Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Payar Howa Tha (Episode 24)

Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel

“ہاں ہاں عون بھی ٹھیک ہے اور میں بھی ٹھیک ہوں بس تم ہماری فکر چھوڑو اور جلد سے جلد واپس آجاؤ تمہیں یاد ہے زیاد مجھے اکیلا چھوڑ کر کہیں دور جانے سے اوائڈ کرتا تھا بےشک تمہارا آفس کا کام ایسا آگیا ہے جسے تم اگنور نہیں کرسکتے لیکن ابھی صرف ایک دن گزرا ہے اور مجھے تمہاری فکر ہورہی ہے”

مائے نور موبائل فون کان سے لگائے چیئر پر بیٹھتی ہوئی ریان سے بولی

“ارے ہاں بھئی عون تھوڑی دیر پہلے عرا کے ہی پاس تھا میں کوئی جلاد تھوڑی ہوں جو بلاوجہ ہی بچے کو ماں سے دور رکھو گی تمہیں یہاں کی ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ہے بےفکر رہو۔۔۔ میں اپنی میڈیسن بھی وقت پر لے رہی ہوں بس تم اپنے کھانے پینے کا دھیان رکھنا اوکے ٹیک کیئر”

مائے نور ریان سے بات کرکے اپنا موبائل ایک سائیڈ پر رکھتی ہوئی عون کی تلاش میں کمرے سے باہر نکلی

“شمع او شمع میں نے تمہیں عون کو ڈائپر چینج کرنے کے لیے دیا تھا کہاں پر ہے عون”

مائے نور ماتھے پر بل لیے کچن میں موجود شمع سے پوچھنے لگی جو اس وقت کھانا بنانے میں مصروف تھی

“وہ جی میں کام میں مصروف تھی تو عرا بھابھی نے کہا کہ عون بابا کا ڈائپر وہ خود چینج کردے گی تو میں نے عون بابا کو انہیں دے دیا”

شمع کی بات سن کر مائے نور نے غصے میں شمع کو دیکھنے لگی مائے نور کی خوانخوار نظروں کو دیکھ کر شمع کو اپنی غلطی کا احساس ہوا وہ جلدی سے دوبارہ بولی

“پرسوں سے ہی ایسی ترستی نظروں سے عون بابا کی طرف دیکھے جارہی تھیں اس لیے میں نے سوچا تھوڑی دیر کے لیے اپنی اولاد کو سینے سے لگاکر خوش ہوجائے گیں عون بابا بھی اُن کی گود میں آکر ایسے مسکرائے جارہے تھے بس جی ابھی لےکر آتی ہوں عون بابا کو آپ کے پاس”

شمع مائے نور کے کڑے تیوروں کو دیکھتی ہوئی بولی تو مائے نور غصے میں چلائی

“بکواس بند کرو۔۔۔ اور اپنی حد میں رہو اس گھر میں تمہاری حیثیت ملازمہ کی ہے یہ بات تمہیں اپنے ذہن میں رکھنی چاہیے کس نے حق دیا کہ تم میرے پوتے کو اس فضول سی لڑکی کو دے آؤ، تمہاری طبیعت تو میں بعد میں ٹھیک کرتی ہوں پہلے اس مظلوم بنی ماں کی خبر لے کر آؤ”

مائے نور شمع کو غصے میں دھتکارتی ہوئی وہاں سے ریان کے کمرے کی جانب بڑھ گئی

“مما کی جان اِنا پالا میرا بیٹا انی پالی سی اسمائل ہے میری جان کی”

عرا بیڈ پر لیٹے ہوئے عون پر جھکی ہوئی اس سے باتیں کررہی تھی عون عرا کو باتیں کرتا دیکھ کر اپنے ننھے سے ہاتھ پاؤں چلاتا ہوا مسکرا رہا تھا تبھی اچانک مائے نور کمرے کا دروازہ کھول اندر آگئی اسے دیکھ کر عرا کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوگئی وہ اٹھ کر مائے نور کے سامنے کھڑی ہوئی

“کس کی اجازت سے تم میرے پوتے کو یہاں لے کر آئی ہو”

مائے نور عرا کا چہرہ دیکھ کر غراتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی

“آپ کا پوتا پہلے میرا بیٹا ہے اس کو اپنے پاس رکھنے کے لیے مجھے کسی کی اجازت درکار نہیں”

عرا چند دن پہلے کی طرح ہمت کرتی ہوئی بولی تو مائے نور نے آگے بڑھ کر سے اس کا منہ اپنی مٹھی میں دبوچ لیا

“یہ جو تم ریان کی شے ملنے پر میرے سامنے اچھلنے لگی ہو ناں یاد رکھنا میں ریان کی ماں ہوں اگر اپنی پہ آجاؤ تو میرے سامنے ریان کی بھی نہیں چلتی تم جیسی چیونٹی کو تو میں یونہی مسل کر رکھ دوں گی اگر مجھ سے ٹکر لینے کی کوشش تو۔۔۔ اگر تم سکندر ولا میں موجود ہو تو ریان کی ضد یا خواہش پر نہیں صرف زیاد کے بیٹے کی وجہ سے میں تمہیں اپنے اس گھر میں برداشت کررہی ہوں اور اب جب تک میں نہیں چاہو گی تم عون کو ہاتھ تک نہیں لگاؤ گی اگر تم نے میرے حکم کی خلاف ورزی کی تو میں تمہارا وہ حشر کروں گی جو تم نے خوابوں میں بھی نہیں سوچا ہوگا”

مائے نور عرا کو آنکھیں دکھا کر وارن کرتی ہوئی پیچھے بیڈ پر دھکیل چکی تھی اس نے عون کو گود میں لے کر عرا کا موبائل بھی اٹھالیا اور کمرے سے باہر نکل گئی

“آج رات کو اپنی بھابھی کو کھانا دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے زبان کچھ زیادہ ہی چلنے لگی ہے ایک رات بھوکی رہے گی تو عقل خود ٹھکانے آجائے گی”

روتے ہوئے عون کو کندھے سے لگاتی ہوئی مائے نور شمع سے بولتی ہوئی اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی

****

“ایسے کیوں خاموش بیٹھی ہو”

زیاد جو تھوڑی دیر پہلے افس سے گھر آیا تھا عرا کو یوں خاموش دیکھ کر ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتا ہوا اس سے پوچھنے لگا عرا جو انتظار میں تھی کے زیاد اس سے اس کی خاموشی کی وجہ پوچھے گا فوراً سے بولی

“آج شام میں آنٹی کی فرینڈز آئی تھیں زیاد آنٹی نے اپنی فرینڈز کے سامنے ہی مجھے۔۔۔

عرا کی پوری بات سننے سے پہلے ہی زیاد تنگ آتا ہوا بولا

“ایک تو انسان آفس سے تھکا ہوا گھر آتا ہے کہ کچھ سکون کے پل نصیب ہو لیکن تمہارے رونے شروع ہوجاتے ہیں آج ماں نے یہ کردیا آج ماں نے وہ بول دیا تم تھکتی نہیں ہو یار شکایتیں کرکے”

زیاد جو پہلے ہی چڑچڑا ہورہا تھا عرا کے کہنے پر الٹا اس پر برس پڑا یہ جانتے ہوئے بھی کہ زیادتی لازمی مائے نور کی جانب سے کی گئی ہوگی

“تمہارے سامنے اپنے رونے نہیں روؤں تو پھر کس کے سامنے روؤں تمہیں میرا شکایت کرنا برا لگ رہا ہے اور آنٹی جو میرے ساتھ اکثر زیادتی کرتی ہیں وہ تمہیں نظر نہیں آتا”

