Mohabbatein by Rimsha Hussain NovelR50572 Mohabbatein (Episode 13)
Rate this Novel
Mohabbatein (Episode 13)
Mohabbatein by Rimsha Hussain
شام میں عباد گھر واپس آیا تو سوہا کو ٹی وی لاوٴنج میں بیٹھا پایا۔
سوہا تیار ہوجاؤ میری ایک دوست کی شادی پہ جانا ہے۔عباد نے سنجیدگی سے اُس کو اِطلاع دی
تو آپ جائے نہ میرا وہاں کیا کام۔سوہا منہ بناکر بولی
تمہیں بھی انوائٹ کیا ہے اِس لیے بحث مت کرو اور تیار ہوجاؤ پہلے ہی لیٹ ہوگیا ہے۔عباد نے سنجیدگی سے کہا
میرے پاس کپڑے نہیں۔سوہا نے بہانا بنایا۔
کمرے میں جاؤ تمہارے لیے ڈریس رکھا ہوا ہے۔عباد نے اُس کا بہانا ناکام بنایا۔
کیا میرے لیے یہ گِفٹ ہے مطلب شادی کے اِتنے سالوں بعد آپ نے مجھے کوئی تحفہ دیا ہے۔سوہا اپنی جون میں آتی پرجوش ہوکر بولی۔
بیس منٹ ہیں تمہارے پاس۔عباد کی بات پہ وہ سخت بدمزہ ہوئی۔
99 سڑے لوگ مرے ہوگے جب آپ کا جنم ہوا ہوگا۔سوہا بڑبڑاتی صوفے سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔
99 بہانے باز ڈرامے باز مرے ہوگے جب تمہارا جنم ہوا ہوگا۔عباد نے بھی اُسی کے انداز میں کہا تو سوہا جل بھن کے رہ گئ۔
سوہا جھنجھلا کر واشروم سے باہر نکلی عباد نے اُس کے لیے بلیک کلر کی ڈیسنٹ سی ساڑھی کا انتخاب کیا تھا جو سوہا سے سنبھالی نہیں جارہی تھی۔
عباد کمرے میں آیا تو سوہا کو ساڑھی سے اُلجھتا دیکھا تو مسکرادیا۔
آپ تو مسکرائے گے مزہ جو آتا ہے مجھے ستانے میں۔سوہا نے عباد کو مسکراتا دیکھا تو کہا
اب ایسی بات بھی نہیں اچھی لگ رہی ہو ویسے تم۔عباد نے آرام سے کہا
انسان تعریف کجھ اِس انداز سے کریں کے سامنے والے کو خوشی بھی ہو پر آپ توبہ ایک کام ڈھنگ سے نہیں ہوتا بیوی کی تعریف کیسے کی جاتی ہے وہ تک کرنی نہیں آتی۔سوہا نے افسوس کرتے کہا
میں نوٹ کررہا ہوں جب سے آیا ہوں تمہاری شکوے ہی ختم نہیں ہورہے آخر بات کیا ہے؟عباد نے جاننا چاہا۔
کوئی بات نہیں ہے میں اگر ساڑھی پہنے گِرگئ تو کتنا مذاق بنے گا میرا۔سوہا کو نئ فکر لاحق ہوئی۔
میں ہونا تمہیں بچالوں گا گِرنے سے۔عباد عام انداز میں کہتا واشروم کی طرف بڑھا۔
پتا نہیں کب سہی معنوں میں اظہارِ محبت سننا نصیب ہوگا اب تو لگ رہا ہے یہ حسرت لیکر دنیا سے رخصت ہوجاؤ گی۔سوہا خود سے بڑبڑاتی میک اپ کرنے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میٹ مائے وائف سوہا۔عباد اور سوہا شادی ہال میں پہنچ گئے تھے جہاں بہت بڑے پیمانے پہ فنکشن کی تیاری کی گئ تھی سوہا ہونک بنی آس پاس نظریں ڈورا رہی تھی اُس کو اچانک سے اپنا روکھا سوکھا نکاح یاد آیا تو دل اُداس ہوا۔
نائیس ٹو میٹ یو۔مناہل جو دولہن بنی اسٹیج پہ بیٹھی تھی خلوصِ دل سے سوہا سے بولی تو سوہا اُس کی جانب متوجہ ہوئی۔
می ٹو۔سوہا مروتً بولی۔
ہے عباد واٹ ا گریٹ سرپرائز۔ایک لڑکی اچانک سے عباد کے گلے ملتی بولی تو سوہا کا چہرہ پل بھر میں سرخ ہوا تھا مناہل نے غور سے سوہا کے چہرے کے اُتاؤ چڑھاؤ دیکھے۔
تم یہاں۔عباد فاصلہ قائم کیے خجل ہوتا بولا
یس آئے ایم بکاز جنید از مائے برادر۔جنت نے مناہل کے ساتھ بیٹھے دولہے کی جانب اِشارہ کیے بتایا سوہا کھاجانے والی نظروں سے اُس کو گھور رہی تھی مگر جنت کی نظریں صرف عباد کے چہرے پہ تھی جو سوہا کو برداشت نہیں ہورہی تھی۔
نائیس۔عباد بس یہی بول پایا۔
ہی از مائے ہزبینڈ سو پلیز اسٹے اوے فرام ہِم۔سوہا کو مزید برداشت نہیں ہوا تو دونوں کے درمیان کھڑی ہوتی بولی عباد حیرت سے گنگ سوہا کو دیکھ رہا تھا جس نے اب مضبوطی سے اُس کا ہاتھ تھام لیا تھا جنت اپنی جگہ چور بن گئ تھی۔
یوئر ہزبینڈ از مائے یونی فرینڈ سو یو ڈونٹ مائینڈ اٹس نارمل۔جنت اپنا بھرم رکھنے کی خاطر بولی تو سوہا نے آئبرو سیکڑی۔
اٹس ناٹ
سوہا بس کرو کیا ہوگیا ہے سب ہماری طرف دیکھ رہے ہیں۔عباد نے سوہا کو فل لڑنے کے موڈ میں دیکھا تو کہا۔
دیکھتے ہیں تو دیکھتے رہے آپ کو گلے آج تک میں نے نہیں لگایا تو یہ کون ہوتی ہے۔سوہا کی سب کے سامنے کہی بات پہ عباد کا دل کیا اپنا سر دیوار پہ دے مارے ہال میں موجود لوگوں کی ہلکے قہقہقوں کی آواز گونجی تھی جس سے عباد شرمندہ ہوا۔
سوہا سوچ سمجھ کر بولا کرو۔عباد اُس کا پکڑتا دھیمی مگر سخت لہجے میں بولا تو سوہا کو احساس ہوا وہ کیا کہہ چُکی تھی۔
آئیندہ آپ اِس سے دور رہے گے۔سوہا نے وارن کیا









مجھے کسی بے وفا کے ساتھ نہیں رہنا عمر بھر زندگی بہت خوبصورت ہے جو میں تمہارے ساتھ گُزار کر بدصورت نہیں کرنا چاہتا۔
جو لڑکی اپنی بہن کی سگی نہ ہوسکی وہ آئیندہ کی زندگی میں میرے ساتھ کیا وفا کرے گی۔
ضروری نہیں ہمیں جس سے محبت ہوجائے ہم اُس کو اپنی دسترس میں بھی کرلیں یہ قسمت کی باتیں ہوتی ہیں کِن کو محبت ملتی ہے اور کِن کو نہیں۔
بس کروں پلیز بس کرو۔عمار کی باتیں کسی ہتھوڑے کی طرح اُس کو اپنے دماغ میں گونجتی محسوس ہورہی تھی زویا اپنے دونوں ہاتھ کانوں پہ رکھتی جیسے اِس آواز سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہ رہی تھی۔
میں بے وفا نہیں میں نے جو کیا سہی کیا محبت کو پانے کے لیے انسان ہر حد پار کرگُزرتا ہے تو اِس میں کوئی مجھے بے وفا کیسے کہہ سکتا ہے عمار کو تو خوش ہونا چاہیے کے کوئی لڑکی اُس کو دیوانوں کی طرح چاہتی ہے۔زویا اپنے بالوں کو جکڑتی جنون بھرے لہجے میں بولی۔
مجھے تمہاری کسی بھی بات کی پرواہ نہیں اگر تم چاہتی ہوں میں عین رخصتی کے وقت نہ آؤں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔
آوازوں کی بازگشت ابھی بھی اُس کو آس پاس سنائی دی تو وہ جھٹکے سے اُٹھ کھڑی ہوکر کمرے سے نکل کر کچن کی طرف آئی جہاں اُس کو فروٹ باسکٹ میں اُس کو اپنی مطلوبہ چیز نظر آئی اُس پہ نظر پڑتے ہی زویا کی رنگت متغیر ہوئی۔
آخری سانس کے ٹوٹنے تک
آنکھیں فقط تمہاری منتظر رہیں گی








تمہیں اندازہ ہے لوگوں کے سامنے تم نے کیا فضول گوئی کی مجھے تو سارا وقت شرمندہ رہنا پڑا۔واپس گھر لوٹ آنے پہ عباد یہاں سے وہاں چکر لگاتا اُس کو ڈانٹنے میں مصروف تھا سوہا سر جھکائے کسی مجرم کی طرح اُس کی باتیں سن کر فرمانبرداری کا ثبوت پیش کررہی تھی۔
کجھ غلط نہیں کہا بس غلط جگہ پہ منہ سے پِھسل گیا۔سوہا نے منمناتے کہا تو عباد خود کو صبر کی تلقید دینے لگا۔
سارا دن ویلی رہوں گی تو ظاہر ہے ایسی فضول سوچے ہی خالی دماغ میں آئے گی۔عباد سرجھٹک کر بولا
آپ میرے دماغ کو خالی کہہ رہے ہیں۔سوہا تقریبً چیخ پڑی۔
اور کیا کہوں اُن کو کیا لگ رہا ہوگا میں اپنی بیوی کے علاوہ دوسری لڑکیوں پہ توجہ دیتا ہوں۔عباد اُس کے روبرو آتا بولا
بیوی کو بھی کونسا توجہ دیتے ہیں۔سوہا اُس کی شرٹ کا کالر درست کرتی بولی
سیریسلی میں تم پہ توجہ نہیں دیتا۔عباد اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا جہاں بہت سارے شکوے تھے۔
عباد میں آپ کے لیے کیا ہوں ایک محبوری میں ہوجانے والی بیوی ایک سمجھوتہ جس کو آپ بس برداشت کررہے ہیں۔سوہا نے ٹھان لی تھی وہ عباد سے اعتراف کرواکر رہے گی۔
سوہا۔عباد نے ٹوکا
نہیں آج آپ بتادے میں کیا ہوں کیا آپ مجھ سے تنگ ہیں۔سوہا اٹل انداز میں بولی۔
تم میری شریکِ حیات ہو اِس بات کا ثبوت یہ ہے کے تم اِس وقت میرے کمرے میں بڑے حق سے براجمان ہو۔عباد نے سنجیدگی سے کہا
کمرے میں ہونے کا مطلب یہ تو نہیں ہوتا آپ مجھ سے ملے بغیر چلے گئے ایک بار میرا نہیں سوچا میری حالت دریافت نہیں کروانی چاہی تو آپ بتا کیوں نہیں دیتے جو کجھ آپ نے ڈائری میں لِکھا تھا پہلے کا سمجھ آتا تھا پر اب تو میں آپ کی ہوں آپ کی بیوی پورے حق سے آپ مجھے آپ بتاسکتے ہیں اپنے دل کا حال یا پھر میں یہ سمجھو آپ کا دل بدل گیا ہے۔سوہا پھٹ پڑی۔
میری ڈائری کہاں سے لی تم نے!عباد کی سوئی ڈائری پہ اٹک گئ تھی۔
بس مجھے مل گئ کسی معجزاتی طریقے سے۔سوہا مسکراہٹ ضبط کیے بولی
سوہا۔عباد سمجھ نہیں پایا وہ کیا کہے۔
کیا سوہا آپ نے تو قسم اُٹھالی ہے مجھ سے محبت کا اظہار نہیں کرنا کیا ایسا بھی ہوتا ہے محبت میں اظہار ضروری ہوتا ہے اگر آپ اظہار نہیں کرے گے تو سامنے والے کو پتا کیسے لگا۔سوہا نے اپنی طرف سے عقلمندی کا مظاہرہ کیا
تم مجھ سے شکوہ کررہی ہو کیا میں نے کبھی تمہارے اچانک بدل جانے پہ شکوہ کیا عمار سے منگنی کرنے پہ اُس کے ساتھ نکاح پہ راضی ہونے پہ میں نے کجھ کہا کوئی شکایت کی مانا کے میں نے کبھی تم سے محبت کا داعوٰہ نہیں کیا پر ہم ایک اچھے دوست ہوا کرتے تھے پر میرے سات دن باہر جانے پہ تم تو مجھ سے ایسے غافل ہوئی جیسے سِرے سے مجھے تم جانتی تک نہیں۔عباد کو جیسے موقع مل گیا اپنے اندر کا غبار نکالنے کا۔
مجھے لگا تھا اگر میں تمہیں نظرانداز کروں گی تو تم مجھے اپنی توجہ دوگے پر مجھے کیا پتا تھا کے دور ہوجاؤ گے پھر اچانک سے عمار نے کہا تھا ہماری نیچر ایک جیسی ہے ایک ہم کپل بنے گے تو اچھا لگا میری دوستی تب عمار سے گہری ہوگئ تھی میں نے اِس لیے ہاں کردی منگنی کرنے پہ ایک لڑکی شادی کرنے پہ اگر انتخاب کرے گی تو وہ اُس کا دوست ہوگا میں نے بھی ایسے کیا۔سوہا نے سرجھکائے کہا اُس کو یہ بھی اندازہ نہیں ہوا وہ عباد کو آپ کے بجائے تم کہہ گئ تھی۔
عقل سے تو شروع سے پیدل ہو۔عباد اُس کے سر پہ چپت لگائے بولا۔
بتاؤ نہ میں تمہارے لیے کیا ہوں۔سوہا کو بس ایک بات کی پڑی تھی۔
تم اِس دل کی مکین ہو۔عباد اُس کا ہاتھ سینے پہ اپنے دل کے مقام پہ رکھ کر بولا تو سوہا کے چہرے پہ گہری مسکراہٹ آئی تھی ایک سکون سا عباد کے چہرے پہ بھی تھا۔
شادی کی رات بتاسکتے تھے۔سوہا نے کہا
میں نے تمہارا انکار سُنا تھا کے تم مجھ سے شادی نہیں کرسکتی میں کیسے پھر کہتا مجھے تم سے محبت ہے محبت ہوجانے کے بعد سب سے زیادہ ڈر محبت کے کھوجانے کا نہیں بلکہ ٹھکرائے جانے کا ہوتا ہے۔عباد نے سنجیدگی سے کہا
میں نے اِس لیے کہا تھا کیونکہ مجھے لگا تم کسی اور سے محبت کرتے ہو میں زبردستی تم پہ مسلط نہیں ہونا چاہتی تھی۔سوہا نے وضاحت دی۔
میں تمہیں اِس لیے بتاکر نہیں گیا تھا کیونکہ میں چاہتا تھا جب جاؤ تو مضبوط رہوں میں کمزور نہیں پڑنا چاہتا تھا اگر تم مجھ سے طلاق کی بات کرتی تو شاید میں اگلا سانس بھی نہ لیں پاتا۔عباد کی بات پہ سوہا کے ماتھے پہ بل آئے۔
میں کیوں تم سے طلاق کی بات کرتی کونسی لڑکی چاہے گی کے اُس کی طلاق ہو لڑکیاں تو اپنا گھر بسانے کے لیے مرد کا ہر ظلم برداشت کرتی ہیں صرف اِس لیے کے اُن کا شوہر اُن کو طلاق نہ دے۔سوہا نے سنجیدگی سے کہا
میں نے خود تمہیں عمار سے کہتے سُنا تھا۔
آدھی ادھوری باتوں کا مطلب ہمیشہ غلط ہوتا ہے اگر آپ نے ایسا کجھ سنا تھا تو آپ کو چاہیے تھا مجھ سے بات کریں میں بیوی تھی آپ کی پر آپ کو تو حاتم تائی بننے کا شوق تھا۔
حاتم تائی کون؟عباد ناسمجھی سے پوچھنے لگا تو سوہا ہنس پڑی۔
وہی جس کی قبر پہ آپ لات مار کر مجھ سے اظہارِ محبت کررہے ہیں۔سوہا نے شریر انداز میں کہا۔
کجھ بھی مت بولوں۔عباد نے گھور کر کہا
یہ تو بتائے آپ پڑھائی کرنے کے بجائے رنگ کو گورا کرنے گئے تھے کیا کتنی گوری رنگت ہوگئ ہے آپ کی بالوں کا رنگ بھی بدل گیا ہے آپ کے۔سوہا عباد کے چہرے پہ ہاتھ پھیرتی متجسس ہوئی۔
گورا تو میں بچپن سے ہوں۔
اب زیادہ ہوگئے ہیں مردوں کو اتنا گورا بھی نہیں ہونا چاہیے خوامخواہ میں ہم لڑکیاں کمپلیکس کا شکار ہوتی ہیں۔سوہا نے افسوس سے کہا
نہ ہو کمپلیکس کا شکار تم جیسی ہو مجھے قبول ہو تمہارا رنگ توے کی طرح کالا بھی ہوجائے گا نہ تو پھر بھی میں تمہاری خوبصورتی کی تعریف کروں گا تمہیں میٹھی میٹھی نظروں سے تکا کروں گا۔عباد اُس کی پیشانی پہ اپنی پیشانی ٹکاتا مسکراہٹ ضبط کیے بولا تو سوہا نے زور سے اپنا ماتھا اُس کے ماتھے سے ٹکرایا جس سے کمرے میں دونوں کے قہقہے گونجنے لگے۔
