No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
دیس پریوں کا لگتا ہے اپنا اپنا💖
ہر پل آنکھوں میں سجایا ہے اس دیس کا سپنا 🦋
کروں آغاز تو الفت پریاں دیکھو دیوانگی 🦋
ہر سو نظر آتی ہیں اب تتلیاں 🖤🦋
بن کہ پری مجھے جانا ہے یہاں سے دور 🖤
سنگ پریوں کے جینا ہے اب سرور 💫
ازقلم : #صائبہ_رانی
ہانم نے پوئیٹری لکھ کے زری کے ہاتھ میں پکڑا دی تو زری اسے پڑھنے لگی ۔۔۔
یار زری آج دل کیوں نہیں لگ رہا کہیں بھی ہانم نے کہا تو زری نے بھی آنکھوں میں نمی سجائے اس کی ہاں میں ہاں ملائی وہ دونوں صبح سے باغ میں بیٹھی انتظار خوشبو میں تھی لیکن آج نہ تو ہوا چلی اور نہ وہ ہنسی ان کے کانوں سے ٹکرائی تو جیسے سکون ان سے دور چلا گیا تھا صبح سے شام ہونے اور شام سے رات ہوگئ لیکن ویرانی ہی ان کے دل میں مکیں رہی جب انتظار حد سے زیادہ بڑھ گیا تو وہ دونوں اک دوسری کے گلے لگ کے رونے لگی یعنی آغاز محبت میں ہی ان پہ تکالیف شروع ہو چکی تھی تو احتتام تک جانے کیا کچھ برداشت کرنا پڑتا۔۔۔
ان دونوں کی یہ حالت جہاں دو وجود کو سکون دے رہی تھی وہی دو اور وجود کےلیے باعث تکلیف تھی لیکن وہ مجبور تھے۔۔۔۔۔
🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂
کیشور پری نے کل ملکہ پری سے ان دونوں (پری زادوں) کی شکایت لگا دی تھی کہ زمین زادیوں کو انہوں نے اپنے سحر میں جکڑ کے رکھا ہوا تب سے ان دونوں کو ملکہ نے قید کی سزا سنائی تھی اور ساتھ سختی سے تلقین کی کہ دوبارہ زمین زادیوں کے پاس دیکھے تو وہ دونوں جان سے جائیں گی ۔۔۔۔۔
اژدھا اور اس کے ساتھی کو کیشور پری پہ غصہ تو بہت تھا لیکن اگر وہ کوئی قدم اٹھاتے تو زری اور ہانم کی جان خطرے میں چلی جاتی ۔۔۔
کیشور پری ازھاد سے شادی کی خواہشمند تھی اور دوسری اس کے ساتھی (پری زاد) کو اپنی محبت میں قید دیکھنا چاہتی تھی تبھی ان دونوں کی شکایت لگا کہ ان کو تکلیف سے دو چار کر دیا تھا ۔۔۔۔
ازھاد اور اس کے ساتھی سے زمین زادیوں کی تکلیف دیکھی نہیں جا رہی تھی تبھی وہ رات بارہ بجے کا انتظار کرنے لگے جب کوئی بھی طاقت ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھیں ۔۔۔
لیکن دوسری طرف پریوں نے بھی پلان بنا رکھا تھا جس میں کامیاب کون ہونا تھا یہ وقت آنے پہ پتہ چلتا۔۔۔۔
🍂🍂🍂🍂🍂
جاری ہے۔۔۔
