125.2K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

“New York”….
یہ منظر نیو یارک سٹی کے ٹائمز اسکوائر سڑک کا ہے۔۔۔جہاں ایک بلیک کلر کی نہایت ہی مہنگی BMW تیز رفتاری سے اپنی منزل کی طرف راوا داوا تھی ۔۔۔گاڑی ڈرائیو کرتے شخص نے پیچھے مڑ کر اس بے نیاز شخص کو دیکھا جو کے اپنی نظریں اپنے لیپ ٹاپ میں مرکوز کیے شاید اپنی کوئی ضروری میل چیک کرنے میں مصروف تھا ۔۔۔۔تب ہی گاڑی ایک شاندار عمارت کے سامنے آکر رکھا ۔۔۔۔
سر !!!!
اس نے اس شخص کو متوجہ کرتے ہوئے اس سے کہا تو اس شخص نے اس کی طرف دیکھ کر پھر اپنی نظریں سامنے بلند عمارت پر مرکوز کی تبھی آگے بیٹھے شخص کو کچھ یاد آیا تو اس نے وقت زایعہ کیے بغیر جلدی سے گاڑی سے نیچے اترتے ہی اس نے پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولا تو اس شخص نے نیچے اتر کر اس کی طرف دیکھ کر کہا
مجھے بھولنے کی بیماری سے سخت نفرت ہے ۔۔۔۔
ججی۔۔۔جی سر آئندہ خیال رکھوں گا اس بات کا ۔۔۔اس شخص کو دیکھ کر اس نے اٹک کر کہا
گڈ ۔۔۔۔
جب میں تمہیں پھر کبھی ایسا موقع دوں تو پھر تم خیال رکھنا ۔۔۔یہ کہہ کر اس شخص نے اپنے پیچھے کھڑے بارودی گاڑد کو اشارہ کیا تو اس بارودی گاڑد نے اس شخص کو بازوؤں سے پکڑ کر وہاں سے گھسیٹ کر لے گیا ۔۔۔۔تو اس شخص نے بھی مغرورانہ چال چلتے ہوئے اپنے قدم اس عمارت کی جانب بڑھائے ۔۔۔۔
جب وہ اس عمارت کے اندر داخل ہوا تو اسے دیکھ کر سبھی ورکرز احترام سے اٹھ کر اسے سلام کرنے لگیں تو اس نے اپنے سر کے خم سے سب ورکرز کے سلام کا جواب دیا اور اپنے آفس کیبن کی طرف بڑھ گیا اور اس کے وہاں سے جاتے ہی سب ورکرز کی جان میں جان آئی تھی ان کے ۔۔۔وہ سب جانتے تھے کے جو ایمان داری سے اپنا کام سر انجام نہیں دیتے تھے تو وہ ان کے
لیے ایک سخت گیر باس کے نام سے جانا جاتا تھا
ہائے ۔۔۔۔کیا پرسنالٹی ہے ۔۔۔۔ریٹا ہماری باس کا قسم سے میرا دل چاہتا ہے کہ میں باس کو گڈنیپ کروا دوں ۔۔۔جین نے ریٹا کی جانب دیکھ کر اپنی آنکھیں شرارت سے پٹپٹائی ۔۔۔۔۔۔
اور تم پھر بعد میں جیل کی ہوا کھا رہی ہوتی لڑکی ۔۔۔۔ریٹا نے اس سے کہا
ریٹا ۔۔۔تم نے وہ کہاوت تو سنی ہوگی کہ محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے ۔۔۔میں یہ سمجھ کر جیل کی ہوا کھا لوں گی ۔۔۔کے جیل کے اندر مجھے میرے محبوب نے پیار سے ڈالا ہے ۔۔۔۔جین نے فدایانہ انداز میں کہا
😆😆😆😆😆
سر !!!!
جب وہ باس کے کبین میں داخل ہوئی تو جو منظر اس نے دیکھا وہ کچھ یوں تھا کہ باس کی پرسنل سیکرٹری ان کے اوپر جھکی ہوئی تھی اور باس اپنی سیکرٹری کے بال اپنے ہاتھوں سے اس کے کانوں کے پیچھے کرنے میں مصروف تھے کہ تبھی اسے دیکھ کر وہ دونوں ایک دم سے سنبھل کر پیچھے ہوگئے تھے اور اس کی سیکرٹری اسے چھبانے والے انداز میں دیکھتے ہوئے وہاں سے نکلتی چلی گئی تھی اور اس نے بھی آگے بڑھ کر باس کی طرف ایک فائل بڑھایا اور انہوں نے وہ فائل پکڑتے وقت جان بوجھ کر اس کے ہاتھ کو چھو کر وہ فائل اس سے پکڑا تو ان کے اس طرح کرنے سے اس نے جلدی سے اپنے ہاتھ پیچھے کیے تو باس نے اس کی اس حرکت کو کمینگی انداز میں انجوائے کیا ۔۔۔ یہ جانے بغیر کے باس کی بری نظریں اس پر پڑچکی ہے اب ۔۔۔۔
سر !!!اس فائل میں srm کمپنی کا سارا ڈیٹا محفوظ ہے ۔۔۔۔اس نے باس سے کہا
This is a very good news, miss khan
اب اس sk کو پتہ چل جائے گا کہ ہم بھی اس سے کم نہیں ۔۔۔۔۔۔باس نے شیطانی انداز میں اس کی طرف دیکھ کر کہا
سر!!!میں سمجھی نہیں ۔۔۔اس نے ناسمجھی سے باس کی طرف دیکھ کر ان سے پوچھا
مس خان!!!
ابھی نہیں جب وقت آئے گا تو تمہیں خود پتا چل جائے گا کہ میرے اس بات کا کیا مطلب تھا ۔۔باس نے شیطانی انداز میں ہنستے ہوئے کہا
اسے اس بات کا شاید اندازہ نہیں تھا کہ وہ اب جس سے ٹکر لینے کی کوشش کر رہا ہے وہ کوئی معمولی انسان نہیں ہے وہ ایک پاؤر فل اور بہت ہی ظالم انسان ہے کیونکہ وہ اپنے دوشمن کو زندہ رکھ کر اسے موت کی بھیک مانگنے پر مجبور کرتا ہے وہ ۔۔۔
🤔🤔🤔🤔🤔
سر !!! میں نے آپ کی پاکستان کی سیٹ بک کروا دی ہے ۔۔۔۔
اس کے پرسنل سیکرٹری نے اسے بتایا وہ جو لیپ ٹاپ کی کیبورڈ پر کچھ ٹائپنگ کر رہا تھا اپنی نظریں اٹھا کر اس کی سمت دیکھنے لگا تو اس کے سیکرٹری نے جلدی سے اس کے سامنے ایک فائل رکھا اور خود پیچھے جاکر کھڑا ہوگیا اس کی نظریں فائل پر مکمل طور پر مرکوز تھی تب ہی اس کے لبوں پر اچانک سے ایک مسکراہٹ آکر ٹھہر گئی تھی اور اسے مسکراتے ہوئے دیکھ کر اس کے سیکرٹری کو اپنی محنت کا صلہ مل گیا تھا وہ خوشی سے اپنی باس کی جانب دیکھنے لگا جو کہ اب وہ فائل سائیڈ پر رکھ کر اس کی جانب متوجہ ہوا تو اس نے آگے بڑھ کر اس سے کہنے لگا ۔۔
سر !!!
اب یہ پروجیکٹس ہماری کمپنی کے نام ہی ہے سمجھے آپ !!!
Jonson… when was this project our name?
صرف بیچ میں ایک مگر مچھ ہے ۔۔۔۔اور مجھے مگر مچھو کے شکار میں کافی دلچسپی ہے جونسن !!!!
اس نے کافی طنزیہ انداز میں اپنی سیکریٹری سے کہا اور اٹھ کر اپنی واسکٹ کو درست کیا اور اپنے قدم آگے بڑھانے لگا کے تب ہی اسے کچھ یاد آیا تو وہ پیھچے مڑا اور اپنی سیکریٹری کی جانب بڑھا تو اسے اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر اس کی خوف سے پسینے چھوٹنے لگے
جونسن !!!
یہ جو لڑکی ہے ۔۔۔کیا نام ہے ۔۔۔وہ اس لڑکی کا نام یاد کرنی کوشش کرنے لگا مگر اسے کچھ یاد نہیں آیا
سر !!!
وہ جو نیو ورکر جین آپ اس کی بات تو نہیں کر رہے ہیں۔۔۔اس نے کہا
جونسن !!!تم کافی سمجھدار ہوتے جارہے ہوں تو اس کا مطلب ہے کے میں ایک بہت ہی اچھا استاد بھی بن سکتا ہوں۔۔۔اس نے سیکریٹری کی جانب دیکھ کر کہا
اس کو ابھی اور اسی وقت اس جاب سے فائر کر دوں ۔۔۔۔مطلب کہ ابھی ۔۔۔۔۔۔اس کے لہجے میں جین کے لیے سختی ہی سختی تھی اور کل صبح کا واقع یاد آتے ہی اسکے غصے سے رگیں تن گئی تھی واقع کچھ ایسا تھا کہ وہ صبح معمول کی طرح جوگنگ ٹریک پر وہ بھاگ رہا تھا کے تب ہی اس کے ساتھ ہی ایک سہنری بالوں والی لڑکی بھی اس کے ساتھ ٹریک پر بھاگنے لگی تو اس نے ناسمجھی سے اس کی جانب دیکھا اور اس سے آگے بھاگنے لگا کے تب ہی وہ لڑکی اس کے سامنے بھاگ کر اس سے کہنے لگی
جتنا بھاگنا ہے تمہیں بے بی مجھ سے بھاگو اب تم جین کی پراپرٹی ہوں ۔۔۔۔۔
What do you mean? Tell me
اس نے رکھتے ہوئے بغور اس کی جانب دیکھ کر غراتے ہوئے کہا
مطلب !!!
جانم یہ کہ تم صرف میرے ہوں آج سے ابھی سے ،، صرف اور صرف میرے ہوں ،،،You are mine
اس نے آخر چلاتے ہوئے کہا
یہ تمہاری بھول ہے ۔۔کہ sk صرف تمہارا ہے ۔۔sk تو شاید خود کا بھی نہیں رہا اور تم کہتی ہوں کہ sk تمہارا ہے ۔۔ہاہاہاہاہاہا
اس نے اس کی جانب دیکھ کر اس کا مذاق اڑایا اور آخر میں اس نے ایک بلند قہقہہ لگایا اور اسے حیران چھوڑ کر واپس ٹریک پر زور سے دورنے لگا وہ ۔۔۔
My dear love ,,,
اب جین کے بیچ میں اگر کوئی آیا نہ تو God کی قسم میں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گی ۔۔۔۔۔
جین نے جنونی انداز میں اس کی پشت کو گھورتے ہوئے چلا کر کہا
😠😠😠😠😠
حیات ہمارے بچے پتا نہیں کس حال میں ہونگے آپ پتا لگائے کے ہمارے بچے کہاں اور کس حال میں ہے وہ لوگ ۔۔۔۔۔
فردوس بیگم نے حیات خان سے کہا جو کے خود اب مایوس ہو چکے تھے انہوں نے کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا ان لوگوں کو پتا نہیں انہیں زمین کھا گئی تھی یا آسمان انہوں نے ہر اس جگہ پتا کیا جہاں ان کے ملنے کا مکان بہت زیادہ تھا لیکن دوسال گزرنے کے باوجود وہ ان کا پتہ نہیں چلا سکے تھے ۔۔۔۔
بھابھی !!!!
میں نے انہیں دنیا کے ہر کونے میں ڈھونڈا لیکن وہ مجھے کہیں نہیں ملے ۔۔۔۔میں اپنی پوری کوشش کر رہا ہوں ان کو ڈھونڈنے کا لیکن جو اللّٰہ کو منظور ہوگا وہ ہمیں قبول کرنا چاہیے ۔۔۔
آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔۔ جو اللّٰہ کو منظور ہوگا ۔۔ہمیں بھی قبول کرنا ہے وہ لیکن کیا کروں بھائی صاحب ماں ہو ناں کیسے اپنے بچوں سے جدا رہ سکتی ہوں وہ بھی دو سال ۔۔مم۔۔مجھے لگتا ہے حیات خان یہ مکافات عمل ہے ۔۔۔
انہوں نے ڈر کر ان کی جانب دیکھ کر کہا اور پھر سے رونے لگی ۔۔