Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Payar Howa Tha (Episode 2)

Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel

یہ ایک چمکتی صبح تھی روشن اجلی پُرسکون اور مدہوش کرنے والی۔۔۔ اس کے چاروں سُو سبزہ بکھرا پڑا تھا ہر طرف ہریالی پھیلی دکھائی دیتی تھی اس نے اپنے پیروں تلے مخملی سبزے پر سجے پھولوں کو دیکھا۔۔۔ پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو اور اُس کے وجود سے پھوٹتی خوشبو دونوں ہی ماحول کو خواب آور سا بنارہی تھی وہ سفید لباس میں ملبوس تھی سفید لباس جو اس کے ٹخنوں کو چھو رہا تھا جس میں سے اُس کے دودھیا پاؤں چھلک رہے تھے اُس کے خوبصورت سنہری چمکیلے بال جو شانوں اور کمر کو چھو رہے تھے اس وقت کھلے ہوئے تھے۔۔۔۔ہوا کے زور سے بالوں کی لٹے اس کے گالوں اور چہرے کو چومنے لگتی۔۔۔ ہوا کے تیز جھونکوں کے ساتھ اس کے جسم کے خوبصورت خد و خال نمایاں ہو رہے تھے اُس نے چہرہ اُٹھا کر اوپر آسمان کو دیکھا جہاں روئی کے گالوں جیسے بادل جمع ہورہے تھے وہ اپنی کالی گہری آنکھیں بند کرتی اِس پُرسکون ماحول اور کُھلی فضا میں گہرے سانس بھر کر اپنے اندر سمانے لگی تبھی کسی آہٹ پر اُس کی آنکھ کُھلی

وہ آنکھوں میں حیرت لیے اپنے سامنے کھڑے اُس شخص کو دیکھنے لگی وہ خوش شکل، خوش لباس شخص جو اُسی کی جانب دیکھ کر مسکرا رہا تھا آج سے پہلے ہی شاید اس نے سامنے کھڑے شخص کو دیکھا ہو لیکن اسے محسوس ہوتا تھا جیسے وہ اُس شخص کو پہلے سے جانتی تھی

“تم کون ہو”

وہ حیرت زدہ سی اُس اجنبی شخص کو دیکھ کر پوچھنے لگی وہ جواں سالہ مرد جس کی مسکراہٹ بےحد پرکشش اور آنکھوں سے شرارت اور شوخی ایک ساتھ جھلکتی محسوس ہورہی تھی

“میں یہاں تمہارے لیے آیا ہوں صرف تمہارے لیے۔۔۔ ڈھیروں مسافتیں طے کر کے کئی میلوں دور سے”

وہ اجنبی شخص اس کی جانب ہاتھ بڑھاتا ہوا بولا تبھی اُس کی آنکھ کھل گئی

رات کا اندھیرا صبح کی روشنی میں بدلنے کو تھا یہ عجیب سا خواب جو آج اُس نے دیکھا تھا۔۔۔ شروع سے ہی خوابوں سے اُس کا گہرا کنیکشن رہا تھا ایک عجیب سا تعلق، کبھی کبھار کے اس کے دیکھے ہوئے چھوٹے موٹے خواب حقیقت کا روپ اختیار کر جاتے جس پر اسے خود بھی حیرت ہوتی یہ بات اس نے شہرینہ اور تزئین پر عیاں بھی کی تو وہ دونوں ہی اکثر اُس کے اِن خوابوں والی باتوں کا مذاق اڑایا کرتی۔۔۔ اب معلوم نہیں کہ اِس خواب کا حقیقت سے کتنا گہرا تعلق تھا خواب میں موجود وہ شخص کیا حقیقت میں اُس کے لیے آئے گا کیا اوپر والے نے اس کا جوڑ کسی ایسے شخص سے بنایا تھا یا پھر یہ ایک عام خواب تھا۔۔۔ اپنی سوچ پر وہ خود ہی تلخی سے مسکرائی

یہ بات وہ کیوں بھول گئی تھی کہ پرسوں ہی اس کے لیے احمد نامی 39 سالہ آدمی کا رشتہ آیا تھا جو کہ پسند بھی کرلیا گیا تھا ممکن تھا عالیہ پھپھو تزئین کے ساتھ ساتھ اسی سال اس کی بھی شادی کرکے اپنی ذمہ داری سے بری و ذمہ ہوجاتی

****

“ذی تم بھی آؤ نہ ہمارے ساتھ مام ڈیڈ والا گیم کھیلو”

ذی اپنے بھائی آن کو عرا کے گھر بلانے آیا تھا آن اور عرا دونوں عرا کے گھر لان میں موجود کھیل رہے تھے۔۔۔ سات سالہ عرا اپنے ہاتھ میں موجود بڑی سی ڈول پکڑے ذی کے پاس آتی ہوئی اس سے بھی گیم کھیلنے کا کہنے لگی

“تم لوگوں کی طرح مجھے یہ بچوں والے اسٹوپڈ گیم پسند نہیں، میں کوئی چھوٹا بچہ نہیں ہوں جو اِن گڑیوں گڈو کا مام ڈیڈ بن کر فضول سا گیم کھیلوں”

ذی اس گیم میں اپنے ناپسندیدگی ظاہر کرتا ہوا عرا سے بولا جو اُس کی بات سن کر اداس ہوگئی

“اچھا یوں سیڈ سا فیس مت بناؤ میں تمہاری خوشی کے لیے کھیل لیتا ہوں مگر آج آن کی جگہ میں تمہاری اِس ڈولی کا ڈیڈ بنوں گا اور تم بنو گی اپنی ڈولی کی مام اوکے”

ذی اُس کا اداس چہرہ دیکھ کر پنک کلر کی فراک میں موجود کیوٹ سی عرا سے بولا مگر اُس کے بھائی آن کو ذی کا یہ آئیڈیا ذرا بھی پسند نہ آیا اِس لیے بگڑتا ہوا بولا

“تمہیں کوئی ضرورت نہیں ہے ہمارے ساتھ کھیلنے کی تم گھر میں جاکر وہی اپنا اسٹوپڈ سا ویڈیو گیم کھیلو، ڈولی کا ڈیڈ میں ہی بنوں گا اور عرا ڈولی کی مام بنے گی اگر تمہیں ہمارے ساتھ کھیلنا ہے تو تم ہمارے نیبر بن جاؤ طارق انکل (عرا کے ڈیڈ) کی طرح”

آن نے ذی کی بات کو رد کردیا تھا وہ صرف ذی کو اِسی شرط پر کھلانے کے لیے راضی تھا کہ عرا کی ڈولی کا ڈیڈ وہی بنے گا آن کی بات سن کر ذی کو اُس پر غصہ آیا

“تم بیچ میں مت بولو عرا خود ڈیسائیڈ کرے گی کہ گیم میں ڈولی کا ڈیڈ کون بنے گا تم یا پھر میں، عرا تم بتاؤ اپنی ڈولی کا ڈیڈ کسے بنانا پسند کرو گی مجھے یا پھر آن کو”

ذی عرا کا ہاتھ پکڑ کر اُس سے پوچھنے لگا تو وہ کنفیوز ہوکر باری باری اُن دونوں بھائیوں کو دیکھنے لگی

“ویسے آن ڈیڈ بن کر ڈولی کی کافی کیئر کرتا ہے اچھے فادر کی طرح۔۔۔ ذی تم گیم میں ہمارے نیبر بن جاؤ ناں”

عرا کی بات پر آن تپانے والی ہنسی ہنس کر اپنے بھائی کو دیکھنے لگا جو اِس وقت عرا کی بات پر سچ میں بری طرح تپ گیا تھا مگر ظاہر کیے بغیر بولا

“ٹھیک ہے ہم آن کو ڈولی کا ڈیڈ بنادیتے ہیں ویسے بھی اِس کی پرسنیلیٹی اور شکل ڈیڈی ٹائپ لگتی ہے لیکن آج کے گیم میں تھوڑی چینجنگ کرتے ہیں آن ڈولی کا ڈیڈ ہوگا اور میں نیبر لیکن تم میرے ساتھ رہوگی میری وائف بن کر اور میں بنوں گا تمہارا لونگ ہسبنڈ بالکل اپنے ڈیڈ جیسا بولو منظور ہے”

ذی کی بات سن کر آن کے چہرے سے ہنسی غائب ہوگئی جبکہ عرا سوچ میں پڑگئی

“اتنا سوچنے میں ٹائم کیوں لے رہی ہو میرے پاس کافی ساری اسٹوری بُکس ہیں جو کل والی اسٹوری سے بھی زیادہ انٹرسٹنگ ہیں میں تمہیں وہ ساری اسٹوریز خود ریڈ کرکے سناؤں گا لیکن اِسی شرط پہ کہ آج تم گیم میں میرے ساتھ کپل بناؤ گی اور آن ڈولی کا ڈیڈ اور ہم دونوں کا نیبر ہوگا”

ذی عرا کو لالچ دیتا ہوا بولا اس کی ہوشیاری پر آن کو غصہ آنے لگا

“فالتو باتیں مت کرو وہ تمہارے ساتھ کبھی بھی کپل نہیں بنائے گی کیوکہ وہ کسی بھی گیم میں کبھی بھی تمہارے ساتھ کمفرٹیبل نہیں ہوتی تم کافی اریٹیٹنگ پرسن ہو اِس لیے تم جاؤ یہاں سے ہم دونوں کو کھیلنے دو”

آن غصے میں ذی کو دھکا دیتا ہوا بولا مگر ذی اُس کے دھکے سے ایک انچ بھی اپنی جگہ سے نہ ہلا عرا اُن دونوں کو غُصے میں دیکھ کر سہم گئی

“وہ میرے ساتھ کمفرٹیبل رہے یا نہ رہے لیکن تمہیں ہائپر ہونے کی ضرورت نہیں ہے عرا کو میں اچھے سے کمفرٹیبل کرلو گا سمجھے تم، اب جاؤ یہاں سے گھر جاکر اپنا ہوم ورک کمپلیٹ کرو”

ذی نے بولتے ہوئے غصے میں آن کو دھکا دیا جس سے وہ بری طرح لڑکھڑایا اور اپنے آپ کو گرنے سے بچایا جبکہ عرا ہاتھ میں ڈول پکڑے خاموشی سے ایک سائیڈ پر ہوتی اُن دونوں کو لڑتا ہوا دیکھنے لگی ذی کی بات پر آن ہنستے لگا

“کیسے کمفرٹیبل کرو گے تم عرا کو بالکل ویسے ہی جیسے کل رات مووی میں وہ ہیرو اُس لڑکی کو کمفرٹیبل کررہا تھا”

آن اُس کا مذاق اڑانے والے انداز میں ذی کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا اُس کی بات کا مفہوم سمجھ کر ذی کو غصہ آیا

“شٹ اپ آن تم حد سے بڑھ رہے ہو دفع ہوجاؤ یہاں سے”

اب کی بار غصے میں آکر ذی نے آن کو دھکا دیا تو وہ پیچھے گھاس پر گر پڑا عرا بری طرح سہم گئی

“میں گھر جاکر ابھی ماہی کو بتاتا ہوں کہ تم رات میں اُس کے سونے کے بعد لاکڈ کیے ہوئے چائنلز کو ان لاک کر کے موویز دیکھتے ہو”

آن غصے میں کھڑا ہوکر ذی کو دھمکی دیتا ہوا وہاں سے نکل گیا جبکہ ذی عرا کی طرف دیکھنے لگا جو سہمی ہوئی کھڑی اب اُسی کو دیکھ رہی تھی وہ چند قدم کا فاصلہ عبور کرکے عرا کے پاس جانے لگا تو وہ اپنے گھر کے اندر جانے لگی

“عرا میری بات سنو تم کہاں جارہی ہو آؤ ہم دونوں گیم کھیلتے ہیں”

ذی عرا کو گھر کے اندر جاتا ہوا دیکھ کر اُس کو کہنے لگا

“تھوڑی دیر پہلے تم نے کہاں تھا یہ اسٹوپڈ بچوں والا گیم تمہیں پسند نہیں”

عرا ذی کا بولا ہوا جملہ اُس کو یاد دلاتی ہوئی ناراضگی سے بولی

“یہ سچ ہے یہ گیم مجھے خاص پسند نہیں لیکن اگر تم ساتھ کھیلو گی آئی مین ہم دونوں کپل کی طرح کھیلے گے تو مجھے یہ اسٹوپڈ گیم بالکل برا نہیں لگے گا”

ذی عرا کو دیکھتا ہوا کہنے لگا

“مگر آن نہیں ہے تو مجھے گیم کھیلنے میں مزا نہیں آئے گا ویسے بھی تم نے اسے اتنی زور سے پش کیا ہے مجھے اچھا نہیں لگا۔۔۔ اور پرسوں تم نے مجھے بھی اپنی سائیکل سے گرایا تھا میں ناراض ہو تم سے، مجھے تمہارے ساتھ نہیں کھیلنا”

عرا اُس کو بولتی ہوئی اپنے گھر کے اندر چلی گئی

****

“جن چائنلز کو میں نے تمہیں دیکھنا الاؤ نہیں کیا تھا وہ چائنلز تم نے ان لاک کیوں کیے اب کی مرتبہ آجائیں ذرا تمہارے ڈیڈ میں تمہارے سارے کرتوت اُن کو بتاؤ گی”

ماہی ذی پر غصہ کرتی ہوئی بولی ذی اُس کی بات پر شرمندہ سا اپنا سر جھکائے بیڈ پر بیٹھا ہوا تھا جبکہ آن کو ذی کی پڑنے والی ڈانٹ سے کوئی غرض نہ تھا وہ پوری توجہ سے اچھا بچہ بنا اپنا ہوم ورک کمپلیٹ کررہا تھا ذی نے ہلکا سا سر اٹھا کر غصے میں آن کو دیکھا جس نے ماہی کے سامنے اُس کا پردہ پاش کردیا تھا اور اب بالکل شریف بننے کی ایکٹنگ کررہا تھا

“ماہی پلیز ڈیڈ کو کچھ نہیں بتانا یار وہ مجھے بری طرح پنش کریں گے میں نے ایسا کچھ غلط نہیں دیکھا تھا صرف ایک مووی دیکھی تھی وہ بھی اسکول فرینڈ کے کہنے پر اور وہ مووی بھی فائٹنگ مووی تھی”

ماہی کے دھمکی دینے پر وہ اپنے لیے سزا کا سوچتا ہوا ماہی کے سامنے التجائی انداز میں بولا کیونکہ اپنے ڈیڈ سے ان دونوں بھائیوں کو ہی بہت زیادہ ڈر لگتا تھا ذی کی بات سن کر آن کی توجہ اپنے ہوم ورک سے ہٹی وہ فوراً بولا

“اور اس فائٹنگ سین کے بعد جب وہ عجیب سا جوکر نما ہیرو اُس لڑکی کو کس کررہا تھا وہ بھی تو تم اتنے غور دیکھ رہے تھے۔۔۔ او گاڈ یہ کون سے بوائز ہوتے ہیں جو اس طرح کے سِلی ایکٹ کرلیتے ہیں اور ان کو غور سے دیکھنے والے لوگ بھی کتنے چیپ ہوتے ہیں تھینک گاڈ میں نے فوراً ہی آنکھیں بند کرلی تھی اس واہیات سے سین پر”

آن کے لقمہ دینے پر ماہی نے اپنا رُخ اُس کی جانب کیا اور اپنے دونوں ہاتھوں کو کمر پر رکھ کر وہ غُصے میں آن کو دیکھنے لگی

“تم زیادہ اسمارٹ بننے کی کوشش مت کرو میرے آگے۔۔۔ تمہیں بھی میں اچھی طرح سمجھتی ہوں جتنے تم سیدھے ہو۔۔۔ اگر تمہارا ہوم ورک آدھے گھنٹے کے اندر کمپلیٹ نہیں ہوا تو رات کا ڈنر تمہیں نہیں ملے گا۔۔۔ کل جاتی ہوں میں تم دونوں کے اسکول اور ذرا معلوم کر کے آتی ہوں کہ کس ٹائپ کے لڑکوں میں تم دونوں کی دوستی ہے۔۔۔ اب تم دونوں میری بات کان کھول کر سن لو آج سے تم دونوں کا ٹی وی دیکھنا بالکل بند”

ماہی غصے میں اُن دونوں کو بولتی ہوئی اُن کے کمرے کا دروازہ بند کرکے باہر چلی گئی۔۔ ذی شرمندگی سے جھک کر نیچے سے باسکٹ بال اٹھاکر اسے دوبارہ زمین پر پٹخنے لگا جبکہ آن کو اُس کی اتری ہوئی شکل دیکھ کر ہنسی آنے لگی

“کپل بناؤں گا عرا کے ساتھ، لو بن گیا کپل”

آن ہنستا ہوا اس کا مذاق اڑانے والے انداز میں بولا تو ذی نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی باسکٹ بال کھینچ کر اُسے مارنی چاہی مگر وہ سائیڈ میں ہوگیا اور بال دیوار پر جالگی

“میرے سامنے زیادہ بکواس کرنے کی ضرورت نہیں ہے ورنہ میں تمہارا منہ توڑ کر رکھ دوں گا”

ذی آن کو دیکھ کر غصے میں دھمکی دیتا ہوا بولا

“اور جیسے میں تم سے خوشی خوشی اپنا منہ تڑوانے کے لیے تیار ہوجاؤں گا ذرا تم ہاتھ لگاکر تو دیکھو مجھے، میں تمہارے دونوں ہاتھ توڑ ڈالوں گا”

آن اس کی دھمکی کا اثر لیے بغیر ذی سے بولا اور اپنا ہوم ورک کرنے لگا جبکہ ذی غصے میں اس کو دیکھ کر کھڑکی کی جانب بڑھا اور کھڑکی سے باہر نکلنے لگا کیونکہ ماہی کمرے کا دروازہ باہر سے لاک کرگئی تھی

“اگر تم عرا کے پاس جارہے ہو تو اس کو بتا دینا کہ کل گیم میں ڈولی کا ڈیڈ میں ہی بنوں گا”

آن مزے سے ذی کو دیکھتا ہوا

“اگر تم نے اُس کے ساتھ دوبارہ یہ چیپ گیم کھیلا تو میں تمہارے ساتھ دانت توڑ ڈالوں گا آن”

ذی اپنے بھائی کو وارننگ دیتا ہوا کھڑکی سے باہر نکل چکا تھا پیچھے سے اُسے آن کا قہقہ سنائی دیا جس کو نظر انداز کرتا ہوا وہ آہستگی سے گیٹ سے نکل کر اپنے گھر کی دیوار کے برابر والے گھر میں جانے لگا

***

“ارے ذی تم اِس وقت یہاں کیا کررہے ہو”

طارق ذی کو اپنے گھر کے ہال میں دیکھ کر اُس سے پوچھنے لگا کیوکہ سات بجے کے بعد اُن دونوں بھائیوں کے روٹین میں ہوم ورک اور ڈنر کے بعد سونا شامل تھا ایسا طارق اِس لیے جانتا تھا کیونکہ سکندر اُس کا کافی اچھا دوست تھا اور ان دنوں کی فیملیز کافی کلوز تھی

“انکل آج دوپہر میں عرا مجھ سے ناراض ہوگئی تھی میں اُسے یہ چاکلیٹ دے کر منانے آیا ہوں اگر آپ کی پرمیشن ہو تو کیا میں عرا کے روم میں چلا جاؤ”

ذی طارق سے عرا کے روم میں جانے کی پرمیشن مانگنے لگا

“یعنٰی تم نے دوپہر میں میری پرنسز کا موڈ خراب کیا تھا جبھی وہ ڈنر کے وقت اتنا خاموش تھی، ذی تم جانتے ہو عرا کی مدر اُس کے پاس موجود نہیں ہیں اِس لیے وہ بےحد حساس ہے تم اُس کے اچھے فرینڈ ہو تمہیں اُس کا دھیان رکھنا چاہیے آگے سے کوشش کرنا کہ وہ تم سے کسی بھی بات پر ہرٹ نہ ہو اس کا خیال رکھا کرو جاؤ جاکر میری پرنسز کو منالو اور پھر فوراً یہاں سے سیدھا اپنے گھر جاؤ”

طارق ذی کو سمجھاتا ہوا بولا تو ذی اُس کی بات پر اقرار میں سر ہلاتا ہوا عرا کے کمرے میں چلا گیا

***

“تم۔۔۔ تم میرے روم میں کیا کررہے ہو”

عرا آج جلدی سونے کے لیے لیٹ چکی تھی ذی کو اپنے کمرے کی لائٹ آن کرتا دیکھ کر بیڈ سے اٹھتی ہوئی حیرت زدہ سی اُس سے پوچھنے لگی

“تم دوپہر میں ناراض ہوگئی تھی اس لیے میں تمہیں سوری کرنے آیا ہوں”

وہ عرا کے پاس آکر اُس کے آگے چاکلیٹ بڑھاتا ہوا بولا

“تم نے آن کو کتنی زور سے دھکا دیا تھا اس کو زور سے لگی ہوگی اسے کتنا درد ہوا ہوگا مجھے اچھا نہیں لگا تمہارا اُس سے لڑنا”

عرا اُس کے ہاتھ سے چاکلیٹ لیے بناء ذی کو دیکھ کر شکوہ کرنے لگی

“وہ ایک ڈھیٹ ہڈی کا بنا ہوا بچہ ہے اُس کی ہڈیاں کافی اسٹرونگ ہیں میرے دھکا دینے سے اُسے کوئی فرق نہیں پڑا بلکہ گھر جاکر وہ مسخرہ بنا مجھے اپنے دانت دکھا کر ہنس رہا تھا تمہیں اُس کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے”

ذی عرا کے ہاتھ میں چاکلیٹ تھماتا ہوا اسے آن کے بارے میں بتانے لگا اور اُس کے قریب بیڈ پر بیٹھ گیا

“آن بہت معصوم ہے ذی، ہی از آ سمپل اینڈ نائس بوائے”

عرا ذی کو اُس کے بھائی کے متعلق اپنی رائے دیتی ہوئی بولی جس پر ذی زور سے ہنسا

“نو ہی از ناٹ۔۔۔ وہ ذرا بھی سیدھا اور معصوم نہیں صرف معصوم بننے کی ایکٹنگ کرتا ہے تمہارے سامنے۔۔۔ آن ہے تو میرا بھائی لیکن میں اُس کو اچھی طرح جانتا ہوں وہ صرف دکھنے میں بچہ لگتا ہے مگر اس کے اندر پورا ایک مرد چھپا بیٹھا ہے تم اسے نہیں سمجھ سکو گی کیوکہ تم بہت انوسینٹ ہو”

ذی عرا کو دیکھتا ہوا بولا عرا اُس کی بات پر اپنے شانے اچکا کر رہ گئی جیسے وہ ذی کی بات سچ میں نہیں سمجھی ہو

“اچھا بتاؤ اب تو تم مجھ سے ناراض نہیں ہو ناں”

وہ عرا کو دیکھ کر اُس سے پوچھنے لگا جس پر عرا نے مسکرا کر نفی میں سر ہلایا یعنٰی وہ دوپہر والی ناراضگی کو بھلا کر اُس سے دوستی کرچکی تھی

“عرا یو آر سو کیوٹ یار”

ذی عرا کو دیکھتا ہوا بولا اور اور اسے اسمائل دیتا ہوا واپس جانے کے لیے اٹھنے لگا

“یہ لونگ ہسبینڈ کیسا ہوتا ہے ذی”

عرا کی بات سن کر ذی نے اس کو دیکھا دوپہر میں لونگ ہسبنڈ بننے والی بات پر عرا اس پوچھ رہی تھی ذی تھوڑے وقفے سے بولا

“لونگ ہسبینڈ وہ ہوتا ہے جو اپنی وائف کو ڈھیر سارا پیار دیتا ہے اُس کو ہر وقت خوش رکھتا ہے، اُس کی کئیر کرتا ہے اور اُس کو اچھے طریقے سے پروٹیکٹ کرتا ہے تمہیں ایک بات بتاؤ، آج میں نے غلط بولا کہ میں اپنے ڈیڈ جیسا ہسبینڈ بنوں گا میرے ڈیڈ اچھے ہسبینڈ نہیں ہیں میں کبھی بھی اُن کے جیسا ہسبینڈ نہیں بنوں گا بلکہ تمہارا بہت زیادہ خیال رکھو گا”

ذی عرا کو دیکھتا ہوا بولا تو عرا کو اُس کی بات بالکل سمجھ نہیں آئی

“مگر تم میرا خیال کیوں رکھو گے میرا خیال تو میرے ڈیڈ رکھتے ہیں”

عرا ذی کو دیکھ کر کنفیوز ہوتی ہوئی بولی

“مگر شادی کے بعد یہ ذمہ داری ہسبینڈ کی ہوتی ہے اُسے اپنی وائف کا خیال رکھنا ہوتا ہے تو اِسی لیے تمہارے ڈیڈ چاہتے ہیں میں ابھی سے تمہارا خیال رکھو وہ خود ایسا بول رہے تھے مجھ سے تھوڑی دیر پہلے”

ذی عرا کو سمجھاتا ہوا بولا

“تو یعنٰی ہم دونوں بڑے ہوکر ہسبینڈ اینڈ وائف بن جائیں گے”

عرا اپنی بڑی بڑی آنکھیں حیرانی سے پھیلاتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی جس پر ذی نے اسے مسکرا کر دیکھا

“یس۔۔۔ میں بڑا ہوکر تمہیں اپنی وائف بنالو گا ایسا تو ہمارے پیرنٹس میں بھی ڈسائیڈ ہوچکا ہے میں نے ڈیڈ کی باتیں سن لی تھی جب وہ یہ بات تمہارے ڈیڈ سے بول رہے تھے”

ذی اُس کو آہستہ آواز میں رازداری سے بتانے لگا جیسے یہ بات اُن دونوں کے بیچ سیکرٹ ہو

“ذی شادی کے بعد ہسبینڈ اور وائف ایک ساتھ رہ کر کیا کرتے ہیں کیا تمہیں معلوم ہے”

عرا پریشان ہوکر ذی سے پوچھنے لگی عرا کی بات سن کر ذی نے اپنی آنکھیں گول گھمائی

“ہاں تھوڑا بہت معلوم ہے مگر تم کیوں پوچھ رہی ہو”

ذی عرا کا پریشان سا چہرہ دیکھ کر اُس سے پوچھنے لگا

“میرے پاس تو مما بھی موجود نہیں ہیں اس لیے مجھے تو نہیں پتہ ہسبنڈ اور وائف بن کر کیا کرنا پڑتا ہے تم مجھے بتاؤ ناں”

عرا ذی کی بات سن کر بہت زیادہ ٹینشن میں آچکی تھی اِس لیے اُس سے پوچھنے لگی

“میں تمہیں ابھی کیا بتاؤں تم کافی چھوٹی ہو کچھ بھی سمجھ نہیں پاؤ گی تم ابھی سے۔۔۔ وائف بننے کی ٹینشن مت لو بس اتنا یاد رکھو یہ مام ڈیڈ والا گیم انتہائی فضول گیم ہے تم یہ گیم آئندہ نہیں کھیلو گی اور آن کے ساتھ تو بالکل بھی نہیں کھیلو گی وہ تمہاری ڈولی کا ڈیڈ کبھی بھی نہیں بن سکتا تم سمجھ رہی ہو میری بات”

ذی عرا کو نرمی اور محبت سے سمجھاتا ہوا بولا تو عرا بالکل سیریس ہوکر ذی کی باتوں پر اپنا سر اقرار میں ہلانے لگی مگر وہ ہسبنڈ وائف والی بات سن کر وہ تھوڑا پریشان نظر آرہی تھی

“اتنا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ہم ابھی ہسبینڈ اور وائف نہیں بن رہے بڑے ہوکر بنیں گے تم ابھی آرام سے سو جاؤ میں چلتا ہوں”

ذی عرا کو بولتا ہوا اس کے کمرے سے چلا گیا

***

“جب ہم دونوں مال گئے تھے تب تک تمہارا انویٹیشن کارڈ میرے ہینڈ بیگ میں موجود تھا لیکن واپس گھر آنے کے بعد مجھے معلوم نہیں تمہارا کارڈ کہاں مس ہوگیا رومانہ نے خود مجھے تمہارا انویٹیشن کارڈ دیا تھا۔۔۔ اچھا بتاؤ پرسوں رومانہ کے بھائی کے ریسپشن پر آرہی ہو نا کیونکہ پھپھو مجھے تمہارے بغیر اکیلا ہرگز جانے نہیں دیں گیں”

وہ شہرینہ سے موبائل پر بولی دماغ پر زور دینے پر بھی اس کو یاد نہیں آرہا تھا کہ شہرینہ کا کارڈ اُس سے کہاں مس ہوگیا تھا

“تم نے تو اپنی پھپھو کا ڈر بلاوجہ ہی خود میں بٹھایا ہوا ہے وہ اتنی اسٹرک بھی نہیں ہیں چلو ٹھیک ہے کارڈ کی تو خیر ہے مجھے اور تمہیں فہد بھائی رومانہ کے بھائی کے ریسپشن پر چھوڑ آئے گیں، نو بجے تک ریڈی رہنا تمہیں تمہارے گھر سے ہی پک کرلوں گی”

شہرینہ اس کو بول کر فون رکھ چکی تھی وہ چاہ کر بھی شہرینہ کو اپنی پھپھو کے موڈ کے بارے میں نہ بتاسکی جو کسی بھی پل ایک دم سے چینج ہو جاتا تھا وہ الگ بات تھی جب بھی شہرینہ اس سے ملنے اس کے گھر آتی تو پھپھو ہمیشہ اس کے دوست کے سامنے اچھے اخلاق سے ہی ملتی تھی

“عرا۔۔۔ عرا کہاں ہو تم”

عالیہ پھپھو کی آواز پر عرا ایک دم اپنا موبائل ٹیبل پر رکھ کر کمرے سے باہر نکلی

“دھیان کہاں ہے تمہارا لڑکی چولہے پر کھانا رکھ کر سو گئی تھی کی، ساری ہنڈیاں جل چکی ہے اب رات کو کھانے میں کیا میں اپنی بوٹیاں تم لوگوں کو پیش کروں گیں”

وہ عالیہ پھپھو کی ڈانٹ سن کر ایک دم متلاشی نگاہوں سے تزئین کو ڈھونڈنے لگی

“پھپھو آج کھانا بنانے کی میری نہیں بلکہ تزئین کی باری تھی”

عرا اپنی پھپھو کا بگڑا ہوا موڈ دیکھ کر آہستہ آواز میں عالیہ پھپھو کو بتانے لگی کہ قصور اس کا نہیں تزئین کا ہے

“بس تم اس پر اپنا کیا ہوا دھرا کرو اور وہ تم پر اپنا بگڑا کام ڈال دے تم دونوں مل کر مجھے ایسے ہی بےوقوف بناؤ۔۔۔ اگلے ماہ 23 سال کی ہوجاؤ گی مگر مجال ہے جو تمہیں عقل چھو کر گزری ہو ہر وقت باہر گھوم پھر لو سیر و تفریح کروا لو تم دونوں سے۔۔۔۔ معلوم نہیں اللہ نے مجھے کس بات کی سزا دے دی۔۔۔ چلو تزئین کے ماں باپ تو اس دنیا میں نہیں رہے مگر تمہارے ماں اور باپ کو تو ذرا اپنی اولاد کا احساس نہیں ہے مجال ہے جو پلٹ کر تمہارے باپ نے یا پھر تمہاری ماں نے تمہاری خبر لی ہو”

عالیہ پھپھو اپنے خراب موڈ کا سارا غصہ عرا پر نکال کر وہاں سے جاچکی تھی

آج ایک مرتبہ پھر عرا کا اپنے ماں باپ کو لےکر دل دکھا تھا اس کی پھپھو کا غصے میں بولا ہوا ایک بھی لفظ غلط نہ تھا

جن دنوں طارق اپنی جاب کے سلسلے میں یورپ گیا تھا واپسی پر پاکستان اپنے ساتھ ایلی کو بھی بیوی بناکر لایا تھا جس کے بعد ان دونوں میں ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے پر ایلی مشکل سے چار سال ہی طارق کے ساتھ رہی اور اولاد کی شکل میں عرا کو طارق کے سپرد کر کے ہمیشہ کے لیے طارق کی دنیا سے نکل گئی عرا کی پیدائش سے لے کر سات سال تک طارق نے خود اپنی بیٹی کی پرورش کی۔۔۔

طارق کا دوسرے ملک میں سیٹل ہونے کا پروگرام تھا جس کے بارے میں اس نے اپنی بہن عالیہ کو آگاہ کیا تھا مگر عالیہ کو یہ علم ہرگز نہ تھا کہ اُس کا بھائی اپنی بیٹی عرا کو اپنے ساتھ لے جانے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا پھر اچانک ایک دن بتائے بغیر طارق باہر ملک چلا گیا جس کے سبب سات سالہ عرا طارق کی بہن عالیہ کے پاس آگئی عالیہ کے پاس پہلے ہی اُس کی بھانجی تزئین پرورش پارہی تھی کیونکہ طارق اور عالیہ کی چھوٹی بہن اور بہنوئی کی روڈ ایکسیڈنٹ میں ڈیتھ ہوچکی تھی

