Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mohabbatein (Episode 10)

Mohabbatein by Rimsha Hussain

کجھ سال قبل!

تم یہاں کیوں بیٹھی ہو اُداس بُلبل بن کر۔عمار ہاتھ میں بال لیتا سوہا سے بولا جو اپنے گھر کے لان میں رکھی بینچ پہ ٹھوڑی پہ مٹھی جمائے بیٹھی تھی۔

تمہیں کیا جاؤ یہاں سے۔سوہا پھاڑ کھانے والے انداز میں بولی

بہت بدتمیز لڑکی ہو ویسے زویا کو دیکھو جب بات کرتی ہے تو شہد ٹپکتا ہے اور ایک تمہاری زبان زہریلی ناگن سے کم نہیں۔عمار کی بات پہ اُس نے آنکھیں گُھمائی۔

یہ شہد بہت خاص ہے جو تمہارے لیے ہی نکلتا ہے ورنہ باقی سب کے لیے تو انگارے نکلتے ہیں۔سوہا سرجھٹک کر بولی۔

کیا مطلب تمہارا۔عمار ناسمجھی سے بولا

کجھ نہیں تم بتاؤ یہاں کیسے آنا ہوا؟سوہا نے بات بدل کر پوچھا

ہاں وہ بات یہ ہے کے میں پارک جارہا تھا سوچا تم دونوں کو بھی اپنے ساتھ چلنے کا شرف دوں۔عمار نے اپنے آنے کی وجہ بتائی۔

عباد بھی ساتھ ہے۔سوہا نے جھٹ سے پوچھا

عباد کی چمچی نہ ہو تو وہ بھائی نہیں چل رہے ساتھ اُن کو بہت کام ہوتے ہیں اپنے اسکول کا۔عمار منہ بناتا بولا۔

اچھا تو تم دونوں جاؤ میں نہیں چلتی۔سوہا نے انکار کرتے کہا۔

ایسا کیوں۔عمار کو تعجب ہوا۔

بس میرا دل نہیں۔سوہا یہ کہہ کر اندر کی طرف چلی گئ۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

بھائی ٹِرپ پہ کب جائے گے جاتے وقت سوہا بُلبل سے مل کر جانا۔عمار عباد کے کمرے میں آتا بولا۔

یہ کیسے نام لے رہو ہو تم کزن ہے وہ ہماری کوئی احترام ہوتا کوئی عزت ہوتی ہے یہ کیا آوارہ لوگوں کی طرح عجیب ناموں سے اُس کا ذکر کررہے ہو۔عباد ناگواری سے بولا

اُپس بھائی اتنا بُرا تو سوہا کو بھی نہیں لگا تھا خیر میں یہ کہنے آیا تھا کے سوہا سے مل کر جائیے گا بے چاری اُداس ہے آپ کے جانے سے جیسے آپ ایک ہفتے کے لیے سالوں کے لیے جارہے ہو۔عمار نے مسکراکر کہا۔

ہمم مل لوں گا میں۔عباد نے جواب دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زویا تمہارے ایف بی اکاؤنٹ پہ پانچ ہزار فرینڈس ہے دماغ درست ہے تمہارا جس کو تم جانتی نہیں اُن کو کیوں تم نے دوست بنایا ہوا ہے۔سوہا زویا کے کان ایئر فون کھینچ کر غصے سے بولی

تمہیں میری اماں بننے کی ضرورت نہیں میں جتنے چاہے فرینڈس بناؤ تمہیں کیا اپنے کام سے کام رکھا کرو۔زویا نے گھور کر کہا

سب کے سب کو فرینڈ لِسٹ سے نکالوں اور اٙن فالو بس اسکول فرینڈ سے بات کرو باقی تمہارے مامے یا چچے کے رشتیدار نہیں جن کو فرینڈ بنا کر رکھا ہے۔سوہا بنا اُس کی بات کا اثر لیے بولی

تم ہوتی کون ہو مجھے حکم سنانے والی۔زویا آپے سے باہر ہوتی بولی

تمہاری وہ بہن جس کے ساتھ تم نے اِس دنیا میں قدم رکھا تھا اور میں تمہارے بھلے کے لیے کہہ رہی ہو حکم نہیں ایک درخواست ہے ایف بی پہ سب اچھے نہیں ہوتے اِس لیے میری بات مان لو۔سوہا نے اب کی کجھ نرمی سے کہا

