125.2K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

بس بہت ہوا اب تم لوگ جا سکتی ہیں ہمارے محل سے حمنہ نے کچھ کہنا چاہا جب ملکہ پری نے اسے روک دیا تو وہ دونوں غصے سے پھنکارتے ہوئے چلی گئی۔۔۔۔
اب ان دونوں نے خود سے ہی کوئی چال چلنی تھی کیوں کہ اتنی آسانی سے وہ لوگ ہار مان کے پری زادوں کو ہاتھ سے جانے نہیں دے سکتی تھی لیکن یہ بھی طے تھا کہ کچھ وقت شہزادوں اور زمین زادیوں کا بہت پرسکون گزرنا تھا کیونکہ ان دونوں پریوں کو سبھی اختیارات سے دستبردار کر دیا گیا تھا۔۔۔۔
🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂
آج کافی دنوں بعد زری اور ہانم کالج میں اسی درخت کے نیچے گلاب کے پودے کے پاس بیٹھی ہوئی باتیں کر رہی تھی لیکن آج ان دونوں کی باتوں میں ازھاد اور آدرش بھی شامل تھے ۔۔۔۔۔
تم دونوں کہاں ہو ؟
زری نے پوچھا جبکہ سامنے سے مسلسل خوشبو آرہی تھی محتلف قسم کی جس پہ شدید گرمی میں بھی ہانم اور زری کو ٹھنڈک محسوس ہو رہی تھی ۔۔
ہم یہاں ہیں ۔۔۔۔
درخت کی اوٹ سے ہم آواز میں کہا گیا تو ہانم اور زری نے بھی ہم آواز ان دونوں کو سامنے آنے کی خواہش کی جس پہ پہلے آدرش اور پھر ازھاد بولے ہم انسان نہیں پری زادے ہیں تم لوگ ہمیں دیکھ نہ پاؤ گی لیکن وہ دونوں بھی ان کے عشق میں مبتلا ہو چکی تھی پھر جب عشق ہو جائے تو ڈر باقی نہیں رہتا ان دونوں نے پھر سے کہا ہم دیکھنا چاہتی ہیں تو انہوں نے زمینی روپ اختیار کرتے شہزادوں کی سی آن رکھنے کا سوچا ۔۔۔۔
ٹھیک ہے ہم سامنے آتے ہیں لیکن فلحال تم دونوں ہم دونوں کو نہیں دیکھ سکتی بلکہ ہانم مجھے اور زری صرف آدرش کو دیکھ سکتی ہے اور اپنی آنکھیں بند کریں ازھاد نے کہا تو وہ دونوں جلدی سے سر اثبات میں ہلا گئ اور دونوں نے آنکھیں بند کر لی جس پہ ان دونوں کو ہی آپنے بے حد قریب سانسیں سنائی دی تو جھٹ سے دونوں نے آنکھیں کھولیں جہاں بہت ہی خوبصورت نیلی آنکھوں والے شہزادے ہاتھوں میں وائٹ اور بلیک روز لیے کھڑے مسکرا رہے تھے ۔۔۔۔
زری بھاگ کے آدرش کے پاس چلی گئی تو اس نے مسکراتے ہوئے وہ پھولوں والا بکہ اس کی طرف بڑھایا جو اس نے تھام لیا۔۔۔۔
تم کتنے خوبصورت ہو پری زادے کیا میں تمہارا نام جان سکتی ہوں ؟ زری نے کہا
ہاں بالکل میری زمینی پری میرا نام آدرش ہے اس نے جواب دیا تو لفظ پری سن کہ زری کے لبوں پہ اک دلکش سی مسکراہٹ رونما ہوئی جو آدرش کو بھی مسکرانے پہ مجبور کر گئ ۔۔
جاری ہے۔