Pariyon Ke Dais By Sahiba Rani Readelle50168 Last Episode 13( part 2)
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode 13( part 2)
آج ان دونوں کا سپنا حقیقت میں بدل گیا تھا انہوں نے پریوں کے دیس میں قدم رکھ کے سب کو ان کے طنز کا جواب دے دیا تھا ۔۔۔
جب ملکہ پری ان چاروں کو لے کے اپنے محل میں آئی تو ہر طرف سے رنگ برنگی تتلیوں نے ان کا استقبال کیا وہ جیسے جیسے اگے کی طرف قدم رکھتی ویسے ہی ان کے اوپر ستاروں اور تتلیوں نے جال بنا لیے اور پاوں کے نیچے گلاب کی پتیوں نے بہت خوبصورت منظر پیش کیا۔۔۔
اگلے دن صبح ایک بہت بڑا جشن منایا گیا جس میں ان دونوں زمین زادیوں کو پریوں کا تاج پہنایا جانا تھا ۔۔۔
🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂
ملکہ پری کیلیے شاہی کرسی بچھائی گئ جیسے رنگ برنگے پھولوں سے سجایا گیا تھا اور جب وہ تشریف لا چکی تو پوری وادی میں اندھیرا کر دیا گیا اور پریہان کے حکم سے ہانم اور ازھاد کو سامنے لایا گیا جہنوں نے چاند ستاروں کی جھرمٹ میں ڈانس کرتے ہوئے سب کے چہروں پہ مسکان بکھیری تو ملکہ پری نے اپنی نشیت سے اٹھ کے ہانم کو پری کا تاج پہنایا اور ازھاد کے ساتھ ندی کے پار بنائی گئ خوبصورت پھولوں کی سٹیج پہ بٹھایا گیا اور کہ بعد زری اور آدرش کو منظر عام پہ لایا گیا۔۔۔
چاند ستاروں کے درمیان کھڑی زری پہ گلاب کی پتیوں کی بارش ہو رہی تھی اور اونچی پہاڑی کی چوٹی پہ کھڑی وہ نیچے بہتی ندی میں اپنا عکس دیکھتی گول گول گھومنے لگی اور ایک دلچسپ منظر ظاہر ہونے لگا جس نے چارسو خوشبو پھیلا دی ۔۔۔
اب کی بار اس کا پیارا سا رقص دیکھ کہ تحریم پری (پریوں کی ملکہ) نے اپنی نشست سے اٹھ کے زری کے سر پہ پریوں کا تاج پہنایا تو پہاڑ کی دوسری چوٹی پہ کھڑا آدرش (پری زاد) دھیمی سی مسکراہٹ چہرے پہ سجا کہ روخ موڑ گیا اور اس کی مسکراہٹ کسی نے زہر آلود نظروں سے دیکھی ۔۔۔۔۔
پھر زری کو بھی آدرش کے ساتھ پھولوں سے بنی سٹیج پہ بٹھایا گیا ۔۔۔
آج ازھاد اور آدرش کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا ان دونوں نے اپنی زمین زادیوں کو پا لیا تھا اور ان کے سنگ ہنسی خوشی اپنی زندگی بسر کرنے لگے۔۔۔۔۔۔۔
ختم شدہ۔۔