مجھے سب پتا ہے تمہیں بتانے کی ضرورت نہیں اب جاؤ یہاں سے۔زویا بے زاری سے بولی

تو تم میری بات نہیں مانوں گی۔سوہا نے سنجیدگی سے پوچھا

نہیں مانتی میں وہ کروں گی جو میرا دل کرے گا۔زویا بنا تاخیر کیے بولی

ٹھیک ہے میں پھر ڈیڈ سے بات کروں گی پھر ایف بی تو کیا ساری زندگی سیل فون کی شکل دیکھنے نصیب نہیں ہوگی۔سوہا جلانے والی مسکراہٹ چہرہ پہ سجاکر بولی۔

چغلی کروں گی سوچ لوں چغل خور سیدھا دوزخ میں جاتے ہیں۔زویا نے اُس کو ڈرانا چاہا۔

تمہارے بنا مجھے جنت میں مزہ بھی نہیں آئے گا اچھا ہے جڑواں بہنیں ہیں ایک ساتھ دوزخ کی سیر کرے گے اب بھلا تم میری اکلوتی بہن ہو تمہیں اکیلا تو دوزخ کی آگ میں نہیں جلنے دے سکتی نہ۔سوہا امڈنے آنے والے قہقہقہ کو ضبط کرتی بولی جس پہ زویا صبر کے گھونٹ بھر کے رہ گئ پھر سوہا نے پانچ ہزار سے دس فرینڈ ہی چھوڑے ایف بی کے جن میں سے سب ان کی کزنز تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چچی سوہا کہاں ہیں؟عباد سویرہ بیگم کے پاس کچن میں آتا بولا۔

سوہا تو اسکول گئ ہوئی ہے تم نہیں گئے کیا اسکول ایک ساتھ جاتے ہو نہ؟سویرہ بیگم نے کہا

نہیں آج ہم ٹرپ پہ جائے گا نہ اسکول کی طرف سے تو بس۔عباد نے مایوسی سے جواب دیا۔

تم دونوں کے بیچ ناراضگی چل رہی ہے کیا؟سویرہ بیگم نے مسکراکر پوچھا

جی چچی بس سوہا ساتھ چلنے کی ضد کررہی ہے پر دو کلاسس کے بچے نہیں چل رہے کیونکہ وہ چھوٹے ہیں۔عباد نے جواب دیا۔

سوہا تو نادان ہے تم توجہ نہ دو آرام سے اپنے ٹرپ پہ جانے کی تیاری کرو

جی۔عباد نے بس اِتنا کہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تم یہاں کیا کررہے ہو۔زویا عمار کے ساتھ بیٹھ کر بولی۔

میں ڈسکو ڈانس کررہا ہوں۔عمار نے سنجیدگی سے کہا تو زویا نے آنکھیں گُھمائی۔

فضول مت بولو یہ بتاؤ سوہا کہاں ہیں۔زویا کلاس میں نظر پھیراتی بولی۔

وہ تو تمہاری بہن ہے تمہیں پتا ہونا چاہیے ویسے بھی اُس نے بھائی کے جانے کا سن کر منہ بنالیا ہے۔عمار نے بے زاری سے کہا۔

اووہ دوستی جو ہے بہت گہری جس میں کوئی ڈرار نہیں ڈال سکتا ایک دوسرے کے بنا دل بھی نہیں لگتا اِن کا۔سوہا سر جھٹک کر بولی۔

جو دوستی جتنی گہری ہوتی ہے اُس میں بدگمانی بھی جلدی آجاتی ہے اور سوہا اور بھائی کے بیچ میں بھی آسکتی ہے۔عمار نے آرام سے کہا

اچھا تو تمہیں لگتا ہے عباد سوہا سے یا سوہا عباد سے دوستی ختم کرسکتی ہے۔زویا نے چیلینج کرتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا

بلکل یہ تو میرے دائیں ہاتھ کا کمال ہے۔عمار مغروریت سے بولا

تم سے نہ ہوپائے گا۔زویا نے کہا

کیوں نہیں ہوپائے گا عمار حنان سب کجھ کرسکتا ہے سوائے اچھے مارکس لینے کے۔عمار جھٹ سے بولا

اچھا پھر تم ایسا کرکے دیکھاؤ تو میں مانوں تمہاری بات میں کتنا دم ہے۔زویا نے اُس کو چیلینج کیا۔

اوکے چیلینج ایکسپیٹ۔عمار اُس کے آگے ہاتھ کیے بولا جو زویا نے تھام لیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

حال !

کِس کو کال پہ کال کیے جارہی ہو؟عائشہ نے زویا سے پوچھا جو مسلسل کسی کو کال کرنے میں لگی ہوئی تھی۔

عمار کو آج کالج نہیں آیا نہ اِس لیے۔زویا نے بتایا

آئی تو تمہاری ٹوئنز بہن بھی نہیں اُس کی بھی خیروخبر رکھا کرو۔عائشہ کی بات پہ زویا نے دھیان نہیں دیا تو عائشہ اپنی بے عزتی محسوس کرکے مزید بولی۔

تم نے جیسا کے بتایا تھا عمار نے تمہیں اپنے کمرے سے نکالا تھا تو پھر بھی تم اُس کو لائیک کرتی ہو جس نے تمہاری اتنی انسلٹ کی تم ایسے انسان کے لیے اپنے دل میں کیسے کوئی جذبہ رکھ سکتی ہو جو تمہاری کزن کے لحاظ سے بھی عزت نہیں کرتا۔

محبت میں انسان کا دل اپنے اختیار میں نہیں ہوتا دل کے معاملے میں انسان وہ کر گُزرتا ہے جس کا کبھی اُس نے تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔زویا نے سنجیدگی سے کہا

جہاں بات عزت کی آئے وہاں دل کے معاملوں کو نظرانداز کیا جانا چاہیے کیونکہ انسان کے پاس ایک عزت ہوتی ہے جو اُس کو اپنی جان سے زیادہ عزیز ہوتی ہے تو اِس لیے جہاں عزت نہیں وہاں دل کے معاملے یا محبت کا رشتہ بھی نہیں بنایا جاسکتا۔عائشہ نے جوابً کہا

یہ سب کہنے کی باتیں ہے جب خود پہ بات آتی ہے تو وہ اپنی عزت نفس کو مجروح کردیتا ہے اور صرف اپنی محبت کو پانا چاہتا ہے۔زویا نے پھر کہا

مجھے نہیں لگتا میں تو کبھی ایسا نہ کروں مانا کے محبت میں جھکنا بڑی بات نہیں پر وہ محبت جو اللہ سے کی جائے اور اُس کے سامنے جھک جایا جائے کیونکہ اللہ ہمیں دھتکارتا نہیں ہم تھام لیتا ہے اور انسان کی محبت میں انسان کے سامنے جھک جانا مجھے نہیں لگتا سہی ہے اگر آپ کو کسی سے محبت ہوتی ہے اور آپ کو لگ رہا ہے آپ اُس کو پا نہیں سکتے تو اللہ سے دعا میں مانگے اگر قسمت میں ہوگی تو مل جائے گی اگر نہ ہوئی تو بس۔عائشہ نے کہا

آج کیا کھالیا ہے جو اتنی بڑی بڑی باتیں کررہی ہو۔زویا کو تعجب ہوا۔

آج موم سے گالیاں کھاکر آئی ہوں سچی ابھی تک ڈائجسٹ نہیں ہوئی۔عائشہ دانتوں کی نمائش کرتی بولی۔

گالیاں کیوں۔زویا متجسس ہوئی۔

کل رات لیٹ سوئی تھی تو صبح آنکھ نہیں کُھل رہی تھی پھر کیا تھا موم جلالی روپ میں آگئ۔عائشہ معصوم شکل بنائے بولی

کام ہی ایسے ہیں تمہارے۔زویا تاسف سے بولی

ایک بات پوچھو تم سے؟عائشہ کجھ دیر بعد بولی

پوچھو؟زویا نے اِجازت دی۔

تم سوہا سے اِتنی نفرت کیوں کرتی ہوں تم دونوں آپس میں بس دو بہنیں ہو بہنوں میں تو بہت پیار ہوتا اور تم دونوں تو ہو بھی ٹوئنز اُن بہنوں میں تو ایک دوسرے میں جان ہوتی ہے مانا کبھی کبھار لڑائیاں ہوجاتی ہیں پر تم تو ہمیشہ سوہا سے غصے سے بات کرتی ہو تو اُس کا ریزن کیا ہے مجھے جاننا ہے سوہا ایسی تو نہیں جس سے کوئی اُس سے نفرت کرنا چاہے وہ تو اپنے آپ میں مگن رہنے والی ہے۔عائشہ نے اپنی اُلجھن اُس کے سامنے بیان کی۔

کلاس کا وقت ہوگیا ہے میں جاتی ہوں۔زویا سپاٹ انداز میں کہتی اپنا بیگ ہاتھ میں کیا عائشہ نے افسوس سے اُس کی پشت کو دیکھا

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

ماضی!

تمہیں کیا ہوا اب جب دیکھو شکل پہ بارہ دیکھائی دیتے ہیں۔عمار سوہا کے بال کھینچ کر بولا۔

عباد مجھ سے ملے بنا چلاگیا کیا ایسے ہوتے ہیں دوست۔سوہا نے اُداسی سے کہا۔

اگر بھائی تمہیں اپنا دوست مانتا تو ایسے ہرگز نہ کرتا۔عمار ٹیڑھی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا۔

کیا مطلب دوست مانتا تو ہم بہت اچھے دوست ہیں۔سوہا بُرا مان کر بولی۔

ہوگے پر دیکھو بھائی کو تم سے ملنے جانا چاہیے تھا آخر کو ایک ہفتہ بہت بڑا ہے پورے سات دن ہوتے ہیں اُس میں دوسری بات کے تم نے منع بھی کیا تھا مت جاؤ پھر بھی بھائی گیا تو مطلب یہی ہوا اُن کی نظر میں تمہاری کوئی اہمیت نہیں اور ویسے بھی بھائی تب تک بات کی پہل نہیں کرتا جب تک سامنے والا نہ کریں۔عمار اپنی مسکراہٹ ضبط کرتا بولا

تو میں کیا کروں جس سے عباد کی نظر میں میری اہمیت ہو۔سوہا نے رازداری سے پوچھا

تم بھائی کو بھائی کی طرح نظرانداز کرو۔عمار نے کہا

ہیں ایسے تو وہ مجھ سے دوستی ختم کردے گے بھلا نظرانداز کرنے سے اہمیت تھوڑئی نہ ہوتی ہے۔سوہا کو عمار کی بات عجیب لگی۔

ارے پاگل نظرانداز کرنے سے ویلیو بڑھتی ہے تم نظرانداز کروں گی تو بھائی تم سے وجہ پوچھے گا بات کرنے کی کوشش کرے گا۔عمار نے کہا

پر ابھی تو تم نے کہا عباد بھائی تب تک بات کی پہل نہیں کرتے جب تک سامنے والا نہ کریں۔سوہا کی بات پہ عمار کا دل کیا اپنا ماتھا پیٹ لیں۔

میرے الفاظ مت پکڑو تم میری بات پہ غور کرو جو بھی کہا میں نے اُس کو بھول کر یہ سوچو اگر بھائی کی نظر میں تم اُن کی دوست ہوئی تو وہ بات ضرور کرے گے تو اب تم نے کرنا یہ ہے کے جب وہ واپس آئے تو تم اُن کو نظرانداز کرنا۔عمار نے سوہا کا مائینڈ سیٹ کرنا چاہا اپنی باتوں سے۔

کوشش کروں گی۔سوہا بے دلی سے بولی عمار کے چہرے پہ مسکراہٹ پھیل گئ۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

سویرہ بیگم سوہا اور زویا کے لیے شاپنگ کر آئی تھی سوہا کو تو اپنی ساری چیزیں پسند آئی پر زویا کے پیر میں اُس کی سینڈل نہیں آرہی تھی

امی آپ نے کس کی سائیز کا سینڈل لیا ہے میرے پاؤں میں پورا ہی نہیں آرہا۔زویا اپنے پاؤں میں زبردستی سینڈل گُھساتی بولی۔

ہمیشہ تم دونوں کی ایک سائیز رہی ہے مجھے کیا پتا تھا پیروں کی چینج ہوگی۔سویرہ بیگم نے جواب دیا۔

فرعون کے پیروں کی کاپی ہے اِس کے پیر یہ نازک سینڈل کہاں گُھس سکتی ہے۔سوہا اُس کو چِڑانے کے غرض سے بولی جس پہ زویا نے زبردستی گھوری سے نوازہ پر پرواہ کس کو تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عباد کی واپسی ہوگئ تھی اُس نے آتے ہی سوہا سے بات کرنی چاہی پر سوہا عمار کے کہے مطابق اُس کو نظرانداز کرنے لگی جس سے عباد کو تکلیف ہوتی پر عمار نے سوہا کا ایسے برین واش کیا جو سوہا عمار کی ہر بات ماننے کو تیار تھی کیونکہ اُس کو عباد کی توجہ چاہیے تھی۔

عباد خاموش سا اپنے کلاس میں بیٹھا تھا جب عمار اُس کی کلاس میں داخل ہوا۔

بھائی آپ یہاں ہیں کلاس تو ختم ہوگئ۔عمار نے اُس کو ہوش میں لانا چاہا۔

چلتا ہوں میں بھی۔عباد نے سنجیدگی سے جواب دیا۔

سوہا اور زویا بھی باہر ہیں میں تو سوہا کو پارک لیں جارہا ہوں آپ زویا کو گھر لے جانا۔عمار نے بغور عباد کے تاثرات دیکھ کر کہا جو سپاٹ تھے۔

ہمم۔عباد اتنا کہہ کر اپنے کاندھے پہ بیگ ڈالتا کلاس سے باہر نکل گیا۔

کیا میں غلط کررہا ہوں مجھے زویا کی باتوں میں نہیں آنا چاہیے۔عمار اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر خود سے سوال کرنے لگا۔

نہیں غلط کیا یہ ایک چیلینج ہے جس کو پورا کرنا پڑے گا ورنہ بے عزتی ہوجائے گی۔عمار خود کو سمجھاتا عباد کے پیچھے گیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

زویا پریشانی سے گھر کے لان میں چکر کاٹ رہی تھی اُس کو اب پچھتاوا ہورہا تھا کے کیوں اُس نے عمار کو ایسا کرنے کا کہا ایسے تو وہ عباد کے بعد عمار سے قریب ہوگئ تھی جو بات اُس کو پسند بلکل نہیں آرہی تھی پر اب پانی سر سے اُپر گزرگیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عمار عباد مجھ سے بات نہیں کرتا تم نے غلط کہا تھا وہ مجھے منائے گا مجھ سے بات کرنے کی کوشش کرے گا۔سوہا نے روتے ہوئے عمار سے کہا جس کو اب پیشمانی ہورہی تھی۔

یار سوہا روؤ مت بھائی نہیں تو کیا ہوا میں ہوں نہ اب ہم بیسٹ فرینڈ بن جاتے ہیں بھائی تو ویسے بھی غصیلے ہیں اور پڑھاکوں ہے جب کی ہم دونوں ایک جیسے ہیں اِس لیے تم بھائی کے لیے پریشان مت ہو میں کبھی تمہیں نہیں چھوڑوں گا ایک بے مثال دوست بن جائے گے۔عمار نے اپنی شرمندگی کم کرنے کے غرض سے کہا۔

لیکن عباد۔سوہا کی سوئی عباد پہ اٹکی ہوئی تھی۔

بھائی کو چھوڑو اُن کے لیے تم صرف ایک کزن ہو۔عمار نے لاپرواہی سے کہا تو سوہا خاموش رہی۔اُس کے بعد نہ عباد نے سوہا سے بات کرنے کی کوشش کی اور نہ سوہا نے دونوں کا رشتہ دوستی سے ہٹ کر بس کزن تک کا رہ گیا تھا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

حال!

دھڑام کی آواز سے سوہا عمار کے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی جو اپنے کمرے میں جھومتا گانا گانے میں مگن تھا۔

ایسی چُپ تو

لگا کے گئ

ساری خوشیاں

کھاکے گئ۔

عمار خاموش ہوکر میری بات سنو۔عمار کو اپنے گرد چکر لگاکر گاتے دیکھ کر سوہا نے سپاٹ انداز میں کہا

ہائے اندر ہی اندر

سے ٹوٹا میں

تیرے عشق میں

خود سے ہی

روٹھا میں

عمار۔اِس بار سوہا نے چیخ کر اُس کا نام لیا۔

بھابھی ماں ہمارے کمرے میں پرویش پدہار رہی ہے یہ ہم کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہے۔عمار ٹھوڑی پہ انگلی رکھ کر سوچنے کی اداکاری کرتا بولا۔سوہا نے ناگواری سے اُس کی لینگویج نوٹ کی۔

جھوٹ بولا تھا کے عباد کسی اور سے محبت کرتا ہے۔سوہا اُس کی بات نظرانداز کرتی بولی

مجھے کتنے نفلوں کا ثواب ملنا تھا جھوٹ بول کر۔عمار نے دل جلانے والی مسکراہٹ سے کہا

کیونکہ تم ہمارے درمیان طلاق کروانے چاہتے تھے۔سوہا دوٹوک بولی۔

مجھے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تمہیں کہا تو تھا بھائی سے پوچھ لو تو پوچھ لیتی نہ۔عمار نے سرجھٹک کر کہا

مجھے اب پوچھنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ میں نے عباد کی ڈائری پڑھ لی ہے۔سوہا نے جواب دیا۔

کونسی ڈائری۔عمار ناسمجھی سے بولا

وہی جس کا پتا تمہیں نہیں تھا۔سوہا نے نخوت سے کہا

اُس میں کیا تھا ایسا؟عمار کے کان کھڑے ہوئے

یہی کے وہ بس مجھ سے محبت کرتے ہیں۔سوہا اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی تو عمار کو سکتہ طاری ہوا۔

یہ جھوٹ ہے۔عمار ماننے سے انکاری ہوا۔

یہی سچ ہے اور مجھے اب ایسا لگ رہا ہے جیسے پہلے تم نے جان بوجھ کر ہماری دوستی ختم کروائی تھی۔سوہا نے آرام سے کہا

ایسا کجھ نہیں میرا ایسا کوئی اٹینشن نہیں تھا۔عمار فورن سے اپنے دفع میں بولا

جو بھی کہو مجھے اب تمہاری کسی بات پہ اعتبار نہیں۔سوہا طنزیہ مسکراہٹ سے بولی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

تم یہاں؟زویا نے عمار کو اپنے گھر کے لاوٴنج میں بیٹھا دیکھا تو خوشگوار لہجے میں بولی۔

تم نے جان بوجھ کر عباد اور سوہا کی دوستی ختم کروانی چاہی تھی۔عمار سرد لہجے میں بس اتنا بولا

یہ پُرانی باتیں کیوں لیکر بیٹھے ہو اور عباد بھائی تمہارے لیے عباد کب سے ہوگیا۔زویا نے کہا

جو پوچھا ہے بس اُس کا جواب دو۔عمار دانت پہ دانت جمائے بولا۔

ہاں کیونکہ اُس کو عباد عزیز تھا اور مجھے اُس ہرچیز سے نفرت تھی جو سوہا کو عزیز تھی۔زویا بنا ڈرے بولے۔

بہن ہے وہ تمہاری۔عمار نے جیسے یاد کروایا۔

بہن وہ بہن جس کو ہربار مجھ سے برتری حاصل ہوئی وہ بہن جس کو سب سے زیادہ پیار ملا مجھے نظرانداز کیا گیا مجھے کس بات کی سزا ملی میرا کیا قصور تھا یہ کے میں سوہا کے ساتھ اِس دنیا میں آئی۔زویا نفرت سے بولی

سوہا نے تو کبھی تم سے نفرت نہیں کی اور نہ چچی یا چچا جان کے تم دونوں میں کوئی فرق کیا۔عمار کے بس اتنا کہا

فرق کیا ہے بہت فرق کیا ہے جو چیز مجھے پسند آتی وہ سوہا کی جھولی میں ڈال دیتے۔زویا چیخ کر اپنے اندر کا غبار نکالنے لگی۔

مسئلاً۔عمار نے جاننا چاہا۔

مسئلًا تم میں تم سے محبت کرتی ہوں پر اُس کی شادی تم سے ہونے لگی تھی تم مجھے نظرانداز کرکے سوہا کے آگے پیچھے پِھرتے تھے۔زویا کی بات پہ عمار بے یقینی سے اُس کی جانب دیکھتا رہا زویا کو اپنے کہے کا اندازہ ہوا تو وہاں سے اُٹھ کر چلی گئ۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

دو سال بعد!

اِن دو سالوں میں سب کجھ بدل گیا تھا سوہا نے خود کو بدل ڈالا تھا اُس نے ایم بی بی ایس کرنا چھوڑ دیا تھا دو دفع انٹری ٹیسٹ میں پاس نہ ہونے کی وجہ سے اُس کا دل اُکتاگیا تھا

سب کے لاکھ کہنے کے باوجود بھی اُس نے اپنا فیصلہ نہیں بدلا تھا اُس کو کہیں نہ کہیں ایک اُمید سی تھی کے عباد کو جب اِس بات کا پتا لگے گا تو وہ اُس کو ضرور ڈانٹے گا ہمیشہ کی طرح غصہ بھی کرے گا پر اِن دو سالوں میں ایک بار بھی عباد نے اُس سے رابطہ نہیں کیا جس سے وہ دل مسوس کرکے رہ گئ تھی۔

آسماں میں جیسے بادل ہورہے ہیں

ہم دھیرے دھیرے پاگل ہورہے ہیں۔

سوہا کی سوچوں میں خلل زویا کے گانا گانے میں پڑا اِن دو سالوں میں سب بدل گیا تھا سوائے زویا کے وہ ویسی کے ویسی تھی بس زویا تھی جس کو سوہا کے ایم بی بی ایس نہ کرنے کی خوشی تھی۔سوہا اُس کو نظرانداز کرتی جانے لگی جب زویا اُس کے سامنے آتی اُلٹے قدموں سے چلتی دوبارہ شروع ہوئی۔

یاد پیا کی ہاں پیا کی

یاد پیا کی آنے لگی ہائے

بھیگی بھیگی راتوں کو۔

میرا اِس وقت تمہاری جلی کٹی باتوں کو سننے کا موڈ نہیں۔سوہا نے سپاٹ لہجے میں کہا

پر میرا تو بہت دل ہے تمہیں سُنانے کا۔زویا نے سکون سے کہا

مجھے تمہاری دوست کی زبانی معلوم ہوگیا ہے تمہاری نفرت کی وجہ تو میں اِتنا کہوں گی اب تو میرا اور عمار کے درمیان کجھ نہیں اب تو تمہارا راستہ صاف ہے تو پھر کیوں اب بھی مجھ سے نفرت کرتی ہو کیا عمار تمہیں مجھ سے زیادہ عزیز ہے بہن میں ہوں تمہاری کیا بہن کی محبت سے زیادہ اُس نامحرم کی محبت تمہارے لیے عزیز ہے۔سوہا نے سنجیدگی سے کہا

جب تک عمار مکمل طور پہ میرا نہیں ہوجاتا تب تک تمہارے لیے میرے اندر موجود نفرت قائم رہے گی۔

سوہا بھائی سے بات کرو۔سوہا کجھ کہنے والی تھی جب عمار ہاتھ میں موبائل لیے بولا آج دو سال بعد کسی کے لیے یہ سن کر سوہا کے چہرے پہ تلخ بھرے تاثرات نمایاں ہوئے۔

مجھے کسی سے کوئی بات نہیں کرنی۔سوہا سرد لہجے میں بولی تو عمار نے جھٹ سے فون کی دوسری طرف ہاتھ رکھ کر سوہا کی آواز فون سے دور کرنے کی کوشش کی۔

کیا نخرے دیکھا رہی ہو بات کرو شوہر ہے وہ تمہارا۔زویا نے ناگواری سے کہا جب کی سوہا عجیب نظروں سے عمار کے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی۔

مجھے نہیں کرنی تو مطلب نہیں کرنی اور تم۔سوہا زویا کو جواب دے کر عمار کو مخاطب کیا

سیل فون میں اب اسپیکر کیمرے کے ساتھ نہیں ہوتا بلکہ چارجنگ کی جگہ کے ساتھ ہوتا ہے۔سوہا کی بات پہ عمار نے اُس جگہ کو دیکھا جہاں اپنا ہاتھ رکھا تھا کیمرے کے اُپر اپنا ہاتھ دیکھ کر عمار کھسیانہ سا ہوگیا تھا وہ کیسے یہ بات فراموش کرگیا تھا۔

پڑھائی کے علاوہ ہر بات پہ دماغ کام کرتا ہے۔زویا نے طنزیہ کیا سوہا زویا کی بات نظرانداز کرتی چلی گئ۔

تم کیوں اُس کو سکون کا سانس نہیں لینے دیتی وہ پہلے سے ہی اُفسردہ رہتی ہے اب تو اُس کی جان ہلکان کرنا چھوڑ دو۔عمار نے سوہا کے جانے کے بعد کہا

چھوڑ دوں گی اگر تم مجھ سے شادی کروگے تو۔زویا نے آرام سے کہا

کیسے بے شرموں کی طرح اپنی شادی کی بات کررہی ہو۔عمار نے اُس کو شرم دلانی چاہی

تم مرد کرسکتے ہو تم لڑکیاں کیوں نہیں۔زویا نے اُلٹا اُس سے سوال داغا۔

تم سے بات کرنا فضول ہے۔عمار نے تاسف سے سرہلایا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *