Mohabbatein by Rimsha Hussain NovelR50572 Mohabbatein (Episode 02)
Rate this Novel
Mohabbatein (Episode 02)
Mohabbatein by Rimsha Hussain
آج زویا نے اُس کے ساتھ کالج نہیں جانا تھا اِس لیے وہ خود اکیلی باہر آئی جہاں عباد باہر کھڑا اُن کا انتظار کررہا تھا وہ دونوں اکثر عباد اور عمار کے ساتھ جایا کرتی تھی کیونکہ اُن تینوں کا کالج اور عباد کی یونیورسٹی ایک روڈ پہ آتی تھی عباد اُن کو کالج چھوڑتا خود یونی کے لیے نکل جاتا تھا
عمار نہیں چلے گا کیا کالج۔سوہا نے عمار کو نہ دیکھ کر عباد سے پوچھا جو اُس کا جائزہ لیں رہا تھا وائٹ گھٹنوں آتے شارٹ فراق کے ساتھ چست پاجامے پہنے ڈوپٹہ گلے میں مفلر کے اسٹائل میں پہنا ہوا تھا بال کھلے ہوئے تھے جو ہوا کی دوش سے اُڑتے ہوئے بار بار اُس کے چہرے پہ پڑرہے تھے اُس کا حُلیہ دیکھ کر ایک ناگواری سی لہر عباد کے اندر سرایت کرگئ تھی
وہ نہیں جائے گا تم گاڑی میں بیٹھو۔عباد سپاٹ انداز میں کہتا ڈرائیونگ سیٹ پہ آگیا سوہا اپنا بیگ پچھلی سیٹ پہ رکھتی فرنٹ سیٹ پہ براجمان ہوگئ۔اُس کے بیٹھتے ہی عباد نے گاڑی سٹارٹ کی۔
سوہا نے اُنگلیاں چٹخاتی بے زاری سے ونڈو سے باہر دیکھنے لگی پھر سپاٹ تاثرات سجائے عباد کو دیکھا۔
میوزک آن کریں نہ سچی بوریت ہورہی ہے۔سوہا نے خود ہی عباد کو مخاطب کیا۔
نہیں ہے میوزک سسٹم۔عباد کی بات پہ سوہا کا منہ بن گیا۔




تم بھی آج کالج نہیں گئے کیا؟زویا نے مسکراکر عمار سے پوچھا
ہاں میں تو نہیں گیا پر تم یہاں کیسے۔عمار نے جواب کے بعد سوال پوچھا
کیوں کیا یہاں بس سوہا آسکتی ہے میں نہیں۔زویا کی مسکراہٹ پل بھر غائب ہوئی تھی۔
اب میں نے ایسا بھی کجھ نہیں کہا وہ تو اِس لیے پوچھا کیونکہ تم کم یہاں آتی جاتی ہو سوہا کی بات کی جائے تو اُس کو تو ہمیشہ کے لیے یہی آنا ہے میری بیگم کا خطاب کو اُس کو ملے گا۔عمار نے گہری مسکراہٹ سے کہا زویا نے بڑی مشکل سے خود پہ قابو کیا۔





یار اب ایسا بھی نہیں عباد تمہارا کزن برادر ہے اگر وہ تمہیں کجھ سمجھاتا ہے تو تمہیں چاہیے اُس پہ عمل کرو وہ بڑا ہے تم سے تمہیں اُس کی بات ماننی چاہیے ویسے بھی تنقید کا مطلب یہ نہیں ہوتا کے کوئی ہم سے جیلس ہورہا ہے یا کسی کو ہماری خوشی برداشت نہیں ہوتا تنقید کا مطلب ہوتا ہے سامنے والا انسان آپ میں خامی نہیں دیکھنا چاہتا۔جنت سوہا کی دوست نے نرمی سے اُس کو سمجھایا۔
ہاں پر
سوہا کی بات بیچ میں رہ گئ جب فزکس کی ٹیچر کلاس میں داخل ہوئی۔
میں آپ سب کو ٹیسٹ سے ریلیٹڈ کجھ جوابات یاد کرنے کو کہا تھا جس جس سے میں جو سوال پوچھو اُس کا جواب مجھے دے۔فزکس کی ٹیچر کی بات پہ سوہا نے اپنے سوکھے لبوں پہ زبان پھیری وہ تو یہ بات مکمل طور پہ بُھلاچکی تھی۔
Q,1
What is the difference between the down ward motion of stone and that of particular?
مس سوہا گیو می انسر۔فزکس کی ٹیچر نے سوہا سے کہا تو وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوکر سر جھکا گئ۔
کیا میں یہ سمجھو آپ نے تیاری نہیں کی؟فرکس کی ٹیچر نے کرخت آواز میں پوچھا
سوری میم۔سوہا بس یہی بول پائی۔
آؤٹ۔فزکس کی ٹیچر نے سخت لہجے میں کہا
کل پکا تیاری کرکے آؤں گی۔سوہا نے منت کی۔
آپ باہر جائے کلاس سے آپ کی بہن زویا تو بہت لائق ہے پر ایک آپ ہے جو ہر سبجیکٹ میں کم مارکس حاصل کرتی ہیں۔فزکس ٹیچر نے بنا اُس کی بات سنے کہا پوری کلاس کے سامنے اپنی بے عزتی پہ اُس کا چہرہ احانت اور شرمندگی کے احساس سے سرخ ہوگیا تھا تبھی وہ بنا کسی پہ نظر ڈالے اپنا بیگ اُٹھاتی کلاس سے باہر چلی گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عباد سنجیدہ تاثرات سجائے کالج کے پرنسپل کے آفس میں بیٹھا تھا سامنے مس سکینہ جو سوہا کی فزکس کی ٹیچر تھی وہ سوہا کا پڑھائی میں رکارڈ اُس کو بتارہی تھی جو وہ بنا کسی تاثرات سے سن رہا تھا۔
مسٹر عباد آپ بھی یہاں سے پڑھے ہیں آپ یہاں کے ایک قابل اسٹوڈنٹ رہ چُکے ہیں اور آپ کی طرح ماشااللہ سے زویا بھی ہے پر آپ دونوں کے برعکس سوہا اور عمار کا ذرہ بھی انٹرسٹ پڑھائی میں نہیں عمار تو زیادہ دن غیر حاضر ہوتا ہے پر سوہا تو ریگیولر اسٹوڈنٹ ہوکر بھی ایسی ہے آپ میری مانے اُس کے لیے کسی اچھے ٹیوٹر کا بندوبست کرے جو اُس کو پری میڈیکل میں کیمسٹری فزکس باٹنی سبجیکٹس پڑھائے اگر وہ پری میڈیکل کی پڑھائی نہیں کرسکتی تھی تو آپ لوگوں چاہیے تھا اُس کا دوسرے سبجیکٹس میں داخلہ کرواتے۔مس سکینہ کے خاموش ہوتے ہی پرنسپل نے سنجیدگی سے کہا
آپ کو دوبارہ شکایت کا موقع نہیں ملے گا انشااللہ آپ کو اِس سال سپلی میں سوہا کے مارکس زویا سے زیادہ ملتے نظر آئے گے۔اُن کی ساری بات سن کر عباد نے سنجیدگی سے کہا
اُمید کرسکتے ہیں۔پرنسپل نے کہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی جیسے ہی گھر کے پاس رکی سوہا جھٹ سے اپنے گھر کی سمت بھاگنے والی تھی جب عباد نے کہا
اپنی ساری بُکس لیکر آؤ آج سے ریگیولری میں تمہیں ٹیوشن دوں گا۔
آپ کیوں دے گے آپ کو اپنا بھی تو پڑھنا ہوتا ہے میں امی یا ڈیڈ سے کہہ کر کسی ٹیوٹر کا کہہ دوں گی آپ کو زحمت کرنے کی ضرورت نہیں۔سوہا نے پھسی پھسی سی آواز میں کہا جب کی عباد سے ٹیوشن کا سن کر اُس کو اپنے سامنے تارے ناچتے نظر آنے لگے۔
میری فکر نہیں کرو اپنی کرو شکایت ملی ہے مجھے تمہاری۔عباد نے سپاٹ انداز میں کہا
ایڈمیشن رجسٹریشن میں خوامخواہ آپ کا نمبر دیا گیا تھوڑا کجھ ہوتا نہیں آپ کو کال کردیتے ہیں۔سوہا کو صبح والی اپنی بے عزتی یاد آئی تو جل کے بولی۔
پانچ منٹ بعد تم مجھے ڈرائینگ روم میں بیٹھی نظر آؤ۔عباد نے تیز نظروں سے اُس کو گھور کر کہا
لنچ تو کرنے دے پانی تک نہیں پیا میں نے۔سوہا نے التجا کی۔
ہمارے گھر میں فاقے نہیں چل رہے چپ چاپ وہ کرو جو کہہ رہا ہوں۔عباد اپنی بات کہتا تیز قدموں سے گھر کے اندر کی جانب بڑھ گیا سوہا بھی مرے مرے قدموں کے ساتھ اندر جانے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوہا کے آنے کا وقت تو ہوگیا ہے پھر ابھی تک آئی کیوں نہیں گھر۔سویرہ بیگم نے نیل پالش لگاتی زویا سے کہا
محترمہ نے آج پھر ہمارہ نام روشن کیا ہے فزکس کا ایک آسان سوال اُس کو نہیں آیا ٹیچر نے کلاس سے باہر نکال دیا اور میری فرینڈ بتارہی تھی عباد سے شکایت بھی لگائی ہے۔زویا نے مزے سے بتایا۔
بہن ہے وہ تمہاری ایک ساتھ اِس دنیا میں آئی ہو پھر تم کیوں اُس کے ساتھ ایسا رویہ روادار کرتی ہو اُس کو اپنے ساتھ بیٹھا کر پڑھائی میں مدد کیا کرو تاکہ اُس کے نمبرز بھی اچھے آئے۔سویرہ بیگم نے نرمی سے کہا
آپ کی خودساختہ سوچ ہے ورنہ سوہا کو بس گرافک ڈزائینر بننے کا شوق ہے یہ فزکس کیمسٹری بائیولاجی وغیرہ اُس کے سر پہ سے گُزرتی ہے۔زویا نے سرجھٹک کر کہا
سوہا اتنی نکمی نالائق نہیں جتنا تم لوگوں نے اُس کو سمجھ لیا ہے۔سویرہ بیگم نے افسوس سے زویا کا انداز دیکھ کر کہا
نالائق کہاں بہت شاطر ہے وہ۔زویا منہ میں بڑبڑائی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو ٹیسٹ ملا تھا پہلے اُس کی ساری تیاری ہونی چاہیے تمہاری پھر ہم اِس پروبلم کے سولیوشن نکالے گے۔عباد نے سنجیدگی سے فزکس کی کتاب کھول کر کہا۔
پہلے کجھ کھانے کے لیے تو منگوائے خالی پیٹ دماغ کیسے چلے گا۔سوہا نے معصوم شکل بناکر کہا۔
ٹینشن کیوں لیتی ہوں وائف ٹو بی مجھے پتا چل گیا آج تم بہت مشقت کرنے والی ہو اِس لیے میں تمہارے لیے برگر اور نگٹس لایا ہوں۔عباد سے پہلے ہی عمار ڈرائینگ روم میں داخل ہوتا بولا جس کے ہاتھ میں شاپرز تھے سوہا کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئ تھی عباد نے زور سے اپنے ہاتھ کی مٹھیاں بھینچ کر امڈ آنے والے اشتعال کو قابو کیا۔
شکریہ عمار۔سوہا خوش ہوتی بولی
عمار تم اپنا کام کرو جاکر اور سوہا کو پڑھنے دو۔عباد نے سنجیدگی سے کہا
میں خاموشی سے بیٹھا رہوں گا آپ یا سوہا کو بلکل ڈسٹرب نہیں کروں گا۔عمار نے جوابً کہا
عمار اپنے کمرے میں جاؤ۔عباد نے اپنی بات پہ زور دیتے کہا تو عمار اُٹھ کر چلاگیا سوہا نے جیسے ہی اپنا ہاتھ شاپرز میں ڈالنا چاہا عباد نے اُس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر ایسا کرنے سے روک دیا۔
پہلے مجھے فزکس کا ایک چیپٹر زبانی بتاؤں گی اُس کے بعد جو کھانا چاہوں کھاسکتی ہو اُس سے پہلے نہیں۔عباد شاپرز اُس کی پہنچ سے دور کرتا بولا
ایک بائیٹ تو لینے دے۔سوہا کی شکل رونے والی ہوگئ۔
تم پڑھو تب تک میں آتا ہوں۔عباد ہاتھ میں شاپرز لیے وہاں سے چلاگیا سوہا نے حسرت بھری نظروں سے شاپرز کو دیکھا۔
آسیہ۔
عباد کام کرتی ملازمہ کو مخاطب کرتا بولا
جی صاحب۔آسیہ فورن متوجہ ہوئی۔
یہ تم اپنے ساتھ لیں جانا اور تیس منٹ بعد ڈرائینگ روم میں کھانے کے لوازمات لے آنا۔عباد شاپرز اُس کی طرف بڑھاکر بولا تو آسیہ نے سرہلایا۔
عباد واپس ڈرائینگ روم میں آیا تو سوہا رٹا لگانے میں مصروف تھی۔
کہاں تک پہنچی تیاری۔عباد نے سوال داغا
ابھی تک تو یہ دو جوابات یاد ہوئے ہیں۔سوہا کی بات پہ عباد کا سر نفی میں ہلنے لگا