تزئین کے بعد عرا کی ذمہ داری اب اُسی کے سر آچکی تھی جس کے سبب عالیہ کی خود اپنی شادی نہیں ہوسکی بینک کی جاب کے ساتھ اس نے بھانجی اور بھتیجی دونوں کی پرورش اکیلے کی اُس وجہ سے عالیہ ان دونوں پر کافی سختی برتی تھی عرا کو عالیہ کی سخت طبیعت اور اس کا رویہ اتنا برا بھی نہیں لگتا تھا مگر جب عالیہ اس کے ماں باپ کے بارے میں کچھ بھی بولتی تب عرا کا اپنی پھپھو کی بات پر کافی دل دکھتا تھا کیونکہ کے باہر جانے کے بعد طارق نے آج تک پیچھے مڑ کر اپنی اولاد کی خبر تک نہیں لی تھی۔۔۔ عرا یہ ساری باتیں سوچتی ہوئی بےدلی سے کچن میں جاکر دوبارہ سے کھانا بنانے لگی

****

دوپہر 12 بجے کے وقت گرمی کی شدت اس قدر تھی کہ سورج سوا نیزے پر معلوم ہوتا تھا چلچلاتی ہوئی دھوپ میں یوں ٹریفک کا جام ہوجانا بےزاری کے سوا کوئی چارہ نہ تھا مگر وہ دیگر افراد کی بانسبت آرام سے اپنی گاڑی میں اے سی کی کولنگ سے محظوظ ہوتا دوسرے گرمی سے بےحال ہوتے لوگوں کو دیکھ رہا تھا جو دونوں طرف سڑکوں پر ٹریفک جام ہوجانے پر دوہائیاں دے رہے تھے تب زیاد کی نظر دوسری طرف سڑک پر جام ٹریفک میں موجود اس لڑکی پر پڑی جو پیلے رنگ کی اسکول وین میں بچوں کے ساتھ موجود تھی اُس لڑکی کے چہرے پر نظر پڑتے ہی زیاد کی نظریں اس لڑکی کے چہرے سے ہٹ نہ سکی وہ اُس لڑکی کو دیکھ کر ایسا کھویا کہ پھر کوئی دوسرا اس کو یاد نہ رہا ہلکے آسمانی رنگ کے لباس میں وہ لڑکی کوئی عام لڑکی نہیں بلکہ آسمان سے اتری ہوئی کوئی اپسرا معلوم ہوتی تھی گرمی کی شدت کے باعث ٹشو سے چہرے پر آئے پسینے پہنچتی وہ سیدھی زیاد کے دل میں اترنے لگی گرمی سے بےحال ہو کر وہ اپنے دوپٹے سے خود کو پنکھا جھلتی بےزاری سے بچوں کو انکھیں دکھا رہی تھی بس میں موجود اس حسینہ کی اس ادا پر زیاد کے لب ہلکے سے مسکرائے اچانک اُس کی گاڑی کے شیشے کے آگے ایک لڑکا آکر کھڑا ہوگیا اور کھڑکی کا شیشہ بجانے لگا تو زیاد کو اُس نوعمر لڑکے کی مداخلت پسند نہ آئی زیاد نے اس لڑکے کو ہاتھ کے اشارے سے سائیڈ پر ہونے کو کہا مگر وہ لڑکا اپنے ہاتھوں میں پھول پکڑے اس کی گاڑی کی کھڑکی کے پاس کھڑا رہا جس کی وجہ سے زیاد کو گاڑی کا شیشہ نیچے کرنا پڑا تھا

“میں نے تمہیں ہٹنے کا کہا ہے یہ پھول نہیں چاہیے سامنے سے ہٹو”

زیاد اس لڑکی کی طرف سے اپنی توجہ ہٹاکر اس نوعمر لڑکے سے بولا

“صاحب لے لو اللہ آپ کا بھلا کرے گا”

وہ بچہ جیسے زیاد کو پھول بیچنے پر بضد تھا زیاد نے ایک نظر ان پھولوں پر ڈالی اور اپنی پاکٹ کی طرف اس کا ہاتھ بڑھا

“اللہ نے پہلے سے بھلا کیا ہوا ہے یہ لو یہ پیسے پکڑو اور یہ سارے پھول اس لڑکی کو دے آؤ وہ جو پیلے رنگ کی بس میں بیٹھی ہے تیسرے نمبر والی”

زیاد اس لڑکے کو بس کی طرف اشارہ کرتا ہوا بتانے لگا اور ساتھ ہی والٹ سے پیسے نکالے

“وہی لڑکی جو ان چاروں لڑکیوں میں سب سے زیادہ خوبصورت دکھتی ہے”

لڑکے نے جیسے کنفرم کرنا چاہا اس کی بات پر زیاد نے گھورتے ہوئے اس لڑکے کو دیکھا

“ہاں وہی آسمانی کپڑوں والی”

زیادہ نے بولتے ہوئے ہزار ہزار کے دو نوٹ اس لڑکے کو پکڑائے تو وہ لڑکا ہونق بنا زیاد کا چہرہ دیکھنے لگا۔۔۔ پھر بس میں موجود اس لڑکی کو دیکھ کر روڈ کراس کرتا ہوا اس کے پاس جانے لگا

زیاد کی نظریں دوبارہ اس لڑکی پر ٹک گئی جلتی گرم ہواؤں کے تھپیڑے اس وقت اُس کو اتنے برے نہیں لگ رہے تھے کہ وہ دوبارہ شیشہ اوپر کرلیتا وہ نوعمر لڑکا اس دوسرے سائیڈ پر بس کے پاس پہنچ چکا تھا

اس لڑکی کو اپنے پاس موجود سارے پھول پکڑاتے ہوئے اس نے زیاد کی گاڑی کی طرف اشارہ کیا وہ لڑکی حیرت سے پھول پکڑے زیاد کو دیکھنے لگی تبھی اچانک بس چل پڑی

“اے سنو”

بےاختیار زیاد چیخا مگر اس کی چیخ ٹریفک کے شور میں دب چکی تھی اور بس آگے نکل چکی تھی

اپنے ہاتھ میں انوٹیشن کارڈ لیے وہ دو سال پرانی بات کو یاد کرتا ہوا مسکرایا رات کے پہر نیند اُس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی ایک مرتبہ پھر وہ پری چہرہ زیاد کی آنکھوں کے سامنے گھومنے لگا

****

سورج کی کرنیں اپنی روشنی سے سکندر ولا کو روشن کیے دے رہی تھی وہ آفس جانے کے لیے ریڈی ہوکر ڈائننگ ہال میں آیا روز معمول کی طرح اس کی ماں پہلے ہی ناشتے پر اُس کا انتظار کررہی تھی

“مارننگ ماں” عادت کے مطابق زیاد اپنی ماں کو سلام کے ساتھ جھک کر اس کے بالوں پر بوسہ دیتا ہوا اپنی کرسی کھینچ کر اس پر بیٹھ گیا

“کل رات کافی دیر تک جاگ رہے تھے خیریت تھی”

زیاد اپنی ماں کی بات پر چونکا دیر تک کمرے کی جلتی لائٹ سے شاید اس کی ماں اندازہ لگا چکی تھی جس پر زیاد پلیٹ اپنی جانب کھسکاتا ہوا ہلکا سا مسکرایا

“ہاں کل رات نیند نہیں آرہی تھی اِس لیے کافی لیٹ سونا ہوا”

زیاد نے نیند نہ آنے کی وجہ نہیں بتائی کہ وہ اُس ماہ جبین کا چہرہ ذہن میں لائے کل رات صرف اسی کے متعلق کافی دیر تک سوچوں میں گم تھا جس کو کل وہ ایک مرتبہ پھر شاپنگ مال میں دیکھ چکا تھا

“نیند نہ آنے کی وجہ آفس میں کام کی زیادتی یا پھر کوئی ٹینشن بالکل نہیں ہے اور وہ بہت خاص وجہ لگ رہی ہے جس نے تمہیں کل رات جگائے رکھا مگر وہ وجہ تم شاید اپنی ماں سے ڈسکس نہیں کرنا چاہتے”

اپنی ماں کی بات سن کر ناشتہ کرتا زیاد کا ہاتھ ایک پل کے لیے رکا وہ ناشتے میں مگن اپنی ماں کو دیکھنے لگا وہ اسی طرح بچپن سے اسے اندر تک جان لیا کرتی تھی پھر بھی اِس کے باوجود پوچھنے لگا

“آپ کو کیسے معلوم وہ وجہ کوئی خاص ہے کل رات میں آفس ورک میں بھی بزی ہوسکتا تھا”

زیاد اپنی ماں کو دیکھتا ہوا بولنے لگا جو اس کے لیے فریش جوس گلاس میں نکال رہی تھی

“تمہارا چہرہ اس وقت 100 والٹ کے بلب جیسا روشن ہے میرے بچے اور ایک ماں کی نظریں اپنی اولاد کو اس کے فیس سے خوب جج کرسکتی ہے کہ اس کا بچہ اس وقت کیسا فیل کررہا ہے یا پھر وہ کیا سوچ رہا ہے تو اِس وقت تمہیں آفس ورک کی کوئی ٹینشن ہے نہ ہی کسی دوسرے کام کا برڈن تو پھر کب ملوا رہے ہو اس خاص وجہ سے”

اب کی بار زیاد اپنی ماں کی بات سن کر کھل کر ہنسا

“پہلے میں خود تو مل لوں اس سے”

اتنا بول کر اس نے جوس سے بھرا گلاس اٹھا کر اپنے ہونٹوں سے لگایا زیاد کو پورا یقین تھا وہ اس انویٹیشن کارڈ پر مطلوبہ ایڈریس پر کل ضرور آئے گی

“اگر میں غلط نہیں ہوں تو یہ وہی لڑکی ہے جس کا تم ریان سے ذکر کررہے تھے جو دو سال پہلے تمہیں نظر آئی تھی”

اپنی ماں کے منہ سے اگلی بات سن کر اس نے پوری آنکھیں کھول کر اپنی ماں کو دیکھا

“ریان نے آپ کو یہ بھی بتادیا کوئی بات اس فالتو آدمی کے پیٹ میں نہیں رہ سکتی”

اس کو سچ میں ریان کی حرکت پر غصہ آیا تھا وہ خود اپنی ماں کو بتا دیتا مگر مناسب لفظوں میں اس وقت وہ کافی اکورڈ محسوس کررہا تھا یقیناً ریان نے پورا خلاصہ ماں کے سامنے پیش کیا ہوگا

“اپنے بھائی پر غصہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے تم پچھلے دو سال سے اپنی شادی کے موضوع کو ٹال رہے ہو میں اس لڑکی سے جلد سے جلد ملنا چاہتی ہوں تاکہ اس لڑکی کو تمہارے لیے سکندر ولا میں لا سکوں”

اپنی ماں کی بات سن کر اس کے چہرے پر اسمائل آئی اور ایک اطمینان سا دل میں محسوس ہوا ذیاد نے اپنی ماں کا ہاتھ پکڑا

“وہ آپ کو پسند آئے گی ناں”

زیاد بےچینی کی سی کیفیت آنکھوں اور اپنے لہجے میں سمائے اپنی ماں سے سوال کرنے لگا جیسے اپنی ماں کی مرضی اور پسند اُس کے لیے بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہو

“تمہیں پسند ہے وہ لڑکی”

اس کی ماں الٹا زیاد سے پوچھنے لگی جس پر وہ بےساختہ بولا

“بہت زیادہ پسند ہے ماں وہ کبھی بھی میرے ذہن سے نکل ہی نہیں پائی میں کبھی بھی اس کو بھول نہیں پایا”

اپنے بیٹے کے لہجے میں بےقراری اور شدت محسوس کرکے وہ ہلکا سا مسکرائی

****