No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
تم میرے سنگ چلو گئ نہ بہتی ندی کے پار پریوں کے دیس ازھاد نے ہانم سے کہا تو وہ مسکرائی اور بولی کیوں نہیں چلوں گی میں نے اور زری نے تو ہمیشہ سپنا ہی یہی سجایا ہے اور پھر انکار کیسے ؟
ارے واہ یار میری لٹل فیری میرا اور آدرش کا بھی ہمیشہ سے یہی خواب تھا کہ زمین زادیاں ہماری فیری بنیں تاکہ محبت کی انوکھی داستان قائم ہو ازھاد نے اسے بتایا تو ہانم مسکراتی اس کے کاندھے پہ سر رکھ گئ ۔۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀
اگلے روز صبح کا منظر بہت بھلا لگ رہا تھا ہر طرف ٹھنڈی سی ہوائیں چل رہی تھی اور بادلوں کی اوٹ سے سورج ہلکا سا سر باہر نکال روشنی درخت کے پتوں اور گھاس پہ پہنچتا حسین منظر پیش کر رہا تھا اور دور فضاء میں دو پری زاد اڑتے ہوئے آسمانی چکر کاٹ کہ اپنی زمین زادیوں کا انتظار کر رہے تھے تبھی زری چھت پہ آکہ لطف اندوز ہونے لگی ابھی تک اس کی نظر ان دونوں پہ نہ پڑی تھی تو دو کبوتر اس کے سر پہ آکہ منڈلانے لگے تو یہ نظارہ اسے اور بھی بھلا لگا اس نے ہاتھ آگے بڑھا کے ان کبوتروں کو پکڑنے لگی تو ان دونوں نے ازھاد اور آدرش (شہزادوں) کا روپ دھار لیا جس پہ زری نے آنکھیں چھوٹی کر کے انہیں گھورا اور وہ کھلکھلا کر ہنسے ۔۔۔۔
کتنے بدتمیز ہو تم دونوں زری نے کہا
ہیں وہ کیوں ازھاد اور آدرش ہم آواز بولے تو اس نے کہا کبوتروں کے روپ میں کیوں آئے ہو ؟
یار فیری ابھی تو کئ روپ دیکھو گی تم ہمارے آدرش نے کہا اور اک بار پھر وہ تینوں مسکرائے جبکہ ازھاد کی نگاہیں کسی اور کی منتظر تھی جو منظر سے غائب تھی ۔۔۔
کیا ہوا ازھاد زری نے اسے پوچھا تو اس نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا جسے پوچھ رہا ہو ہانم کدھر ہے ؟
وہ تو ابھی تک سو رہی ہے پتہ نہیں ابھی تک جاگی کیوں نہیں ۔۔
ابھی اس کی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ ازھاد وہاں سے چلتا بنا اس کی جلد بازی پہ زری اور آدرش دونوں ہنس کے نفی میں سر ہلا گے۔۔۔
ہانم روم میں سو رہی تھی جب اسے اپنے بے حد قریب سانسوں کی آواز سنائی دی اور پھر یکایک صندلی سی مہک نے اسے گھیرے میں لیا تو وہ آنکھیں کھول گئ جہاں سامنے ازھاد کھڑا مسکرا رہا تھا ۔۔۔
ملکہ حضور ہم راہ انتظار میں کھڑے ہیں اور اک آپ ہیں کہ سوئی پڑی ہیں ۔
ہانم اس کو سامنے دیکھ کہ خوش ہوگئ یعنی اتنی حسین صبح تھی اس نے ہاتھ بڑھا۔
🥀🥀🥀🥀🥀
جاری ہے ۔۔۔
