Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mohabbatein (Episode 08)

Mohabbatein by Rimsha Hussain

زویا

زویا لان میں بیٹھی تھی جب عمار کو اپنے گھر میں اندر آتا دیکھا تو وہاں سے جانے گی پر عمار کے آواز دینے پہ چاہ کر بھی وہ اپنے قدم آگے بڑھا نہ پائی۔

کیا ہے؟زویا ناراضگی سے بولی۔

سوری میں اُس دن تم سے بہت ہارش بیہیو کرگیا تھا تمہاری غلطی نہ ہونے کے باوجود بھی۔عمار شرمندگی سے بولا۔

ایک ماہ بعد خیال آیا ہے تمہیں۔زویا نے طنزیہ کیا۔

احساس اُس دن ہوگیا تھا پر ہمت نہیں ہورہی تھی تمہارے سامنے آنے کی۔عمار نے جواب دیا

اب ہوگئ ہمت؟زویا نے پوچھا

تبھی تو تمہارے سامنے کھڑا ہوں.عمار نے جواب دیا۔

تم نے میری بہت بے عزتی کی تھی تھکا دے کر کمرے سے باہر کیا تھا۔زویا نے شکوہ کیا

سوری ونس اگین پر میں اُس وقت بہت ٹینس تھا اُپر سے تمہاری بات نے مجھے ایسا کرنے پہ مجبور کردیا تھا۔عمار نے کہا

اب یہاں کیوں کھڑے ہو اندر چلو۔زویا نے کہا

میں اندر نہیں چلوں گا۔عمار نے انکار کیا

کیوں سوہا کے لیے آتے تھے اِس لیے اور اب وہ تمہاری گھر ہے۔زویا طنزیہ بولی

وہ وہاں ہوکر میری نہیں جہاں میں نے اُس کو بس اپنا مانا تھا دل کا رشتہ تھا ہمارا جو اُس نے بُھلا دیا۔عمار زخمی لہجے میں بولا

وہ تمہاری قسمت میں نہیں تھی اِس لیے اُس کو بھول کر اپنے آس پاس نظر ڈوراؤ جہاں تمہارے چاہنے والے کم نہیں۔زویا اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتی بولی۔

میں اب چلتا ہو پھر ملاقات ہوگی۔عمار اُس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ آزاد کرواتا بولا زویا بت بنی اپنے خالی ہاتھ کو دیکھنے لگی۔

💕
💕
💕
💕
💕

کلاس لینے کے بعد سوہا کیفیٹریا آئی تھی جہاں زویا بھی اپنی دوستوں کے ساتھ موجود تھی۔

سوہا کیسی ہو؟زویا اُس انداز سے پوچھا جیسے سوہا اس کے لیے بہت اجنبی ہو

ٹھیک ہوں اللہ کا شکر ہے۔سوہا نے مروتً کہا

لگتا ہے عباد لِفٹ نہیں کرواتا۔زویا نے اُس کو ورغلانا چاہا۔

شوہر ہیں وہ میرے اور میں بیوی ہوں اُن کی کوئی گرل فرینڈ نہیں جو لفٹ کروائے اور کبھی نہیں کروائے گے۔سوہا تلخ ہوتی بولی

کیا ہے نہ عباد کے لیے مشکل ہوگا تمہیں قبول کرنا کیونکہ وہ جانتا ہے تمہاری زندگی میں اُس کا بھائی رہ چُکا ہے شادی کے لحاظ سے مرد کی خواہش ہوتی ہے کے اُس کی زندگی چاہے جتنی بھی لڑکیاں کیوں نہ ہو پر جو اُس کی شریکِ حیات بنے اُس کی زندگی میں وہ پہلا مرد ہو ایسے ہی عباد کی بھی خواہش ہوگی۔زویا مصنوعی افسوس سے بولی

تمہارے منہ سے ہمیشہ زہر ہی اُگلتا ہے کجھ لوگ ہوتے ہیں جن کو کسی دوسرے کی خوشی برداشت نہیں ہوتی تمہارا شمار بھی اُن میں سے ہیں کیونکہ تمہیں تو اپنی بہن کی خوشیاں بھی برداشت نہیں ہوتی جب دیکھو تب رنگ میں بھنگ ڈالنے آجاتی ہوں۔سوہا نے لحاظ بلائے طاق کیے سارے حساب بے باک کیے۔

یہ کس انداز میں بات کررہی ہو تم مجھ سے بہن ہوں میں تمہاری۔کیفٹیریا میں بیٹھے لوگ اُن کی طرف متوجہ ہوئے تو زویا غرانے والے انداز میں سوہا سے بولی

بلکل ویسے جیسے اکثر تم مجھ سے بات کرتی ہو یہ بھول کر کے میں بھی تمہاری بہن ہوں پر آج میں ایک بات بتا دے رہی ہو آئیندہ سے مجھ سے اِس انداز میں بات مت کرنا میں نے بہت برداشت کرلیا مگر اب اور نہیں مجھے لگتا تھا میری اچھائی تم پہ اثرانداز کرے گی تمہارا رویہ میرے ساتھ ٹھیک ہوجائے گا پر میں غلط سمجھتی تھی اصل زندگی میں احساس کے لیے مرنا پڑتا ہے ورنہ کوئی کسی کی قدر نہیں کرتا۔سوہا اپنے اندر کا غبار نکال کر وہاں سے چلی گئ زویا جہاں کی تھی وہیں کے وہی رہ گئ اُس کو یقین نہیں آرہا تھا یہ سب باتیں اُس کو سوہا سنا کر گئ ہے۔

کیا ہوا؟عباد سوہا کو لینے آیا تو اُس کو خاموش دیکھ کر پوچھنے لگا

کجھ نہیں بس سر میں درد ہو رہا ہے۔سوہا نے سنجیدگی سے کہا

اچھا۔عباد پریشان ہوتا اُس کی پیشانی چھونے لگا۔

ٹیمپریچر تو نارمل ہے۔عباد شکر کا سانس لیتے بولا سوہا خاموشی سے عباد کو دیکھنے لگی جس کے چہرے پہ اُس کے لیے فکرمندی کے تاثرات تھے۔

گھر جا کر سونا چاہتی ہوں۔سوہا اپنا چہرہ ونڈو کی طرف کرکے بولی

سہی ہے چلتے ہیں پھر زویا نے ویسے بھی اپنی دوستوں کے ساتھ جانا ہے۔عباد نے جواب دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لگتا ہے عباد لِفٹ نہیں کرواتا۔

سوہا گھر واپس آئی تو اُس کے دماغ میں زویا کی بات گونج رہی تھی جس سے اُس کو اپنے اندر ایک بے چینی محسوس ہورہی تھی۔

کیا عباد یہ رشتہ کسی مجبوری کے تحت نبھارہے ہیں کیا چچی جان نے بھی عباد کو ایسے ایموشنل بلیک میل کیا جیسے امی مجھے کرتی ہے اب۔سوہا پریشانی سے خود سے پوچھنے لگی۔

پر عباد کو دیکھ کر لگتا تو نہیں۔دل نے ایک دلیل دی۔

لگتا تو پھر یہ بھی نہیں کہ وہ اِس رشتے سے خوش ہے۔دماغ نے فورن دل کی دلیل کو رد کیا

اگر عباد خوش نہیں تو پھر میں اُن پہ زبردستی مسلط نہیں ہوگی۔سوہا نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔

سوہا طبیعت خراب ہے تو کوئی ٹیبلیٹ لو۔عباد واشروم سے باہر آیا تو سوہا کو یہاں وہاں ٹہلتا دیکھ کر بولا

