Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel NovelR50397 Payar Howa Tha (Episode 16)
No Download Link
Rate this Novel
Payar Howa Tha (Episode 16)
Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel
“عرا کی بگڑتی کنڈیشن کو دیکھ کر ڈاکٹر نے اپریشن کا بول دیا ہے بس تمہارے سے آنے دس منٹ پہلے ہی اسے لیبر روم میں لےکر گئے ہیں”
ریان کو آتا دیکھ کر عالیہ گھبراتی ہوئی اُس کو ساری صورتحال بتانے لگی اپنی گھبراہٹ میں وہ ریان کے ساتھ کھڑی اس عورت کو نہیں پہچانی تھی
“اچھا آپ پریشان مت ہو میں عرا کی ڈاکٹر سے بات کرتا ہوں ماں آپ آنٹی کے ساتھ بیٹھیں میں آتا ہوں ابھی”
ریان کے بولنے پر عالیہ چونک کر مائے نور کو حیرت سے دیکھنے لگی جبکہ ریان عجلت میں وہاں سے عرا کی ڈاکٹر کے پاس چلا گیا
“اچھا ہوا مسٹر ریان آپ آگئے میں آپ کو ہی بلوانے والی تھی دراصل پیشنٹ کا بی پی نارمل لیول پر نہیں آرہا تو ہمارے لیے سچویشن تھوڑی کریٹیکل ہوچکی ہے شاید عرا نے کسی بات کی ٹینشن لی ہے، ویسے تو کوشش ہماری ہے کہ ہم عرا اور بےبی دونوں کو بچالیں لیکن بالفرض اگر کسی ایک کو بچانا ہو تو۔۔۔ ڈاکٹر کی بات سن کر ریان کے پیروں تلے زمین نکل گئی
“مطلب کیا ہے آپ کی بات کا ماں کی جان اور بچے کی جان میرے لیے دونوں ہی امپورٹنٹ ہے آپ ایک پروفیشنل ڈاکٹر ہیں آپ ایسی بات کیسے کرسکتی ہیں”
ریان اپنے سامنے بیٹھی ڈاکٹر کو دیکھتا ہوا بولا
“جی میں ایک پروفیشنل گائناکالوجسٹ ہوں مگر خدا نہیں ہوں آپ بتادیں بچہ یا پھر ماں” ڈاکٹر کی بات سن کر وہ شاک میں چلا گیا
“آپ بچے کی جان بچائیں وہ ہمارے لیے زیادہ امپورٹنٹ ہے”
ماہ نور کی آواز پر ریان نے مڑ کر اسے دیکھا لیکن ماہ نور ڈاکٹر سے مخاطب تھی
“ماں۔۔”
ریان اس سے پہلے مائے نور سے کچھ بولتا ماہ نور ریان کو دیکھتی ہوئی بولی
“زیاد تمہارا بھائی تھا اور اُس کا بچہ اُس کی نشانی ہے تمہیں سب سے پہلے اس کے بارے میں سوچنا چاہیے”
مائے نور ریان کا فق پڑتا چہرہ دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔ اسے نہیں معلوم تھا اس نے پیپرز پر کس طرح سائن کیے تھے ڈاکٹر اور مائے نور دونوں کمرے سے جاچکی تھی ریان سامنے موجود ٹیبل کو دیکھنے لگا اس کا دماغ عجیب شور کرنے لگا زیاد کے بعد اب عرا بھی۔۔۔
کیا وہ اب اس کو بھی کھودے گا مگر عرا کو تو اس نے پایا بھی نہیں تھا ریان شکستہ قدم اٹھاتا ویٹنگ ایریا میں آگیا اس کے چہرے پر تکلیف کے اثار نمایاں نظر آرہے تھے بالکل ویسے ہی جیسے زیاد کی موت کے وقت اس کی حالت تھی جبکہ مائے نور وہی خاموشی سے ٹہل رہی تھی عالیہ الگ ہی پریشان بیٹھی یاسین شریف پڑھ رہی تھی
“مبارک ہو بیٹا ہوا ہے”
دو گھنٹے بعد ڈاکٹر نے آکر خوشخبری سنائی تو سب سے پہلے مائے نور نے شکر ادا کیا جبکہ ریان خوفزدہ نظروں سے ڈاکٹر کو دیکھنے لگا جو اب اس کو دیکھ کر اُسی سے مخاطب تھی
“پیشنٹ کی جان خطرے سے محفوظ ہے لیکن وہ ابھی ہوش میں نہیں ہیں انہیں انڈر ابزرویشن رکھا ہوا ہے آپ اُن سے دو گھنٹے بعد مل سکتے ہیں”
ڈاکٹر کی آواز پر ریان کا رکا ہوا سانس بحال ہوکر چلنے لگا
“تھینک یو ڈاکٹر تھینک یو سو مچ”
ریان کے منہ سے بےساختہ نکلا تو ڈاکٹر اسمائل دے کر وہاں سے چلی گئی ریان کو محسوس ہوا جیسے عرا کے بارے میں جان کر اس کی جان میں دوبارہ جان آگئی ہو مگر اس وقت وہ اپنی کیفیت پر قابو پاتا خود کو نارمل رکھا ہوا تھا
“کتنے مہینوں بعد مجھے کوئی خوشی ملی ہے ریان آج میں بہت خوش ہوں بہت زیادہ خوش”
مائے نور اپنے جذبات کا اظہار کرتی خوشی سے آنسو بہانے لگی
“میں بھی”
ریان نے مائے نور کو گلے لگا کر بولتے ہوئے اطمینان بھرا سانس لیا اور عالیہ کو مبارکباد دینے کے غرض سے اُس کے پاس جانے لگا جو کہ موبائل پر تزئین کو خوشی کی خبر سنارہی تھی
****
تیسری مرتبہ آنکھ کھلنے پر اس نے خود کو مختلف روم میں پایا یہ اسپتال کا پرائیویٹ روم تھا
“عرا کیسا محسوس کررہی ہو اب پین تو نہیں ہورہا تمہیں”
اپنے بائیں جانب سے آنے والی مردانہ آواز پر عرا نے گردن موڑ کر اُس کو دیکھا تو ایک لمحے کے لیے عرا چونکی
وہ ریان تھا لیکن اس کو دیکھ کر عرا کو ایک لمحے کے لیے زیاد کا گمان ہوا تھا عرا کو محسوس ہوا جیسے زیاد نے اسے مخاطب کیا ہو
“میرا بیٹا کہاں پر ہے”
دوسرے ہی لمحے عرا سنبھل کر ریان کی بات کا جواب دینے کی بجائے خالی جھولے پر نظر ڈالتی ہوئی اس سے اپنے بیٹے کا پوچھنے لگی
“ابھی ڈاکٹرز نے اسے انکیوپٹر میں رکھا ہے میں دیکھ کر آرہا ہوں بہت زیادہ کیوٹ ہے ماشاللہ نرس اسے لاتی ہوگی، شکر ہے تمہاری طبیعت ٹھیک ہے ڈاکٹرز نے جب تمہاری کنڈیشن کا بتایا تو میں بہت زیادہ خوفزدہ ہوگیا تھا اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو شاید میں خود بھی۔۔۔
ریان عرا کا چہرہ دیکھ کر بول رہا تھا تو عرا نے اس کی بات کاٹی
“یہ پلو (تکیہ) میرے سر کے نیچے سے کس نے نکالا”
عرا کو اس کی باتوں میں رتی برابر دلچسپی نہ تھی وہ اس کی بات کاٹتی ہوئی تکیے کے بارے میں پوچھنے لگی جو اس کے سر کے نیچے موجود نہ تھا جس کی وجہ سے اس کو سخت الجھن محسوس ہورہی تھی
“یہ تمہارے سر میں پین کرے گا اِس لیے میں نے۔۔۔
ریان کی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی عرا پوری آنکھیں کھول کر اسے گھورتی ہوئی دیکھنے لگی بھلا وہ کون ہوتا تھا اس پر یوں حق جتانے والا
“مجھے پیلو واپس اٹھاکر دو”
وہ ریان کو غصے میں آنکھیں دکھاتی ہوئی بولی ریان نے سوچا پہلے اُسے تحمل سے سمجھائے مگر اس کی طبیعت کو دیکھتے ہوئے ریان صوفے پہ رکھا ہوا تکیہ اٹھاکر عرا کے پاس لے آیا اور عرا کا سر اونچا کرنے کے لیے اسکی طرف اپنا ہاتھ بڑھانے لگا
“زیادہ میرا ہمدرد بننے کی ضرورت نہیں ہے یہ پیلو میں خود اپنے سر کے نیچے رکھ سکتی ہوں ہاتھ پیچھے کرو اپنا”
ریان کی اپنی جانب پیش قدمی دیکھ کر وہ ریان کو ٹوکتی ہوئی بولی مگر پھر اسے احساس ہوا کہ اس کے ہاتھ میں ڈرپ لگی ہوئی تھی اور وہ ابھی اس پوزیشن میں نہ تھی کہ سہارے کے بغیر اٹھ سکتی تھی۔۔۔ عرا کے چہرے پر بےبسی دیکھ کر ریان بناء کچھ بولے تکیہ عرا کے سر کے نیچے سیٹ کرچکا تھا
“تمہیں پریشان ہونے یا پھر کسی بھی بات کے لیے فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے، عرا میں تمہارے لیے۔۔۔
ریان نرم لہجے میں عرا کو بول رہا تھا تب عرا دوبارہ اس کی بات کاٹتی ہوئی بولی
“پھپھو کہاں پر ہیں انہیں یہاں بلاؤ”
وہ چہرے پر سخت بےزاری لائے دوبارہ ریان سے بولی بےہوشی کا اثر ختم ہونے پر اب اسے ہلکا ہلکا پین اسٹارٹ ہوچکا تھا اوپر سے روم میں دوسرا کوئی موجود نہ تھا اسے وہاں ریان کو دیکھ کر سخت الجھن ہورہی تھی
“آنٹی نماز ادا کرنے گئی ہیں اور ماں بھی ابھی تھوڑی دیر پہلے یہی موجود تھیں۔۔۔ تم پریشان لگ رہی ہو تمہیں جو بھی پرابلم ہے تم مجھے بتاسکتی ہو”
ریان عرا کے چہرے کے الجھن زدہ تاثرات دیکھ کر اس سے بولا اس کی بات سن کر عرا مزید چڑ گئی
“تمہیں کس خوشی میں اپنی پرابلم بتاؤ تم ماں ہو میری”
عرا غصہ کرتی اس سے بولی وہ شاید اس طرح ریان پر غصہ نہ کرتی مگر کل ریان عالیہ سے اپنے اور اس کے رشتے کی بات کرکے گیا تھا تب سے عرا کو اُس پر غصہ آرہا تھا
“اُوف کیا مصیبت ہے”
وہ آنکھیں بند کرتی اپنے آپ سے بڑبڑاتی ہوئی بولی تو ریان کنفیوز ہوکر اُسے دیکھنے لگا معلوم نہیں وہ کیا فیل کررہی تھی
“ٹہرو میں ڈاکٹر کو بلاکر لاتا ہوں تم ان کو اپنی پرابلم۔۔۔
ریان عرا کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر اس کی پریشانی کے خیال سے بولا اور صوفے سے اٹھنے لگا
“تم تھوڑی دیر چپ رہ سکتے ہو میں خاموشی چاہتی ہوں”
عرا اپنی عادت کے خلاف بگڑتی ہوئی بولی اس وقت ریان کی موجودگی سے اس کو چڑ ہورہی تھی عرا کے بولنے پر ریان بالکل چپ ہوگیا بس خاموشی سے عرا کا چہرہ دیکھتا رہا عرا نے اس کی نظریں خود پر جمی دیکھ کر اپنی آنکھیں بند کرلی اور کافی دیر تک یونہی اپنی آنکھیں بند کیے لیٹی رہی جبکہ ریان بناء پلک جھپکائے اس کا چہرہ دیکھے گیا تبھی کمرے میں نرس نو مولود بچے کو لےکر آئی ریان پھرتی سے کھڑا ہوکر نرس کی طرف تیزی سے بڑھا
“یہ لیجیے آپ کا بیٹا”
نرس کی آواز پر عرا نے آنکھیں کھولی بےاختیار اس کی نظریں اپنے بیٹے سے پہلے نرس کا جملہ سن کر ریان کے چہرے پر پڑی مگر اس وقت وہ عرا کی جانب متوجہ نہ تھا عرا نے مشکل سے ذرا سا سر اٹھاکر دیکھا اس کا بیٹا اپنی گود میں لیتے ہوئے ریان کے ہاتھ ہلکے سے لرزے وہ صاف دیکھ سکتی تھی۔۔۔ عرا نے ریان کے چہرے پر چمکتی ہوئی مسکراہٹ کو غور سے دیکھا ننھے نومولود کی پیشانی پر بوسہ لیتے ہوئے اس نے ریان کی آنکھوں کو بھیگا ہوا اور چہرے پر پھوٹتی ہوئی خوشی کو غور سے دیکھا اس کے بیٹے کو گود میں لینے والا وہ سکندر ولا کا پہلا فرد تھا
یہ دوسرا لمحہ تھا جب اس کو ریان میں زیاد کی جھلک نظر آئی تھی اس وقت زیاد اگر زندہ ہوتا تو وہ بھی بالکل ایسے ہی اپنے بیٹے کو گود میں اٹھاکر خوشی کا اظہار کرتا اگر وہ زندہ ہوتا تو اس وقت زیاد کے بھی جذبات بالکل ایسے ہی ہوتے کاش وہ زندہ ہوتا۔۔۔ عرا نے تھک کر دوبارہ اپنا سر تکیے پر رکھ دیا
“یہ تکیہ کیوں لگایا آپ نے”
نرس نے عرا کے پاس آکر اُس کے سر کے نیچے سے تکیہ نکالا اس کا بی پی چیک کرتی پین کلر کا انجیکشن لگا کر وہ روم سے چلی گئی تو ریان چہرے پر مسکراہٹ لیے اس کے بیٹے کو لےکر عرا کے پاس آیا
“عرا دیکھو یہ زیاد میں کس قدر مل رہا ہے”
ریان نم آنکھوں کے ساتھ جھک کر عرا کو اُس کا بیٹا دکھاتا ہوا بولا تو اپنے بیٹے کو دیکھ کر عرا کی آنکھیں بھیگنے لگی
“اس کی پرورش ہم دونوں مل کر ایک ساتھ کریں گے یہ میرا بڑا بیٹا ہے میری پہلی اولاد مجھے دنیا میں سب سے زیادہ عزیز”
جذبات کی رو میں وہ عرا سے بولا تو اس کی بات پر عرا کی آنکھیں مزید بھیگنے لگی تبھی کمرے میں مائے نور کی آمد پر عرا حیرت سے اس کو دیکھنے لگی
“میرا پوتا آگیا ریان اس کو مجھے جلدی سے دے دو”
وہ خوشی سے ریان سے بولی پانچ ماہ بعد عرا مائے نور کو دیکھ رہی تھی ان پانچ ماہ میں مائے نور کی شخصیت بالکل ہی بدل چکی تھی اس کے بال مکمل سفید ہوچکے تھے، آنکھیں کے گرد گہرے ہلکے واضح نمایاں ہورہے تھے اور وہ کافی حد تک کمزور ہوچکی تھی زیاد کے چلے جانے کے غم میں شاید اس نے خود کو دیکھنا اور اپنے آپ پر توجہ دینا بالکل چھوڑ دیا تھا یا پھر اب اس پر بڑھاپہ آچکا تھا وہ کافی زیادہ بوڑھی لگ رہی تھی
“عرا تم نے دیکھا یہ بالکل زیاد کی کاپی ہے تم نے پرانی البم میں زیاد کو دیکھا تھا وہ بچپن میں ایسے ہی تو نظر آتا تھا اللہ نے میرے بیٹے کو دوبارہ میرے پاس بھیج دیا یہ میرا زیاد ہے بالکل میرے زیاد جیسا”
مائے نور آنسو بہاتی ہوئی نومولود کو گود میں پکڑی عرا سے مخاطب ہوتی بولی تو عرا کی آنکھیں دوبارہ سے اشک برسانے لگی
“لائیے ماں اس کو مجھے دیجیے آپ کے کہنے پر رؤف مٹھائی لے آیا ہے کیا کرنا ہے اب اتنی ساری مٹھائی کا”
مائے نور اور عرا کو روتا ہوا دیکھ کر ریان مائے نور کی گود سے بچے کو لےکر جھولے میں لٹاتا ہوا مائے نور سے پوچھنے لگا
“مٹھائی کا کیا کرنا ہوگا بھئی پورے ہسپتال میں بانٹوں گی تمہیں نہیں معلوم آج کتنی بڑی خوشی ملی ہے مجھے”
مائے نور اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی مسکرا کر بولی اور تمام اسٹاف کے لیے اپنے بیگ سے نوٹوں کا بنڈل نکالنے لگی
“عرا رو نہیں پلیز”
مائے نور کے روم سے جانے کے بعد ریان عرا کے پاس آتا ہوا اسے نرمی سے بولا
“مجھے پین ہو رہا ہے میں ریسٹ کرنا چاہتی ہوں”
وہ اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی ریان پر نظر ڈالے بغیر بولی
“تم ریسٹ کرو اب تمہیں کوئی ڈسٹرب نہیں کرے گا”
ریان عرا سے بولتا ہوا روم کی لائٹ بند کرکے خود کمرے سے باہر نکل گیا
****
“بےشک ساری جیولری نہیں پہنو کم سے کم یہ چار چوڑیاں ہی ہاتھ میں ڈال لو”
اب کی مرتبہ شہرینہ کے بولنے پر عرا نے سنجیدہ نظر اس پر ڈالی عرا کے یوں دیکھنے پر وہ ایک دم سٹپٹا کر عرا کو دیکھتی ہوئی دوبارہ بولی
“اچھا بھئی یہ چوڑیاں بھی نہ پہنو کم سے کم لائٹ سے لپ اسٹک ہی لگالو یار”
عرا کے اس طرح دیکھنے پر شہرینہ پھر سے بولی
“شہرینہ بار بار مجھے ایک ہی بات مت بولو یہ کپڑے پہن لیے ہیں بال بنالیے اتنا کافی ہے یہ جیولری اور میک اپ کا سامان اٹھاکر رکھ دو کوئی پہلی شادی نہیں ہے میری جو میں دلہن کی طرح بن ٹھن کر بیٹھ جاؤں اس کے لیے”
عرا شہرینہ کی باتوں سے تنگ آکر بولی تو شہرینہ ہلکا سا منمنائی
“جس سے ہورہی ہے اُس کی تو پہلی ہی شادی ہے اچھا بس یہ ایئر رینگز کانوں میں ڈال لو دیکھو کتنے چھوٹے چھوٹے ہیں اوور بھی نہیں لگے گے” شہرینہ جو اپنے نام کی ایک تھی آگے بڑھ کر عرا کے انکھیں دکھانے پر بھی اس کو ایئرنگز پہنانے لگی
“میں نے تمہیں بتایا تھا نہ وہ انسان مجھے ذرا بھی پسند نہیں میں تیار ہوکر اس پر یہ تاثر ہرگز نہیں دینا چاہتی کہ میں دل سے خوش ہوں اس شادی پر”
عرا شہرینہ سے سنجیدگی سے بولی تاکہ وہ اب اُس کو مزید کوئی جیولری نہ پہنائے
“وہ تو تمہاری یہ سڑی ہوئی شکل دیکھ کر خود ہی سمجھ جائے گا کہ تم خوش نہیں ہو۔۔۔ بھلا بتاؤ اچھا خاصہ خوش شکل خوش اخلاق پڑھا لکھا بندہ ہے جو تمہیں پسند بھی کرتا ہے پھر بھی تمہارے نخرے نہیں مل رہے قسم سے عجیب لڑکی ہو تم بھی اگر میری ایسی قسمت ہوتی میں تو خوشی سے اترائے اترائے پھرتی”
شہرینہ بولتی ہوئی عرا کا دوپٹہ سر پر رکھنے کرنے لگی کیونکہ نکاح خواں اور مرد حضرات سے ڈرائنگ روم بھر چکا تھا
“اللہ نہ کرے میرے جیسی قسمت کسی بھی لڑکی کی ہو اگر محبت کرنے والا شوہر ساتھ چھوڑ کر چلا جائے تو وہ لڑکی خوش قسمت کیسے ہوسکتی ہے میری خوشیوں کا عرصہ کافی مختصر تھا شہرینہ تم آج کے دن میرے دل کی کیفیت نہیں جان سکتی آج نکاح کے بعد زیاد کی جگہ اُس کا بھائی لے لے گا میرا دل خوشی خوشی اس رشتے کو بھلا کیسے قبول کرسکتا ہے میری تکلیف کوئی بھی نہیں سمجھ سکتا اگر پھپھو کی ضد نہ ہوتی تو میں کبھی بھی دوسری شادی کے لیے تیار نہیں ہوتی”
بولتے ہوئے عرا کی آنکھ بھیگنے لگی تو شہرینہ اس کے رونے پر اداس ہوگئی
“اللہ پاک تمہاری خوشیوں کی عمر دراز کرے گا تم دیکھنا ریان تمہارے لیے بہت اچھا شوہر ثابت ہوگا میری دعا ہے تمہارا دل جلدی اس رشتے کے لیے آمدہ ہوجائے”
شہرینہ خلوص دل سے عرا کو دعا دیتی ہوئی بولی اتنے میں کمرے میں عالیہ آگئی
“نکاح خواں آنے والے ہیں نکاح کی اجازت لینے کے لیے اور کمرہ کس طرح پھیلا رکھا ہے تزئین اب عون جان چھوڑ کر اسکو جھولے میں لٹاؤ اور جلدی جلدی صوفے پر سے یہ کپڑے اور تولیہ ہٹاؤ”
عالیہ عجلت بھرے انداز میں بولتی ہوئی عرا کے پاس آئی تو عرا بھیگی آنکھوں سے عالیہ کو دیکھنے لگی عالیہ جانتی تھی اس کی بھتیجی اس سے خفا تھی عالیہ نے آگے بڑھ کر عرا کو گلے سے لگاکر اسے پیار کیا
“اپنی پھپھو سے اپنی ناراضگی یہی چھوڑ کر جانا میں نے تمہارا اور عون کا سوچ کر یہ فیصلہ کیا ہے اگر زیاد کا بھائی تمہارے اِس قابل نہیں ہوتا تو میں کبھی بھی ایسا فیصلہ نہیں لیتی میں جانتی ہو فوری طور پر تمہارے لیے اس رشتے کو قبول کرنا مشکل ہوگا مگر آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہوجائے گا”
عالیہ پیار سے عرا کو سمجھاتی ہوئی اس کے پاس سے اٹھ گئی نکاح کی رضامندی لینے کے لیے چند حضرات کمرے میں آچکے تھے جن سے پہلے ہی شہرینہ عرا کے چہرہ پر دوپٹہ گرا کر گھونگٹ نکال چکی تھی
****
عرا کے ڈلیوری کے دو ہفتے بعد ہی مائے نور عالیہ کے گھر آکر باقاعدہ رشتے کی بات ڈال چکی تھی وہ مزید تاخیر کیے بغیر عرا کو ریان بیوی بناکر سکندر ولا لے جانا چاہتی تھی اس کی باتوں میں چھپی بےقراری کی وجہ عون یعنٰی مائے نور کا پوتا تھا جسے وہ اب جلد سے جلد سکندر ولا میں دیکھنا چاہتی تھی یہی وجہ تھی کہ سوا مہینے کا انتظار کیے بغیر اپریشن کے دوسرے ہفتے ہی ریان نکاح خواں کے ساتھ عالیہ کے گھر حاضر تھا
“عرا آجاؤ ریان تمہارا انتظار کررہا ہے”
عالیہ کے آواز دینے پر عرا عون کی ضروری اشیاء بیگ میں ڈالتی ہوئی ڈرائینگ روم میں چلی آئی جہاں ریان عون کو گود میں لیے اُس کا منتظر تھا اس کو ڈرائنگ روم میں آتا دیکھ کر ریان صوفے سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا اور غور سے عرا کو دیکھنے لگا۔۔۔ آج وہ ایک الگ روپ میں الگ رشتے میں اس کے سامنے کھڑی تھی رشتہ بدلتے ہی اُس کے دیکھنے کا انداز بھی بدل گیا تھا ریان بناء جھجھکے یا پلکیں جھپکیں یک ٹک عرا کو دیکھنے لگا عرا نے خود بھی نظریں اٹھا کر ریان کی طرف دیکھا مگر اس کی نگاہیں خود پر محسوس کرکے عرا نے اپنی نظروں کا زاویہ بدل لیا
“پھر کب لاؤ گے عرا کو دوبارہ۔۔۔ اب مجھے اور تزئین کو عرا سے زیادہ عون کے آنے کا انتظار رہے گا” عالیہ نے ریان سے بات کر کے اسے کمرے میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا عالیہ کی موجودگی کا احساس کر کے اس نے اپنی بےاختیاری کو کوسا اور عرا کے چہرے سے اپنی نظریں ہٹائی عرا خود بھی اس کے یوں دیکھنے پر عالیہ کے سامنے شرمندہ ہورہی تھی جبکہ تزئین عرا کا چہرا دیکھ کر اپنی ہنسی کنٹرول کیے کھڑی تھی
“جی بہت جلد ہی کل تو آپ آرہی ہیں ناں عون کا عقیقہ ارینج کیا ہے ماں نے اسی وجہ سے وہ آج نہیں آسکیں کل شام میں ڈرائیور آپ کو لینے آجائے گا”
ریان عالیہ کو دیکھتا ہوا بولا اور اس سے جانے کی اجازت مانگتا ہوا عرا کے ہمراہ اپنی گاڑی تک آیا
****
“آج اچھی لگ رہی ہو”
کار ڈرائیو کرتے ہوئے کافی دیر ان دونوں کے درمیان خاموشی تھی 15 منٹ بعد اس خاموشی کو ریان کی آواز نے توڑا تو عرا ناگوار نظریں لیے ریان کا چہرہ دیکھنے لگی جس پر ریان جلدی سے بولا
“مطلب اچھی تو شروع سے ہی لگتی تھی آج اور بھی زیادہ اچھی لگ رہی ہو۔۔۔ بیوی کے روپ میں”
وہ شروع سے ہی ایسا تھا منہ پر ہر بات بول دینے والا اس کی بات کے آخر میں عرا نے اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ دیکھی جو عرا کو غصہ دلاگئی وہ ابھی بھی گھور کر ریان کو دیکھ رہی تھی تاکہ اسے احساس دلاسکے ایسی باتیں اس کو پسند نہیں عرا کے دیکھنے پر
ریان بھی اس کا چہرہ دیکھنے لگا ویسے ہی کار سگنل پر رکی
“ایسے کیوں دیکھ رہی ہو میں سچ بول رہا ہوں اور یوں سمپل تم زیادہ اچھی لگتی ہو بانسبت ہیوی میک اپ کے۔۔۔ آج کے دن میں تمہیں ایسے ہی دیکھنا چاہ رہا تھا”
ریان عرا کے دیکھنے پر مزید اس سے بولا تو عرا کو اپنے ولیمے والے دن ریان کی بات یاد آگئی جو اس نے مائے نور کی بات پر سب کے درمیان بولی تھی
“زیاد کو میرا تیار ہوکر رہنا پسند تھا تو میں اسی کے لیے تیار ہوتی تھی اب یوں سمپل رہنا اس بات کی علامت ہے کہ زیاد کے بغیر مجھے سجنے سنورنے میں کوئی دلچسپی نہیں۔۔۔ میں تمہیں کس روپ میں اچھی لگتی ہوں یا پھر کس روپ میں اچھی نہیں لگتی مجھے یہ بات بھی جاننے میں رتی برابر دلچسپی نہیں”
عرا کی یوں ٹکے سے جواب دینے پر ریان کے چہرے کی جوت یک دم مانند پڑگئی
“میرے دل کو تم کبھی بھی کسی بھی روپ میں بری نہیں لگ سکتی”
بےحد آہستگی سے بولے گئے جملے پر عرا کے چہرے پر ناگواری در آئی جسے چھپائے بغیر اس نے ریان کو دوبارہ گھور کر دیکھا ویسے ہی سگنل کھلتے ریان نے گاڑی اسٹارٹ کردی
“اپنی حد میں رہو تمہیں مجھ سے سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہیے”
عرا اُس پر غصہ کرتی ہوئی بولی وہ اسے اکیلا دیکھ کر یوں بےتکلف ہورہا جو عرا کو بالکل اچھا نہیں لگا
“ہسبنڈ اور وائف کے درمیان حد کیا ہوتی ہے اس کا مجھے اچھی طرح اندازہ ہے اور میری بات پر تمہیں یوں غصہ میں آنے کی ضرورت نہیں ہے، تمہارا احساس کرکے تم سے کلوز نہیں ہوسکتا مگر تمہاری تعریف تو کرسکتا ہوں”
ریان ڈرائیونگ کرتا ہوا بولا تو عرا کا چہرا خجالت سے سرخ ہونے لگا وہ خود پر ضبط کیے عون کو گود میں لیے خاموش بیٹھی رہی ریان نے ڈرائیونگ کے دوران ایک نظر عرا کے سنجیدہ چہرے پر ڈالی
“تمہارے فیس ایکسپریشن سے ہر انداز سے تمہارے لہجے سے مجھے اس بات کا اچھی طرح اندازہ ہے کہ یہ شادی تم نے کس مجبوری۔۔۔
ریان کے مزید بولنے پر عرا اس کی بات کاٹ کر ایک دم بول اٹھی
“صرف عون کے مستقبل کے لیے اور پھپھو کی ضد مانتے ہوئے کی ہے کیونکہ تم زیاد کے بھائی ہو کسی دوسرے مرد کے مقابلے میں عون کا اچھے طریقے سے خیال رکھ سکتے ہو اور اس پر توجہ دے سکتے ہو”
عرا نے ریان کی پوری بات مکمل کی جس پر ریان دوبارہ کچھ نہیں بولا خاموشی سے کار ڈرائیو کرنے لگا
****
“پچھلی دفعہ زیاد کے بار کی بانسبت اب کی مرتبہ ریان کے ہمراہ سکندر ولا میں اس کے آنے پر شاندار طریقے سے استقبال کیا گیا تھا نہ صرف پورے سکندر ولا کو روشنیوں اور چراغوں سے سجایا گیا تھا بلکہ پھولوں کی پتیاں بھی اس کے اور ریان کے اوپر نچھاور کی گئی تھی مائے نور مسکرا کر عرا سے ملی اور فوراً ہی عرا کی گود سے عون کو لےلیا
“میرا چھوٹا زیاد میرے پاس لوٹ آیا”
وہ عون کو پیار کرتی ہوئی بولی گھر کے پرانے ملازم عرا کی دوبارہ آمد پر خوش تھے شیرو بھی اس کو مانوس نظروں سے دیکھ رہا تھا سوائے عشوہ کے سب ہی ہال میں موجود تھے مائے نور کے دو تین قریبی رشتہ دار اس کی دو خاص سہیلیاں اور زیاد کا بزنس پارٹنر گھر کے مین ہال میں ریان اور عرا کے منتظر تھے ان سب کے درمیان عرا کو ریان کے ساتھ صوفے پر بٹھایا گیا
ریان کو اپنے قریب بیٹھا دیکھ کر اس کو بار بار زیاد کی یاد آنے لگی گاڑی کے سفر تک عرا کو ریان کی باتوں پر شدید غصہ آرہا تھا لیکن سکندر ولا پہنچتے ہی عرا کو زیاد کی یاد آنے لگی اس گھر میں اس نے کم عرصہ گزارا تھا لیکن وہ کم عرصہ زیاد کے سنگ گزارا تھا۔۔۔ اور اب اسی گھر میں اس کے بھائی کی بیوی بن کے رہنا اس کے لیے تکلیف دے عمل سے کم نہ تھا
“کیا ہوا تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے کیا محسوس کررہی ہو”
ریان عرا کے تاثرات دیکھ کر آہستگی سے اس سے پوچھنے لگا عرا کے بیٹھنے کے انداز سے ہی وہ سمجھ گیا تھا اس وقت کمفرٹیبل فیل نہیں کررہی تھی ویسے بھی عالیہ نے اسے بتایا تھا کہ اس کی طبیعت آج صبح سے ٹھیک نہیں تھی
“میں آرام کرنا چاہتی ہوں”
ریان کے پوچھنے پر عرا فوراً بولی شاید اب اس سے یہاں پر مزید نہیں بیٹھا جاتا وہ ان سب لوگوں کے درمیان سے جانا چاہتی تھی
“شمع عرا کو میرے روم تک چھوڑ آؤ”
ریان ڈرنگ سرو کرتی شمع سے بولا تو لفظ (میرے کمرے) پر عرا چونک کر اپنے برابر میں بیٹھے ریان کو دیکھنے لگی
“کیا ہوا” عرا کے یوں دیکھنے پر ریان عرا کا چہرہ دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا تو عرا اپنے ہونٹوں کو تر کرتی بولی
“وہ عون؟؟؟” عرا کہنا تو کچھ اور چاہتی تھی مگر عون کی طرف دیکھنے لگی جو اس وقت مائے نور کی گود میں سورہا تھا اور وہ عون کو گود میں لیے اپنی دوست سے باتیں کرنے میں مصروف تھی
“ڈونٹ وری عون کو ماں سنبھال لیں گیں اس کی فکر مت کرو تمہیں ریسٹ کی ضرورت ہے تم جاکر ریسٹ کرو”
ریان عرا کے گھبرائے ہوئے چہرے پر نظر ڈال کر بولتا ہوا وہاں سے اٹھکر اپنے کزن کے پاس بیٹھ گیا
****
ریان کے کمرے میں آنے کے بعد عرا کا دل بری طرح گھبرانے لگا وہ یہاں کیسے رہ سکتی تھی اس کمرے میں ایک پل بھی رکنے کے لیے اس کا دل آمادہ نہ ہوا
“کیا ہوا بھابی آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے”
شمع عرا کا پسینے سے تر چہرہ دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی
“مم۔۔۔۔ مجھے یہاں نہیں رہنا مجھے زیاد کے کمرے میں لے چلو شمع”
عرا شمع کو دیکھتی ہوئی بولی تو شمع عرا کی عجیب سی بات پر حیرت ذدہ ہوکر اُس کو دیکھنے لگی
“زیاد بھائی کا کمرہ تو لاک ہے اور چابی ریان بھائی کے پاس موجود ہے کیونکہ بیگم صاحبہ (مائے نور) ان کے کمرے میں وقت گزارنے لگی تھیں جس سے اُن کی طبیعت خراب رہتی تھی اس لیے ریان بھائی نے اس کمرے کو لاک کردیا اور ویسے بھی اگر آپ زیاد بھائی کے کمرے میں جائیں گی تو شاید ریان بھائی کو برا لگ سکتا ہے تب میں اور اب میں کافی فرق آگیا ہے”
شمع اپنی عقل کے مطابق اس کو سمجھاتی ہوئی بولی تو عرا شمع کا چہرہ دیکھنے لگی
“صحیح بول رہی ہو تب میں اور اب میں بہت فرق آگیا ہے لیکن اس فرق کے باوجود میں سے زیاد کے کمرے میں جانا چاہتی ہوں پلیز شمع میری خاطر کسی طرح سے زیاد کے کمرے کا لاک کھول دو مجھے یہاں بہت زیادہ گھبراہٹ ہو رہی ہے”
عرا بےچارگی سے شمع کو دیکھتی ہوئی بولی
“اچھا آپ پریشان نہ ہو میں کوشش کرتی ہوں”
شمع عرا کی بےبسی پر اسے دیکھ کر بولی اور وہاں سے چلی گئی
*****
