Mohabbatein by Rimsha Hussain NovelR50572 Mohabbatein (Episode 11)
Rate this Novel
Mohabbatein (Episode 11)
Mohabbatein by Rimsha Hussain
میں سوچ رہی تھی عمار کے لیے زویا کا ہاتھ مانگ لیں۔صغریٰ بیگم نے حنان صاحب کو مخاطب کیے کہا
عباد آجائے اُس کے بعد۔حنان صاحب نے کہا
بات کرنے میں کیا ہے ابھی سادگی سے نکاح کرلیتے ہیں شادی عباد کے آنے کے بعد ہوگی اُس کے آنے میں تو ابھی تین سال ہیں۔صغریٰ بیگم نے اُس کو قائل کرنا چاہا
ٹھیک ہے پہلے تم عمار سے بات کرو اُس کے بعد ہم سنان کی طرف چلیں گے۔حنان صاحب نیم رضامند ہوتے بولے
ٹھیک ہے پہلے میں اُس سے بات کروں گی۔صغریٰ بیگم اُن کی بات سے اتفاق کرتی بولی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج عباد کو مجھ سے بات کرنے کا خیال کیسے آیا۔سوہا کمرے کھڑکی کے پاس کھڑی سوچنے لگی۔
دو سالوں میں تو ایک میسج تک نہیں کیا اور اب۔سوہا مایوسی کا شکار ہونے لگی۔
سوہا۔
صغریٰ بیگم اُس کے کمرے میں آتی آواز دینے لگی۔
جی چچی جان۔سوہا خود کو کمپوز کرتی اُن کی طرف متوجہ ہوئی۔
میں مارکیٹ جارہی تھی تمہیں چلنا ہے ساتھ؟صغریٰ بیگم نے پوچھا۔
نہیں آپ جائے۔سوہا نے انکار کرتے کہا
اچھا اگر کجھ چاہیے تو بتادو۔صغریٰ بیگم نے پھر کہا
میرے پاس سب ہیں۔سوہا نے سہولت سے دوبارہ انکار کیا۔
جیسے تمہاری مرضی۔صغریٰ بیگم کہہ کر وہاں سے چلی گئ۔







کجھ دن بعد!
عمار۔صغریٰ بیگم نے باہر جاتے عمار کو آواز دی
جی۔عمار اُن کے پاس آتا بولا
کہاں مصروف رہتے ہو میں کتنے دنوں سے تم سے بات کرنا چاہ رہی ہوں پر تم ہاتھ ہی نہیں آتے۔صغریٰ بیگم نے ناراض لہجے میں کہا
اب تو آگیا ہوں تس بتائے کیا خدمت کرسکتا ہوں آپ کی۔عمار شریر لہجے میں بولا عمار کو پہلے کی طرح خوش باش دیکھ کر صغریٰ بیگم نہال سی ہوگئ۔
میں تمہارا نکاح کروانا چاہتی ہوں شادی وغیرہ عباد کے آنے کے بعد۔صغریٰ بیگم نے محبت سے اُس کے بالوں میں ہاتھ پھیر کر کہا
کروالے پھر۔عمار عام لہجے میں بولا
تمہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا؟صغریٰ بیگم نے پوچھا
نہیں آپ جب چاہے جس سے چاہے کروالے مجھے کوئی اعتراض نہیں۔عمار نے سنجیدگی سے جواب دیا۔
میں نے زویا کا سوچا ہے۔عمار کو بلکل حیرت نہیں ہوئی۔
میں نے آپ سے پہلے بھی کہا آپ کی مرضی جس سے بھی کروالیں۔عمار کے جواب پہ صغریٰ بیگم مطمئن ہوگئ۔






عمار کے مان جانے کے بعد صغریٰ بیگم حنان صاحب کے ہمراہ سنان صاحب کی زویا کا رشتہ عمار کے ساتھ طے کرنے چلے گئے تھے جہاں سے جواب ہاں میں ملا تھا۔
