Mohabbatein by Rimsha Hussain NovelR50572 Mohabbatein (Episode 03)
Rate this Novel
Mohabbatein (Episode 03)
Mohabbatein by Rimsha Hussain
تمہارے بھائی کی جس سے شادی ہوگی مجھے تو اُس بے چاری لڑکی سے بڑی ہمدردی محسوس ہورہی ہے مجھے لگتا ہے اپنی بیوی کو بھی وہ کیمسٹری اور فزکس کی کتابیں پڑھائے گے۔سوہا نے ہاتھ نچا نچا کر عمار سے کہا
نہیں بھائی کی جو گرل فرینڈ ہے نہ وہ بہت ٹیلینٹڈ ہے۔عمار نے پاپ کارن کھاتے ہوئے کہا
کیا مطلب اُس سڑو کی گرل فرینڈ بھی ہے۔سوہا اپنی جگہ اُچھل پڑی۔
ہاں شاید۔عمار نے کندھے اُچکائے۔
آدھی ادھوری بات مت بتایا کرو مجھے۔سوہا سخت بدمزہ ہوتی بولی۔
بھائی کو چھوڑو تم بتاؤ تیاری کیسی ہے تمہاری۔عمار نے بات کا رخ اُس کی طرف موڑا
اچھی ہے تمہاری بھائی نے کل پانچ گھنٹے میرا مغز کھپایا ہے تیاری اچھی تو ہوگی نہ۔سوہا نے بتایا۔
ہمم بھائی پڑھائی میں کافی ہوشیار ہیں۔عمار ہنکارہ بھر کے بولا
گھر چلتے ہیں۔سوہا کھڑی ہوتی ہوئی بولی
کہاں ابھی تو پارک میں لڑکیوں نے آنا شروع کیا ہے۔عمار شرارت سے اُس کی جانب دیکھ کر بولا۔
بکو مت اور چلو۔سوہا نے گھوری سے نوازتے ہوئے کہا۔
عباد ٹیرس پہ کھڑا اپنے سیل فون پہ کسی سے بات کررہا تھا جب اُس کی نظر گیٹ سے آتے عمار اور سوہا پہ پڑی جو ہنستے ہوئے اندر کی طرف آرہے تھے سیل فون پہ عباد کے ہاتھوں کی گرفت مضبوط ہوگئ تھی سرمئ آنکھیں خون چھلکانے کی حدتک لال ہوگئ تھی۔
عباد تم مجھے سن رہے ہو۔کال پہ کسی کی اُبھرنے والی آواز پہ وہ یخلت ہوش میں آتا کال کاٹ گیا اور اپنے قدم باہر کی جانب بڑھائے۔
تمہیں پتا ہے جنت کہتی ہے
کتابیں لیکر آؤ کل تمہارا بائیولاجی کا ٹیسٹ ہے میں اُس کی تیاری کرواؤ تمہیں۔عباد اُن دونوں کے درمیان آتا ہاتھ میں پہنی گھڑی کی جانب دیکھتا بے نیازی سے بولا اپنی بات بیچ میں رہ جانے پہ سوہا دل مسوس کرتی رہ گئ۔
آپ کو کام ہے تو آج رہنے دے بائیولاجی کی تیاری میں نے کرلی ہے۔ سوہا نے جان بچانی چاہی۔
تمہاری تیاری کیسی ہوگی وہ میں خوب سمجھتا ہوں۔ عباد نے گھور کر کہا عمار خاموش سا کبھی سوہا کو دیکھتا تو کبھی عباد کو۔
بھائی ہماری کلاس ایک ہے تو میں مدد کردوں گا سوہا کی۔ عمار نے مداخلت کی۔
پہلے تم اپنی تیاری مکمل کرو پھر سوہا کی مدد بھی کرنا۔ عباد نے ٹھیک ٹھاک اُس کو بے عزت کیا جس پہ سوہا کی ہنسی نکل گئ۔ عباد نے تیز نظروں سے اُس کو دیکھا تو فورن سے ہونٹوں پہ انگلی رکھ دی۔
تمہاری پرنسپل کو میں نے زبان دی ہے کہ تمہاری سپلی اچھی ہوگی اِس لیے اپنا سارا دھیان تم بورڈز کے ایکزامز کی جانب دو۔ عباد نے سنجیدگی سے کہا
میں لاتی ہوں بکس۔ سوہا کہہ کر اپنے گھر کی جانب گئ۔
میں بھی اپنے کمرے میں جاتا ہوں۔ عمار نے کہا تو عباد نے سر کو جنبش دی۔
یہ تمہارے لیے۔ سوہا کیمسٹری کی کتاب کھول کر بیٹھی تھی جب صغریٰ بیگم نے جوس کا گلاس اس کے سامنے کیے کہا
جزاق اللہ چچی جان۔ سوہا مشکور نظروں سے اُن کی طرف دیکھ کر کہا عباد کف فولڈ کرتا ڈرائینگ روم میں داخل ہوا۔
عباد سوہا کو زیادہ تنگ مت کرنا جتنا وہ پڑھ پائے اُتنا پڑھانا۔ صغریٰ بیگم نے عباد کو بیٹھتا دیکھا تو سوہا کی حمایت میں بولی
آپ سب کی انہی باتوں کی وجہ سے یہ ہمیشہ سی اور ڈی گریڈ آتی ہے۔ عباد نے سپاٹ تاثرات سے کہا
سی اور ڈی گریڈ آتی تو ہوں یا نہ اہم بات گریڈ لینا ہوتا ہے چاہے پھر اے ہو یا ڈی۔ سوہا جھٹ سے اپنے دفع میں بولی۔
ریئلی۔ عباد نے طنزیہ نظروں سے اُس کو دیکھا
میں تو چاہتی ہوں عمار کی اور اِس کا نکاح کرکے دبئ بھیج دے وہاں اپنی پڑھائی مکمل کرے یہ دونوں۔ صغریٰ بیگم مسرت بھرے لہجے میں بولی۔
تو دیر کس بات کی۔ سوہا کے منہ سے بے ساختہ نکلا عباد نے عجیب نظروں سے اُس کا کِھلتا چہرہ دیکھا تھا۔
امی جان آپ کی اجازت ہو تو میں اِس کو ٹیوشن دوں مجھے اور بھی کام ہیں۔ عباد اُن کی بات ان سنی کرتا بولا۔
ٹھیک ہے تم لوگ آرام سے پڑھائی کرو میں جاتی ہوں۔ صغریٰ بیگم کہہ کر جانے لگی اُن کے جانے کے بعد عباد غیردماغی سے سوہا کو پڑھانے لگا پھر جلد جانے کا کہا سوہا کو اور کیا چاہیے تھا عباد کی بات سن کر فورن اپنے گھر کو بھاگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امی جان تمہارے نکاح کے منصوبے بنارہی ہے تم اُن سے کہو نہ ابھی تمہیں پڑھنا ہے نکاح بعد میؓ بھی ہوسکتا ہے۔ عباد عمار کے کمرے میں آتا سنجیدگی سے بولا
بھائی قرآن کہتا ہے جو عورت آپ کو پسند ہو اُس سے نکاح کرلوں امی جان نے سرسری سا تضکرہ مجھ سے بھی کیا تھا اِس میں کوئی حرج نہیں بس نکاح ہی تو ہونا ہے۔ عمار گیم کِھیلتا آرام سے بولا
نکاح ہوگا تو سب شادی کا ڈھول پیٹے گیں تمہارا مائینڈ ڈسٹرب ہوگا سمجھنے کی کوشش کرو۔ عباد نے ایک بار پھر کہا
نہیں ہوتا مائینڈ ڈسٹرب میرے اور سوہا کے بیچ اچھی انڈرسٹینڈنگ ہے۔عمار نے مسکراکر کہا عباد گہری سانس بھرتا رہ گیا






امی چچی جان سے کہے عقل کا نام لیں اتنی جلدبازی بھی سہی نہیں ہوتی آپ کو کیا لگتا ہے عمار اور وہ سوہا یہاں تو پڑھ نہیں پارہے تو دبئ میں اپنی پڑھائی پورے گے سیریسلی امی وہاں تو کوئی روک ٹوک کرنے والا نہیں ہوگا پوری چھوٹ ہوگی اور میں بتادیتی ہوں بہت پچھتائے گے بعد میں۔ زویا کو جیسے ہی بات پتا چلی تھی وہ سیخ پا ہوتی بولی۔
زویا کیا ہوگیا ہے تمہیں تم کیوں شور مچارہی ہو ابھی ہم بڑے زندہ ہے اِس لیے جو ہم فیصلہ کرے کجھ سوچ کر ہی کرے گے۔ سویرہ بیگم ناگواری سے بولی۔
امی پڑھائی یہاں بہت اچھی ہے آپ عمار اور سوہا کو دیارِدیس اکیلا کیسے بھیج سکتی ہیں کیا آپ کو نہیں پتا اُن کی نیچر کا۔ زویا نے ابھی کی اپنے لہجے کو نارمل کیے کہا
زویا پہلے مجھے تم یہ بتاؤ تمہیں کیا اعتراض ہے۔ سویرہ بیگم نے سنجیدگی سے پوچھا اُن کی آواز پہ سوہا بھی سویرہ بیگم کے کمرے میں آئی۔
مجھے کوئی اعتراض نہیں۔زویا گِڑبڑا کر بولی
زویا مجھے سمجھ نہیں آتی تم کیوں مجھ سے اِتنا خار کھانے لگی ہو جہاں تک مجھے پتا ہے میں نے ایسا کجھ کیا نہیں تمہارے ساتھ۔ سوہا تلخ لہجے میں بولی
تم میرے ساتھ کر بھی کیا سکتی ہو جو کیا ہے نہ وہ بہت ہے تم میں ہے بھی کیا۔زویا تمسخرانہ لہجے میں بولی
مجھے میں کیا نہیں ہے سر کے بال سے لیکر پیروں کے ناخن تک خاص ہوں۔ سوہا واپس اپنی جون میں آتی بولی۔
امی میری بات پہ آپ غور ضرور کیجئے گا۔ زویا ایک تیز نظر سوہا پہ ڈالتی کمرے سے چلی گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منگنی آپ نے اُن دونوں کی جلدبازی میں کردی کیا وہ کم تھا جو اب آپ لوگوں کو نکاح کی جلدی ہورہی ہے مطلب آپ لوگ بھی حد کرتے ہیں سوہا ابھی اٹھارہ سال کی ہے عمار اُنیس سال کا زیادہ نہیں تو اُن کے بیس سال کے ہونے کا انتظار کرلیں کوئی بھاگ تھورئی نہ جارہا ہے۔ عباد صغریٰ بیگم کی ایک ہی بات پہ تنگ ہوتا بولا۔
لو کرلو بات جلدبازی کا دونوں میں اِتنا پیار تھا اِس لیے ہم نے منگنی کردی وہ بھی دونوں کی باہم رضامندی کے ساتھ تو تم کیسے کہہ سکتے ہو جلدبازی ہے۔ صغریٰ بیگم بُرا مان کر بولی جس سے پہلے پہل تو عباد کجھ بول نہیں پایا۔
اچھا ٹھیک ہے پر نکاح کے وقت میں تو آپ جلدبازی کا مظاہرہ کررہی ہیں نہ۔ عباد نے کہا
اگر پہلے تم شادی کرنا چاہتے ہو تو ہمیں کوئی اعتراف نہیں۔صغرٰی بیگم اندازہ لگاتی ہوئی بولی۔
او ہو امی آپ کی بات شادی پہ ہی کیوں اٹک جاتی ہے میں بس یہ کہنا چاہ رہا ہوں آپ ابھی اُن کو پڑھائی پہ دھیان لینے دے۔ عباد بے زاری سے بولا
سچ بتاؤ یہی وجہ ہے یا کوئی اور بات ہے۔صغریٰ بیگم نے جاننا چاہا
یہی بات ہے اور کیا بات ہونی ہے۔عباد نظریں چُراتا بولا
تم کہتے ہو تو میں سوچتی ہوں مگر اِس بار اگر عمار کا رزلٹ ناقابلِ قبول آیا تو میں نے اُن کو ملیشیا یا پھر دبئ بھیج دینا ہے۔ صغریٰ بیگم نے کہا
آپ کو یہ خیال بچپن میں کرنا چاہیے تھا اسکول میں اُس کا رکارڈ اب سے زیادہ خراب ہے تب ڈیڈ نے کہا بھی تھا اِس کو بورڈنگ اسکول بھیج دیتے ہیں پر آپ نے نہیں مانی اب نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ عباد سپاٹ لہجے میں بولا
