Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

❤❤❤❤❤❤
میں تمھیں پورے گھر میں ڈھونڈھ رہا تھا اور تم یہاں بیٹھی ہو …
ثاقب اسکے پاس آکر بولا جو کسی گہری سوچ میں گم لان میں بیٹھی تھی….
آپ کب آۓ …
وہ اپنی سوچوں سے باہر آتے ہوئے ثاقب کی طرف دیکھ کر بولی جو اسکے سامنے اپنے دونوں ہاتھ سینے پر باندھے کھڑا اسی کو دیکھ رہا تھا….
جب تم اپنے ماضی میں کھوئی ہوئی تھی…
ثاقب گہرا سانس لےکر بولا اور اسی کے برابر میں نیچے گھاس پر بیٹھ گیا تھا ….
جب وہ آفس سے آیا تو وہ اسکو کہیں نظر نہیں آئی تو اسکو ڈھونڈتا ہوا لان میں آیا٫ گل اسکو وہیں بیٹھی ملی تھی…
ماضی کو بھولنا اتنا آسان بھی تو نہیں ہے نہ ثاقب وہ اسکی طرف دیکھ کر بولی تھی….
لیکن مشکل بھی تو نہیں ہے نہ تم کوشش کرو وہ سب بھولنے کی اس نے اسکے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر اسکی آنسووں سے بھیگی آنکھوں میں دیکھا تھا….
نہیں ثاقب وہ سب بھولنا بہت مشکل ہے وہ بددعا وہ آواز کچھ بھی تو نہی بھولا جاتا ہے مجھ سے ثاقب کچھ بھی نہیں وہ اسکے کندھے پر اپنا سر ٹیکا کر ایک کرب سے بولی تھی
اسکی آواز میں ایک گہرا دکھ تھا جس کو ثاقب محسوس کر سکتا تھا پر وہ لاکھ کوشش کے باوجود بھی اسکا یہ دکھ آج تک کم نہیں کر سکا تھا….
تم تو جانتے ہو نہ ثاقب میں نے کچھ بھی جان کر نہیں کیا تھا ہم مجبور تھے اگر ایسی مجبوری نہ ہوتی تو میں ایسا کبھی نہ کرتی…
وہ ہر بار کی طرح بولا گیا جملہ پھر سے دوہرا رہی تھی….
ہاں میں جانتا ہوں سب جانتا ہوں میں اور تم دیکھنا ایک دن سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا اللہ پر بھروسہ رکھو تم
اس نے اسکے بالوں پر اپنے لب رکھتے ہوۓ کہا تھا وہ اس سے برداشت نہیں ہوتا تھا جب اسکی بیوی یوں اداس رہتی تھی وہ اپنی ہرممکن کوشش کرتا تھا اسکا موڈ ٹھیک کرنے کے لئے….
چلو اب اندر چلتے ہیں اگر بچے اٹھ گۓ نہ تو ہم دونوں کو وہاں نہ دیکھ کر رونے لگے گے ثاقب نے اسکا دھیان بچوں کی طرف کیا تھا اور اسکو گھاس سے اٹھاتے ہوئے بولا…
ارے میں تو بھول ہی گئی تھی وہ لوگ شام سے سو رہے ہیں اگر اب نہ اٹھایا تو رات میں پریشان کریں گے گل فکرمندی سے بولتی آگے بڑھی تھی
اور ثاقب اسکو بچوں کے لئے یوں پریشان ہوتا دیکھ کر مسکراتے ہوۓ خود بھی پیچھے چل دیا تھا❤❤❤❤❤❤
,,,######حور اگر اب تم نہ اٹھی نہ تیار ہونے کے لئے تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا …..
بیا پیچھلے ادھے گھنٹے سے حور کو منانے کی کوشش کر رہی شادی میں جانے کے لئے ……
پر وہ تھی کی ماننے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی …
اور بس ایک ہی الفاظ اسکی زبان پر تھا نہ اور نہ ….
جسے سن کر بیا کو غصہ بھی بہت آ رہا تھا لیکن پھر بھی وہ اسکو اپنے ساتھ لیکر جانا چاہتی تھی …..
آج سکندر صاحب کے دوست کی بیٹی کی شادی تھی جس میں سب گھر والے جا رہے تھے لیکن حور نے جانے سے مانا کر دیا تھا یہ کہ کر کہ اسکی طبیعت ٹھیک نہیں ہے پر بیا اسکو اکیلا چھوڑ کر جانے کے لیے تیار نہیں تھی ..
اور ویسے بھی وہ جانتی تھی کی حور طبیعت خرابی کی وجہ سے نہیں بلکہ زرخان کی وجہ سے شادی میں نہیں جا رہی تھی …..
کیونکہ پچھلے ایک ہفتے سے وہ ایسا ہی تو کر رہی ہے جب سے اس نے زرخان کی بات سنی تھی تب سے نہ تو وہ یونی گئی تھی نہ ہی اسکا سامنا زرخان سے ہوا تھا..
اگر کہیں زرخان ہوتا بھی تو وہ وہا سے چلی جاتی تھی …..
…بیا تم جاؤ میرا بلکل بھی دل نہیں ہے کہیں بھی جانے کا ….
حور نے بیزاری سے کہا اور روم میں پھیلی بیا کی ساری چیزوں کو اپنی اپنی جگہ پر رکھنے لگی ….
حور ایسا کب تک چلے گا تم کب تک زربھائی سے ایسے ہی چھپتی رہو گی کبھی نہ کبھی تمہارا انکا سامنا ہوگا ویسے بھی ہم سب ایک گھر میں ہی رہتے ہے اور ایسا کب تک ممکن ہے کہ تمہارا اور انکا سامنا نہ ہو …..
بیا اسکو سمجھانے والے انداز میں اس سے بولی …
بیا کی بات سن کر ایک پل کو تو حور بھی چپ رہ گئی تھی سہی ہی تو کہ رہی تھی وہ کب تک زرخان کے سامنے نہیں جائے گی کبھی نہ کبھی تو انکا سامنا ہونا ہی تھا ………
میں جانتی ہو بیا پر میں کیا کرو جب وہ مجھے نفرت بھری نظروں سے دیکھتے ہیں تو تمھیں پتا ہے مجھے کتنا دکھ ہوتا ہے ….
حور اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو دیکتے ہوئے بھرائی ہوئے آواز میں بولی….
مجھے پتا ہے حور لیکن اسکا یہ مطلب تو نہیں کی تم بس کمرے میں ہی قید ہو کر رہو دیکھو اللہ پر بھروسہ رکھو وہ بہتر کرنے والا ہے انشاللہ وہ تمہارے ساتھ بھی بہتر ہی کرے گا ……
بیا اسکے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر بولی …
اچھا اب باتیں بند کرو اور تیار ہو جاؤ ماموں نیچے ہمارا ویٹ کر رہے ہیں…
بیا اسکے ہاتھ میں آج پہنے والا ڈریس دیتے ہوئے بولی …..
کیا پھوپھو چلی گئی ہے ….
حور واشروم میں جاتے ہوئے پلٹ کر بیا سے بولی …
جی ہاں امی اور مامی زربھائی کے ساتھ چلی گئی ہے ہم لوگ ماموں کے ساتھ جائیں گے میں نے ان سے کہ دیا تھا کی تم بھی جا رہی ہو…
بیا اسکو بتاتی اپنے آپ کو آئینے میں دیکھنے لگی تھی جبکہ اسکی بات سن کر حور مسکراتی ہوئی واشروم میں چلی گئی تھی …
❤❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤❤❤اور کوئی نہی آیا گھر سے بس تم ہی لوگ آۓ ہو۔۔
ظفر زر کے ساتھ آئی ناز بیگم اور راحت بیگم کو دیکھ کر بولا…
عاقب صاحب سکندر صاحب اور ظفر کے والد عمر صاحب کے اچھے دوست تھے اس وجہ سے آج وہ لوگ بھی یہاں موجود تھے….
ہاں بیا ا رہی ہے ڈیڈ کے ساتھ زر نے ادھر ادھر دیکھتے ہوۓ کہا جبھی اسکی نظر سامنے کھڑے فیصل پر پڑی تھی جو بیا کی دوست ثنا سے بات کر رہا تھا…
یہ یہاں کیا کر رہا ہے اور یہ تو بیا کی دوست ہے نہ وہ ظفر کی طرف دیکھتے ہوۓ تھا ..
وہ ثنا کو جانتا تھا کیونکہ ثنا ایک دو بار انکے گھر آ چکی تھی.
…یہ فیصل کی بہن ہے اور اسکے بابا بھی عاقب انکل کے دوست ہیں ظفر نے اسکو تفصیل سے ساری بات بتائی تھی جبکی زر کو حیرانی ہوئی تھی ثنا کے بارے میں جان کر….
تمھیں کیسے پتا اسکی بہن کے بارے میں زر نے اپنے دل میں آیا سوال اس سے پیچھا تھا…
میں بھی نہیں جانتا تھا پر ابھی ایک پارٹی میں میری ملاقات ہوئی تھی وہاں دونوں سے تو بس تبھی معلوم ہوا تھا اور میں بھی اتنا ہی حیران ہوا تھا جتنا اس وقت تم ہو رہے ہو ظفر اسکی طرف دیکھتے بولا تھا…
ابھی وہ لوگ باتیں ہی کر رہے تھے جب زرخان کی نظر سامنے بیا اور سکندر صاحب کے ساتھ آتی حور پر پڑی تھی اور پھر پلٹنہ ہی بھول گئی تھی حور اس وقت بلیک کلر کی فروک پہنے ہوئے تھی جس پر گولڈن موتیوں سے کام کیا ہوا تھا ..اور ہلکے سے میک اپ میں وہ اس وقت اتنی خوبصورت لگ رہی تھی کی زرخان بس یک ٹک اسکو ہی دیکھ جا رہا تھا ایک تو وہ اسکو اتنے دن بعد دیکھائی دی تھی اپر سے اج زر نے پہلی بار اسکو یوں تیار ہوۓ دیکھا تھا کی اسکو اس پر سے اپنی نظریں ہٹانا مشکل لگ رہا تھا۔۔۔
اور ایسا ہی کچھ حال کسی اور کا بھی ہوا تھا حور کو دیکھ کر اسکے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کی جس نے اسکو اتنے دنوں سے بےچین کیا ہوا ہے جس کو دیکھنے کے لئے وہ ترس رہا تھا اسکو وہ آج یہاں ملے گی یہ تو اس نے سوچا بھی نہیں تھا ……
جبکہ حور نظرے نیچے کیۓ بیا سے باتیں کرتی ہوئی آ رہی تھا بیا نے اسکو کچھ کہا جس پر وہ ہولے سے مسکرا دی تھی …..
زرخان نے جلدی سے اپنی نظریں اس پر سے ہٹائی تھی اور ادھر ادھر دیکھنے لگا لیکن جیسے ہی اسکی نظر اپنے سے کچھ دور کھڑے فیصل پر پڑی جو حور کو ہی دیکھ رہا تھا…
یہ دیکھ کر زرخان کے ماتھے پر ان گینت بل پڑ گئے تھے اسکا اس پل دل چاہا کی وہ فیصل کو یہاں سے غائب ہی کر دے۔۔
لو آ گئے انکل وغیرہ ظفر کی بھی نظر بیا پر پڑی تھی تو وہ زر کو دیکھ کر بولا جو فیصل کو کھڑا گھور رہا تھا۔۔۔۔
اسکی بات سن کر زر نے اس پر سے نظریں ہٹاکر دیکھا سامنے دیکھا تو حور اور بیا اب وہاں نہی تھی شاید وہ راحت بیگم کے پاس چلی گئی تھی تو وہ بھی ظفر کے ساتھ اپنے ڈیڈ اور ظفر کے بابا کے پاس چل دیا تھا۔۔
❤❤❤❤❤
سچ میں یار تم یہاں مل گئی مزہ ہی آ گیا ورنہ میں اور حور تو بور ہی ہو جاتے یہاں آکر….
بیا مسکراتے ہوۓ ثنا کیطرف دیکھ کر بولی تھی
یہاں آنے کے کچھ دیر بعد انکی ملاقات ثنا سے ہو گئی تھی اور یوں تینوں یہاں ایک ساتھ مل کر انجوۓ کر رہی تھی۔۔۔
پر حور کو بار بار ایسا لگ رہا تھا کہ وہ کسی کی نظروں کے حصار میں ہے لیکن جب بھی وہ گردن موڈ کر دیکھتی تو اسکو کوئی نظر نہیں آتا وہ اپنا وہم سمجھ کر سر جھٹک کر پھر سے باتوں میں لگ گئی تھی…
چلو ثنا مام بلا رہیں ہیں گھر چلنا ہے۔۔…
ابھی وہ تینوں کھڑی باتیں ہی کر رہیں تھی جب انکو اپنے قریب ایک مردانہ آواز سنائی دی تھی…
تینوں نے یکدم پلٹ کر دیکھا تھا….
ٹھیک ہے بھائی بس پانچ منٹ اور پھر چلتے ہیں …
ثنا فیصل کو دیکھ بولی تھی …..
وہ دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اسکو قریب سے دیکھنے کے لئے آیا تھا..
ورنہ اسکا خود کہاں ارادہ تھا یہاں سے جانے کا….
ویسے بھائی یہ دونوں میری بہت اچھی دوست ہیں اور بیا حور یہ میرے سب سے اچھے بھائی فیصل بھائی ہے ثنا انکا تعارف کروایا۔۔۔
جواب میں وہ بس ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا دئیے تھے….
اور بس یہ وہ لمحہ تھا جب زر کی نظر ان چاروں پر سے ہوتے ہوئے فیصل پر پڑی جو حور کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا ایک غصّے کہ لہر اسکے پورے بدن میں ڈور گئی تھی….
دیکھو زرا گھر میں تو کتنی معصوم بنی پھرتی ہیں اور یہاں کیسے اجنبی کو دیکھ کر مسکرا رہی ہے عنایہ کی بات سے زر کا غصّہ مزید بڑھ گیا تھا مگر وہ خود پر قابو کر کے وہاں کھڑا تھا….
اسکو حور کیطرف غصّے سے دیکھتا پاکر عنایہ اندر ہی اندر مسکرا دی تھی کیونکہ اسنے اپنا کام جو کر دیا تھا….
بیا چلو گھر دیر ہو رہی ہے …
وہ وہاں جاکر حور اور فیصل کو نظراندز کرتا بیا سے بولا تھا …
اور حور میں اتنی ہمّت نہیں ہوئی تھی کی وہ نظر بھی اٹھا سکے….
ٹھیک ہے بھائی آ رہیں ہے بس ہم بیا اسکا غصّے سے بھرا چہرہ دیکھ کر گھبرا کر بولی جبکہ فیصل حیران ہوا تھا
بیا کے منہ سے بھائی سن کر زر جس طرح آیا تھا اسی طرح واپس بھی چلا گیا تھا
اسکے پیچھے وہ دونوں بھی ثنا سے گلے مل کر چل دی تھی….
یہ زرخان کی بہن تھی فیصل نے انکے جاتے ہی ثنا سے سوال کیا..
…جی بھائی دونوں کزنز ہیں زربھائی کی
ثنا نے جواب دیا اور وہاں سے چلی گئی تھی جبکی فیصل اتنے بڑے اتفاق پر حیران سا کھڑا رہ گیا تھا ❤❤❤❤❤❤جاری ہے……