کیسا محسوس ہورہا ہے اب تمہیں۔سوہا نے خوشی سے جگمگاتے زویا کے چہرے کو دیکھ کر پوچھا
بہت اچھا۔زویا نے زندگی میں پہلی بار سوہا کو آرام سے جواب دیا
تو کیا میں سمجھ لوں اب تمہاری میری ساتھ ساری رقابتیں ختم ہوئی۔سوہا نے اُس کا چہرہ دیکھ کر کہا۔
پہلے تو تم مجھے یہ بتاؤ تم عمار سے کب سے محبت کرنے لگی تمہیں تو شروع سے عباد پسند ہوتا تھا۔زویا نے اپنا رخ اُس کی طرف کرکے کہا
عباد میرا دوست تھا عمار بھی میرا دوست تھا اُس سے زیادہ کجھ نہیں عمار سے منگنی کے لیے ہاں میں اُس کی محبت میں نہیں بلکہ ہم اچھے دوست تھے اِس لیے کی میری اور عمار کی عادتیں کجھ ایک جیسی تھی جو چیز مجھے نہیں تھی پسند وہ عمار کو بھی نہیں تھی ہم دونوں کی بونڈنگ اچھی تھی مجھے لگا تھا شادی کے بعد بھی سب ایسا ہوگا تو ظاہر ہے ہر لڑکی پہلے اپنے دوست کو ہمسفر چُنے گی میں نے بھی ایسا کیا اگر تم اپنے دل کی بات بتاتی تو میں کبھی عمار کے سائے کو بھی نہ دیکھتی پر تم نے بس بلاوجہ کا مجھ سے بیر رکھا جو میرے ساتھ ناانصافی تھی اور میں نے کبھی تم سے یا عمار سے نہیں کہا پر اب بتادو مجھے لگتا ہے عباد کا مجھ سے دور ہونے میں تم دونوں کا بہت بڑا کردار ہے۔سوہا نے ایک سانس میں اپنے دل میں موجود ساری بات کہہ ڈالی۔
تمہاری یہ صاف گوئی ہر بات منہ پہ دے مارنا جانے کیوں سب کو پسند ہے کے تم ہر بات کہہ دیتی ہو کوئی بات دل میں نہیں رکھتی خیر مجھے بچپن سے شوق تھا تمہاری پسندیدہ چیزیں توڑنے کا اور لوگوں سے دور کرنے کا پر میں آنسٹلی بتاؤں گی عباد کا تمہارا بیسٹ فرینڈ ہونا مجھے کبھی اِتنا بُرا نہیں لگا پر عمار سے میری شرط لگی تھی جی وہ جیت گیا ورنہ میرا اِس میں ایسا کوئی ہاتھ نہیں۔زویا نے اپنا دامن صاف کیا۔
کونسی شرط؟سوہا کے کان کھڑے ہوئے
یہی کے دوستی جتنی گہری ہے اُس کو اُتنی آسانی سے توڑا جاسکتا ہے ایسا میرا نہیں عمار کا ماننا تھا جو اُس نے ثابت بھی کرڈالا پر میں ایک بات کہوں گی یہ تبھی ممکن ہوا جب تمہارے دل میں عباد کے لیے ناراضگی تھی ورنہ مرتے دم تک عمار ایسا نہ کرپاتا اور عباد کا تو کیا ہی کہنا اُس کو تو اپنی چیزوں میں شراکت نہیں پسند تمہیں عمار کے ساتھ باتیں کرتا ہنستے مسکراتے دیکھ کر اُس کا دل بُرا ہوا تبھی اُس کے کبھی تمہاری طرف قدم نہیں بڑھائے۔زویا نے آرام سے کہا
مجھے نہیں لگتا کوئی بہن اپنی سگی بہن کے ساتھ ایسا کجھ کرسکتی ہے۔سوہا بے یقینی سے بولی۔زویا نے کوئی تاثر نہیں دیا۔
