Mohabbatein by Rimsha Hussain NovelR50572 Mohabbatein (Episode 01)
Rate this Novel
Mohabbatein (Episode 01)
Mohabbatein by Rimsha Hussain
میں گرینٹی کے ساتھ کہہ سکتی ہوں جو یہ کالے کپڑوں والا ہے نہ اِس نے قتل کیا ہوگا سی آے ڈی ڈرموں میں ہوتا ہی ایسا ہے سارے اپیسوڈ میں ایک کے پیچھے خوار ہوتے ہیں بعد میں جو اُن کی رہنمائی کرتا ہے اصل قصوروار وہی ہوتا ہے۔سوہا پرسوچ انداز میں عمار سے بولی جس کا پورا دھیان سامنے ٹی وی پہ تھا۔
چپ کرو سارا مزہ خراب کرنے کی ضرورت نہیں۔عمار بنا اُس کو دیکھ کر لتاڑا ساتھ ہی ٹی وی کا والیوم تیز کیا جب کسی نے ریموٹ ہاتھ سے لیکر خود سینٹر صوفے پہ براجمان ہوتا دوسرے چینلز سرچنگ کرنے لگا سوہا نے گردن موڑ کر عمار کو دیکھا جو خود اچانک آتی افتاد پہ پریشان ہوگیا تھا۔
بھائی بیس منٹ رہتا ہے پلیز دیکھنے دے۔عمار سے رہا نہیں گیا تو آخر بول پڑا جب کی عباد اُس سے دو سال بڑا بھائی ایسے بیٹھا رہا جیسے وہا ہو ہی نہیں پر سوہا نے غلطی سے بھی کجھ بولنے کی ہمت نہیں کی۔اپنے بھائی کو بے نیاز بیٹھا دیکھ کر عمار وہاں سے اُٹھ کر چلاگیا سوہا کشمش میں مبتلا ہوتی عباد کو دیکھنے لگی جو بلیک شرٹ وائٹ جینز پینٹ پہنے بالوں کو لاپرواہی سے سفید پیشانی پہ بکھرا چھوڑا ہوا تھا ایک ہاتھ جس میں مہنگی گھڑی پہنی ہوئی تھی اُس کی مٹھی بناکر ہونٹوں پہ رکھ بڑی دلجمعی سے نیوز چینل دیکھنے میں مگن تھا سوہا کجھ پل تو اُس کو دیکھتی رہی پھر وہ بھی اُٹھ کھڑی ہوئی پر گھمبیر لہجے میں پوچھے گئے سوال پہ اُس کے قدموں کو بریک لگی سوہا نے مڑ کر عباد کو دیکھا جس کا دھیان ابھی بھی سامنے تھا یا وہ ایسا ظاہر کررہا تھا۔
کل تمہارا فزکس کا ٹیسٹ تھا کیسا ہوا۔عباد نے اپنا سوال دوبارہ سے کہا۔
اچ۔۔۔اچھا تھا۔سوہا نے اٹکتے ہوئے بتایا۔
صرف اچھا تھا ایف ایس سی کی اسٹوڈنٹ ہو تم بورڈ کے ایکزامز قریب ہیں اور یہ حال ہے تمہارا زویا تمہاری ہی بہن ہے وہ بھی جڑواں ٹیسٹ دیکھایا تھا اُس نے فل مارکس لیے ہیں۔عباد کی بات پہ اُس نے شرمندگی سے سرجھکادیا تھا۔
وہ اگر پڑھائی میں ٹاپر ہے تو میں اِتنی نالائق بھی نہیں سپلی میں اگر کوئی گریڈ نہ بھی آئے تو پاسنگ مارکس ضرور آجائے گے ویسے بھی ہر کوئی آپ یا میری بہن کی طرح ہوشیار اور قابلِ تعریف نہیں ہوتا۔سوہا نے دل میں آتی بات زبان پہ کہہ دی عباد نے سرد نگاہوں سے اُس کو دیکھ کر کہا
جتنی زبان چلاتی ہو اُتنا دماغ چلایا کرو گھر جاکر اپنا ٹیسٹ مجھے واٹس ایپ کرنا یا یہاں لیکر آنا۔
واٹس ایپ پہ تصویر سینڈ کردوں گی۔سوہا اپنی کہہ کر وہاں سے چلی گئ عباد نے ہاتھ میں پکڑا ریموٹ اُچھال کر خود بھی اپنے کمرے کا رخ کیا
میری بیٹی کا منہ کیوں لٹکا ہوا ہے۔سوہا کو خاموش بیٹھا دیکھا تو سویرہ بیگم نے محبت سے استفسار کیا زویا جو پاپ کارن کا باؤل ہاتھ میں لیکر اپنے کمرے میں جارہی تھی اپنی ماں ک بات سن کر اُن کی طرف آئی۔
کجھ نہیں امی جان۔سوہا نے مسکراکر ٹالنا چاہا
ضرور عباد سے عزت افزائی ہوئی ہوگی ٹیسٹ کا پوچھا ہوگا تم نے بتایا ہوگا اپنا کارنامہ۔زویا نے تاک کر نشانہ لگایا۔
اُس سے ٹیوشن لیا کرو یا پھر تم دونوں ایک کلاس میں ہو تو ساتھ میں تیاری کیا کرو۔سویرہ بیگم نے کہا
آپ کی لاڈلی کو اپنے منگیتر کے ساتھ گھومنے پِھرنے مستی کرنے کے علاوہ کجھ آتا ہو تو پڑھائی پہ بھی دھیان دے۔زویا نے چُھبتے لہجے میں کہا
بہن ہوں میں تمہاری اِس لہجے میں کیوں مجھ سے بات کرتی ہو۔سوہا نے خفا ہوکر کہا۔
بچی تو نہیں فرصت ملے تو ضرور سوچنا۔زویا زخمی مسکراہٹ سے بول کر وہاں رکی نہیں تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یار عمار اب کیا ہوگا میں نے تو عباد کو تصویر سینڈ کردی ہے اُس نے دیکھ بھی لی ہوگی۔سوہا نے پریشان ہوکر کال پہ عمار سے کہا
بھائی تمہیں کھا تھورئی نہ جائے گے اِس لیے فکر نہیں کرو سب ٹھیک ہوگا۔عمار رلیکس انداز میں بولا
عباد اتنا سنجیدہ کیوں رہتا ہے۔سوہا نے جاننا چاہا
بھائی تو ایسے ہی ہے تمہیں اب فیل ہورہا ہے بچپن میں تم دونوں کی آپس میں بہت ہوتی تھی نہ پھر پتا نہیں تم دونوں کی دوستی کو کیا ہوگیا تم جو پہلے ان سے فرمائشیں کرتی تھی اب ان کی آواز سن کر ہی تمہاری روح فنا ہوتی ہے۔عمار کی بات پہ سوہا مسکرادی۔
ہاں پہلے تو واقع جمتی تھی اب نہیں۔سوہا نے گہری سانس لیکر کہا
ڈونٹ وری سوجاؤ۔عمار نے نرمی سے کہا






مصطفیٰ احمر کی چار اولادیں تھی ایک بڑا بیٹا حنان احمر دوسرا بیٹا سننان احمر دو بیٹیاں حنا دوسری بیٹی ثنا مصطفیٰ احمر نے اپنی چاروں اولادوں کی شادی اپنی مرضی سے کروائی تھی۔
حنان احمر کی بیگم صغریٰ جن کی دو اولادیں تھی اور ماشااللہ سے دونوں بیٹے تھے ایک عباد دوسرا عمار دونوں میں دو سال کا فرق تھا پر نیچر میں زمین آسمان کا فرق تھا عباد جہاں ایک قابل اسٹوڈنٹ ریزرو رہنے والا بندہ تھا تو دوسری طرف عمار کو ہر چیز میں دلچسپی تھی سوائے پڑھائی کے۔
سننان احمر کے یہاں اللہ نے دو بیٹیاں اپنی رحمت سے نوازہ تھا ایک زویا تو دوسری سوہا
عباد اور سوہا کی آپس میں بہت بنتی تھی مگر پھر جانے ایسا کیا ہوگیا جو عباد کا رویہ اُس کے ساتھ روڈ ہوگیا یہ تو وقت آنے پہ پتا لگنا تھا۔
