Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Payar Howa Tha (Episode 12)

Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel

عرا کی آنکھ کھلی تو نئی خوشگوار صبح اس کی منتظر تھی اس نے اپنے نزدیک سوئے ہوئے زیاد پر نظر ڈالی تو بےساختہ کمفرٹر اپنے سینے تک لاتی اپنی پلکیں جھکا گئی یہ فائیو اسٹار ہوٹل کا لگثری سوئیٹ تھا جہاں کل رات زیاد اس کو اپنے ساتھ لایا تھا کل رات زیاد اس کو مکمل طور پر اپناکر اس کے اور اپنے درمیان تمام فاصلے مٹا چکا تھا

کل رات زیاد کی بےباکیوں کو سوچ کر عرا کے گال شرم سے سرخ ہونے لگے پلکوں کی جھالر اٹھاکر وہ سوئے ہوئے زیاد کو دیکھنے لگی کس قدر قریبی اور قربت والا رشتہ ان دونوں کے بیچ جڑ چکا تھا عرا زیاد کا چہرہ دیکھتی ہوئی سوچنے لگی۔۔۔ اس کا دل چاہا وہ زیاد کے چہرے کے نقش کو چھو کر محسوس کرے لیکن زیاد کی نیند خراب نہ ہوجائے اس ڈر سے وہ اپنی خواہش کو دبائے زیاد کے چہرے کو قریب سے دیکھتی رہی

“اگر تمہارا دل چاہ رہا ہے تو تم مجھے کِس کرسکتی ہو میں نے کون سا اپنی آنکھیں کھولی ہوئی ہیں”

زیاد یونہی آنکھیں بند کیے عرا سے بولا تو عرا گھور کر زیاد کو دیکھنے لگی

“تم جاگ رہے ہو تو پھر آنکھیں بند کر کے کیوں لیٹے ہو”

عرا کے پوچھنے پر زیاد اپنی آنکھیں کھول کر عرا کو دیکھنے لگا

“دیکھنا چاہ رہا تھا تم مجھے سویا ہوا سمجھ کر کِس وغیرہ کرتی ہو یا نہیں”

زیاد عرا کو اپنے قریب کر کے اسے اپنی دسترس میں لیتا ہوا شرارت سے بولا جس پر عرا اپنی مسکراہٹ چھپاتی اس کو دیکھ کر بولی

“یہ بےشرمی والا کام تم پر ہی سوٹ کرتا ہے اور اس کام کو تم ہی بہتر طریقے سے انجام دے سکتے ہو”

وہ زیاد کو دیکھ کر گھورتی ہوئی بولی کل رات سے اب تک اس کی بےباکیاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی

“وہ تو میں انجام دے دوں گا لیکن میری جان تم بھی کچھ کرو گی یا پھر میرے رومینس کرنے پر صرف انجوئے ہی کرو گی”

ذیاد عرا کے ہونٹوں پر جھکتا ہوا بولا تو عرا نے اس کو پیچھے دھکیل دیا

“میں نے کوئی انجوائے نہیں کیا تم نے میری جان نکالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی”

عرا اپنے بولے ہوئے جملے پر خود ہی بری طرح جھینپ گئی جبکہ زیاد اپنی مسکراہٹ چھپاتا ہوا عرا کو اپنی جانب کھینچ چکا تھا وہ عرا کو اپنے بازووں میں بھر کر اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو چومنے لگا

“زیاد بس کرو اب”

عرا زیاد کو دوبارہ سے کل رات والے موڈ میں آتا ہوا دیکھ کر گھبراتی ہوئی بولی

“اتنے قریب آنے کے بعد بس نہیں ہوتا”

زیاد مدہوشی کے عالم میں بولتا ہوا عرا کی گردن کو چومنے لگا اس کے ہاتھ عرا کی کمر پر اپنی گرفت مضبوط کرچکے تھے اس کے ہونٹ عرا کی گردن کو چھوتے ہوئے اب اس کے سینے کو چھونے لگے تھے کل رات کی طرح ایک مرتبہ دوبارہ وہ عرا کی دھڑکنوں تیز ہونے لگی ایک مرتبہ دوبارہ وہ زیاد کی بےباکیاں برداشت کرنے پر مجبور تھی

****

“معلوم نہیں یہ لڑکا کہاں چلا گیا ہے کل رات سے کال بھی ریسیو نہیں کررہا ہے میری”

مائے نور ناشتے کی ٹیبل پر موجود عشوہ سے بولی تبھی ریان بھی اپنے کمرے سے نکل کر ناشتے کی ٹیبل پر آیا تو مائے نور ریان کی طرف متوجہ ہوئی

“طبیعت تو ٹھیک ہے تمہاری”

ریان کرسی کھینچ کر بیٹھا تو مائے نور غور سے ریان کا اترا ہوا چہرہ دیکھتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی کیونکہ اِس وقت وہ کمرے سے کیجول ڈریس میں باہر آیا تھا عموما وہ جاگنگ کرنے کے بعد ناشتے کی ٹیبل پر موجود ہوتا تھا اس کا حلیہ بتارہا تھا کہ آج وہ جاگنگ کے لیے نہیں گیا تھا

“طبیعت کو کیا ہونا ہے میں ٹھیک ہوں”

ریان سنجیدہ لہجہ اختیار کرتا ہوا بولا اور جگ میں سے اپنے لیے فریش جوس نکالنے لگا تو عشوہ بھی ریان کا چہرہ دیکھنے لگی جس پر حد سے زیادہ سنجیدگی طاری ہونے کے ساتھ ساتھ اُس کی آنکھیں بھی بےحد سرخ ہورہی تھی جیسے وہ ساری رات بےچینی میں مبتلا رہ کر جاگتا رہا ہو

“عاشو ذرا دوبارہ کال ملاؤ زیاد کو معلوم نہیں کہاں پر موجود ہے وہ کل رات سے”

مائے نور کی توجہ ایک مرتبہ دوبارہ سے زیاد کی طرف چلی گئی جس پر عشوہ طنزیہ انداز اختیار کرتی ہوئی ہنس کر بولی

