Mohabbatein by Rimsha Hussain NovelR50572 Mohabbatein (Last Episode)
Rate this Novel
Mohabbatein (Last Episode)
Mohabbatein by Rimsha Hussain
دروازے پہ نوک ہونے کی وجہ سے سوہا جو ابھی کجھ دیر پہلے سوئی تھی جاگ اُٹھی اُس نے سائیڈ پہ دیکھا جہاں عباد گہری نیند میں تھا سوہا بالوں میں کیچر لگاتی دروازے کے پاس آئی دروازہ کھولا تو سامنے بدحواس سی صغریٰ بیگم کو کھڑا پایا۔
چچی جان آپ ٹھیک تو ہیں۔سوہا فکرمندی سے بولی۔
سوہا وہ زویا نے خودکشی کرنے کی کوشش کی تھی کل رات ہم سب ہوسپٹل جارہے ہیں تم عباد کے ساتھ آجانا۔سوہا کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئ وہ حیرت کا مجسمہ بنی صغریٰ بیگم کو دیکھنے لگی۔
چچی ج جان۔ز زو زویا ٹ ٹھیک تو ہے۔سوہا بامشکل اپنی بات مکمل کرپائی۔
دعا کرو بیٹا۔صغریٰ بیگم اتنا کہہ کر چلی گئ سوہا ساکت نظروں سے کھڑی رہی پر اچانک ہوش میں آتی عباد کی جانب آئی۔
عباد
عباد
اُٹھے پلیز۔
سوہا عباد کو جھنجھوڑتی بولی
سوہا یار ساری رات تمہاری باتیں سنتا رہا ہوں اب تو سونے دو جو باتیں رہ گئ ہیں وہ زندگی میں پھر کبھی کرلینا۔عباد اُس کی آواز میں لڑکھڑاہٹ محسوس کیے بنا کانوں پہ تکیہ رکھ کر بولا
عباد مذاق مت کریں ہمیں ہسپتال جانا ہوگا زویا نے سوسائیڈ کرنے کی کوشش کی ہے۔سوہا نے روتے ہوئے کہا تو عباد کی نیند بھک سے اُڑگئ
تم نے کوئی خواب دیکھا ہوگا۔عباد آنکھیں مسلتا بولا
عباد باتیں کیوں بگاڑ رہے ہیں پلیز چلیں۔سوہا بے بسی سے بولی۔
رو کیوں رہی ہوں خاموش ہوجاؤ چلتے ہیں۔عباد اُس کی آنکھیں صاف کیے نرمی سے بولا۔








عمار کو زویا کی حرکت کا پتا چلا تو کتنی دیر تک وہ شاک میں رہا اُس کو زویا سے ایسی حرکت کی اُمید قطعاً نہیں تھی کوئی غلط نہ سمجھے اِس لیے وہ سب کے ساتھ ہسپتال آگیا تھا وہ خاموش سا ڈاکٹر کے جواب کا منتظر تھا
امی یہ سب کیوں کیسے۔سوہا سویرہ بیگم سے پوچھنے لگی جن کی آنکھیں رونے کے باعث سوجھ چُکی تھی۔
پتا نہیں پہلے تو ٹھیک تھی میں جب رات کو پانی پینے کے غرض سے کچن میں آئی تو وہ اپنی نس کاٹ چُکی تھی۔سویرہ بیگم بھیگے لہجے میں بولی۔
شش۔
عباد نے سوہا کو روتے دیکھا تو کندھے پہ ہاتھ رکھ کر منع کرنا چاہا۔
میری بیٹی کیسی ہے۔سنان صاحب نے ڈاکٹر کو باہر آتا دیکھا تو بے چینی سے پوچھنے لگا۔
شی از فائن آپ تین گھنٹے بعد اُن سے مل سکتے ہیں ابھی وہ انجیکشن کے زِیر اثر بیہوش ہیں
ڈاکٹر کی بات پہ سب نے شکر کا سانس خارج کیا۔
سوہا باہر چل کر کجھ کھالوں صبح سے بھوکی ہو۔عباد نے فکرمندی سے کہا
زویا سے مل لوں ایک دفع اُس کے بعد۔سوہا نے ٹالنے والے انداز میں کہا
ڈاکٹر نے بتایا تو سہی وہ اب ٹھیک ہے تم بھی چلو اب کجھ کھالوں۔عباد بضد ہوا تو ناچار سوہا کو ماننا پڑا۔
عباد سوہا کو ہسپتال کے قریب ایک ریسٹورنٹ میں لایا تھا جہاں اُس کو اپنا دوست مل گیا۔
تم تو چودھویں کا چاند ہوگئے ہو۔عباد کا دوست ارسلان اُس سے گلے مل کر بولا۔
اب ایسی بھی بات نہیں بس مصروفیت ہے کجھ۔عباد نے مسکراکر کہا سوہا اُس کے ساتھ آئی لڑکی مسکان سے باتیں کرنے لگی۔
آئے ایک ساتھ بیٹھتے ہیں۔سوہا نے پیشکش کی تو سب نے سرہلایا۔
اگر میرا بھی کوئی بھائی ہوتا یقیناً ایسے ہی خیال رکھتا۔سوہا نے ارسلان کو مسکان کا خیال رکھتا دیکھا تو حسرت سے کہا اُس کی بات پہ عباد جو پانی پی رہا تھا زبردست قسم غوطہ لگا جب کی وہ دونوں ناسمجھی سے سوہا کو دیکھنے لگے۔
کیا مطلب؟مسکان نے ناسمجھی سے پوچھا
وہ
اہمم سوہا میں نے بتایا تھا نہ میرا ایک دوست تھا جس کا ایک بیٹا بھی ہے تو وہ یہ ہے ارسلان اور بھابھی مسکان اُن کی بیوی ہے۔ اُس سے پہلے سوہا اپنی بات کا مطلب سمجھاتی عباد بیچ میں مداخلت کرتا بولا جس پہ سوہا خجالت کا شکار ہوئی۔
اچھا ماشااللہ آپ دونوں کی شکلیں بہت ملتی جلتی ہے آپس میں۔عباد نے نوالے کے ساتھ سوہا کی بات بامشکل ہضم کی جب کی ان دونوں نے مسکرانے پہ اکتفا کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زویا کو ہوش آیا تو سب اُس سے ملنے لگے سنان صاحب اور سویرہ بیگم نے فلحال اُس سے کوئی سوال نہیں کیا تھا سب کے آخر میں سوہا زویا کے پاس آئی۔
اگلی دفع اچھے سے کوشش کرنا مرنے کی اِس بار تو بچ گئ۔سوہا سپاٹ لہجے میں بولی زویا جو سرجھکائے بیٹھی تھی خالی نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی۔
کاش اِس بار بھی نہ بچتی
چٹاخ۔
زویا کی بات پہ سوہا نے زوردار تھپڑ اُس کے چہرے پہ رسید کیا زویا کا چہرہ ایک طرف ہوگیا تھا اُس نے سوہا کو دیکھا جس کے چہرے کا رنگ سرخ ہوگیا تھا۔
خود کو سمجھتی کیا ہو تم اور کیا سوچ کر ایسی واحیات حرکت کی ایسا کیا ہوگیا تھا جو حرام موت کو چُننا چاہا جانتی نہیں حرام موت کی سزا کتنی دردناک ہوتی ہے میری تو چھوڑو میں تو کہی نہیں تمہاری زندگی میں نہ کل نہ آج پر امی یا ڈیڈ کا تو ایک بار سوچتی جن کی جان چند گھنٹوں میں تم نے سولی پہ لٹکادی تھی۔سوہا غصے سے پھٹ پڑی۔زویا شرمندگی کے احساس سے اپنا سر جھکاگئ۔
سرجھکانے سے کیا ہوگا اب۔سوہا نے اُس کے جھکے سر کو دیکھ کر کہا
سوری سوری فار آل۔زویا بس یہی بول پائی سوہا گہری سانس بھرتی اُس کے گلے لگ گئ زویا نے بامشکل اپنی سسکیوں کا گلا گھونٹا







زویا کو دوسرے دن ڈسچارج مل گیا تھا سویرہ بیگم نے اُس سے پوچھا تو کہا ابھی وہ جواب دینے کی حالت میں نہیں تو سب نے اُس کو اُس کے حال پہ چھوڑ دیا سوہا کو لگ رہا تھا شاید عمار کی وجہ سے ڈپریس ہو اِس لیے اُس نے عمار سے بات کرنے کا سوچا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیاری لگ رہی ہو۔سوہا آئینے کے سامنے بال بنارہی تھی جب عباد ڈریسنگ ٹیبل سے ٹیک لگائے بولا۔
کوئی کام تھا۔سوہا کی بات پہ عباد بدمزہ ہوا
پہلے کہتی ہوں تعریف نہیں کرتے اور جب تعریف کرو تو یہ تمہاری زبان۔عباد کو افسوس ہوا۔
کیا ہوا میری زبان کو اچھی خاصی تو ہے اور میں آپ سے نہیں بولتی ناراض ہوں۔سوہا منہ موڑ کر بولی۔
ناراض کیوں اب میں نے کیا کردیا تمہارے سارے گلے شکوے دور کردیے اپنا دل کھول کر تمہارے سامنے کردیا پھر کیوں ناراض ہو۔عباد اُس کا رخ اپنی طرف کیے ہاتھ تھام کر بولا
آپ نے مجھے میری منہ دیکھائی نہیں دی جو میرا حق تھا۔سوہا نے دماغ پہ زور دیتے کہا تو عباد عش عش کر اُٹھا۔
ماشااللہ شادی کے اتنے سالوں بعد تمہیں تمہاری منہ دیکھائی بقول حق یاد آیا ہے۔عباد نے تاسف سے کہا
ہاں تو آپ کو تو یہ خیال نہیں آیا اور اتنے سالوں کی بات تو نہ کریں تو بہتر ہیں ورنہ میرا میٹر گھوم جائے گا میں ابھی تک نہیں بھولی جو آپ بنا مجھے بتائے چلے گئے تھے آدھی بات سن کر مجھے غلط سمجھ لیا بزدلوں کی طرح بھاگ گئے۔سوہا کی بات پہ عباد کے تاثرات یکدم سنجیدہ ہوئے۔
تم سے نہ ملنے کی وجہ یہ تھی کے مجھ میں ہمت نہیں تھی تمہارا سامنے کرنے کی اگر تم سے مل کر جاتا تو میرے اِرادے کمزور پڑجاتے پانچ سالوں میں جو میں نے سفر کیا اُس کا تمہیں اندازہ بھی نہیں اور تم مجھے بزدل کہہ رہی ہو کیا کیا میں نے ایسا اگر میں نے تم سے اظہار نہیں کیا تو اُس کی ایک وجہ یہ تھی مجھے ڈر لگا رہتا تھا کے تم مجھے ٹھکرادو نہ یہ نہ کہہ دو ہم بس دوست ہیں ہم بس کزن ہیں محبت نہ ملے تو اتنی تکلیف نہیں ہوتی جتنی محبت پہ ٹھکرائے جانے سے ہوتی ہے تم میرے لیے کیا تھی کیا ہو یہ میں چاہ کر بھی بتا نہیں سکتا میرے دل میں تمہاری محبت تب بھی کم نہیں ہوئی تھی جب تم کسی اور کے ہونے کا سوچ بیٹھی تھی جب مجھے ملی تب بھی میرے دماغ میں یہ خیال نہیں آیا میرے پہلے تمہاری زندگی میں کون تھا یاد تھا یاد تھا تو بس اب میں ہوں میرا ہونا لازم وملزم ہے میں اُن مردوں میں سے نہیں جو ایسی بات پہ طعنے دیتے ہیں مجھے بس ایک بات پہ یقین ہوگیا تھا پہلے جو بھی اب تمہاری زندگی میں بس عباد حنان ہوگا۔عباد کی باتوں پہ سوہا کو اپنے اندر سکون اُترتا محسوس ہوا۔
آج میری بھی ایک خواہش پوری ہوئی بچپن کی کیونکہ اب ساری آپ کی توجہ نہیں آپ خود پورے کے پورے میرے ہیں۔
میں تو ہمیشہ سے تمہارا تھا۔سوہا کی بات پہ عباد نے کہا
میری منہ دیکھائی۔سوہا کو اچانک پھر سے یاد آیا۔
میں نے تمہارے لیے سرپرائز سوچا تھا اچھا ہے اب منہ دیکھائی کے نام پہ دوں گا۔عباد نے مسکراکر کہا
اچھا کیا ہے تحفے میں۔سوہا کو متجسس ہوئی
سرپرائز۔عباد نے مسکراہٹ ضبط کی تو سوہا کو عباد کا ڈمپل پہلی دفع بُرا لگا۔








عمار مجھے تم سے ایک بات کرنی تھی۔سوہا اُس کے کمرے میں آتی بولی عباد ابھی تک واپس نہیں آیا تھا آفس سے وہ نہیں چاہتی تھی عباد اُس کو عمار سے بات کرتا دیکھے تبھی وہ اِس وقت آئی۔
مجھ سے کیا بات۔عمار بے تاثر لہجے میں بولا
زویا تمہاری منکوحہ ہے اور اُس سے پہلے وہ تمہاری کزن بھی ہے تمہارا حق بنتا ہے اُس سے ملنے کا پر تم ہسپتال کے بعد غائب ہی ہوگئے تم جانتے بھی ہو تمہارے اِس عمل سے زویا کس قدر ڈس ہارٹ ہوئی ہوگی۔سوہا نے کجھ سختی سے کہا
میں اُس سے ملتا ہوں یا نہیں ملتا اِن سب میں تمہیں اِنوالو ہونے کی ضرورت نہیں۔عمار بنا لحاظ کیے بولا۔
میں اِنوالو ہوگی کیونکہ یہاں معاملہ میری بہن کا ہے اور میں ہرگز ایسا نہیں چاہوں گی کے تمہاری وجہ سے اُس کو تکلیف ہو اِس لیے جو بھی تم دونوں کے درمیان مسائل ہیں اُن کو سولو کردو۔سوہا بھی سپاٹ لہجے میں بولی۔عمار کا دل کیا وہ ابھی اُس کو ساری بات بتادے جس بہن کا وہ دفع کر رہی ہے وہ اُس کے ساتھ کیا کرچُکی ہے مگر خاموش رہا جس بات پہ اللہ کے پردہ رکھا تھا تو وہ کون ہوتا تھا اُس بات کو بے پردہ کرنے والا اگر آج وہ کسی کے عیب پہ پردہ ڈالے گا تو کل اللہ اُس کے عیبںوں پہ پردہ ڈالے گا یہ سوچ تھی جو اُس کو کجھ بھی کہنے سے روک رہی تھی۔
سوہا نے عمار کو خاموش دیکھا تو گہری سانس بھر کر کہا۔
عباد آنے والا ہوگا پر تم پلیز میری بات پہ غور ضرور کرنا اٹس مائے ہمبل ریکویسٹ.سوہا اپنی بات کہہ کر جیسے ہی باہر جانے کے لیے دروازہ کھولا اُس کو سامنے عباد نظر آیا جو اُس کو ہی دیکھ رہا تھا عباد کے سنجیدہ تاثرات دیکھ کر سوہا کا سارا خون خشک ہوگیا تھا قدم چلنے سے انکاری ہوگئے تھے عباد جب کی اُس کو ایک نظر دیکھتا اپنے کمر کی طرف بڑھ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے عمار سے ضروری بات کرنی تھی تبھی میں اُس کے پاس گئ۔کجھ دیر بعد سوہا کمرے میں داخل ہوتی عباد سے بولی
میں نے کوئی سوال پوچھا۔عباد نے سنجیدگی سے کہا
آپ نے پوچھا نہیں پر میں نہیں چاہتی آپ کے دل میں تھوڑی بھی بدگمانی رہے اور پھر سے پانچ کا انتظار میرے مقدر میں لکھ لیں۔ سوہا نے سنجیدگی سے کہا
تمہیں مجھے پہ یقین ہونا چاہیے جس طرح ایک مرد کا کِردار اُس کی ماں اور پھر اُس کی بیوی جانتی ہے بلکل اِسی طرح ایک عورت کے کردار کا گواہ اُس کا شوہر ہوتا ہے میں کبھی بھی اپنے دل میں تمہارے لیے ایسی سوچ ایسی بدگمانی نہیں رکھ سکتا سوہا میں محبت کرتا ہوں تم سے اور محبت کی پہلی شرط عزت اور اعتبار ہوتا ہے یہ دونوں چیزیں دل میں نہ ہو تو محبت بھی نہیں ہوسکتی میری محبت بس یہ نہیں جس کا اظہار میں بند کمرے میں کروں کیونکہ اصل محبت وہ نہیں ہوتی جس کا اظہار مرد بیوی سے بند کمرے میں کرتا ہے محبت وہ ہوتی ہے جس میں مرد اپنی عورت کو سب کے سامنے معتبر کرتا ہے اُس کی عزت کرتا اور کرواتا ہے میں مانتا ہوں میری غلطی تھی میں نے تم سے ایک دفع نہیں پوچھا کیونکہ میری محبت نے میری عقل پہ پردہ ڈال دیا تھا میرے دل و دماغ میں بس تمہیں کھودینے کا خوف آرہا تھا جو مجھے کجھ اور سوچنے نہیں دے رہا تھا۔عباد کے جواب پہ سوہا لاجواب ہوگئ تھی اُس کو یقین ہوگیا تھا عباد لفظوں کا بہت بڑا کِھلاڑی ہے جو پل بھر میں لوگوں کو متاثر کردیتا تھا۔







کیسی ہو؟عمار آج چار دن بعد زویا سے ملنے آیا تھا۔
تمہارے سامنے ہو سوچا تھا تمہیں آزاد کردوں گی پر موت نے بھی نہیں اپنایا۔زویا تلخ ہوتی بولی
میرے کہنے کا اُس دن یہ مطلب نہیں تھا میں بس تمہیں سچائی سے روشناس کروانا چاہتا تھا تم غلط تھی زویا۔عمار نے سنجیدگی سے کہا
ہاں میں غلط تھی اور ہوں پر اب کیا ہوسکتا ہے میں نے سوچ لیا ہے امی سے کہہ دوں گی رخصتی نہ ہو سوہا سے بھی اپنے کیے کی معافی مانگ لوں گی اُس کا ظرف بہت بڑا ہے معاف کردے گی۔زویا مضبوط لہجے میں بولی
ایسی بیوقوفی مت کرنا سوہا لاعلم ہے تو اُس کو لاعلم رہنے دو بات جب کی عزت پہ آتی ہے تو لڑکی یہ نہیں دیکھتی سامنے والا کون ہے سوہا جتنی بھی اعلیٰ ظرف کیوں نہ ہو اُس کو جب پتا چلے گا تو کبھی اپنا دل تمہاری طرف سے صاف نہیں کرپائی گی اللہ نے جس بات پہ پردہ رکھا ہے تمہیں چاہیے اُس کو چاق مت کرو ورنہ خسارے میں آجاؤ گی۔عمار نے ٹوکتے ہوئے کہا
بوجھ کے ساتھ زندگی گُزاری بھی نہیں جاسکتی۔زویا گلوگیر لہجے میں بولی عمار کو اس پہ ترس سا آیا۔
میری بات تمہیں جو بُری لگی ہو اُس کے لیے سوری۔عمار نے معذرت خواہ لہجے میں کہا
عمار ہم انسان بھی کتنے عجیب ہوتی ہیں پہلے اپنی زبان سے سامنے والے کا دل چھلنی کردیتے ہیں پھر جب احساس ہوتا ہے تو ایک لفظ سوری بول کر اپنا دامن صاف کرجاتے ہیں تب ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کے کیا سامنے والے کا دل بھی صاف ہوا ہے یا نہیں۔زویا کی بات پہ عمار خاموش رہا۔
رخصتی اپنے وقت پہ ہوگی تمہیں کسی سے کجھ کہنے کی ضرورت نہیں۔عمار کی بات پہ زویا بے یقین ہوئی۔
میں نے خُدا اور اُس کے رسولﷺ کو گواہ بناکر تم سے نکاح کیا تھا مجھے اپنے فرائض بخوبی معلوم ہے۔عمار نے کہا تو زویا کے چہرے پہ کافی دنوں بعد سکون کی لہر ڈوری۔
پر تم مجھ سے پیار نہیں کرتے۔زویا نے افسوس سے کہا
نکاح کے دو بول دو دِلوں میں محبت پیدا کرجاتے ہیں۔عمار نے جیسے بات ہی ختم کرڈالی۔







عباد کچن میں پانی پینے کے غرض سے آیا تو سوہا کو آٹا گوندھنے میں مصروف دیکھا عباد کی نظر آٹے پہ پڑی جس کا سوہا نے کچو مڑ بناڈالا تھا اُس کو سمجھ نہیں آیا سوچا آٹا گوندھ رہی ہے یا پانی پی رہی ہے کیونکہ آٹے کے اطراف سوائے پانی کے کجھ نہ تھا۔
رحم کرو آٹے پہ۔عباد سے مزید دیکھنا محال ہوگیا تو بولا
آپ کے لیے مشقت کررہی ہوں اور آپ ہیں کے ایسے منہ بنا رہے ہیں۔سوہا نے ناک چڑھاکر کہا
خانساماں کہاں ہیں۔عباد نے پوچھا
وہ چھٹی پہ ہیں میں نے سوچا کیوں نہ آپ کے لیے کھانا بنادو مرد کے دل کا راستہ معدے سے ہوکے گُزر کر ہوتا ہے نہ۔سوہا نے اپنی طرف سے عقلمند ہونے کا ثبوت دیا۔
سوہا تم بھی نہ کجھ بھی میں نے سوچا تمہیں کھانا پکانا تو آگیا ہوگا پر ہائے تم نے ثابت کرڈالا میں ہمیشہ غلط اندازے لگاتا ہوں۔ عباد تاسف سے سرہلاتا بولا
اچھا ہوا آپ نے خود مان لیا میں کہتی تو آپ نے غصہ ہوجانا تھا۔ سوہا ہنس کے بولی
اچھا اپنا حُلیہ ٹھیک کرو اور کمرے میں آؤ تمہارے لیے کجھ لایا ہوں۔عباد نے کہا
کیا لائے ہیں میری منہ دیکھائی۔سوہا پرجوش ہوکر بولی۔
منہ دیکھائی بنتی تو نہیں تمہاری کیونکہ یہ منہ میں نے بہت سالوں سے دیکھا ہے پر ہاں وہی ہے۔عباد کی بات پہ سوہا کے سر پہ لگی اور تلوو پہ بُجھی۔
بہت ہی کوئی ناشکرے انسان ہیں ایک تو اللہ نے آپ کو چاند سی بیوی سے نوازا ہے بجائے آپ اُس کی قدر کرنے کے ایسے بول رہے ہیں تو میں آپ کو بتادو میرا احسان ہیں آپ کے ساتھ گُزارا کررہی ہوں ورنہ میرے آگے دس اور پیچھے بارہ مردوں کی لائن ہیں۔سوہا گردن آکرا کر بولی تو عباد نے بھنویں اُچکائی
آگے تو تمہارے میں ہو اور پیچھے تو دیوار ہیں۔عباد مسکراہٹ ضبط کیے بولا
آپ کا کیا مطلب میرے پیچھے بس آپ ہیں۔سوہا کمر پہ ہاتھ رکھتی لڑاکا انداز میں بولی
نہیں میری ماں اب اندر چلو۔عباد اکتاہٹ سے بولا
اچھا آتی ہوں۔سوہا نے جیسے احسان کیا۔
۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیکھائے۔سوہا واشروم سے باہر آتی عباد کے سر پہ نازل ہوتی بولی اُس کے کمرے میں آتے ہی عباد نے اُس کو واشروم بھیجا تھا
چیک۔عباد نے ایک لفافہ اُس کے سامنے کرتے کہا
کہیں آپ نے اپنے حصے کی جائیداد میرے نام تو نہیں کرڈالی۔سوہا نے شرارت سے پوچھا
چیک کرو خود معلوم ہوجائے گا۔عباد اُس کے چہرے کے تاثرات جانچتا بولا
اوکے۔سوہا گہری مسکراہٹ سے کہتی لفافہ کھولنے لگی جس کے اندر پیپرز تھے سوہا نے جب اُس میں لِکھی تحریر پڑھی تو مسکراہٹ پل بھر میں غائب ہوئی سارا جوش وخروش اُڑ گیا اُس کے تاثرات یکدم بدلتے دیکھ کر عباد نے بڑی مشکل سے اپنی ہنسی کو قابوں میں کیا۔
کیا یہ مذاق ہے؟سوہا کو اپنی آواز کھائی سے آتی محسوس ہوئی۔
اٹس ٹرو حقیقت۔عباد نے مزے سے بتایا
یہ کیا ہے۔سوہا دوبار سے بولی اُس کو اپنی بینائی پہ شک ہوا۔
تمہاری فضول سوچو کا علاج۔عباد نے بھی پھر سے مزے سے بتایا سوہا بے یقینی سے کبھی عباد کو کبھی ہاتھ میں موجود پیپرز کو دیکھ رہی تھی۔
منہ دیکھائی میں کونسا شوہر بیوی کو میڈیکل کالج کا فارم پکڑاتا ہے۔سوہا کی حالت رونے والی ہوگئ اُس کو اپنی آنکھوں کے سامنے موٹی موٹی کتابیں نظر آنے لگی تو اُس کا دل کیا کہیں بھاگ جائے دن میں تارے کیسے نظر آتے ہیں یہ بات اُس کو آج سمجھ آئی۔
میں دے رہا ہوں پہلے تمہاری نادانی پہ میں نے کجھ نہیں کہا پر میں چاہتا ہوں تم اپنی پڑھائی پہ فوکس کرو بہت سال تم نے ضائع کردیئے ہیں اب اور نہیں میں تمہیں انٹری ٹیسٹ کی تیاری کرواؤں گا انشااللہ اِس بار تم پاس ہوجاؤ گی اگر تم پہلے ایسی حرکت نہ کرتی تو میرا ارادہ میڈیکل کے بعد تمہیں MLA کروانے کا تھا پر خیر ابھی تم بس اِس کی تیاری کرو۔عباد سنجیدگی سے بولا
تب تو آپ کو کہاں یاد تھی سوہا بھاڑ میں جائے سوہا اور اُس کا مستقبل آپ کو تو بس اپنی پڑی تھی یہ خیال نہیں آیا ایک بیوی ہے اُس کا حال دریافت بھی کرلیا جائے۔سوہا ٹیسٹ کی تیاری سے جان چھڑوانے کی خاطر غصہ ہوتی بولی
میری جان سوہا یہ حُربے مجھ پہ مت آزماؤ میں اپنی بات سے ہٹنے والا نہیں تمہاری میں رگ رگ سے واقف ہوں۔عباد اُس کے گال کھینچ کر بولا
ایک تو آپ نے جان بھی غلط وقت پہ بولا ہے پر عباد آپ اپنی جان پہ کجھ رحم کریں۔سوہا منت کرنے والے انداز میں بولی۔
سوہا تمہیں نہیں لگتا تمہیں اپنی زندگی کا مقصد بنانا چاہیے زویا بھی تو کرگئ نہ عمار بھی کرگیا اب تمہیں بھی چاہیے۔عباد کجھ سنجیدہ ہوا۔
پر عباد ایم بی بی ایس مجھ سے نہیں پڑھے جاتے یہ سائنسی کتابیں بہت مشکل ہیں یہ سب۔سوہا نے منہ بناکر کہا
کجھ ناممکن نہیں اگر کرنے کا حوصلہ اور دل میں لگن سچی ہو تو۔عباد اپنی بات پہ قائم تھا۔
افففف مطلب یہ سب قبر تک میرے پیچھے رہیں گے۔سوہا تصور میں کتابوں مخاطب کیے بولی تو عباد کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی
۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کا وقت تھا سوہا کو نیند نہیں آئی تو اُس نے عباد کو جگانے کا سوچا
عباد بات تو سنے۔سوہا اُس کا کندھا ہلاتی بولی
سوہا یہ رات کے وقت کونسا تمہیں دورہ پڑتا ہے صبح سن لوں گا تمہاری بات۔عباد بند آنکھوں سے جواب دیتا بولا
آپ کو مجھ سے زیادہ نیند کی پڑی ہیں میری بات سنے۔سوہا گھور کر بولی
جی ارشاد فرمائے تاکہ ہمیں سونے کا شرف حاصل ہو۔عباد جل کے بولا
میں نے نہ اپنے بچوں کے نام سوچ لیے ہیں۔سوہا کجھ شرماکر بولی عباد پھٹی آنکھوں سے سوہا کو دیکھنے لگا۔
یہ رات کے وقت تمہیں بچوں کی کیا سوجھی۔عباد نے جاننا چاہا
بس سوجھ گئ اگر بیٹی ہوئی تو ذوئیولاجی اور اگر بیٹا ہوا تو بائیولاجی۔سوہا نے مزے سے کہا تو عباد نے اپنا سر پکڑیا۔
ماشااللہ سے کیا دماغ ہے تمہارا۔عباد نفی میں سرہلاتا بولا۔
چھوڑے میرا کمال کیا جس لڑکی کا شوہر پڑھائی کے معاملے اِس قدر سیریس ہوگا وہ بچاری ابالا ناری بچوں کے نام یہی سوچے گی۔سوہا نے جیسے افسوس کیا۔
عقلمندی تو تم پہ چھوڑو اور تم پہ ختم ہے۔عباد کی بات پہ سوہا نے اُس کو دیکھا جس کی رنگت اُڑی ہوئی تھی سوہا کو بے اختیار ہنسی آئی اُس کو خود پہ ہنستا دیکھ کر عباد نے پاس پڑا کشن اُس کے سر پہ دے مارا جو اُس کے ماتھے پہ لگا سوہا حیرت کی بت بنی پہلے تو اُسے دیکھتی رہی پھر خود بھی سائیڈ سے تکیے اُٹھاتی عباد پہ وار کرنے لگی۔






آج زویا اور عمار کی رخصتی کے ساتھ عباد اور سوہا کا ولیمہ تھا ولیمے کا خیال اچانک عباد کو آیا تھا جس پہ اُس نے حنان صاحب سے کہہ کر ایک ساتھ کروایا تھا زویا کا رویہ سوہا کے ساتھ نارمل بہنوں کی طرح ہوگیا تھا سوہا بھی اب پرسکون تھی زویا نے عمار کے کہنے پہ سوہا سے اُس کے نکاح پہ کی جانے والی حرکت کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔
تقریب کے احتتام کے بعد سوہا سادہ ڈریس پہن کر کمرے میں آئی تو اُس کو عباد نظر نہیں آیا کھڑکی کے سامنے آئی جہاں لان کا سارہ منظر صاف دیکھائی دیتا تھا وہاں اُس کو عباد کھڑا دیکھائی دیا جس کی نظریں آسمان پہ تھی۔سوہا مسکراتی خود بھی باہر جانے کو لپکی۔
آج سونا نہیں کیا۔سوہا عباد کے کندھے پہ سررکھتی بولی
نہیں آج سوچا میں تم سے کجھ باتیں کرلوں یہاں۔عباد نے مسکراکر بتایا
زہے نصیب زہے نصیب ۔سوہا نے شرارت سے کہا تو عباد ہنس پڑا۔
پڑھائی کے سلسلے میں۔عباد نے لب دانتوں تلے دبائے۔
عبادددددددد۔سوہا چیخ کر اُس کے کندھے پہ مُکہ مارنے لگی۔
مذاق کررہا ہوں یار۔عباد اُس کو اپنے حصار میں لیتا بولا تو اِس بار سوہا بھی ہنس پڑی۔








ختم شد