عرا زیاد کی بات پر افسوس کرتی ہوئی بولی جس پر زیاد مزید چڑ گیا

“تم بتاؤ پھر کیا کروں اپنی ماں کے ساتھ، جاکر ان سے لڑنے بیٹھ جاؤ تمہاری خاطر۔۔۔ کیا ان کی غلطی پر اُن کو غلط نہیں بولتا یا میں تمہاری طرفداری نہیں کرتا ان کے سامنے، لیکن ہر وقت تو ایسا نہیں ہوتا کہ میں اپنی ماں کو سناتا ہی رہوں وہ ماں ہیں یار میری۔۔۔۔ اور سسرال میں تو یہ سب چلتا ہی رہتا ہے لڑکیاں برداشت بھی کرتی ہیں تھوڑا تم بھی کرلیا کرو نہیں تو میں تمہارے اور ماں کے چکر میں پاگل ہوجاؤ گا یقین کرو ابھی ان کے سامنے جاؤ گا تو میری شکل دیکھ کر ان کا بھی یہی رونا شروع ہوجائے گا تمہاری بیوی یہ تمہاری بیوی وہ، کبھی کبھی تو محسوس ہوتا ہے بہت بڑی غلطی کردی میں نے شادی کر کے”

زیاد اتاری ہوئی ٹائی کو بیڈ پر پھینکتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا

ایسا نہیں تھا کہ اس رات زیاد اس سے خفا رہا ہو یا پھر اپنے رویے کی عرا سے بعد میں معافی نہ مانگی ہو لیکن زیاد کی باتوں نے اسے کافی کچھ سمجھا دیا تھا عرا پرانی باتوں کو ذہن سے نکالتی ہوئی کمرے سے باہر نکلی دوپہر سے ہی اس نے مائے نور کے ڈر سے کمرے سے باہر قدم نہیں نکالا تھا اب رات کے وقت جب مائے نور عون کو لیے اپنے کمرے میں جاچکی تھی تو عرا بھوک سے پریشان ہوکر کچن میں آگئی

لیکن کچن میں اس کو اپنے کھانے لائک کچھ نظر نہ آیا اور فریج لاک دیکھ کر عرا کو رونا آگیا سُست قدم اٹھاکر عرا اپنے کمرے میں آگئی جہاں شمع پہلے سے ہی موجود تھی

“تم اپنے کوارٹر میں نہیں گئی ابھی تک”

عرا کے پوچھنے پر شمع نے جلدی سے ہاتھ میں پکڑا پیکٹ ٹیبل پر رکھ کر بیڈ روم کا دروازہ بند کیا

“کیا کررہی ہیں بھابھی نوکری سے نکلوائیں گی مجھ غریب کو بیگم صاحبہ نے آج اپنی نگرانی میں محدود کھانا بنوایا تھا اور بچا ہوا کھانا فریج میں رکھ کر فریج لاک کرنے کو کہا یہ کھانا میں نے باہر سے آپ کے لیے اپنے بھائی سے منگوایا ہے تاکہ آپ خالی پیٹ نہ سوئے”

شمع کی بات سن کر عرا کو ڈھیر سارا رونا آگیا

“بڑا غصہ ہے جی بیگم صاحبہ کے رویے پر آپ کو شروع دن سے ہی ناحق پریشان کر رکھا ہے انہوں نے اور آج تو پہلی مرتبہ مجھ کو بھی میری اوقات یاد کروائی ہے خدا کا کوئی خوف ہی نہیں ان کو آپ ضرور یہ ساری باتیں ریان بھائی کے واپس آنے پر اُن کو بتائیے گا”

شمع عرا کو آنسو صاف کرتے دیکھ کر بولی

“ریان کو یہ سب بتانے سے کیا ہوگا روز روز اسی طرح کے حالات دیکھ کر مرد بھی اُکتا جاتا ہے۔۔۔ وہ بھی اُکتا جائے گا سوری آج میری وجہ سے تمہیں آنٹی سے ڈانٹ پڑ گئی”

عرا شمع کو دیکھتی ہوئی بولی

“یعنی بیگم صاحبہ اتنا غلط کررہی ہیں عون بابا کو آپ کے پاس رہنے نہیں دیتی آج کھانا دینے سے بھی منع کردیا اور آپ یہ سب کچھ ریان بھائی کو نہیں بتائیں گیں حیرت ہے جی آپ کے صبر اور برداشت پر”

شمع حیرت زدہ ہوکر عرا سے بولی جو انتظار میں تھی عرا کچھ بولے گی لیکن عرا کو چپ دیکھ کر شمع دوبارہ بولی

“اچھا جی کھانا کھالیے گا میں چلتی ہوں بیگم صاحبہ نے مجھے اس وقت یہاں دیکھ لیا تو میری ٹانگیں توڑ ڈالے گیں”