“ماہی آپ بھی کمال کرتی ہیں کل بھائی کا ریسپشن تھا وہ رات میں عرا کو یہاں لے کر نہیں آئے تو یقیناً اپنی بیوی کے ساتھ محبت بھرے لمحات کو انجوائے کررہے ہوگے کیونکہ سکندر ولا میں رہ کر آپ کی موجودگی میں نہ تو وہ عرا کی قریب جاسکتے ہیں اور نہ ہی آپ اُن کو ہنی مون پر جانے کی اجازت دے گیں اس لیے انہوں نے یہی بہتر سمجھا ہوگا کہ کل کی رات وہ عرا کے ساتھ باہر گزار لیں تاکہ تھوڑی دیر اپنے اور عرا کے رشتے کو قریب سے اور صحیح سے محسوس تو کرسکے”

عشوہ کی بات سن کر ریان کا ضبط جواب دے چکا تھا اس نے ہاتھ میں پکڑا گلاس غُصے میں فرش پر پٹخا

“اسٹاپ اٹ بند کرو اپنی یہ بیہودہ بکواس”

وہ غُصے میں اتنی زور سے چلایا کے مائے نور حیرت سے ریان کا ری ایکشن دیکھنے لگی جبکہ عشوہ کے ہونٹوں پر ابھی بھی طنزیہ مسکراہٹ رینگ رہی تھی

“واٹس رونگ ود یو ریان کیا تھا یہ سب”

مائے نور حیرت زدہ سی ریان کا چہرہ دیکھتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی جو ابھی بھی غضب ناک تیور لیے عشوہ کو گھور رہا تھا جیسے عشوہ کی سچی باتوں سے اُس کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہو لیکن عشوہ اِس کی پرواہ کیے بغیر دوبارہ بولی

“ماہی جب سے بھائی کی شادی ہوئی ہے تب سے آپ کی ساری توجہ کا مرکز صرف بھائی اور عرا کا رشتہ رہ گیا ہے آپ بس اسی کوششوں میں لگی رہتی ہیں کہ کیسے بھی بھائی عرا کے نزدیک نہ جاسکیں، باقی اپنے ارد گرد دوسری چیزوں کی تو آپ کو پروا ہی نہیں ہے آپ کو تو یہ تک خبر نہیں کہ کل رات آپ کا دوسرا بیٹا اپنے بڑے بھائی اور عرا کی غیر موجودگی میں کس کرب سے گزرا ہے”

ریان کا چہرہ دیکھتی ہوئی عشوہ اِس طرح جتانے والے انداز میں بولی جیسے وہ ریان کے دل میں چھپے راز کا پتہ پاچکی تھی۔۔۔ عشوہ کی بات پر ریان نے لب بھینچے اور کرسی پیچھے دھکیلتا ہوا کھڑا ہوگیا

“اب اگر تمہارے منہ سے کچھ بھی نکلا تو میں تمہیں شوٹ کر ڈالوں گا عاشو”

ریان انگلی سے عشوہ کی جانب اشارہ کرتا ہوا اسے وارن کرنے لگا جبکہ مائے نور بےیقینی سے عشوہ کی بات پر ریان کا ری ایکشن دیکھنے لگی ریان ایک نظر مائے نور کے چہرے پر ڈالتا ہوا ڈائینگ ہال سے واپس اپنے کمرے میں جانے لگا تبھی زیاد اپنے ہمراہ عرا کو گھر میں لے کر داخل ہوا

ریان نے رک کر بڑے غور سے اُن دونوں کو ایک ساتھ آتا ہوا دیکھا زیاد کے چہرے پر اُمڈتی ہوئی خوشگوار مسکراہٹ اور زیاد کے ہاتھ میں موجود عرا کا ہاتھ۔۔۔ عرا کا شرمایا ہوا سا روپ ریان کے علاوہ مائے نور اور عشوہ بھی نوٹ کیا تھا

“یہ رہی تمہاری کار کی چابی سوری یار تمہاری پرسنل کار (جس کو یوز کرنے کی کسی دوسرے کو اجازت نہ تھی) کو کل رات میں نے یوز کیا”

زیاد نے اسمائل دیتے ہوئے ریان کو اُس کی گاڑی کی چابی تھمائی

“یوز کیا۔۔۔ مطلب صحیح بدلہ نکالا تم نے۔۔۔ میں بچپن میں تمہاری چیزیں زبردستی یوز کرلیا کرتا تھا مگر اب تم میری چیزوں پر حق جتاکر انہیں استعمال کررہے ہو”

ریان کا لہجہ عجیب سا تھا اُس کی بات کا مفہوم زیاد کو سمجھ نہیں آیا ریان اِس وقت اِس قدر اشتعال میں تھا زیاد کے ساتھ کھڑی عرا کے بازو کو اچانک سے پکڑ کر کھینچتا ہوا اپنے روم میں تیزی سے لے جانے لگا

“ریان یہ کیا بدتمیزی ہے چھوڑو اُس کا ہاتھ”

زیاد اُس کے اِس عمل پر پہلے شاکڈ پھر غصہ میں بولا لیکن ریان نے اُس کی بات پر کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا بلکہ عرا کے چھڑوانے پر بھی وہ عرا کو بازو سے کھنچے اپنے روم میں لے جانے لگا

“ریان یہ کیا حرکت ہے وہ بیوی ہے زیاد کی چھوڑو اُسے”

مائے نور اور عشوہ بھی ریان کی حرکت پر کرسی سے اٹھتی ہوئی ریان کی جانب بڑھی لیکن ریان کسی کی بھی پرواہ کیے بغیر عرا کو اپنے کمرے میں دھکیل کر اور زیاد کو پیچھے دھکا دےکر اپنے کمرے سے باہر نکالتا ہوا کمرے کا دروازہ اندر سے لاک کرچکا تھا

ریان کی اس حرکت پر زیاد کے ساتھ ساتھ مائے نور اور عشوہ بھی صدمے سے ریان کے کمرے کا بند دروازہ دیکھنے لگی پل بھر میں زیاد کی آنکھوں میں خون اترنے لگا

“کیا کررہے ہو ریان۔۔۔ تم پاگل تو نہیں ہوگئے ہو”

عرا کو اس وقت وہ نارمل نہیں لگ رہا تھا پیچھے کی جانب قدم اٹھاتی ہوئی وہ ریان کو دیکھ کر ڈرتی ہوئی بولی ریان عرا کو دیکھتا ہوا اس کی جانب قدم بڑھانے لگا

“پاگل ہی تو ہوگیا ہوں تمہیں اتنے سالوں بعد زیاد کے ساتھ دیکھ کر، نظر نہیں آتا تمہیں۔۔۔ آخر کیوں نظر نہیں آتی تمہیں میری آنکھوں میں اپنے لیے محبت کیو بھول چکی ہو تم مجھے عرا جواب دو”

عرا خوف کے مارے پیچھے دیوار سے جالگی وہ عرا کو دونوں بازوؤں سے پکڑے اس سے پوچھنے لگا

“ریان چھوڑو مجھے۔۔۔ زیاد پلیز اپنے بھائی سے بولو یہ دور رہے مجھ سے مجھے ڈر لگ رہا ہے اس سے”

عرا چلاتی ہوئی بولی کیوکہ کمرے کا دروازہ باہر سے مسلسل پیٹا جارہا تھا لاک کھولنے کی کوششوں کے ساتھ ہی زیاد کی غصے بھری آواز کمرے کے اندر بھی آرہی تھی جس کی ریان کو بالکل بھی پرواہ نہیں تھی

“یاد نہیں ہے تمہیں تم بچپن میں زیاد کی نہیں بلکہ ہر گیم میں میری پارٹنر بنتی تھی پھر بڑی ہوکر تم نے میرے بدلے اپنے لیے زیاد کو کیوں چنا۔۔۔ کیو کیا تم نے میرے ساتھ ایسا جواب دو عرا مجھے۔۔۔ میں کیسے برداشت کرسکو گا تمہیں اس طرح اپنے بھائی کے ساتھ دیکھ کر، تم میری محبت ہو میرا دل شدت سے چاہتا ہے تمہیں، بتاؤ میں کیا کرو”

ریان اب کی مرتبہ غصے میں عرا کو بازووں سے جھنجھوڑتا ہوا چیخا تو عرا نے خوف سے رونا شروع کردیا جبکہ زیاد کمرے کا لاک کھول کر اندر آچکا تھا

“زلیل انسان یہ بیوی ہے میری۔۔۔ میں آج کی تمہاری اس حرکت پر تمہیں نہیں چھوڑوں گا”

زیاد غصے میں دھاڑتا ہوا ریان کی طرف بڑھا اسے گریبان سے پکڑ تا ہوا زوردار مُکا ریان کے جبڑے پر مارا جس سے وہ دور جاگرا کمرے کے اندر آتی مائے نور اور عشوہ دونوں ہی اس صورتحال پر ڈر گئی کیوکہ اب کی بار ریان نے فرش سے اٹھ کر اُتنی ہی زور کا مُکا زیاد کے منہ پر مارا تھا جس سے وہ پیچھے دیوار پر ٹکرایا

“یہ میری محبت تھی میری محبت۔۔۔ سب جانتے ہوئے بھی تم نے اِس کو مجھ سے چھینا ہے میں تمہیں کبھی معاف نہیں کرو گا۔۔۔ تم اچھی طرح جانتے تھے میں بچپن سے اِس کو پسند کرتا تھا پھر بھی تم نے۔۔۔ اچھا نہیں کیا میرے ساتھ”

ریان اشتعال میں چیختا ہوا بولا اس صورتحال پر اُن دونوں کو لڑتا ہوا دیکھ کر عرا نے مزید زور و شور سے رونا شروع کردیا جبکہ مائے نور اپنے دونوں بیٹوں کو ایک دوسرے سے گُتھم گُھتا دیکھ کر چکراتی ہوئی فرش پر گر پڑی

“ماہی۔۔۔۔ ماہی آنکھیں کھولیں پلیز۔۔۔ ریان۔۔۔ بھائی پلیز جلدی سے ماہی کو دیکھیں کچھ ہوگیا ہے انہیں”

عشوہ چیختی ہوئی بولی تو وہ دونوں ایک دوسرے کا گریبان چھوڑ کر مائے نور کی جانب بڑھے جو نیچے فرش پر گری ہوئی تھی اُس کی ناک سے خون بہہ رہا تھا

****

“کسی بات کا گہرا صدمہ پہنچا ہے انہیں جبھی اِن کا بی پی اچانک شوٹ کرگیا ابھی تو اُن کو نیند کا انجکشن دے دیا ہے کوشش کریں کہ آپ کی مدر کوئی ٹینشن نہ لیں ورنہ اِن کا نروس بریک ڈاؤن ہونے کا خدشہ ہے”

ڈاکٹر نے جانے سے پہلے دوا کا پرچہ تھماتے ہوئے زیاد کو ہدایت دی جس پر اس نے اپنے ساتھ کھڑے ریان کو سخت غصے میں دیکھا ریان شرمندہ ہوکر نظریں چرا گیا مائے نور بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی جبکہ عشوہ اس کے بیڈ کے سرہانے بیٹھی تھی

“اس فساد کی جڑ کو ابھی اور اِسی وقت طلاق دو زیاد میں اس لڑکی کا وجود ایک پل بھی اِس گھر میں برداشت نہیں کرو گی جس کی وجہ سے میرے دونوں بیٹے ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہوگئے ہیں”

مائے نور کی نقاہت زدہ آواز پر زیاد تعجب کرتا مائے نور کو دیکھنے لگا جبکہ ریان آج جو کچھ کرچکا تھا اب شرمندگی سے اپنی نگاہیں زمین میں گاڑھے مائے نور کے کمرے میں بالکل خاموش کھڑا تھا

“سوری ماں مگر میں عرا کو نہیں چھوڑوں گا آپ کو اُس کا وجود پہلے دن سے اِس گھر میں برداشت نہیں ہے ٹھیک ہے میں اس کو سکندر ولا سے دور کہیں دوسری جگہ پر لے جاکر شفٹ ہوجاتا ہوں لیکن وہ بیوی ہے میری اور میں اُس کو کسی دوسرے کے لیے نہیں چھوڑ سکتا”

زیاد نے صاف لفظوں میں مائے نور کو جواب دیا اور اپنے آخری جملے پر اس نے خاص جتانے والی نظر ریان پر ڈالی

“تمہیں اپنے چھوٹے بھائی سے زیادہ عزیز ہوگئی ہے وہ لڑکی زیاد”

مائے نور چاہ کر بھی طبیعت خرابی کی وجہ سے تیز آواز میں نہیں بول سکی

“آپ کہنا کیا چاہ رہی ہیں ماں میں اپنی بیوی کو اپنے چھوٹے بھائی کی خاطر چھوڑ کر پھر اِس کی خوشی کے لیے اُس کا ہاتھ اپنے بھائی کے ہاتھ میں پکڑا دوں، کوئی بےغیرت یا اُلو کا پٹھا نظر آرہا ہوں میں آپ کو۔۔۔ رشتوں میں کچھ احترام، کچھ لحاظ، کچھ شرم ہوتی ہے لیکن آج اِس انسان نے وہ ساری حد پار کردی ہیں عرا کوئی چیز نہیں ہے جو میں اِس کے ضد کرنے پر اُس کو اپنی بیوی اٹھا کر دے دو، وہ عزت ہے میری نہیں رہوں گا اب میں اِس گھر میں”

زیاد مائے نور کی بات سن کر مزید برہم ہوا اور کمرے سے باہر جانے لگا مگر ریان کی آواز پر اُس کے قدم رک گئے

“تمہیں یہاں سے جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے میں واپس نیویارک چلا جاؤں گا جو کچھ بھی آج ہوا ہے وہ ٹھیک نہیں تھا میں اُس کے لیے شرمندہ ہوں تم سے معافی مانگتا ہوں اور عرا سے بھی معافی مانگ لو گا میری وجہ سے تمہیں یہ گھر چھوڑنے کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے”

ریان زیاد سے بولتا ہوا مائے نور کے کمرے سے خود نکل گیا ریان کے جانے کے بعد مائے نور رونے لگی

“کتنے سالوں بعد وہ واپس لوٹ کر آیا تھا اب دوبارہ چلا جائے گا اُس کو واپس مت جانے دینا زیاد پلیز اسے روک لو میں اپنے دونوں بیٹوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنا چاہتی ہوں مجھے اس عمر میں تم دونوں اس طرح جدائی کی اذیت میں مبتلا مت کرو پلیز”

مائے نور کے رونے پر زیاد مائے نور کے پاس آکر بیٹھا

“ماں اِس طرح روئے گیں تو آپ کی دوبارہ طبیعت خراب ہوجائے گی پلیز خاموش ہوجائیے نہیں جارہا ریان کہیں بھی اور ہی نہ ہی میں کہیں جارہا ہوں ہم دونوں آپ کے پاس ہیں پلیز اب آپ کوئی ٹینشن نہیں لے گیں میرے لیے آپ کی ذات بہت اہم ہے میں آپ کو اسطرح نہیں دیکھ سکتا”

زیاد مائے نور کے پاس بیٹھ کر اس کو بہلاتا ہوا بولا عشوہ خاموش نظروں سے زیاد کو دیکھنے لگی جو اِس وقت اُسے بہت بےبس نظر آرہا تھا

****

فساد کی جڑ۔۔۔۔ اپنے متعلق یہ لفظ سُن کر عرا کے قدم مائے نور کے کمرے میں جانے سے رک گئے وہ مائے نور کے کمرے میں اُس کی طبیعت پوچھنے کے لیے جانا چاہ رہی تھی مگر جو کچھ مائے نور اُس کے متعلق بول رہی تھی شاید سچ ہی تھا اُس کی ذات دو بھائیوں میں فساد برپا کرچکی تھی۔۔۔ کیا اِن حالات سے پریشان ہوکر یا مجبور ہوکر زیاد اس سے اپنا رشتہ ختم کردے گا ایسے خدشات عرا کو پریشان کرنے لگے

عرا کو ریان کی حرکت کا سوچ سوچ کر غصہ آرہا تھا جو کچھ آج ریان نے سب کے سامنے کیا اور جو انکشاف وہ اتنی صاف گوئی سے کر بیٹھا تھا اس کے بعد اب عرا ریان کی شکل تک دیکھنے کی روادار نہ تھی۔۔۔ سر میں اُٹھنے والے درد کی وجہ سے وہ کچن میں چلی آئی شمع کچن میں موجود نہ تھی اس لیے خود ہی اپنے لیے چائے بنانے کے لیے چولہے پر پانی رکھنے لگی

عرا۔۔۔ وہ اپنے نام کی پکار پر چونکتی ہوئی پلٹی ریان کو کچن میں دیکھ کر اس کے چہرے پر غصّے کے ساتھ ناگواری بھی در آئی وہ چولہا بند کرکے کچن سے باہر نکلنے لگی تبھی ریان اُس کے راستے میں آیا تو عرا کے قدم رک گئے

“راستہ دو مجھے ریان”

عرا ناگواری سے بولی اس نے ریان کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا

“میں تمہیں تنگ کرنے نہیں آیا میری بات سن لو پھر بےشک چلی جانا”

ریان عرا کا چہرہ دیکھتا ہوا بولا وہ اس کی بجائے غصے میں کچن کے دروازے کو دیکھ رہی تھی شاید غصے کے سبب وہ اس کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کررہی تھی ریان کو یہ سوچ کر شرمندگی ہونے لگی

“جو بھی کچھ ہوا ویسا نہیں ہونا چاہیے تھا میں نے جو بھی کچھ کیا اُس وقت میں اپنے حواسوں میں نہیں تھا۔۔۔ میں کیا بول رہا تھا کیا کررہا تھا مجھے خود سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔۔ میری باتوں کے بعد میرے عمل پر کیا ری ایکشن ہوسکتا ہے اس وقت مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا جو میرے دل میں تھا وہ میں بناء سوچے سمجھے بولتا چلا گیا میں ان سب باتوں کے لیے بہت شرمندہ ہوں عرا اور تم سے معافی چاہتا ہوں پلیز مجھے معاف کردو”

ریان عرا کو دیکھتا ہوا بولا تو عرا ریان کا چہرہ دیکھنے لگی

“تمہیں شرم نہیں آتی ریان تم اپنے دل میں کیا کچھ رکھتے ہو”

عرا ریان کا چہرا دیکھ کر اسے شرمندہ کرتی ہوئی بولی

“میری نیت غلط نہیں ہے عرا میرے دل میں صرف اور صرف تمہارے لیے محبت ہے۔۔۔ تمہیں دیکھ کر میں اپنے ایموشنز پر خود پر قابو نہیں رکھ پاتا میں جانتا ہوں یہ غلط ہے مگر پھر بھی میرا دل چاہتا ہے تم ہر وقت میری آنکھوں کے سامنے موجود رہو۔۔۔ آئی نو تم زیاد کی وائف ہو مجھے تمہارے لیے یہ سب نہیں سوچنا چاہیے لیکن میں چاہ کر بھی اپنے جذبات پر کنڑول۔۔۔۔

ریان کا جملہ مکمل بھی نہیں ہوا تھا بےاختیار عرا کا ہاتھ اٹھا اور ریان کے گال پر طماچے کی صورت پڑا وہی ریان خاموش کھڑا عرا کو دیکھنے لگا جو اس وقت اسے غصّے میں گھورتی ہوئی دیکھ رہی تھی

“شرم نہیں آرہی تمہیں دوبارہ سے میرے سامنے وہی سب بکواس کرتے ہوئے۔۔۔ تمہارا مجھ سے کیا رشتہ ہے تمہیں اِس بات کا احساس تک نہیں ہے۔۔۔ تم ایک گھٹیا اور بےہودہ انسان ہو آئندہ کوشش بھی مت کرنا کہ دوبارہ میرے سامنے آؤ میں تمہارے جیسے انسان کی شکل تک دیکھنا گوارا نہیں کرتی سنا تم نے”

عرا غُصّے میں ریان کو بولتی ہوئی کچن سے باہر چلی گئی

****

“کیوں آئی ہو یہاں میری برباد محبت کا تماشہ دیکھنے چلی جاؤ میرے کمرے سے عاشو پلیز چلی جاؤ اِس وقت یہاں سے”

رات کے وقت ریان اپنے کمرے میں موجود تھا تب عشوہ کو اپنے کمرے میں دیکھ کر اس سے بولا

“محبت ایسے ہی زلیل و خوار کرنے والی شے ہے ریان جب مجھے آپ سے محبت ہوئی تھی تب آپ کی اگنورنس دیکھ کر مجھے بھی لگا تھا کہ بہت غلط انسان سے دل لگا بیٹھی ہو لیکن آج آپ کی آنکھوں میں اُس ہستی کے لیے محبت دیکھ کر خود کی بدقسمتی پر کم اور آپ کی بدقسمتی پر زیادہ افسوس ہورہا ہے محبت کرنے کے لیے آپ کو وہی ملی تھی ایسے ہی محبت کاش آپ مجھ سے کر بیٹھتے میں تو خوشی سے ہی مر جاتی”

عشوہ آنکھوں میں آنسو لیے ریان کو دیکھتی ہوئی شکوہ بھرے انداز میں بولی ریان کی اپنی آنکھیں بھی محبت کے احساس سے جلنے لگی

“خود سے محبت نہیں کی میں نے اُس سے، وہ مجھے شروع سے ہی پسند تھی اور میری پسند کب عمر کے ساتھ پروان چڑھتے محبت میں ڈھلنا شروع ہوگئی اس کا ادراک مجھے اُس کو پہلی مرتبہ دیکھ کر ہوا اتنے سالوں بعد اس کو اپنے سامنے دیکھ کر دل نے خود گواہی دی یہ لڑکی نہیں بلکہ محبت ہے سراپہ تال محبت۔۔۔ میرا دل بہت ظالم ہے عاشو نہ اس پر میرا بس چلتا ہے نہ ہی اب یہ میری مانتا ہے یہ اُس کو دیکھ کر مجھے مجبور کرتا ہے مجھے اُکساتا ہے کہ کسی طرح میں اُس کو اپنا بنالوں رشتے ناطے توڑ کر ساری حدوں کو مٹاکر اُسے سب سے دور لے جاؤں میں جانتا ہوں یہ ممکن نہیں ہے اور یہ بہت غلط ہے مگر میں یہ بات اپنے دل کو نہیں سمجھا سکتا بلکہ کوئی دوسرا بھی میری فیلنگز نہیں سمجھ سکتا میں اپنی اُس کیفیت سے خود بھی خوفزدہ ہوجاتا ہوں کیسے اپنے دل کو سمجھاؤ کہ وہ میرے بھائی کی عزت ہے میری کبھی بھی نہیں ہوسکتی میں کیا تدبیر کروں کہ وہ میرے دل اور ذہن میری سوچو سے تصورات سے نکل جائے اُس کی محبت بہت تیزی سے میری رگ رگ میں کسی ناسور کی طرح پھیلتی جارہی ہے میں بہت بےبس ہوچکا ہوں عاشو مجھے خود سمجھ نہیں آرہا میں کیا کروں کیسے اپنے دل کو سمجھاؤں کہ وہ میری نہیں ہوسکتی”

ریان اضطراب کی کیفیت میں اپنے بالوں میں انگلیاں پھنسائے بولے جارہا تھا جبکہ عشوہ اس کے سامنے بیٹھی اپنی ہی محبت کا سوگ مناتی آنسو بہائے جارہی تھی زیاد جو کہ دروازے کی جھری سے اندر کمرے میں ہونے والے اپنے بھائی کی گفتگو سن چکا تھا وہ خاموشی سے دبے پاؤں اپنے کمرے میں جانے لگا

****

عرا جو کافی دیر سے بیڈ روم میں موجود زیاد کا انتظار کررہی تھی صبح سے یہ وقت ہوا تھا زیاد گھر میں موجود ہوکر بھی اپنے بیڈ روم میں نہیں آیا تھا زیاد کے کمرے میں آنے پر عرا بےاختیار زیاد کو پکارتی بیڈ سے اٹھ کر زیاد کے پاس چلی آئی

“سوئی کیوں نہیں تم ابھی تک”

زیاد عرا سے نظریں چراتا ہوا اُس سے پوچھنے لگا

“تمہارے لوٹنے کا انتظار کررہی تھی”

عرا نے بولتے ہوئے زیاد کے قریب آکر اس کے سینے پر اپنا ہاتھ رکھا اپنے ہاتھوں کو سینے سے اوپر اس کے شولڈر تک لے جاتے ہوئے وہ زیاد کے سینے پر اپنا سر رکھ چکی تھی کل رات وہ اس کے کس قدر نزدیک تھا لیکن اب۔۔۔۔

“تمہیں میرا انتظار نہیں کرنا چاہیے تھا جانتی ہو ناں ماں کی طبیعت کتنی بگڑ گئی تھی میں کیسے اُن کو چھوڑ کر یہاں تمہارے پاس آسکتا تھا”

زیاد اُس کو حصار میں لیے بغیر بولا اس وقت اُس کے انداز میں اپنائیت کی بجائے اجنبیت موجود تھی جو عرا کو محسوس ہوئی

“اِس سارے قصّے میں قصور وار صرف اور صرف ریان ہے اُس کو ایسی حرکت کرتے ہوئے سوچنا چاہیے تھا جس کے بعد ایسا ہی کوئی ری ایکشن ہونا تھا”

عرا زیاد کے سینے سے سر اٹھاتی ہوئی بولی تو زیاد عرا کا چہرہ دیکھنے لگا

“وہ بےچارہ بھی کیا کرتا اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہوگیا تھا”

زیاد عرا کو دیکھتا ہوا بولا لفظ بےچارہ پر وہ اپنی بیوی کو حیرت میں مبتلا چھوڑ کر وارڈروب سے اپنے کپڑے نکالنے لگا

“مطلب تمہیں ریان کی آج کی حرکت پر غُصہ نہیں آیا”

عرا حیرت زدہ سی زیاد کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی جو وارڈروب کا دروازہ بند کرتا اپنے کپڑے ہاتھ میں لیے عرا کے پاس آیا

“اُس وقت تو بہت شدید غصہ آیا تھا لیکن اب سوچ رہا ہوں وہ بھی تمہارے لیے ویسے ہی فیلنگز رکھتا ہے جیسے میں تمہارے لیے فیلنگز رکھتا ہوں۔۔۔ میں تمہیں پاچکا ہوں لیکن وہ خالی ہاتھ رہ گیا ہے”

زیاد اس کو دوبارہ اپنی باتوں سے حیرت میں مبتلا کر کے ڈریسنگ روم میں چینج کرنے چلا گیا جب واپس آیا تو عرا ویسے ہی اُسی جگہ پر بالکل خاموش کھڑی تھی

“کیا ہوا کیا سوچ رہی ہو”

ذیاد عرا کے پاس آتا ہوا اس سے پوچھنے لگا

“تمہارا چھوٹا بھائی تمہاری بیوی کے لیے خاص فیلنگز رکھتا ہے جس کا اُس نے نہ صرف تمہارے سامنے بلکہ تمہاری پوری فیملی کے سامنے ڈھٹائی سے اعلان بھی کیا اور تم اتنا نارمل ری ایکٹ کررہے ہو اس بات پر۔۔۔ زیاد مجھے تو اب تم پر حیرت ہورہی ہے”

عرا زیاد کو دیکھتی ہوئی حیرت زدہ سی بولی

“تم ہو ہی اتنی پیاری کہ کسی کو بھی تم سے پیار ہوجائے پھر اِس میں بندے کا بھلا کیا قصور”

زیاد عرا کے گال پر اپنا ہاتھ رکھتا ہوا بولا پھر جاکر بیڈ پر لیٹ گیا عرا زیاد کے پاس آکر بیڈ پر بیٹھی زیار عرا کا چہرہ دیکھنے لگا تب عرا اس سے دوبارہ بولی

“زیاد تم اپنی باتوں سے مجھے صرف اور صرف پریشان کیے جارہے ہو”

عرا کی بات سن کر زیاد چند پل کے لیے اسے دیکھتا رہا پھر بولا

“ریان نے آج صبح بالکل ٹھیک کہا تھا اندر کہیں مجھے پہلے سے اِس بات کا علم تھا کہ وہ بھی تمہارے لیے اپنے دل میں پسندیدگی رکھتا ہے لیکن اِس کے باوجود میں نے تمہیں اپنالیا کیونکہ میں بھی اپنی محبت کے آگے خود غرض ہوگیا تھا اپنے بھائی کے دل کا سوچا ہی نہیں”

زیاد کے لہجے میں اداسی گُھلی ہوئی تھی عرا زیاد کی بات سن کر اس کے سینے پر اپنا ہاتھ رکھ کر زیاد کے قریب لیٹ گئی

“مجھے ریان سے یا پھر کسی دوسرے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے میں صرف تم سے محبت کرتی ہوں زیاد پلیز مجھے خود سے کبھی بھی دور مت کرنا”

زیاد کے سینے پر سر رکھے وہ کسی انجانے خدشے سے ڈر کر بولی تو زیاد عرا کے گرد اپنا بازو حمائل کر کے اسے مزید خود سے قریب کرچکا تھا

“میں ایسا کیسے کرسکتا ہوں میں خود بھی تو تم سے محبت کرتا ہوں”

زیاد اسے اطمینان دلاتا ہوا بولا عرا کے بالوں پر اپنے ہونٹ رکھ کر دوبارہ سیدھا ہوکر لیٹ گیا۔۔۔ اس کے کانوں میں مسلسل ریان کی باتیں گونج رہی تھی کبھی مائے نور کی باتیں گونجنے لگتی۔۔۔ اس کی بیوی سے اِس رشتے سے اُس کے اپنے خوش نہیں تھے یہ احساس زیاد کو تھکا دینے والا تھا وہ عرا کو اپنے حصار میں لیے اُس کی قربت کو نظر انداز کیے ذہن میں ریان کی باتوں کو سوچنے لگا جبکہ دوسری طرف عرا زیاد کے پیار کی، اُس کی توجہ کی طلبگار تھی کل رات کی طرح آج رات بھی اُس کا شوہر اس کے بےحد نزدیک تھا مگر اُس کے نزدیک ہونے کے باوجود وہ ذہنی طور پر اُس کے پاس موجود نہ تھا

“زیاد” عرا نے اپنا ہاتھ زیاد کے سینے پر رکھ کر اُس کو نام سے پکارا

“ہہمم” زیاد اُس کی طرف متوجہ ہوکر عرا کا ہاتھ تھام چکا تھا جو ابھی عرا نے اس کے سینے پر رکھا تھا

“مجھ سے پیار کرتے ہو ناں تم”

عرا کے پوچھنے پر زیاد نے بناء کچھ بولے اس کا پکڑا ہوا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگایا یعنٰی اس نے بناء بولے اپنے عمل سے بتانا چاہا

“ایسے نہیں صحیح سے بتاؤ مجھے”

عرا اپنا ہاتھ اُس کے ہاتھ سے نکالتی ہوئی زیاد کے سینے سے سر اٹھاکر تکیہ پر لیٹ گئی زیاد اپنی سوچوں سے نکل کر عرا کی بات پر چونکا ذرا سا اٹھ کر عرا کے اوپر جھکتا ہوا اُس کا چہرہ دیکھنے لگا وہ عرا کی آنکھوں کو باری باری چوم کر اس کے ہونٹوں پر جھک گیا۔۔۔ اپنے اور اس کے ہونٹوں کے ملاپ کے بعد جیسے ہی زیاد دور ہوا تو عرا نے اُس کی شرٹ کا کالر پکڑلیا تاکہ اس شوہر اس سے دور نہ جاسکے

“کیا چاہ رہی ہو اِس وقت”

زیاد عرا کا انداز نوٹ کرتا ہوا عرا سے پوچھنے لگا جو جھجھک سے کچھ بول نہیں پا رہی تھی مگر زیاد کے یوں پوچھنے پر وہ بغیر جھجھکے بولی

“وہی جو کل رات تم مجھ سے چاہ رہے تھے”

عرا زیاد سے نظریں ملائے بغیر آہستہ سے بولی جس پر زیاد کے ہونٹ ہلکا سا مسکرائے اس کے بعد زیاد عرا کی گردن پر جھک گیا اپنی گردن پر زیاد کے ہونٹوں کا لمس محسوس کرتی وہ زیاد کی دسترس میں پرسکون لیٹی تھی زیاد خود بھی عرا کو پناہوں میں لیے مدہوش ہونے لگا

“یہ محبت تھی میری سب جانتے ہوئے بھی تم نے اس کو مجھ سے چھینا ہے میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا تم اچھی طرح جانتے تھے یہ مجھے بچپن سے پسند تھی”

ریان کی آواز کانوں میں گونجی تو زیاد ایک دم اٹھ کر بیٹھ گیا زیاد کے اٹھنے پر عرا زیاد کو دیکھنے لگی وہ اب بیڈ پر بیٹھا کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا عرا خود بھی اٹھ کر بیٹھی اور زیاد کے کاندھے پر اپنا ہاتھ رکھا

“عرا سو جاؤ پلیز”

زیاد عرا کے ہاتھ کا لمس اپنے کاندھے پر محسوس کرکے اس سے نظر ملائے بغیر بولا عرا کے قریب آکر ریان کی باتوں کو سوچ کر زیاد کے دل کی کیفیت عجیب سی ہونے لگی تھی

“کیوں سو جاؤں میں۔۔۔۔ زیاد میں بیوی ہوں تمہاری جیسے میں تمہارے حقوق اور فرائض کی پابند ہوں ایسے ہی تم پر بھی کچھ حقوق ہیں میرے، شوہر ہونے کی حیثیت سے تم میرے حقوق میں کوتاہی نہیں برت سکتے”

عرا نے برا مناتے ہوئے اسے جتایا عرا نہیں چاہتی تھی زیاد اپنے بھائی خیالات جاننے کے باوجود اپنے اور اس کے رشتے کو نظر انداز کردے یا پھر مائے نور کی طلاق والی بات کے مطابق سوچے وہ زیاد کو اس کے حقوق و فرائض کا طعنہ دیتی ہوئی ناراض ہوکر لیٹ گئی تو زیاد کو اپنی بیوی کو منانے کے لیے دوبارہ اپنے دل اور دماغ کو اس کی طرف متوجہ کرنا پڑا

“اس میں منہ بنانے والی کیا بات ہے یار میں نے ویسے ہی تمہارے خیال سے تمہیں سونے کا بول دیا تھا اچھا میری بات سنو”

زیاد عرا کے اوپر جھکتا ہوا اس سے بولا تو عرا نے اپنے چہرے کا رخ پھیر لیا یہ اس کی ناراضگی کا اظہار تھا جو زیاد فوراً سمجھ گیا

“عرا اِس وقت تو ناراض مت ہو اوکے سوری”

زیاد عرا کے گال پر ہاتھ رکھ کر اس کا چہرہ اپنی طرف کرتا ہوا ایک مرتبہ پھر اس کے ہونٹوں پر جھکا اور اپنی سانسیں اس کی سانسوں میں انڈیلنے لگا زیاد کے منانے کے انداز پر وہ اپنی ناراضگی بھلائے اس کی طرف مائل ہوچکی تھی عرا اپنے دونوں ہاتھ اس کے کندھوں پر رکھتی ہوئی زیاد کی سانسوں کو اپنی سانسوں میں گھلتا ہوا محسوس کرنے لگی عرا کے ہاتھ اب زیاد کی کمر پر موجود تھے

“میں ایسی کیا تدبیر کرو کہ وہ میرے دل سے ذہن سے میری سوچوں سے میرے تصورات سے نکل جائے اس کی محبت بہت تیزی سے میری رگ رگ میں کسی ناسور کی طرح پھیلتی جارہی ہے میں بہت بےبس ہوگیا ہوں”

ریان کی باتیں ایک مرتبہ پھر زیاد کے ذہن پر حملہ آور ہوکر اسے عرا کی جانب مائل ہونے سے روکنے لگی زیاد اس کے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ جدا کرتا ہوا دوبارہ اٹھ کر بیٹھ گیا عرا دوبارہ سوالیہ نظروں سے بنا کچھ بولے زیاد کو دیکھنے لگی

“آئی ایم سوری عرا میں اِس وقت۔۔۔

زیاد اپنا جملہ ادھورا چھوڑ کر بےبسی سے آنکھیں بند کرتا اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتا ہوا دوبارہ بولا

“اس وقت میرا ذہن کسی بھی چیز کے لیے آمادہ نہیں ہو پارہا ہے میں مجبور ہوں میں تمہیں نہیں سمجھا سکتا اپنے دل کی کیفیت تم پلیز سو جاؤ”

زیاد عرا سے بول کر بیڈ سے اٹھ گیا اور بیڈ روم سے باہر نکل گیا جبکہ خجالت اور سبکی کے احساس سے عرا کے گال دہکنے لگے احساس توہین سے اُس کی آنکھوں میں پانی اتر آیا یوں اپنی ذات کی اگنورنس پر اُسے غصہ آنے لگا وہ کروٹ بدل کر لیٹتی ہوئی سونے کی کوشش کرنے لگی

****

اپنے ہونٹوں پر زیاد کے ہونٹوں کا لمس محسوس کرتی عرا صبح بیدار ہوئی عرا کو جاگتا ہوا محسوس کر کے زیاد اس کے اوپر سے اٹھا

“گڈ مارننگ میری جان”

زیاد بولتا ہوا مٹھی بھر کے پھولوں کی پتیاں کو عرا کے چہرے پر بکھیر کر دوبارہ اس کے ہونٹوں پر جھکنے لگا تبھی عرا زیاد کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے کرتی ہوئی اٹھ کر بیٹھ گئی

“کیا ہوا مارننگ کس نہیں کرنے دو گی”

وہ اِس وقت رات والی کیفیت میں موجود نہ تھا بلکہ نئی صبح کے آغاز پر اپنے ذہن کو اور خود کو تر و تازہ محسوس کررہا تھا جبھی عرا کو حصار میں لیتا ہوا اس کے چہرے پر دوبارہ جھکنے لگا

“ذیار پلیز ڈونٹ ٹچ می”

عرا اپنی کمر سے زیاد کے بازو ہٹاتی ہوئی اس سے دور ہوکر بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی

“اِس طرح مجھے اگنور کرنے کی وجہ”

زیاد خود بھی کھڑا ہوکر عرا کا ناراضگی والا چہرہ دیکھ کر اس سے پوچھنے لگا

“تمہیں سچ میں وجہ نہیں معلوم یا تم میرے سامنے انجان بننے کی ایکٹیگ کررہے ہو”

عرا ذیاد سے بولتی ہوئی وہاں سے واش روم جانے لگی تو زیاد نے عرا کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکا

“میں نے تمہیں کل رات اگنور نہیں کیا تھا نہ ہی تمہیں کبھی اگنور کرسکتا ہوں میں کل رات ٹینس تھا میرا دل میرا ذہن پریشان تھا میں چاہ کر بھی خود کو تمہاری طرف متوجہ نہیں کر پارہا تھا پلیز اِس بات کو لےکر ہمارے رشتے کے بیچ انا کا مسئلہ مت بناؤ”

زیاد عرا کا ہاتھ پکڑ کر اسے سمجھاتا ہوا بولا کیوکہ وہ اپنے اور اس کے رشتے میں اس طرح کی کشیدگی اور فاصلہ نہیں چاہتا تھا

“جیسے کل رات تمہارا دل اور ذہن آمادہ نہیں تھا ابھی میرا نہیں ہے جب ہوگا تو میں تمہیں بتادو گی”

عرا نے زیاد سے بولتے ہوئے خود اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑایا تو زیاد نے اُس کو دونوں بازوؤں سے پکڑا

“تم دیکھ رہی ہو کہ گھر کا ماحول کیسا ہے تمہیں میرا احساس کرنا چاہیے میری فیلنگز کے بارے میں سوچنا چاہیے۔۔۔ سب جان کر بھی تم میرے ساتھ ایسا نہیں کرسکتی عرا”

زیاد اب کی مرتبہ عرا کو دونوں بازووں سے پکڑے بےحد سنجیدہ لہجے میں بولا

“زیاد دراصل تم مردوں کی نفسیاتی ہی ایسی ہوتی ہے جب تمہارا دل چاہے گا تم اپنی بیوی کے قریب آکر اس پر مکمل اپنا حق جتاو گے مگر جب تمہاری بیوی تم سے اپنے لیے وقت اور توجہ مانگے تو اُس کی فیلنگز کا تو کوئی احساس ہی نہیں ہے بس بیوی کا ہی کام ہے تمہاری ہر مجبوریوں کو سمجھنا۔۔۔ پلیز تم میرے ساتھ اِس معاملے میں زور زبردستی نہیں کرسکتے میرے ہاتھ چھوڑ دو”

عرا کے بولنے پر زیاد نے اس کے بازووں پر سے اپنے ہاتھ ہٹالیے وہ اپنی بیوی کی ایگو کو ہرٹ کرچکا تھا جس وجہ سے وہ اس سے خفا تھی زیاد بناء کوئی دوسری بات کیے آفس جانے کی تیاری کرنے لگا

****