Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode

❤❤❤❤❤❤سب میری ہی غلطی ہے ناز سب میری ہی غلطیوں کا نتیجہ ہے آج جو عنایہ کی حالت ہے اس سب کی زمیدار میں ہی ہوں صرف میں ..
“”عالیہ بیگم روتے روتے کے گلے لگ کر بس یہ سب بولتی جا رہیں تھیں جبکہ ناز بیگم انکو چپ کرا کرا کے تھک گئیں تھی..
“”نہ تمہاری کوئی غلطی ہے نہ ہی عنایہ کی اگر کسی کی غلطی ہے تو وہ حور ہے جو ہم سب کی زندگی میں ایک عذاب بن کر آئی تھی ..
….ناز بیگم کے لہجے میں اس وقت حور کے لئے نفرت ہی نفرت تھی …
“”نہیں ناز غلطی میری ہی ہی میں نے کبھی عنایہ کو روکا نہیں یہ جاننے کے باوجود بھی کہ زر حور دونوں نکاح میں ہے بلکی میں نے ہمیشہ اسکا ساتھ دیا ہے اور آج جو اس نے اپنے جنون میں خود کو تکلیف دی تھی …عالیہ بیگم کو اپنی ہر غلطی کا احساس تھا ..
“”” وہ اس وقت ہسپتال کے کوریڈور میں بیٹھی ہوئی تھی رات عنایہ نے اپنی ہاتھ کی نس کاٹ کر خودکشی کرنے کی کوشش کی تھی وہ تو شکر تھا کہ ظفر اسکو صحیح وقت پر ہسپتال لے کر آیا تھا….
“”ظفر رات عنایہ کے روم میں اسکو سمجھانے کے لئے جا رہا تھا کہ وہ آئندہ کوئی ایسی حرکت نہ کریں جیسے ہی وہ روم میں داخل ہوا سامنے کا منظر دیکھ کر وہ تیزی سے عنایہ کے زمین پر پڑے وجود کی طرف بڑھا تھا اور وقت ضائع کئے بنا اسکو اپنے باہوں میں اٹھا کر اپنی کار کی طرف بڑھا تھا شکر تھا کہ وہ وقت پر اسکو ہسپتال لے کر آ گیا تھا عنایہ کی جان کو کوئی خطرہ نہی تھا…
“”یہ سب جان کر ظفر کو سکون ملا اور پھر ایکدم اسکو اپنے مام ڈیڈ کا خیال آیا تھا اس نے گھر فون کیا تو وہ لوگ جلدی سے ہسپتال کی طرف بھاگے تھے …
“”صبح ہوتے ہی ظفر نے زر کو کال کر کے سب بتایا تو زر کے ساتھ ساتھ ناز بیگم بھی اسکے ساتھ آئی تھیں..
“”ناز بیگم کے آتے ہی عالیہ بیگم پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھیں اور بس جب سے بیٹھی خود کو اسکی حالت کا زمیدار مان رہیں تھیں..
“”جبکہ زر ظفر اور عمر صاحب پریشانی میں ادھر سے ادھر ٹھل رہیں تھے عنایہ کو اب تک ہوش نہیں آیا تھا مگر پریشانی والی کوئی بات نہی تھی..
“” عالیہ بس چپ ہو جاؤ تم نے سنا نہیں ڈاکٹر نے کیا کہا وہ بلکل ٹھیک ہے اب بس اسکے ہوش میں آنے کی دیر ہے یہ سب باتیں کر کے تم صرف خود تو تقلیف دے رہی ہو اور کچھ نہیں….
“”وہ ٹھیک تو ہو جائے گی ناز پر میں اسکو یہ بات کیسے سمجھاوں کہ وہ زر کو بھول جائے وہ اسکا نہی ہے میں نے کتنی کوشش کی پر وہ سننے کو تیار ہی نہی ہوتی ہے اور یقینن اس نے یہ سب اس لئے ہی کیا ہے ..عالیہ بیگم پھر سے روتی ہوئی بولی تھی انکی آواز اتنی کم تھی کہ وہ تینوں انکی باتیں نہیں سن پا رہیں تھے…
“”ناز بیگم انکی باتیں خاموشی سے سن رہیں تھیں اور وہ کہتی بھی کیا وہ اس عالیہ بیگم کے سامنے شرمندہ تھی آخر انہونے بھی تو یہ سب کیا تھا عنایہ کے دل میں انہونے ہی تو یہ بات ڈالی تھی کہ زر اسکا ہے اور اب دونوں اپنی ہی سوچوں میں ڈوبی تھی جب انکو عنایہ کے ہوش میں آنے کی خبر ملی تھیں عالیہ بیگم خوش ہوتے ہوئے اسکے روم کی طرف بڑھی تھی جبکہ وہ وہیں بیٹھی رہ گئیں تھی❤❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤کیا لوگے زر چاۓ یا کافی?
“”فیصل نے اپنے سامنے بیٹھے زرخان کی طرف دیکھ کر پوچھا تھا…
“”نہیں کچھ نہی لینا بس میں یہاں تم سے کچھ بات کرنے آیا ہوں اس لئے اس سب کی ضرورت نہی ہے….زر اسکو فون اٹھاتا دیکھ کر بولا تھا …
“”وہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی آفس آیا تھا اس وقت بیٹھا اپنا کام کر رہا تھا جب اسکو زر کے آنے کی اتلا اطلع ملی تو وہ حیران ہونے کے ساتھ ساتھ پریشان بھی ہوا تھا کہ زر اب اسکے پاس کیوں آیا ہے اسکو لگا کہ ضرور کچھ غلط ہوا ہیں اس نے اسکو جلدی سے اندر بلایا اور اب بیٹھا اسکے بولنے کا انتظار کر رہا تھا….
“”کل تم نے کہا تھا کہ ہم دونوں ایک دوسرے کو پسند نہی کرتے ہیں یا پھر ہم نے کوشش ہی نہی کی ایک دوسرے کو سمجھنے کی کیونکہ ہم دونوں میں یونی کے وقت سے ہی انا کا مسلہ رہا ہے جو کبھی ختم نہی ہوا …
“”فیصل کو اسکی یہ بات بلکل صحیح لگی تھی …
“””تم مجھ سے ہمیشہ ریس میں ہارتے تھے اور ہر بار تم مجھے سے کہتے تھے کہ تم ایک دن مجھے ضرور ہرا دوگے اور مجھ سے جیت جاؤ گے …زر بول رہا تھا اور فیصل اسکو خاموشی سے سن رہا تھا…
“”تم نے سچ کہا تھا تم جیت گئے مجھ سے وہ بھی دنیا کی سب سے بڑی چیز میں میں …زر مسکرایا تھا جبکہ فیصل کچھ سمجھا نہی تھا اسکی بات کو…
“”اور وہ چیز ہے اچھائی ….ریس میں جیتنا معنی نہیں رکھتا ہے کچھ اچھا کام کر کے کسی کا دل جیتنا معنے رکھتا ہے اور اس جیت کو ہی اصل جیت کہتے ہیں …”فیصل اسکی بات سمجھ کر اب مسکرایا تھا ..
“”کل تم نے جو بھی کیا میں اسکے لئے تمہارا شکرگزار ہوں کل تم نے اپنی اچھائی سے مجھے ہرا دیا تھا اور اس بات کو قبول کرنے میں مجھے کوئی جھجھک نہی ہیں..زر اپنی بات مکمل کر کے خاموش ہوا تھا…
“”اچھائی تو تم میں بھی ضرور ہوگی اور مجھے یقین ہے جب تمہیں موقع ملیگا تو تم ضرور کسی کے ساتھ اچھا کروگے اور میں نے وہ کیا جو ٹھیک تھا اور جو مجھے کرنا چاہئے تھا…
..فیصل اسکی طرف دیکھ کر بولا تھا تو دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا دئے تھے …
“”تو اب میں یہ سمجھ سکتا ہوں کہ ہم دونوں دوست بھی بن سکتے ہیں …زر نے کھڑے ہوتے ہوئے اسکی طرف ہاتھ بڑھایا تھا ..
“”ہاں کیوں نہی ضرور بن سکتے ہیں لیکن میں ابھی بھی تمہیں ریس میں ہرانے کی خوائش رکھتا ہوں ….فیصل اس سے ہاتھ ملاتا ہوا بولا تو اسکی بات سن کر زر بھی مسکرا دیا تھا….
“””وو دونوں کچھ دیر باتیں کرتے رہے تھے پھر زر اس سے اجازت لیتا کچھ دیر بعد چلا گیا تھا اسکے جانے کے بعد وہ بہت دیر تک عنایہ کے بارے میں سوچتا رہا تھا جب ذر نے اسکو عنایہ کی حالت کے بارے میں بتایا تھا کہ وہ اس وقت ہسپتال میں ہیں جسے سن کر اسکو بہت دکھ ہوا تھا کیونکہ اسکو بھی امید نہی تھی کہ عنایہ ایسا کچھ کر سکتی ہیں❤❤❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤اب کیسی طبیعت ہے عنایہ کی کوئی پریشانی والی بات تو نہی ہیں نہ …
“راحت بیگم اپنے پاس بیٹھے سکندر صاحب سے مخاطب ہوئی تھی جنہونے ابھی ابھی ظفر سے بات کر کے فون رکھا تھا …
“”اللہ کا شکر ہے راحت کوئی پریشانی والی بات نہیں ہیں ظفر بتا رہا تھا کہ کل تک وہ لوگ گھر بھی آ جائے گے کیونکہ کٹ زیادہ گہرا نہی تھا وہ تو وقت پہ ظفر اسکو ہسپتال لے گیا تھا..
“سکندر صاحب نے تفصیل سے انکو ساری بات بتائی تھی جسے سن کر راحت بیگم بیا اور حور نے سکھ کا سانس لیا تھا…
“صبح جب اسکی آنکھ کھلی تو زر روم میں موجود نہی تھا ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ وہ اس سے پہلے جاگ گیا تھا وہ شاور لیکر جب نیچے آئی تو راحت بیگم کے ساتھ ساتھ سکندر صاحب کو پریشانی میں لاؤنج میں بیٹھا پایا تھا وہ انکے پاس گئی تو جو خبر اسکو ان سے ملی تھی اسکے لئے شاک سے کم نہی تھی خبر ملتے ہی زر ناز بیگم کو اپنے ساتھ لے گیا تھا جبکہ سکندر صاحب اپنی طبیعت کی وجہ سے جا نہی سکے تھے اور جب سے ہی وہ لوگ پریشانی میں بیٹھے ہوئے تھے اب ظفر کی کال سے انکو کچھ سکون ملا تھا….
“”یہ تو بہت اچھی خبر ہے بھائی اللہ نے رحم کیا ہے پر میری ایک بات سمجھ نہی آ رہی ہے کہ عنایہ نے ایسا کیوں کیا…
“”راحت بیگم کی بات سن کر بیا اور حور نے ایک دم ایک دوسرے کی طرف دیکھا تھا وہ دونوں کچھ تو سمجھ چکی تھی پر پھر بھی انکو عنایہ سے اس بات کی توقع نہی تھی…
“”پتا نہی یہ آج کل کے بچو کو کیا ہو گیا ہے انکے دل میں کیا ہے اور کیا کرنا چاہتے ہیں کوئی نہی جانتا ہے…سکندر صاحب دکھ سے بولے تھے..
“”حور انکی بات خاموشی سے سن رہی تھی کہ جب ہی اسکی نظر لاؤنج میں داخل ہوتی ناز بیگم پہ پڑی تھی وہ تیزی سے اٹھ کر انکے پاس پھوچی تھی…
“”مام آپ آ گئی اور اب کسی ہے عنایہ …حور انکے قریب جاتے ہی فکرمندی سے بولی تھی..
“اسکی بات سن کر ناز بیگم نے اسکی طرف دیکھا اور پھر ایک غصّے کی لہر انکے پورے بدن میں دوڑی تھی غصّے میں انکا ہاتھ اٹھا اور چٹاخ کی آواز پورے لاؤنج میں گونجی تھی آج عنایہ جس حال میں تھی وہ اسکا زمیدار صرف اور صرف اسکو مانتی تھیں …..
..تھپڑ کی آواز پہ سب نے دروازے کی طرف دیکھا کیونکہ کسی نے ناز بیگم کو آتے نہی دیکھا تھا اور نہ حور کے اٹھ کر جانے پہ کسی نے دھیان دیا تھا اس وقت سب اپنی ہی سوچوں میں گم بیٹھے تھے…
“”اسکو اس حال میں پہوچا کر پوچھتی ہو کہ کیسی ہے اب وہ یا پھر تم اسکی موت کی خبر کا انتظار کر رہی تھی.
…ناز بیگم حور کی طرف دیکھ کر نفرت سے بولی تھی جبکہ حور اپنے گال پر ہاتھ رکھے انکو دیکھے جا رہی تھی..
“”ناز بیگم آپکا دماغ تو ٹھیک ہے کیوں ہاتھ اٹھایا آپ نے حور پہ..
. سکندر صاحب غصّے سے دہاڈتے ہوئے بولے تھے اور روتی ہوئی حور کو اپنے سینے سے لگایا تھا….
“”میرا دماغ بلکل ٹھیک ہے اور جو میں کر رہی ہوں نہ بلکل ٹھیک کر رہی ہوں آج اسکی وجہ سے میری بچی اس حالت میں ہے …انکا لہجہ آگ ابل رہا تھا اس وقت..
“”ناز بیگم اپنی آواز نیچے کرو ورنہ مجھ سے برا کوئی نہی ہوگا ….سکندر صاحب نے انکو انگلی اٹھا کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا تھا..
“”نہی آج میں خاموش نہی رہنے والی ہوں میں آج بولوں گی آپ مجھے اسکی وجہ خاموش نہی کروا سکتے ہیں بہت برداشت کر لیا میں نے اب میں مزید برداشت نہی کر سکتی ہوں ….ناز بیگم آج خاموش رہنے کو تیار ہی نہی تھیں …
“”انکی باتیں سن کر حور کے ساتھ ساتھ راحت بیگم اور بیا کو بھی دکھ ہو رہا تھا جو ضبط کئے کھڑی تھی…
“”آج اسکی وجہ سے عنایہ اس حال میں ہیں میرا بھائی اداس ہے آپ ہی لیکر آئے تھے اسکو یہاں میری بہو بنا کر مجھے یہ پہلے دن سے ہی پسند نہی تھی پتا نہی کس کا گندا خون ….اس سے پہلے کہ ناز بیگم مزید کچھ بولتی ایک زوردار تھپڑ نے انکی چلتی زبان بند کر دی تھی…
“”بولا نہ خاموش ہو جاؤ تمھیں میری بات سمجھ نہی آتی نہ جس کو تم گندا خون کہ رہی ہو جانتی ہو کون ہے یہ…. ….سکندر صاحب غصّے سے دہاڈتے ہوئے بولے تھے آج یہ سب انکی برداشت سے باہر ہو گیا تھا اب وہ ناز بیگم کی یہ سب باتیں مزید سننا نہی چاہتے تھے انہونے سوچ لیا تھا کہ وہ اب خاموش نہی رہیں گے…
انہونے ایک نظر ڈری سہمی کھڑی حور کو دیکھا اور پھر راحت بیگم کی طرف جنہونے سر کے اشارے سے انکو جیسے اجازت دی تھی آگے بولنے کی…
“” ہو جس سے تم نے ہمیشہ اپنی نفرت کا اظہار کیا ہے جانتی ہو کون ہے یہ ..یہ ہماری گل کی بیٹی تمہاری بہن گل کی بیٹی ہے ..
….سکندر صاحب نے جیسے وہاں موجود سبھی لوگوں کے سر پہ بم پھوڑا تھا زر جو ابھی گھر آیا تھا انکی بات سن کر اسکے اٹھتے قدم وہیں جم گئے تھے …
..گل نے مرنے سے پہلے مجھے حور کی زمیداری دی تھی یہ گل کی بیٹھی ہے اس نے مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ میں کسی کو نہ بتاؤ پر آج تم نے مجھے اس سے کئے وعدے کو توڑنے پہ مجبور کر دیا ہے..سکندر صاحب بولے جا رہے تھے جبکہ ناز بیگم سکت کھڑی تھی جیسے ان کے جسم میں جان ہی نہ باقی ہو …
“”سکندر صاحب اور بھی کچھ بول رہے تھے پر حور کو جیسے کچھ سنائی ہی نہی دے رہا ہو آنکھوں کے سامنے سب منظر دھندلاتا جا رہا تھا اور ایک دم سے اسکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا آ گیا تھا زر جو اب لاؤنج میں ہی داخل ہو چکا تھا اسکی حور پہ جیسے ہی نظر پڑی وہ تیزی سے اس تک پھوچا اور اسکو زمین پہ گرنے سے بچایا تھا.❤❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤اسکو جب ہوش آیا تو پہلے تو اسکی کچھ سمجھ نہیں آیا سب کچھ دھندھلا سا دکھائی دیا تھا اس نے اپنی آنکھیں بند کرکے پھر سے کھولی تو اب منظر صاف دکھائی دیا تھا وہ اس وقت اپنے روم میں اپنے بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی حور نے گردن موڑ کر دیکھا تو نظر زر پہ پڑی جو اسکا ہاتھ تھام کر بیٹھا ہوا تھا….
“”حور شکر ہے تمھیں ہوش گیا پتا ہے کتنا ڈرا دیا تھا تم نے مجھے …..زر کی نظر جیسے ہی حور پہ پڑی تو اسکو ہوش میں آتا دیکھ وہ خوشی سے بولا تھا …
…سکندر صاحب کی باتیں سن کر اسکو شاک لگا تھا اور پھر وہ ایک دم سے بےہوش ہو گئی تھی زر جلدی سے اسکو اپنے روم میں لایا اتنے میں بیا ڈاکٹر کو کال کر چکی تھی اور جو خوش خبری ان سب کو ملی تھی ایسے ماحول میں سب کے چہروں پہ مسکراہٹ آ گئی تھی اور زر جب سے بیٹھا اسکے ہوش میں آنے کا انتظار کر رہا تھا…..
“”حور بس اسکو دیکھ رہی تھی پر اسکے دماغ میں پھر سے وہ ساری باتیں چلنے لگی تھی کتنا بڑا راز کھلا تھا آج اس پر یہ سب لوگ اسکے اپنے ہی تھے اور وہ اس بات سے انجان تھی آج تک …ایک دم کتنے ہی آنسو اسکی آنکھ سے گرے تھے…
“”زر آپکو معلوم ہے آج بابا نے کیا کہا انہونے کہا کہ میں وہ ایک دم سے اٹھ کر بیٹھی تھی
…بولتے بولتے حور ایک دم سے رکی تھی اسکی سمجھ نہی آیا تھا کہ وہ کیسے بولے ایک دن میں اسکی زندگی میں کیا سے کیا ہو گیا تھا….
“”ہاں حور میں سب کچھ سن چکا ہوں اور جانتی ہو کہ یہ سب جان کر مجھے کتنی خوشی ہوئی ہے کہ تم سے میرا ایک اور رشتہ ہے کیا تم خوش نہی ہو یہ سب جان کر ..زر اسکی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھ رہا تھا..
“”حور زر کی بات پہ اسکو بس دیکھتی رہ گئی تھی وہ اسکو کیا بتاتی ایک ساتھ اسکے اندر کیا کیا جذبات تھے خوشی اپنو کے ملنے کی..
“غم تھا اتنے سال تک خود کو تنہا سمجھنے کا اور حیرانی تھی آج یوں اچانک سب معلوم ہونے پر وہ اس وقت خود نہی سمجھ پا رہی تھی کہ وہ کیا بولے..
“”جانتی ہو حور مام کے کہنے پر میں نے گل خالہ کو بہت تلاش کرنے کی کوشش کی تھی اور اس بات کا علم بابا کو نہی تھا کیونکہ مام نے مجھے منع کیا تھا کہ جب تک میں انکو تلاش نہی کر لیتا کسی کو کچھ نہ بتاؤ میں نے بہت کوشش کی پر کچھ سال پہلے میں ہار مان چکا تھا کیونکہ خالہ مجھے کہیں نہیں ملی تھی مام بہت اداس ہو گئی تھی اور میں بھی…پر آج تم تمہارے ملنے کی جتنی خوشی ہے نہ حور گل خالہ کا سن کر اتنا ہی غم بھی ہے …زر اداس سے بولا تھا اسکی بات سن کر حور کی آنکھیں آنسو سے پھر سے بھر گئی تھی…
“”” نہیں حور اب نہی رونا بہت رو لی تم آج کے بعد میں تمہاری ان آنکھوں میں آنسو نہ دیکھوں …آج تو ویسے بھی خوشی کا دن ہے میرے لئے ایک ساتھ دو دو خوشی کی خبر جو ملی ہے مجھے .
“”..زر اسکی آنکھوں سے آنسو صاف کرتا ہوا بولا تھا جبکہ حور ناسمجھی سے اسکو دیکھ رہی تھی کہ وہ کون سی دو دو خوش خبری کی بات کر رہا تھا ..
“”زر اسکو ناسمجھی سے اپنی طرف دیکھتا ہنسا اور اسکے مزید قریب ہو کر بیٹھا تھا .
“”پہلی خوشی یہ کہ تم ہی گل خالہ کی بیٹی ہو اور دوسری خوشی میرے لئے ہر خوشی سے بھی بڑھکر ہے …زر نے اسکے دونوں ہاتھ کو تھام کر اسکی آنکھوں میں دیکھا تھا …
“”میں ڈیڈ بننے والا ہوں حور تمہارا بہت بہت شکریہ مجھے اتنی بڑی خوشی دینے کے لئے ….زر اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بولا اور اسکی پیشانی پہ اپنے لب رکھ دئے تھے …
“”زر کی بات سن کر حور کے چہرے پہ خوشی اور حیا کے رنگ ایک ساتھ بکھرے تھے یہ خوشی تو اسکے لئے بھی سب سے بڑی خوشی تھی …
“”کیا ہم اندر آ سکتے ہیں بھائی ….تبھی دروازے کے پیچھے سے بیا کی شرارت سے بھری آواز سنائی دی تھی جو اندر آنے کی اجازت مانگ رہی تھی زر نے اندر آنے کی اجازت دی اور اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا ..
“”اسکی اجازت ملتے ہی بیا کے ساتھ راحت بیگم اور سکندر صاحب روم میں داخل ہوئے تھے ..
“”راحت بیگم نے آگے بڑھکر حور کو اپنی باہوں میں بھرا تھا وہ تو شروع سے ہی سب جانتی تھی آج سب خوش تھے بیا بار بار زر کو چھیڑ رہی تھی راحت بیگم اسکو ڈانٹ رہی تھیں جبکہ حور کی نظر بار بار دروازے پہ جا رہی تھی اور یہ بات سب نے نوٹ کی تھی اسکو جسکا انتظار تھا بس وہ نہی آئی تھی اداسی پھر سے اسکے چہرے پہ آئی تھی❤❤❤❤❤جاری ہے ….