نہیں میں اب ٹھیک ہوں۔سوہا نے کہا

اچھا لگ تو نہیں رہا۔عباد نے کہا

لگنے سے کجھ نہیں ہوتا۔سوہا نے کہا

ٹھیک اگر ایسا ہے تو اپنی کتابوں بیگ سے نکالوں میں بائیولاجی کا لیکچر سمجھاؤں۔عباد کی بات پہ وہ سخت بدمزہ ہوئی۔

آپ کی ہر بات بائیولاجی پہ چھوڑو اور فزکس پہ ختم کیوں ہوتی ہے۔سوہا نے بڑی سنجیدگی سے پوچھا

تمہارا ہر کام ڈرامے پہ چھوڑو فلم پہ ختم کیوں ہوتا ہے۔عباد نے بھی اُسی کے انداز میں کہا

لاتی ہوں بُکس آپ سے باتوں میں کون جیت سکتا ہے۔سوہا پاؤں پٹختی بولی جس پہ عباد کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئ۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

دن تیزی سے گُزرتے جارہے تھے عباد اور سوہا کی شادی کو تین ماہ ہوچکے تھے دونوں کے درمیان سب ویسے کا ویسا تھا کجھ تبدیل نہیں ہوا تھا نہ دونوں میں سے کسی ایک نے کوشش کی تھی۔

زویا نے ہر کوشش کی تھی عمار کو اپنی طرف راغب کرنے کی مگر ابھی تک اُس کو کجھ حاصل نہیں ہوا تھا۔

دیکھو تو سہی مسٹر کھڑوس ڈائری میں لِکھتے کیا ہیں۔سوہا عباد کے وارڈروب کی سائیڈ پہ ڈائری تلاش کرتی بولی اِن دونوں میں جو چیز اُس نے شدت سے محسوس کی تھی وہ تھی عباد کا ڈائری لِکھنا اُس نے بہت کوشش کی تھی کے ڈائری اُس کے ہاتھ لگے اور وہ دن آج آیا تھا

کہاں ہوگی۔سوہا بڑبڑاتی سارے کپڑے باہر نکالنے لگی دس بیس منٹ کی محنت کے بعد ڈائری اُس کے ہاتھ آگئ تھی ڈائری دیکھنے پہ اُس کے چہرے پہ ایسی چمک آئی تھی جیسے کوئی بہت بڑا خزانہ ہاتھ لگا ہو۔

سوہا جی آپ کو باہر عمار صاب بولا رہے ہیں۔سوہا نے جیسے ڈائری کھولنا چاہی ملازمہ نے اُس کو اطلاع دی۔

مجھے اچھا تم جاؤ میں آتی ہوں۔سوہا حیرانی کے تاثرات چُھپاتی جواب دینے لگی۔

تمہیں بعد میں فرصت سے پڑھوں گی۔سوہا ڈائری سے کہتی اُس کو اپنے پاس محفوظ کرتی کمرے سے باہر نکلی۔

عمار کیا کام تھا؟سوہا لاوٴنج میں آتی عمار سے بولی

کیا اب ہم اتنے اجنبی بن گئے ہیں کے بنا کسی کام کے بات بھی نہیں کرسکتے۔عمار نے شکایتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا

میرا وہ مطلب نہیں تھا۔سوہا نے کہا

دیکھو سوہا تم مجھے چاہتی ہو عباد بھائی کیسی اور کو اگر دونوں کے درمیان محبت نہیں تو پھر کیوں سمجھوتے کی زندگی گُزارہے ہو۔عمار نے سنجیدگی سے کہا

عباد کسی کو نہیں چاہتا عمار تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔سوہا خود کو تسلی دیتی بولی

مجھے کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی یقین نہیں آتا تو عباد بھائی سے پوچھ لینا اگر وہ ہاں کہے گے تب تم کیا کروں گی ابھی تم مجھے انکار کررہی ہو میرے جذبات نظرانداز کر رہی ہو پھر کیا کروں گی۔عمار نے اُس کو اندر تک جھنجھوڑ ڈالا تھا۔