شمع بولتی ہوئی عرا کے کمرے سے نکلی عرا نے اسے کھانے کا شکریہ کہہ کر کمرے کا دروازہ بند کردیا

“ریان پلیز جلدی سے واپس آجاؤ” بھوک نہ جانے کہاں اڑ چکی تھی عرا ریان کی سائیڈ ٹیبل پر رکھی ہوئی تصویر کو دیکھتی ہوئی مخاطب ہوئی ابھی ایک ہی دن گزرا تھا اور اس کو ریان کی یاد آنے لگی تھی اس کا موبائل بھی مائے نور کے پاس موجود تھا ورنہ وہ ریان کو کال کرلیتی

****

“یہ لو بات کرو ریان سے رات سے بار بار کال آئے جارہی ہے اس کی”

مائے نور عرا کے کمرے میں آتی ہوئی بےزار سے لہجے میں بول کر عرا کو موبائل پکڑانے لگی۔۔۔ عرا نے اپنا موبائل لیتے ہوئے مائے نور کو دیکھا تو اس کی آنکھوں میں تنبہی واضح تھی

“کیا ہوگیا یار کل رات سے کال کررہا ہوں نہ میری کال ریسیو کررہی ہو نہ ہی میرے میسج کا رپلائی کررہی ہو کیا ایک ہی دن میں بھول گئی ہو مجھے”

عرا کی آواز سنتے ہی ریان اس سے شکوہ کرتا ہوا بولا

“موبائل سائلنٹ موڈ پر تھا تو دھیان ہی نہیں گیا موبائل پر، ذہن میں آیا ہی نہیں کہ تمہاری کال آسکتی ہے بس ابھی موبائل پر نظر پڑی تمہاری کال آرہی تھی تو ریسیو کرلی”

عرا مائے نور کی موجودگی میں بات بناتی ہوئی ریان سے بولی ورنہ ریان کی آواز سن کر عرا کا دل چاہ رہا تھا وہ پھوٹ پھوٹ کر روئے اور اسے جلدی واپس آنے کا بول دے

“موبائل پر دھیان نہیں گیا مطلب میری طرف بھی تمہارا کل سے دھیان نہیں گیا۔۔۔ یعنی تم نے مجھے ایک پل کے لیے بھی یاد نہیں کیا اور یہاں تو یہ عالم ہے کہ تمہیں دیکھے بغیر میرا وقت ہی نہیں گزر رہا صرف تمہاری تصویر دیکھ کر گزارہ کررہا ہوں۔۔۔ عرا کیمرہ آن کرو یار مجھے دیکھنا ہے تمہیں”

ریان کی فرمائش سن کر عرا نے مائے نور کو دیکھا جو اس کے سر پر کھڑی کڑے تیوروں کے ساتھ اسے گھورے جارہی تھی

“فضول کی باتیں چھوڑو یہ بتاؤ میٹنگ کیسی رہی تمہاری”

عرا مائے نور کی موجودگی میں ریان سے بات کرتے ہوئے ہچکچارہی تھی اس لیے ریان کی باتوں کو اگنور کر کے اسے دوسرے ٹاپک پر لے آئی

“مطلب تمہارے نزدیک میری باتیں فضول ہیں، مانا تمہیں مجھ سے یوں اتنی جلدی انسیت نہیں ہوسکتی مگر میرے جذبات کا احساس تو کرسکتی ہو جھوٹے منہ ہی سہی ایک مرتبہ بول دو کہ تمہیں بھی میری یاد آرہی تھی میں اس جھوٹ پر ہی خوش ہوجاؤ گا”

ریان کی باتیں اس وقت اسے مشکل میں ڈالنے لگی

“ہر بات پر بچوں کی طرح ایکٹ مت کرو اچھا یہ بتاؤ واپس کب آرہے ہو”

عرا جھنجھنلاتی ہوئی پہلو بدل کر ریان سے واپس آنے کا پوچھنے لگی

“تمہیں کیا فرق پڑتا ہے میرے واپس آنے پر میں یہاں رہو یا پھر نیویارک چلا جاؤں تمہیں کون سا میری پروا ہے”

