Mohabbatein by Rimsha Hussain NovelR50572 Last updated: 8 March 2026
Rate this Novel
Mohabbatein (Episode 01)Mohabbatein (Episode 02)Mohabbatein (Episode 03)Mohabbatein (Episode 04)Mohabbatein (Episode 05)Mohabbatein (Episode 06)Mohabbatein (Episode 07)Mohabbatein (Episode 08)Mohabbatein (Episode 09)Mohabbatein (Episode 10)Mohabbatein (Episode 11)Mohabbatein (Episode 12)Mohabbatein (Episode 13)Mohabbatein (Episode 14)Mohabbatein (Last Episode)
Mohabbatein by Rimsha Hussain
عباد سنجیدہ تاثرات سجائے کالج کے پرنسپل کے آفس میں بیٹھا تھا سامنے مس سکینہ جو سوہا کی فزکس کی ٹیچر تھی وہ سوہا کا پڑھائی میں رکارڈ اُس کو بتارہی تھی جو وہ بنا کسی تاثرات سے سن رہا تھا۔
مسٹر عباد آپ بھی یہاں سے پڑھے ہیں آپ یہاں کے ایک قابل اسٹوڈنٹ رہ چُکے ہیں اور آپ کی طرح ماشااللہ سے زویا بھی ہے پر آپ دونوں کے برعکس سوہا اور عمار کا ذرہ بھی انٹرسٹ پڑھائی میں نہیں عمار تو زیادہ دن غیر حاضر ہوتا ہے پر سوہا تو ریگیولر اسٹوڈنٹ ہوکر بھی ایسی ہے آپ میری مانے اُس کے لیے کسی اچھے ٹیوٹر کا بندوبست کرے جو اُس کو پری میڈیکل میں کیمسٹری فزکس باٹنی سبجیکٹس پڑھائے اگر وہ پری میڈیکل کی پڑھائی نہیں کرسکتی تھی تو آپ لوگوں چاہیے تھا اُس کا دوسرے سبجیکٹس میں داخلہ کرواتے۔مس سکینہ کے خاموش ہوتے ہی پرنسپل نے سنجیدگی سے کہا
آپ کو دوبارہ شکایت کا موقع نہیں ملے گا انشااللہ آپ کو اِس سال سپلی میں سوہا کے مارکس زویا سے زیادہ ملتے نظر آئے گے۔اُن کی ساری بات سن کر عباد نے سنجیدگی سے کہا
اُمید کرسکتے ہیں۔پرنسپل نے کہا۔
گاڑی جیسے ہی گھر کے پاس رکی سوہا جھٹ سے اپنے گھر کی سمت بھاگنے والی تھی جب عباد نے کہا
اپنی ساری بُکس لیکر آؤ آج سے ریگیولری میں تمہیں ٹیوشن دوں گا۔
آپ کیوں دے گے آپ کو اپنا بھی تو پڑھنا ہوتا ہے میں امی یا ڈیڈ سے کہہ کر کسی ٹیوٹر کا کہہ دوں گی آپ کو زحمت کرنے کی ضرورت نہیں۔سوہا نے پھسی پھسی سی آواز میں کہا جب کی عباد سے ٹیوشن کا سن کر اُس کو اپنے سامنے تارے ناچتے نظر آنے لگے۔
میری فکر نہیں کرو اپنی کرو شکایت ملی ہے مجھے تمہاری۔عباد نے سپاٹ انداز میں کہا
ایڈمیشن رجسٹریشن میں خوامخواہ آپ کا نمبر دیا گیا تھوڑا کجھ ہوتا نہیں آپ کو کال کردیتے ہیں۔سوہا کو صبح والی اپنی بے عزتی یاد آئی تو جل کے بولی۔
پانچ منٹ بعد تم مجھے ڈرائینگ روم میں بیٹھی نظر آؤ۔عباد نے تیز نظروں سے اُس کو گھور کر کہا
لنچ تو کرنے دے پانی تک نہیں پیا میں نے۔سوہا نے التجا کی۔
ہمارے گھر میں فاقے نہیں چل رہے چپ چاپ وہ کرو جو کہہ رہا ہوں۔عباد اپنی بات کہتا تیز قدموں سے گھر کے اندر کی جانب بڑھ گیا سوہا بھی مرے مرے قدموں کے ساتھ اندر جانے لگی۔
سوہا کے آنے کا وقت تو ہوگیا ہے پھر ابھی تک آئی کیوں نہیں گھر۔سویرہ بیگم نے نیل پالش لگاتی زویا سے کہا
محترمہ نے آج پھر ہمارہ نام روشن کیا ہے فزکس کا ایک آسان سوال اُس کو نہیں آیا ٹیچر نے کلاس سے باہر نکال دیا اور میری فرینڈ بتارہی تھی عباد سے شکایت بھی لگائی ہے۔زویا نے مزے سے بتایا۔
بہن ہے وہ تمہاری ایک ساتھ اِس دنیا میں آئی ہو پھر تم کیوں اُس کے ساتھ ایسا رویہ روادار کرتی ہو اُس کو اپنے ساتھ بیٹھا کر پڑھائی میں مدد کیا کرو تاکہ اُس کے نمبرز بھی اچھے آئے۔سویرہ بیگم نے نرمی سے کہا
آپ کی خودساختہ سوچ ہے ورنہ سوہا کو بس گرافک ڈزائینر بننے کا شوق ہے یہ فزکس کیمسٹری بائیولاجی وغیرہ اُس کے سر پہ سے گُزرتی ہے۔زویا نے سرجھٹک کر کہا
سوہا اتنی نکمی نالائق نہیں جتنا تم لوگوں نے اُس کو سمجھ لیا ہے۔سویرہ بیگم نے افسوس سے زویا کا انداز دیکھ کر کہا
نالائق کہاں بہت شاطر ہے وہ۔زویا منہ میں بڑبڑائی۔
جو ٹیسٹ ملا تھا پہلے اُس کی ساری تیاری ہونی چاہیے تمہاری پھر ہم اِس پروبلم کے سولیوشن نکالے گے۔عباد نے سنجیدگی سے فزکس کی کتاب کھول کر کہا۔
پہلے کجھ کھانے کے لیے تو منگوائے خالی پیٹ دماغ کیسے چلے گا۔سوہا نے معصوم شکل بناکر کہا۔
ٹینشن کیوں لیتی ہوں وائف ٹو بی مجھے پتا چل گیا آج تم بہت مشقت کرنے والی ہو اِس لیے میں تمہارے لیے برگر اور نگٹس لایا ہوں۔عباد سے پہلے ہی عمار ڈرائینگ روم میں داخل ہوتا بولا جس کے ہاتھ میں شاپرز تھے سوہا کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئ تھی عباد نے زور سے اپنے ہاتھ کی مٹھیاں بھینچ کر امڈ آنے والے اشتعال کو قابو کیا۔
شکریہ عمار۔سوہا خوش ہوتی بولی
عمار تم اپنا کام کرو جاکر اور سوہا کو پڑھنے دو۔عباد نے سنجیدگی سے کہا
میں خاموشی سے بیٹھا رہوں گا آپ یا سوہا کو بلکل ڈسٹرب نہیں کروں گا۔عمار نے جوابً کہا
عمار اپنے کمرے میں جاؤ۔عباد نے اپنی بات پہ زور دیتے کہا تو عمار اُٹھ کر چلاگیا سوہا نے جیسے ہی اپنا ہاتھ شاپرز میں ڈالنا چاہا عباد نے اُس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر ایسا کرنے سے روک دیا۔
پہلے مجھے فزکس کا ایک چیپٹر زبانی بتاؤں گی اُس کے بعد جو کھانا چاہوں کھاسکتی ہو اُس سے پہلے نہیں۔عباد شاپرز اُس کی پہنچ سے دور کرتا بولا
ایک بائیٹ تو لینے دے۔سوہا کی شکل رونے والی ہوگئ۔
تم پڑھو تب تک میں آتا ہوں۔عباد ہاتھ میں شاپرز لیے وہاں سے چلاگیا سوہا نے حسرت بھری نظروں سے شاپرز کو دیکھا۔
آسیہ۔
عباد کام کرتی ملازمہ کو مخاطب کرتا بولا
جی صاحب۔آسیہ فورن متوجہ ہوئی۔
یہ تم اپنے ساتھ لیں جانا اور تیس منٹ بعد ڈرائینگ روم میں کھانے کے لوازمات لے آنا۔عباد شاپرز اُس کی طرف بڑھاکر بولا تو آسیہ نے سرہلایا۔
عباد واپس ڈرائینگ روم میں آیا تو سوہا رٹا لگانے میں مصروف تھی۔
کہاں تک پہنچی تیاری۔عباد نے سوال داغا
ابھی تک تو یہ دو جوابات یاد ہوئے ہیں۔سوہا کی بات پہ عباد کا سر نفی میں ہلنے لگا
