Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mohabbatein (Episode 14)

Mohabbatein by Rimsha Hussain

عباد کو سوئے ابھی کجھ ہی وقت ہوا تھا جب سوہا نے اُس کو جھنجھوڑ کر اُٹھانا چاہا

کیا ہے سوہا سونے دو۔عباد کروٹ بدلتا خمار زدہ آواز میں بولا

عباد آپ کو نیند کیسے آسکتی ہے کم سے کم آج تو نہیں آج تو اِتنا خاص دن تھا۔سوہا نے منہ بناکر کہا

آج کیا ہوا ایسا انوکھا جو میرا سونا نہیں بنتا۔عباد بے زار ہوا۔

آج آپ نے مجھ سے اپنی محبت کا اظہار کیا ہے محبت ہونے کے بعد تو انسان کی بھوک پیاس ختم ہوجاتی ہے نیند آنکھوں سے روٹھ جاتی ہے تو آپ کیسے اِتنے پرسکوں سوسکتے ہیں۔سوہا نے جیسے اُس کی عقل پہ ماتم کیا۔

سوہا میں کوئی ٹین ایج کا لڑکا نہیں اور نہ مجھے نئ نئ محبت ہوئی ہے اور یقین جانو جب نئ نئ بھی ہوئی تھی نہ تب بھی میرا دل ایسی خرافاتی حرکتیں نہیں کررہا تھا۔عباد کی بات پہ سوہا کا منہ کُھل گیا

محبت جذبہ ایک ہے پھر چاہے وہ اٹھارہ سال کے ٹین ایجر کو ہو یا اٹھائیس کے بُزرگ کو فرق نہیں پڑتا۔

یہ تم نے بزرگ کِس کو بولا۔عباد صدمے میں بولا

میں نے جسٹ مثال دی۔سوہا گِڑبڑا کر بولی

پھر ٹھیک ہے۔عباد اِتنا کہتا بازوں ٹکائے پھر سے سونے لگا۔

عباد یار کیا ہوگیا ہے باتیں کرتے ہیں نہ۔سوہا نے بازوں اُس کی آنکھوں سے ہٹائے کہا

سوہا پلیز مجھے سونے دو آج میری جاب کا پہلا دن تھا پھر شام میں شادی والے فنکشن کی وجہ سے میں تھکا ہوں باتیں ہم پھر بھی کرلیں گے۔عباد نے کجھ نرمی سے کہا

ٹھیک ہیں نا کریں بات ایک دن جب مرجاؤں گی نہ تو آجائیے گا روز صبح کو تازے پھول چڑھانے میں بھی پھر آپ کو قبر سے ڈرا کر بھاگا دوں گی جب آپ سونے کی کوشش کریں گے تو خواب میں آکر آپ کو تنگ کروں گی سونا بھی آپ پہ حرام کردوں گی۔سوہا کا مطلب تھا مرتے مرجائے گی پر سکون پھر بھی نہیں رہنے دے گی۔

عباد سرد نظروں سے اُس کو گھورتا رہا پھر جب بولا تو لہجہ ہر احساس سے عاری تھا۔

تمہیں لگتا ہے اگر تم مرجاؤ گی تو میں زندہ رہوں گا تمہارے بنا اگلا سانس میں بھی نہ لیں پاتا۔عباد کی بات پہ وہ لاجواب ہوگئ۔

اگر ایسی بات ہے تو اگر میری شادی کسی اور سے ہوجاتی تو؟سوہا نے جاننا چاہا

اندر سے تو مرگیا تھا شاید جسم سے روح بھی نکل جاتی۔سوہا کا دل زور سے دھڑکا تھا

اچھا اب میں سونے لگا ہوں۔عباد واپس اپنے کھول میں آتا بولا

عباد بات نہیں کررہے نہ ٹھیک ہے پھر میں بھی اب کجھ نہیں بولوں گی۔سوہا ایموشنل بلیک میل کرتی بولی۔

عباد کجھ دیر آنکھیں بند کیے لیٹا رہا مگر سوہا کو بیٹھا دیکھا تو خود بھی اُٹھ کر بیٹھ گیا۔

آجاؤ کیا باتیں کرنی ہے تمہیں۔عباد اُس کو اپنے ساتھ لگائے بولا تو سوہا کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی۔

وہ میں کہہ رہی تھی۔

سوہا کی باتوں کا سلسلہ دیر تک چلا عباد سوئی جاگی کیفیت میں اُس کی بے تُکی باتیں سُنتا رہا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *