Mohabbatein by Rimsha Hussain NovelR50572 Mohabbatein (Episode 04)
Rate this Novel
Mohabbatein (Episode 04)
Mohabbatein by Rimsha Hussain
زویا آپ کا دھیان کہاں ہیں میں آپ سے ایک سوال کررہی ہوں اُس کا جواب دے۔ کیمسٹری کی ٹیچر نے اب کی سخت لہجے میں زویا کو مخاطب کیا جو کلاس میں ہوکر بھی نہیں تھی
سوری میم آپ نے کونسا سوال پوچھا۔ زویا کھڑی ہوتی شرمندگی سے بولی
کلاس میں بیٹھنے سے پہلے اپنی ساری سوچو کو گھر چھوڑ آیا کریں۔ کیمسٹری کی ٹیچر سختی سے کہتی دوبارہ اپنا سوال دوہرانے لگی
Q
Why boiling point of water is more than hydrogen fluoride?
میم وہ کل میرے سر میں درد تھا جس وجہ سے میں نے یہ چیپٹر یاد نہیں کیا تھا۔ زویا اپنے ہاتھوں کو آپس میں ملاتی بولی
آپ ایک قابل اسٹوڈنٹ ہے ایسے بہانے آپ کو سوٹ نہیں کرتے۔ ٹیچر نے جیسے افسوس سے کہا۔
میم میں اِس سوال کا جواب دوں۔ سوہا اپنا ہاتھ اُپر کرتی بولی زویا نے آنکھیں پھاڑ کر سوہا کا مطمئن چہرہ دیکھا
یس شیور۔ کیمسٹری کی ٹیچر نے اجازت دیتے کہا
Ans
Water molecule through its extensive hydrogen bonding forms a bulky molecule and it is very difficult to break its bonds. A large amount of energy is required to break all its bonds. Thus H2O has a higher boiling point than HF.
ویری گُڈ بیٹھ جائے آپ۔ کیمسٹری کی ٹیچر نے کہا تو سوہا مسکراکر اپنی سیٹ پہ بیٹھ گئ
اِتنا آسان اور چھوٹا انسر تھا جو آپ کو معلوم نہیں تھا بہت شرمندگی کی بات ہے۔ ٹیچر کی بات پہ زویا نے زور سے مٹھیاں بھینچ اُس نے شعلہ برساتی نظروں سے سوہا کا کِھلتا چہرہ دیکھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھٹی کے وقت سوہا خوشی سے فرنٹ سیٹ پہ بیٹھی زویا نے غصے سے اُس کو دیکھا پھر پچھلی سیٹ پہ براجمان ہوگئ عباد نے گہرے نظروں سے سوہا کی مسکراہٹ کو دیکھا تھا
آپ کو پتا ہے آج میں نے کیمسٹری کے سارے جوابات دے جو جو پوچھے جارہے تھے آپ نے جو تیاری کروائی تھی دیکھیے گا اِس بار میں ٹاپ کروں گی۔ عباد نے گاڑی سٹارٹ کی تو سوہا اُس کی طرف مڑ کر بولی۔
اچھی بات ہے۔ عباد سامنے روڈ پہ نظریں جماتا بولا۔
تمہاری کیسی تیاری ہے؟ عباد نے زویا سے پوچھا
ہمیشہ کی طرح اے ون۔ زویا مغرور لہجے میں بولی۔
ہمم ویری گُڈ۔ عباد ستائش لہجے میں بولا سوہا کی خوشی مانند ہوگئ تھی اُس کو پہلے لگا تھا عباد اُس کو شباشی دے گا پر اُس نے کوئی خاص رسپانس نہیں دیا تھا پر زویا کے لیے اُس کے لہجے میں ستائش تھی دوسری طرف اُس کا بُجھا چہرہ دیکھ کر زویا کُھل کر مسکرائی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمار تم کیا چاہتے ہو نکاح ہونا چاہیے یا نہیں۔ زویا نے لان میں عمار سے پوچھا جو سوہا کا انتظار کررہا تھا
سچی بتاؤ تو میرا بڑا دل تھا پر جب امی نے اپنا فیصلہ بدلا تو دل ٹوٹے ٹوٹے ہوگیا۔عمار معصوم شکل بنائے بولا
اچھا پر سوہا کجھ خاص خوش نظر نہیں آرہی تھی۔زویا نے اپنے لہجے کو سرسری کرکے کہا
نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں وہ تو مجھ سے زیادہ خوش تھی۔عمار نے فورن سے اُس کی بات پہ اختلاف کیا تو زویا نے صبر کے گھونٹ بھرے
عمار تم بھی جھولے پہ آؤ۔سوہا لان میں لگے جھولے پہ بیٹھتی عمار کو آواز دینے لگی تو عمار اُس کی طرف جانے لگا زویا واپس جانے والی تھی جب اُس کی نظر ٹیرس پہ کھڑے عباد پہ پڑی جو بے تاثر نگاہوں سے عمار کے ساتھ سوہا کو دیکھ رہا تھا زویا کے چہرے پہ شاطرانہ مسکراہٹ آئی اُس نے اپنے قدم گھر کے بجائے ٹیرس کی طرف کیے۔
لگتا ہے دل میں آگ لگی ہے۔ زویا کی بات پہ عباد نے اپنا چہرہ اُس کی طرف موڑا
کیا مطلب؟عباد نے سردمہری سے پوچھا
زویا: مطلب کجھ نہیں خاص نہیں بس یہ جاننا تھا کہ آپ کی اور سوہا کی بہت بنتی تھی اب کیوں نہیں لگتی؟
عباد: بچپن گیا تو اب کیا فائدہ پُرانی باتوں کو یاد کرنے کا۔
زویا: پُرانی باتوں کو یاد رکھنا چاہیے اِس سے انسان کو اصلاح ملتی ہے۔
مجھے نہیں لگتا پُرانی باتوں کو یاد کرنے سے سوائے تکلیف کے کجھ حاصل نہیں ہوتا۔ عباد سر جھٹک کر بولا
پھر آپ ایک بات بتائے بچپن میں جو گہری دوستی تھی وہ کم سے ختم کیسے ہوئی کوئی تو بات ہوگی نہ۔ زویا پھر سے متجسس ہوئی۔
میری سوہا سے کوئی گہری دوستی نہیں تھی اِس لیے بار بار ایک بات مت کرو۔ عباد غصے سے بولا
غصے کرنے سے حقیقت بدل نہیں جائے گی اگر آپ چاہے تو پُرانے مراسم نئے ہوسکتے ہیں۔ زویا اپنی بات عباد کے دماغ میں ڈالتی چلی گئ۔






میں سوؤ سوؤ ہاری ہاری
میں رُل دی آ ماری ماری
میں سوؤ سوؤ ہاری ہاری
میں رُل دی آ ماری ماری
میں سوؤ سوؤ ہاری ہاری
میں رُل دی آ ماری ماری
یہ غائب نہیں ہوگئ تھی۔ سوہا بڑے انہاک سے لاؤنج میں بیٹھی کیسی تیری خودغرضی ڈرامہ دیکھ رہی تھی جب عمار ساتھ بیٹھتا پوچھنے لگا۔
ہمم پر شمشیر نے پتا لگوا بھی لیا ایک ہی قسط میں اِس جگہ اگر انڈین ڈرامہ ہوتا نہ تو سو قسطیں تو بس ہیرو کو اپنی ہیروئن ڈھونڈنے میں لگ جاتیں۔سوہا نے دوسرا چینل لگاتے ہوئے مسکراکر کہا
چینل کیوں تبدیل کیا۔ عمار ریموٹ اُس کے ہاتھ سے لیتا بولا۔
ختم ہوگیا ڈرامہ۔سوہا نے دوبارہ اُس کے ہاتھ سے ریموٹ اپنے ہاتھ میں لیکر کہا
اِتنی جلدی۔ عمار بدمزہ ہوتا بولا
تم آئے غلط وقت پہ جب ڈرامے کا آخری سین چل رہا تھا۔ سوہا نے مزے سے بتایا
تو کرکٹ والا چینل لگاؤ۔عمار نے کہا
بور مت کرو۔سوہا نے بے زاری سے کہا
ارے عمار تم کب آئے۔ زویا سوہا اور عمار کے بیچ بیٹھتی بولی سوہا جھٹ سے فاصلے پہ ہوئی اُس کو زویا کی یہ حرکت ذرہ نہیں بھائی۔
ابھی آیا ہوں۔ عمار نے جواب دیا۔
تم فری ہو تو میرے ساتھ شاپنگ پہ چلوگے۔ زویا نے پوچھا
شاپنگ پہ؟ عمار نے کنفرم کرنا چاہا
ہاں کیوں وہ دراصل میرا اِرادہ اپنی فرینڈ کے ساتھ جانے کا تھا پر اُس کو کوئی کام آگیا اِس لیے اکیلے جانا سہی نہیں لگا تم ساتھ چلتے تو اچھا تھا۔ زویا نت وضاحت دیتے کہا
نو پروبلم سوہا تم چلو گی۔ عمار اُس کو جواب دیتا سوہا سے بولا
نہیں میں تو عباد سے ایک لیکچر ڈسکس کرنے جاؤں گی۔سوہا نے زویا کے چہرے پہ ناگواری کے تاثرات دیکھ کر جواب دیا
اوکے ایز یو وِش۔ عمار نے کندھے اُچکاتے کہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ میرا سب کجھ تھا
پر میرا مقدر نا تھا
کاش وہ میرا سب کجھ نہ ہوتا
میرا مقدر ہی ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔!
عباد اپنے کمرے کی اسٹڈی ٹیبل پہ ڈائری لکھنے میں مصروف تھا جب کمرے کا دروازہ نوک ہوا۔
یس۔ عباد نے ڈائری بند کرتے اِجازت دی۔
عباد وہ آپ سے مجھ کام تھا۔ سوہا اندر آتی بولی
تم یہاں میرے کمرے میں کیا کررہی ہو وہ بھی اِس وقت۔ عباد نے سخت لہجے میں بولا
وہ۔سوہا اُس کو اِتنے غصے میں دیکھ کر گِڑبڑائی
کیا وہ سوہا تم بچی نہیں اٹھارہ سال کی ایک میچیور لڑکی ہو تمہیں معلوم ہونا چاہیے ایسے کسی لڑکے کے کمرے میں نہیں آتے۔ عباد نے سرد لہجے میں کہا
آپ کزن ہیں میرے اور میں کسی کے نہیں بلکہ آپ کے کمرے میں آئی پر شاید مجھے غلطی ہوگئ کیونکہ مجھے آپ پہ اعتبار تھا اِس لیے بنا سوچے سمجھے چلی آئی شکریہ آپ کے بتانے کا آئیندہ میں زندگی میں کبھی اِس کمرے میں قدم نہیں رکھوں گی ایک ضروری لیکچر آپ سے سمجھنا تھا پر اب اِس کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔سوہا کو عباد کا اتنا سخت ہونا بُرا لگا تھا پہلے زویا کا رویہ اور اب عباد کا ایسا برتاؤ کرنا اُس کا دل دُکھا تھا تبھی بنا سوچے سمجھے بولتی گئ عباد بے تاثر نگاہوں سے اُس کو دیکھتا رہا سوہا ایک نظر اُس پہ ڈال کر باہر جانے لگی جب عباد یکدم ہوش میں آتا اُس کی کلائی پکڑ کر روکا۔
ہاتھ چھوڑے میرا۔ سوہا نے بنا اُس کی طرف دیکھ کر کہا
کونسا لیکچر سمجھنا ہے؟ عباد نے پوچھا
کوئی بھی نہیں میں خود سمجھ سکتی ہوں آپ کی مجھے ضرورت نہیں۔سوہا تلخ ہوتی بولی اُس کے آخری جُملے پہ عباد کے چہرے پہ عجیب تاثرات نمایاں ہوئے
یہ بات میں پہلے سے جانتا ہوں۔عباد کی بات پہ سوہا نے ناسمجھی سے اُس کی طرف دیکھا
ڈرائینگ روم میں بیٹھو میں آتا ہوں۔ عباد اُس کی کلائی چھوڑتا بولا
مجھے اب آپ کی مدد نہیں چاہیے۔ سوہا سنجیدگی سے کہتی کمرے سے باہر چلی گئ پیچھے عباد بے بسی سے بالوں میں ہاتھ پِھیرتا رہ گیا۔







ڈیڈ مجھے آپ سے بات کرنی تھی۔ سوہا سنان صاحب کے پاس آتی بولی۔
کہو میرا بچہ کیا بات ہے؟ سنان صاحب نے مسکراکر اُس کو اپنے ساتھ بیٹھا کر پوچھا
ایکزامز قریب ہیں تو میں چاہتی ہوں آپ کسی ٹیوٹر کا بندوبست کریں میرے لیے۔ سوہا نے کہا
آپ کو تو عباد پڑھاتا تھا نہ؟ سنان صاحب کو تعجب ہوا۔
جی پر اُن کی خود کی پڑھائی متاثر نہ ہو اِس لیے میں چاہتی ہوں کسی ٹیوٹر سے ٹیوشن لوں عباد نے جتنا پڑھایا اُتنا کافی ہے۔ سوہا عباد کا رویہ یاد کرتی بولی۔
ٹھیک ہے جیسے آپ کی مرضی میں کرتا ہوں بندوبست۔سنان صاحب نے کہا تو وہ سرہلاتی اپنے کمرے کی طرف جانے لگی جب زویا اُس کے سامنے آئی۔
کبھی عباد کبھی عمار پھر عباد تمہارا مسئلہ کیا ہے کیوں ہر ایک کی اٹینشن چاہتی ہوں کیوں آخر کیوں۔زویا خونخوار نظروں سے اُس کو دیکھتی بولی
تم پہلے مجھے یہ بتاؤ میں نے تمہارا کیا بگاڑہ ہے بہن ہوں میں تمہاری وہ بھی جڑواں تو پھر تم کیوں ہر بار کاٹ کھانے کو ڈورتی ہوں جیسے بہن نہایت دُشمن ہوں میں تمہاری۔سوہا بازوں سینے پہ باندھتی اُس کے مقابل کھڑی ہوتی بولی۔
زویا:ناسمجھ تو تم نہیں جو میرے تلخ رویے کی وجہ نہ جان پائی ہو
سوہا:ناسمجھ تو میں واقع نہیں ہوں پر تمہارے رویے سے لاعلم ضروری ہوں بار بار اپنے لہجے اپنے لفظوں کے خنجر مارنے سے بہتر ہے اصل وجہ بتاؤ جو تمہارے منہ سے یہ زہر اُگلتا ہے آخر میں بھی تو وہ وجہ جانوں۔
تم سے بحث نہیں کرنی مجھے بس یہ کہوں گی ایک پہ ٹِک کے بیٹھو۔زویا نفرت سے کہہ کر رکی نہیں سوہا ساکت سی زویا کی بات کا مطلب جاننے کی کوشش کرنے لگی جو اُس کے سمجھنے سے بالاتر تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج صبح جب کالج جانے لے لیے وہ زویا کے ساتھ باہر آئی تو خود ہی پچھلی سیٹ پہ براجمان ہوگئ جہاں عمار پہلے سے بیٹھا ہوا تھا عباد نے گہری سانس لیکر اُس کو دیکھا زویا جب فرنٹ سیٹ پہ بیٹھی تو عباد نے گاڑی سٹارٹ کی۔
سُنا ہے تم نے اب ٹیوٹر سے پڑھنا ہے۔عمار نے سوہا کو مخاطب کیا جو موبائل میں مصروف تھی۔
ہممم ایکزامز قریب ہے نہ تو اِس لیے۔سوہا نے جواب دیا۔
اچھا اِس بار تم پڑھائی کے معاملے میں کافی سنجیدگی سے سوچ رہی ہو۔عمار حیران ہوا
ایم بی بی ایس کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا بنتا ہے۔سوہا نے مسکراکر کہا زویا نے بےبزاری سے بیک ویو مرر سے دونوں کو دیکھا اسٹیئرنگ پہ عباد کے ہاتھ کی گرفت مضبوط ہوگئ تھی جس سے اُس کے ہاتھ کی رگیں اُبھری نظر آنے لگی تھی زویا کی بے زاری پل بھر میں اُڑن چھو ہوئی تھی۔
کالج کے آتے ہی سوہا عمار باہر نکل گئے تھے زویا اُن کو گیٹ سے اندر جاتا دیکھا تو عباد کو دیکھا جس کی سفید رنگت میں سرخی مائل ہوگئ تھی۔
عباد تمہاری طبعیت ٹھیک ہے؟زویا مصنوعی فکرمندی کا اظہار کرتی اُس کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھ گئ جو عباد نے سکنڈ سے پہلے جھٹک دیا تھا۔
میں ٹھیک ہوں گاڑی سے اُترو تم مجھے یونی سے لیٹ ہورہا ہے۔عباد سپاٹ انداز میں بولا
دیکھو عباد میں تمہاری کزن ہوں تم ہر بات مجھ سے شیئر کرسکتے ہو۔زویا نے اُس کے دل کا بھید جاننا چاہا عباد نے سنجیدگی سے اُس کو دیکھا پھر اُس کی طرف جھکا تو زویا نے ڈر کر اپنی آنکھیں بند کرلی۔
چررر
کی آواز پہ اُس نے آنکھیں کھولی تو معلوم ہوا عباد نے اُس کی طرف کا ڈور اوپن کیا تھا۔زویا جل بھن کر راکھ ہوتی گاڑی سے اُتر کر ٹھاہ کی آواز سے دروازہ بند کیا۔
عباد ناگواری سے اُس کی پشت دیکھتا گاڑی کو ٹرن کرنے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج تم پریشان ہو؟مناہل نے عباد سے پوچھا
نہیں۔عباد نے یک لفظی جواب دیا
میں تمہاری دوست ہوں کم سے کم مجھ سے تو اپنی بات شیئر کیا کرو۔مناہل نے شکوہ کیا
تم سب کو میری پریشانی نظر آتی ہے کیا میرا چہرہ میرے اندرونی کیفیت کو بیان کرتا ہے۔عباد اُس کی طرف متوجہ ہوا بولا
نہیں اندرونی کیفیت اگر چہرے سے معلوم ہوجاتی تو پوچھنے کی نوبت نہ آتی یا پھر کوئی کسی کے چہرے کی معصومیت دیکھ کر دھوکہ نہ کھاتا ہاں جن سے ہمارا گہرا رشتہ ہوتا ہے نہ اُس کے دل کا حال ہمیں معلوم ہوجاتا ہے جیسے میں تمہاری دوست ہوں تمہارے اندر کا حال پورا تو نہیں پر کجھ جان ہی سکتی ہوں۔مناہل نے ہلکی مسکراہٹ سے کہا
تمہیں پتا ہے مناہل زندگی میں ہر کوئی چاہتا ہے ہر کوئی سمجھنے کی کوشش بھی کرتا ہے پر جن کی توجہ ہم چاہتے ہیں وہ خواہش ہمیں رُلا ڈالتی ہے۔عباد زخمی مسکراہٹ سے بولا۔
تم کس کی بات کررہے ہو؟مناہل نے تجسس سے پوچھا
کسی کی بھی نہیں۔عماد بات ٹال کر بولا
