ کر خاموشی سے زیاد کے ہمراہ اسکول سے باہر نکل آئی

“عرا مجھے تم سے بات کرنی ہے پلیز کار میں بیٹھو چند منٹ میری بات سن لو”

زیاد نے عرا کو اسکول سے نکلنے کے بعد دوسرے سمت جاتا ہوا دیکھا تو وہ عرا کے سامنے آکر اس کا راستہ روکتا ہوا بولا

“آج کافی گری ہوئی حرکت کی ہے آپ نے مسٹر زیاد آپ کو کیا لگ رہا ہے آپ کی یہ حرکت مجھے امپریس کرے گی پیچھے ہٹئیے راستہ دیں مجھے اپنے گھر جانا ہے”

عرا غصے میں زیاد کو گھورتی ہوئی بولی جو اس کو اسکول سے غلط بیانی کرکے اپنے ساتھ لےکر آیا تھا عرا اُس وقت میڈم تاج کے سامنے ذیاد کو شرمندہ کرکے اپنی پوزیشن خراب نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے خود وہاں سے چلی آئی تھی

“پہلے میری بات سن لو پھر گھر چلی جانا آج تم یہاں سے میری بات سنے بغیر تو بالکل نہیں جاسکتی پلیز اِس طرح کھڑے رہنا اچھا نہیں لگ رہا گاڑی میں بیٹھ جاؤ”

زیاد کو اپنی عزت سے زیادہ اس کی پروا تھی راہ گزرتے لوگ اور سامنے موجود شاپ کیپرز اور گارڈز اُن دونوں کو دیکھ رہے تھے تبھی زیاد اس سے التجائی انداز اپناتا ہوا گاڑی میں بیٹھنے کے لیے بولا

“میں گاڑیوں میں بیٹھنے والی لڑکی نہیں ہوں مسٹر زیاد آپ مجھے غلط سمجھ رہے ہیں میرا راستہ چھوڑ دیں”

عرا اس کو بولتی ہوئی سائیڈ سے جانے لگی تبھی زیاد نے اس کا بازو پکڑا جس پر عرا حیرت زدہ ہوکر زیاد کی جرات پر اس کو دیکھنے لگی

“اگر تم گاڑیوں میں بیٹھنے والی لڑکی نہیں ہو تو میں بھی وہ مرد نہیں ہوں جو ہر دوسری لڑکی کے پیچھے اپنی گاڑی لےکر گھومتا پھرو میں تم سے بات کرنا چاہ رہا ہوں مگر تم بلاوجہ کی ضد کر کے مجھے سختی پر مجبور کررہی ہو میں نہیں چاہتا یہاں سب کے سامنے تمہیں زبردستی اٹھاکر اپنی گاڑی میں بٹھالوں پلیز خود ہی گاڑی میں بیٹھ جاؤ”

زیاد نے بولنے کے ساتھ اس کا بازو چھوڑا تو عرا حیرت سے اس کی باتوں پر اس کو دیکھتی رہ گئی

“آپ میرے ساتھ یوں زبردستی نہیں کرسکتے”

وہ زیاد کو دیکھتی ہوئی بولی نہ جانے وہ کس ناتے یوں حق جتاکر ایسے بول رہا تھا

“عرا میں تمہارے ساتھ زبردستی کرنا بھی نہیں چاہتا لیکن اگر تم مجھے اپنے ساتھ زبردستی کرنے پر مجبور کرو گی تو پھر میں تمہارے ساتھ زبردستی ہی کروں گا پلیز صرف ایک مرتبہ میری مکمل بات سن لو”

اب کی مرتبہ زیاد نے گاڑی میں بیٹھنے کا منہ سے نہیں بولا تھا بلکہ اپنے ہاتھ سے گاڑی کی جانب اشارہ کیا عرا نے دائیں بائیں جانب آتے جاتے لوگوں کو دیکھ کر زیاد کی گاڑی کی جانب اپنے قدم بڑھائے جس پر زیاد نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے شکر ادا کیا

****

“یہ گاڑی کس خوشی میں اسٹارٹ کررہے ہیں آپ پلیز گاڑی روکیں”

زیاد کو گاڑی اسٹارٹ کرتا دیکھ کر وہ اندر سے بری طرح ڈر گئی اور گھبراتی ہوئی زیاد سے بولی

“کڈنیپ نہیں کررہا ہوں میں تمہیں ایسے ڈر کیوں رہی ہو یار ریلیکس ہوکر بیٹھ جاؤ معلوم نہیں تم مجھے کیا سمجھ رہی ہو نہ ہی میں کوئی کڈنیپر ہوں جو تمہیں دن دہاڑے کڈنیپ کر کے لے جاؤں گا اور نہ ہی کوئی تھرڈ کلاس راہ چلتا تمہارا عاشق ہو جو تمہیں زبردستی اپنے ساتھ بھگا کرلے جاؤ گا۔۔۔ میں ایک ایجوکیٹڈ پرسن اور ڈیسنٹ سا بندہ ہوں سیدھے سادے اور عزت دار طریقے سے تم سے بات کرنا چاہتا ہوں بس” زیاد کار ڈرائیو کرنے کے ساتھ عرا سے بولا جس کے چہرے پر ابھی بھی ہوائیاں اڑتی نظر آرہی تھی کیونکہ آج سے پہلے نہ تو کسی نے اس کے ساتھ یہ سب کرنے کی جرات کی تھی نہ ہی اس نے کبھی کسی اجنبی کی گاڑی میں بیٹھنے کی حماقت کی تھی

“شہرینہ نے بالکل اچھا نہیں کیا میرے ساتھ میں اس کو معاف نہیں کروں گی”

عرا نے جیسے زیاد سے نہیں بلکہ خود اپنے آپ سے بولا تھا جس پر زیاد ڈرائیونگ کرتا عرا کی جانب دیکھکر اس سے بولا

“تمہاری فرینڈ نے تمہارے ساتھ کچھ غلط نہیں کیا جب میں تمہارا ہی نمبر نوٹ نہیں کرسکا تو میں تمہاری فرینڈ کو کیوں کال کرتا”

زیاد اسے اپنی سہیلی سے بدگمان ہوتا دیکھ کر اس کی بدگمانی دور کرتا بولا وہ بلاوجہ ہی شہرینہ پر شک کررہی تھی

“تو پھر کیا آپ کو الہام ہوا ہے کہ میں یہاں اس اسکول میں جاب کرتی ہوں”

عرا زیاد کو دیکھ کر اکھڑے ہوئے لہجے میں بولی جس پر زیاد نے دوبارہ اس کے چہرے پر نظر ڈالی یوں ناراض ہونے والا انداز اس کا ابھی تک نہیں بدلا تھا جس پر زیاد دل میں مسکرایا

“عرا جس دن تم اس ٹیکسی میں اپنے گھر گئی تھی میں نے اس ٹیکسی کا نمبر نوٹ کرلیا تھا اور اسی ٹیکسی ڈرائیور کے تھرو تمہارا ایڈریس پتہ کرلیا جب ایڈریس معلوم ہوجائے تو سارا ڈیٹا معلوم کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہوتا میرے پاس اس وقت تہمارے گھر کا ایڈریس تمہارا موبائل نمبر بھی محفوظ ہے۔۔۔ میں نے تمہیں کال اس لیے نہیں کی کیونکہ میں تمہیں تنگ نہیں کرنا چاہتا تھا ڈائریکٹ تمہارے گھر اس لیے نہیں آیا کہیں تمہاری پھپھو تم سے خفا نہ ہوجائے میں تمہیں کسی بھی طرح پریشان نہیں کرنا چاہتا ہوں آؤ تھوڑی دیر یہاں بیٹھ کر بات کرلیتے ہیں پھر میں تمہیں تمہارے گھر ڈراپ کردوں گا”

زیاد ایک بڑے سے ہوٹل کے آگے اپنی کار روک چکا تھا عرا اپنی گھبراہٹ چھپائے گاڑی سے اتری اگر اس کی پھپھو کو علم ہو جاتا وہ اجنبی مرد کے ساتھ کسی ہوٹل میں بیٹھی ہوئی ہے تو کھڑے کھڑے اس کی پھپھو اس پر اپنے گھر کے دروازے بند کردیتی

“تم نے صبح ناشتہ کیا تھا”

عرا کے چہرے پر گھبراہٹ چھپائے نہیں چھپ رہی تھی زیاد عرا کے چہرے پر نظر ڈال کر دوستانہ لہجے میں پوچھنے لگا

“میں یہاں آپ کے ساتھ ناشتہ کرنے نہیں بیٹھی ہوں آپ کو جو بھی بات کرنی ہے آپ جلدی سے کریں مجھے بس اپنے گھر جانا ہے”

عرا زیاد کو جتاتی ہوئی بولی تو زیاد نے گہرا سانس لیا پھر اس کو دیکھتا ہوا سنجیدگی سے بولا

“آئی لو یو”

زیاد کہ یوں اچانک آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولنے پر وہ حیرت سے زیاد کا چہرہ دیکھتی رہی اور اتنی ہی بےیقینی سے زیاد کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی

“آپ مجھے یہ بات بولنے کے لیے اسکول سے یہاں تک لے کر آئے ہیں”

آج عرا کو یقین ہوگیا تھا سامنے بیٹھا ہوا یہ مرد اگر مینٹل کیس نہیں ہے تو ضرور اس کا کوئی اسکرو ڈھیلا ہوچکا ہے

“نہیں یہ بات میں تمہیں گاڑی میں بٹھاکر بھی بول سکتا تھا مگر اصل بات شروع کرنے سے پہلے میں نے سوچا تمہیں معلوم ہونا چاہیے تم آج جس انسان کے سامنے بیٹھی ہو وہ انسان اپنے دل میں تمہارے لیے کیا فیلینگز رکھتا ہے”

اب کی مرتبہ زیاد کے بولنے پر عرا کی نظریں جھگ گئی جس پر زیاد کے چہرے پر مسکراہٹ آئی

“ایگزیکٹلی تمہارے فیس پر یہی ایکسپریشن دیکھنا چاہ رہا تھا میں”

زیاد کے بولنے پر عرا نروس ہوئی تو زیاد اپنے پاس آئے ویٹر کو کافی کا آرڈر کرنے لگا

“عرا میں اپنی مدر کو تمہاری پھپھو کے گھر ملوانے کے لیے لےکر آنا چاہتا ہوں بتاؤ کب لےکر آؤں میں ماں کو ان سے ملوانے کیونکہ ماں دو سال سے میری شادی کروانا چاہ رہی ہیں اب جبکہ تم مجھے مل چکی ہو اور میری تلاش ختم ہوچکی ہے تو میں چاہتا ہوں بناء وقت ضائع کیے ماں کو تمہاری پھپھو کی طرف لے آؤں”

زیاد اتنے عام سے انداز میں اتنے سیریس ٹاپک پر بات کر رہا تھا عرا کو کچھ سمجھ نہیں آیا وہ فوراً کیا بولے

“کیا آپ یہ جاننے میں انٹرسٹڈ نہیں ہیں کہ میری پسند میری مرضی کیا ہے اس سلسلے میں”

عرا کے بولنے پر ایک پل کے لیے زیاد بری طرح چونکا پھر بولا

“یہ کوئیشن تو مجھے تم سے لازمی پوچھنا چاہیے تھا لیکن اتنا میں جانتا ہوں جو رشتہ تمہارے لیے تمہاری پھپھو نے پسند کیا تھا اس رشتے کا تم آج گھر جاکر اپنی پھپھو کو منع کرنے والی ہو اس کے علاوہ اگر کوئی دوسرا تمہارے دل میں دماغ میں تصور یا پھر یادوں میں موجود ہے تو تم بالکل فرینڈلی مجھ سے شیئر کرسکتی ہو”

زیاد کافی کا مگ اٹھا کر کافی کا سپ لیتا ہوا بغور عرا کے تاثرات کا جائزہ لیتا ہوا اس سے بولا

“میرے دل و دماغ تصور یا یادوں میں ایسا کوئی دوسرا نہیں ہے اور دوسری بات پھپھو اس رشتے سے انکار نہیں کریں گی جو انہیں نے میرے لیے پسند کیا ہے کیونکہ پھپھو کی نظر میں وہ رشتہ ہر لحاظ سے بہتر ہے اور ویسے بھی مجھے بچپن سے ہی اپنی مرضی کی اجازت نہیں ہے”

ٰعرا نے اپنے ذہن میں بچپن کی یادوں کو جھٹکا تھا جو اب بےمعنٰی سی تھی اس کا دل اداس سا ہونے لگا وہ سب باتیں زیاد سے شیئر نہیں کرسکتی تھی اس کی ذات پر اس کی پھپھو کے کتنے احسانات تھے نہ وہ اپنے ادھورے بچپن کا تذکرہ زیاد کے سامنے کرنا چاہتی تھی

“عرا جو رشتہ تمہاری پھپھو نے تمھارے لیے پسند کیا ہے وہ لوگ اب دوبارہ تمہاری طرف نہیں آئیں گے اُس چیپٹر کو اب کلوز سمجھو اِس کی گارنٹی میں لیتا اصل مسئلہ اُن لوگوں کا نہیں ہے اس کے علاوہ تم اچھی طرح سوچو تم خود کیا چاہتی ہو”

زیاد نے ایک مرتبہ پھر اس کو سوچنے کا بولا جیسے وہ اس سے کچھ اگلوانا چاہ رہا ہو

“میں کیا چاہوں گی میری ساری سوچیں میری ساری خواہشات سارے خواب میرے بچپن کے ساتھ ہی رخصت ہوچکے ہیں میں اب اور کچھ نہیں چاہتی ہوں”

وہ اداس لہجے میں بولی اس کے لہجے میں اداسی زیاد خود بھی محسوس کرسکتا تھا اچانک ہی اس نے عرا کے آگے اپنا ہاتھ بڑھایا عرا کنفیوز ہوکر زیاد کو دیکھنے لگی

“تم اپنا خوبصورت ہاتھ میرے ہاتھوں میں پکڑانا پسند کروگی اٹس مائی ریکویسٹ”

زیاد گہرا سانس لیتا ہوا اس سے بولا تو عرا نے جھجھک کر نروس ہونے کے ساتھ اپنی گود میں رکھا ہوا ہاتھ زیاد کے ہاتھ میں دیا پل بھر کے لیے زیاد اس کو اور وہ زیاد کو دیکھنے لگی وہ لمحہ وہ پل جیسے تھوڑی دیر کے لیے وہی تھم سا گیا عرا کو زیاد کی آواز سنائی دی

“کیا تم اب بھی جاننا چاہو گی لونگ ہسبینڈ کیسا ہوتا ہے”

زیاد عرا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے غور سے اُس کا چہرہ دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا جس پر وہ لمحے بھر کے لیے چونکی مگر کچھ بول نہ سکی صرف خاموشی سے زیاد کو دیکھنے لگی زیاد کو محسوس ہوا جیسے زیاد کے ہاتھ میں نوجود عرا کا ہاتھ ہلکا سا لرزا ہو۔۔۔ ذیاد عرا کے تاثرات دیکھتا ہوا دوبارہ بولا

“لونگ ہسبینڈ وہ ہوتا ہے جو اپنی وائف کو ڈھیر سارا پیار دیتا ہے اُس کو ہر وقت خوش رکھتا ہے اُس کی کیئر کرتا ہے اور اُس کو اچھے طریقے سے پروٹیکٹ کرتا ہے عرا میرا یقین کرو میں تمہارے لیے اچھا ہسبینڈ ثابت ہونگا تمہاری کیئر بھی کروں گا، تمہیں خوش بھی رکھوں گا اور تمہیں ہر طرح سے پروٹیکٹ بھی کروں گا”

عرا بےیقینی کی کیفیت میں آنکھیں میں حیرانی لیے زیاد کو دیکھنے لگی بھولی بسری بچپن کی یادیں اور باتیں ایک دم ذہن پر حملہ آور ہوتی چلی گئی یہ سب باتیں تو۔۔۔ گھبراہٹ سے عرا کا ہاتھ کانپا تھا زیاد نے عرا کے ہاتھ کو ہلکا سا دباؤ دیا حیرت زدہ ہوکر عرا زیاد کو دیکھنے لگی

“ذی”

آن اور ذی ان دونوں بھائیوں سے اُس کی بچپن میں دوستی، بہت ساری یادیں اور بچپن کی باتیں اُس کے دماغ میں تازہ ہوتی چلی گئی عرا کے ذی بولنے پر زیاد کے چہرے پر اسمائل آئی

“تو یعنی بڑے ہوکر ہم دونوں ہسبینڈ اینڈ وائف بن جائیں گے۔۔۔ یس میں بڑا ہوکر تمہیں اپنی وائف بنالوں گا”

بچپن کے دور میں بھولپن میں کی گئی وہ اپنی باتیں عرا کو یاد آنے لگی اِس وقت زیاد کو اپنے سامنے دیکھ کر اُس کی عجیب سی کیفیت ہونے لگی اُس سے کچھ بولا ہی نہیں گیا اس کا ہاتھ ابھی بھی زیاد کے ہاتھ میں موجود تھا وہ کیوں نہیں پہچان پائی تھی اس کو۔۔۔ وہ اس کے نام سے بھی اس کو نہیں جان سکی تھی شاید اس لیے کیونکہ وہ بڑا ہوکر کافی چینج ہوگیا تھا

“میں بڑا ہوکر آگیا ہوں عرا تمہیں اپنی وائف بنانے”

زیاد اُس کو کھویا ہوا دیکھ کر بولا تو عرا نے ہوش میں آکر اپنا ہاتھ اُس کے ہاتھ سے نکال کر ٹیبل پر رکھا زیاد کے مسکرا کر دیکھنے پر وہ بھی مسکرا کر اُسے دیکھنے لگی

“میں تمہیں سچ میں نہیں پہچانی تم کافی زیادہ چینج ہوگئے ہو”

عرا زیاد کو دیکھ کر جھجھکتی ہوئی اتنا ہی کہہ سکی تھی جس پر زیاد اس کے جواب پر فوراً بولا

“اور تم بچپن کے مقابلے میں اب اور بھی زیادہ خوبصورت ہوگئی ہو”

زیاد کے بولنے پر وہ بری طرح بلش کر گئی اُس کے چہرے پر حیا کے رنگ دیکھ کر زیاد کھو سا گیا اب کی مرتبہ زیاد نے عرا سے اس کا ہاتھ پکڑنے کی اجازت نہیں مانگی بلکہ خود ہی اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر عرا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام لیا اور دوسرے ہاتھ سے پاکٹ میں رکھی ہوئی رینگ نکال کر اس کے ہاتھ میں پہنانے لگا جس پر عرا تھوڑی نروس ہوکر اُس کو دیکھنے لگی

“میں آج بہت خوش ہوں کیا تم بھی خوش ہو”

زیاد کے چہرے پر خوشی واضح چھلکتی نظر آرہی تھی وہ عرا کو دیکھ کر اس سے پوچھنے لگا جس پر عرا مسکرا کر اقرار میں سر ہلانے لگی جیسے وہ ابھی بھی یقین کرنا چاہ رہی تھی

“تو پھر اِسی خوشی میں تمہیں کس کرلوں”

زیاد کے اتنی بےباکی سے پوچھے گئے سوال پر عرا نے فوراً ہی اپنا ہاتھ اُس کے ہاتھ سے کھینچ لیا جس پر زیاد مسکراتا ہوا اُس کا بلش کرتا چہرہ دیکھنے لگا

“اب گھر چلیں”

زیاد کی بات پر وہ گھبراتی ہوئی بولی

“مزاق کررہا ہوں یار نہیں کررہا کس بیٹھی رہو تھوڑی دیر بعد چلتے ہیں”

زیاد اس کو نروس دیکھ کر بولا تو عرا زیاد کو دیکھنے لگی

****

“مجھے تو یہ سب سن کر حیرت سے زیادہ خوشی ہورہی ہے عرا کتنا اچھا ہوگیا تمہارے ساتھ زیاد تمہارے بچپن کا فرینڈ نکلا مجھے تو شروع دن سے ہی اةس کو دیکھ کر بہت پوزیٹو وائبس آرہی تھی تم ہی بلاوجہ ڈر رہی تھی”

شہرینہ دوسرے دن اسکول سے عرا کے ساتھ اُس کے گھر آگئی تھی وہ دونوں عرا اور تزئین کے مشترکہ کمرے میں بیٹھی باتیں کررہی تھی

“میری لائف میں بچپن سے ہی پوزیٹو بہت کم ہوا ہے شہرینہ اس لیے مجھے کسی سے فوراً پوزیٹو وائبز نہیں آتی زیاد کا یوں اچانک سے میری زندگی میں آجانا معلوم نہیں خوش آئین ثابت ہوگا میرے لیے یا نہیں”

وہ اندیشوں میں گھری کیفیت سے شہرینہ کو دیکھتی ہوئی بولی پیدائش کے بعد ہی اُس کی ماں کا اُس کو چھوڑ کر چلے جانا چھ سال کی عمر میں اُس کے باپ کا لاپتہ ہوجانا اس کی ساری دوستیں اُس کا گھر اس کا اسکول، ٹیچرز بچپن میں سب کا باری باری اس کی زندگی سے دور ہوجانا اور پھر اپنی پھپھو کے پاس آنے کے بعد جو اُس کی نئی زندگی کا آغاز ہوا تھا وہ زندگی اس کی بچپن کی زندگی سے یکسر مختلف تھی

“انشاءاللہ اب سب کچھ اچھا ہوگا تم اچھا ہی سوچو ویسے زیاد نیچر کا کیسا ہے” شہرینہ اپنی دوست کے لیے خوش تھی کالج ختم ہونے کے بعد تزئیں کے ساتھ اُن دونوں نے بھی قریبی اسکول میں جاب کرلی تھی وہ عرا کے قریب تھی عرا اس سے اپنی ساری باتیں شیئر کرلیتی تھی

“بہت زیادہ فرینک نیچر ہے کونفیڈنٹ اور منہ پھٹ سا بھی توبہ”

اسے یاد آیا پہلی ملاقات میں زیاد کا یوں اچانک پرپوز کرنا اور دوسری دفعہ ملنے پر وہ اس سے کس کرنے کا پوچھ رہا تھا زیاد کی بات سوچتے ہوئے عرا کے گالوں پر سرخی اتر آئی

“اُف تم تو ایسے شرما رہی ہو جیسے اُس نے تم سے کس وغیرہ مانگ لی ہو”

شہرینہ اس کے گالوں پہ اتری لالی دیکھ کر شرارت سے بولی جس پر عرا غُصّے میں اةس کو گھور کر ڈانٹتی ہوئی بولی

“تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے فضول باتیں مت کیا کرو مجھ سے ورنہ پٹ جاؤگی”

عرا اپنی جھینپ مٹاتی ہوئی مصنوعی غصہ چہرے پہ لائے شہرینہ سے بولی جس پر اُسے ہنسی آگئی

“ارے یار تمہیں تو ڈھنگ سے غصہ کرنا بھی نہیں آتا یعنٰی میں نے سچ بولا ہے یہ بتاؤ تم نے کل زیاد کے کس مانگنے پر اُس کو کس دی یا پھر یونہی اس کے سامنے شرماتی رہی”

شہرینہ کے شرارت بھرے انداز میں پوچھنے پر عرا

نے اس کو مارنے کے لیے کشن اٹھالیا ویسے ہی کمرے میں عالیہ پھپھو چلی آئی

“کب سے یہ بےہودہ حرکتیں کرتی آرہی ہو تم شرم نہیں آئی تمہیں کسی غیر مرد سے چکر چلاتے ہوئے کوئی اثر ہی نہیں لیا تم نے میری تربیت کا اور لیتی بھی کیوں پیدا تو تمہیں اس فرنگی عورت نے ہی کیا ہے۔۔۔ جو تمہیں پیدا کرکے تمہارے باپ کے منہ پر مار کر دوسرے مرد کے پاس چلی گئی دکھا دیا ناں آخر تم نے اپنا رنگ”

عالیہ پھپھو کے اس قدر تلخ کڑوی بات سن کر وہ صدمے کی کیفیت میں اُنہیں دیکھنے لگی جبکہ شہرینہ کو اپنا وہاں کھڑے رہنا عجیب لگا مگر عرا کی آنکھوں میں نمی اترتے دیکھ کر وہ ہمت کرتی بولی

“آپ عرا کو غلط سمجھ رہی ہیں وہ کسی شخص کو نہیں جانتی بلکہ زیاد اس کے بچپن کا دوست ہے تب کا دوست جب عرا اپنے فادر کے ساتھ رہتی تھی زیاد وہی اس کے گھر کے برابر میں رہتا تھا اس نے عرا کو دیکھا اور پہچان لیا اس میں عرا کا کیا قصور ہے بھلا”

شہرینہ کو اپنے دفاع میں بولتے ہوئے دیکھ کر عرا کی آنکھیں مزید نم ہوئی تھی اس کی پھپھو نے شہرینہ کی اتنی بات سن بھی لی تھی اگر وہ کچھ بولتی تو شاید عالیہ پھپھو اُس کی ایک بات نہ سنتی

“بس رہنے دو بی بی اس کی سائیڈ لینا بند کرو اِسی کا سارا قصور ہے اب ساری بات میری سمجھ میں آرہی ہے اُس زیاد نامی لڑکے کو اپنی محبت کے جال میں پھنسا کر اس نے اسی سے فون کروایا ہے اسد کے گھر پر جبھی انہوں نے رشتے سے صاف انکار کردیا ہے اسد کی اماں نے اور خود مجھ سے بولا ہے کہ اپنی بھتیجی کی وہی شادی کردو جہاں اس کی مرضی ہے”

عالیہ پھپھو آخری جملہ زہر بھری نظروں سے عرا کو دیکھتی ہوئی بولی تو عرا منہ پر ہاتھ رکھ کر رونے لگی تب تزئین بھی کمرے میں چلی آئی

“ویسے خالہ جانی اُس اسد نامی لنگور سے تو بہتر ہی ہے کہ یہ کسی دوسرے بندے سے شادی کرلے دیکھا نہیں آپ نے خود اسد صاحب کے سر سے بال اُڑے ہوئے ہیں چیچک کے دانوں سے اُن کا منہ سجا ہوا تھا اور لڑکی چاہیے تھی انہیں ایسی جو دکھنے میں انگریز لگے عجوبہ ٹائپ کی اُس آدمی کی بہنیں لگ رہی تھی سستی سی ٹک ٹاکر اور اماں کو نہیں دیکھا تھا کیسی بڑی بڑی ڈھینگے مار رہی تھی ہمارے سامنے جیسے ان کا بیٹا کوئی شہزادہ گلفام ہو”

تزئین کے زبان چلانے پر اب کی مرتبہ عالیہ نے غصے سے گھورتے ہوئے تزئین کو دیکھا

“بکواس بند کرو اپنی اور دفع ہوجاؤ یہاں سے کچن میں جاکر برتن مانجھو اچھا ہے تمہیں بھی اسی سال فارغ کروں میرے سینے پر دو دو سِلے موجود ہیں ذرا تو بوجھ کم ہو میرا اور تم یہاں کھڑی ہوکر ٹسوے بہاکر اپنی پارسائی کا ثبوت دینا بند کرو بےشرمی کی تو حد ہی ختم ہوکر رہ گئی ہے آج کل کی لڑکیوں میں۔۔ اُس رشتے والی فہمیدہ کے آگے کیسی منتیں کی تھی میں نے کہ بن ماں باپ کی شریف بچی ہے کوئی ڈھنگ کا رشتہ بتادے یہ نہیں معلوم تھا شریف بچی نے خود اپنے لیے پہلے ہی رشتہ تلاش کیا ہوا ہے نہ جانے کب سے پر پُرزے نکال کر بیٹھی تھی مجھے تو آج معلوم ہوا”

عالیہ پھپھو عرا کو بولتی ہوئی نہوست سے سر جھٹک کر اس کے کمرے سے چلی گئی تو عرا وہی بیٹھ کر رونے لگی جبکہ شہرینہ تاسف سے اُس کو دیکھ کر خاموشی سے اُس کے کمرے سے باہر نکل گئی

“او بھائی یہاں پر تمہارے آنسوؤں سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑنے والا پہلی فرصت میں کال کرکے اُس زیاد کو بلاؤ اور اُس سے کہو جلد سے جلد تم سے شادی کرکے تمہیں یہاں سے لے جائے اچھا ہے جلد اِس قید خانے سے تمہاری بھی جان چھوٹے گی یہاں پر رہ کر ہم دونوں کون سا مفت میں روٹیاں توڑ رہی ہیں سارے گھر کا کام بھی کرو صبح صبح اسکول جاکر بچوں کے ساتھ سر بھی کھپاؤ اور شام میں آکر اِن کی چخ چخ بھی برداشت کرو میں نے تو خود حارث سے بول دیا ہے کہ سعودیہ پہنچ کر کوئی چھوٹی موٹی جاب تلاش کرے اور اسی سال شادی کا پروگرام بناو مجھ سے نہیں برداشت ہوتی یہ بلاوجہ کہ غلامی”

تزئین عرا کو بولتی ہوئی کمرے سے چلی گئی جبکہ عرا نے کمرے کا دروازہ بند کرکے زیاد کو کال ملائی

“یار ابھی آفس میں بزی ہوں تھوڑی دیر بعد تمہیں کال بیک کرتا ہوں”

وہ عرا کی کال دیکھ کر مصروف انداز میں بولا

“اوکے”

عرا بھرائی آواز میں آنسو صاف کرتی ہوئی کال ڈسکنیکٹ کرچکی تھی تبھی اس کے موبائل پر دوبارہ سے زیاد کی کال آنے لگی جو عرا نے ریسیو کی

“تم رو رہی ہو۔۔۔ عرا کیا ہوا ہے”

زیاد اپنی مصروفیت کو بھول کر عرا سے اس کے رونے کی وجہ پوچھنے لگا

“تم نے اسد کو کیا کہہ کر رشتے کا منع کیا تھا پھپھو مجھے غلط سمجھ رہی ہیں زیاد اُن کو لگ رہا ہے میرا تم سے کوئی چکر وغیرہ۔۔۔۔

سسکنے کی وجہ سے اس سے آگے کچھ بولا نہیں گیا

“میں نے ایسا کچھ نہیں کہا تھا لیکن دوسرا انسان آپ کی بات کو کن معینوں میں لیتا ہے یہ تو کوئی نہیں جان سکتا خیر چھوڑو میں تھوڑی دیر میں آفس سے نکلتا ہوں اور شام میں تمہاری طرف آتا ہوں میں خود ہی تمہاری پھپھو سے بات کرکے اُن کی غلط فہمی دور کردو گا پلیز تم اسطرح پریشان مت ہو”

وہ نہیں چاہتا تھا عرا کا امیج اُس کی پھپھو کی نظروں میں خراب ہو اس لیے زیاد خود اُس کی پھپھو سے بات کرنے کا ارادہ کرنے لگا

“نہیں تمہیں یہاں آکر پھپھو سے بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے وہ اِس وقت کافی غصّے میں ہیں بس تم جلدی سے آنٹی کو یہاں لے کر آجاؤ”

عرا نے اس کی یہاں اکیلے آنے والی بات سے فوراً انکار کردیا تھا وہ نہیں چاہتی تھی مزید معاملہ بگڑے

“اوکے میں ماں کو پرسوں ہی لے کر آتا ہوں تمہاری طرف عرا سنو میں سب کچھ سنبھال لوں گا یار سب ٹھیک ہوجائے گا پلیز تم پریشان مت ہونا”

زیاد عرا سے بولا اُس کے ذہن دوسری طرف مائے نور کے بارے میں بھی سوچنے لگا

“نہیں میں پریشان نہیں ہوں ٹھیک ہوں کال رکھ رہی ہوں بعد میں بات کریں گے”

عرا زیاد سے بات کرکے کال رکھ چکی تھی

****

“یعنٰی کہ اب سارا معاملہ سیٹ ہوچکا ہے فائنلی وہ لڑکی تمہیں مل گئی ہے اور تم نے اُسے اپنی فیلنگز کا بھی بتادیا ہے ڈیٹس رئیلی گریٹ یار”

ریان زیاد کی زبانی ساری بات سن کر خوش ہوتا اس سے بولا

رات کی رنگینیوں میں ڈوبا نیویارک روشنیوں سے روشن تھا اس وقت ریان اپنے بیڈ روم میں بیڈ پر اونھے منہ لیٹا ہوا اس کا موبائل سامنے رکھا تھا جس پر وہ زیاد سے ویڈیو کال پر بات کررہا تھا

“بس اب ماں کو اُس کی طرف لےکر جاؤں گا تاکہ ماں اُس کی پھپھو سے رشتے کی بات کرسکیں”

زیاد اِس وقت اطمینان بھرے لہجے میں بولا وہ عرا سے بات کرکے خود کو پُرسکون محسوس کررہا تھا

“یہ بار بار “لڑکی” اور “اُس” کے علاوہ تم نے ابھی تک میرے سامنے اپنی محبت کا نام نہیں لیا میں دیکھنا چاہتا ہوں تمہاری چوائس کیسی ہے مجھے تصویر وغیرہ تو سینڈ کرو اُس کی اور کوئی نام بھی ہے اُس کا یا نہیں”

ریان تجُسس کرتا زیاد کو دیکھ کر بولا وہ اپنے بھائی کی پسند کی ہوئی لڑکی کو دیکھنا چاہتا تھا ریان کی بات سن کر زیاد مسکرایا مگر وہ مسکراہٹ کچھ پُراسرار سی تھی

“میں تمہارے ہوش ابھی سے نہیں اڑانا چاہتا پہلے تم پاکستان آجاؤ آئی مین کہ تم نے خود بولا تھا تم تب پاکستان آؤ گے جب میں شادی کروں گا تو سمجھ لو میں بہت جلد اپنی زندگی میں “اُس” کو شامل کرکے اپنا بنانے والا ہوں اب تم جلد سے جلد پاکستان واپس آنے کی تیاری کرو اور تم “اُس” کے متعلق تبھی سب کچھ جان سکو گے جب تم اسے اپنی بھابھی کے روپ میں دیکھو گے بس اِسے میری ضد سمجھو یا پھر شرط مان لو اس کا نام اور چہرہ تم پاکستان آنے کے بعد ہی دیکھ سکو گے”

زیاد معنٰی خیزی سے مسکراتا ہوا ریان سے بولا جس پر ریان نے برا سا منہ بنایا

“کوئی بہت ہی فضول قسم کی شرط ہے یہ، بیوی وہ تمہاری بنے گی میری نہیں مجھے تھوڑی پاکستان آکر اُس کی منہ دکھائی کرنی ہے جو تم مجھے اُس کی تصویر نہیں بھیج سکتے میں صرف تمہاری چوائس دیکھنا چاہ رہا تھا زیاد سکندر”

ریان لہجے میں خفگی لیے زیاد سے بولا جس پر زیاد دوبارہ مسکرایا

“ذیاد سکندر کی چوائس کوئی عام لڑکی تو ہو نہیں سکتی اور منہ دکھائی تو تم میری بیوی کو ضرور دینا کیونکہ اُس کا تم سے دیور کا رشتہ ہوگا مگر وہ گفٹ بہت قیمتی اُس کے شان و شایان ہونا چاہیے اور مجھے پورا یقین ہے وہ تمہیں دل و جان سے پسند آئے گی کیونکہ میری پسند کی ہوئی ہر چیز تمہیں شروع سے ہی فوراً پسند آجاتی ہے”

زیاد کے لہجے میں ایسا کچھ تھا ریان ایک پل کے لیے خاموش ہوا مگر اگلے ہی پل اُن دونوں کی توجہ کمرے کے دروازے پر کھڑی ایلکس نے لےلی جس کے اندر آنے پر ریان ایک دم ہڑبڑاتا بیڈ سے اٹھا

“آئی تھنک میری نائٹی کل رات تمہارے روم میں رہ گئی تھی۔۔۔ آج کا پروگرام بتادو۔۔۔

ایلکس نے کمرے میں آکر بولتے ہوئے چیئر پر سے اپنی نائٹی اُٹھائی ریان کو اُس کے یوں کمرے میں آنے پر شدید غصہ آیا وہ فوراً ہی زیاد کی کال ڈس کنیکٹ کرچکا تھا لیکن اس نے اپنا موبائل ایسے اینگل پر سیٹ کرکے رکھا تھا جس سے زیاد ایلکس کو لازمی دیکھ چکا ہوگا اور معلوم نہیں اس نے ایلکس کا بولا ہوا جملہ سنا تھا یا نہیں

“واٹ دا ہیل تمیہں یوں اچانک میرے روم میں نہیں آنا چاہیے تھا”

وہ بیڈ سے اٹھ کر ایلکس کو ٹوکتا ہوا ناگوار لہجے میں بولا

“اور کل رات جب میں تمہارے روم میں آئی تھی تب تو تمہیں مجھے اپنے روم میں دیکھ کر اتنا برا نہیں لگا تھا”

ایلکس کا انداز جتانے والا تھا تو ریان کے تنے ہوئے نقوش ڈھیلے ہوئے

“میں اپنے بھائی سے بات کررہا تھا ویڈیو کال ملی ہوئی تھی وہ تمہیں دیکھ کر جان چکا ہوگا ممکن ہے وہ ساری کہانی سمجھ بھی گیا ہو کہ تم یہاں پر میرے ساتھ میرا اپارٹمنٹ شیئر کررہی ہو”

اب کی مرتبہ ریان آرام سے ایلکس سے بولا لیکن اندر سے وہ پریشان سا ہوگیا تھا جس پر ایلکس نے اپنے شانے اچکائے

“سو واٹ تم نے کہا تھا پاکستانی مرد کنزرویٹو نہیں ہوتے اگر زیاد کچھ سمجھتا بھی ہے تو سمجھ جائے”

ایلکس ریان کو اس کی کہیں ہوئی بات یاد دلاتی ہوئی بولی

“پاکستانی مرد مشرقی معاشرے کی پیداوار ہوتا ہے اور لیو ان ریلیشن ہماری تہذیب کے خلاف مانا جاتا ہے خیر چھوڑو تم اس بات کو نہیں سمجھو گی”

ریان کو ایلکس سے بات کرنا یا سمجھانا فضول لگا جبھی وہ بات ختم کرتا ہوا بولا

“کافی کامپلیکیٹڈ پرسنلٹی کا شکار ہو تم لوگ میری تو سمجھ سے باہر ہے تم لوگوں کی نیچر”

ایلکس ابرو اچکاکر بولی تھی وہی ریان کے موبائل پر دوبارہ سے زیاد کی کال آنے لگی

“کیا تم اب یہاں سے جانا پسند کرو گی”

ریان ایلکس کو دیکھتا ہوا اسے پوچھنے لگا وہ بنا کچھ بولے ریان کے کمرے سے چلی گئی تبھی ریان نے زیاد کی کال ریسیو کرکے موبائل کان پر لگالیا

“یہ مت بولنا کہ ایلکس تم سے اِس وقت تمہارے اپارمنٹ میں ملنے آئی ہے مجھے سچ بتانا ریان ایلکس کب سے تمہارے ساتھ تمہارا اپارٹمنٹ شیئر کررہی ہے”

زیاد ریان کی کال ریسیو کرنے پر اُس سے پوچھنے لگا تو ریان اسے ٹالنے یا جھوٹ بولنے کی بجائے سچ بتاتا ہوا بولا

“تین دن پہلے اس کی لینڈ لیڈی کو کچھ لیگل ایشوز تھے جس کی وجہ سے اس نے ایلکس سمیت اس کی باقی کی روم میڈز کو اپنے اپارٹمنٹ سے نکال دیا ایلکس کو ریزیڈنشل پرابلم تھا تو اس وجہ سے۔۔۔

ریان زیاد کو بتا رہا تھا تب زیاد اس کی بات کاٹ کر فوراً بولا

“ایلکس کی دوسری روم میڈز کو بھی رکھ لیتے اپنے ساتھ افٹرآل لڑکیوں سے ہمدردی کرنے کا عنصر تو تم میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے”

زیاد کا طنزیہ لہجہ ریان کو ناگوار گزرا

“شٹ اپ زی تم لمٹ کراس نہیں کرسکتے”

ریان اُس کو سنجیدہ لہجے میں باور کرواتا ہوا بولا

“اور تم وہاں رہ کر کچھ بھی کرسکتے ہو”

زیاد اُسی کے لہجے میں ریان سے پوچھنے لگا تو ریان کچھ پل کے لیے خاموش ہوا پھر بولا

“کل پرسوں تک اُس کا رہائش کا انتظام ہوجائے گا تو وہ یہاں سے چلی جائے گی یار یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے” ریان کچھ اُکتائے ہوئے لہجے میں زیاد سے بولا

“وہاں رہتے ہوئے تمہیں یہ نارمل سی بات ہی لگے گی لیکن کم سے کم تمہیں کسی لڑکی کے ساتھ ریلیشن بناتے ہوئے عاشو کا احساس کرنا چاہیے تھا”

زیاد کو ریان کی اس حرکت نے مایوس کیا تھا جبھی وہ بولا

“عاشو میری ماں نہیں لگتی ہے زیاد جو میں اُس کا احساس کروں”

ریان عشوہ کا نام سن کر زیاد کی بات پر غصہ ہوتا بولا

“اور جو تمہیں اس دنیا میں لائی ہے وہ تو ماں ہی ہے اس ماں کا تو بڑا احساس کیا ہے تم نے، ماں کو تمہاری اِس حرکت کا معلوم ہوگا تو کتنا دکھ پہنچے گا اُن کو”

زیاد ریان کی غُصے کی پرواہ کیے بغیر اس کو شرمندہ کرتا بولا

“اور ماں کو کون بتائے گا یہ بات۔۔۔ تم؟؟”

ریان شرمندہ ہونے کی بجائے زیاد سے پوچھنے لگا

“نہیں میں ماں کو یا عاشو کو یہ سب بتاکر ہرٹ نہیں کرسکتا تمہاری اس گری ہوئی حرکت سے میں خود تم سے بہت زیادہ مایوس ہوا ہوں۔۔ لڑکیوں سے فلرٹ کرنا ریان سکندر کی نیچر کا حصّہ ہوسکتا ہے اتنا مجھے اندازہ تھا مگر فلرٹ کرنے کے گراف کو تم اس حد تک نیچے لے جاؤ گے اِس کا مجھے ہرگز گمان نہیں تھا اپنی ویلیوز اپنی قدریں تم آہستہ آہستہ بھول رہے ہو ایسے ہی ایک دن ہمہیں بھی بھول جانا”

زیاد کی بات پر وہ خاموش رہا بولنے کے لیے کچھ نہ تھا زیاد نے بھی مزید کچھ بولے بناء کال ڈسکنیکٹ کردی ریان نے غصے میں ہاتھ کا مُکا بناکر کرسی پر مارا جو اسی کے ہاتھ پہ لگا

“آئی تھنک میرے یہاں پر رہنے سے تمہارا بھائی تم سے ناخوش ہے اور تمہارے فیس ایکسپریشن سے لگ رہا ہے تم بھی کچھ ڈسٹرب ہوچکے ہو تو کیا میں یہاں سے چلی جاؤں”

ایلکس اس کے روم میں دوبارہ آئی اور ریان سے پوچھنے لگی بےشک ریان اپنے بھائی سے ساری باتیں اردو میں کررہا تھا جو اُس کو بالکل بھی سمجھ نہیں آرہی تھی مگر جس انداز میں اور لہجے میں وہ باتیں کررہا تھا ایلکس سمجھ چکی تھی موضوع گفتگو اس کی ذات ہی ہے اور مسئلہ یقیناً اُس کے یہاں رہنے کا تھا۔۔ وہ کمرے میں آئی تو ریان کے تاثرات اس قدر مایوس کن تھے ایلکس ریان سے اپنے جانے کا پوچھ بیٹھی

“ایز یو وش”

ریان شانے اچکا کر لاپرواہی سے بولا یعنٰی اس کے جانے یا نہ جانے سے اُس کو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا ایلکس کو اس کی لاپرواہی دیکھ کر جیسے آگ ہی لگ گئی تھی تھوڑی دیر بعد وہ کمرے سے باہر نکلی تو اس کے ہاتھ میں ہینڈ کیری موجود تھا ریان بناء تاثر چہرے پر لیے خاموشی سے ایلکس کو جاتا ہوا دیکھنے لگا ایلکس ریان کو اپنی مڈل فنگر دکھا کر اس کے اپارٹمنٹ سے باہر نکل گئی وہ ایلکس کی اس حرکت پر لعنت بھیجتا ہوا اپنا موبائل اٹھا چکا تھا

“تھینکس میرے سوئے ہوئے ضمیر کو جھکانے کے لیے وہ مجھے مڈل فنگر دکھا کر یہاں سے جاچکی ہے آج کے بعد وہ میری شکل بھی نہیں دیکھے گی”

ریان جل کر زیاد کو واٹس ایپ کرنے لگا جس کا تھوڑی دیر بعد رپلائی آیا

“اگر اس کے جانے کا اتنا ہی غم ہورہا ہے تو اپنے ضمیر کو سُلا کر اسے دوبارہ بلالو ویسے بھی تمہارے دوسرے اعمال چھترول کھانے لائق ہی ہیں۔۔۔۔ تین دن سے ایک نامحرم لڑکی تمہارا اپارٹمنٹ تمہارے ساتھ شیئر کر کے رہ رہی تھی۔۔۔ بہن بھائی والا پروگرام یا جسٹ فرینڈز کے ڈرامے تو نہیں چل رہے ہوگے تمہارے اور اس کے درمیان۔۔۔ کاش میں تمہاری اس آوارہ حرکت کا ماں کو بتاسکتا”

زیاد کا رپلائی دیکھ کر وہ اس کو بڑی سی گالی سے نوازتا ہوا سونے کے لیے لیٹ گیا

****