ریان اسے شکوہ کرتا ہوا بولا شاید وہ عرا سے دور جانے کے بعد اس کی توجہ کا طلب گار تھا مگر عرا مائے نور کی موجودگی میں چاہ کر بھی ریان سے کھل کر بات نہیں کر پارہی تھی عرا نے بےچارگی سے مائے نور کو دیکھا جو اب بےزار سے انداز میں گھڑی میں ٹائم دیکھے جارہی تھی

“ریان ہم بعد میں بات کرلیتے ہیں ابھی تھوڑی پرابلم ہے”

عرا دھیمے لہجے میں ریان سے بولی

“نہیں مجھے تم سے ابھی بات کرنی ہے اور تم مجھ سے بات کرو گی کیوکہ میں تم سے بات کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ اگر تم نے مجھ سے بات نہیں کی تو میں تم سے ناراض ہوجاؤ گا اور اگر میں تم سے ناراض ہوگیا تو یاد رکھنا عرا میں بہت برا ناراض ہوتا ہوں”

ریان کا لب و لہجہ بالکل سنجیدہ تھا عرا عجیب کشمکش میں پڑگئی اس سے پہلے عرا ریان سے کچھ بولتی مائے نور نے عرا سے موبائل چھین کر کال کاٹ دی جس پر عرا حیرت سے منہ کھولے مائے نور کو دیکھنے لگی

“آپ نے اس کی کال کیوں کاٹ دی وہ سمجھے گا میں اس سے بات نہیں کرنا چاہتی اور نہ ہی مجھے اس کی ناراضگی کی کوئی پرواہ ہے پلیز مجھے صرف دو منٹ اس سے بات کرلینے دیں”

عرا نے مائے نور سے اپنا موبائل لینا چاہا تو مائے نور نے بری طرح اس کا ہاتھ جھٹک دیا

“میرے سامنے زیادہ تڑپنے کی ضرورت نہیں ہے بےشرم کہیں کی، کچھ شرم باقی بچی ہے تو ڈوب مرو۔۔۔ پہلے شوہر کی آنکھیں بند ہوتے ہی اسی کے بھائی سے عاشقیاں لڑا رہی ہے بےحیا اور وہ بےشرم کیسے مرے جارہا ہے اس لڑکی کے لیے جو پہلے اس کے بھائی کی عزت رہ چکی ہے۔۔۔ تم نے اپنی اس معصوم شکل سے میرے دونوں بیٹوں کو بےوقوف بنایا ہے ایک تو اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے اور دوسرا پورا اُلو بن چکا ہے میری ایک بات کان کھول کر سن لو اگر تم نے ریان کو میرے خلاف ورغلایا یا اسے میرے خلاف پٹیاں پڑھائی تو یاد رکھنا میں تم پر اس گھر کی چھت تنگ کردو گی”

مائے نور عرا کو باتیں سنا کر اس کا موبائل اپنے ساتھ لے گئی مائے نور کی باتیں سن کر عرا کو بےتحاشہ رونا آیا مائے نور کی آواز اس قدر بلند تھی کہ گھر کے اندر تمام ملازموں نے بھی مائے نور کی ساری باتیں سنی ہوگی شرمندگی کے مارے عرا سے کمرے سے باہر نہیں نکلا گیا

****

“سچ میں عرا نے مجھے یاد نہیں کیا اور مجھے لگنے لگا تھا میری موجودگی اس کے لیے تھوڑی بہت سہی مگر معنی رکھنے لگی ہے۔۔۔ اس کا دل بدلنے لگا ہے لیکن میری کال کاٹ کر اس نے یہ ثابت کردیا اسے میری ناراضگی کی پروا نہیں۔۔۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے وہاں شمع یا کوئی دوسرا موجود ہو

وہ میٹنگ ختم ہونے کے بعد اسی ہوٹل میں بیٹھا عرا کے بارے میں سوچنے لگا

“او مائے گاڈ ریان سکندر یہ تم ہو مجھے یقین نہیں آرہا اپنی آنکھوں پر”

ایلکس حیرت اور خوشی سے ملے جلے تاثرات کا اظہار کرتی ریان سے بولی تو ریان بھی وہاں ایلکس کو دیکھ کر بری طرح چونکا

“اٹس رئیلی سرپرائز فار می تم یہاں شارجہ میں کیسے”

ریان ایلکس کو دیکھ کر حیرت کا اظہار کرتا ہوا اپنی کرسی سے اٹھ کر اس کے سامنے کھڑا ہوا ریان کے کھڑے ہونے پر ایلکس آگے بڑھ کر اسے ملی ایلکس کے یوں گلے لگنے پر پہلی مرتبہ ایسا ہوا تھا کہ ریان کو عجیب محسوس ہوا تھا

“صرف شارجہ میں ہی نہیں میرا تو پاکستان آنے کا بھی پروگرام ہے لیکن اچھا ہوا تم سے آج ملاقات ہوگئی تم نیویارک سے کیا گئے ہم سارے دوستوں کو ہی بھول گئے کسی سے کوئی کانٹیکٹ بھی نہیں کیا اور شاید اپنا نمبر بھی چینج کرلیا یہ صحیح بات نہیں” ایلکس ریان سے شکوہ کرتی ہوئی بولی ریان کے اشارے پر ہی وہ اس کے ٹیبل پر بیٹھ گئی

“تمہیں بالکل اندازہ نہیں میری لائف ایک دم کیسے چینج ہوئی” ریان ایلکس کو زیاد کی ڈیتھ اور پھر عرا سے اپنی شادی کے بارے میں بتانے لگا

“اتنا سب کچھ ہوگیا تمہاری لائف میں اور تم نے اتنی بڑی ذمہ داری بھی قبول کرلی مگر اپنے دوستوں کو نہیں چھوڑنا تھا دوستو اچھے برے وقت کے ساتھ ہی ہوتے ہیں”

ایلکس کی بات پر ریان ہلکا سا مسکرایا

“دوستوں کو چھوڑا نہیں تھا موبائل ڈیمج ہوگیا تھا میرا۔۔۔ سارے کانٹیکٹس بھی اسی میں موجود تھے اس لیے تم لوگوں سے دوبارہ کنیکٹ نہیں ہو پایا ویسے میں نے ساری ذمہ داریاں زور زبردستی یا کسی کے فورس کرنے پر قبول نہیں کی میں بہت خوش ہوں اپنی لائف میں اپنی وائف عرا کے ساتھ”

ریان عرا کا نام لیتے ہوئے مسکرایا تو ایلکس ریان کا چہرہ دیکھنے لگی

“جس طرح تم اپنی وائف کا نام لیتے ہوئے اسمائل دے رہے ہو لگتا ہے تمہیں محبت ہوگئی ہے اس سے”

ایلکس کی بات پر ریان ایک مرتبہ پھر مسکرایا اسے وہی دن یاد آیا جب پاکستان جانے سے پہلے ایلکس اور وہ محبت کے ٹاپک پر بات کررہے تھے

“وہ اپنے اندر ایسی کشش رکھتی ہے کہ مجھے اسے دیکھ کر ہی محبت ہوگئی تھی وہ سچ میں محبت کرنے کے قابل ہے تم جب پاکستان آؤ گی اس سے ملو گی تو تمہیں بھی اس سے مل کر خوشی ہوگی”

ریان ایلکس سے باتیں کرتا ہوا کافی کا سپ لینے لگا ساتھ ہی ریان نے ایلکس سے اس کا اور باقی سارے دوستوں کے نمبر بھی لے لیے

“وہ تو میں اب ضرور ملوں گی عرا سے، دیکھتے ہیں بھئی آخر وہ کون سی لڑکی ہے جس نے ریان سکندر کو اپنا دیوانہ بنادیا”

ایلکس مسکراتی ہوئی بولی اور کافی کا مگ ٹیبل پر رکھ کر اپنا بجتا ہوا موبائل دیکھنے لگی

“تم نے بتایا نہیں کہ تمہارا یہاں پر کیسے آنا ہوا اور تمہاری لائف کیسی گزر رہی ہے کیا چل رہا ہے آج کل”

ایلکس نے اپنا موبائل بیگ میں رکھا تو ریان اس سے اسی کے بارے میں پوچھنے لگا ریان کی بات سن کر ایلکس مسکرائی

“جیسے تمہاری لائف میں بہت ساری چینجز آئی ہیں ایسے ہی میری لائف میں بھی بہت ساری چینجز آئی ہیں لیکن تمہارے سارے سوالوں کا جواب میں ابھی نہیں پاکستان آکر دو گی ابھی مجھے ضروری کام سے جانا ہوگا بعد میں ملتے ہیں”

ایلکس ریان سے بولتی ہوئی اسے حیران چھوڑ کر وہاں سے اٹھ کر چلی گئی

****

دوسرا دن بھی بند کمرے میں گزر چکا تھا رات کا کھانا اور صبح کا ناشتہ اس کے کمرے میں ہی پہنچا دیا گیا باہر سے آتی عون کے قلقہاریوں کی آواز یا پھر رونے کی آواز پر بھی عرا کمرے سے باہر نہیں نکلی اس وقت اسے شدت سے انتظار تھا کہ کل صبح کا سورج جلد طلوع ہو اور ریان کی سکندر ولا میں آمد ہو کیونکہ اس کی آمد پر ہی عرا کیا اس بلاوجہ کی سزا کا اختتام ہوتا مگر رات تھی کہ گزر کے ہی نہیں دے رہی تھی رات کے ایک بجے کے قریب اسے مین گیٹ پر گاڑی کے ہارن کی آواز سنائی دی عرا ایک دم بیڈ سے اٹھ کر پھرتی سے کمرے کی کھڑکی کی جانب گئی ٹیکسی سے نیچے اترتے ریان کو دیکھ کر عرا کا دل زور سے دھڑکا وہ صبح کی بجائے رات میں ہی آگیا تھا عرا ریان کو دیکھ کر کمرے سے بھاگتے ہوئے ہال میں آگئی اور تیزی سے ہال عبور کرتی وہ دروازے تک پہنچی تھی کہ باہر سے دروازے خود کھلا سامنے کھڑا ریان عرا کا دروازے پر دیکھ کر پل بھر کے لیے چونکا عرا جو ریان کو اپنے سامنے کھڑا دیکھ کر ساکت ہوئی تھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکی اور آگے بڑھ کر ریان کے سینے سے لگ گئی عرا کا یہ عمل دیکھ کر ریان خود بھی حیران رہ گیا

“تم بہت برے ہو ریان، انسان کو اس قدر غیر ذمہ دار اور لاپرواہ نہیں ہونا چاہیے کوئی اس طرح اپنی فیملی کو چھوڑ کر دور چلا جاتا ہے آئندہ تم کہیں پر نہیں جاؤ گے ورنہ میں تم سے بات نہیں کرو گی”

عرا ریان کے سینے سے لگی اس سے بولی وہ یہ نہیں بول سکی کہ اس کی غیر موجودگی کیسے اس گھر میں اس کی ذات کے لیے سزا بن گئی تھی عرا کی بات سن کر ریان نے ہاتھ میں پکڑا سوٹ کیس نیچے رکھتے ہوئے اپنے دونوں بازو عرا کی کمر پر باندھے

“کل کال پر تو کوئی بالکل ہی اجنبی اور بے پروا سا بنا ہوا تھا تو پھر یہ آج اچانک سے کیا ہوگیا۔۔۔ مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا میری بیوی میرا اتنی بےصبری سے انتظار کر رہی ہے اور نہ ہی مجھے امید تھی کہ تم میرا اتنا خوبصورت ویلکم کرو گی یہ دو دن کی دوری تمہیں میرے قریب لے آئی ہے لو یو سو مچ ڈارلنگ اب بول بھی دو ان دو دنوں میں تم نے مجھے مس کیا”

ریان نے عرا سے بولتے ہوئے اپنے دونوں بازوؤں سے اس کی کمر پر گرفت کو مزید سخت کیا۔۔۔ کل کال کے بانسبت اس قدر عرا میں چینجنگ دیکھ کر ریان اندر سے خوش ہوا

“انفارم بھی نہیں کیا تم نے مجھے اپنے آنے کا اور تم تو کل آنے والے تھے ناں”

ہال میں کھڑی مائے نور کی آواز پر ریان نے ایک دم عرا کی کمر سے اپنے دونوں بازو ہٹائے وہی عرا بھی مڑ کر مائے نور کو دیکھ کر سٹپٹائی اور شرمندہ ہوتی ہوکر پیچھے ہوئی ساتھ ہی اس نے اپنا سر نیچے جھکا لیا

“کیا کرتا آپ کی اس قدر یاد آرہی تھی آفیشلی ڈنر کو چھوڑ کر آج رات کی فلائٹ سے ہی آپ کے پاس آگیا”

ریان مائے نور سے بولنے کے ساتھ چلتا ہوا اس کے پاس آیا اور اپنے دونوں بازو مائے نور کے کندھے پر رکھتا ہوا نرمی سے اس سے اس کا حال پوچھنے لگا لیکن مائے نور چھبتی ہوئی نظروں سے سر جھکائے کھڑی عرا کو دیکھ کر ریان سے بولی

“اگر تم سچ میں میرے لیے واپس آئے ہو تو تمہیں سب سے پہلے میرے کمرے میں آکر مجھ سے ملنا چاہیے تھا لیکن شادی کے بعد اکثر بیٹوں کی ترجیحات بدل جاتی ہیں آج دیکھ لیا”

مائے نور ریان کے ہاتھ پیچھے کرتی ہوئی مسکرا کر جتانے والے انداز میں بولی

“اس بات کا کیا مطلب ہوا ایسا کیوں سوچ رہی ہیں آپ۔۔۔ ماں آپ عرا اور عون۔۔۔ آپ تینوں ہی میری فیملی ہیں اپنی اپنی جگہ سب کی ذات امپورٹنٹ ہوتی ہے جو آپ کی اہمیت اور رتبہ ہے وہ کسی دوسرے کا نہیں اگر آپ ایسی سوچ ذہن میں لائے گیں تو مجھے ہرٹ کریں گیں”

ریان کے بولنے پر مائے نور اس کو دیکھ کر طنزیہ مسکرائی اور خاموشی سے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی عرا نے سر اٹھا کر دیکھا ریان افسوس سے مائے نور کو جاتا ہوا دیکھ رہا تھا تھوڑی دیر پہلے اس کے چہرے پر جو خوشی چھائی ہوئی تھی اب وہ غائب ہوچکی تھی

“تم روم میں جاؤ رات کافی ہو چکی ہے ریسٹ کرلو میں ماں کے پاس ہوں تھوڑی دیر کے لیے”

عرا نے ریان کو بولتے سنا اپنا سوٹ کیس وہی چھوڑ کر مائے نور کے کمرے کی جانب بڑھ گیا عرا خالی نظروں سے ہال کو دیکھنے لگی اور بیڈ روم میں چلی آئی تین گھنٹے کے انتظار کے باوجود جب ریان کمرے میں نہیں آیا تو عرا کمرے سے باہر نکلی اور مائے نور کے کمرے کے پاس پہنچی اندر سے کوئی بھی باتوں کی آواز نہیں آرہی تھی عرا نے بےحد آئستگی سے کمرے کا دروازہ کھولا تو جھری سے کمرے کے اندر کا منظر واضح نظر آیا عون کارٹ کے اندر موجود سو رہا تھا جبکہ ریان بھی مائے نور کے بیڈ پر اس کے قریب لیٹا ہوا اپنی ماں کو مناتے مناتے شاید تھکن کی وجہ سے وہی سو چکا تھا جبکہ مائے نور ریان کے قریب بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگائے آنکھیں بند کیے بیٹھی تھی اس کا ایک ہاتھ اپنی گود میں اور دوسرا ہاتھ ریان کے بالوں پر موجود تھا

عرا کو سامنے بیٹھی اس عورت کی خودغرضی اور بےحسی پر شدید غصہ آنے لگا یہ عورت اس سے اپنے بیٹے کو تو دور رکھتی ہی تھی اب اس سے اس کا بیٹا بھی چھین چکی تھی۔۔۔ لیکن عرا برداشت کرنے کے علاوہ اور کر بھی کہہ سکتی تھی وہ اپنا غصہ ضبط کرتی واپس بیڈ روم میں چلی گئی

****