اگر اِتنا سب کجھ بتادیا ہے تو ایک اور بات بھی بتادو کیا بس عمار وجہ تھا جس کے لیے تم مجھ سے چڑتی ہوں کیونکہ اِس بات سے مجھے یقین نہیں ہوتا گیارہ یا چودہ سال کی بچی کو کیا پتا پیار محبت کا جو مجھے وہ اپنا رقیب سمجھ لیں۔سوہا کی بات پہ زویا کے تاثرات عجیب ہوئے تھے۔
آج کے لیے اِتنا کافی ہے اب تم اپنے گھر جاؤ۔زویا نے ٹالنے والے انداز میں کہا۔








عمار اپنے کمرے میں بیٹھا گُزرے ہوئے وقت کے بارے میں سوچ رہا تھا جو اُس کی زندگی میں ہورہا ہے وہ شاید ہی کسی کے ساتھ ہوتا ہوا کیا سوچا تھا اُس نے اپنی زندگی کے بارے میں اور ہو کیا رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. . ۔۔۔۔۔۔
کجھ سال قبل
اب تم کیوں سوہا کے پیچھے رہتے ہو چیلنج پورا کردیا اب تو چھوڑ دو اُس کو۔زویا اپنے بالوں کی چوٹی لہراتی عمار سے بولی۔
مجھے تمہارے ساتھ بیٹ لگانی نہیں چاہیے تھی خوامخواہ بھائی اور سوہا کی دوستی خراب ہوگئ اب میں سوہا کو نہیں چھوڑسکتا میری اُس سے دوستی ہوگئ ہے۔عمار نے آرام سے جواب دیا۔
دوستی کا مطلب یہ تو نہیں تم ہر وقت اُس کے پاس رہو میں بھی تو تمہاری کزن ہوں مجھے تو ایسا کبھی پروٹوکول نہیں دیا۔زویا جل بھن کے بولی۔
ایک تو تمہارے شکوے ختم نہیں ہوتے۔عمار بے زار ہوا۔
ختم کروگے تو ہوگے نہ ویسے بھی اب تمہیں چاہیے عباد کو بتادو کے تمہاری بیٹ تھی میرے ساتھ۔زویا نے کہا
بھائی جتنے پوزیسو اُس کے لیے ہوتے تھے نہ میری بات سن کر سب سے پہلے میرا منہ توڑ ڈالنا ہے مجھے اپنا منہ بے حد پسند ہے اِس لیے اب میں تمہاری کسی بات میں نہیں آؤں گا میں بھول گیا ہوں کوئی شرط چیلنج بیٹ اب بس تم اِس بات کا ذکر مت کرنا کونسا میری یا تمہاری وجہ سے اُن دونوں کے درمیان طوفانی لڑائی ہوئی ہے۔عمار سرجھٹک کر بولا زویا کو اپنا آپ انگاروں پہ لوٹتا محسوس ہوا۔
زندگی میں کبھی عباد کو یہ بات پتا چلی تو ناراض ہوجائے گا تم سے۔زویا نے اُس کو ڈرانا چاہا۔
وہ میرے بھائی ہے مجھے اپنے بھائی کو منانا آتا ہے۔عمار فخریہ انداز میں بولا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساری باتوں کو یاد کرکے عمار نے جھٹ سے اپنی آنکھیں کھولی۔
شاید بھائی اور سوہا بنے ہی ایک دوسرے کے لیے تھے بس میں ہی تھا جو اُن کے درمیان آگیا تھا مجھے معاف کردیجئے گا بھائی انجانے میں سہی میں آپ سے آپ کی قیمتی شے چھیننے والا تھا۔عمار کرب سے آنکھیں بند کرتا تصور میں عباد سے بولا۔








یہ کیسی محبت ہے آپ کی جو آپ کو میرے قریب لانے کے بجائے مجھ سے دور کررہی ہے آخر آپ کے دماغ میں ہے کیا جو آپ بنا میری سنے بنا اپنی بتائے اِتنی دور چلے گئے اگر آپ کو مجھ سے اتنی محبت تھی تو اظہار کیوں نہیں کیا پہلے کا سمجھ آتا ہے پر نکاح کے بعد آپ نے مجھے کیوں اپنی محبت کا احساس نہیں کروایا کیوں اجنبیوں کی طرح رہے کیوں ہر روز مجھے یہ احساس کرواتے تھے کے میرا ہونا نہ ہونا آپ کے لیے برابر ہے محبت میں کوئی اتنا بھی مجبور نہیں ہوتا پر میں تو آپ کی ہوگئ تھی پھر کیوں مجھے اِس آگ میں جلتا چھوڑ کر آپ چلے گئے کیوں؟ کیوں۔سوہا لاوٴنج میں بیٹھی دل ہی دل میں عباد سے شکوے کررہی تھی جب صغریٰ بیگم ہاتھ میں البم لیتی وہاں بیٹھ گئ
فیملی البم ہے؟سوہا اپنا دھیان دوسری طرف کرنے کے غرض سے بولی۔
ہاں عباد کی یاد آرہی تھی سوچا اُس کی بچپن کی تصویریں دیکھ لوں۔صغریٰ بیگم مسکراکر بولی تو سوہا بھی البم کی طرف متوجہ ہوئی جہاں سب کی تصویریں تھی۔
سوہا کی نظرِیں عباد کی ایک تصویر پہ ٹِک گئ تھی جس میں عباد مسکرارہا تھا ساتھ میں اُس کے گالوں پہ ڈمپل نمایاں ہورہے تھے ڈمپل دیکھ کر سوہا کو یاد نہ آیا اُس کے کب عباد کو آخری دفع مسکراتا دیکھا تھا اُس کو تو اب یاد بھی نہیں رہا تھا کے عباد کے گالوں پہ ڈمپلز بھی ہوتے ہیں۔
کیا ہوا۔صغریٰ بیگم نے اُس کو کھویا دیکھا تو پوچھا
عباد کے ڈمپلز بھی ہوتے تھے نہ مجھے اب یاد آیا۔سوہا کھوئے ہوئے لہجے میں بولی تو صغریٰ بیگم ہنس پڑی۔
عباد کم مسکراتا ہے مجھے بھی کبھی کبھار یہ ڈمپلز دیکھنے کو ملتے تھے۔صغریٰ بیگم نے مسکراکر بتایا۔
صغریٰ بیگم کے ساتھ البم دیکھنے کے بعد وہ واپس اپنے کمرے میں آئی اور وارڈروب سے عباد کی ڈائری نکالی تاکہ مزید پڑھ سکے۔
٢٦ جنوری
اگر تم سرائیکی ہوتی تو میں تمہیں کہتا جند تو آخری ایں تیڈے بعد قیامت اے
٢٨ جنوری
ارے تم کیوں نہیں سمجھتے یار تمہارا کسی اور سے ہم کلام ہونا میرا خون جلاتا ہے۔
٢٩ جنوری
آج سوہا اور عمار کی منگنی تھی دل پہ جیسے کوئی بوجھ سا ہے سانس لینے میں دشواری سی ہورہی ہے کہتے ہیں محبت انسان کو بے خوف اور باہمت بناتی ہے انسان کے اندر سارا خوف مٹ جاتا ہے وہ نڈر ہوجاتا ہے پر کوئی مجھ سے پوچھے محبت یک طرفہ ہوا یا دونوں طرف سے وہ انسان کو بہادر تب تک بنائے رکھتی ہے جب تک محبت آپ کی دسترس میں ہو اگر محبت آپ کی پہنچ سے پرے ہو تو بہت تڑپاتی ہے اپنا آپ بہت بے بس محسوس ہوتا ہے میرا ساتھ بھی کجھ ایسا ہے میں آج خود کو بے بسی کی انتہا پہ کھڑا محسوس کررہا ہوں سب کی زبانی سے میں نے یہ سُنا ہے سوہا آج بہت خوبصورت لگ رہی تھی پر میں نے ایک نظر اُٹھا کر بھی اُس کو نہیں دیکھا میں جانتا تھا اگر میری نگاہ اُس کے چہرہ پہ اُٹھتی تو واپس پلٹنا بھول جاتی مجھے یہ بھی ڈر تھا کے کہی میرے اندر سالوں سے پلتا راز نہ فشاں ہوجائے مجھے تو سوہا سادگی میں بھی بہت پیاری لگتی ہے آج تو اُس کی زندگی کا خاص دن تھا تو آج کی بات ہی الگ ہوگی میں چاہوں تو اُس کو حاصل کرسکتا ہوں پر میرے دل میں اُس کو حاصل نہیں بلکہ پانے کی خواہش تھی جو اب نہیں کیونکہ اُس کی خوشی عمار میں ہے اور میری خوشی اُس کی خوش ہونے میں ہے اگر میں اُس کو زبردستی اپناؤں گا تو وہ خوش نہیں رہے گی اور عمار وہ تو میرا بھائی ہے کیا میں اُس کے ساتھ دغابازی کرسکتا ہوں عمار بھی مجھے عزیز ہے میرا چھوٹا بھائی ہے اُس کو کیا پتا میرے دل کا حال برحال آج بہت باتیں ہوگئ رات بہت ہوگئ ہے اب مِیں بھی سونے کی۔کوشش کروں گا۔
١ فروری
میرا دل چاہتا ہے میں ایک دفع اپنی محبت کا اظہار سوہا کے سامنے کروں اُس کو بتاؤ میں کتنا چاہتا ہوں پر میرے اندر ایک خوف ہے اگر اُس نے میری محبت کا مذاق اُڑایا تو پھر میں کیا کروں گا کیا میں برداشت کرپاؤں گا اپنی محبت کی تزلیل بلکل نہیں اِس لیے میں نے سوچ لیا میں کبھی سوہا سے اِظہارِ محبت نہیں کروں گا۔
٢ فروری
میرے ایکزامز ہونے والے ہیں اِس لیے میں اب ڈائری نہیں لِکھ سکتا۔
٢٢ مارچ
میں نے اب خود کو سنبھال لیا ہے اب مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
سوہا نے کافی پیجز چھوڑ کر آخری پیج کھولا۔
٢۵جون
آج میں جس کیفیت میں ہوں چاہ کر بھی بتا نہیں سکتا میں بہت بے یقین سا ہوں مطلب مجھے سمجھ نہیں آرہا میں اپنی خوشی کا اظہار کیسے کروں آج میرا اور سوہا کا نکاح ہوگیا جو کے عمار سے ہونے والا تھا پر ایسا نہیں ہوسکتا کیا ہم جیسے لوگوں کے لیے بھی معجزے ہوتے ہیں سوہا کا ملنا میرے لیے کسی معجزے سے کم نہیں جو بات جو چیز مجھے حددرجہ پریشان اور ڈپریشن کا شکار کررہی تھی وہ ختم ہوگئ سوہا آج میری ہوگئ وہ میرے کمرے میں پورے حق سے موجود ہے آج مجھے اپنا آپ مکمل سا محسوس ہورہا ہے ایسا لگ رہا ہے جیسے الفاظ کا ذخیرہ کم ہوگیا ہے سوہا خاموش ہے میں جانتا ہوں وہ خوش نہیں پر اب جب وہ میری دسترس میں آگئ ہے پہلی بار میں نے بس اپنے دل کی سنی میں نے امی سے نکاح کے ساتھ رخصتی کا بھی کہہ دیا تاکہ کل جب عمار آئے تو سوہا کو مجھے چھوڑنے کا خیال نہ آئے اُس کو پتا ہو وہ اب میری ہے میرے نکاح میں ہے میری ہر سانس اپنے رب کی شکرگزار ہے میں ابھی سوہا سے پیار کا اظہار نہیں کروں گا میں چاہتا ہوں اُس کو خود میری محبت کا احساس ہو اُس کو پتا ہو میں اُس کو کتنا چاہتا ہوں آج سے نہیں بلکہ سالوں سے سوہا بہت خاص ہے میرے لیے بہت میں سوہا کو خود سے محبت کرنے پہ مجبور نہیں کرسکتا اگر آج میں اُس سے محبت کا اظہار کروں گا تو کیا پتا وہ مجبوری کے تحت میرے ساتھ رہے محبت بھیک تو نہیں ہوتی جو مانگ کر لی جائے
سوہا نے ساری ڈائری پڑھ کر گہری سانس بھری عباد کو سمجھنا اُس کے لیے بے حد مشکل تھا وہ ایک مسٹری تھا جو سُلجھنے کے بجائے اُلجھتا جارہا تھا۔







آج زویا اور عمار کا نکاح تھا نکاح کی تقریب گھر میں ہی رکھی گئ تھی زویا پارلر سے تیار ہوکر آگئ تھی اُس نے عمار کے ساتھ میچنگ ڈریس لیا تھا آج اُس کے چہرے سے مسکراہٹ جدا نہیں ہورہی تھی نکاح کی رسم ہونے میں کجھ وقت باقی تھا وہ سب اسکائپ پہ عباد سے بات کررہے تھے سوہا دور کونے میں کھڑی سب خالی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
وہ جو میرے نصیب کی بارش تھی
کسی اور پہ برس پڑی۔
اپنے پیچھے انجانی آواز سن کر سوہا نے مڑ کر دیکھا جہاں زویا کی دوست عائشہ تیار سی مسکراکر اُس کو دیکھ رہی تھی۔
میرے نصیب کی بارش میرے اُپر طوفان کی طرح برس چُکی ہے۔سوہا اُس کی بات کا مطلب سمجھ کر گھور کر بول کر سائیڈ سے گُزرگئ۔
افففف اب تو اِس کی بھی زبان آگ اُگلتی ہے۔عائشہ سوہا کی پشت دیکھتی بڑبڑائی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نکاح کی رسم کی ادائیگی کے بعد زویا کو عائشہ اُس کو اپنے کمرے میں لائی تھی۔
فائنلی تم نے اپنی محبت حاصل کرلی۔عائشہ کے زویا کو دیکھ کر جو مسکرارہی تھی۔
یس آئے گاٹ۔زویا مغرور لہجے میں بولی
تمہاری بھی کیا قسمت ہے بنا کجھ کیے محبت پالی ایسے کم لوگ ہوتے ہیں جن کو اللہ اُن کی محبت دے دیتا ہے۔عائشہ کی بات پہ زویا کے چہرے پہ مسکراہٹ گہری ہوگئ تھی
تمہیں کس نے کہا مجھے بنا کجھ کیے محبت ملی بہت پاپڑ بیلے ہیں میں نے تبھی محبت کو حاصل کیا ہے۔زویا آئینے میں اپنا عکس دیکھتی بولی۔
جیسے کے کونسے پاپڑ؟عائشہ متجسس ہوئی۔
نکاح کے دن میں نے عمار کو غائب کروایا تھا ہوسپٹل میں اُس کو جان بوجھ کر بیہوشی کا انجیکش کروایا تھا اغواہ کے بجائے میں نے اِس بات کو ترجیح دی خوامخواہ پھر ڈرامہ ہوجاتا۔زویا ایسے بولی جیسے کوئی عام بات ہو عائشہ کا منہ حیرت سے کُھل گیا تھا دروازے کے پاس گُزرتے انسان کے زویا کی بات بخوبی سُنی تھی اور بنا اُن کو شک کروائے چلاگیا۔
زویا تم نے ایسا کیا آر یو میڈ تمہیں پتا تھا سوہا کے نکاح کا دن تھا اگر عباد اُس سے نکاح نہ کرتا تو تمہیں اندازہ نہیں اُس کو کتنی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں نہ وہاں اگر شادی کی تاریخ طے ہونے کے بعد کسی مجبوری کے تحت نہ ہو تو سب لڑکی کو موردالزام ٹھیراتے ہیں طرح طرح بہتان لگاتے ہیں اُس کو منہوس کہتے ہیں اندازے لگاتے ہیں کے ضرور لڑکی میں کوئی کمی ہوگی معاشرے میں رہنے والے لوگ مجبوری نہیں سمجھتے بلکہ مزہ لیتے ہیں اُن کی بے بسی کا جلے پہ نمک کا کام کرتے ہیں زخم پہ مرہم لگانے کے بہانے اُن زخموں کو اُکھیرتے ہیں اُن کو مزید گہرا کرتے ہیں تمہارے بلاوجہ کے اختلاف سوہا سے ایک طرف پر وہ تمہاری بہن ہے بہن اِس کا مطلب بھی سمجھتی ہوں تم عمار میں ہے کیا جو تم اُس کی محبت میں اندھی ہوکر اُس معصوم کی زندگی خراب کرنے پہ تُلی ہو ایسا تو کوئی دشمن بھی نہ کریں جیسا تم نے سوہا کے ساتھ کیا مجھے بہت افسوس ہورہا ہے تم پہ۔عائشہ کو زویا کی بات پہ صدمہ لگ گیا اِس لیے پھٹ پڑی
تم میری دوست ہو سوہا کی نہیں اِس لیے اُس سے ہمدردی کرنے کی ضرورت نہیں خوش باش ہے وہ اپنی زندگی میں۔زویا بنا عائشہ کی بات کا اثر لیے بولی
تمہاری دوست ہوں تبھی کہہ رہی ہوں دوست بھلے ہر کام میں ساتھ ہوتا ہے پر ایک اچھا دوست وہ ہوتا ہے جو آپ کے بُرے کام میں داد دینے کے بجائے آپ کو آپ کی غلطی کا احساس کروائے دشمن آپ کی تعریف کرتے ہیں پر دوست آپ کو اچھے بُرے کی پہچان کرواتا ہے ۔عائشہ نے سنجیدگی سے کہا
یہ تم بڑی بات مجھ سے مت کرو میں نے جو کیا وہ ٹھیک تھا سوہا کے ساتھ ایسا کجھ نہیں ہوتا کیونکہ مجھے پتا تھا اُس کو رسوا ہونے سے عباد بچالیتا۔زویا اب بے زاری سے بولی۔
وہ تو بچالیتا پر تم نے کوئی کثر نہیں چھوڑی تھی آخر کوئی اپنی بہن کے ساتھ ایسا کیسے کرسکتا ہے۔عائشہ بے یقینی سے بولی
مجھے سوہا سے دشمنی نہیں بس کجھ باتیں ہیں جس سے مجھے وہ نہیں پسند۔زویا گہری سانس بھر کر بولی۔
ماں باپ بہن بھائی کی محبت کے علاوہ ساری محبتیں مطلبی ہوتی ہیں یہ بات یاد رکھنا مانا کے رشتے احساس کے ہوتے ہیں پر جو خونی رشتے ہوتے ہیں نہ اُن کا کوئی مول نہیں ہوتا اِس لیے وقت رہ کر اُن کی قدر کرنی چاہیے۔عائشہ کی بات پہ اِس بار زویا کجھ نہ بول پائی
