Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mohabbatein (Episode 09)

Mohabbatein by Rimsha Hussain

یو ایس جانے کا خیال کیسے آگیا یوں اچانک۔حنان صاحب نے عباد سے کہا جو اُن کے آفس میں آکر بتانے آیا تھا عباد نے سوچ لیا تھا وہ ابھی یہاں نہیں رہے گا اگر سوہا کے ساتھ رہے گا تو وہ طلاق کا مطالبہ کرے گی اور وہ اُس کو طلاق نہیں دے گا تبھی اُس نے یو ایس جانے کے لیے تیاری کرلی تھی اور اب وہ بنا سوہا کی معلومات میں لائے جانے کا فیصلہ کرچُکا تھا

میں اپنی پڑھائی وہاں کمپلیٹ کرنا چاہتا ہوں اِس لیے اور یہ خیال اچانک نہیں آیا میں نے پہلے سے سوچ رکھا تھا۔عباد نے جواب دیا

وہ سب تو ٹھیک پر سوہا اُس کا کیا کروگے اُس کو بھی اپنے ساتھ لے جاؤ وہ اب تمہاری زمیداری ہے تمہیں اتنی جلدی رخصتی کا نہیں کہنا چاہیے تھا اُس کی عمر پڑھائی کی تھی پر خیر اب تو ہوگیا اِس لیے میں چاہوں گا تم اپنے فیصلے پہ نظر ثانی کرو اب تم اکیلے نہیں ہو۔حنان صاحب نے اُس کو سمجھانے کی خاطر کہا

ڈیڈ اُس کو میں سمجھادوں گا پر اُس کو اپنے ساتھ نہیں لیکر جاسکتا۔عباد اُن کی بات بولا

اگر سوہا کو اعتراض نہیں تو ہمیں کیا ہوگا پر میں پھر بھی کہوں گا نئ شادی ہے تمہاری اور جس طرح کے حالات چل رہے ہیں تمہیں اُس کو اکیلا چھوڑنا نہیں چاہیے بلکہ ہر وقت اپنی موجودگی کا اُس کو احساس دلواتے رہو۔حنان صاحب نے کہا

ڈیڈ مجھے اِن سب کے علاوہ اپنے فیوچر کے بارے میں بھی تو سوچنا ہے۔عباد کی بات پہ اِس بار حنان صاحب کجھ نہ بولے تو عباد نے کہا

ڈیڈ آپ کو پتا ہے نہ میں سی اے کرنا چاہتا ہوں اِس لیے میں نے باہر جانے کا سوچا ہے تاکہ میرا دھیان صرف اسٹڈی میں رہے 1 Foundation Syllabus.

۔Principles and Practice of 2 ۔Accounting ۔Business Mathematics, 3

Business Laws and

Business Correspondence Logical Reasoning, and Statistics

اور ڈیڈ اِن سب کے علاوہ پاسنگ مارکس

CA Intermediate and CA Final by scoring a minimum of 40% marks in each individual subject and 50% marks in aggregate of all the subjects at one sitting either both groups or a single group.

آپ بتائے اِن حالات میں سی اے کی ٹف اسٹڈی میں یہاں کرسکتا ہوں۔عباد سارا کجھ کہہ کر حنان صاحب سے بولے۔

عباد تم تو مجھے پوری سی اے کی ڈیفینیشن بتادی اگر یہ بات ہے تو تم یو ایس ہی کیوں جانا چاہتا ہو لاہور کیوں نہیں وہاں بھی تو ہوسکتا ہے نہ پانچ سال بعد عرصہ ہے لاہور میں رہوگے تو ہمیں یا تمہیں آنے جانے میں آسانی ہوگی۔حنان صاحب مطمئن نہیں ہورہے تھے اُن کا دل عباد کو اکیلے اتنا دور بھیجنا سہی نہیں لگ رہا تھا۔

ڈید پاکستان میں سبجیکٹ کا مسئلا ہیں مطلب سبجیکٹ چینج ہیں۔

CA Program structure

ASSESSMENT OF FUNDAMENTAL COMPETENCIES (AFC) 4 Papers

CAF-6Managerial and Financial Analysis

CAF-7Company Law

CAF-8Audit and Assurance

Certified Finance and Accounting Professional (CFAP) 6

سی اے کا بیسٹ سبجیکٹ سائنس کے ساتھ میتھ ہے اِس لیے میں لاہور نہیں یو ایس جانے کو ترجیح دے رہا ہوں۔حنان نے مزید کہا

سی اے میں میتھ۔حنان صاحب کو تعجب ہوا

یس کوسٹنگ سبجیکٹ۔عباد نے مسکراکر بتایا

ٹھیک ہے جیسا تمہیں بہتر لگے تم وہ کرو میں نہیں روکوں گا کیونکہ یہ تمہارے مستقبل کا سوال ہے۔حنان صاحب نے کہا تو عباد نے شکر کا سانس خارج کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان میں اچھی یونیورسٹیز اور کالجز کا قال آگیا ہے جو تم باہر پڑھنے جانا چاہتے ہو۔ صغریٰ بیگم کو جیسے بات پتا چلی تھی وہ اُس پہ غصہ کرتی بولی عباد جو یہ سوچے بیٹھا تھا سوہا کو معلوم نہیں ہونے دے گا مگر صغریٰ بیگم نے لاوٴنج میں عدالت لگالی تھی جس پہ یہ بات اب سب کو بات پتا چل گئ تھی۔

امی پلیز آپ کو مجھے سپورٹ کرنا چاہیے ناکہ ایسے روکنا چاہیے سب لوگ جاتے ہی صرف میں تو نہیں۔عباد خفگی سے بولا سوہا خاموش نظروں سے عباد کو دیکھ رہی تھی جس نے مکمل طور پر اُس کو نظرانداز کیا تھا سوہا اُس کی ایک نظر کی منتظر تھی پر شاید عباد نے قسم کھائی اُس کا صبر آزمانے کی۔

سب لوگوں سے ہمارا کیا لینا دینا وہ جانے اور اُس کے والدین۔صغریٰ بیگم تاسف سے بولی

امی دیکھے یہ میرے مستقبل کی بات ہے رسولﷺ نے کہا ہے اگر علم حاصل کرنے کے لیے چین بھی جانے پڑے تو جائے پھر کیوں آپ ناراض ہورہی ہے بس پانچ سال کی تو بات ہے۔ عباد نے اُن کو نئے طریقے سے سمجھانا چاہا

پانچ سال تمہیں بس لگ رہے ہیں۔ صغریٰ بیگم کی بات پہ عباد نے اُن کو دیکھتا رہ گیا۔

امی جان پلیز بخوشی مجھے اجازت دے۔عباد ان کے قدموں کے پاس بیٹھتا بولا سوہا عباد کو نظروں کے حصار میں لیتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئ۔

عباد تمہارے ساتھ سوہا کا مستقبل جُڑا ہے اگر میں اجازت دوں بھی تو تمہارے لیے سوہا کی رضامندی بھی ضروری ہے کیا تم اپنی بیوی کو اتنے سال تنہا چھوڑ کر جاؤ گے سوہا کا بھی تو سوچو وہ ابھی بچی ہے میں تو پہلے ہی رخصتی نہیں چاہتی تھی پر تمہاری کہنے پہ ایسا ہوا اب تمہارا یہ فیصلہ۔صغریٰ بیگم سوہا کے جانے کے بعد بولی۔

امی سوہا سے میں بات کرلوں گا آپ بس اپنی بات کریں۔عباد سنجیدگی سے بولی

مجھے پھر کوئی اعتراض نہیں۔صغریٰ بیگم ناچاہتے ہوئے بھی بول پڑی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا اپنے باہر پڑھنے کے بارے میں؟ عباد کمرے میں آیا تو سوہا نے اُداس لہجے میں پوچھا

تمہیں کیا بتاتا ویسے بھی میرے نہ بتانے سے تمہیں پتا نہیں لگا۔ عباد بے رخی سے بولا

آپ اتنے روڈ کیوں ہوجاتے ہیں مجھ سے؟ سوہا نے شکوہ کیا

میں ایسا ہی ہوں۔ عباد ہینڈی کیری کی زپ کھولتا بولا

آپ کی بیوی ہوں میں آپ مجھے چھوڑے کے کیسے جاسکتے ہیں۔ سوہا نے سوال اُٹھایا

چھوڑنے کے منصوبے تو تم بنارہی ہو۔ بے اختیار اُس کے منہ سے پھسلا تو سوہا نے ناسمجھی سے اُس کو دیکھا جو اب وارڈروب سے اپنے کپڑے نکال رہا تھا

کیا مطلب آپ کا اِس بات سے۔سوہا نے الجھ کر پوچھا

کوئی مطلب نہیں۔عباد سپاٹ انداز میں بولا

آپ ابھی سے بیگ کیوں تیار کررہے ہیں کب جانا ہے آپ نے؟ سوہا نے نے چینی سے ایک اور سوال داغا۔

سوہا کیا ہوگیا ہے کیوں اِتنی تفتیش کررہی ہو جاؤ یہاں سے مجھے اپنا کام کرنے دو۔عباد نے دھاڑ کر کہا تو سوہا ڈر کر کجھ قدم دور ہوئی۔

س سو سوری۔سوہا اٹک اٹک کر بولتی کمرے سے باہر چلی گئ سوہا کے جانے کے بعد عباد نے بیگ میں ڈالے سارے کپڑے بے دردی سے باہر پھینک دیئے اور خود سر ہاتھوں میں گِرائے بیٹھ گیا۔

💕
💕
💕
💕
💕

اب نہیں کروں گی

تم سے

کوئی بھی سوال معاف کرنا

جاناں

کافی حق جتانے لگی تھی

تم/

پر

سوہا اُداس سی جھولے پہ بیٹھی ہوئی تھی اُس کو عباد کی سمجھ نہیں آرہی تھی جو پل میں تولہ اور پل میں ماشہ تھا۔

آپ کا اصل روپ کیا ہے عباد آج والا یا وہ کیئرنگ روپ جس میں آپ بہت مختلف اور اپنے سے لگتے ہیں۔سوہا آسمان کی جانب دیکھتی تصور میں عباد سے ہمکلام ہوئی

تو وہ دن آگیا جس کی تمہیں پرواہ نہیں تھی۔زویا کی آواز پہ سوہا اپنی سوچو سے باہر آئی۔

زویا پلیز آج میرا کوئی موڈ نہیں تمہاری جلی کٹی باتیں سننے کا۔سوہا نے اکتاہٹ سے کہا

ہمم اندازہ ہے تم تو خوش ہوگی اور چاہتی ہوگی تمہاری خوشی ضائع نہ ہو۔زویا سمجھنے والے انداز میں سرہلاتی بولی۔

کیا مطلب تمہارا صاف صاف بات کرو۔سوہا نے تعجب سے کہا

مطلب یہ عباد جارہا ہے باہر اور جو باہر جاتے ہیں پڑھنے کے بہانے یا پھر کمائی کے بہانے تو وہ وہی پردیس کے ہوجاتے ہیں عباد بھی ایسا کرے گا بھلا کونسا مرد ایسی لڑکی کے ساتھ زندگی گُزارنا چاہے گا جو نکاح میں تو اُس کے ہو پر دل اُس کے بھائی کے پاس ہو۔زویا تنفر سے بولی

اسٹاپ زویا بہن ہو اِس لیے لحاظ کرتی ہو اِس کا مطلب یہ نہیں تم اپنی حدیں پار کرو۔سوہا سختی سے بولی

کجھ غلط تو نہیں کہا۔زویا اُس کی بات پہ آنکھیں گھماکر بولی

میری شادی عباد سے ہوئی ہے میرا اب عمار سے کوئی واسطہ نہیں اِس لیے بار بار میرا نام مت جوڑا کرو اُس کے ساتھ۔سوہا نے وارن کیا

تمہارا کوئی واسطہ نہیں تو عباد کیوں پانچ سال کے لیے باہر جارہا ہے پہلے تو اُس نے کبھی سی اے کا ذکر نہیں کیا اچانک شادی کے بعد سی اے کرنے کا بھوت چڑھا پوچھو تو کہتا ہے سات لاکھ سیلری ہے ہمارا اپنا بزنس ہے تو عباد کو کیا ضرورت کسی جاب کی۔زویا مشکوک نظروں سے اُس کو دیکھتی بولی

اگر میری وجہ سے جاتے تو طلاق کے پیپرز میرے ہاتھ میں تھماتے۔سوہا نے دو ٹوک کہا

اچھا تو تم چاہتی ہو وہ جانے سے پہلے تمہیں طلاق دے۔زویا اپنا مطلب اخذ کرتی بولی

دن بدن سائکو ہوتی جارہی ہو۔سوہا تاسف سے اُس کو گھورتی گھر کے اندر جانے لگی

اصل سائکو تو تم بنو گی جب عباد وہاں جاکر کسی گوری سے شادی کرلے گا پھر پانچ سال بعد نہیں تو دس سال بعد آئے گا اپنے بیوی بچے کے ساتھ۔زویا بڑبڑاتی واپس جانے کے لیے لوٹ گئ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دیکھو اب تو یقین آگیا نہ میری بات کا بھائی باہر جارہے ہیں کیونکہ اُن کو تم سے محبت نہیں۔سوہا زویا سے جان چھڑواکر آئی تو عمار شروع ہوگیا۔

وہ پڑھائی کرنے بھی نہ جائے کیا کہیں عباد کو بچپن سے پڑھنے لِکھنے کا شوق ہے اِس لیے اب وہ باہر جانے کو ترجیح دے رہا ہے اگر اِس بیچ ہماری شادی ہوگئ تو یہ مطلب ہرگز نہیں وہ اِس شادی سے خوش نہیں۔سوہا فورن سے عباد کے دفع میں بولی۔

مشرقی لڑکیوں کی طرح اپنے شوہر کی حمایت کررہی ہو میں بلکل بھی متاثر نہیں ہو سوہا جتنی جلدی تم بدل گئ ہو اُتنا شاید ہی کوئی بدلتا ہوگا تمہیں سچ میں کجھ یاد نہیں ہماری دوستی ہماری محبت ہمارا ساتھ زندگی گُزارنے کے واعدے خواب۔عمار افسوس سے بولا

عمار ہم اب بھی دوست ہیں پر میں طلاق کا طوق اپنے گلے میں نہیں ڈالنا چاہتی ہماری شادی جیسے ہوئی کیوں ہوئی کس حال میں ہوئی میرے لیے یہ معنے نہیں رکھتا اگر رکھتا ہے تو بس یہ کے اب میں عباد کے نکاح میں ہوں۔سوہا مضبوط لہجے میں بولی

سوہا تمہیں سچ میں میری کوئی پرواہ نہیں۔عمار کو تکلیف ہوئی۔

عم

سوہا تم یہاں کیوں بیٹھی ہو عباد کجھ دن بعد چلاجائے گا تمہیں چاہیے اُس کو وقت دو اچھی بیویاں شوہر کو وقت دیتی ہیں۔سوہا کی بات صغریٰ بیگم کی آمد پہ بیچ میں رہ گئ۔

جی چچی میں بس جانے والی تھی۔سوہا شرمندہ ہوتی بولی

عمار شکوہ کناں نظروں سے اپنی ماں کو دیکھتا اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔

آپ کو کجھ چاہیے؟سوہا کمرے میں آتی عباد سے بولی جو موبائل میں جانے کیا دیکھ رہا تھا

ہمم کل تو میری فلائٹ ہے ایسا کرو تم اپنی بُکس لیکر آؤ میں کجھ چیپٹرز تمہیں سمجھادوں۔عباد کی بات پہ سوہا کتنی دیر تک عباد کو دیکھتی رہی اُس کو لگا سننے میں کوئی غلطی ہوئی ہے۔

کیا ہوا؟عباد نے اُس کو ایک جگہ کھڑا دیکھا تو پوچھا۔

آپ کتابیں لانے کا کہہ رہے ہیں ابھی بھی۔سوہا بے یقینی سی بولی

کیوں اب کیا ہوا ہے؟عباد نے اُلٹا اُس سے سوال داغا کجھ دیر ہوئی تلخ کلامی کا شبہ تک اُس کے چہرے پہ نہیں تھا۔

نہیں آپ مجھے ایک بات بتائے آپ ہروقت پڑھائی کی بات کیوں کرتے ہیں مانا کے پڑھائی کرنا اچھی بات ہے پر اُس کو اتنا سر پہ سوار بھی نہیں کرنا چاہیے خاص طور پہ بیوی سے بھلا بیوی سے پڑھائی کی بات کون پاگل کرتا ہے یا کون اُس کو فزکس بائیولاجی باٹنی کیمسٹری پڑھاتا ہے بیوی سے تو رومانٹک سی باتیں کیا کرتے ہیں اُس کے ساتھ اچھی اچھی موویز دیکھا کرتے ہیں۔سوہا نے جیسے عباد کی عقل پہ ماتم کیا۔

ہوگیا تمہارا اب جاکر بکس لاؤ۔عباد سوہا کی بات پہ بس یہ بولا جس کو سن کر سوہا جل بھن کر خاک ہوئی اُس کو کم سے کم اِس بات کی توقع نہیں تھی عباد سے۔

سارے رومانٹک مرد جانے کہاں مرگئے تھے جو اِس ان رومانٹک سے میری شادی کروادی جس کا بس نہیں چلتا کے وہ کسی کالج یونی سے شادی کردیتا دن رات کتابیں کھاتا۔سوہا اپنا بیگ اُٹھاتی جل کے سوچنے لگی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

تمہیں اگر لگتا ہے وہ تم سے طلاق لینا چاہتی ہے تو تم اُس کو چھوڑ دو نہ سمجھوتے سے جو زندگی گُزاری جائے اُس سے تو اچھا اِنسان زبردستی سے جوڑے رشتے سے اپنا دامن چھڑوالیں۔مناہل عباد کو کافی کا کپ دیتی بولی

سوہا میری بیوی میری عزت ہے میں کسی اور کے لیے اُس کو نہیں چھوڑ سکتا۔عباد دو ٹوک انداز میں بولا۔

تم جس کو کوئی اور بول رہے ہو وہ تمہارا بھائی ہے تمہاری بیوی کا سابقہ منگیتر تمہارا بھائی اُس کو پسند کرتا ہے سوہا بھی تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو مسئلا کیا ہے چھوڑ دو اُس کو تمہارے لیے تو لڑکیوں کے آپشنز بھی بہت ہیں تم کیوں اُن دونوں کے درمیاں آرہے ہو۔مناہل نے ایک اور دلیل پیش کی۔

میں کسی کے درمیاں نہیں آیا بلکہ وہ۔عباد بات کرتے کرتے رک گیا۔

کیا ہوا بات مکمل کرو اپنی۔مناہل نے اُس کو خاموش ہوتا دیکھا تو کہا

کجھ نہیں۔عباد ٹالنے والے انداز میں بولا

اچھا عباد اگر تم اُس کو چھوڑنا نہیں چاہتے تو یہاں سے جا کیوں رہے ہو تمہارا جانا تمہارے لیے مشکل کھڑی کرے گا تمہیں چاہیے سوہا کو اپنے اور اُس کے ساتھ جوڑے رشتے کا احساس کرواؤ ناکہ اپنی جگہ خالی کرکے چلے جاؤ اور جب واپس آؤ تو سوہا ڈائریکٹ کہے گِیو می ڈائیورس۔مناہل طنزیہ بولی تو عباد نے تیز نظروں سے اُس کو گھورا جس سے مناہل سٹپٹاگئ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کا وقت تھا عباد کو سوہا کے سونے کا یقین ہوا تو اُس نے اپنا بیگ اُٹھایا اور بنا چاپ کیے کمرے سے باہر نکل گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوہا کی صبح آنکھ کھلی تو اُس کو عباد کہیں نظر نہیں آیا وہ اُٹھ کر فریش ہوتی باہر آئی تو سب کو چپ بیٹھا پایا۔

کیا ہوا چچی سب ٹھیک تو ہے؟سوہا نے اُن کا اُترا منہ دیکھا تو فکرمند ہوئی۔

ہاں سب ٹھیک ہے عباد باہر جو گیا ہے پڑھنے تو بس فکر ہورہی ہے جانے یہ پانچ سال کیسے گُزرے گے۔صغریٰ بیگم کی بات پہ سوہا کو سکتہ تاری ہوگیا

عباد چلاگیا۔سوہا کی آواز بڑبڑاہٹ سے کم نہ تھی۔

تمہاری شکل دیکھ کر لگ رہا ہے جیسے بھائی نے تم کو بتانا تک گوارہ نہیں کیا بنا ملے ہی چلے گئے۔عمار نے اندھیرے میں تیر مارا۔

عمار ایسے کیوں بول رہے ہو عباد اِتنا غیرذمیدار نہیں کیوں سوہا عباد تمہاری اجازت اور تم سے مل کر گیا ہے نہ؟صغریٰ بیگم عمار کو ٹوکتی سوہا سے پوچھنے لگی جو دل ہی دل میں عباد سے بدذن ہوچکی تھی۔

جی میری اِجازت کے بنا تو وہ واشروم تک نہیں جاتے۔سوہا سپاٹ انداز میں کہتی وہاں سے نو دو گیارہ ہوگئ۔

اِس کو کیا ہوا۔صغریٰ بیگم حیران ہوتی بولی

بچی ہے اُداس ہوگئ ہوگی عباد کے جانے سے۔حنان صاحب نے کہا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

ارے تم وہی ہو نہ جس کی منگیتر کی شادی اُس کے بھائی سے ہوئی۔عمار اپنے کلاس کی طرف جارہا تھا جب کالج کے بدمعاش گروپ کا لیڈر نجف نے اُس کا مذاق اُڑانا چاہا۔

اور تم بھی وہی ہو نہ جس کی بہن تمہارے دوست کے ساتھ بھاگ گئ تھی۔عمار اُن کی طرف آتا حساب برابر کرتا بولا۔

اے زبان سنبھال کے بات کر۔نجف تیش میں بولا

کیوں آگ لگ رہی ہے۔عمار ایک زوردار پنچ اُس کے منہ پہ مارکر بولا زویا جو اپنی فرینڈ کے ساتھ گراؤنڈ کی طرف جارہی تھی عمار کو پانچ چھ لڑکوں گروپ کے ساتھ اُلجھتا دیکھا تو فورن اُس کی طرف لپکی۔

تیری تو۔نجف کے دوست نے جوابی حملا کیا عمار آگے بھرتا اُس سے پہلے زویا بیچ میں آگئ۔

سوری بھائی آپ اپنا کام کریں۔زویا نے معاملہ رفع دفع کرنا چاہا۔

ایسے کیسے۔عمار کجھ کہنا چاہا پر زویا اُس کا بازوں پکڑ کر سائیڈ پہ لے آئی۔

تم یہاں کیوں بیچ میں آئی یہ ہم لڑکوں کا معامل تھا اگر تم بیچ میں نہ آتی تو میں اُن کو نیلوں نیل کرکے چھوڑتا۔عمار سخت لہجے میں بولا۔

اُن کا تو نہیں پتا اگر میں تمہیں یہاں لانے میں ایک منٹ کی تاخیر کرتی تو وہ سب تمہیں نیلوں نیل کرکے ضرور چھوڑتے۔زویا نے جل کے کہا

ریئلی تم نے مجھے اِتنا بزدل سمجھا ہے۔عمار آنکھیں گُھماتا بولا۔

عمار شاید تم بھول رہے ہو وہ سب کالج کے بدنام اوچھ باچھ لچے لفنگے لڑکے ہیں تم کیوں اُس کے منہ لگ رہے تھے۔زویا نے اُس کو سمجھانا چاہا۔

تو کیا اُن کی فضول گوئی سن لیتا اِتنا بے غیرت سمجھا ہوا ہے۔عمار ناگواری سے بولا

اپنے بھائی کی بیوی پہ نظر ڈالنا کِس غیرت کے شمار میں آتا ہے؟زویا نے کاری وار کیا۔

وہ میری منگیتر تھی میں نے نہیں ڈالی اپنے بھائی کی بیوی پہ نظر۔عمار جھٹ سے بولا

تمہاری منگیتر تھی عباد کی بیوی ہے یہ ایک بہت بڑا فرق ہے جو تمہیں سمجھ نہیں آرہا یا تم سمجھنا نہیں چاہتے۔زویا نے اپنی بات پہ زور دیتے کہا

ہر کوئی مجھے ہی سمجھاتا ہے پر کوئی مجھے سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا۔عمار سرجھٹک کر بولا۔

💕
💕
💕
💕
💕

سوہا بولائی بولائی سی اپنے گھر میں گھوم رہی تھی آج ایک ہفتہ ہوگیا تھا عباد کو یہاں سے گئے وہ جب سے گیا تھا کسی کو کال یا میسج نہیں کی تھی سوہا کے کالج میں ہوئے اِس ہفتے کے ٹیسٹ کا رزلٹ بہت بُرا آیا تھا تبھی اُس نے کجھ پڑھنے کا سوچا۔

یااللہ رائٹنگ کتنی بُری لکھی ہے میں نے۔سوہا نوٹ بناتے وقت اپنی رائٹنگ دیکھ کر پریشانی ہوتی بولی اُس کو کئ وقت پہلے عباد کی بات یاد آئی یہ اُس وقت کی بات ہے جب وہ شادی کے بعد عباد سے ٹیوشن لیتی تھی۔

میں نے کجھ پوائنٹس لِکھنے کا کہا تھا لِکھ لیے؟عباد کمرے میں آتا سوہا سے بولا جو کتابوں کے ساتھ سر جوڑ کے بیٹھی تھی۔

جی آپ ایک دفع دیکھ لیں۔سوہا نے رجسٹر اُس کی طرف بڑھاکر کہا

تم مستقبل کی ڈاکٹر ہو اور ایسی رائٹنگ جیسے کیڑے مکوڑو کو جمع کیا گیا ہو۔عباد سوہا کی رائٹنگ دیکھتا تاسف سے بولا

اچھی تو ہے آپ کو پتا نہیں کیوں ہر بات میں نقص نظر آتا ہے۔سوہا بُرا مان کر بولی۔

سوہا رائٹنگ موسٹ امپورٹنٹ ہوتی ہے اُس کو تم جتنا سنواروں گی اُتنا تمہارے لیے اچھا ہوگا یہ جو رائٹنگ تم نے جلدبازی میں لِکھ کر بگاڑی ہے نہ اصل میں یہ ہماری عکاسی کرتے ہیں۔عباد کی آخری بات پہ سوہا نے تعجب سے اُس کو دیکھا۔

عکاسی کیسے۔سوہا متجسس ہوئی۔

تمہاری رائٹنگ اگر اچھی ہوئی تو دیکھنے والا سمجھ جائے گا اِس کو لکھنے والا بھی قابلِ تعریف ذہین اور اچھی شخصیت کا مالک ہوگا اُس کو تجسس ہوگا ملنے کا اگر تمہاری رائٹنگ بُری ہوئی تو سب کے چہرے پہ ناگواری آئے گی تمہاری شخصیت اُن کو متاثر نہیں کرپائے گی اگر تمہارا یہی حال رہا تو بھول جاؤ کبھی تم ایم بی بی ایس کرلوں گی۔عباد سنجیدگی سے ساری بات سمجھاکر بولا سوہا کو اپنا آپ عباد کی باتوں میں جکڑتا محسوس ہوا۔

پر ڈاکٹر کی رائٹنگ تو کسی کو سمجھ نہیں آتی اُس حساب سے میری رائٹنگ بیسٹ ہے دوسری بات میں تو پی ایش ڈی بھی کرلوں یہ ایم بی بی ایس تو میرے دائیں بائیں ہاتھ کا کام ہے۔سوہا فخریہ انداز اپنا کر بولی۔

اچھا یہ بات ہے تو بتاؤ مجھے میڈیکل کے موسٹ امپورٹنٹ سبجیکٹ کونسے ہیں۔عباد کے سوال پہ سوہا کی سٹی گُم ہوئی۔

مجھے یاد ہیں۔سوہا سنبھل کر بولی۔

میں بھول گیا ہوں ریمائنڈ تو کرواؤ۔عباد اُس کی اُڑی رنگت دیکھ کر بولا۔

تین امپورٹنٹ ہے ایک فزکس دوسرا کیمسٹری تیسرا بھی ہے۔سوہا دانتوں کی نمائش کرتی بولی۔

تیسرے کا بھی کوئی نام ہوگا۔عناد گھور کر بولا

ہوگا تو آپ خود یاد کریں آپ میرے ٹیچر ہیں میں نہیں۔سوہا شانِ بے نیازی سے کہتی اُس کے ہاتھ سے اپنا رجسٹر لیا عباد تو اُس کا انداز دیکھ کر عش عش کر اُٹھا۔

فون پہ آتی کال نے اُس کو حقیقت میں آ پٹھکا۔

اسلام علیکم امی کیسی ہیں آپ؟سوہا اپنا لہجہ ہشاش بشاش کرتی بولی۔

وعلیکم اسلام میں ٹھیک ہوں سوہا تمہیں کیا ہوگیا ہے۔سویرہ بیگم سنجیدگی سے بولی

مجھے کیا ہونا ہے میں تو ٹھیک ہوں بلکل۔سوہا کجھ حیران ہوتی بولی

زویا نے بتایا مجھے تمہارا بلکل دھیان نہیں پڑھائی میں۔سویرہ بیگم کی بات پہ اُس نے گہری سانس خارج کی۔

امی دھیان ہوتا ہے میرا۔سوہا بس اتنا بولی

سوہا کیا کوئی پریشانی ہے تو مجھے بتاؤ کیا عباد کو یاد کررہی ہو۔سویرہ بیگم نے نرمی سے پوچھا

اور بھی بہت کام ہیں اُن کو یاد کرنے کے علاوہ اور آپ لوگوں نے اچھا نہیں میری اُن سے شادی کروا کر جو اپنی جان چھڑواکر یہاں سے نو دو گیارہ ہوگئے۔سوہا تلخ ہوتی بولی

ایسے بات کیوں کررہی ہو کسی نے کجھ کہا ہے کیا عباد بھاگنے والوں میں سے نہیں اِس لیے تم فضول سوچو کو سوچنے کے بجائے پڑھائی پہ دھیان دو۔سویرہ بیگم نے سمجھایا

شادی کے بعد کس کا دل کرے گا پڑھائی میں مجھے نہیں کرنی پڑھائی اور نہ ایم بی بی ایس میرے بس کی بات ہے مجھے بس ڈزائنر بننا ہے۔سوہا جھنجھلا کر بولی۔

سوہا میں نرمی سے بات کررہی ہوں تو اُس کا ناجائز فائدہ مت اُٹھاؤ پڑھائی سے بھاگنے کی عادت بچپن سے ہے تمہاری اب تم بڑی ہوگئ ہو اِس لیے عقل کے ناخن لو۔سویرہ بیگم سختی سے کہہ کر کال کٹ کرگئ سوہا نے بے بسی سے موبائل کی اسکرین کو دیکھا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

تمہیں لو میریج پسند ہے یا ارینج؟سوہا کی دوست عائشہ اُس سے بولی۔

افکورس لو میریج زندگی بھر کا ساتھ ہے انسان کو حق ہے اپنی پسند کا پارٹنر چوز کرنے کا۔زویا نے جواب دیا۔

ہمم بات تو تمہاری سہی ہے پر مجھے تو ارینج میریج کا بڑا شوق ہے مطلب میری اُس سے شادی ہو جس پہ ہم دونوں ایک دوسرے کے جان کے دشمن اور خون کے پیاسے ہو سارا دن لڑائی جھگڑے کریں میں اُس کے بال نوچوں وہ میرا ہر کام خراب کریں میں بار بار اپنے گھر لوٹ جاؤ پھر وہ اپنی ماں کے پریشر میں آکر مجھے لینے آئے پھر میں نخرے کرکے واپس آؤ پھر ایکدم سب کجھ بدل جائے میں خاموش رہنے لگوں اور وہ میری خاموشی سے اکتاجائے بار بار مجھے فورس کریں کے میں اُس سے لڑائی کروں میری خاموشی اُس کو بے چین کریں اپنے دل کی حالت سے وہ پریشان ہوجائے پھر میرے پاس آکر اظہار محبت کریں۔عائشہ ٹرانس کی کیفیت میں بولی زویا کُھلے منہ سے اُس کی خواہشات سنتی رہی۔

کتنی عجیب ہو تم۔زویا نخوت سے بولی

ڈیئر میریج کے بعد جو لو ہوتا ہے نہ اُس کا اپنا الگ ایک مزہ ہوتا ہے شادی سے پہلے تو لڑکا لڑکی ڈیٹنگ شیٹنگ سارے پلانز سب کجھ طے کرلیتے ہیں شادی تو جیسے بس بچے پیدا کرنے کے لیے کرتے ہیں۔عائشہ کی بات پہ زویا نے اُس کو گھورا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

Ibad diary special ♥

عباد سے بات ہوئی آپ کی؟صغریٰ بیگم نے حنان صاحب سے پوچھا۔

ہاں بات تو میری ہوتی ہے پر زیادہ نہیں بہت مصروف ہوتا ہے اِس لیے بار بار میں بھی اُس کو کال کرکے پریشان نہیں کرتا۔حنان صاحب نے جواب دیا۔

اچھا۔صغریٰ بیگم بس یہی بول پائی۔

کیا کوئی بات ہے جو تم کرنا چاہتی ہو!حنان صاحب نے اُن کو کشمش میں دیکھ کر کہا

میں چاہ رہی تھی عمار کی شادی کردے یا جب تک عباد نہیں آجاتا سوہا کو اپنے گھر بھیجتے ہیں۔صغریٰ بیگم نے کہا

عمار کی شادی ہوجائے گی پر سوہا کا گھر اب یہ ہے تو کیوں وہ یہاں سے جائے سننان کیا سوچے گا ہم نے عباد کی غیرموجودگی میں اُس کی بیٹی کو گھر سے نکال دیا۔حنان صاحب اُس کی بات سے اختلاف کرتے بولے۔

میرا وہ مطلب نہیں تھا سوہا یہاں ڈسٹرب رہتی ہے تبھی میں نے سوچا۔صغریٰ بیگم نے وضاحت دی۔

اُس کو جانا ہوگا تو ملنے چلی جایا کرے گی پر تم اِس معاملے میں اُس سے کوئی بات نہیں کرنا۔حنان صاحب نے دو ٹوک انداز میں کہا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

آج ویکنڈ تھا تو سوہا کا اِرادہ عباد کی ڈائری پڑھنے کا تھا جو اُس نے اپنے پاس چھپاکر رکھی تھی۔

یااللہ اِس میں کتابوں کی باتیں نہ ہو آمین۔سوہا ڈائری کھولنے سے پہلے دعائیہ انداز میں ہاتھ اُپر اُٹھاکر چہرے پہ پھیر کر کہا پھر دھڑکتے دل کے ساتھ اُس کو کھولا۔

١٩ مئ

میرا نام عباد حنان ہے میری عمر چودہ سال ہے

ہمیں تو جیسے تمہارا نام معلوم ہی نہیں۔پہلے پیج پہ بس یہی تحریر پڑھ کر سوہا بدمزہ ہوئی

٢٠ مئ۔

مجھے دوست بنانا کجھ خاص پسند نہیں میں اپنی باتیں اپنے تک محدود رکھنے کا عادی ہو پر کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے نہ دل پہ بوجھ سا لگتا ہے اور دل چاہتا ہے اپنے دل کی باتیں کسی سے شیئر کریں اِس لیے میں ایک اللہ کو اپنی باتیں بتاتا ہوں دوسرا تمہیں بتاتا رہوں گا۔

٢١ مئ

میری دو کزنز ہیں ایک زویا دوسری سوہا دونوں ٹوئنز ہیں پر دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے جیسے پانی اور آگ اور یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ نہیں ہوسکتی۔

٢٢ مئ

زویا سے میری مختصر بات ہوتی ہے وہ مجھ سے تین سال چھوٹی ہے چھوٹی تو سوہا بھی ہے پر ہماری بہت بنتی ہے مجھے اچھا لگتا ہے اُس کی باتیں سننا اُس کے نخرے اُٹھانا میں نے اُس کو کہہ دیا ہے اب میرے علاوہ وہ کسی کو فرینڈ نہیں بنائے لڑکیوں میں بناسکتی ہے پر لڑکوں سے دور رہے ابھی تو وہ گیارہ سال کی ہے ناسجھ پر بعد میں میری بات سمجھ لے گی اِتنا اندازہ مجھے ہے۔

١۵ جون

مصروفیت کی وجہ سے مجھے ڈائری لکھنے کا وقت نہیں ملا آج ملا تو سوچا لِکھ لوں۔

١٦جون

عمار میرا بھائی ہے مجھے اُس سے بہت محبت ہے پر پتا نہیں کیوں مجھے اُس کا سوہا سے بات کرنا اچھا نہیں لگتا زویا بھی تو ہے نہ تو سوہا کیوں وہ زویا سے بھی بات کرسکتا ہے۔

٢٠ جون

آج بہت گرمی ہے سوہا کو بخار ہوگیا ہے کیونکہ وہ اِتنی دھوپ میں لان میں گیم کِھلنے میں لگی رہی میری منع کے باوجود بھی۔

٢٢ جون

اللہ اللہ کرکے سوہا کا بُخار کا کم ہوا ورنہ میرے اندر تو بے چینی سی تھی۔

۵ جولا

سوہا بہت نازک ہے اُس کو نظر جلدی لگ جاتی ہے پیاری بھی تو وہ بہت ہے سویٹ بھی پر وہ بیمار جلدی ہوجاتی ہے نازک جو ہے گِرتی بعد میں ہے پہلے اُس کی چیخ آسمان چھوتی ہے۔

سوہا نے منہ بسور کر دوسرا پیج اوپن کیا۔

١٦ جولا

مجھے سمجھ نہیں آتا میں سوہا کا کیا کروں آج وہ عمار کے ساتھ کھیل رہی تھی مجھے بہت غصہ آیا پر ستم یہ ہے کے میں اُس سے غصے سے بات نہیں کرسکتا بہت عزیز ہے مجھے کزن جو ہے۔

ایک نمبر کا جھوٹا۔سوہا جل کے بڑبڑائی۔

٧ آکٹوبر

سوری پر میری مجبوری ہے ڈائری لِکھنے کے علاوہ بہت سے کام ہوتے ہیں آج سوہا کا ٹیسٹ تھا اِسکول میں اور ماشااللہ سے اُس نے ١٠٠ مارکس میں سے ١٠ مارکس لیے ہے مجھے بہت غصہ آیا آج سوہا کو پڑھائی میں انٹرسٹ نا لیتا دیکھ کر میں نے بہت سمجھایا اُس کو اب دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔

٢٢ دسمبر

آج میرے اسکول میں بتایا گیا کے وہ ہم سب بچوں کو اسکول ٹرپ پہ لے جائے گے جو ایک ہفتے کا ہے میں بھی جاؤں گا پر سوہا ایسا نہیں چاہتی وہ بھی ساتھ جانا چاہتی ہے پر میں اُس کو ساتھ لیکر نہیں جاسکتا کیونکہ اُس کا وہاں کیا کام۔

٧ جنوری

کل ہمیں ٹرپ پہ جانے کے لیے نکلنا ہے سوہا مجھ سے بات نہیں کررہی کیونکہ وہ چاہتی ہے میں بھی نہ جاؤں پر میرا جانا ضروری ہے یہ بات سوہا نہیں سمجھ رہی۔

٢٢ جنوری

سوہا بدل گئ ہے۔

١۵ فروری

سوہا مجھے نظرانداز کرنے لگی ہے۔

١٧فروری

مجھے پہلے لگتا تھا سوہا ناراض ہے میں اُس کو منالوں گا جیسے پہلے منایا کرتا تھا پر اِس بار تو سوہا میری طرف دیکھ تک نہیں رہی اُس کو جانے کیا بات مجھ سے دور کررہی ہے وہ پہلے مجھ سے بات کرتی تھی میری سنتی تھی اب عمار کو وقت دینے لگی ہے اور یہ تب سے ہوا ہے جب سے میں ٹرپ سے واپس آیا ہوں ایک ہفتہ زیادہ تو نہیں تھا جو سوہا اتنا بدل گئ اب مجھے پچھتاوا ہورہا ہے میں کیوں گیا۔

٣ مارچ

میں نے سوچ لیا ہے اب میں سوہا سے دور رہوں گا اگر اُس کو میری ضرورت نہیں تو ٹھیک ہے اُس کو نئے دوست مبارک۔

١٠ اپریل

اب میرا دل نہیں کرتا ڈائری لِکھنے کو سوہا کا رزلٹ اب بھی بُرا آتا ہے اور عمار کا بھی پر میں سوہا سے کجھ کہہ نہیں سکتا مجھے میں تھوڑا بدلاؤ آرہا ہے وہ یہ ہے مجھے اب بات پہ بات غصہ آتا ہے پہلے ایسا نہیں ہوتا تھا اب زیادہ تر سوہا کو دیکھ کر ہی آتا ہے۔

٢٢ اپریل

میرا دل چاہتا ہے میں خود کو کجھ کر گُزرو۔

٢۵ اپریل

جتنا سوچو گے اُتنا اذیت میں رہوگے

یا تو خود کو مضبوط کرلو یا مصروف

١١ جنوری

آج چودہ مہینوں بعد میں یہاں لُکھنے پہ بیٹھا ہوں کیونکہ بات ہی کجھ ایسی ہے میں کیا کروں گھروالوں کو لگتا ہے سوہا اور عمار ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں بھلا ایسا کیسے ہوسکتا ہے وہ اُن کی منگنی کرنا چاہتا ہیں پر میرا دل ایسا نہیں چاہتا۔

١٢ جنوری

آج مجھے میری ہر بے چینی کا جواب مل گیا پہلے مجھے لگتا تھا سوہا میری دوست اور کزن ہے اِس لیے مجھے اُس کا کسی اور سے بات کرنا اچھا نہیں لگتا پر در حقیقت ایسی کوئی بات نہیں پر جو بات ہے وہ میں ڈائری پہ بھی نہیں لکھ سکتا اب جب وہ بات لِکھنے کی ہمت ہوگی تبھی ڈائری کو چھو گا۔

٢٠ جنوری

آج ہمت ہوگئ یہ بات لکھنے کی میں عباد حنان سوہا سنان سے محبت کرنے لگا ہوں پر مجھے اِس بات کا اندازہ تب ہوا جب وہ سوہا عمار بننے جارہی تھی اُس کی منگنی عمار ہونے جارہی ہے میں یہ سب روکنا چاہتا ہوں پر سوہا بہت خوش ہے مجھے سوہا کی خوش عزیز ہے میں بھلا اپنے سکون کے لیے اُس کی خوشی کیوں ضائع کروں اگر اُس کی خوشی عمار میں ہے تو ٹھیک ہے میں کبھی اُس کو نہیں بتاؤں گا مجھے اُس سے کتنا پیار ہے پر میرے لیے بہت مشکل ہے ہر پل اُس کو کسی اور کے ساتھ دیکھنا میں بزدل نہیں ہوں پر میں ایسی ہمت بھی نہیں چاہتا جس سے میرا بھائی بھی مجھ سے بدگمان ہو اور سوہا سے بھی خوشیاں روٹھ جائے کہتے ہیں پیار قربانی کا نام ہے تو ایسا ہی سہی میں نے اِظہار کرنے کے بجائے قربانی کو ترجیح دی اب اگر جو قسمت میں نہیں سو نہیں ہر ایک خواہش پوری تو نہیں ہوتی کجھ خواہشات حسرت بن جاتی ہیں شاید سوہا بھی میرے لیے ایک حسرت کیونکہ اُس کو پا تو میں سکتا نہیں۔

سوہا کے ہاتھ سے ڈائری چھوٹ کر کارپٹ پہ زمین بوس ہوئی تھی وہ ڈائری پڑھنے میں اِتنا غرق تھی کے اُس کو معلوم بھی نہیں ہوا اُس کی آنکھوں سے گرم سیال بہہ کر اُس کے رخسار بھیگا رہے تھے۔

یہ میں نے کیا کردیا۔سوہا اپنے بالوں میں ہاتھ ڈالتی بڑبڑائی گُزرے سال کی باتیں کسی فلم کی طرح اُس کے سامنے چل رہی تھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *