Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mohabbatein (Episode 06)

Mohabbatein by Rimsha Hussain

عمار کا کجھ پتا چلا؟سب مہمانوں کے جانے کے بعد صغریٰ بیگم عباد کے پاس آتی بولی جو لان میں بیٹھا تاروں سے چمکتا آسمان دیکھ رہا تھا اپنی ماں کی آواز پہ عباد نے اُن کو دیکھا جن کا چہرہ مُرجھا گیا تھا۔

امی انشااللہ کل تک پتا چل جائے گا۔عباد اُن کو اپنے ساتھ لگا کر تسلی آمیز لہجے میں بولا

تم یہاں کیا کررہے ہو تمہیں تو اپنے کمرے میں ہونا چاہیے سوہا کو ابھی تمہاری ضرورت ہے اُس کے لیے بہت شاک کی بات ہے تمہارا فرض ہے اُس کو سنبھالنا۔صغریٰ بیگم نے عباد سے کہا

آپ کی مجھے ضرورت نہیں۔

کجھ عرصے پہلے سوہا کا کہا جملا یاد کرکے عباد نے گہری سانس لی۔

جاتا ہوں آپ بھی جاکر آرام کریں کل عمار اپنے گھر ہوگا۔عباد نے پُریقین لہجے میں کہا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عباد کمرے میں آیا تو سوہا کو بیڈ پہ خاموش سنجیدہ سا بیٹھا پایا عباد ایک نظر اُس پہ ڈالتا ڈریسنگ کے سامنے آتا اپنی گھڑی اُتارنے لگا

عمار کا پتا ہے آپ کو؟سوہا کی بات پہ عباد نے زور سے اپنی آنکھیں میچ کر کھولی۔

اگر پتا ہوتا تو تم اِس وقت اُس کے نکاح میں ہوتی۔عباد سپاٹ لہجے میں بولا سوہا نے گردن موڑ کر عباد کو دیکھا جس کے چہرے پہ سوائے سردمہری کے کجھ نہ تھا۔

آپ نے نکاح کے لیے انکار کیوں نہیں کیا؟سوہا نے دوسرا سوال کیا

میرا بھی یہی سوال تم سے ہے۔عباد اُس کے سامنے آتا بولا

میں لڑکی ہوں مجبور ہوگئ اپنے والدین کے سامنے آپ مرد تھے انکار کرسکتے تھے۔سوہا نے اُداسی سے کہا

اب تم مجبور نہیں ہو جب چاہے الگ ہونا چاہو ہوسکتی ہو میرے لیے تمہاری خواہش ضروری ہے احترام ہے اِس لیے پریشان مت ہو سوجاؤ۔عباد نے سنجیدگی سے کہا سوہا کو اپنی قسمت پہ رونا آیا اور عباد پہ غصہ بھی۔

دو گھنٹے ہوئے نہیں نکاح کو اور یہ چھوڑنے کا بھی سوچ بیٹھے ہیں۔ یہ سوچتے ہی بے اختیار سوہا کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

عباد اُس کے چہرے سے نظریں چُراتا صوفے کی جانب بڑھا۔

میں یہاں سوجاؤں گی آپ کا کمرہ آپ کا بیڈ ہے آپ وہاں سکون سے لیٹ جائے۔سوہا بیڈ سے اُٹھتی بولی

میں ایڈجسٹ کرلوں گا ڈونٹ وری تم سوجاؤ کل کالج بھی جانا ہے۔عباد کی آخری بات پہ سوہا کی آنکھیں حیرت سے پِھیل گئ۔

کیا میں کالج وہ بھی کل۔سوہا کی چیخ نکلتے نکلتے رہ گئ۔

ہاں تو اِس میں اتنا حیران ہونے والی کیا بات ہے دوسری بات اب کسی ٹیوٹر کی ضرورت نہیں میں ہر سبجیکٹ تمہیں پڑھا لیا کروں گا اب تمہیں میرے کمرے میں آنے کی اجازت کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔عباد اُس کے چہرے پہ حیرانگی کے تاثرات دیکھتا ہوا بولا

تمہارے بھائی کی جس سے شادی ہوگی مجھے تو اُس بے چاری لڑکی سے بڑی ہمدردی محسوس ہورہی ہے مجھے لگتا ہے اپنی بیوی کو بھی وہ کیمسٹری اور فزکس کی کتابیں پڑھائے گے۔

سوہا نے اُس وقت کو کوسا جب اُس نے یہ بات عمار سے کہی تھی اُس کو کیا پتا اُس کا کہا کسی اور کے لیے اُس پہ بھاری پڑے گا۔

پر آج تو میری شادی ہوئی ہے شادی کے دوسرے دن کالج کون جاتا ہے پڑھنے لوگ میرا مذاق اُڑائے گے کلاس میں۔سوہا منمناتی بولی

اُس کی بات پہ عباد نے سرتا پیر سوہا کا جائزہ لیا جو ابھی تک نکاح والے جوڑے میں ملبوس تھی میک اپ کے نام پہ ہونٹوں پہ ڈارک لپ اسٹک اور آنکھوں کاجل لگایا ہوا تھا۔

کیا جس لڑکی کی شادی ہوتی ہے اُس کے ہاتھ ایسے ہوتے ہیں۔عباد اُس کے پاس آتا اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لیکر بولا سوہا کو اپنے وجود میں سنساہٹ ڈورتی محسوس ہوئی۔

مہندی کی خوشبوں مجھے پسند نہیں اِس لیے۔سوہا نے آہستہ سے کہا

ہماری شادی محبت کی نہیں سوہا تم آزاد ہو میری طرف سے میں جانتا ہوں تمہیں کیا پسند ہے کیا نہیں میں نے بس ایک بات کہی یہ نہیں کہا کے مہندی لگاؤ اگر لگاتی بھی تو وہ میرے نام کی نہیں ہوتی۔عباد اُس کے ہاتھ چھوڑتا سنجیدگی سے بولا

آپ بھی میری طرف سے آزاد ہے۔ سوہا عباد سے کہتی واشروم میں بند ہوگئ

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

یااللہ آپ کا لاکھ لاکھ شکر میرے اور عمار کے درمیان والا کاٹا آپ نے ہٹالیا اِس بات پہ میں جتنا آپ کا شکریہ ادا کروں اُتنا کم ہیں آپ جانتے ہیں سب آپ دلوں کے بھید سے اچھی طرح واقف ہیں آپ جانتے ہیں میں عمار کو بچپن سے چاہتی ہوں پر اُس سوہا کی وجہ سے عمار نے کبھی مجھ پہ نظر نہیں ڈالی پر اب یااللہ وہ ہمارے درمیان نہیں آئے گی کیونکہ عباد اُس کو آنے نہیں دے گا بس یااللہ جہاں آپ نے اِتنی مدد کی ہے کجھ اور بھی کریں عمار کے دل سے سوہا کی محبت نکال کر زویا سننان کا عشق ڈال دے۔یہ کہہ کر زویا نے اپنی بند آنکھیں کھول دی وہ پورے ایک گھنٹے سے جائے نماز پہ بیٹھی اللہ سے محو گفتگو تھی۔

نماز سے فارغ ہوتی وہ جائے نماز الماری پہ رکھتی بیڈ پہ آتی آرام سے لیٹنے والے انداز میں بیٹھی آج زویا کے چہرے پہ سب کجھ جیت جانے والی مسکراہٹ تھی۔

سوہا

سوہا

تم کبھی عمار اور میرے درمیان اب نہیں آؤں گی تم میری بہن تھی ہر بات سمجھتی تھی پھر بھی عمار کے قریب گئ ورنہ پہلے تو تمہیں عباد کے علاوہ کجھ نظر نہیں آتا تھا پھر تم نے عباد کو چھوڑ کر عمار کے ساتھ گہرا تعلق رکھ لیا اپنی بہن کے ساتھ ایسا فریب کیا اب دیکھو آج نہ تو تمہارا عمار ہے اور نہ کبھی عباد ہوگا کیونکہ کوئی بھی مرد ایسی لڑکی کو اپنے دل میں جگہ نہیں دیتا جس لڑکی کے دل میں کوئی اور ہو یہاں تو عباد کے بھائی کا معاملہ ہے وہ جب جب تمہیں دیکھے گا اُس کو تم سے اجنبیت محسوس ہوگی وہ کبھی تمہاری طرف قدم نہیں اُٹھائے گا ساری زندگی تم اُس کی ایک نظر کرم کے لیے ترستی رہو گی۔زویا نفرت سے تصور میں سوہا سے مخاطب ہوئی۔

تم ازل سے میرے ہو عمار صرف میرے ہزاروں سوہا جیسی لڑکیاں آئے پر تمہیں مجھ سے الگ نہیں کرسکتی۔زویا سائیڈ ٹیبل سے اپنا فون اُٹھا کر گیلری میں اُس کی تصویریں دیکھتی جنونیت سے بولی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

عباد کو سوئے ابھی کجھ وقت ہوا تھا جب اُس کے سیل فون پہ کال آنے لگی عباد اپنی مندی مندی آنکھیں کھولتا موبائل ہاتھ میں لیا جہاں اسکرین پہ عمار کا نام لکھا جگمگارہا تھا عباد کی نیند بھک سے اُڑ گئ تھی عباد نے ایک نظر بیڈ پہ سکون سے لیٹی سوہا پہ ڈالی پھر پاؤں پہ چپل اُڑستا کمرے سے باہر آیا۔

عمار کہاں ہو تم اندازہ ہے تمہیں یہاں سب کتنے پریشان تھے۔عباد کال ریسیو کرتا غصے سے بولا

بھائی کول ڈاؤن میں سب بتاتا ہوں اب بس ہوسپٹل آجائے۔عمار پریشانی سے بولا

ہوسپٹل کیوں تم ٹھیک تو ہو۔عباد فکرمندی سے بولا

میں ٹھیک ہوں بھائی آپ بس جلدی آجائے۔عمار اتنا کہہ کر کال کٹ کرگیا۔عباد کجھ دیر تک بند اسکرین کو دیکھتا رہا پھر باہر جانے کے لیے بڑھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بھائی ایک کال آئی تھی میرے پاس جس کو سننے کے لیے میں باہر گیا تھا کال میرے دوست کی تھی اُس کے لیے میں ہوسپٹل آگیا پھر وہاں کسی نرس نے غلطی سے مجھے بیہوشی کا انجیکشن لگالیا تھا۔عمار فر فر عباد کو وضاحت دینے لگا عباد بنا کوئی تاثر دیئے گاڑی ڈرائیو کرتا رہا۔

ابھی اپنے کمرے میں جاؤ صبح سب دیکھ لے گے۔عباد پورچ میں گاڑی روکتا بولا

نہیں بھائی میں ابھی چچی جان کے پاس جاؤں گا سوہا سے بات کرنے میرے نہ آنے پہ پریشان ہوگی۔عمار کی بات پہ عباد نے بہت مشکل سے خود پہ جبر کیا

عمار اپنے کمرے میں جاؤ صبح دیکھ لے گے۔عباد نے دانت پہ دانت جمائے کہا

پر بھائی

گو۔

عباد بنا اُس کی سنتا بولا تو عمار نا چاہتے ہوئے بھی عباد کی بات مان گیا۔

عباد نے آہستہ سے دروازہ کھول کر اپنے کمرے میں آیا جہاں سوہا ویسے ہی سوئی ہوئی تھی عباد چلتا بیڈ کے پاس آیا اور گھٹنوں کے بل ہوتا سوہا کو دیکھنے لگا جو سوتے ہوئے بہت معصوم لگ رہی تھی بال کُھلے ہونے کی وجہ سے کجھ اُس کے چہرے کو ڈھانپے ہوئے تھے عباد نے ہاتھ بڑھا کر بال چہرے سے دور کیے جس سے سوہا ہلکہ سا نیند میں کسمسائی پھر دوبارہ سوگئ اُس کو دوبارہ سوتا دیکھ کر عباد کے چہرے پہ ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔عباد ہلکہ سا جھک کر اُس کی پیشانی پہ اپنا لمس چھوڑا پھر اُٹھ کر اپنی جگہ پہ آیا صوفے پہ لیٹ کر عباد سوہا کو دیکھنے لگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ناشتے کی ٹیبل پہ سب خاموش اپنی جگہ بیٹھے ہوئے تھے عمار نے حنان صاحب اور صغریٰ بیگم کو سب بتادیا تھا پر اب اُن لوگوں میں ہمت نہیں تھی کے وہ عمار کو سچ بتا پاتے

عباد عمار۔سوہا عباد کے ساتھ نیچے آرہی تھی جب اُس کی نظر عمار پہ پڑی تو عباد سے کہا

رات کو آگیا تھا۔عباد سنجیدگی سے بولا

رات کو۔سوہا آہستہ بڑبڑائی۔

سوہا تم کب آئی سوری یار میں رات کو تم سے سب بات کرنے والا تھا پر نہ ہوسکی۔عمار مسکراکر سوہا کا ہاتھ تھام کر بولا سوہا حیران سی عمار کو دیکھنے لگی جس کے تاثرات نارمل تھے عباد کی سخت نظریں سوہا کے ہاتھ پہ رکھے عمار کے ہاتھ پہ تھی۔

عباد سے مزید برداشت نہیں ہوا تو عمار کا ہاتھ سوہا کے ہاتھ سے ہٹا دیا۔

عمار تم گھر سے نکلنے سے پہلے ہمیں بتاسکتے تھے جانتے تھے کل تمہارا نکاح تھا پھر بھی تم نے اِتنی لاپرواہی کا مظاہرہ کیا۔عباد سوہا کا ہاتھ اپنی آہنی گرفت میں لیتا بولا

کجھ ہوا تھا کیا کل؟عمار کو اپنی آواز دور کھائی سے آتی محسوس ہوئی اس کا دل کئ اندیشوں کا شکار ہوگیا تھا پہلے عباد کا اس کا ہاتھ سوہا کے ہاتھ سے الگ کرنا اور اب عباد کا ہاتھ سوہا کے ہاتھ میں دیکھ کر اُس کو کسی گڑبڑ کا احساس شدت سے ہوا تھا۔

میرا اور سوہا کا نکاح۔عباد نے آرام سے بتایا عمار کے قدم لڑکھڑائے تھے اُس نے سوہا کو دیکھا جس نے اپنا سر جھکا دیا تھا۔

آپ ایسا کیسے کرسکتے ہیں آپ جانتے تھے ہم ایک دوسرے کو چاہتے تھے پھر کیوں کیا ایسا میں نہیں مانتا اِس نکاح کو آپ بس سوہا کو طلاق دے۔عمار آپے سے باہر ہوتا بولا حنان صاحب اور صغریٰ بیگم بھی ہال میں آگئ تھی۔

ہوش می ہو تم؟عباد ناگواری سے بولا

نہیں ہوں میں ہوش میں آپ کو لگتا ہے جو آپ نے مجھ سے بات کی میں ہوش میں رہوں گا۔عمار اپنے بالوں میں ہاتھ ڈالتا بولا

عمار رلیکس۔سوہا اُس کے پاس آتی پریشانی سے بولی

سوہا تم تو مجھ سے پیار کرتی ہو بھائی سے طلاق لو۔عمار سوہا کو کندھوں سے تھامتا بولا سوہا نے بے بسی سے عمار کو دیکھا۔

سوہا کمرے میں جاؤ۔عباد نے گھور کر سوہا سے کہا

سوہا کہی نہیں جائے گی آپ سوہا کو طلاق دے۔عمار اٹل لہجہ اپناتے بولا

عمار اب ایسا ممکن نہیں پورے خاندان کو یہ بات پتا ہے نکاح کوئی مذاق نہیں۔صغریٰ بیگم نے عمار کو سمجھانا چاہا

آپ کو اپنے بیٹے سے زیادہ خاندان کی پڑی ہے۔عمار صدمے میں بولا

عمار عقل سے کام لو۔حنان صاحب درشتگی سے بولا عمار سب پہ سنجیدہ نظر ڈالتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

آپ کو آرام سے بات کرنی چاہیے تھی عمار سے۔کمرے میں آتے سوہا نے عباد سے کہا

میں آرام سے بات کررہا تھا آپے سے باہر عمار ہورہا تھا۔عباد نے جواب دیا

اب کیا ہوگا۔سوہا پریشانی سے بولی

تم کیا چاہتی ہو۔عباد اُس کی آنکھوں میں دیکھتا بولا

وہی جو میرے والدین چاہتے ہیں۔سوہا بنا دیر کیے بولی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *