Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mohabbatein (Episode 12)

Mohabbatein by Rimsha Hussain

آج تمہیں میری یاد آگئ کیسے؟صدف نے سوہا سے کہا جو آج اُس سے ملنے آئی تھی۔

سوچا تم بے وفا کو تو اپنی دوست کی یاد نہیں آتی میں ہی اُس کو یاد کرواؤ کے سوہا عباد بھی اُس کی دوست ہے۔سوہا نے آرام سے کہا

اوو ہو سوہا عباد نائیس ساؤنڈ۔صدف چھیڑنے والے انداز میں بولی

بکو مت۔سوہا نے گھور کر کہا

اچھا بتاؤ کیا چل رہا ہے زندگی میں عباد سے بات ہوتی ہے بہت وقت ہوگیا ہے اب تو اُس کو گئے ہوئے۔صدف نے جاننا چاہا

میری زندگی اسٹار پلس کا ڈرامہ ہوگئ ہے جس میں ایک مسئلہ حل ہوتا نہیں دوسرا آجاتا ہے۔سوہا سرجھٹک کر بولی

اب ایسا بھی مت کہو اسٹار پلس کی لڑکیوں کو کہاں اتنے اچھے شوہر ہوتے ہیں وہ تو پاکستانی ڈراموں کی ہیروئن کو ملتے ہیں اچھا ہوتا تم اپنا آپ ہم ٹی وی پہ کسی ڈرامے کی ہیروئن کا کہتی۔صدف غیرسنجیدگی سے بولی

جانے کونسی دوست ہوتی ہے وہ جو تسلی کرواتی ہے ساتھ دیتی ہے میری تو اللہ نے ایک دوست دی جو کسی نمونے سے کم نہیں۔سوہا تو اُس کی بات سن کر جل پڑی جس پہ اُس کا قہقہقہ گونجا۔

لگتا ہے عباد کی یاد آرہی ہے۔ صدف باز نہ آئی

ہاں آرہی ہے کیوں نہیں آئے گی آخر کو اکلوتے شوہر ہیں میرے۔ سوہا نے آرام سے کہا

شوہر اکلوتے ہی ہوتے ہیں۔ صدف نے دانت پیسے

تو مجھے کیوں بتارہی ہوں۔ سوہا بے زار ہوئی

💕
💕
💕
💕
💕
💕

کجھ سال بعد !

سوہا نیند میں تھی جب اُس کو کجھ غیر معمولی سا محسوس ہوا اُس نے آنکھیں کھول کر سائیڈ لیمپ آن کیا بیڈ کی دوسری سائیڈ پہ کسی مرد کی پشت دیکھ کر اُس کے اوسان خطا ہوئے اور زوردار چیخیں بے ساختہ تھی۔

چچی

امی

چچی۔

عباد جو آج سالوں بعد پاکستان واپس آیا تھا تاکہ اچانک آکر سب کو سرپرائز دے سکے مگر رات ہونے کی وجہ سے اُس نے کسی کو جگانے مناسب نہیں سمجھا اِس لیے کمرے میں آکر لیٹ گیا تھا اُس کو سوئے ابھی کجھ ہی وقت گُزرا تھا جب سوہا کی چیخوں نے اُس کی نیند بھک سے اُڑا دی تھی۔

پاگل ہوگئ ہو کیا میں ہوں عباد۔عباد جلدی سے اُٹھتا اُس کے منہ پہ ہاتھ رکھ کر بولا سوہا کی آنکھیں بے یقینی سے پھیل گئ تھی۔

ایسے اچانک کون کسی لڑکی کے بیڈ پہ آکر لیٹ جاتا ہے اگر مجھے ہارٹ اٹیک آجاتا تو۔سوہا بنا یہ خیال کیے وہ کتنے وقت بعد آیا ہے بس شروع ہوگئ تھی۔

تمہارا تو پتا نہیں مگر جس طریقے سے تم چیخے مار رہی تھی مجھے ضرور ہارٹ اٹیک آجانا تھا۔عباد نے گھور کر کہا

واہ جی واہ اُلٹا چور سوہا کو مارے۔سوہا مہاورے کی ٹانگیں توڑ مڑور کر بولی۔

سوہا فلحال میں تھکا ہوا ہوں سونا چاہتا ہوں تم اپنا لڑائی کا سیشن صبح تک ملتوی کرلوں۔عباد جمائی لیتا بولا۔

آپ کب آئے ویسے کسی نے بتایا تو نہیں آپ کے آنے کا۔سوہا عباد کو دیکھتی بولی جو کافی بدلا ہوا لگ رہا تھا۔

ماشااللہ کتنا جلدی خیال آیا تمہیں کے یہ بھی پوچھنا ہے۔عباد میٹھا طنزیہ کیے بولا

غلطی ہوگئ جو پوچھ لیا معذرت۔سوہا بدمزہ ہوتی بولی۔عباد بنا دھیان دیئے سونے کے لیے لیٹ گیا سوہا کجھ دیر تک اُس کی پشت کو گھورتی رہی پھر مسکراکر خود بھی لیٹ گئ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح سوہا کی آنکھ کھلی تو اُس نے مسکراکر دوسری سائیڈ پہ دیکھا جو خالی تھی سوہا کی مسکراہٹ پل بھر سمٹ گئ تھی۔

کیا کل میں نے خواب دیکھا تھا۔سوہا خود سے بڑبڑائی۔

نہیں عباد آئے تھے۔سوہا پُریقین لہجے میں کہتی بنا پیروں میں چپل ڈالے کمرے سے باہر نکلی سیڑھیوں کی ریلنگ کے پاس آکر اُس نے سر نیچے کیا تو سب کے ساتھ عباد بیٹھا نظر آیا سوہا نے سکون بھرا سانس خارج کیا تبھی عباد کی نظر اُپر اُس کی جانب اُٹھی تھی خود پہ عباد کی نظریں محسوس کرکے سوہا ناک سکوڑ کر واپس کمرے کی طرف بڑھ گئ عباد نے حیرت سے سوہا کا ردعمل دیکھا تھا۔

تم بتاکر آتے تو میں تمہاری پسند کا کھانا بنواتی۔صغریٰ بیگم محبت سے عباد کا چہرہ دیکھتی بولی۔

بتاکر آتا جو ابھی سب کے حیرانی والے تاثرات سے لطف اندروز کیسے ہوتا۔عباد نے جواب دیا تو سب ہنس پڑے۔

بھائی لگتا ہے آپ وہاں جم روز جایا کرتے تھے۔عمار عباد کے مضبوط مسلز اور چوڑا سینہ دیکھ کر بولا۔

بھائی کا حال پوچھنے کے بجائے جم کا پوچھ رہے ہو۔عباد نے جیسے افسوس کیا تو عمار کھسیانا ہوا۔

سوری آپ مجھے انفارم کرتے تو میں ریسیو کرنے آجاتا۔عمار نے مسکراکر کہا

میں نے سوچا سب کو سرپرائز دوں۔عباد نے مسکراکر جواب دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آنا ہی پڑا سجنا ظالم ہے

دل کی لگی

بن تیرے صنم مر مٹے گے

ہم آ میری زندگی

عباد گانا گنگناتا اپنے کمرے میں آیا تو سوہا کو کھڑکی کے پاس کھڑا دیکھا

اہمممم

عباد نے گلا کھنکار کر اُس کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا پر سوہا چہرے پہ نو لفٹ کا بورڈ لگائے ہوئے تھی عباد سوہا کی بے نیازی پہ گہری سانس بھرتا اُس کو دیکھنے لگا جو فل طریقے سے اُس کو نظرانداز کررہی تھی جیسے وہ یہاں تھا ہی نہیں۔

عباد کی خود پہ مسلسل نگاہیں محسوس کرکے سوہا پزل ہورہی تھی جب کی سوہا کی یہ حالت عباد کو مزہ دے رہی تھی۔

تم ناراض ہو؟عباد نے آخر خاموشی کا قفل توڑا۔

آپ کو کیا اور میں کیوں ہونے لگی ناراض میرا کونسا حق ہے ناراض ہونے کا؟سوہا نے پھاڑ کھانے والے انداز میں کہا۔

سارے حق تمہارے پاس ہی تو مقید ہے۔عباد نے گہری مسکراہٹ سے کہا سوہا ہونک بنی عباد کو مسکراتا دیکھ رہی تھی عباد مسکرارہا تھا وہ بھی اُس کو دیکھ کر یہ بات وہ چاہ کر بھی ہضم نہیں کرپارہی تھی۔

اِلہی خیر یہ اِن کا دماغ تو نہیں کھسک گیا سی اے کرنے کے چکر میں۔سوہا غور سے عباد کا چہرہ دیکھ کر سوچنے لگی۔

کیا ہوا شوہر ہوں تمہارا اِتنے سالوں بعد آیا ہوں بجائے میری خدمت کرنے کے نظرانداز کررہی ہو۔عباد نے شکوہ کیا۔

بنا بتائے ہوئے آنے کے ساتھ یہی کیا جاتا ہے۔سوہا نے ناک سکوڑ کر کہا تو عباد ہنس پڑا سوہا تو گویا بیہوش ہوتے ہوتے بچی۔

آپ کی طبعیت تو ٹھیک ہے۔ سوہا اُس کی پیشانی چھوتی فکرمندی سے بولی

بلکل میں ٹھیک ہوں پر تمہیں کیا ہوا ہے جیسا تیسا بھی پر ہمارا نکاح ہوا ہے پانچ سال چار ماہ بعد آیا ہوں کوئی استقبال کرنا چاہیے کجھ خدمت وغیرہ۔ عباد نے مزے سے کہا

مجھے نہیں لگتا پانچ سال چار ماہ بعد لوگ بنا بتائے سیدھا اچانک سے سوجاتے ہیں اگر پتا ہوتا تو میں سوتے وقت ہی آپ کا شاندار استقبال کرتی۔ سوہا طنزیہ بولی۔

بس باتیں کروالوں تم۔ عباد تاسف سے سرہلانے لگا۔

میں ناشتہ کرنے جارہی ہوں آپ کرے گے۔ سوہا نے احسان کرنے والے انداز میں پوچھا

کیوں کھانا کھانے کے لیے میرے پاس منہ نہیں یا چبانے کے لیے دانت نہیں۔عباد نے اُس کو تنگ کرنے کی خاطر کہا

سمجھنے کے لیے دماغ نہیں۔ سوہا سنجیدگی سے کہہ کر رکی نہیں پیچھے عباد اُلجھ کر اُس کی بات کا مطلب سمجھنے کی کوشش کی کرنے لگا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

بات ہوسکتی ہے ہماری۔ زویا نے عمار کو میسج سینڈ کیا جس کا جواب دس منٹ بعد آیا تھا۔

میں بزی ہوں۔ میسج پڑھ کر زویا کے ماتھے پہ بل پڑگئے ایسا پہلی بار نہیں ہوا تھا عمار اُس سے بات پہلے جو کردیا کرتا تھا اب مکمل طور پہ ختم کر ڈالی تھی زویا نے بہت کوشش کی پر کجھ حاصل نہ ہوا۔

تم کب بزی نہیں ہوتے عمار آخر مسئلہ کیا ہے مجھے بتاؤ جب تک بتاؤ گے نہیں تو مسئلہ ختم کیسے ہوگا۔زویا نے کجھ دیر سوچنے کے بعد دوبارہ میسج سینڈ کیا اب کی کوئی رپلائے نہیں آیا تھا زویا خالی نظروں سے موبائل کی اسکرین کو تکتی رہی۔

زویا تم تیار ہوگئ عباد سے ملنے جانا تھا۔ سویرہ بیگم اُس کے کمرے میں آتی بولی۔

جی امی تیار ہوں میں۔ زویا آہستہ آواز میں بولی۔

کیا کوئی پریشانی ہے؟ سویرہ بیگم اُس کا اُترا منہ دیکھ کر بولی

پریشانیاں تو زندگی کا حصہ ہے آپ یہ چھوڑے چلتے ہیں ہم۔ زویا ٹالنے والے انداز میں بولی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

آپ کیا اکیلے آئے تھے یہاں۔ سوہا کے اچانک کیے گئے سوال پہ عباد پہلے تو اُس کو دیکھتا رہا پھر بولا تو بس یہ۔

نہیں پوری فوج کو ساتھ میں لایا ہوں باہر اُن کی لائن لگی ہوئی ہے تمہیں نظر نہیں آئی۔

یہ آپ اتنا فضول کیوں بولنے لگے ہیں۔ سوہا نے چڑ کر کہا

میں فضول بول رہا ہوں تم بھی تو اپنے سوال پہ نظرثانی کرو ظاہر ہے اسٹڈی کے لیے اکیلے گیا تھا تو واپس بھی اکیلے ہی آنا تھا نہ۔ عباد سرجھٹک کر بولا

مجھے لگا شاید وہاں کوئی لڑکی پسند آئی ہو شادی کے لیے۔ سوہا اپنا لہجہ سرسری کیے بولی

لڑکی وہ بھی پسند شادی کے لیے اللہ خیر ایک تم مجھ سے سنبھل جاؤ میرے لیے وہی بہت ہے۔عباد کی بات پہ سوہا کو تپ چڑھی۔

یہ آپ اتنا اٹیٹیوڈ کیوں دیکھا رہے ہیں مانا کے پانچ سالوں میں آپ کجھ بدل گئے ہیں پر اِس کا مطلب یہ ہرگز نہیں آپ آنکھیں ماتھے پہ رکھ لیں۔سوہا لڑنے کے موڈ میں آتی بولی

یہ تم جھگڑالوں کیوں ہوگئ ہوں جب سے آیا ہوں بات پہ بات کوئی نہ کوئی ایسی بات کرجاتی ہوں۔عباد جھنجھلا کر بولا

میں آپ کی بیوی ہوں میری مرضی میں جیسے آپ سے بات کروں آپ کون ہوتے ہیں سوال جواب کرنے والے۔ سوہا کی بات پہ عباد کا دل کیا اپنا سر پیٹ لیں۔

مجھ غریب کو تمہارے شوہر ہونے کا شرف حاصل ہے۔ عباد نے دانت پہ دانت جمائے کہا

اچھا شوہر جی امی ملنے آئی ہیں آپ سے نیچے آجائے۔سوہا لب دانتو تلے دبائے بولی کیونکہ وہ جس کام سے کمرے میں آئی تھی وہ بات عباد سے لڑنے کے چکر میں بھول گئ تھی عباد اُس کی بات سنتا ایک نظر خود کو آئینے میں دیکھ کر کمرے سے باہر جانے لگا۔

امی نے آپ کو دیکھ رکھا ہے وہ بھی بچپن سے اِس لیے شوخیہ مارنے کی ضرورت نہیں۔سوہا نے قہقہہ ضبط کیے کہا جواب میں عباد بس اُس کو گھور سکا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تم پریشان ہو کیا کوئی ناراضگی چل رہی ہے عمار سے؟ عباد نے زویا کی خاموشی نوٹ کی تو پوچھا

پتا نہیں شاید عمار مجھے خود کے قابل نہیں سمجھتا۔زویا طنزیہ مسکراہٹ سے بولی

ایسا کیوں سوچ رہی ہو عمار کیوں سوچنے لگا ایسا۔ عباد نے نرمی سے کہا

میری خودساختہ سوچ بھی ہوسکتی ہے پر ہمارے نکاح کو ڈائی سال ہوگئے ہیں عمار نے منکوحہ تو کیا ایک کزن کی حیثیت سے بھی مجھ سے بات نہیں کی۔ زویا نے بات پہ عباد کو چپ لگ گئ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سویرہ بیگم اور زویا کے جانے کے بعد سوہا کچن میں چائے بنانے میں مصروف تھی جب عباد بھی کچن میں داخل ہوا۔

میرے لیے کافی بنانا۔ عباد نے سوہا کو دیکھ کر کہا

میں کافی اچھی نہیں بناتی چائے پینی ہے تو بتادے۔ سوہا نے کہا

مجھے کافی پینے ہے اِس لیے جیسی آتی ہے بناؤ میں گُزارا کردوں گا۔عباد نے جیسے احسان کیا۔

کمرے میں جائے میں لاتی ہوں گُزارا کرنے والی کافی کے ساتھ۔سوہا زبردستی مسکراہٹ سجاکر کہا تو عباد کچن سے باہر نکل گیا۔

ڈائری میں تو محبت کی پریم کھتا لکھی ہے میسنہ کہی کا یہ نہیں ہوتا اب اتنے سال ہوگئے ہیں انا کا نقلی کھول اُتار کر بیوی سے اظہار محبت کرکے اُس کا دل خوش کیا جائے مگر نہیں لگتا ہے یہ بھی مجھے کروانے پڑے گا۔سوہا زور سے کپ ٹرے میں پٹختی جلے دل کے پھپھوڑے پھوڑنے لگی۔

کافی۔ کمرے میں آتی سوہا پھاڑ کھانے والے انداز میں کپ اُس کے سامنے کرتی بولی

شکریہ۔ عباد کا دھیان اِس وقت لیپ ٹاپ پہ تھا تبھی وہ سوہا کا غصے سے لال چہرہ نہ دیکھ پایا سوہا کی نظر عباد کے موبائل پہ پڑی تو بولی

میں آپ کا موبائل لوں کجھ دیر کے لیے۔

اگر میں انکار کروں گا تو کیا نہیں لوں گی۔ عباد نے لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹاکر پوچھا

میں تو تب بھی لوں گا آپ سے پوچھ کر تو میں نے بس مروت نبھائی۔ سوہا اپنی بات پہ خود ہی ہنس کر بولی تو عباد کے چہرے پہ بھی مسکراہٹ آگئ جو کمالِ مہارت سے وہ چُھپاگیا تھا۔

جی تو موبائل کا پاسورڈ کیا ہے۔ سوہا نے پوچھا تو کیبورڈ پہ چلتے عباد کے ہاتھ تھمے تھے

لاؤ میں کھول دیتا ہوں۔عباد نے کہا

نہیں آپ بتائے میں کھول دوں گی۔سوہا موبائل کو چھپاتی بولی۔

٢۵ جون۔عباد سپاٹ انداز میں بولا

ہمارے نکاح کی تاریخ؟سوہا پرجوش ہوتی بولی

نہیں پڑوسن کے نکاح کی تاریخ۔عباد بے زاری سے بولا۔

کوئلے ڈلے ہوئے ہیں آپ کے منہ میں تو۔ سوہا اتنا کہتی عباد کے فون کا پوسٹ مارٹم کرنے لگی۔

ویسے تم کیا تلاش کررہی ہو میرے فون میں۔ عباد نے بہت غور سے اُس کی نظریں اپنے فون پہ جمی دیکھی تو پوچھے بنا نہ رہ پایا۔

ایسے ہی۔ سوہا بے دلی سے فون واپس دیتی بولی کیونکہ اُس کو کجھ خاص نہیں ملا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

صغریٰ بیگم اور حنان صاحب آج سنان صاحب کی طرف زویا کی رخصتی کی بات کرنے آئے تھے یہ بات جان کر زویا بہت خوش تھی جب کی عمار کا چہرہ ہر احساس سے عاری تھا۔

اگلے مہینے کی بیس تاریخ سہی رہے گی۔ سویرہ بیگم کجھ دیر خاموشی کے بعد بولی۔

جیسے آپ کو مناسب لگے۔ صغریٰ بیگم اُن کی بات سے اتفاق کرتی بولی عباد کی لاشعوری طور پہ نظر سوہا پہ پڑی جو جانے کِن مراقبوں کے سفر پہ تھی۔

مبارک ہو تمہیں۔ سوہا زویا کے کمرے میں آتی بولی

جزاک اللہ۔ زویا مسکراکر بولی سوہا گِرتے گِرتے بچی۔

کیا ہوا طبعیت تو ٹھیک ہے؟ سوہا کو گِرتا دیکھ کر زویا کجھ فکرمند ہوئی۔

میں تو الحمد اللہ بلکل ٹھیک ہوں پر لگتا ہے تمہاری طبعیت ٹھیک نہیں۔ سوہا کی بات پہ زویا ہنس پڑی۔

میں بھی ٹھیک ہو فائنلی اب سب سہی ہورہا ہے جسے پہلے ہونا چاہیے تھا۔ زویا پرجوش سی بولی۔

ہرکام اپنے وقت پہ ہوتا ہے اور وقت پہ ہونا ہی بہتر ہوتا ہے خیر میں بہت خوش ہوں تمہارے لیے۔ سوہا صدق دل سے بولی۔

میں بھی بہت خوش ہوں تمہارے لیے عباد بھی واپس آگیا وہ بہت اچھا ہے کیئرنگ لونگ سا۔ زویا نے کہا

ہاں وہ تو مجھے پتا ہے۔ سوہا آنکھیں گُھماکر بولی

اُس نے کجھ بتایا ہے تمہیں؟ زویا اُس کا چہرہ دیکھ کر بولی

کس بارے میں؟ سوہا نے اُلجھن لیے پوچھا

اپنے بارے میں۔ زویا نے جواب دیا

نہیں اپنے بارے میں کیا بتانا ہے اُن کو سی اے کرنے کے بعد مجھے تو لگتا ہے اُن کا دماغ گھوم چُکا ہے۔ سوہا سرجھٹک کر بولی تو زویا نے تاسف سے اُس کو دیکھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عمار کیا بات ہے جو تمہیں پریشان کیے ہوئی ہے مجھے بتاؤ کیا پتا میں تمہاری کوئی مدد کرسکوں۔عباد نے سنجیدگی سے عمار سے پوچھا جو بے زار سا تھا۔

بھائی اگر آپ سچ میری پریشانی دور کرنا چاہتے ہیں تو پلیز یہ رخصتی والا شوشہ ختم کروائے میں اِس سب کے لیے تیار نہیں۔عمار جھٹ سے بولا

کیا مطلب تیار نہیں ہو تم اتنے سال نکاح کو ہوگئے ہیں تم ابھی تک تیار نہیں زویا کیا ساری عمر تمہارے نام پہ بیٹھے رہے گی۔عباد نے سختی سے کہا

میرا وہ مطلب نہیں تھا۔عمار جھجھنلاہٹ سے بولا

جو بھی مطلب تھا اپنے دماغ سے فضول سوچے نکال کر اپنے مستقبل پہ توجہ دو زویا بہت اچھی لڑکی ہے تمہاری منکوحہ ہے اِس لیے اپنا رویہ اُس کے ساتھ درست کرو۔عباد نے دو ٹوک انداز میں کہا تو عمار نے بس سرہلایا۔

💕
💕
💕
💕
💕

سوہا کی آنکھ صبح کھٹ پٹ کی آواز سے ہوئی اُس نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو عباد ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے تیار سا کھڑا تھا سوہا کو یاد آیا آج اُس کی جاب کا پہلا دن تھا۔

مجھے جگادیتے آپ کے لیے ناشتہ بنادیتی۔سوہا نے اچھی بیویوں والا جُملا دوہرایا۔

مجھے پتا تھا تم کھانا بنانے میں بہت ایکسپرٹ ہو اِس لیے نہیں کہا۔عباد خود پہ پرفیوم چِھڑک کر بولا

آپ میرا مزاق اُڑا رہے ہیں تو آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے پانچ سال چار ماہ میں آپ کے جانے پہ وقت تھم نہیں گیا تھا بلکہ اپنی رفتار سے چل رہا تھا ساتھ میں بہت تبدیلیاں بھی رونما ہوئی ہے۔سوہا نے سنجیدگی سے کہا تو عباد پرفیوم کی بوتل رکھتا اُس کے پاس آیا۔

تم نے ایم بی بی ایس کیوں چھوڑ دیا۔عباد نے جاننا چاہا

بڑا جلدی خیال نہیں آگیا آپ کو پوچھنے کا میں بیوی تھی آپ کی آپ مجھ سے ملے بنا چلے گئے ٹھیک ہے کوئی بات نہیں پر میں اِتنی غیر بھی نہیں تھی جو آپ نے اتنے وقت میں ایک ہائے کا میسج کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا۔سوہا نے شِکوہ کیا۔

تمہیں بُرا لگا۔عباد متجسس ہوا

مجھے کیوں بُرا لگے گا مجھے تو بلکہ پتا لگ گیا آپ کی زندگی میں میری کیا اوقات ہے۔سوہا تلخ ہوئی۔

ایسی باتیں کیوں کررہی ہو اِتنا نیگیٹو تم تو نہیں سوچتی تھی۔عباد نے نرمی سے پوچھا

زندگی سب کجھ سیکھادیتی ہے اِتنا ہم اسکول کالجوں میں نہیں سیکھتے جتنا لوگوں کے رویے اور اُن کی باتوں سے سیکھتے ہیں۔سوہا کی باتوں پہ آج عباد حقیقتاً پریشان ہوا۔

سوہا

آپ کے لیے کجھ بنادیتی ہوں ملازمہ کے آنے میں تو وقت ہے۔عباد کجھ کہنا چاہتا تھا پر سوہا نے بولنے کا موقع نہیں دیا عباد بس اُس کی پشت دیکھتا رہا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

فائنلی تم نے مجھے خود سے کال کیے ملنے کا تو کہا۔زویا خوش ہوتی عمار سے بولی جس نے آج اُس کو میسج پہ باہر آنے کا کہا تھا۔

میں تم سے بات کرنا چاہتا تھا تم چچی کو انکار کرو رخصتی کے لیے۔عمار کی بات پہ زویا کی مسکراہٹ غائب ہوئی۔

کیا مطلب اِس بات کا میں کیوں امی سے کہوں ایسا۔زویا نے تعجب سے پوچھا

کیونکہ ایسا میں کہہ رہا ہوں۔عمار نے سنجیدگی کہا

اور کیا میں وجہ جان سکتی ہوں تم ایسا کیوں کہہ رہے ہو؟زویا طنزیہ بولی

وجہ یہ کے مجھے تم میں دلچسپی نہیں میں ہر اُس وقت کو کوستا ہوں جس وقت میں نے تم سے نکاح کرنے پہ حامی بھری تھی۔عمار سپاٹ لہجے میں بولا

لہجہ درست کرو تم اپنا میں منکوحہ ہوں تمہاری تمہیں آخر کس بات کا غرور ہے جو ہر بار میرے جذبات سے کھیل جاتے ہو کیا سکون ملتا ہے تمہیں مجھے بے سکون کرکے۔زویا غصے سے پھنکاری۔

دلی سکون ملتا ہے لگ گیا پتا۔عمار مزاق اُڑانے والے انداز میں بولا۔

میں ایسا نہیں کہوں گی اور نہ تمہیں ایسا کرنے کی اجازت دوں گی۔زویا پاگل ہونے کے در پہ تھی۔

مجھے تمہاری کسی بھی بات کی پرواہ نہیں اگر تم چاہتی ہوں میں عین رخصتی کے وقت نہ آؤں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔عمار عام انداز میں بولا۔

عمار تم میرے ساتھ ایسا کیسے کرسکتے ہو میں نے آخر تمہارا کیا بگارہ ہے میری غلطی کیا ہے بس یہ کے میں نے تم جیسے احساس سے عاری انسان سے محبت کی۔زویا افسوسناک لہجے میں بولی۔

مجھے کسی بے وفا کے ساتھ نہیں رہنا عمر بھر زندگی بہت خوبصورت ہے جو میں تمہارے ساتھ گُزار کر بدصورت نہیں کرنا چاہتا۔عمار سردمہری سے بولا

صاف صاف بات کیوں نہیں کرتے تم۔زویا کو الجھن ہونے لگی اب۔

صاف صاف بات یہ ہے کے جو لڑکی اپنی بہن کی سگی نہ ہوسکی وہ آئیندہ کی زندگی میں میرے ساتھ کیا وفا کرے گی۔عمار کی بات پہ اُس کو شدت سے کجھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔

کیا مطلب۔زویا کی اپنی آواز کھائی سے آتی محسوس ہوئی۔

میں جانتا ہوں تم نے میرے اور سوہا کے نکاح کے دن کیا کھیل کھیلا تھا۔عمار کی بات پہ زویا نے شاک نظروں سے اُس کو دیکھا۔

تمہیں پتا ہے زویا جب میں نے تمہارا اپنی دوست سے کہا سُنا تھا تو کتنا بے یقین ہوا تھا مجھے یقین نہیں ہورہا تھا کوئی ایسا بھی کرسکتا ہے وہ بھی اپنی بہن کے ساتھ جو اُس کے ساتھ دُنیا میں آئی ہو سوہا کا کیا قصور تھا جو تم اُس کی بہن ہوکر رسوائی اُس کے مقدر میں لِکھنے والی تھی وہ تو اللہ کا شکر تھا کے ایسا کجھ نہیں ہوا میں نے کہی پڑھا تھا ایک انسان سوچتا دوسرا اللہ پر ہوتا وہی ہے جو اللہ سوچتا ہے ہم انسان کسی کا کجھ نہیں بگاڑ سکتے جب تک اللہ نہ چاہے۔عمار نے آج اُس کو حقیقت کا آئینہ دیکھایا جس میں اُس کو اپنا چہرہ بہت بھیانک سا لگا۔

میں تم سے محبت کرتی تھی اور عباد سوہا سے میں کیسے اپنی محبت کو کسی اور کا ہوتا دیکھ سکتی تھی۔زویا نے جیسے دلیل دی۔

محبت تمہیں محبت کے م کا بھی پتا ہے زویا محبت بیشک ایک خودساختہ جذبا ہے جس میں انسان کا اختیار نہیں ہوتا پر اپنی محبت کو پاک رکھنا اُس میں سہی غلط کی حدود پار نہ کرنا یہ ہمارے اپنے اختیار میں ہوتا ہے ضروری نہیں ہمیں جس سے محبت ہوجائے ہم اُس کو اپنی دسترس میں بھی کرلیں یہ قسمت کی باتیں ہوتی ہیں کِن کو محبت ملتی ہے اور کِن کو نہیں اور رہی بات بھائی کی سوہا سے محبت تو اگر اُن کو سوہا سے محبت تھی تو انہوں نے تو ایسی کوئی چیپ حرکت نہیں مرد تو اپنی محبت پہ کسی کی ایک نگاہ برداشت نہیں کرتا میں تو ہر وقت اُن کے سامنے سوہا کے گرد منڈلاتا رہتا انہوں کیوں نہیں مجھ سے فضول سا بیر رکھا کیونکہ اُن کو اپنی محبت سے زیادہ ایک بھائی محبت زیادہ تھی اور سوہا کی عزت عزیز تھی عباد بھائی چاہتے تو ڈنکے کی چوٹ پہ سوہا سے شادی کرلیتے کسی کو گھر میں کوئی اعتراض نہیں ہونا تھا پر بھائی نے ایسا کرنا تو دور یقیناً ایسا سوچا بھی نہیں ہوگا کیونکہ محبت کا دوسرا نام قربانی ہے اور یہ قربانی بھائی نے دی انہوں نے صبر کیا خود پہ جبر کیا اپنے جذبات اپنے تک محدود رکھے آج تک کسی کو بھنک تک پڑنے نہیں دیا شاید اللہ کو اُن کی یہ ادا پسند آگئ تھی جو تمہارے بہانے اُن کو اُن کی محبت سے نواز دیا گیا۔عمار نے آج زویا کو بولنے کے قابل ہی نہیں چھوڑا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *