Mohabbatein by Rimsha Hussain NovelR50572 Mohabbatein (Episode 05)
Rate this Novel
Mohabbatein (Episode 05)
Mohabbatein by Rimsha Hussain
کجھ دن بعد!!
امی
امی
امی۔
سوہا سیڑھیاں اُترتی چیخ چیخ کر سویرہ بیگم کو آواز دینے لگی سویرہ بیگم جو کچن میں تھی فورن سے باہر آئی۔
کیا ہوا ہے کیوں شور ڈالا ہے اِتنا۔سویرہ بیگم نے کہا
امی میری پیاری امی آج میں بہت خوش ہوں آپ کو اگر پتا چلے گا نہ تو یقین نہیں آئے گا۔سوہا اُن کو گول گھماتی چہک کر بولی
سوہا آرام سے مجھے چکر آرہے ہیں۔سویرہ بیگم اُس کو دور کرتی صوفے پہ بیٹھ گئ۔
کونسا العیدین کا چِراغ ملا ہے جو سکون برباد کررہی ہو سب کا۔زویا اُس کے سر پہ نازل ہوتی بولی
ایسا ہی سمجھ لیں زویا جی۔سوہا اُس کے گال کھینچتی بولی۔
سوہا اب بتا بھی دو۔سویرہ بیگم نے پوچھا
امی جان میں نے پورے کالج میں ٹاپ کیا ہے یہ دیکھے۔سوہا اپنا فون اُن کے سامنے کرتی بولی زویا کو اپنا وجود زِلزلوں کی زد میں آتا محسوس ہوا اُس نے سوہا کے ہاتھ سے فون چھیننے والے انداز میں لیا۔
میں دوسرے نمبر پہ کیسے آسکتی ہوں۔زویا بڑبڑائی۔
زویا کیا ہوگیا ہے جسٹ چِل۔سوہا نے مسکراکر کہا
شٹ اپ۔زویا دھاڑی۔
زویا بیہیو یوئر سیلف آپس میں دو بہنیں ہو پھر بھی نہیں بنتی۔سویرہ بیگم نے اُس کو ڈپٹا
ضرور ایکزامز میں اِس نے چیٹنگ کی ہوگی ورنہ سی سے ڈی گریڈ آنے والی ٹاپ کیسے کرسکتی ہے۔زویا غصے سے پاگل ہوتی بولی
وقت ایک سا نہیں رہتا مائے سسٹر اِس لیے خود کو وقت کے دھار پہ مت چھوڑنا چاہیے انسان کو اور نہ ہی خود پہ اتنا اندھا اعتماد کرنا چاہیے۔سوہا مسکراکر کہتی اُس کے ہاتھ سے فون اچک لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے خدا تو بول دے تیرے بادلوں کو
میرا یار ہنس رہا ہے بارش کی جائے
سوہا جیسے ہی خوشی سے بھاگ کر عمار کے پاس آئی عمار نے گانا گُنگُنانا شروع کیا جس سے اُس کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی۔
لگتا ہے تمہیں معلوم ہوگیا۔سوہا اندر آتی بولی
ہمم۔صبح ناشتے کے وقت بھائی نے بتایا تھا۔عمار نے کہا
عباد کو کِس نے بتایا؟سوہا حیران ہوتی بولی
رول نمبر معلوم ہوگا تمہارا میرا دیکھا تو تمہارا بھی دیکھ لیا ہوگا۔عمار نے بتایا
تمہارے پاسنگ مارکس دیکھ کر عزت افزائی تو بہت ہوئی ہوگی۔سوہا نے شرارت سے کہا
بکو مت۔عمار نے گھور کر کہا
مبارک ہو تمہیں۔عباد کی آواز پہ سوہا نے پیچھے دیکھا جہاں عباد اپنی جیبوں میں ہاتھ پھنسائے کھڑا تھا
شکریہ۔سوہا نے بس اتنا کہا اُس کے دن کے بعد جو تھوڑی بہت بات چیت ہوا کرتی تھی اب وہ بھی ختم ہوگئ تھی
میری طرف سے تمہیں ٹریٹ ہے جب چاہوں جہاں جانا چاہوں بتادینا۔عباد نے سنجیدگی سے کہا
دے تو اپنی مرضی سے رہا ہے ٹریٹ مگر ظاہر ایسے کررہا ہے جیسے بندوق کی نال پہ ٹریٹ مانگی ہو میں نے۔سوہا نے عباد کا سپاٹ چہرہ دیکھ کر سوچنے لگی منہ سے کہہ کر اپنی شامت نہیں منگوانی تھی۔
ٹھیک ہے۔سوہا نے بس اتنا کہا
بھائی ہم بھی چلیں گے نہ؟عمار نے دانتوں کی نمائش کرتے کہا
پاسنگ مارکس آئی ہیں کوئی تیر نہیں مارا۔عباد نے کھاجانے والی نظروں سے اُس کو گھورا۔
ہمارے جیسوں کے لیے پاسنگ مارکس حاصل کرنا بھی بہت مشکل کام ہے جو آپ جیسے ٹاپر لوگ نہیں سمجھ سکتے۔عمار نے کالر جہاڑ کر کہا
اِس بات پہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔سوہا اُس کا کندھا تھپتھپاکر بولی تو عباد نے نفی میں سر کو جنبش دی۔
زویا سے کہنا وہ بھی تیار ہوجائے۔عباد نے سوہا سے کہا
آپ خود کہہ دینا مجھ پہ تو غصہ ہوگی پہلی بار سیکنڈ پوزیشن لی ہے اُس نے اِس لیے کجھ پریشان ہے۔سوہا نے جواب دیا
ٹھیک ہے میں خود بات کرلوں اُس سے۔عباد گہری سانس ہوا میں خارج کرتا بولا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یار زویا ہو نہ ہو سوہا نے ضرور کجھ کیا ہوگا ورنہ تم جیسی ٹاپر سے مقابلہ وہ کیسے کرسکتی ہے۔زویا اپنی دوست عائشہ سے ملنے آئی تھی جب اُس نے ساری بات جان کر کہا
لگتا تو مجھے بھی ایسا ہے پر عباد نے اُس کو کجھ دن پڑھایا تھا اُس کے بعد ٹیوٹر آتا تھا اُس کو پڑھانے چیٹنگ نہیں کرسکتی وہ بورڈز کے ایکزامز میں ایسا ہر کوئی سوچ سکتا ہے پر کرنا ناممکنات میں سے ہے۔زویا سنجیدگی سے بولی
پھر کیا تم نے ٹھیک سے تیاری نہیں کی تھی؟عائشہ نے اندازہ لگایا
پتا نہیں میرا مائینڈ بہت ڈسٹرب ہے تم ایسی باتیں مت کرو میں یہاں اپنا مائینڈ فریش کرنے آئی ہوں ناکہ اُلجھانے۔زویا اکتاہٹ بھرے لہجے میں گویا ہوئی۔
اوکے رلیکس۔عائشہ نے اُس کو پرسکون کرنا چاہا






اِس کوئی ضرورت نہیں تھی۔عباد نے سوہا کے لیے ایک پینڈنٹ لیا تھا جو ہارٹ شیپ کا بنا ہوا تھا جب وہ اُس کو اور عمار کو ریسٹورنٹ لیکر آیا تو اُس نے سوہا کو دیا تھا جس پہ سوہا جھجھک کر بولی
کوئی بڑی بات نہیں تمہارا انعام ہے یہ۔عباد نے کہا
شکریہ۔سوہا نے پینڈنٹ مٹھی میں پکڑ کر کہا
میں پہنادوں؟عمار نے کہا
نہیں گھر جاکر پہن لوں گی۔سوہا نے انکار کیا جس پہ عباد کے عنابی ہونٹوں پہ ایک سائیڈ پہ مسکراہٹ آئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حنان میں چاہتی ہوں بچوں کا اب نکاح کردینا چاہیے رخصتی بعد میں ہوجائے گی۔صغریٰ بیگم نے حنان صاحب سے کہا
عباد بڑا ہے پہلے اُس کی ہونی چاہیے تھی۔حنان صاحب نے کہا
عباد ابھی نہیں کرنا چاہتا عمار کی منگنی تو ہوگئ ہے نہ تو کیوں نہ گھر میں چھوٹی سی نکاح کی تقریب رکھ لیں۔صغریٰ بیگم نے اپنی خواہش ظاہر کی۔
کرتا ہوں بات سنان سے۔حنان صاحب پرسوچ ہوکر بولے۔




حنان صاحب نے سننان صاحب سے بات کرلی تھی جس پہ انہوں نے اپنے بڑے بھائی کی بات کا مان رکھ کر حامی بھر لی تھی جہاں سب خوش ہوئے تھے وہاں زویا کے اُپر یہ خبر بجلی بن کر گِری تھی عباد نے خود کو کمرے تک محدود کرلیا تھا جمعے کے بابرکت دن پہ نکاح ہونا طے پایا تھا عمار اور سوہا نکاح کی شاپنگ کرنے میں مصروف تھے۔
۔…۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہماری غزل ہے تصور تمہارا
تمہارے بنا اب نہ جینا گوارہ
ہماری غزل ہے تصور تمہارا
تمہارے بنا اب نہ جینا گوارہ
تمہیں یوں ہی چاہے گے
تمہیں یوں ہی چاہے گے
جب تک ہے دم م م
بہت پیار کرتے ہیں تم کو
صنم
بہت پیار کرتے ہیں تم کو
صنم
قسم چاہے لے لوں
قسم چاہے لے لوں
خُدا کی قسم م م م
بہت پیار کرتے ہیں تم کو
صنم
بلیک بُنیاں کے ساتھ بلیک ٹراؤزر پہنے بکھرے بالوں کے ساتھ عباد اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑا تھا کمرے میں تیز آواز میں گانا چل رہا تھا جس کو عباد بہت غور سے سن بھی رہا تھا۔
ساگر کی بانہوں میں موجیں ہیں جتنی ی
ہم کو بھی تم سے محبت ہے اُتنی
ساگر کی بانہوں میں موجیں ہیں جتنی ی
ہم کو بھی تم سے محبت ہے اُتنی
یہ بے قراری ی ی
یہ بے قراری ی ی
نہ ہوگی کم م م
بہت پیار کرتے ہیں تم کو
صنم
بہت پیار کرتے ہیں تم کو
صنم
قسم چاہے لے لوں
قسم چاہے لے لوں
خُدا کی قسم م م م
بہت پیار کرتے ہیں تم کو
صنم
گانے کی آواز بند ہونے پہ عباد نے پلٹ کر دیکھا جہاں صغریٰ بیگم صدمے کی حالت میں کمرے کی طرف دیکھ رہی تھی صغریٰ بیگم کی نظر سائیڈ ٹیبل پہ موجود ایش ٹرے پہ ٹھیر سی گئ جہاں جلی ہوئی سیگریٹس کا ڈھیر تھا عباد نے جب دیکھا تو شرمندگی سے سر جُھکا دیا۔
یہ سب کیا ہے عباد اِتنے دنوں سے کمرے میں بند ہو اور یہ تم نے زہر پینا کب سے شروع کردیا ہے۔صغریٰ بیگم سنجیدگی سے بولی۔
یونی کی پریزٹیشن کی تیاری میں مصروف تھا اِس لیے باہر نہیں آتا یونیورسٹی کا برڈن زیادہ ہے۔عباد اُن کی آخری بات نظرانداز کرتا بولا
عباد دوبارہ میں تمہاری کمرے میں یہ نہ دیکھوں کل تمہارے بھائی کا نکاح ہے اور تم نے کسی بھی کام میں ہاتھ نہیں بڑھایا۔صغریٰ بیگم نے افسوس سے کہا
سوری امی اب آپ کو مجھ سے شکایت نہیں ہوگی۔عباد نے کہا۔







اللہ فرماتا ہے!!!
سب کو چھوڑ کر اندھا اعتبار کرلوں مجھ پہ یقین کرو میں واعدے کا بڑا سچا ہوں۔
زویا بے دلی سے انسٹاگرام سکرول کررہی تھی جب ایک پوسٹ پہ اُس کی نظر جم سی گئ تھی جانے کتنی بار اُس نے یہ لفظ پڑھے ایک خیال کے تحت اُس کو اپنے اندر سکون اُترتا محسوس ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سو سوری۔سوہا جلدی سے جا رہی تھی جب اُس کا ٹکر عباد ہوا تبھی وہ جھٹ سے معذرت کرتی بولی۔
چچی جان کہاں ہیں۔عباد بنا اُس پہ نظر ڈالے سویرہ بیگم کا پوچھنے لگا۔
امی اپنے کمرے میں ہوگی آپ کو کوئی کام تھا اُن سے؟سوہا نے جواب کے بعد پوچھا عباد بنا جواب دیئے سیڑھیوں کی طرف بڑھا سوہا حیرت سے عباد کی پشت دیکھنے لگی پھر سرجھٹک کر اپنے راستے کا رخ کیا۔
میں نے سنا تھا مرد بہت مضبوط ہوتا ہے مگر اب لگتا ہے شاید کجھ غلط سنا تھا میں نے سُنا تھا مرد کو اگر کوئی چیز بھا جائے تو وہ ہر حدیں پار کرتا ہے اُس چیز کو حاصل کرنے کے لیے میں نے سُنا تھا مرد اپنی چیزوں پہ جو اُن کے دل کے قریب ہو وہ کسی اور کی نظر اُس پہ برداشت نہیں کرتا پر سب غلط ہے نہیں۔عباد کو اپنی پیچھے زویا کی طنزیہ بات سننے میں آئی تو اُس نے بہت ضبط سے برداشت نہیں کیا پھر بنا اُس کو جواب دیے سویرہ بیگم کے کمرے میں داخل ہوا۔





نکاح کی ساری تیاریاں ہوگئ تھی اب بس قاضی صاحب کو آنا تھا جن کو لینے عماد گیا ہوا تھا۔
سوہا وائٹ پٹیالا شلوار قمیض پہنے ہلکا سا میک اپ کیے تیار ہوتی اپنے کمرے میں موجود تھی۔
یار سوہا آج تم بجلیاں گِرا رہی ہو۔سوہا کی دوست صدف نے اُس کو دیکھ کر مسکراکر کہا جو روز کے برعکس آج بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔
شکریہ۔سوہا خوش ہوتی بولی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ لو کام وقت پہ ہونا چاہیے۔گھر کی پچھلی سائیڈ پہ ایک چادر پہ چُھپے وجود نے پئسوں کی گڈی اُس کی طرف بڑھا کر کہا
بے فکر رہے اب آپ۔سامنے والے نے لُچاتی نظروں سے پئسوں کو دیکھ کر کہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نکاح کے لیے قاضی صاحب آیا تھا عباد دور کونے میں کھڑا سپاٹ نظروں سے سب کو دیکھ رہا تھا اُس نے آج کاٹن کے وائٹ کلر کے شلوار قمیض پہنا تھا ساتھ میں کندھوں پہ کالی شال ڈالی ہوئی تھی۔
عباد تم نے عمار کو کہیں دیکھا ہے؟صغریٰ بیگم پریشانی سے عباد کے پاس آتی بولی
گھر پہ ہوگا کیا ابھی تک نہیں؟عباد نے اُلٹا اُن سے پوچھا
گھر پہ نہیں ہے فون پہ بند جارہا ہے اللہ جانے کہاں ہے یہ لاپرواہ لڑکا مہمان سب آچکے ہیں سب اُس کو پوچھ رہے ہیں میں کیا جواب دوں سب کو۔صغریٰ بیگم کی بات پہ عباد کی سفید پیشانی شکن آلود ہوئی تھی۔
آپ پریشان مت ہو میں جاتا ہوں اُس کو دیکھنے یہی کہی ہوگا بچہ نہیں وہ جو آپ پریشان ہورہی ہیں۔عباد نے اُن کو پرسکون کرنے کی خاطر کہا
کیوں پریشان نہ ہو اتنی نازک صورتحال ہے اور تم کہہ رہے ہو پریشان نہ ہو اندر حنان پریشان سا ہے عمار پہلے یہاں تھا اب ایک گھنٹے سے نظر نہیں آرہا۔صغریٰ بیگم بھڑک اُٹھی۔
چالیس منٹ بعد !
عمار کہا ہیں بھائی صاحب؟سنان صاحب نے سنجیدگی سے پوچھا وہ سب سنان صاحب اور سویرہ بیگم کے مشترکہ کمرے میں موجود تھے عباد شکست زدہ سا دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا تھا اُس نے اپنی طرف سے ہر جگہ عمار کو تلاش کرنے کوشش کی پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
سنان انتظار کرتے ہیں وہ آتا ہوگا۔حنان صاحب کمزور آواز میں بولے
اور کتنا انتظار کریں باہر سب نے پوچھ پوچھ کر پریشان کر رکھا ہے قاضی صاحب واپس جانے کی بات کرے رہے ہیں اُن کے درس کا وقت ہوگیا ہے۔سویرہ بیگم غم و غصے کے ملے جلے کیفیت میں بولی تو سنان صاحب نے اُن کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھا۔
اگر میں ایک مشورہ دوں تو/صغریٰ بیگم کی بات پہ سب نے سوالیہ نظروں سے اُن کو دیکھا عباد کی نظر سامنے دیوار پہ لگی وال کلاک پہ ٹک ٹک کرتی سوئیوں پہ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اففففف تمہاری بھی کیا قسمت ہے سوہا دیکھو تمہارا دولہا لاپتا ہوگیا ہے کوئی اتا پتا نہیں لگتا ہے اُس کو تم سے نکاح نہیں کرنا تھا اِس لیے عین نکاح کے وقت چلا گیا۔زویا سوہا کے کمرے میں آتی سب کزنز کے سامنے بولی
کیا بکواس ہے یہ۔سوہا اپنی جگہ کھڑی ہوتی بولی
سچ ہے میری بہن عمار دو گھنٹوں سے پتا نہیں کہاں ہیں۔زویا کی بات پہ اُس کے کان سائیں سائیں کرنے لگے سب کی ہمدرد بھری نظریں خود پہ محسوس کرتی اُس کو وحشت ہونے لگی تھی.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمار نہیں تو کیا ہوا عباد کرے گا نکاح سوہا سے۔صغریٰ بیگم اٹل انداز میں بولی تو سویرہ بیگم نے سنان صاحب کی طرف حیرت سے دیکھا عباد جو وال کلاک کی طرف دیکھنے میں تھا وہ خود اپنی جگہ حیران پریشان سا اپنی ماں کو دیکھنے لگا۔
بتاؤ عباد کرو گے نہ سوہا سے شادی؟صغریٰ بیگم اپنی جگہ سے اُٹھتی عباد کے روبرو ہوتی پوچھنے لگی عباد کا دل کیا انکار کردے پر اپنی ماں کی آنکھوں میں امید دیکھ کر کجھ کہنے کی ہمت نہیں ہورہی تھی اِس لیے اپنا سر جُھکادیا صغریٰ بیگم اُس کی رضامندی جان کر حنان صاحب کو دیکھا۔
نکاح کی رسم اب ہونی چاہیے۔سویرہ بیگم سپاٹ انداز میں بولی۔
میری ایک شرط ہے۔عباد کی بھاری آواز پہ اُن لوگوں کی خوشی مانند ہوئی تھی۔
نکاح کے ساتھ رخصتی بھی ہوگی اُمید ہے کسی کو اعتراض نہیں ہوگا۔عباد کی بات پہ سویرہ بیگم نے احتجاج کرنا چاہا پر سنان صاحب نے روک دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باہر چلو نکاح ہونے والا ہے پہلے ہی وقت ضائع ہوچکا ہے۔سویرہ بیگم سوہا کا ڈوپٹہ ٹھیک کرتی سنجیدگی سے بولی زویا کے کان کھڑے ہوئے تھے اُن کی بات پہ۔
عمار آگیا کیا کہاں تھا وہ اِتنی دیر تک آپ لوگوں نے پوچھا نہیں۔سوہا نے بے چینی سے پوچھا
عمار نہیں عباد سے نکاح ہے تمہارا اگر ہماری عزت کا خیال ہے تو نکاح خاموشی سے کرلینا۔سویرہ بیگم اُس کے گال پہ ہاتھ رکھتی نرمی سے بولی۔
یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ میرا نکاح وہ بھی عباد سے ہرگز نہیں میں کبھی بھی نہیں کروں گی اگر عمار ابھی یہاں نہیں تو آپ نکاح کینسل کروادے وہ تھوڑی دیر تک آجائے گا۔سویرہ بیگم کی بات پہ سوہا ہتھے سے اُکھڑ گئ دروازے کے پاس عباد کے قدم سوہا کی بات پہ تھمے تھے وہ ایک بار اُس سے بات کرنا چاہتا تھا پر اُس کے خیالات جان کر اُس کے ہونٹوں پہ عجیب مسکراہٹ آئی جس پہ وہ اندر جانے کے بجائے واپس چلاگیا۔
سوہا عمار ابھی نہیں آئے گا اگر نکاح نہیں ہوا تو لوگ باتیں بنائے گے ویسے بھی عباد میں کیا خرابی ہے جو تم ایسے ری ایکٹ کررہی ہو۔سویرہ بیگم ناگواری سے بولی۔
بھائی کی جو گرل فرینڈ ہے نہ وہ بہت ٹیلینٹڈ ہے۔
کیا مطلب اُس سڑو کی گرل فرینڈ بھی ہے؟
ہاں شاید۔
سوہا کو اپنی اور عمار کے بیچ کہی ہوئی باتیں یاد آنے لگی تو اُس کا دماغ جھنجھلا اُٹھا
امی جان یہ زبردستی ہے میرے ساتھ بھی عباد کے ساتھ اور زبردستی کا رشتہ زیادہ دیر تک نہیں چلتا۔سوہا نے ایک اور کوشش کرنی چاہی
عباد سے بات ہوگئ ہے وہ راضی ہے بس تم اب اپنا دماغ سیٹ کردو نکاح کے ساتھ رخصتی بھی ہے۔سویرہ بیگم نے ایک اور بم پھوڑا۔
امی۔سوہا بے یقین نظروں سے اپنی ماں کو دیکھا زویا کے چہرے پہ اطمینان چھاگیا تھا سویرہ بیگم بنا اب کوئی اور بات کہے اُس کے سر پہ لال چنڑی ڈال گئ۔
تیس منٹ بعد وہ سوہا سننان سے سوہا عمار بننے کے بجائے سوہا عباد بن گئ تھی۔