میں عباد سے طلاق لوں گی۔

عباد جو کمرے کی طرف جارہا تھا لاوٴنج سے آتی سوہا کی آواز پہ اُس کے قدم ڈگمگائے تھے اُس کو اپنا وجود پتھر ہوتا محسوس ہوا اندر سے اور بھی آواز آرہی تھی پر جیسے وہ اب سننے کی سماعت سے محروم ہوگیا تھا۔

پر مجھے لگتا ہے عمار ایسا کجھ نہیں تین ماہ میں ہوئے ہیں مجھے اُن کے ساتھ رہتے ہوئے پر کبھی غلطی سے بھی اُن کے منہ سے کسی لڑکی کا نام نہیں آیا میرا نکاح میری شادی عباد سے ہوگئ ہے پر اگر یہ عباد کی طرف سے بس سمجھوتا ہے تو میں کسی سمجھوتے کی زندگی بسر نہیں کروں گی۔سوہا اپنے دل کی آواز کو دباتی مضبوط لہجہ اپناتی بولی۔

تم پوچھ لینا۔عمار مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں عباد سے طلاق لوں گی۔

یہ جُملا عباد کو کسی ہتھوڑے کی طرح لگ رہا تھا اُس نے بے اختیار اپنے کانوں پہ ہاتھ رکھ دیئے جیسے اِس آواز کو دبانا چاہتا ہو۔

نہیں وہ ایسا کیسے سوچ سکتی ہے کیسے

کیسے میرے نکاح میں ہے وہ میری ہے بس۔عباد اضطراب کی کیفیت میں پورے کمرے میں یہاں سے وہاں گھومتا بولا۔

میں کبھی سوہا کو طلاق نہیں دوں گا۔عباد اٹل انداز میں خود سے عہد کیا

پر اگر اُس نے مانگی تو میں کیا کروں گا۔ایک اور خیال اُس کے دماغ میں کوندا تو وہ حددرجہ پریشان ہوگیا

میں سوہا کو یہ بات کرنے کا موقع ہی نہیں دوں گا۔عباد کجھ سوچتا بولا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عباد یہ رشتہ مجبوری کے تحت نبھارہے ہیں اور میں سمجھتی رہی کہ شاید اُن کے دل میں کوئی احساس ہوگا۔سوہا گارڈن میں موجود پودوں کو دیکھتی سوچنے لگی اُس کو کبھی عمار کی باتیں سچ لگ رہی تھی تو کبھی نہیں اُس کو اُلجھن ہورہی تھی کس کی بات کو سچ مانے اور کس کی نہیں۔

خود سے لڑنے سے اچھا ہے میں عباد سے پوچھ لوں۔سوہا جھٹکے سے کھڑی ہوتی بولی

عباد مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔سوہا کمرے میں آتی عباد سے بولی جو کبرڈ سے اپنے کجھ ڈاکیومنٹس نکال رہا تھا سوہا کی آواز پہ عباد کے کام کرتے ہاتھ ایک لمحے کو رُکے تھے پر وہ جلد خود کو کمپوز کرگیا۔

ابھی نہیں سوہا ابھی مجھے ایک ضروری کام ہے۔عباد بنا اُس کی جانب دیکھے بولا

میری بات بھی ضروری ہے۔سوہا سنجیدگی سے بولی عباد کے چہرے پہ زخمی مسکراہٹ نے بسیرا کرلیا۔

سوہا فلحال میرے پاس وقت نہیں بعد میں بات ہوگی۔عباد نے ٹالنے والے انداز میں کہا

آپ مجھے اگنور کررہے ہیں؟سوہا اُس کے سامنے آتی پوچھنے لگی عباد نے اپنا چہرہ دوسری طرف کرلیا۔

ایسا نہیں میں کیوں تمہیں نظرانداز کروں گا ابھی کام ہے پھر بعد میں پکا بات ہوگی۔عباد اُس کا گال تھپتھپاکر سائیڈ سے گزرگیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *