Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mohabbatein (Episode 07)

Mohabbatein by Rimsha Hussain

زویا کو عمار کے آنے کا پتا چل گیا تھا جس پہ وہ خوشی خوشی اُس سے ملنے آئی تھی۔

عمار کیا حال بنا لیا تم نے اپنا۔زویا عمار کے کمرے میں آتی پریشانی سے بولی

تم یہاں کیوں آئی جاؤ یہاں سے مجھے کسی سے بات نہیں کرنی۔عمار غصے سے بولا

عمار یار رلیکس کزن ہوں میں تمہاری سوہا کی بے وفائی کی سزا مجھے کیوں دے رہے ہو۔زویا معصوم شکل بناتی بولی

سوہا نے بے وفائی نہیں کی۔عمار ٹوکتا بولا

ہمم تو پھر عباد سے طلاق کیوں نہیں لی۔زویا طنزیہ بولی

مجھ سے پیار کرتی ہے وہ آج یا کل میرے پاس آئے گی۔عمار مضبوط لہجے میں بولا

عمار تمہارا دماغ لگتا ہے خراب ہوگیا دونوں کی شادی ہوگئ ہے یقیناً اب دونوں کے درمیان موجود رشتہ گہرا ہوگیا ہوگا آخر کو ایک کم

چٹاخ

شٹ اپ۔عمار زویا کی بات کا مطلب سمجھتا اُس کے رخسار پہ تھپڑ رسید کرتا غصے سے بولا زویا بے یقینی سے گال پہ ہاتھ رکھتی عمار کو دیکھنے لگی جس کی سرخ آنکھیں اُس کے اندر کے اشتعال کا پتا دے رہی تھی۔

تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ پہ ہاتھ اُٹھانے کی۔زویا اُس کا گریبان دبوچتی غصے پھنکاری

ویسے ہی جیسے تمہاری ہمت ہوئی سوہا کے بارے میں فضول بکواس کرنے کی۔عمار اُس کو خود سے دور کرتا بولا

کجھ غلط نہیں کہا جو تمہیں آگ لگ رہی ہے۔زویا تنفر سے بولی

گیٹ آؤٹ۔عمار اُس کو دھکا دیتا بولا

عمار تم غلط کررہے ہو۔زویا کا دل بُری طرح کٹا تھا عمار کے رویے پہ۔عمار اُس کی ان سنی کرتا ٹھاہ کی آواز سے دروازہ بند کرگیا

💕
💕
💕
💕
💕
💕

کافی۔عباد نے کافی کا مگ سوہا کے سامنے کرتے کہا

شکریہ کیا کافی آپ نے بنائی ہے۔سوہا نے متجسس ہوکر پوچھا

ہمم میں نے بنائی ہے۔عباد نے جواب دیا۔

زبردست۔سوہا کافی کا گھونٹ بھرتی بولی۔

تمہارا کالج کیسا جارہا ہے؟عباد کے سوال پہ سوہا بدمزہ ہوئی

اچھا۔سوہا نے یک لفظی جواب دیا۔

کافی پینے کے بعد بُکس لانا جو پوانٹس نہیں سمجھ آتی وہ بتادوں گا میں۔عباد نے سنجیدگی سے کہا

آپ کو پڑھائی کے علاوہ اور کوئی بات نہیں سوجھتی کیا۔سوہا نے بے زاری سے پوچھا

سوجھتی ہے پر تم سے کر نہیں سکتا۔عباد نے جیسے افسوس سے کہا

کیوں نہیں کرسکتے۔سوہا کو تعجب ہوا۔

میں کمرے میں انتظار کررہا ہوں آجانا۔عباد اُس کی بات سرے سے نظرانداز کرتا بولا

پتا نہیں کیا مسئلا ہے اِس کو۔سوہا سر جھٹک کر خود سے بولی

سوہا۔

سوہا کمرے میں جانے والی تھی جب عمار اُس کے سامنے آیا بکھرے بال سرخ سوجھی آنکھیں شکن آلود شرٹ پہنے سوہا کو کہی سے بھی عمار نہیں لگا۔

یہ کیا حال بنالیا ہے تم نے۔سوہا نے افسوس سے کہا

تو اور میں کیا کروں ایک پل سکون میسر نہیں مجھے تم کیوں نہیں سمجھتی بھائی سے طلاق کیوں نہیں لیتی دل تو نہیں آگیا تمہارا۔عمار زہر خند لہجے میں بولا

بکواس مت کرو عمار۔سوہا نے ناگواری سے کہا

نہیں کرتا پر پلیز تم بھائی سے علحیدگی لو بھائی تمہیں نہیں چاہتا میں چاہتا ہوں بھائی تمہیں وہ خوشی کبھی نہیں دے گے جو میں دے سکتا ہوں کیا تم بھول گئ ہو میرے درمیاں ہوئے سارے واعدوں اور خوابوں کو۔عمار نے سنجیدگی سے کہا سوہا نے کجھ کہنے سے منہ کُھولا تھا جب عباد کی سرد آواز اُس کے کانوں پہ پڑی۔

پانچ منٹ کے اندر اُپر آؤ۔عماد ریلنگ کے پاس کھڑا اپنی بات کہہ کر واپس کمرے کی طرف چلاگیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

تم ایسے انسان سے محبت کررہی ہو جس کے دل میں تمہارے لیے کوئی احساس ہی نہیں کیوں تم اپنی زندگی ایک بے حس انسان کے لیے خراب کررہی ہو۔عائشہ نے زویا سے کہا

عمار میرا ہے بس میرا۔زویا بھیگے لہجے میں بولی

وہ مرد کسی کا نہیں ہوتا جس کے دل میں کسی اور عورت کی محبت ہو سوائے اُس عورت مرد کے لیے باقی عورتیں معمولی ہیں۔عائشہ نے سنجیدہ سے کہا

وہ سوہا سے اتنا بھی پیار نہیں کرتا بس اُس کی انا پہ ٹھیس لگی ہے کے اُس کی منگیتر اب اُس کے بھائی کی بیگم ہے۔زویا نفرت سے بولی

تمہارے لیے لڑکوں کی کمی نہیں پھر کیوں تم ایک کے پیچھے اپنا وقت برباد کررہی ہو۔عائشہ نے جاننا چاہا

پتا نہیں بس میرے دل کو اُس کی خواہش ہے۔زویا بے بسی سے بولی۔

💕
💕
💕
💕

آپ نے مجھے بہت بڑی آزمائش میں ڈالا ہے۔سوہا سویرہ بیگم کی گود میں سررکھتی بولی

اگر تم اِس کو اپنی آزمائش سمجھتی ہو تو اِس آزمائش کو خوش اسلوبی سے پورا کرو میری بات یاد رکھنا سوہا پہلے جو بھی جیسا بھی تھا پر اب تم نے اللہ اور اُس کے رسولﷺ کو گواہ بناکر خود کو عباد کے سپرد کیا ہے اور اِس رشتے کو ایمانداری سے نبھانا تمہارا فرض ہے اللہ کا پنسدیدہ اور خوبصورت رشتہ میاں بیوی کا کسی نامحرم کے لیے اپنے محرم کا دل مت دُوکھانا ورنہ اللہ ناراض ہوگا اور جو بیوی اپنے شوہر کی نافرمانی کرتی ہے فرشتے اُس پہ لعنت بھیجتے ہیں۔سویرہ بیگم اُس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتی نرمی سے سمجھانے لگی۔

آپ کی بات درست پر میرے لیے یہ سب مشکل ہے ایک گھر میں اپنے شوہر کے ساتھ اپنے سابقہ منگیتر کو دیکھنا۔سوہا جھنجھلا کر بولی

سابقہ منگیتر کو بھول کر اپنے شوہر پہ توجہ دو اُس کی توجہ اُس کی محبت حاصل کرو۔سویرہ بیگم سوہا کی بات سن کر مسکراکر بولی

عباد نے کہا تھا میں آزاد ہوں اور جب چاہوں اُن سے آزادی کا پروانہ لے سکتی ہوں۔سوہا اُداس ہوکر بولی

اب مجھے تو یہ بات بتادی پر اپنے اور عباد کے درمیان ہوئی باتیں کسی اور کو مت بتانا۔سویرہ بیگم کی بات پہ سوہا ناسمجھی سے اُن کی جانب دیکھا۔

وہ کیوں؟سوہا نے پوچھا

کیونکہ میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں ایک اچھی بیوی وہی ہوتی ہے جو اپنے اور شوہر کی باتیں کسی تیسرے فرد کو نہیں بتاتی شوہر اگر اچھا رویہ رکھے تو اللہ کا شکر ادا کرو اگر بُرا رکھے تو ہر ایک کو بتانا یا ڈھنڈورا نہیں پیٹنا چاہیے بلکہ صبر اور تحمل سے کام لینا چاہیے۔سویرہ بیگم نے جواب دیا

اتنی مشکل باتیں میری سمجھ میں نہیں آتی۔سوہا ہاتھ کھڑے کیے بولی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عباد لیپ ٹاپ گود میں رکھے اسائمنٹ بنارہا تھا جب سوہا کمرے میں داخل ہوئی۔

سوہا اگر زحمت نہ ہو تو میرے لیے ایک کپ چائے کا بناسکتی ہوں۔عباد نے ایک نظر سوہا پہ ڈال کر بولا

ضرور۔سوہا خوشدلی سے بولی عباد نے پہلی بار اُس کو کوئی کام کہا تھا جس پہ اُس کو ایک انجانی خوشی محسوس ہونے لگی۔

سوہا کجھ چاہیے تھا کیا؟صغریٰ بیگم نے سوہا کو آتا دیکھا تو پوچھا

جی وہ عباد کے لیے چائے بنانے آئی تھی۔سوہا نے مسکراکر بتایا کچن میں پانی لینے کے لیے آتا عمار طنزیہ مسکرایا تھا۔

یہاں تو شوہر کی خدمتیں ہورہی ہیں۔عمار مذاق اُڑانے والے لہجے میں بولا

عمار۔صغریٰ بیگم نے تنیبہ کی۔

سوری۔عمار ہاتھ کھڑے کرتا بولا سوہا بنا اُس پہ نظر ڈالتی تیز تیز ہاتھ چلاتی کپ میں چائے انڈیلنے لگی ہاتھوں میں کپکپاہٹ واضع ظاہر تھی۔

اتنی جلدی۔سوہا چائے لیکر کمرے میں آئی تو عباد مُسکرادیا۔

کل باٹنی لیکچر ہے کجھ پوانٹس اگر آپ بتادیتے تو۔سوہا کشمکش میں مبتلا ہوتی بولی

پہلے بتادیا ہوتا میں کروا دیتا خیر تم بُک لیں آؤ میں سمجھا دیتا ہوں۔عباد نے آرام سے جواب دیا

ٹھیک ہے۔سوہا سرہلا کر کہتی اپنے بیگ سے کتاب نکال کر عباد کے ساتھ بیڈ پہ بیٹھ گئ۔

کالج میں عمار کجھ کہتا ہے تم سے؟عباد نے سرسری لہجے میں پوچھا

نہیں وہ کالج آتا ہے پر کلاسس نہیں آٹینڈ کرتا۔سوہا نے جواب دیا

کونسے چیپٹر کا لیکچر ہے کل؟عباد گہری سانس خارج کرتا بولا

تیسرے چیپٹر کا۔سوہا نے تیسرا چیپٹر کھول کر کتاب عباد کے سامنے کرتی بتانے لگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *