Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel NovelR50397 Payar Howa Tha (Episode 13)
No Download Link
Rate this Novel
Payar Howa Tha (Episode 13)
Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel
“ایسی بات نہیں ہے پھپھو میں آپ کو اور تزئین کو کیسے بھول سکتی ہوں آپ دونوں سے ہی تو میرا میکہ آباد ہے آپ کا شکوہ جاِز ہے کافی دن گزر گئے مجھے آپ کے پاس آنا چاہیے تھا مگر پچھلے دو ہفتوں سے زیاد بہت بزی ہے آفس سے کافی لیٹ واپس آنا ہوتا ہے اس کا لیکن اس ویک اینڈ میں انشاءاللہ آپ کے پاس ضرور چکر لگاؤ گی”
عرا موبائل پر عالیہ سے بات کرتی ہوئی باہر لان میں آچکی تھی جہاں شیرو موجود تھا وہ عرا کو لان میں آتا ہوا دیکھ کر اُس کے پاس چلا آیا تو عرا جھک کر شیرو کی کمر پر ہاتھ پھیرتی ہوئی اسے پیار کرنے لگی زیاد کے ساتھ اُس کی شادی کو ڈیڑھ ماہ کا عرصہ گزر چکا تھا اور اُس عرصے میں شیرو اُس کو نہ صرف پہچاننے لگا تھا بلکہ کافی حد تک مانوس بھی ہوچکا تھا سکندر ولا میں بسنے والے مکین کی بانسبت یہ پالتو جانور قدرے بہتر تھا جو اُس کی ذات کو سکندر ولا کا فرد مان کر قبول کرچکا تھا مائے نور کا رویہ اُس سے ابھی تک ویسا ہی تھا جیسے اُس نے روز اوّل سے اختیار کیا ہوا تھا عشوہ کی بھی اُس سے بات چیت نہ ہونے کے برابر تھی ریان ابھی تک مائے نور کی ضد کی وجہ سے پاکستان میں ہی موجود تھا ناشتے اور رات کے کھانے کے وقت ہی اُس کا گھر کے تمام لوگوں سے آمنا سامنا ہوتا دن میں اگر مائے نور یا عشوہ سے اس کا ٹکراؤ ہوجاتا تو وہ دونوں ہی اس کو نظر انداز کرکے آگے بڑھ جاتی شروع میں عرا کو یہ رویہ بہت محسوس ہوتا تھا لیکن اب آہستہ آہستہ وہ اِن باتوں کی عادی ہوچکی تھی اس لیے زیادہ محسوس نہیں کرتی۔۔۔ اس دن والے واقعے کے بعد سے ریان اور عرا کی آپس میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی عرا خود بھی ریان کی طرف دیکھنے سے گریز کرتی باقی رہا زیاد کے ساتھ اُس کا رشتہ تو اُس دن والی تلخی کے بعد زیاد اور اُس کی دوبارہ صلح ہوچکی تھی ویسے تو زیاد اُس کے ساتھ اچھا تھا عرا کا خیال رکھتا مگر کچھ باتیں وہ اُس کی نہیں مانتا تھا جو مائے نور کو ناپسند ہو۔۔۔ عرا اُن باتوں پر ضد یا بحث بھی کرتی لیکن عرا نے محسوس کیا تھا زیاد کو اُس کی پھپھو کے گھر بھی جانے سے اعتراض ہونے لگا تھا کیوکہ مائے نور عالیہ کو سخت ناپسند کرتی تھی اور حیثیت کا فرق بھی صاف نظر آتا جس کو مائے نور نے کُھلے لفظوں میں بیان کیا تھا
زیاد شادی کے پہلے دن اُس کی پھپھو سے اُس کو ملوانے لے گیا تھا جس پر مائے نور نے ہنگامہ مچایا تھا اس کے بعد سے عرا زیاد سے دو سے تین مرتبہ عالیہ کے پاس جانے کا بول چکی تھی لیکن زیاد اس کی بات کسی نہ کسی کام کو وجہ بناکر ٹال دیتا۔۔۔ پچھلے 15 دن سے زیاد آفس کے ایک پروجیکٹ کی وجہ سے کافی مصروف تھا گھر پر بھی اُس کا کافی لیٹ آنا ہورہا تھا اِن دنوں اُن دونوں کی آپس میں بات چیت نہ ہونے کے برابر تھی لیکن عرا نے سوچ لیا تھا اِس ویک اینڈ اگر زیاد اسے عالیہ کی طرف نہیں لےگیا تو وہ ڈرائیور کے ساتھ چلی جائے گی اور تھوڑی دیر کے لیے عالیہ اور تزئین سے مل کر واپس آجائے گی
“یہ پینٹنگ کہاں لے جارہی ہو شمع”
اپنے کمرے کی دیوار پر لگی پینٹنگ شمع کے ہاتھ میں دیکھ کر عرا حیرت زدہ سی اُسے سے پوچھنے لگی
“کل رات زیاد بھائی نے مجھے بولا تھا اُس پینٹنگ کو ہٹانے کا شاید انہوں نے اِس کی جگہ آپ کی اور اپنی شادی کی تصویر بڑی کر کے لگانے کا سوچا ہے کیا آپ کو نہیں بتایا زیاد بھائی نے”
شمع عرا کی لاعلمی پر حیرت کا اظہار کرتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی
“ہاں بتایا تو تھا مگر میں بھول گئی تھی ویسے بھی تمہارے زیاد بھائی کا پچھلے دو ہفتے سے گھر اتنا لیٹ آنا ہورہا ہے صحیح سے بات کہاں ہو پارہی ہے ان سے”
عرا شمع کو جواب دیتی ہوئی بولی وہ شمع کے پیچھے پیچھے اسٹور روم کی طرف چل دی جو گھر کے بیک سائیڈ پر موجود تھا
“حیرت ہے گھر کے اس پورشن میں بیسمنٹ کا دروازہ کُھلتا ہے اور مجھے معلوم ہی نہیں تھا”
ٰعرا شمع کو بیسمنٹ کا دروازہ کھولتا دیکھ کر تعجب کرتی بولی
“پہلے یہاں پر بیسمنٹ نہیں تھا یہ چند سال پہلے ہی بنوایا ہے گھر کا سارا بےکار سامان آپ کو یہی ملے گا ارے بھابھی آپ اس دروازے کو بند مت کیجئے گا ورنہ ہم دونوں اندر ہی بند ہوجائیں گے اِس کا دروازہ خراب ہے اگر دروازہ غلطی سے بند ہو جائے تو اندر والا انسان دروازہ نہیں کھول سکتا”
شمع آرام سے سیڑھیاں اترتی ہوئی عرا کو بتانے لگی عرا نے دروازہ بند نہیں کیا وہ خود بھی احتیاط سے شمع کے پیچھے سیڑھیاں اترنے لگی
“اتنا سفوگیشن ہے یہاں پر اتنا خوفزدہ سا لگ رہا ہے یہاں پر سب کچھ” سیڑھیاں اترنے کے بعد عرا بیسمینٹ کا جائزہ لیتی ہوئی بولی جس میں پرانے فرنیچر کو سفید چادروں سے ڈھاکہ گیا تھا جگہ جگہ بڑے بڑے جالے بھی موجود تھے ایک موٹا سا چوہا ایک کونے سے نکل کر فرنیچر کے بیچ کہیں جا چھپا تو عرا کی خوف سے آنکھیں پھیل گئی۔۔۔۔ غُرانے کی آواز پر عرا نے پیچھے مڑ کر سیڑھیوں سے اوپر دروازے کے پاس کھڑے شیرو کو دیکھا وہ بھی وہی آچکا تھا
“چلیں جی یہاں سے واپس چلتے ہیں ابھی تو بڑی بیگم صاحبہ گھر پر موجود نہیں ہیں مگر وہ آنے ہی والی ہیں اگر یہاں انہوں نے آپ کو اور مجھے دیکھ لیا تو بالوجہ خفا ہوگیں”
پینٹنگ کو ایک جگہ دیوار کے ساتھ رکھ کر اُس کو سفید چادر سے ڈھکتی ہوئی شمع عرا سے بولی جو فرش پر گری ہوئی رسٹ واچ کو اٹھاکر اس کے گرد جمی ہوئی مٹی صاف کرتی بہت غور سے دیکھ رہی تھی شمع کی آواز پر چونکی
“یہ گھڑی کس کی ہے شمع یہاں کیا کررہی ہے”
عرا دھڑکتے دل کے ساتھ طارق کی گھڑی کو دیکھتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی وہ بھلا اپنے ڈیڈ کی گھڑی کو کیسے نہیں پہچانتی تھی جو اس نے ہمیشہ طارق کے ہاتھ میں بندھی ہوئی دیکھی تھی وہ جانتی تھی یہ طارق کی گھڑی تھی اس جیسی کوئی دوسری گھڑی ہرگز نہ تھی کیوکہ گھڑی کے اندر کانٹے پر موجود ضرب کا نشان جسے وہ بچپن سے دیکھتی آرہی تھی وہ اس گھڑی کے کانٹے پر موجود تھا اور گھڑی کے پیچھے والے میٹل کے حصے پر بڑا سا (T) الفابیٹ اس کو آج بھی اچھی طرح یاد تھا
“یہ گھڑی تو میں نے بیگم صاحبہ کے پاس دیکھی تھی بلکہ آپ کی شادی سے پہلے انہوں نے ہی تو مجھے یہ گھڑی دی تھی کہ میں اِس کو پھینک دو تو میں نے اس کو بیسمینٹ میں ہی رکھ دی”
شمع عرا کو گھڑی کے متعلق بتانے لگی جسے سن کر عرا کنفیوز ہوگئی
“ڈیڈ کی واچ آنٹی کے پاس۔۔۔
عرا دل میں سوچتی ہوئی خود سے بولی
“شمع ایسا ہے تم اوپر جاؤ اور یہ میرا موبائل بھی اپنے ساتھ لے جاؤ اِسے میرے کمرے میں رکھ دو میں تھوڑی دیر میں آجاؤں گی”
عرا کو لگا اسے یہاں اکیلے تھوڑی دیر ٹھہرنا چاہیے تھا تبھی اس نے شمع کو اپنا موبائل پکڑاتے ہوئے واپس جانے کا بولا شمع عرا کا موبائل لیتی سیڑھیاں چڑھنے لگی اور بیسمینٹ کا دروازہ ویسے ہی کھلا چھوڑ کر وہاں سے چلی گئی عرا نے واچ کو ایک اسٹول پر رکھتے ہوئے سامنے فرنیچر پر سے بڑی سی چادر ہٹائی تو اس کو بڑے سے آئینے میں اپنا عکس نظر آیا یہ پرانے طرز کا بنا ہوا سنکھار میز تھا اس کے آئینے سے اسے اپنے پیچھے بیسمنٹ کا دروازہ نظر آنے لگا عرا اُس کی ساری درازیں ایک ایک کر کے کھولنے لگی تب اچانک عرا کو محسوس ہوا بیسمینٹ کے دروازے پر کوئی موجود ہے شیرو کی طرف اُس کا دماغ گیا تبھی اس نے پیچھے مڑ کر دیکھنا گوارا نہیں کیا مگر جیسے ہی بیسمینٹ کا دروازہ بند ہوا تب ایک دم پورے بیسمینٹ میں اندھیرا چھا گیا وہ جلدی سے پیچھے مڑی
“یہ دروازہ کس نے بند کیا ہے کھولو دروازے کو”
وہ تیزی سے سیڑھیاں چڑھتی دروازے کی جانب گئی تھی یہ حرکت کون کرسکتا تھا ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے سے وہ نسوانی ہاتھ دیکھ چکی تھی مگر چہرہ اس کو نظر نہیں آیا تھا
“شمع دروازہ کھولو”
جب عرا اندر سے دروازہ نہیں کھول پائی تو اُس نے دروازہ بچاتے ہوئے شمع کو پکارا لیکن شمع وہاں موجود ہوتی تو یقیناً دروازہ کھول دیتی
“پلیز یہ دروازہ کھول دو اندر میرا دم گھٹ رہا ہے”
عرا بےبسی سے دروازہ پیٹتی ہوئی بولی اسے پچھتاوا ہونے لگا آخر اس نے اپنا موبائل شمع کو کیوں دیا تھوڑی دیر میں اسے چوہے کی آواز آنے لگی۔۔۔ نہیں وہاں ایک چوہا موجود نہ تھا بلکہ یہاں ایک سے زائد چوہے موجود تھے جو اُس کو اندھیرے میں نظر نہیں آرہے تھے مگر چوہوں کی آوازیں سن کر عرا کو خوف سا محسوس ہونے لگا
“مجھے ڈر لگ رہا ہے میں مر جاؤں گی پلیز کوئی دروازہ کھول دو”
عرا وہی سیڑھی پر دروازے کے پاس بیٹھتی ہوئی رونے لگی دوپہر کے وقت بھلا گھر کے پچھلے حصے میں کون آتا جو اُس کی مدد کرتا زیاد تو آفس میں موجود تھا
****
وہ گہری نیند میں سو رہا تھا تب اس کے کمرے میں شیرو آکر ریان کی شرٹ کو اپنے منہ سے کھینچنے لگا
“تنگ نہیں کرو شیرو جاؤ یہاں سے”
ریان نے شیرو کو نیند میں بولتے ہوئے دوسری جانب کروٹ لےلی تب شیرو نے زور سے بھونکنا شروع کردیا
“واٹ ہیپنڈ”
ریان نیند سے بےزار ہوتا شیرو سے پوچھنے لگا شیرو ایک مرتبہ دوبارہ اس کی آستین کھینچتا ہوا اسے باہر لے جانے لگا
“شمع کیا کھانا نہیں دیا تم نے آج شیرو کو”
ریان تیز آواز میں شمع کو مخاطب کرتا ہوا پوچھنے لگا
“ریان بھائی تھوڑی دیر پہلے ہی تو اس کا کھانا رکھ کر آئی تھی”
شمع کچن سے نکلتی ہوئی ریان کو بتانے لگی وہی اپنے کمرے سے عشوہ نکل آئی جسے دیکھ کر شیرو اس پر غصّے میں جھپٹا
“ریان میں کسی دن مار ڈالوں گی آپ کے اِس منحوس کُتے کو”
اپنے بازو پر شیرو کے ناخنوں کے نشان دیکھ کر عشوہ غصّہ کرتی ہوئی ریان سے بولی
“شیرو کیا پرابلم ہے”
ریان شیرو کی بیلٹ پکڑتا ہوا اسے عشوہ کے پاس سے ہٹاکر پوچھنے لگا وہ عشوہ پر مسلسل غصہ کرتا ہوا بھونکے جارہا تھا شیرو ایک مرتبہ دوبارہ ریان کی شرٹ پکڑ کر اسے کھینچتا ہوا لان کی طرف لے جانے لگا
****
“زیاد پلیز مجھے بچھالو مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے میں، میں یہاں مر جاؤں گی”
ایک مرتبہ پھر وہ اسی سنسان قبرستان میں گہری قبر کے اندر موجود تھی جہاں مکھوٹے میں اپنا چہرہ چھپائے وجود اس پر مٹی ڈال رہا تھا عرا کا وجود آدھے سے زیادہ مٹی سے ڈھک چکا تھا مگر وہ مسلسل زیاد کو مدد کے لیے پکار رہی تھی زیاد بالکل خاموش کھڑا عرا کو دیکھ رہا تھا اپنی موت کا سوچ کر عرا پہلے یہ اپنی زندگی سے ہار مانتی آنکھیں بند کرچکی تھی
“عرا” تب ایک مردانہ آواز کی پکار اُس کے کانون نے سنی مگر وہ آواز زیاد کی ہرگز نہ تھی
“عرا آنکھیں کھولو یہاں دیکھو مجھے”
وہ آواز عرا کو اپنے بےحد قریب سے آئی کوئی اپنا ہاتھ اُس کی جانب بڑھا کر اُس کو اس گہری قبر سے باہر نکال رہا تھا
“زیاد” بند آنکھوں کے ساتھ عرا کے لب ہلکے سے ہلے
“نہیں ریان۔۔۔ عرا اپنی آنکھیں کھولو پلیز”
مردانہ آواز پر عرا نے اپنی آنکھیں کھولی تو ریان کو اپنے پاس موجود پایا یہ کوئی قبر نہ بلکہ بیسمینٹ تھا جہاں وہ خوف سے بےہوش ہوچکی تھی اور مدد کے لیے کسی کو پکار رہی تھی عرا کو یاد آنے لگا
“ریان” عرا نے غائب دماغی میں ریان کو دیکھتے ہوئے اس کا نام پکارا اس کو گہری قبر سے باہر نکالنے والا بھی تو یہی چہرہ تھا اس کی جان بچانے والا عرا کی آنکھیں دوبارہ بند ہونے لگی
“شمع جلدی پانی لاو”
ریان نے عرا کا سر اونچا کرکے اپنا بازو اُس کے شانے پر پھیلاتے ہوئے سہارے دے کر عرا کو بٹھانے کی کوشش کرنے لگا
“عرا آنکھیں کھولو مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے تمہیں”
ریان پریشانی کے عالم میں عرا کی بند آنکھیں دیکھ کر اس کا گال تھپتھپاتا ہوا اُسے پکارنے لگا مگر عرا نے اپنی آنکھیں نہیں کھولی شیرو بھی وہی اُس کے پاس موجود تھا
“میں نے اِن سے کہا تھا کہ یہاں پر مت رکیں معلوم نہیں یہ دروازہ کیسے بند ہوگیا”
شمع ریان کو پانی کا گلاس تھماتی ہوئی افسوس کرتی بولی
“باتوں میں وقت ضائع مت کرو جاؤ جلدی سے رؤف سے بولو کہ گاڑی اسٹارٹ کرے اسے ہاسپٹل لےکر جانا پڑے گا”
ریان نے شمع سے بولتے ہوئے عرا کے بےہوش وجود کو اپنے بازووں میں اٹھالیا تو اُس کی نظر اسٹول پر رکھی گھڑی پر پڑی وہ بازوؤں میں موجود عرا کا چہرہ دیکھنے لگا لیکن یہ وقت کوئی اور بات سوچنے کا نہیں تھا وہ عرا کو اٹھائے بیسمنٹ سے باہر نکلنے لگا
****
“مبارک ہو آپ کی مسز پریگننٹ ہیں”
ریان لیڈی ڈاکٹر کے منہ سے ایسی بات سن کر کافی دیر تک کچھ بول نہ سکا بس خاموش نظروں سے اُس ڈاکٹر کا چہرہ دیکھتا رہا
“سم تھنگ رونگ مسٹر ریان”
لیڈی ڈاکٹر ریان کے یوں دیکھنے پر اُس سے پوچھنے لگی تو وہ ایک دم ہوش میں آیا
“شی از ناٹ مائے وائف، ہسبینڈ کو کال کر کے بلایا ہے وہ آتا ہوگا” ریان لیڈی ڈاکٹر سے بول کر اس کمرے میں رکا نہیں اُٹھ کر باہر نکل گیا جبکہ لیڈی ڈاکٹر تعجب سے اُس مرد کو دیکھنے لگی جو تھوڑی دیر پہلے اِس لڑکی کے لیے کس قدر فکر مند اور پریشان نظر آرہا تھا
****
“عرا میری جان اپنی آنکھیں کھولو”
زیاد کی آواز پر عرا نے آہستہ سے اپنی انکھیں کھولی زیاد نے عرا کا پکڑا ہوا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگالیا اِس وقت وہ اسپتال کے کمرے میں موجود تھی اور ریان کے کال کرنے پر زیاد اُس کے پاس پہنچ چکا تھا
“تم کیوں گئی تھی بیسمنٹ میں اُس کا لاک خراب ہے اگر ریان وہاں نہیں پہنچتا تو۔۔۔ کیوں کی تم نے یہ حماقت جانتی ہو ریان کی کال سن کر میں کس قدر پریشان ہوگیا تھا تمہارے لیے”
زیاد اُس کو ہوش میں آتا دیکھ کر بولا عرا کے اٹھ کر بیٹھنے پر زیاد اُس کو اپنے بازوؤں کے حصار میں لےلیا وہ عرا کے یوں بےہوش ہونے پر پریشان ہوچکا تھا
“کیا ریان نے میری ہیلپ کی ہے”
زیاد کے بازوؤں میں ہلکی آواز میں عرا اُس سے پوچھنے لگی
“ہاں دوسری بار اُس نے تمہیں بچایا ہے”
زیاد سوئمنگ پول والا سین یاد کرتا عرا سے بولا
“نہیں تیسری بار۔۔۔۔
عرا آئستہ آواز میں بولی خواب میں بھی تو زیاد کی بجائے ریان نے ہی اُس کی ہیلپ کی تھی گہری قبر سے باہر وہی اُس کو لایا تھا
“تیسری بار؟ ؟؟
زیاد اس سے الگ ہوتا سوالیہ نظروں سے عرا کو دیکھنے لگا
“ہاں مجھے بار بار ایک خواب دکھائی دیتا ہے میں مشکل میں اور تکلیف میں بھی وہاں کوئی بھی میری مدر کرنے والا نہیں اور جو ہے وہ میری مدد نہیں کررہا مگر ریان آکر مجھے اس مشکل سے نکلتا ہے اور اُس تکلیف سے نجات دلاتا ہے”
عرا کھوئی ہوئی زیاد سے بولی تو زیاد غور سے اُس کو دیکھنے لگا عرا اچانک کچھ یاد کرتی بولی
“زیاد بیسمینٹ کا دروازہ کسی نے جان کر بند کیا تھا میں نے خود دیکھا تھا کسی کو دروازہ بند کرتے ہوئے”
عرا کی بات سن کر زیاد عرا کا چہرہ دیکھنے لگا
“تم کہنا کیا چاہ رہے ہو ماں نے یہ کام کیا تھا”
بےشک عرا منہ سے کچھ نہ بولے مگر زیاد جانتا تھا وہ یہی سمجھ رہی ہوگی اس لیے سنجیدگی سے عرا سے پوچھنے لگا
“زیاد میں اپنے اور تمہارے رشتے کے بیچ کوئی دوری نہیں چاہتی۔۔۔ میں اگر اپنے منہ سے نام لوں گی تو تمہیں مجھ پر غصہ آنے لگے گا شاید تم میرا یقین بھی نہ کرو جبکہ تم خود بھی جانتے ہو میرا وجود سکندر ولا میں پہلے ہی دن سے کس کو کھٹک رہا ہے”
عرا نے بےشک مائے نور کو دروازہ بند کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا مگر وہ جانتی تھی اُس کے علاوہ کوئی دوسرا یہ کام نہیں کرسکتا
“آج میری ایک بات یاد رکھنا میرے اور تمہارے بیچ کبھی بھی دوری نہیں آسکتی یہ بات سوچنا چھوڑ دو کہ کوئی ہم دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کرسکتا ہے میں ایسا کبھی نہیں ہونے دو گا”
زیاد نے عرا سے بولتے ہوئے ایک مرتبہ دوبارہ اسے اپنے حصار میں لےلیا
“ایم سوری میری جان مجھے تمہاری طرف سے یوں غافل نہیں ہونا چاہیے تھا اپنے پروجیکٹ کو لےکر میں کچھ دنوں سے اس قدر مگن ہوگیا کہ تم پر دھیان ہی نہیں دیا شکر ہے آج ریان وہاں بروقت پہنچ گیا اگر تمہیں یا پھر میرے بچے کو کوئی نقصان پہنچ جاتا تو میں خود کو کبھی بھی معاف نہیں کر پاتا”
زیاد عرا کے وجود کو نرمی سے حصار میں لیے بولا تو بچے والی بات پر عرا بری طرح چونکی اور زیاد سے الگ ہوتی ہوئی حیرانگی سے آنکھیں کھول کر زیاد کو دیکھنے لگی عرا کے تاثرات دیکھ کر زیاد آئستہ سے مسکرایا
“جانتی ہو عرا ایک شوہر اپنی بیوی کو سب سے زیادہ کس وقت اپنے دل کے قریب تر محسوس کرتا ہے جب وہ اس کو اولاد دینے والی ہوتی ہے”
زیاد نے عرا سے بولتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہونٹوں سے لگایا اور اس کا چہرہ تھام کر اپنے چہرے کے قریب کیا
“آئی پرامس اب میں خود سے تمہارا ہر طرح سے خیال رکھوں گا میرا سارا وقت، میری ساری توجہ اب صرف اور صرف میری پیاری سی بیوی کے لیے ہوگی اب تمہیں کسی بھی طرح کی کوئی ٹینشن لینے کی یا فکریں پالنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی تم کچھ بھی فضول کا سوچو گی تمہیں خوش رہنا پڑے گا بلکہ نہیں تمہیں خوش رکھنے کی مکمل ذمہ داری میری ہے آئی پرامس میں تمہیں ہر طرح سے خوش رکھوں گا مجھے تم سے اپنا بےبی چاہیے جو مجھے ڈیڈ بولے گا۔۔۔ ہم دونوں کا رشتہ مزید مضبوط کرنے والا ہم دونوں کی محبتوں کا اصل حقدار اِس دنیا میں آجائے گا چند ماہ کے بعد کاش یہ نو ماہ جلد گزر جائے میرے لیے سب سے خوبصورت دن وہی ہوگا جب میری اولاد میری گود میں ہوگی”
زیاد کی باتوں پر اور اُس کی ایکسائٹمنٹ دیکھ کر عرا اپنے آنسو پوچھتی ہوئی مسکرا دی یہ خوشی کے آنسو تھے جو اولاد جیسی نعمت کی خبر سن کر اس کی آنکھوں سے نکل پڑے تھے
“آج کا دن میرے لیے کسی خوشی سے کم نہیں ہے مجھے بہت بڑی گڈ نیوز دی ہے تم نے”
زیاد نے بولتے ہوئے عرا کی پیشانی پر اپنے ہونٹ رکھے۔۔۔ دروازے پر ناک ہوا زیاد نے روم کا دروازہ کھولا تو ریان کو دروازے پر کھڑا پایا وہ ہاتھوں میں بُکے لیے کھڑا تھا
“اندر آجاؤ”
ریان کے پوچھنے پر زیاد نے دروازے سے ہٹتے ہوئے اس کو اندر آنے کی جگہ دی
“کیوں نہیں” زیاد اُس کی سرخ آنکھوں کو غور سے دیکھنے لگا
“صبح سے مائیگرین کا درد ہورہا تھا ابھی تک خود کو ٹھیک محسوس نہیں کررہا دوبارہ پین کلر لی ہے اب واپس جاکر نیند لوں گا تو درد بہتر ہوجائے گا”
اِس سے پہلے زیاد اُس سے سرخ آنکھوں کے متعلق پوچھتا ریان نے پہلے ہی بولنا شروع کردیا
“بائی دا وے کونگریچولیشن آج یقیناً تم دونوں کے لیے خوشی کا دن ہے اور میں تمہارے لیے دل سے خوش ہوں”
ریان زیاد کو دیکھتا ہوا بولا تو زیاد خاموشی سے ریان کا چہرہ دیکھنے لگا جس پر مسکراہٹ بھی تھی سرخ آنکھوں کے ساتھ اُس کے چہرے پر سجی مسکراہٹ دیکھ کر زیاد مسکرا نہ سکا زیاد اس کے درد کو سمجھتا تھا یہ درد اس کے سر میں نہیں بلکہ دل میں ہورہا تھا
“ایسے کیا دیکھ رہے ہو یار میں سچ میں خوش ہوں یقین نہیں آرہا کیا”
ریان نے بولتے ہوئے آگے بڑھ کر خود سے زیاد کو گلے سے لگالیا۔۔۔ اچھی اداکاری کرلیتے ہو زیاد کا دل چاہا وہ ریان سے بول دے مگر وہ کہہ نہ سکا
“تمہیں اپنے فیوچر کے متعلق سیریس ہوکر سوچنا چاہیے”
زیاد کے مشورے پر ریان اس سے الگ ہوا
“دیکھو اگر ماں ایلکس کے لیے تیار ہوجاتی ہیں تو کچھ سوچتا ہوں”
مذاق میں کی ہوئی بات پر ریان کے ساتھ زیاد ہنسا تو ریان خاموش بیٹھی عرا کو دیکھ کر اُس کے پاس آیا
Congrates
ریان پھولوں کا بکے عرا کی جانب بڑھاتا ہوا بولا تو عرا نے زیاد کو دیکھا
“اس کو مت دیکھو میرا بھائی کنزرویٹو نہیں کہ میرے تم سے بات کرنے یا بکے دینے پر ناراض ہوجائے۔۔۔ میری دعا ہے کہ زیاد کے ساتھ تم ہمیشہ خوش رہو”
ریان عرا کو بکے تھماتا ہوا ہسپتال کے کمرے سے باہر چلا گیا عرا زیاد کو دیکھنے لگی شاید اب دوبارہ سے زیاد ریان کا سوچ کر ڈسٹرب ہوجاتا مگر زیاد اسمائل دیتا ہوا عرا کے پاس چلا آیا
“میں آج کے دن ملی ہوئی اِس خوشی کو تمہارے ساتھ سیلیبریٹ کرنا چاہتا ہوں”
زیاد نے عرا کی جانب ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا تو عرا اسمائل دیتی ہوئی اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتی بیڈ سے اتر کر کھڑی ہوگئی
****
سمندر کی لہریں چٹانوں سے ٹکرا کر شور برپا کررہی تھی ریان بالکل خاموش بڑی سی اونچی چٹان پر بیٹھا ہوا ان شور مچاتی لہروں کو دیکھ رہا تھا جو زور و شور سے پتھروں سے ٹکرا کر دم توڑ رہی تھی بالکل ایسا ہی شور وہ اپنے اندر لیے خاموش بیٹھا ان لہروں کو دیکھ رہا تھا ہاتھ میں پکڑا ہوا انرجی ڈرنگ کا خالی کین اس نے اچھال کر دور پانی میں پھینکا اور آسمان کی طرف اشکبار آنکھوں سے دیکھنے لگا
“میرے ساتھ اتنا برا کیا تُو نے۔۔۔ جب اسے میرے نصیب میں لکھا ہی نہیں تھا تو پھر کیوں تُو نے اُس کی محبت میرے دل میں ڈال دی کیوں دے دیا مجھے زندگی بھر کا روگ مانا کہ میں تیرا گنہگار بندہ ہوں لیکن تُو کوئی دوسری سزا میرے لیے منتخب کرلیتا اس لڑکی کو کیسے میں ساری عمر اپنے ہی بھائی کے ساتھ دیکھ کر گزار سکتا ہوں جس لڑکی کی محبت میری نس نس میں بھر کر روز بہ روز پروان چڑھ رہی ہے۔۔۔ اپنے سینے سے میں کیسے اپنا دل نکال کر کہیں دور پھینک دوں جو اُسی لڑکی کا طلبگار ہے یہ بوجھ اٹھانا بہت مشکل ہے میں یہ بوجھ نہیں اٹھا سکتا اگر تو اُسے سکون بناکر میرے دل میں نہیں اتار سکتا تو مجھے سکون دے دے تیرے لیے سب آسان ہے مجھے سکون چاہیے یامیرے رب مجھے سکون دے دے”
ریان بھیگی آنکھوں کے ساتھ آسمان کو دیکھتا ہوا مخاطب تھا
****
“کہاں غائب رہے آج سارا دن یہ کون سا وقت ہے گھر آنے کا تمہیں اندازہ نہیں ہے تمہاری ماں گھر میں تمہارا انتظار کر رہی ہوتی ہے”
اپنے کمرے کی کھڑکی سے زیاد کی گاڑی سے عرا کو اترتا دیکھ کر مائے نور انتظار میں تھی کب زیاد اُس کے کمرے میں آتا کب وہ اُس سے دیر سے گھر آنے کا شکوہ کرتی
“آج میں آپ کے کسی سوال کا جواب دینے نہیں آیا ہوں ماں بلکہ آج میں آپ سے اپنے سوالوں کا جواب طلب کرنے آیا ہوں”
زیاد مائے نور کے کمرے میں کھڑا اس سے مخاطب ہوا تو اُس کی بات پر مائے نور کی بھنویں تنی وہ راکنگ چیئر پر بیٹھی ہوئی زیاد کو گھور کر دیکھنے لگی جس کا لہجہ گستاخی سے بھرا تو نہ تھا مگر بےحد سنجیدہ تھا
“اپنی بیوی کی باتوں میں آکر اگر تم نے مجھ سے کسی بھی طرح کی گستاخی کی تو میں اس لڑکی کو یہاں سے دھکے دے کر نکال دوں گی تم بھی چلے جاؤ میرے کمرے سے”
مائے نور غُراتی ہوئی بولی اس کو عشوہ اور شمع سے سارے قصّے کا معلوم ہوچکا تھا بیسمینٹ دروازہ بند ہوجانے کی وجہ سے عرا کا بےہوش ہوجانا اور ریان کا اس کی بےہوشی کی حالت میں اسپتال لے جانا اور اب رات کو عرا کا زیاد کے ساتھ واپس لوٹنا مائے نور اچھی طرح جانتی تھی بیسمینٹ کا دروازہ بند ہونے کا الزام اسی پر آنا تھا جو کہ اُس نے ہرگز نہیں کیا تھا
“تو یعنٰی آپ نے سچ میں عرا کے ساتھ ایسا کیا ہے آپ کے اس عمل سے میرا بہت زیادہ دل دکھا ہے”
زیاد مائے نور کو دیکھ کر افسوس کرتا بولا تو مائے نور کرسی سے اٹھ کر چلتی ہوئی زیاد کے پاس آئی
“صرف تمہاری وجہ سے میں اب تک اُس لڑکی کو سکندر ولا میں برداشت کررہی ہوں زیاد اگر مجھے اس کے ساتھ کچھ کرنا ہوتا تو میں بہت پہلے کر گزرتی اور جو میں اُس کے ساتھ کرتی وہ چوری چھپے نہیں بلکہ سب کے سامنے بنا کسی سے ڈرے کرتی اور اس کا اعتراف بھی کرتی۔۔۔ میں نے بیسمنٹ کا دروازہ بند نہیں کیا اور نہ ہی میں اُس وقت گھر میں موجود تھی اب اگے سے اگر تم نے مجھے کچھ بھی بولا تو میں بھول جاؤ گی کہ تم میری وہ اولاد ہو جو مجھے سب سے زیادہ عزیز ہے”
مائے نور نے زیاد کو آنکھیں دکھاتے ہوئے اپنی پوری بات مکمل کی اور جو بھی کہا بالکل سچ ہی کہا تھا
“اب آپ صرف ایک بات یاد رکھیے گا عرا اب صرف میری بیوی نہیں بلکہ وہ میرے بچے کی ماں بننے والی ہے شی از پرگنینٹ اگر اس کو یا پھر میرے بچے کو کسی بھی طرح کا کوئی نقصان پہنچاتا ہے تو میں اُسی وقت سکندر ولا چھوڑ کر چلا جاؤں گا”
زیاد اپنی بات مکمل کرکے رکا نہیں بلکہ مائے نور کے کمرے سے چلا گیا جبکہ مائے نور زیاد کی بات سن کر گنگ رہ گئی
“ماں بننے والی ہے”
وہ زیاد کے الفاظ دہراتی ہوئی بالکل خاموشی سے دوبارہ کرسی پر بیٹھ گئی
*****
رات کا دوسرا پہر تھا عشوہ کے کمرے کا دروازہ کھلا اس نے کمرے میں داخل ہوکر کمرے کا دروازہ لاک کیا تو کھٹکے کی آواز سے عشوہ کی آنکھ کھل گئی وہ بیڈ سے اٹھ کر چلتی ہوئی ریان کے پاس آئی
“آپ اس وقت میرے کمرے میں”
عشوہ اپنے کمرے میں رات کے اس پہر ریان کی آمد پر چونکی مگر ریان نے منہ سے کچھ بولے بغیر عشوہ کی بات کے جواب پر زوردار طمانچہ اُس کے منہ پر مارا تو عشوہ شاکڈ کی کیفیت میں اپنے گال پر ہاتھ رکھے ریان کو دیکھنے لگی جو اُس کے منہ پر طماچہ مارنے کے بعد بالکل پرسکون انداز میں اُس کے سامنے کھڑا تھا
“بیسمنٹ کا دروازہ کیوں بند کیا تھا تم نے”
ریان کی بات سن کر عشوہ ایک پل کے لیے بری طرح چونکی دوسرے ہی پل سنبھل کر بولی
“میں ایسی حرکت کیوں کرو گی وہ بھی تب جب کوئی بیسمینٹ میں موجود ہو میں نے بیسمینٹ کا دروازہ بند نہیں کیا تھا”
عشوہ ریان کو دیکھتی ہوئی اسے بتارہی تھی تبھی ریان نے دوسرا طماچہ اُس کے گال پر رسید کیا
“ریان”
عشوہ صدمے اور حیرت سے ملتے جلتے تاثرات لیے ریان کو دیکھ کر اس کا نام پکارنے لگی
“یہ تھپڑ تمہارے جھوٹ بولنے کی سزا ہے میرے سامنے تم اِس بات سے انکار نہیں کرسکتی کہ تم نے بیسمینٹ کا دروازہ بند کیا تھا میں صرف تم سے وجہ پوچھنے آیا ہوں کہ تم نے ایسا کیوں کیا عرا کے ساتھ”
ریان اپنے ٹراؤزر کی پاکٹ میں دونوں ہاتھ ڈالے عشوہ سے پوچھنے لگا شیرو کا عشوہ پر غصہ بھوکنا بلاوجہ ہرگز نہ تھا اور بیسمینٹ میں عرا کو بےہوش دیکھ کر ریان اسی وقت سارا ماجرہ سمجھ گیا تھا لیکن وہ پہلے عرا کو اسپتال لےکر جانا چاہتا تھا بعد میں عشوہ سے اس کی حرکت کی وجہ پوچھنے کا ارادہ رکھتا تھا
“آپ اس معمولی سی لڑکی کے لیے مجھ پر ہاتھ اٹھائیں گے ریان”
عشوہ غصے میں ریان کے سامنے بولی تو ریان نے اس کے قریب آکر عشوہ کا منہ جبڑے سے پکڑا
“وہ معمولی لڑکی نہیں ہے وہ یہاں، اس جگہ ریان سکندر کے دل میں بستی ہے” ریان اپنی انگلی سے اپنے دل کی طرف اشارہ کرتا ہوا بولا اور جھٹکے سے عشوہ کا پکڑا ہوا منہ چھوڑا
“اور جو لڑکی ریان سکندر کے دل میں اپنی محبت کا ڈیرا جمالے وہ معمولی لڑکی نہیں ہوسکتی اگر تم نے دوبارہ عرا کو معمولی سمجھ کر اس کے ساتھ کچھ بھی غلط کیا تو میں تمہارا یہ چہرہ اور تمہارا حشر دونوں بگاڑ کر رکھ دوں گا”
ریان عشوہ کو وارن کرتا ہوا اس کے کمرے سے باہر چلا گیا
“اس دو ٹکے کی لڑکی کی خاطر آپ کو مجھ پر ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیے تھا ریان میں اب اس کو نہیں چھوڑوں گی جب تک وہ لڑکی سکندر ولا میں رہے گی تب تک آپ کے دل میں محبت بن کر سانس لیتی رہے گی اسے آپ کے دل سے نکالنے کے لیے عاشو اب کسی بھی حد تک جاسکتی ہے شاید بھائی کو بھی اپنے رشتے کی قربانی دینا پڑے لیکن میں آپ کو حاصل کر کے ہی رہوں گی ہر قیمت پر”
عشوہ غصے میں خود سے عہد کرتی ہوئی بولی
****
