Pariyon Ke Dais By Sahiba Rani Readelle50168 Episode 04
No Download Link
Rate this Novel
Episode 04
وقت کا کام ہے گزرنا سو وہ گزر ہی گیا اور تین دن کے بعد بالآخر رات کو بارہ بجے دونوں پری زادوں نے خود سے تمام پردوں کو ہٹاتے زمین زادیوں تک جانے کا فیصلہ کر ہی لیا اور اپنی اپنی طاقت لیے پہاڑی چوٹیوں سے زمین کا روح کیا لیکن جیسے ہی وہ اپنی مخصوص جگہ پر پہنچے تو حمنہ اور کیشور کو وہاں پایا جو مقابلے کےلیے تیار کھڑی تھی ان دونوں کا مرکز زری اور ہانم تھی جن پہ وہ سیاہ انگاروں سے حملہ کرنا چاہتی تھی جیسے ہی ان دونوں کا عکس زری اور ہانم پہ پڑا تو ان کو اپنا وجود جلتا ہوا محسوس ہوا یعنی ان دونوں نے زمین زادیوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا اس سے پہلے کہ وہ دونوں آگ میں جل جاتی ان پریوں کی اس کوشش کو پہلے ازھاد اور پھر آدرش نے ناکام بنایا تو وہ دونوں غصے میں ان پہ وار کرنے لگی بھلا اک نر اور مادہ کا کیا مقابلہ؟
وہ دونوں پریاں زخمی ہوتی غصے سے پھنکارتے ہوئے واپس چلی گئی تو پری زادوں نے جلدی سے اپنے ہاتھ ان دونوں کے چہروں پر رکھ دیا جس سے اچانک ٹھنڈک محسوس ہونے لگی جیسے آگ میں پانی ڈال دیا گیا ہو اور کچھ دیر بعد ہی زری اور ہانم گہری نیند کی وادیوں میں اترتی گئ جیسے کسی بچے کو اپنی من پسند چیز مل گی تو وہ پرسکون ہوگیا ہو۔۔
ان کو سوتا دیکھ پری زادوں نے واپس ندی کا روح کیا ۔۔۔۔۔۔
🦋🦋🦋🦋🦋🦋🦋
آگلے دن زری نیند سے بیدار ہوئی تو اسے اپنے دل میں اس آواز کو سننے کےلیے بےچینی سی محسوس ہوئی تو اس نے ہانم کو آواز دی اور وہ بھی اٹھ کے بیٹھ گئ اور فریش ہونے کے بعد دونوں چھت کے الگ کونے میں کھڑی ہوئی گئ ۔۔۔
ہانم کو اپنے بالکل پاس پھر سے وہی خوشبو محسوس ہوئی تو جیسے اس کی روح تک سرشار ہوگی اور وہ اس خوشبو کو محسوس کرتی ہوئی باتیں کرنے لگی تم کون ہو اور کہاں چلے گے تھے تبھی آواز آئی ہلکی سی سرگوشی میں کہ میں تمہارے پاس ہوں ہمیشہ ہی تو وہ غور سے سننے لگی جیسی کوئی اسے سن رہا ہو ۔۔۔
دوسری طرف زری کو بھی اس مہک نے مہکا کے رکھ دیا وہ بھی اس خوشبو میں کھو کہ اس وجود کو مخاطب کرتی گلے کرنے لگی تم کہاں گے تھے مجھے چھوڑ کے جانتے تو ہو میری دنیا دھل جاتی ہے جب تم نہیں ہوتے تو اس کے کان میں سرگوشی کی آدرش نے کہ میں تم میں موجود ہوں مجھے محسوس کرو ۔۔۔
🍂🍂
جاری ہے ۔۔۔
