Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

تم سب شاپنگ اکیلے کر لوگی یا میں بھی چلوں تمہارے ساتھ….! ثاقب نے ڈرائیو کرتے ہوئے ایک نظر اپنی بیوی کی طرف دیکھتے ہوئے فکرمندی سے کہا….
جی میں اکیلے کر لوں گی آپ اتنا پریشان نہ ہوں اور ویسے بھی آپکے بچے اب اتنے بھی چھوٹے نہیں ہیں جو مجھے پریشان کریں گے…!!
گل نے ایک نظر اپنے شوہر کو دیکھ کر جواب دیا پھر پچھلی سیٹ پر موجود اپنے بچوں کو دیکھ کر مسکرائی تھی…!!
چار سالہ ہانی اور سات سالہ آدم …
اسکی زندگی میں بس اب یہ چند لوگ ہی تو اسکے خاص تھے جن کے بغیر وہ اپنی زندگی جینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی…..!!
ہاں کیونکہ میرے بچے مجھ پر ہی تو گئے ہیں اب دیکھو میں بھی تو پریشان نہیں کرتا ہوں تمھیں ….!!
ثاقب نے ایک آنکھ دبا کر شرارت سے گل کی طرف دیکھ کر کہا اور اسکا ہاتھ تھام کر اپنے لبوں سے لگایا تھا…
آپ شاید بھول گئے ہیں کی بچے بھی پیچھے موجود ہیں کچھ تو شرم کریں….
وہ اپنا ہاتھ اسکے ہاتھوں سے آزاد کراتے ہوئے بولی تھی….
معلوم ہے مجھے ۔۔۔!!
پر شاید تم نے دیکھا نہیں دونوں ہی مزے سے سو رہے ہیں اس لئے شرم کس بات کی اب …!؟
ثاقب پھر سے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوۓ بولا تھا۔۔۔۔
آپ ہاتھ چھوڑیں میرا اور کار ڈرائیو کرے اچھے سے ۔۔!
گل مسکراتے ہوۓ ثاقب سے بولی اور پر ایک نظر اپنے بچوں کو دیکھا..
دونوں ہی ہمیشہ کار میں بیٹھنے کے بعد اکثر سو جاتے تھے ان کو سوتا دیکھ وہ پھر سے مسکرائی تھی..
تم جانتی ہو جب بھی تم ایسے مسکراتی ہو تو میرا دل کرتا ہیں کہ بس یہ پل یہیں روک دوں اور تمھیں ایسے ہی ہنستا مسکراتادیکھوں …!
ثاقب اسکی طرف دیکھ ہوۓ محبت سے چور لہجے میں بولا تھا….!
اسکی بات سن کر گل ایک بار پھر سے کھل کر مسکرائی تھی ……
اس بات سے انجان کہ ان کی خوشیاں بس کچھ پل کی ہی مہمان تھی …..
ثاقب سامنے دیکھیں …..!
وہ مسکراتے ہوئے گل کی طرف دیکھ رہے تھے جب گل کی نظر سامنے سے آتی کار پر گئی تھی ..
گل نے ثاقب کا دھیان سامنے کروایا لیکن اتنے میں بہت دیر ہو چکی تھی۔۔
سامنے سے آتی گاڑی انکی کار سے بہت بری طرح ٹکرائی تھی ….
اور ساتھ میں گل کی چیخ بھی نکلی تھی….#######
❤❤❤❤❤❤❤❤عنایہ بیٹا یہ کباب لو نہ میں نے خاص تمہارے لئے بنواۓ ہیں…!
ناز بیگم نے کباب عنایہ کی پلیٹ میں رکہتے ہوۓ محبت سے کہا۔۔۔!
پھوپھو آپ کتنی اچھی ہیں آپکو ہر وقت میری پسند ناپسند کا خیال رہتا ہے عنایہ نے آخری جملہ حور کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا تھا …
جو ناز بیگم اور عنایہ کو ہی دیکھ رہی تھی….
وہ سب کا اتنا خیال رکھتی تھی اور اتنی ہی محبت کرتی تھی بس ایک وہ ہی انکو نظر نہیں آتی تھی یہ سوچ کر اسکی پلکیں نم ہوئی تھی….
ناز تم نے ہمارے بیٹی کو زیادہ لاڈ پیار سے بگاڑ دیا ہے…..!
عمر صاحب اپنی بہن سے بولے تھے….
وہ عادت میں ناز بیگم سے الگ نرم طبیعت کے مالک تھی اور ظفر اپنے باپ پر ہی گیا تھا….
تو کیا ہوا عنایہ بلکل میری بیٹی کی طرح ہی ہے اتنی لاڈ پیار پر تو اسکا حق ہےبھئی۔۔!
ناز بیگم اپنے بھائی اور بھابی کی طرف دیکھ کر مسکرائی تھی…
جبکہ عنایہ نے ایک ادا سے اپنے بالوں کو پیچھے کیا اور زر کی طرف دیکھا مگر وہ اپنا کھانا کھانے میں مصروف تھا لیکن اسکی یہ ادا بیا کو ایک آنکھ نہیں بھائی تھی۔۔۔
اج سنڈے تھا
ناز بیگم نے اپنے بھائی کو بھی لنچ پر بلا لیا تھا اور یوں آج وہ سب لوگ ایک ساتھ موجود تھے اور کافی خوش گوار ماحول میں کھانا کھایا جا رہا تھا…
کھانے کے دوران ناز بیگم مسلسل عنایہ کو کچھ نہ کچھ دے رہی تھی اور وہ بس بیٹھی نخرے دکھا رہی تھی…
حور بہت دیر سے ان دونوں کو ہی دیکھ رہی تھی اور جب اچانک اسکو خود پر کسی کی نظروں کی تپیش محسوس ہوئی تھی حور نے جیسے ہی گردن اٹھا کر سامنے دیکھا تو ایک دم دھک سے رہ گئی تھی….
زر بڑی فرصت میں بیٹھا اسی کو دیکھ رہا تھا اسکے اس طرح دیکھنے سے حور نے فورا اپنی نظریں نیچی کر لی تھی…
لیکن نظریں کیا ملی دل نے پوری رفتار سے دھڑکنا شروع کر دیا تھا ۔۔
اسنے جلدی سے پانی کا گلاس منہ سے لگا لیا تھا..
کہاں تو زر ایک نظر اسے دیکھنا گوارا نہیں کرتا تھا اور کہاں مسلسل اس کو اپنی نظروں کے حصار میں لئے ہوئے تھا….
حور سے کھانا بھی دوبھر ہو گیا تھا اسنے جلدی جلدی اپنا کھانا ختم کیا اور اپنی جگہ سے اٹھ گئی تھی…..
حور بیٹا کیا ہوا اتنی جلدی کیوں اٹھ گئی ہو اچھے سے کھاؤ نہ ….
اسکو اٹھتا دیکھ کر راحت بیگم بولی تھی وہ جانتی تھی کی سب کی موجودگی میں اسنے اچھے سے نہیں کھایا ہوگا…..
بس پھوپھو میں نے کھا لیا اور میں اپنے روم میں جا رہی ہوں۔۔۔۔!
وہ جلدی سے انکو جواب دے کے وہاں سے چلی گئی تھی۔۔
زر خان کی نظروں نے دور تک اسکو جاتے دیکھا تھا ….
اور یہ منظر دو آنکھوں نے بڑی غور سے دیکھا تھا
❤❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤
تمھیں میری کوئی بات بری لگی ہے کیا کبھی جو تم میرے ساتھ ایسی رہتی ہو…۔۔!؟
وہ جو کچن میں کسی کام سے آئی تھی اسکو اپنے پیچھے سے کسی کی آواز سنائی دی تھی..
بیا نے پلٹ کر دیکھ تو ظفر کو سینے پر ہاتھ بندھے کھڑا پایا جو اسے گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا..
اسکی بات سن کر ایک پل کے لئے چپ سی رہ گئی تھی…
میں تم سے پوچھ رہا ہوں بیا …!
جب بیا نے اسکی بات کا جواب نہ دیا اور اپنے کام میں لگی رہی تو ظفر نے اس سے پھر سے پوچھا…..
میں سمجھی نہیں آپ کیا کہنا چاہتے ہیں وہ بنا اسکی طرف دیکھے بولی تھی….!
اس میں ہمّت نہیں تھی کی اسکی طرف دیکھ کر جواب دے کیونکہ جو وہ پوچھ رہا تھا اسکا اسکے پاس کوئی جواب نہیں تھا……
تم اچھے سے جانتی ہو میں کیا کہ رہا ہوں..
مجھے اگنور کرنے کی ایک وجہ بتا دو تم کیا تمہیں میرا یہاں آنا پسند نہیں ہے….؟؟؟
ظفر نے آج سوچ لیا تھا کی وہ اس سے پوچھ کر ہی رہے گا کی وہ اسکے ساتھ ایسا رویہ کیوں رکھتی ہے …
کیونکہ ظفر کو اسکا ایسا رویہ اپنے ساتھ برا لگتا تھا ….
آپکو غلط فہمی ہوئی ہے کوئی نہ میں آپکو اگنور کرتی ہوں اور نہ ہی مجھے آپکا آنا برا لگتا ہے آپکی پھوپھو کا گھر ہے آپ کبھی بھی آ سکتے ہیں ….!!
اس بار بیا نے اسکی طرف دیکھ کر جواب دیا تھا …
چلو پھر مان ہی لیتے ہیں اگر ایسا ہے تو….!!
ظفر اسکی طرف دیکھ کر شرارت سے بولا تھا …
اچھا اگر آپکے سوال جواب پورے ہو گئے ہو تو مجھے راستہ دیں گے باہر جانے کا….
وہ اسکے سامنے کھڑی ہوتے بولی کیونکہ وہ کچن کی دہلیز کے بلکل درمیان میں کھڑا تھا ۔۔۔
نہیں!
ابھی تو بہت سارے سوال ہیں جو میں نے تم سے پوچھنا چاہتا ہوں۔۔!
اس بار وہ شوخ لہجے میں بولا تھا اسکی آنکھوں میں ایک چمک تھی جس کو دیکھ کر بیا اپنی نظریں جھکا گئی تھی….
ظفر بیٹا آپکو کچھ چاہئے تھا…
تبھی راحت بیگم کی آواز پر ظفر گڑبڑا کر پیچھے مڑا تھا۔۔ وہیں بیا بھی بوکھلا گئی تھی….
جی پھوپھو میں پانی لینے آیا تھا….!
ظفر اپنی حالت پر قابو پاتے ہوئے بولا تھا….
جبکہ بیا رخ موڑے اپنی ہنسی پر قابو پا رہی تھی….
بیا بیٹا بھائی کو پانی دو بیچارہ کھڑا ہے یہاں پر اپنا کام تم بعد میں کر لینا….!
راحت بیگم بیا سے مخاطب ہوئی تھی اور انکے بھائی کہنے پر بیا اور ظفر دونوں اپنے جگہ چور سے بن گئے تھے ….
جی امی دیتی ہوں….!
بیا نے جلدی سے پانی کا گلاس ظفر کو پکڑیا اور وہاں سے نکلتی چلی گئی ..
جبکی ظفر اسکے ایسے جانے سے ہولے سے مسکرا دیا تھا …..
❤❤❤❤❤❤❤محبت نام اس کہانی کا ہے جو انسان کے زندگی میں گویا لکھ دی جاتی ہے……..
محبت کا آغاز تو کبھی کبھار بناہ شور شرابہ کے ہو جاتا ہے…
مگر جوں ہی محبت آگے بڑھتی ہے اس کی شدت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے …….
پھر افسانوں کی باتوں پر حقیقت اپنا آپ ظاہر کرنا شروع کرتی ہے تب اندر باہر کے موسم بدلنے لگتا ہے …
ایسا ہی کچھ زرخان کے ساتھ بھی ہو رہا تھا …
وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ اس کے ساتھ یہ سب کیوں ہو رہا ہے….
..وہ جو حور کی شکل تک دکھانا پسند نہیں کرتا تھا اور اسکی موجودگی تک وہ اپنے آس پاس برداشت تک نہیں کرتا تھا ….
لیکن پچھلے کچھ دنوں سے وہ اپنی بدلتی کیفیت سمجھ نہیں پا رہا تھا …..
کل بھی جب وہ لوگ لنچ کر رہے تھے تب بھی اسنے خود پر بہت قابو کیا تھا کی وہ اسکو نہ دیکھ لیکن حور پر نظر پڑتے ہی اسکی نظروں نے پلٹنے تک سے انکار کر دیا تھا …..
یہ کیا ہو رہا ہے مجھے ۔۔!
میں کیوں اسکے بارے میں سوچ رہا ہوں…
وہ نہ جانے کتنی دیر سے بس حور کے ہی بارے میں سوچے جا رہا تھا ……..
میں تو نفرت کرتا ہوں اس سے ….!
زر اپنے بالوں کو ہاتھوں میں پھساتے ہوئے خود سے بولا…..
نہیں میں ابھی بھی حور سے نفرت کرتا ہوں …
اس نے جیسے خود کو یقین دلایا تھا ….
ہاں میں نفرت کرتا ہوں تم سے سنا تم نے حور۔۔۔۔
شدید نفرت کرتا ہوں میں تم سے ….
زرخان نے غصے میں اپنا بجتا ہوا فون سامنے دیوار پر دے مرا تھا جس سے فون دو ٹکڑوں میں بٹ گیا تھا …..
زرخان کو اب اپنی سوچوں پر اور حور پر غصہ آنے لگا تھا جو اسکی سوچوں پر سوار ہو رہی تھی ….
نہیں زر تم وہ سب کیسے بھول سکتے ہو اسکی وجہ سے تمہاری ماں نے کتنی بےعزتی سہی تھی سب کے سامنے تم وہ سب کیسے بھول سکتے ہو…
زر ادھر سے ادھر ٹھلتا ہوا بس یہ سب سوچے جا رہا تھا ..اور اپنے آپ کو یقین دلا رہا تھا کہ وہ ابھی بھی حور سے نفرت کرتا ہے ……
لیکن حقیقت اسکی سوچ کے برعکس تھی
❤❤❤❤❤
جاری ہے…