Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

…………
…………

……….
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤زر اگر تم حور کو بھی لیکر آ جاتے تو کیا ہو جاتا …ظفر اور زرخان اس وقت ہوٹل میں بیٹے تھے جب ظفر نے زرخان کی طرف دیکھتے ہوۓ پوچھا۔۔۔۔
..وہ بہت دیر سے اس سے بات کرنا چہ رہا تھا لیکن بیا اور عنایہ کی موجودگی میں وہ اس سے بات نہیں کر پایا اب وہ دونوں واشروم گئی تھی تو اسکو موقع مل گیا تھا …
…تم سب کچھ جاننے کے بعد پھر بھی تم کیوں یہ بکواس کر رہے ہو گھر پر بھی تم یہ ہی بکواس کر رہے تھے ….زرخان کو حور کا نام سنتے ہی غصہ آ گیا تھا …
…میں بکواس نہی کر رہا ہوں زر میں بس تمھیں سمجھا رہا ہوں کی مت کیا کرو اس معصوم کے ساتھ اتنا ظلم اس سب میں اسکی تو کوئی غلطی نہی ہے نہ ….ظفر اسکو پھر سے سمجھاتے ہوۓ بولا تھا ورنہ اسکی بات سے اسکو بھی غصہ آیا تھا۔۔
۔۔۔۔کم سے کم میرے سامنے تو اسکو معصوم مت کہا کرو تم زر خان تلخی سے بولا۔۔
۔۔۔معصوم کو معصوم ہی کہا جاۓ گا۔۔۔ظفر بہی اسی کے انداز میں جواب دیا …..
….. اور ہمیشہ ہی ایسا ہوتا تھا جب بھی وہ زر سے حور کے بارے میں اسکا حور کے ساتھ غلط رویہ کے بارے میں بات کرتا تو دونوں آپس میں ایسے ہی لڑنے لگ جاتے تھے…
…کیونکہ اسکو حور بہت پسند تھی اسکی معصوميت اسکا عادت سب ہی کچھ تو اچھا تھا اس میں جب بھی زر اسکے ساتھ برا کرتا یا حور کو کچھ کہتا اسکے سامنے تو وہ بس حور کی سائیڈ لیتا تھا جس وجہ سے اسنے اب حور کے بارے میں ظفر سے بات کرنا ہی بند کر دیا تھا ….
..پر ظفر کو جب بھی موقع ملتا تو وہ زر کا دل حور کیطرف سے صاف کرنے کی کوشش کرتا تھا جس میں وہ اب تک ناقام ہی رہا تھا …
…..ہاں ٹھیک ہے وہ تمہارے لیے معصوم ہوگی پر تم میرے سامنے اسکا نام نہ لیا کرو….زر بات کو ختم کرتا ہوا بولا..اور ویٹر کو بل لانے کا اشارہ کیا تھا کیونکہ اسکا موڈ خراب ہو چکا تھا….
…تم سے تو بات ہی کرنا فضول ہے ظفر کو زر کا اس طرح سے کہنا برا لگا تھا جس پر وہ ناراض ہوتا بولا اور وہاں سے اٹھ کر جانے لگا تھا اور زر نے بھی اسکو روکنے کی کوشش نہی کی تھی…
……یہ ظفر بھائی کہاں چلے گۓ عنایہ اور بیا جب لوٹی تو ظفر کو وہاں موجود نہ دیکھ کر عنایہ زر سے بولی تھی…
..وہ چلا گیا ہے اسکو کچھ کام تھا چلو ہم لوگ بھی چلتے ہے وہ اپنی جگہ سے اٹھتے ہوۓ بولا تھا تو بیا نے بھی شکر کہ سانس لیا تھا کیونکہ یھاں آکر وہ بہت بور ہو چکی تھی زر کے جاتے ہی وہ دونوں بھی اسکے پیچھے چل دی ❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤اور کیسی رہی تمہاری پارٹی رات…حور نے بیا سے پوچھا جو اپنے حجاب ٹھیک کر رہی تھی رات انکی واپسی دیر سے ہوئی تھی اور حور سو چکی تھی اسلئے ان دونوں کی بات نہی ہو پائی تھی…
…تمہارے بغیر کیسی ہو سکتی ہے…اگر زربھائی نہ ہوتے تو میں بور ہی ہو جاتی بیا برا سے منہ بنا کر بولی…
….مجھے یہ سمجھ نہی آتا بیا کی تم ظفر بھائی سے اتنا چڑتی کیوں ہو…
.. ہاں یہ میں مانتی ہوں کی عنایہ کو ناپسند کرنے کی وجہ ہے پر ظفر بھائی تو ایسے نہی ہے وہ اپنی بہن سے بہت مختلف انسان ہے….حور نے بیا کی طرف دیکھا جو سڑک پر ڈورتی گاڑیوں کو دیکھ رہی تھی وہ لوگ اس وقت یونی کے باہر کھڑی اپنی دوست کا انتظار کر رہیں تھی ان دونوں کی یکلوتی دوست ثنا جو آج بہت دن بعد یونی آ رہی تھی ….
……بس نہی پسند مجھے وہ دونوں بہن بھائی اور وہ تمہارے لئے اچھے ہو گے پر مجھے بلکل پسند نہی ہے…بیا بیزاری سے بولی اب وہ اسکو کیا بتاتی کی ظفر کا اسکو ہر وقت دیکھتے رہنا اسکو کنفیوز کرتا تھا اور اسکو اسکے اس طرح دیکھنے سے چڑ ہونے لگی تھی اور یہ ہی وجہ تھی کی وہ عنایہ کے ساتھ اب اسکو بھی ناپسند کرنے لگی…پر اسکا دل اسکی اس ناپسندیدگی میں ساتھ نہی دیتا تھا….
…..جو اچھا ہوگا تو اسے اچھا ہی کہا جاۓ گا نہ حور اسکو چھیڑتے ہوۓ بولی ۔۔۔
۔۔۔میں اندر جا رہی ہوں تم رہو یہاں اکیلی بیا پہر سے چیڑتے ہوۓ بولی اور حور کے روکنے کے بعد بھی نہی رکی تھی…
…اسلام علیکم ……کیا حال ہیں…ابھی بیا گئی ہی تھی کی اسکو اپنے پیچھے سے ثنا کی آواز سنائی دی اسنے مڑ کر دیکھا تو اسکی طرف مسکرا رہی تھی …
….وعلیکم اسلام ….الحمدللہ …خیر سے ہیں تم سناؤ بہت دل لگا تمہارا اپنے ماموں کے گھر اتنے دن لگا دئے حور خوشی سے اسکے گلے لگتے بولی…..
….بس یار بہت دنوں بعد جانا ہوا تھا تو بس وقت لگ گیا…بیا کہاں ہے میں نے بولا تھا اسکو کی میں اج ا رہی ہوں…ثنا اس سے الگ ہوتے ہوۓ بولی بیا کو وہاں موجود نہی دیکھ کر پوچھا تھا….
….ہاں وہ ابھی اندر ہی گئی ہے چلو چلتے ہے ویسے کلاس شروع ہونے والی ہے حور اپنی گھڑی کیطرف دیکھتے بولی کیونکہ اسکا انتظار کرتے ہوۓ کافی وقت ہو گیا تھا۔۔
۔۔۔ہاں چلو اسکی بات سنکر ثنا اور ووہ دونوں اندر چل دی تھی….
.لیکن اس بات سے انجان کی وہ بہت دیر سے کسی کی نظروں کے حصار میں تھی..
..وہ جو آج ثنا کو یونی ڈراپ کرنے آیا تھا تو اپنی بہن کے ساتھ حجاب میں کھڑی اس لڑکی کو دیکھ کر وہ ایک پل کے لئے تو بس اسکو دیکھتا رح گیا تھا اسنے اسنے بہت سی خوبصورت لڑکیاں دیکھی تھی اپنی زندگی پر وہ سب سے الگ لگی تھی اسکو ….
…وہ تو چلی گئی تھی پر ابھی بھی اسکی آنکھوں کی سامنے بر بر اسکا ہی چہرہ آ رہا تھا❤❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤لو دیکھو یہ ہو گیا ….حور اس وقت بیٹھی ظفر سے اپنا اسائنمنٹ بنوانے میں اسکی مدد لے رہی تھی ……جو اسکی سمجھ نہی آ رہا تھا کی کیسے کرے۔
…ظفر بھائی بےحد شکریہ آپکا اگر آپ میری ہیلپ نہ کرتے تو میں یہ کیسے کمپلیٹ کرتی ..حور ظفر کا شکریہ ادا کرتے ہوۓ بولی تھی …کیوں کی اس سے اپنا آسائنمنٹ کمپلیٹ نہیں ہو پا رہا تھا جس وجے اسکو ظفر سے مدد لینی پڑی تھی اور واسے بھی ظفر نے اسکو خود کہا تھا اگر اسکو کوئی ہیلپ چاہیے ہو تو وہ اس سے کہ سکتی ہے …
کیونکہ ظفر جانتا تھا زر بیا کی تو ہیلپ کر دیگا پر اسکی نہیں کریگا اور ایسا ہی ہوا تھا زرخان نے بیا کا آسائنمنٹ تیار کرانے کی زمیداری خود لے لی تھی ۔۔
جس وجھ سے بیا کو کوئی پریشانی نہیں تھی اس لئے وہ اب فری پھر رہی تھی….
۔۔۔ظفر مجھے تمسے بات کرنی ہے….زرخان نا چاہتے ہوئے بھی وہا آیا تھا جہا ظفر بیٹھا حور کو پڑا رہا تھا ….
اس واقع کو ہوئے آج تینں دن ہو گۓ تھے اس دن سے ظفر نے اس سے بات کرنی بند کر رکھی تھی …زرخان کو اچھا نہیں لگ رہا تھا کی ظفر اس سے ناراض ہو رہا ہے وہ بھی حور کی وجہ سے ….
وہ ظفر سے بات کرنا چاہتا تھا اس لئے اب وہ اسکے پاس موجود تھا …
….اچھا حور تمہارا تو کام ہو گیا ہے اب میں چلتا ہوں..ظفر زرخان کی بات کو نظر انداز کرتے ہوۓ حور سے بولا اور اپنا موبائل اٹھا کر وہا سے جانے لگا…..
..ظفر میں تم سے بات کر رہا ہوں..زرخان ظفر کے سامنے آتے ہوئے بولا تھا اسکو ذرا اچھا نہ لگا تھا ظفر کا اسکو نظر انداز کرنا اور وہ بھی حور کے سامنے ….
جبکی حور بس خاموش کھڑی یہ سب دیکھ رہی تھی .
…میں بھی تم سے جب ہی بات کرونگا جب تم میری بات دھیان سے سنوگے..ظفر اتنا کہتے ہی اسکی سائیڈ سے نکلتا چلا گیا تھا… یہ دیکھے بغیر کے اسکی بات سن کر زرخان کے ماتھے پر بل پڑ گئے تھے …
زرخان غصے سے بھرا حور کیطرف بڑھا تھا …وہ جو وہا سے جانے کے لئے پر تول رہی تھی زرخان کو غصے سے اپنی طرف آتا دیکھ دو کدام پیچھے ہوئی تھی ..جبکی زرخان نے بازو سے پکڑ کر ایک جھٹکے سے اسکو اپنے پاس کیا تھا …جس سے حور اسکے سینے سے ٹکراتی ہوئی بچی تھی….
…یہ سب تمہاری وجہ سے ہو رہا ہے اس سب کی زمیدار تم ہو…زرخان اسکے بازو پر اپنی پکڑ اور سخت کرتے ہوۓ غصے سے بولا….
…م…میں..۔نے…کیا..کیا ..ہے…حور ڈرتے ہوۓ زرخان سے بولی اور خود کو اسکی مظبوط پکڑ سے آزاد کرنے کی کوشش کرنے لگی تھی…..
…یہ سب تم نے ہی کیا ہے زندگی حرام کردی ہے میری تم نے اور تمہارے اس وجود نے..
..اگر تم نہ ہوتی تو میری زندگی میں اتنی پریشانیاں نہ ہوتی..اور نا آج ظفر مجھسے ناراض ہوتا یہ سب صرف تمہاری وجہ سے ہو رہا ہے ….
..ناقابل برداشت ہو تم اور تمہارا وجود میرے لئے سمجھی تم ….زرخان اسکو ایک جھٹکے سے چھوڑتے ہوۓ دہاڑتے بولا اور بنا اسکی طرف دیکھ وہا سے نکلتا چلا گیا تھا۔۔
۔۔۔ اسکے اس طرح حور کو چھوڑنے سے حور بہت زور سے نیچے گری تھی جس وجہ سے اسکو بہت درد ہوا تھا لیکن یہ درد اس درد کے آگے کچھ نہیں تھا جو درد اور زخم زرخان اسکو اپنے الفاظ سے دےکر گیا تھا …
…اتنی نفرت کرتے ہے آپ مجھے کی میرا وجود تک آپکو اس گھر میں گوارا نہیں ہے …. حور اب سسکیوں سے رونے لگی تھی اب اس سے زرخان کی نفرت اسکا آگ سے بھرا لہجہ برداشت نہی ہوتا تھا ۔۔۔❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤یہ حور کہاں ہے راحت آج پورے دن سے دکھائی ہی نہی دی ہے ….جبکی آج وہ یونی بھی نہی گئی تھی…
….سکندر صاحب نے راحت بیگم سے فکرمندی سے پوچھا جو انکے پاس بیٹھی تھی جبکی انکی نور کے لئے فکر دیکھ کر وہاں بیٹھی ناز بیگم اور عالیہ بیگم نے ناگواری سے انکی طرف دیکھا…
…عالیہ بیگم عنایہ کی مام تھی اور ناز بیگم ہی حور کو پسند نہی کرتی تھی تو وہ کیون اسکو پسند کرتی….اور دوسری وجہ انکی خود کی بیٹی بھی تھی…
…..کبھی اپنی اولاد کی تو آپکو اتنی فکر نہی ہوئی جتنی اس کل کی آئ لڑکی کے لئے آپ اتنی فکر دکھاتے پھرتے ہیں…..اس سے پہلے کی راحت بیگم کوئی جواب دیتی ناز بیگم تلخی سے بولی…
….وہ بھی میری اولاد جیسی ہی ہے ….سکندر صاحب جیسی پر زور دیتے بولے..انکا موڈ خراب ہو گیا تھا حور کی طرف انکا تلخ رویہ دیکھ کر…
…اولاد جیسی اور اولاد ہونے میں بہت فرک ہوتا ہے…سکندر صاحب …اور پتہ نہی جس کو آپ اپنی اولاد جیسی کہتے ہیں اسکے خود کے رشتیداروں نے تو رکھنے سے منا کر دیا تھا نا جانے کس کا گندا…..
….بس ناز بیگم ایک لفظ اور نہی ورنہ مجھ سے برا کوئی نہی ہوگا..انکا جملہ پورا ہونے سے ہی سکندر صاحب دھڑتے ہوئے بولے تھے انکی غصّے سے رگے تن گئی تھی…
..انکی دہاڈ سن کر یک پل کے لیے وہ تینوں خاتوں ڈر گئی تھی…
…میں چپ نہی رہوں گی پہلے بھی اپنے مجھے چپ کرا دیا تھا پر اب نہی میں اسکو اس گھر میں مزید برداشت نہی کر سکتی…ناز بیگم کچھ ہمت کر کے بولی تھی کیونکہ وہ اتنی جلدی ہار ماننے والوں میں سے نہی تھی…
…انکو دونوں کو لڑتا دیکھ کر راحت بیگم گھبرا گئی تھی وہ ناز بیگم کو چپ کرانے کے لئے اپنی جگہ سے اٹھی تھی….
.. یہ تمہاری غلطفہمی ہے کی تم اسکو اس گھر سے نکل سکتی ہو اور جتنی جلدی ہو سکے یہ بات اپنے دماغ میں بیٹھا لو کی حور اس گھر سے کہیں جائے گی کیونکہ یہ گھر اسکا بھی اتنا ہی ہے جتنا تمہارا اور باقی گھر والوں کا ہے وہ سخت لہجے میں کہتے وہاں رکے نہی تھی….
…ناز بیگم اپنی جگہ تلملا کر رہ گئی تھی❤❤❤❤❤جاری ہے….