Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel NovelR50397 Payar Howa Tha (Episode 22)
No Download Link
Rate this Novel
Payar Howa Tha (Episode 22)
Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel
ان دنوں وہ اپنے اندر خود سے ایک عجیب سی جنگ لڑ رہی تھی جہاں ریان پچھلے تین ماہ سے اپنے اور اس کے رشتے میں فاصلے ختم کرنے کی کوششوں میں لگا ہوا تھا وہی چند دنوں سے عرا کو اپنے اوپر حیرت ہونے لگی تھی اسے ریان کی بےتکلفی بری نہیں لگتی تھی وہ آہستہ آہستہ ریان کی عادی ہونے لگی تھی ریان کے خیال رکھنے کا انداز اس کی فکر کرنے کا انداز اس کی شرارت بھری باتیں عرا کو وہ سب برا یا عجیب نہیں لگتا۔۔۔
وہ اب زیاد کو بھولنے لگی تھی یہ سوچ آتے ہی عرا کو شرمندگی ہونے لگتی وہ زیاد کے ساتھ بےوفائی کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی پھر کیسے اس کا دل بدل رہا تھا وہ کیسے ریان کے جانب مائل ہورہی تھی پچھلے چار دنوں سے اس سوچ نے اس کی بےچینی کو بڑھا دیا تھا یہی وجہ تھی پچھلے چار دنوں سے وہ ریان سے بلاوجہ ہی کترا رہی تھی تھوڑی دیر پہلے شاور لےکر کمرے میں آئی تو سوئے ہوئے عون پر اُس کی نظر پڑی تھوڑی دیر پہلے شمع عون کو اُس کے حوالے کرکے گئی تھی ریان کا آفس سے آنے کا ٹائم ہوچکا تھا لیکن وہ ابھی تک گھر نہیں پہنچا تھا عرا گھڑی میں ٹائم دیکھتی ہوئی ریان کو کال ملانے لگی کیونکہ آج عون کو ویکسینیشن کے لیے لےکر جانا تھا ویسے تو عون کے کسی کام سے ریان غفلت نہیں برتتا تھا لازمی آج آفس کے کام کی وجہ سے وہ مصروف ہوگا عرا نے سوچتے ہوئے ریان کا نمبر ملایا
“کہاں رہ گئے ہو یاد نہیں ہے آج عون کی ویکسینیشن ہے”
کال ریسیو ہوتے ہی عرا ریان کے کچھ بولنے سے پہلے بولی
“آپ شاید مسز ریان بات کررہی ہیں”
اجنبی مردانہ آواز پر عرا کے دماغ نے خطرے کی گھنٹی بجائی
“جی میں مسز ریان سکندر ہوں لیکن آپ کون ہیں ریان کہاں پر ہے” ناجانے وہ خود کہاں پر تھا اور اُس کا موبائل کس کے پاس موجود تھا بہت سارے سوال اُس کے ذہن میں اُٹھنے لگے عرا پریشان سی اُس اجنبی سے پوچھنے لگی
“میں ہیلتھ کیئر ہاسپٹل سے بات کررہا ہوں آپ کے ہسبینڈ کا کار ایکسیڈنٹ ہوا ہے ویسے تو گھبرانے کی بات نہیں ہے چوٹیں معمولی سی آئی ہیں اور وہ اس وقت۔۔۔۔
نہ جانے وہ آدمی اور کیا بول رہا تھا ایکسیڈنٹ کا لفظ سن کر عرا کے کان سائے سائے کرنے لگے اُس کے دل کی دھڑکنیں مدھم ہوتی گئی ایسے ہی کار ایکسیڈنٹ نے آج سے چند مہینے پہلے اُس کی زندگی بدل کر رکھ دی تھی زیاد کا جھلسا ہوا چہرہ، اس کی ڈیڈ باڈی، اپنا پل سسکنا اور تڑپنا۔۔۔ ایک ایک کرکے سارے منظر اُس کی آنکھوں کے سامنے گھومنے لگے
“ہیلو میم آپ کو میری آواز آرہی ہے”
عرا کو معلوم ہی نہیں ہوا وہ فون کان پر لگائے کب ڈرائیور وے میں گاڑی کے پاس آپہنچی
“کہیں پر جانا ہے آپ کو”
رؤف دور سے عرا کو گاڑی کے پاس کھڑا دیکھ کر وہی آتا ہوا عرا سے پوچھنے لگا
“ہاں ریان کے پاس۔۔۔ ہیلتھ کیئر ہاسپٹل”
وہ موبائل کی لائن کاٹتی ہوئی آنکھوں سے پانی صاف کر کے رؤف سے اتنا ہی بول سکی
“آپ پریشان کیوں ہیں سب خیریت ہے”
عرا کے گاڑی میں بیٹھنے کے بعد رؤف ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتا ہوا تشویش بھرے انداز میں عرا سے پوچھنے لگا
“وہ آدمی بول رہا تھا کہ گھبرانے کی بات نہیں ہے
مگر حادثات چھوٹے ہو یا بڑے لوگوں کی زندگی بدل جاتی ہے رؤف پلیز جلدی سے ہاسپٹل چلو”
عرا روتی ہوئی بولی۔۔۔ رؤف کو اُس کی کوئی بات سمجھ نہیں آئی وہ بناء کچھ بولے گاڑی اسٹارٹ کرکے گیٹ سے باہر نکال چکا تھا عرا کا موبائل ایک مرتبہ پھر بجنے لگا لیکن عرا نے دوبارہ کال ریسیو نہیں کی
****
“بہت غیر ذمہ دار عملہ ہے آپ کا مطلب بناء پرمیشن کوئی بھی کسی کی پرسنل چیزیں یوز کرسکتا ہے آپ فوری طور پر ایکشن لیں اس بات کا”
ریان اپنی چوٹوں کو نظر انداز کرتا غصے میں ڈاکٹر پر برس رہا تھا اس سے پہلے ڈاکٹر اُس سے معذرت طلب کرتا کمرے کے کھلنے والے دروازے نے ریان اور ڈاکٹر کی توجہ اپنی جانب کھنچی
“عرا”
ریان ڈاکٹر کے کمرے میں موجود عرا کو آتا دیکھ کر صحیح سے سنبھل بھی نہیں پایا تھا کہ عرا ریان کی جانب تیزی سے بڑھی اور اُس کے سینے سے لگ کر بری طرح رونے لگی
“عرا کیا ہوگیا ہے یار میں بالکل ٹھیک ہوں یہاں دیکھو میری طرف”
شولڈر میں اُٹھنے والی تکلیف کو نظر انداز کرتا وہ عرا کے رونے پر پریشان ہوکر عرا سے بولا ہی تھا کہ عرا نے اسے پیچھے دھکیلا جس پر ریان مزید حیرت زدہ سا عرا کو دیکھنے لگا جو اس کو پیچھے دھکا دینے کے بعد اپنے آنسو صاف کرتی اب ریان کو غصے میں دیکھ رہی تھی
“تمہیں کوئی حق نہیں پہنچتا مجھے اِس طرح پریشان کرنے کا۔۔۔ سمجھتے کیا ہو تم خود کو، مجھ سے شادی کرنے کے بعد اب تم پر صرف تمہارا حق نہیں رہا تم نے عون کو ہی نہیں مجھے بھی اپنی زندگی میں شامل کیا ہے، آنٹی تمہیں یوں زخمی حالت میں دیکھ کر کسطرح پریشان نہیں ہوگیں انکی فکر ہے تمہیں۔۔۔ ایسا کرکے کیوں ہماری زندگیوں کے ساتھ کھیل رہے ہو تم۔۔۔ کیا تم نہیں جانتے کہ زیاد کے چلے جانے کے بعد میں نے کیسے اس کو یاد کرکے دن گزارے ہیں میں دوبارہ اتنا بڑا صدمہ برداشت نہیں کر پاؤں گی ریان۔۔۔۔ میں عون کو اکیلے نہیں سنبھال سکتی ہماری زندگی میں داخل ہونے کے بعد تم ہم لوگوں کے ساتھ ایسا نہیں کرسکتے میں بالکل برداشت نہیں کر پاؤ گی اگر تمہیں کچھ بھی ہوگیا تو”
وہ غصے میں روتی ہوئی ریان سے اور نہ جانے کیا کیا بول رہی تھی
ریان نے ایک نظر ڈاکٹر پر ڈالی جو حیرت سے منہ کھولے ان دونوں کو اپنے روم میں کھڑا دیکھ رہا تھا پھر ریان نے عرا کے پاس جاکر اسے اپنے حصار میں لے لیا جس پر وہ ایک دم خاموش ہوگئی
“میں تمہارے سامنے بالکل ٹھیک کھڑا ہوں ناں پھر کیوں اِس قدر پریشان ہورہی ہو ریلیکس ہوجاؤ مجھے بہت معمولی سی چوٹیں آئی ہیں اصل ایکسیڈنٹ اُس بائیک والے کا ہوا ہے جو رونگ وے میں میری گاڑی کے سامنے آیا تھا میرے کپڑوں پر یہ بلڈ بھی اُسی لڑکے کا ہے اور یہ بینڈج تو ویسے ہی کردی ہے ڈاکٹر نے میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔ اس لڑکے کے ٹیسٹ کروانے کے چکر میں اپنا موبائل یہی بھول گیا تھا تو ان کے اسسٹینٹ نے تمہاری کال ریسیو کر کے تمہیں میرے بارے میں بتا دیا”
ریان عرا کے رونے پر نرمی سے اُس کو بولا اور اسے اپنے ساتھ لیے ہسپتال سے باہر نکل آیا
****
“ہائے اللہ جی یہ کیا ہوگیا ریان بھائی آپ کو”
عرا کو لے کر وہ سکندر ولا میں داخل ہوا تو کچن سے باہر نکلتی ہوئی شمع اپنے دل پر ہاتھ رکھتی ریان کا حلیہ دیکھ کر گھبراتی ہوئی بولی
“میں ٹھیک ہوں شمع مجھ کو کچھ نہیں ہوا ہے ماں کہاں پر ہیں” دراصل اس کی شرٹ پر بائیک والے کا خون موجود تھا جیسے وہ خود زخمی ہونے کے باوجود اپنی گاڑی میں اسپتال لایا تھا ویسے ہی اس کی بھی معمولی چوٹوں کی بینڈیج کردی گئی تھی جسے دیکھ کر عرا کے بعد اب شمع بھی پریشان ہوگئی تھی
“بیگم صاحبہ تو عون بابا کو لےکر اس کی ویکسینیشن کے لیے گئی ہیں۔۔۔ وہ جی کافی خفا بھی ہورہی تھیں یوں عرا بھابھی کے اچانک رؤف کے ساتھ جانے پر”
شمع نے ریان کو بتانے کے سر آخری جملہ عرا کو دیکھ کر بولا
“ٹھیک ہے ماں آجائیں تو ان کے سامنے میری اس کنڈیشن کا ذکر کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے میں تھوڑی دیر ریسٹ کرو گا” ریان بولتا ہوا اپنے روم کی جانب بڑھ گیا جبکہ شمع اب عرا کو اس طرح دیکھنے لگی جیسے جاننا چاہ رہی ہو کہ یہ سارا ماجرہ کیا ہے
“آتی ہوں تھوڑی دیر میں”
عرا شمع کو بولتی ہوئی خود بھی ریان کے پیچھے بیڈ روم کی جانب بڑھ گئی
****
“آفس میں کام نکل آیا تھا ماں اس لیے گھر آنے سے لیٹ ہوگیا آپ کیوں عون کو ہاسپٹل لےکر چلی گئیں اس کی ویکسینیشن کل ہوجاتی۔۔۔ یار آپ اسے کچھ مت بولا کریں میں نے ہی اُسے کہا تھا رؤف کے ساتھ آجاؤ۔۔۔ اوکے بابا آئندہ ایسا نہیں ہوگا ڈنر ہوگیا میرا اب میں ریسٹ کروں گا۔۔۔ کل صبح بات کرتے ہیں پھر”
عرا جب بیڈ روم میں آئی تو اس نے ریان کو موبائل پر بات کرتے ہوئے پایا اس کی باتوں سے صاف محسوس ہورہا تھا وہ اس حالت میں مائے نور کا سامنا نہیں کرنا چاہ رہا تھا مائے نور اس کو زخمی دیکھ کر پریشان ہوجاتی۔۔۔ عرا کو بیڈ روم میں آتا دیکھ کر ریان موبائل سائیڈ پر رکھتا ہوا بولا
“ایک نمبر کا ایڈیٹ انسان تھا اس ڈاکٹر کا اسسٹنٹ بلاوجہ ہی غصہ دلا دیا اپنی بے وقوفی سے مجھے”
ریان عرا کو دیکھتا ہوا بولنے کے ساتھ ہی شرٹ کے بٹن کھولنے لگا
“لاؤ میں ہیلپ کردیتی ہوں تمہاری”
ریان کا ہاتھ زخمی دیکھ کر عرا آگے بڑھ کر بولی
“ہاں پلیز”
وہ ایسا بھی نازک مزاج نہ تھا کہ خود اپنی شرٹ تبدیل نہ کرسکے لیکن اس نے عرا کی پیشکش کو فوراً مان لیا کیوکہ چند دنوں سے وہ معلوم نہیں کس بات پر اسے کو کچھ کھنچی کھنچی سی لگ رہی تھی
“کل رات ہی میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ تم کافی پریشان ہو کوئی بہت بڑا حادثہ ہوا ہے لیکن تم ہم سب سے چھپا رہے ہو پتہ نہیں میں نے اس خواب کو کیوں معمولی لےلیا بس ابھی رؤف آجائے تو سب سے پہلے صدقہ کرتی ہوں تمہارے اوپر سے”
عرا جو ریان کی شرٹ اتارتی ہوئی پریشانی میں خود سے بولے جارہی تھی ریان بڑی توجہ سے اُس کے عمل کو دیکھ رہا تھا اسے یوں عرا کا اپنی فکر کرنا بہت اچھا لگ رہا تھا لیکن اُس کی خواب والی بات پر وہ ہنسا
“خواب حقیقت کا رنگ نہیں ہوتے ہیں یہ سب بکواس باتیں ہوتی ہیں اِن کو ذہن پر سوار مت کیا کرو ہونے والی بات تھی ہوگئی ختم کرو اس ٹاپک کو”
ریان لاپرواہی سے بولا تو عرا حیرت ذدہ ہوکر اسے دیکھتی ہوئی اُس کی خون آلود شرٹ ریان کے سامنے کرتی ہوئی بولی
“یہ تمہیں بکواس لگ رہا ہے جو تمہارے ساتھ ہوا ہے خواب بکواس نہیں ہوتے وہ کبھی کبھی ان آنے والے وقت کا بھی پتہ دیتے ہیں۔۔۔ ہماری آگاہی کے لیے بھی ہوتے ہیں لیکن تم سے تو بات کرنا فضول ہے تم کہا سمجھو گے ان باتوں کو”
عرا کو ریان کی بات پر غصہ آیا وہ اس کی اتاری ہوئی شرٹ غصے میں وہی پھینکتی ہوئی کمرے سے باہر جانے لگی
“یار اس میں غصہ کرنے والی کیا بات ہے اچھا رکو تو کہاں جارہی ہو۔۔۔ میری شرٹ اتار کر مہربانی کر ہی دی ہے تو دوسری شرٹ پہنا کر مزید مہربانی بھی کردو”
ریان کی بات سن کر وہ رک گئی اور ریان کو سیریس ہوکر دیکھتی ہوئی وارڈروب کی جانب بڑھ گئی ریان کے لیے دوسری شرٹ نکالنے لگی آج ریان کو اس بات کا ادراک ہوا کہ اس کی بیوی کسی حد تک خوابوں پر یقین رکھنے والی لڑکی ہے عرا شرٹ لےکر ریان کے پاس آئی
“یہ میرا کوئی خواب کیوں نہیں سچ ہوتا یار میں نے کتنی بار تم سے خواب میں بھرپور طریقے سے رومانس کیا ہے مگر حقیقت میں تم نے ایک مرتبہ بھی مجھے ایسا موقع نہیں دیا”
عرا ریان کو شرٹ پہنانے لگی تبھی ریان بالکل سیریس ہوکر اس سے بولا وہی عرا ریان کو شرٹ پہنانے کی بجائے اُسے دیکھنے لگی
“تمہیں بالکل عجیب نہیں لگتا مجھ سے ایسی باتیں کرنا شرم نہیں آتی تمہیں”
عرا سیریس ہوکر ریان سے پوچھنے لگی تو ریان اس کی بات سن کر ہنسا
“کوئی اُلو ہی ہوگا جو اپنی بیوی سے شرماتا ہوگا۔۔۔ میں کسی غیر لڑکی سے تو ایسا کچھ نہیں بول رہا اپنی بیوی سے بول رہا ہوں تو عجیب کیوں لگے گا مجھے”
ریان نے عرا سے بولتے ہوئے اپنی شرٹ اس کے ہاتھ سے لےکر بیڈ پر اچھالی خود عرا کو اپنے بازوؤں کے حصار میں لےلیا عرا خاموشی سے ریان کو لفظ ‘اپنی بیوی’ کے بولنے پر اسے دیکھنے لگی ریان کے قریب آنے پر وہ عجیب سے احساسات میں مبتلا ہونے لگی عرا جو کہ ریان کے حصار میں جکڑی ہوئی گم سم سی اسے دیکھے جارہی تھی ریان عرا گلے سے دوپٹہ اتار کر اسے خود سے مزید قریب کرتا ہوا اس کی گردن پر جھک گیا۔۔۔ ریان کے ہونٹ اپنی گردن پر محسوس کرکے عرا کے پورے جسم میں عجیب سنسنی سی دوڑ گئی اس نے پیچھے ہونا چاہا مگر ریان نے اپنے بازوؤں کی گرفت سخت کردی
“میں اب تمہارے لیے محرم بن چکا ہوں اس بات کو اندر سے تسلیم کرنے کے باوجود کیوں خود سے یہ بات کہنے سے ڈرتی ہو”
ریان عرا کے بےچین ہونے پر اس کی گردن سے اپنے ہونٹ ہٹاتا ہوا عرا کا چہرہ دیکھ کر سنجیدگی سے بولا
“میں کسی سے نہیں ڈرتی اور میرے سامنے محرم محرم کی رٹ مت لگاؤ، ایسا کچھ نہیں ہے جیسا تم سوچ رہے ہو میں تمہیں یہ شرٹ پہنانے آئی تھی کیونکہ تمہارے شولڈر میں درد ہے ہم دونوں کے درمیان ایسا کچھ نہیں ہے تمہیں درد ہے اور میں صرف تمہارے درد کا احساس کرکے۔۔۔
عرا ریان سے نظر ملائے بغیر اس سے بول ہی رہی تھی کہ ریان نے اس کی بات کاٹی وہ ابھی تک ریان کے حصار میں موجود تھی
“ایک درد مجھے یہاں بھی ہوتا ہے تمہارے اس بلاوجہ کے گرہیز سے اس درد کی تمہیں کوئی فکر نہیں”
ریان عرا کا ہاتھ پکڑ کر اپنے دل پر رکھتا ہوا بولا
“مجھے بتاؤ کہ تم کب تک میرے اور اپنے رشتے کو یوں نظر انداز کرو گی کب تک اس رشتے سے نظر چراؤ گی بولو۔۔۔ اگر تم اپنے رویے سے مجھ پر یہ واضح کرنا چاہتی ہو کہ تمہیں میری پرواہ نہیں ہے اور ہمارے اس رشتے کی تمہاری نظر میں کوئی حیثیت نہیں ہے تو آج کیوں میرے ایکسیڈنٹ کی خبر سن کر اس قدر پریشان روتی ہوئی دوڑ کر اسپتال چلی آئی۔۔۔ عاشو کا میرے ساتھ وقت گزارنے پر کیو تمہیں اس قدر رونا آیا تھا۔۔۔ اگر تم میرے دل میں اپنے لیے احساسات رکھنے لگی ہو تو اس میں غلط کیا ہے یار کوئی گناہ نہیں کررہی ہو تم میں شوہر ہوں ناں تمہارا۔۔۔ کیوں بھاگتی ہو اس رشتے سے جو حقیقت بن چکا ہے”
ریان آج اسے بخشنے کے موڈ میں نہ تھا اس لیے پے در پہ سوالات اٹھائے جارہا تھا
“ریان پلیز مجھے چھوڑ دو۔۔۔ مجھے جانے دو”
ٰعرا ریان کے سوالوں کو اگنور کر کے اس کے ارادوں سے ڈرتی ہوئی بولی
آج ریان کے تیور اور دنوں کے جیسے ہرگز نہ تھے۔۔۔ ناجانے اسے کیا ہوا تھا اس لیے عرا فرار چاہتی تھی جو اسے ناممکن لگ رہا تھا لیکن عرا کے بولنے پر ریان نے عرا کو اپنے حصار سے فوراً آزاد کردیا جس کی عرا کو بالکل توقع نہ تھی وہ خاموشی سے ریان کو دیکھنے لگی ریان بالکل سنجیدہ اس کے سامنے کھڑا تھا
“جانا چاہتی ہو تو چلی جاؤ میں نہیں روکوں گا لیکن آج تمہیں اس بات کا ثبوت دینا ہوگا کہ میرے اور تمہارے رشتے کی اہمیت خود تمہاری نظر میں کتنی ہے اگر تم سچ میں میرے اور اپنے اس رشتے کی پروا نہیں کرتی تو تم کمرے سے باہر چلی جاؤ میں تم سے شکوہ نہیں کروں گا لیکن اگر تمہارے نزدیک میری اور ہمارے اس رشتے کی ذرا بھی اہمیت ہے تو یہاں میرے پاس آجاؤ”
ریان کی بات پر عرا عجیب کشمکش میں مبتلا ہوکر ریان کو بےچارگی سے دیکھنے لگی جو ناجانے اچانک اسے کیسے موڑ پر کھڑا کرچکا تھا ریان عرا کو کنفیوز دیکھ کر خاموشی سے بیڈ پر بیٹھ گیا جبکہ عرا اس کے پاس پڑا اپنا دوپٹہ اٹھاتی ہوئی دروازے کی جانب بڑھی اور پیچھے پلٹ کر ریان کو دیکھنے لگی وہ خاموشی سے عرا پر نظر ٹکائے بیڈ پر بیٹھا رہا عرا نے کمرے کا دروازہ کھولا تو پل بھر کے لیے ریان کے تاثرات تبدیل ہوئے وہی عرا دروازے پر کھڑی شمع کو دیکھ کر چونکی اس سے پہلے شمع کچھ بولتی عرا اس سے بولی
“میں تمہارے پاس ہی آرہی تھی، عون اگر آنٹی کو پریشان کرے تو تم اس کو سنبھال لینا ریان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے میں ابھی اُسی کے پاس موجود ہوں”
عرا شمع سے بولتی ہوئی کمرے کا دروازہ لاک کر چکی تھی۔۔۔
دروازہ لاک کرنے کے بعد وہ دروازے سے ٹیک لگائے اپنی انکھیں بند کیے بالکل خاموش کھڑی رہی ریان کی نگاہیں ابھی بھی عرا کے چہرے پر ٹکی ہوئی تھی عرا اپنی نظریں جھکائے خود کو تیار کرتی ریان کے پاس آنے لگی عرا کے قریب آنے پر ریان نے اس کے آگے اپنا ہاتھ بڑھایا تو عرا کو اپنے خواب کا وہ منظر یاد آنے لگا جو اس نے چند دنوں پہلے دیکھا تھا وہ نہیں چاہتی تھی کہ خواب کی طرح حقیقت میں اس کے اور ریان کے بیچ میں کوئی دوسرا آجائے یا پھر ریان اس سے بدگمان ہوجائے اس لیے ریان کے بڑھے ہوئے ہاتھ پر عرا نے اپنا ہاتھ رکھ دیا جسے تھام کر ریان نے اپنی جانب کھینچا تو وہ گم سم سی کھڑی، ریان کے ذرا سے کھینچنے پر وہ خود کو بچا نہیں پائی اور ریان کے اوپر جاگری ریان نے اس کے گرد بازووں کو گھیرا بناکر عرا کو بیڈ پر لٹایا اور اس پر جھک گیا
اپنی گردن پر ریان کے ہونٹوں کا لمس محسوس کرکے عرا نے اپنی آنکھیں سختی سے بند کرلی اپنی گردن پر جابجا ریان کے محبت بھرے لمس کو محسوس کرکے عرا کی حالت غیر ہونے لگی اس نے اپنے اوپر جھکے ریان کے شولڈر پر اپنا ہاتھ رکھا جو ریان نے اپنے ہاتھ میں تھام لیا اور عرا کا چہرہ دیکھنے لگا عرا نے اپنی بند آنکھوں کو کھولنے کی زحمت نہیں کی جنہیں دیکھ کر ریان بولا
“تمہیں دیکھ کر معلوم ہوا ہے محبت کسے کہتے ہیں تمہارے پاس آکر تمہیں چھو کر محسوس ہوتا ہے محبت کتنی خوبصورت شے ہے یہ احساس میرے لیے بہت حسین ہے کہ تم میری زندگی کا حصہ بن چکی ہو۔۔۔ تمہاری ذات میرے لیے بہت انمول ہے۔۔۔ تم بہت خاص ہو۔۔۔ میرے دل کے بہت زیادہ قریب۔۔۔ جب جب تمہارے قریب آیا ہوں میرے دل کی حالت عجیب ہوجاتی ہے میں تمہیں اپنے احساسات لفظوں میں نہیں سمجھا سکتا”
ریان نے عرا سے بولتے ہوئے اس کا ہاتھ اپنے دل پر رکھ دیا ریان کا دل اس وقت عرا دل سے بھی زیادہ زور سے دھڑک رہا تھا ریان کی دھڑکنوں کا شور محسوس کرکے عرا بمشکل اپنی آنکھیں کھول پائی ریان کا چہرہ اس وقت اس کے چہرے سے بےحد نزدیک تھا اسے ریان کی سانسوں کی تپش اپنے چہرے پر محسوس ہورہی تھی ایک دوسرے کے اتنے قریب آنے پر اُن دونوں کی دھڑکنیں آپس میں مل کر اور زیادہ شور مچانے لگی ریان عرا کے گلابی ہونٹوں کو دیکھ کر مدہوش ہونے لگا
“تمہیں خود پر ناز ہونا چاہیے کہ تمہارا شوہر تمہارے لیے بری طرح پاگل ہے میں ہمیشہ تمہیں اپنے قریب دیکھنا چاہتا ہوں”
ریان عرا سے بولتا ہوا اس کے ہونٹوں پر جھک گیا جذبات کا یہ عالم تھا کہ وہ اپنے کندھے میں اٹھتے درد کو یا پھر تھوڑی دیر پہلے ہوئے ایکسیڈنٹ کو فراموش کرکے عرا کی ذات میں کھونے لگا لیکن باہر سے آتی عون کے رونے کی آواز نے اُن دونوں کے بیچ ہوئے ملاپ میں خلل ڈالا ریان اس کے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ جدا کرتا پیچھے ہوا تو عرا اس کے دور ہونے پر گہری سانس لیتے بےحال ہونے لگی۔۔۔ اسے لگنے لگا تھا آج ریان ہر حد پار کرنے والا ہے اور شاید وہ ایسا کر بھی ڈالتا
“جاؤ عون کو کمرے میں لے آؤ اس نے کافی دیر سے تمہیں نہیں دیکھا اس لیے رو رہا ہوگا”
ریان بیڈ پر سے اپنی شرٹ اٹھاتا ہوا اپنے جذبات پر قابو پاکر بولا تو عرا بھی اٹھ کر بیٹھ گئی
“ریان یہ خون۔۔۔ اُف یہ تمہاری بینڈج ساری کھل چکی ہے”
عرا اس کے ہاتھ کی بینڈیج دیکھ کر شرم و حیا بھولتی ہوئی پریشان ہوکر بولی جو بے احتیاطی کی وجہ سے کُھل چکی تھی اور زخم سے بلیڈنگ ہونا اسٹارٹ ہوچکی تھی
“پریشانی والی کوئی بات نہیں ہے میں اسے دیکھ لیتا ہوں تم عون کے پاس جاؤ وہ پریشان ہورہا ہے اور ماں کو ایکسیڈنٹ کے متعلق معلوم نہیں ہونا چاہیے عرا میں اُن کو پریشان نہیں دیکھنا چاہتا”
ریان کے سمجھانے پر عرا اس کو پانی کے ساتھ پین کلر دیتی ہوئی کمرے سے باہر نکلی گئی
****
“کہاں ہے وہ مہارانی اس سے بولو اپنے حجرے سے نکلے۔۔۔ نہ اپنی اولاد کی پرواہ ہے نہ گھر کی فکر، بس منہ اٹھایا اور چل پڑی گھومنے میری شکل کیا دیکھ رہی ہو جاکر بلاؤ اُسے”
مائے نور جو ہسپتال سے آکر خراب موڈ میں گھر کے ملازموں پر برسنا شروع ہوچکی تھی عرا خود ہی بلاوے سے پہلے ہال میں چلی آئی جسے دیکھ کر مائے نور کا منہ حلق تک کڑوا ہوگیا
“کہاں گھومنے پھرنے نکلی ہوئی تھی کچھ خیال ہے، فکر ہے تمہیں اپنی اولاد کی”
عرا کو آتا دیکھ کر وہ ملازموں کی پروا کیے بغیر اس پر برسنا شروع ہوگئی جس پر عرا آج نہ تو گھبرائی نہ ہی پہلے کی طرح ڈری بلکہ دونوں ہاتھ باندھ کر مائے نور کے قریب آتی ہوئی بولی
“آپ ہی کے بیٹے کو یاد آرہی تھی میری اس نے مجھے کال کرکے اپنے پاس بلوایا تھا، بتایا تو تھا ریان نے تھوڑی دیر پہلے آپ کو کال پر، پھر آنے کے ساتھ اتنا ہنگامہ کرنے کی کیا ضرورت ہے اور رہی عون کی فکر تو آپ مجھے میرے بیٹے کی فکر کرنے کا موقع دیتی ہی کب ہیں”
عرا کے دھیمے لہجے میں مگر طنزیہ انداز پر پل بھر کے لیے مائے نور چونکی تھوڑی دیر کے لیے وہ کچھ بول نہ پائی عرا کے جملے پر اور انداز پر غور کرنے لگی پھر اسے اچانک غصہ آیا
“تمہاری اتنی ہمت کہ تم میرے آگے زبان چلاؤ میں پوچھتی ہوں حیثیت کیا ہے تمہاری، اتنی اوقات ہے تمہاری کہ تم یوں میرے سامنے کھڑی ہوکر مجھ سے بات کرو”
مائے نور غصے میں سرخ ہوتی اس کل کی دبو سی لڑکی کو دیکھنے لگی جو اُس کی اونچی آواز پر سہم سی جاتی لیکن آج وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بات کررہی تھی
“حیرت ہے آپ کو ابھی تک میری اوقات اور حیثیت کا اندازہ نہیں ہوا میں دو مرتبہ آپ کے اس عالیشان محل میں آپ کے دونوں بیٹوں کی خواہش پر بیوی کی حیثیت سے باری باری لائی گئی ہوں یہ ہے میری حیثیت”
عرا کے جواب پر مائے نور دوسری مرتبہ لاجواب ہوئی تھی وہ غصے میں دانت پیستی وہاں سے جانے لگی اس کا رخ ریان کے کمرے کی جانب تھا
“ریان اِس وقت ریسٹ کررہا ہے اس نے خاص طور پر تاکید کی تھی کہ اسے کوئی بھی ڈسٹرب نہ کرے”
عرا کی آواز پر مائے نور کے قدم رکے وہ پلٹ کر عرا کو گھورتی ہوئی دیکھنے لگی وہ کل کی لڑکی اُسے اُسی کے گھر میں اُسی کے بیٹے سے ملنے سے روک رہی تھی
“میں نے آپ کو روکا نہیں ہے صرف ریان کا میسج دیا ہے آپ چاہے تو جاکر اس سے میری شکایت کرسکتی ہیں سکون اسی کا برباد ہوگا کسی دوسرے کا نہیں”
عرا کی بات پر مائے نور نے وہاں کھڑے ملازموں کو دیکھا جو آج خود حیرت زدہ سے یہ منظر دیکھ رہے تھے
“تم لوگوں کو کیا ہوگیا ہے یہاں کوئی تماشہ چل رہا ہے اپنا کام کرو جاکر”
مائے نور کے ڈانٹنے پر ملازم اپنے اپنے کاموں میں لگ گئے مائے نور نے خار بھری نظر عرا پر ڈالی اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی
عرا نے شکر ادا کرتے ہوئے لمبا سانس لیا اور خود کو ریلیکس کیا۔۔۔ آج نہ جانے اسے کیا ہوا تھا اتنی جرات اور ہمت اسے آخر کس شے سے ملی تھی کہ وہ مائے نور کے غصے سے ڈرنے کی بجائے اُس کے سامنے بولنے لگی شاید تھوڑی دیر پہلے ریان کے لفظوں نے اُس کو اُس کی اہمیت بتائی تھی یا پھر وہ بھی جیتی جاگتی انسان تھی ایک حد تک ہی اپنے اوپر کی گئی زیادتی کو برداشت کرسکتی تھی تھوڑی دیر میں شمع عون کو گود میں اٹھائے ہال میں آئی جو روتے ہوئے عون کو بہلانے کے غرض سے لان میں لے گئی تھی
“عرا بھابھی یہ آپ ہی ہیں ناں یا پھر کوئی اور”
عون کو عرا کی گود میں دیتے ہوئے شمع حیرت زدہ سی عرا سے بولی یعنی اس نے بھی سب کچھ سن لیا تھا شمع کی بات کا عرا نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا خاموش نظروں سے شمع کو دیکھتی ہوئی عون کو اس کی گود سے لینے لگی عون عرا کی گود میں آنے کے بعد اس کے کندھے سے لگتا ہوا ایک مرتبہ پھر سے رونا شروع کرچکا تھا کیونکہ بہت دیر تک اُس کی ماں اُس کی آنکھوں سے اوجھل رہی تھی
“میرا بیٹا۔۔۔ میری جان۔۔۔ اب مما نہیں جائیں گیں عون کے پاس سے۔۔۔۔ بس مما کی جان اب چپ کر جاؤ”
عرا عون کو پیار کرتی بہلانے لگی عون کے رونے کی وجہ سے اس نے بیڈ روم میں جانے کا ارادہ ترک کردیا وہ ریان کو ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتی تھی حقیقتاً ریان کو اِس وقت ریسٹ کی ضرورت تھی
رات ڈنر عرا نے اکیلے ہی کیا نہ تو ریان بیڈ روم سے باہر آیا نہ ہی مائے نور خراب موڈ کے سبب اپنے کمرے سے نکلی مائے نور نے اپنا کھانا اپنے کمرے میں ہی منگوالیا تھا جبکہ شمع نے عرا کو اطلاع دی ریان کمرے میں سو رہا تھا عرا کے کہنے پر شمع مائے نور کو پیغام دے آئی تھی کہ عون آج رات عرا کے پاس ہی سوئے گا
اُس وقت عرا سوئے ہوئے عون کو گود میں لیے بیڈ روم میں آئی تو اس نے ریان کو گہری نیند میں سوتا ہوا پایا عون کو بےبی کارٹ میں لٹاکر وہ خود بھی ریان کے برابر میں بیڈ پر لیٹ گئی اور سوئے ہوئے ریان کا چہرہ دیکھنے لگی ریان کا چہرہ دیکھتے ہوئے اچانک اسے احساس ہوا آج اس نے سارے دن میں زیاد کے بارے میں ایک بار بھی نہیں سوچا تھا۔۔۔۔ کیا زیاد کی یادوں کو بھلانا اتنا آسان تھا آج سارا دن اس کا دھیان زیاد کی طرف نہیں گیا زیاد اگر اس کے ذہن سے نکلتا جارہا تھا تو وجہ شاید یہی شخص تھا زیاد کا بھائی عرا کی نظر ریان کے ماتھے پر موجود چوٹ کے نشان پر گئی عرا نے آگے ہاتھ بڑھا کر اس نشان کو چھونا چاہا مگر ریان کی نیند نہ ڈسٹرب ہو خود ہی اپنا ہاتھ پیچھے کرلیا اور آنکھیں بند کرکے خود بھی سونے کی کوشش کرنے لگی
****
