Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel NovelR50397 Payar Howa Tha (Episode 20)
No Download Link
Rate this Novel
Payar Howa Tha (Episode 20)
Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel
وہ غصے میں روتی ہوئی جذباتی ہوکر سکندر ولا سے باہر تو نکل گئی تھی لیکن اب رات کے وقت سنسان سڑک پر اکیلے چلتے ہوئے اسے اپنی حماقت کا احساس ہورہا تھا لیکن انا ایسی آڑے آئی تھی کہ وہ پلٹ کر واپس نہیں جانا چاہتی تھی اس لیے یونہی بےمقصد سڑک پر خاموشی سے چلتی رہی۔۔۔ چند منٹ بعد سامنے سے اُسے گاڑی آتی دکھائی دی جس میں تین آدمی بیٹھے تھے جنہیں دیکھ کر عرا گھبرائی کیوکہ وہ گاڑی تھوڑی دور فاصلے پہ آگے جاکر رک گئی اور وہ تینوں آدمی اس گاڑی سے اترتے ہوئے عرا کی جانب آنے لگے ایسی صورتحال پر عرا کی جان پر بن آئی اس نے اپنے چلنے کی رفتار ایک دم تیز کردی
“اے لڑکی سنائی نہیں دے رہا تمہیں، میں تم سے بول رہا ہوں شرافت سے رک جاؤ ورنہ۔۔۔
ایک آدمی تیزی سے قدم بڑھاتا ہوا عرا کے سامنے آکر کھڑا ہوا جس کی وجہ سے عرا کو اپنے قدم روکنا پڑے وہ پیچھے مڑی تو پیچھے اس کے دونوں ساتھی کھڑے تھے جنہیں دیکھ کر عرا مزید گھبرائی
“کہاں بھاگ کر جارہی تھی۔۔۔ لگتا ہے گھر سے بھاگ کر آئی ہو یا پھر کوئی چوری چکاری کر کے فرار ہونے کی کوشش کررہی تھی جبھی اتنا گھبرائی ہوئی ہو”
ان میں سے ایک آدمی روعب جماتا ہوا بولا تو عرا ہمت کرتی بولی
“میں جہاں سے بھی آرہی ہوں آپ سے مطلب۔۔۔ آپ ہٹئں یہاں سے راستہ چھوڑیں میرا”
عرا اپنے لہجے کی گھبراہٹ چھپاتی ہوئی ہمت کر کے بولی اور سائیڈ سے نکلنے لگی ویسے ہی دوسرا آدمی اس کے راستے میں آکر دیوار بن کر کھڑا ہوگیا
“یہ کہیں سے چوری کرکے آئی ہے جبھی یہاں سے نکلنا چاہ رہی ہے اس کی تلاشی لو”
وہ آدمی اپنے ساتھی کو آنکھ مارتا ہوا بولا تو عرا اس کی بات پر بری طرح گھبرا گئی
“میں ایک شریف لڑکی ہوں اسی کالونی میں تھوڑے آگے جاکر میرا گھر ہے راستہ چھوڑیئے میرا” عرا اس وقت کو کوسنے لگی جب وہ رات کے پہر اکیلی گھر سے باہر نکلی تھی یہ نہ جنے کون لوگ تھے اور زبردستی کیوں اس کے پیچھے پڑے تھے
“وہی چیک کررہے ہیں میڈم کہ تم کتنی شریف لڑکی ہو خاموشی سے اپنی تلاشی لینے دو نہیں تو ابھی تمہیں پولیس اسٹیشن لے جاکر پولیس کے حوالے کردیں گے”
تیسرا آدمی بھی اب کی مرتبہ روعب ڈالتا ہوا بولا تو عرا کی نظر سامنے سے آتی ریان کی گاڑی پر پڑی
“ریان” عرا نے ریان کی گاڑی کو آتا دیکھ کر خدا کا شکر ادا کیا اور ریان کی طرف بڑھ گئی عرا کو دیکھ کر ریان بھی گاڑی روک چکا تھا وہ گاڑی سے اتر رہا تھا تبھی عرا تیزی سے قدم بڑھاتی ہوئی اس کی جانب بڑھی اور ریان کے سینے سے لگ گئی اتنی زیادہ خوشی اسے ریان کو دیکھ کر پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی جبکہ وہ تینوں آدمی آپس میں کچھ بات کرتے ہوئے سامنے کھڑے ریان کو دیکھنے لگے
“شکر ہے تم آگئے ریان، نہیں تو میں۔۔۔ عرا انکھیں بند کیے ریان کے سینے سے لگی اس سے بولی اگے اس سے کچھ بولا ہی نہیں گیا
“کوئی مسئلہ ہے کیا تم لوگوں کے ساتھ”
ریان عرا کی بات اٙن سنی کرتا اُن لوگوں کو دیکھکر پوچھنے لگا
“ہمیں کیا مسئلہ ہوگا یہ لڑکی پریشان لگ رہی تھی ہم تو جاننا چاہ رہے تھے کہ اس کے ساتھ کیا مسئلہ ہے”
ان میں سے ایک ادمی ریان کو دیکھتا ہوا بولا تو ریان عرا کو دیکھنے لگا
“کچھ غلط کیا ہے ان لوگوں نے تمہارے ساتھ یا کچھ بولا ہے تو مجھے بتاؤ”
ریان سنجیدہ تاثرات لیے عرا کو دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا جس پر عرا نے جلدی سے نفی میں سر ہلایا وہ تینوں آدمی ریان کو عرا سے بات کرتا دیکھ کر آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کرتے وہاں سے اپنی گاڑی کی طرف جانے لگے
“نہیں کچھ غلط نہیں کیا تم پلیز چلو یہاں سے مم۔۔۔ مجھے گھبراہٹ ہورہی ہے پلیز جلدی سے گھر چلو”
عرا ڈرتی ہوئی ان تینوں کو دیکھ کر ریان سے بولی وہ تینوں آدمی اپنی گاڑی کی طرف بڑھ رہے تھے تبھی ریان کچھ سوچ کر عرا کو سائیڈ میں کرتا ان تینوں کی جانب بڑھنے لگا مگر عرا نے جلدی سے ریان کی کلائی کو مضبوطی سے پکڑلیا
“میں بالکل صحیح کہہ رہی ہوں انہوں نے کچھ نہیں کہا ریان پلیز گھر چلو”
عرا ریان کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر ایک مرتبہ پھر بولی کیونکہ وہ کسی قسم کا فساد یا ہنگامہ نہیں چاہتی تھی عرا کی بات سن کر ریان عرا کو گاڑی میں بٹھاتا ہوا خود بھی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا اور خاموشی سے کار ڈرائیو کرنے لگا
“کیا تم ناراض ہو مجھ سے”
جیسے ہی گاڑی کار پورچ میں آکر رکی عرا ریان کو دیکھتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی کیونکہ ریان ابھی تک بالکل سیریس تھا
“یوں رات کو اکیلے گھر سے نکل کر جانتی ہو تم نے کتنی بڑی حماقت کی ہے”
ریان عرا کو دیکھ کر اس کی غلطی کا احساس دلانے کی نیت سے بولا
“ارے میں بول تو رہی ہوں انہوں نے کچھ غلط نہیں کہا وہ صرف مجھ سے میرا ایڈریس پوچھ رہے تھے اب بھول جاؤ ناں اِس بات کو”
عرا تنگ آکر ریان سے بولی کیونکہ وہ خود بھی اس بات کو بھول جانا چاہتی تھی اور اس نے سوچ لیا تھا آگے زندگی میں وہ کبھی رات کے وقت گھر سے باہر نکل کر ایسی حماقت نہیں کرنے والی تھی عرا کے بولنے پر ریان سنجیدگی سے اس کو دیکھنے لگا تو عرا بےزار سے انداز میں بناء کچھ بولے گاڑی سے نیچے اترنے لگی تبھی ریان نے اس کی کلائی پکڑی
“تمہیں بےشک کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی دوسری لڑکی میرے نزدیک آئے یا پھر مجھ سے فلرٹ کرے نہ ہی تمہیں ان باتوں سے جیلسی فیل ہوتی ہے لیکن میرے علاوہ کوئی دوسرا مرد تمہیں قریب سے دیکھے یا پھر تم سے بات کرے مجھے اس بات سے بہت زیادہ فرق پڑتا ہے میں اپنے علاوہ کسی دوسرے کا تمہیں قریب دیکھنا برداشت نہیں کرسکتا میری اس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا”
ریان عرا کو بولتا ہوا خود گاڑی سے نیچے اتر گیا جبکہ عرا خاموشی سے ریان کو گاڑی سے باہر نکل کر گھر کے اندر جاتا ہوا دیکھتی رہی
****
“تمہارا مطلب ہے میں انکار کردو اشعر کو، عرا اس نے اسپیشل ہمارے لیے ڈنر پارٹی ارینج کی ہے اور میں اُس کا انوٹیشن قبول بھی کرچکا ہوں اب یوں اچانک بناء کسی جواز کے اپنے آنے کا منع کردو کتنا اکورڈ لگے گا یار تم خود سوچو”
ریان عرا کو دیکھتا ہوا بولا تھوڑی دیر پہلے ہی وہ آفس سے گھر آیا تھا آج وہ اور عرا اس کے دوست کی طرف ڈنر پر انوائٹ تھے اور اس ڈنر کے بارے میں وہ عرا کو کل رات کو ہی بناچکا تھا لیکن اب جانے کے وقت عرا کا اس کے ساتھ چلنے کا کوئی ارادہ نہ تھا تبھی ریان عرا کے انکار پر بولا
“میں تم سے یہ کب کہہ رہی ہوں تم اپنے دوست کو منع کردو میں تو صرف یہ بول رہی ہوں کہ میرا موڈ باہر جانے کا نہیں ہورہا تم اکیلے چلے جاؤ اپنے دوست کی طرف”
عرا عون کو گود میں لیے سلانے کی کوشش کرتی ریان سے بولی عرا کی بات سن کر وہ عون کو عرا کی گود سے لے کر بیڈ پر بیٹھ گیا مطلب تو وہی ہوا نہ تم نہیں جاؤ گی تو میں اکیلا جاکر کیا کرو گا ڈنر تو ہماری شادی کی خوشی میں دے رہا ہے وہ”
ریان عون کی طرف سے توجہ ہٹاکر شکوہ بھرے انداز میں عرا سے بولا جس پر عرا چڑ گئی
“سمجھ ہی نہیں آرہا ہماری شادی کی خوشی دوسرے لوگوں کو اتنی زیادہ کیوں ہے آخر”
دو دن پہلے ہی وہ اور ریان اس کے ایک اور دوست کے گھر انوائٹ تھے اور وہ دعوت بھی ان کی شادی کی خوشی میں کی گئی تھی جہاں جاکر عرا اچھی خاصی بےزار ہوئی تھی۔۔۔ ڈیڑھ ماہ ہونے کو آیا تھا یہ دعواتیں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی
“ایک تم ہی خوش نہیں ہو شادی پر تمہیں چھوڑ کر باقی سب خوش ہیں”
ریان عرا کے تپے ہوئے چہرے کو دیکھ کر بولا اور جھک کر عون کو پیار کرنے لگا عرا نے ریان کے چہرے پر چھائی سرشاری کو دیکھی اس شادی سے کوئی خوش ہو یا نہ ہو مگر ریان کا ہر انداز بتاتا تھا کہ وہ اپنے اس کارنامے پر خوش بھی تھا اور مطمئن بھی۔۔۔ عرا ناچاہتے ہوئے بھی بےدلی سے وارڈروب کی طرف بڑھی اور پارٹی میں پہننے کے لیے ڈریس منتخب کرنے لگی
“اگر تیاری میں میری ہیلپ چاہیے تو میں حاضر ہوں”
عرا کو وارڈروب سے کپڑے نکالتے دیکھ کر ریان خوشدلی سے بولا اور ہیلپ کرنے کی پیشکش بھی کردی
“اُس کی ضرورت نہیں ہے مجھے تیاری میں زیادہ وقت نہیں لگتا، لیکن ہم لوگ وہاں پر تھوڑی دیر رکیں گے بس زیادہ سے زیادہ دو گھنٹے اس کے بعد واپسی کرلیں گے”
عرا اپنے لیے سی گرین کلر کا نفیس سی ایبرائڈری والا ڈریس نکالنے کے بعد ریان کو دیکھتی ہوئی بولی
“دو گھنٹے نہیں صرف ایک گھنٹے میں ہی واپس آجائیں گے اور کوئی حکم”
ریان بیڈ سے اٹھ کر عرا کے پاس آتا ہوا بولا اس لڑکی کی یہی بڑی خوبی تھی وہ بہت آسان سا ٹاسک تھی ہر بات کو بناء ضد کیے یا بناء نخرے دکھائے آسانی سے مان جانے والی۔۔۔ صرف اس کی ایک بات کو چھوڑ کر
“اب کھڑے مجھے کیا دیکھ رہے ہو عون کو تھوڑی دیر کے لیے سنبھالو بس پندرہ سے 20 منٹ چاہیے مجھے”
عرا عجلت بھرے انداز میں ریان سے بولی جو اس کے قریب خاموش کھڑا اُس کو یک ٹک دیکھے جارہا تھا
“عون کو تو میں آسانی سے سنبھال لوں گا لیکن کبھی کبھار اپنے بےقابو ہوتے دل کو سنبھالنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔۔۔ کیا پانچ منٹ مجھے مل سکتے ہیں”
ریان غور سے عرا کا چہرہ دیکھکر بولتا ہوا اس کو اپنے بازوؤں میں لےچکا تھا ریان کے اچانک اس عمل پر عرا دم بخود رہ گئی وہ اپنے ہاتھ کی انگلیوں سے اس کے ملائی جیسے گال چھوتا ہوا مدہوشی کے عالم میں بولا
“ایسا ہرگز نہیں ہے کہ تم میرے دل میں چھپی میری خواہش سے انجان ہو، تم میری نظروں کا مفہوم سمجھ کر بھی ہر بار میری جائز خواہش کو رد کردیتی ہو۔۔۔ کیا یہ میرے ساتھ ناانصافی نہیں”
ریان عرا کے چہرے کے قریب اپنا چہرہ لاتا ہوا نرمی سے بولا۔۔۔ ریان کا چہرہ اپنے اتنے قریب دیکھ کر عرا اپنے چہرہ کا رخ دوسری طرف کرنے لگی تبھی ریان نے نرمی سے اُس کا رخ دوبارہ اپنی جانب کیا وہ پریشان سی ریان کی آنکھوں میں دیکھنے لگی
“یہ دوریاں کب نزدیکیوں میں بدلیں گی تمہارا دل کب میرے متعلق سوچنا شروع کرے گا، ان گزرے تیس دنوں میں تمہاری سوچوں کا زاویہ ابھی تک وہی کا وہی ہے، تمہارا دل میرے متعلق کیا سوچتا ہے میں یہ سب جاننے کا حق رکھتا ہوں جواب دو ایسا کب تک چلے گا اور کتنا وقت لگے گا تمہیں اپنے اور میرے رشتے کو قبول کرنے میں”
ریان اس کے قریب کھڑا عرا سے سوال کرنے لگا عرا اس کی باتوں پر مزید پریشان ہونے لگی
“تمہیں اچانک سے کیا ہوگیا پلیز جاؤ یہاں سے مجھے تیار ہونے دو”
عرا اس کے سوالات کو نظر انداز کرتی بولی۔۔۔ اکثر ایسے موقعے پر وہ کمرے سے باہر چلی جاتی لیکن اس وقت وہ ریان کی دسترس میں موجود اس کو فرار ہونے کا موقع نہ ملا۔۔ ریان کو اپنے چہرے پر جھکتا ہوا دیکھ کر عرا نے اس کی دسترس سے نکلنا چاہا تبھی ریان نے اس پر اپنا شکنجہ مضبوط کردیا۔۔۔ عرا اسے ضد میں آتا دیکھ کر ایک لمحے کے لیے کچھ بھی نہ بول پائی اپنے گال پر ریان کے ہونٹوں کا لمس محسوس کرکے عرا نے اپنی آنکھیں سختی سے بند کرلی
“ریان ہوش میں آؤ پلیز ورنہ میں ناراض ہوجاؤ گی تم سے”
جب ریان کے ہونٹ اس کی گردن کو چھونے لگے اور اس کا ہاتھ عرا کے دل کے قریب پہنچا تو عرا اسے دھمکی دیتی ہوئی بولی۔۔۔ عرا کے دھمکانے پر وہ کیا ہوش میں آتا عون کے رونے کی آواز نے کمرے میں چھائے ہوئے محبت کے سحر کو پل بھر میں توڑ ڈالا وہ جو آج من مانی کرنے کے موڈ میں تھا ایک دم ہوش کی دنیا میں واپس آیا۔۔۔ اس سے پہلے عون دھاڑے مار کر مکمل طور پر رونا شروع کردیتا ریان نے عرا کو اپنے بازوؤں سے آزاد کرتے ہوئے جلدی سے جاکر عون کو گود میں اٹھالیا۔۔۔ ریان کی نظر عرا پر پڑی تو وہ ابھی تک ریان کی حرکت پر شاکڈ کھڑی تھی
“میں عون کو لےکر روم سے جارہا ہوں تم ریڈی ہوکر باہر آجانا”
ریان عرا کی غیر ہوتی حالت دیکھ کر بولا اور عون کو گود میں لیے کمرے سے باہر نکل گیا
****
“اب میں نے ایسا بھی کچھ نہیں کردیا تمہارے ساتھ کہ تم مجھ سے بات کرنا تو دور، میری طرف نظر اٹھاکر دیکھ بھی نہیں رہی”
اشعر کے گھر سے واپسی پر ڈرائیونگ کے دوران ریان عرا کے رویے کو محسوس کرتا اس سے بولا اس کی بات پر عرا ریان کو شرمندہ کرنے والے انداز میں دیکھنے لگی
“کیا ہوا کچھ غلط بول رہا ہوں ایسا تو کچھ نہیں ہوا”
وہ بھی شرمندہ ہونے والوں میں سے نہیں تھا عرا کے دیکھنے پر ڈھیٹ بن کر الٹا عرا سے پوچھنے لگا
“تم شروع سے ہی ایسے ہو یا پھر باہر ملک کی ہوا لگنے کے بعد ایسے ہوگئے ہو”
عرا ریان کی ڈھٹائی دیکھ کر اس کو شرمندہ کرتی ہوئی پوچھنے لگی جس پر ریان کو ہنسی آگئی
“تم نے مجھے بچپن میں دیکھا تھا تم جانتی ہو میں بچپن سے تمہارے لیے کس قدر سیریس رہا ہوں زیاد کو کسی بھی گیم میں تمہارا پارٹنر بننے نہیں دیتا تھا یا اگر وہ کبھی تمہارا پارٹنر بن بھی جاتا تھا تو میں اس گیم میں کس قدر پھڈا ڈالتا تھا”
ریان کے منہ سے زیاد کا ذکر سن کر عرا کے چہرے کی رنگت پھیکی پڑگئی اس کے تاثرات یک دم اداسی میں ڈھل گئے ریان کو اس کا چہرہ دیکھ کر اپنی بات کا احساس ہوا اس نے عرا کے گود میں رکھا ہوئے ہاتھ کو اپنے ہاتھ سے دبایا جس پر عرا سر اٹھاکر ریان کا چہرہ دیکھنے لگی
“یہ میرے دل کی تمنا ہے کہ جس لڑکی کی محبت میں میرا دل بری طرح پاگل ہو بیٹھا ہے وہ لڑکی بھی اپنے دل میں میری محبت کو محسوس کرے”
عرا نے دیکھا اپنی بات کے آخر میں وہ خود ہی اداسی سے مسکرایا مگر وہ ریان کی بات پر مسکرا بھی نہ سکی خاموشی سے ریان کو دیکھنے لگی
“میں یہ نہیں کہتا کہ تم زیاد کی یادوں کو اپنے دل سے نکال کر صرف میرے متعلق سوچنا شروع کردو بس اتنا چاہتا ہوں اس بات کو بھی اپنے ذہن میں رکھو کہ تمھاری زندگی میں اب میں بھی موجود ہوں”
ریان کی بات سن کر عرا کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی ابھری تو ریان نے اس کے ہاتھ پر سے اپنا ہاتھ ہٹالیا اور اسٹرینگ ویل پر رکھ کر ڈرائیونگ کرنے لگا اس نے گاڑی کی اسپیڈ کافی سلو کی ہوئی تھی تھوڑی دیر خاموشی سے گزرنے کے بعد عرا کو ریان کی آواز پھر سنائی دی
“زیاد کی یاد اب بھی آتی ہے ناں تمہیں”
ریان کی بات سن کر وہ اس کی جانب دیکھ نہیں سکی بناء کوئی جواب دیے شیشے سے باہر مناظر کو دیکھنے لگی
“تم چاہو تو مجھ سے اس کی باتیں کرلیا کرو”
ریان کی اگلی بات پر عرا گردن موڑ کر ریان کو دیکھنے لگی جو اس کی بجائے سامنے دیکھتا ہوا بالکل سنجیدگی سے ڈرائیونگ کر رہا تھا دونوں کے درمیان ایک مرتبہ پھر سے خاموشی چھاگئی
“یہ تم کہاں جارہے ہو ریان یہ راستہ گھر کی طرف نہیں جاتا”
عرا چونک کر تھوڑی دیر بعد ریان سے بولی
“ابھی تمہیں گھر نہیں لےکر جارہا بلکہ ایسی جگہ لے کے جارہا ہوں جہاں مجھے یہ اندازہ ہوجائے کہ تم مجھ پر کس حد تک بھروسہ کرتی ہو۔۔۔ محبت نہ سہی تمہارا مجھ پر یقین کتنا ہے آج یہ آزما لیتے میں کیا حرج ہے”
ریان کی بات عرا کو سمجھ میں نہیں آئی نہ ہی اس نے سمجھنے کی کوشش کی
“ریان پلیز گھر چلو پہلے ہی دیر ہوچکی ہے عون پریشان ہورہا ہوگا”
عرا خود پریشان ہوکر ڈرائیونگ کرتے ریان سے بولی
“عون اس وقت ویسے بھی ماں کے پاس ہی ہوتا ہے تمہیں اس کی ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ہے”
ریان کی بات سن کر عرا خاموش ہوگئی ریان بھی خاموشی سے ڈرائیونگ کرنے لگا
****
“یہاں کیوں لائے ہو مجھے ریان تم اچھی طرح سے جانتے ہو، پھر بھی۔۔۔”
گاڑی رکنے پر عرا تعجب کرتی ریان کو دیکھتی ہوئی بولی
“گاڑی سے اترو”
ریان عرا کے سوال کے جواب میں بولا تو عرا حیرت زدہ ہوکر ریان کو دیکھنے لگی جیسے اس نے کچھ غلط سنا ہو
“میں گاڑی سے اترو۔۔۔ کیا مطلب ہے تمہارا تم کیا چاہ رہے ہو یہ کوئی مذاق کرنے کا ٹائم ہے گھر لےکر چلو مجھے ابھی اسی وقت”
عرا ریان کو دیکھ کر غصہ ضبط کرتی پریشان ہوکر بولی مگر ریان عرا کی بات ان سنی کر کے خود گاڑی سے باہر نکلا اور عرا کی جانب کا دروازہ کھولتا ہوا اسے بازو سے پکڑ کر گاڑی سے باہر نکالنے لگا
“تم کرنے کیا جارہے ہو۔۔۔ ریان تم جانتے ہو مجھے بچپن سے ہی خوف آتا ہے گہرے سمندر کو دیکھ کر”
عرا اپنی غیر ہوتی حالت پر قابو پاتی ہوئی ریان کو دیکھ کر اسے یاد دلانے لگی
“جب میں تمہارے ساتھ ہوں تو تمہیں اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دو گا رائٹ۔۔۔ چلو شاباش اب ہم زیادہ دور نہیں بس اس پوائنٹ تک جائیں گے” ریان عرا کو بازو سے پکڑ کر زبردستی بڑی بڑی سیڑھیاں اتارتا ہوا اسے ریتیلی مٹی پر لے آیا جہاں سے تھوڑی دور سمندر کی لہریں شور مچارہی تھی جن کی آواز پر عرا کو اپنا دل خوف سے بند ہوتا محسوس ہوا
“تم پاگل تو نہیں ہوگئے ہو چھوڑو میرا ہاتھ تم کیوں کررہے ہو میرے ساتھ اس طرح۔۔۔ تم اچھی طرح سے جانتے ہو کہ مجھے اس گہرے پانی کو دیکھ کر ڈر لگتا ہے میں مر جاؤں گی خوف سے چھوڑو مجھے”
عرا غصے میں ریان سے اپنا ہاتھ چھڑاتی ہوئی زور سے چیخی۔۔۔ وہ آنکھوں میں غصے اور خوف کے تاثرات لیے ریان کو دیکھنے لگی
“تمہیں مجھ پر بھروسہ ہے یا نہیں ہے”
ریان عرا کا چہرہ دیکھتا ہوا سنجیدگی سے اس سے پوچھنے لگا
“نہیں ہے۔۔۔ سنا تم نے کوئی بھروسہ نہیں ہے مجھے تم پر میں مرنا نہیں چاہتی جینا چاہتی ہوں اپنے بیٹے کے لیے اب واپس گھر چلو”
عرا کو اب ریان کی حرکت پر مزید غصہ آنے لگا وہ غصے میں ناراض ہوتی ریان سے بولی
“میں آگے جارہا ہوں اگر تمہیں اس بات کا یقین ہو کہ میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا تو تم میرے پاس اس یقین کے سہارے آجانا” ریان عرا سے بولتا ہوا آگے سمندر کی لہروں کی جانب بڑھ گیا
“میں نہیں آؤں گی سنا تم نے”
عرا ریان کو دور جاتا ہوا دیکھ کر چیخ کر بولی مگر ریان نے عرا کی آواز پر بیچھے موڑ کر نہیں دیکھا
“ریان پلیز اب واپس آجاؤ ضد کیوں کررہے ہو”
15 سے 20 منٹ گزر جانے پر عرا بےبسی سے دور کھڑی ریان کو دیکھ کر تیز آواز میں چیختی ہوئی بولی
“کیا بول رہی ہو سنائی نہیں دے رہا یہاں میرے پاس آکر بولو”
اسے شور مچاتی پانی کی لہروں کی آواز کے ساتھ ریان کی آواز بھی سنائی دی تو ایسا کیسے ممکن تھا کہ اس کی آواز ریان تک نہیں جارہی تھی عرا کو مزید غصہ آنے لگا
“بھاڑ میں جاؤ تم ایسے ہی کھڑے رہو پانی کے بیچ و بیچ میں یہاں سے جارہی ہوں”
عرا غصے میں جانے کی دھمکی دیتی ہوئی ریان سے بولی جس پر ریان کو کوئی فرق نہیں پڑا۔۔۔ مزید آدھا گھنٹہ گزرنے کے بعد عرا اپنا دل مضبوط کرتی ہوئی آگے بڑھی چھوٹی سی لہر اس کے ٹخنوں سے آکر ٹکرائی تو عرا کا دل ڈوبنے لگا
“ریان آجاؤ پلیز۔۔۔ مت کرو میرے ساتھ اس طرح۔۔۔ ریان سیریسلی مجھے اب چکر آرہے ہیں”
ٹھنڈا پانی اب بڑھتا ہوا اس کی پنڈلیوں کو چھونے لگا تو عرا کی حالت عجیب سی ہونے لگی
“کچھ نہیں ہوگا عرا صرف یہ بات ذہن میں رکھو میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا ہاتھ بڑھاؤ میری طرف تھوڑا اور آگے آؤ”
ریان نے عرا کو اپنی جانب کھینچ کر اس کے اور اپنے درمیان مزید فاصلہ سمیٹ لیا
“ریان مجھے ڈر لگ رہا ہے پلیز یہاں سے چلو۔۔۔ مم میں ڈوب جاؤ گی”
اب ادھا دھڑ عرا کا پانی میں ڈوب چکا تھا اس نے ریان کے گرد اپنے دونوں بازو باندھ کر اس کی شرٹ کو مضبوطی سے پکڑلیا وہ خوف کے مارے ہلکے سے کانپنے لگی اسے وہ وقت یاد آنے لگا جب وہ بچپن میں گہرے پانی میں ڈوب گئی تھی۔۔۔ اس کی ناک اور منہ کے ذریعہ پیٹ میں پانی بھر گیا تھا
“اوکے چلتے ہیں”
ریان نے عرا کو خوفزدہ دیکھ کر اس کو مکمل طور پر اپنے حصار میں لےلیا اچانک ہی ایک بڑی سی لہر آئی
“ریان” خوف کے مارے عرا زور سے چیخی اس سے پہلے وہ لہر عرا کے پورے وجود کو بھگو ڈالتی ریان اس کو کمر سے پکڑ کر اونچا اٹھا چکا تھا
“آنکھیں کھول لو میں نے تم سے کہا تھا کہ میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا دیکھو تم بالکل ٹھیک ہو”
کنارے پر لانے کے بعد ریان عرا کو نیچے اتارتا ہوا بولا تو عرا نے بند ہوئی اپنی آنکھیں کھولی اور ریان کی پکڑی ہوئی شرٹ کو چھوڑنے کے ساتھ اس نے ریان کو زور سے پیچھے دھکا دیا
“تم اس وقت دنیا کے سب سے زیادہ برے انسان لگ رہے ہو مجھے تم اچھی طرح جانتے ہو کہ بچپن والے حادثے کے بعد مجھے گہرے پانی کو دیکھ کر کس قدر خوف آتا ہے اس کے باوجود تم مجھے یہاں پر لے کر آئے ہو کیو۔۔۔ آخر کیوں کی تم نے یہ حرکت میرے ساتھ کیا مقصد تھا تمہارا جواب دو مجھے۔۔۔ آئی ہیٹ یو ریان آئی ہیٹ یو اب آئندہ کبھی بھی میں تمہارے ساتھ کہیں نہیں جاؤ گی”
آج اس شخص نے اس کی جان نکالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی بچپن میں ایک مرتبہ پانی میں ڈوبنے کے بعد اس کو گہرے پانی کو دیکھ کر خوف سا آتا تھا اور یہ بات وہ دونوں بھائی بچپن سے ہی جانتے تھے۔۔۔ عرا شدید غصے میں ریان کو باتیں سناتی ہوئی گاڑی کے پاس جانے لگی تو ریان بھی خاموشی سے اس کے پیچھے چل پڑا۔ ۔۔
آگے بڑھ کر ریان نے عرا کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولا غصے میں عرا نے گاڑی میں بیٹھ کر توڑنے والے انداز میں گاڑی کا دروازہ بند کیا ریان ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا اور عرا کے چہرے پر غصے کے اثار کو خاموشی سے دیکھتا رہا
“میرا مقصد یہاں لاکر تمہیں خوف زدہ کرنا یا غصہ دلانا ہرگز نہیں تھا وہ کہتے ہیں نا اعتبار محبت کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے تو میں چیک کررہا تھا کہ تم اپنے خوف کو ایک سائیڈ پر رکھ کر اس یقین کے ساتھ میرے پاس آسکتی ہو کہ میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا بےشک تمہیں مجھ سے محبت نہ ہو لیکن مجھے اس بات کی دل سے خوشی ہے کہ تم مجھ پر یہ اعتبار کرتی ہو میں سچ میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا”
اپنی بات کے آخر میں ریان ہلکا سا مسکرایا تو اس کی بات پر عرا کا غصہ جاتا رہا
“کوئی بہت ہی فضول قسم کی ڈیفینیشن بیان کی ہے تم نے ٹرسٹ کی۔۔۔ ریان اگر آئندہ تم نے میرے ساتھ ایسا کچھ بھی۔۔۔
عرا اس کو آئندہ کے لیے تنبہی کررہی تھی تبھی ریان اچانک عرا کی بات کاٹتا ہوا بولا
“تم نے ابھی چند منٹ پہلے بولا تھا آئی ہیٹ یو یہ جھوٹ ہے ناں” ریان کے اچانک پوچھنے پر عرا بالکل خاموش ہوگئی
“تو تمہیں کیا لگتا ہے میں محبت کرتی ہوں تم سے اتنے اچھے ہو تم”
عرا ریان کی خوش فہمی دور کرتی ہوئی الٹا اس سے پوچھنے لگی
“نہیں تم مجھ سے محبت نہیں کرتی لیکن اتنا جانتا ہوں نفرت بھی نہیں کرتی کیونکہ اتنا برا بھی نہیں ہوں میں بولو صحیح بول رہا ہوں ناں میں”
ریان پر اُمید سا عرا کو دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا جس پر عرا کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا بولے اس لیے ریان کی بات کو گول کر گئی
“کتنا نان اسٹاپ باتیں کرتے ہو تم اور باتیں بھی ساری وہ جن کا کوئی سر پیر نہیں تمہیں اب گھر بھی چلنا ہے یا پھر آج ساری رات گھر سے باہر گزارنی ہے”
عرا ریان کی بات کو نظر انداز کرتی ہوئی اس سے بولی تو ریان مسکرا دیا
“یعنی میں بالکل صحیح سوچ رہا ہوں میں تمہیں برا نہیں لگتا”
ریان گاڑی اسٹارٹ کرتا ہوا خود سے بولا تو عرا بالکل سیریس ہوکر ریان کو دیکھنے لگی عرا کے دیکھنے پر ریان مسکرانے لگا
“میں نے تھوڑی دیر پہلے تمہیں یہ بھی بولا تھا کہ تم اس وقت مجھے دنیا کے سب سے زیادہ برے انسان لگ رہے ہو میری رائے تمہارے بارے میں اب بھی یہی ہے”
عرا اس کی مسکراہٹ سے چڑتی ہوئی بولی تو ریان کی مسکراہٹ تھمنے کی بجائے مزید گہری ہوگئی
****
