No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
.❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
…..❤❤❤❤❤دو کار بہت تیز رفتار سے
سڑک پر دوڑ رہی تھی…
.. اور اس وقت دونوں کار کی رفتار اس قدر تیز تھی کی ان کار کو جو بھی دیکھتا اسکے اندر بیٹھے سخص کی زندگی کی خیریت کی دعا ضرور کرتا …
….پر ان دونوں کار کے اندر بیٹھے شخص کے لئے اجیتنے کا جنوں تھا جو انکے سر پر سوار تھا….
….اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے بلیک BMW کار فنشئنگ لائن کو پار کر گئی تھی اور اس کار میں بیٹھے سخص کے چہرے پر فاتحنہ مسکراہٹ بکھر گئی تھی وہ یہ بات تو پہلے سے ہی جانتا تھا کی اسکو کوئی نہی ہرا سکتا ہے پر اسکو….اور ایسا تھا بھی کیونکہ اسنے ہارنہ سیکھا ہی نہی تھا چاہے وہ ریس ہو یا بزنس اسنے ہر قدم پر جیت حاصل کی تھی…
…زرخان…زرخان….جیسے ہی وہ اپنی کار سے نکلا تو اسکو چاروں طرف اپنا نام سنائی دے رہا تھا اسکی طرح وہاں موجود لوگوں کو بھی پتا تھا کی جیت اسی کے مقدر میں لکھی ہے….
….وہ چہرے پر مسکراہٹ اور مغرور چل چلتا ہوا فیصل کے پاس گیا جو اس وقت اپنی حار پر تلمیلایا ہوا تھا….
…میں نے کہا تھا نہ فیصل تم کبھی مجھ سے جیت نہی سکتے اپنی یہ بار بار کی کوشش بند کر دو تو تمہارے لئے اچھا ہی ہوگا ورنہ حر بار تمھیں ہی اپنی حار کا سامنا کرنا پڑیگا…وہ اسکی جیکٹ کا کالر سہی کرتے ہوئے بولا تھا…
….یہ تمہاری غلطفہمی ہے زرخان خان اور ایک دن میں تمہاری یہ غلطفہمی دور کر دوں گا تم دیکھ لینا….زرخان کے اس طرح کرنے سے فیصل کا خون کھول اٹھا تھا وہ اسکا ہاتھ جھٹکتے ہوئے بولا تھا….
…..اوہ تو تم مجھے پھر سے چیلنج کر رہے ہو تو ٹھیک ہے میں بھی یہیں ہوں اور تم دیکھ لیں گے ویسے بھی مجھے چیلنجز بہت پسند ہے…فیصل کی بات پر زرخان کی مسکراہٹ مزید گہری ہو گئی تھی….
…..مجھے پتہ تھا زر کی تمہیں کوئی نہی حرا سکتا ہے….جبھی عنایہ اسکے پاس آکر زرخان کے گلے لگتے ہوئے بولی تھی….
…..یہ بات میں بھی اچھے سے جانتا ہوں …..زرخان اسکو خود سے دور کرتے ہوئے بولا تھا…..
….اسکو پسند نہی تھا کہ کوئی بھی اسکے اتنے قریب آئے۔۔وہ ہر لڑکی کا خواب تھا یونی میں بھی بہت سی لڑکیاں اسکی ایک ہاں کی منتظر تھی پر اسکو ان سب باتوں میں کوئی دلچسپی نہی تھی..وہ تھا ہی اتنا ہینڈسم اور پھر اسکا لیا دیا رویہ اسکو سب سے الگ بناتا تھا …..اور بس ایک دو دوست تھے اسکے اور ان میں سے ایک عنایہ تھی جو اسکی ماموں ذات ہونے کے ساتھ ساتھ اسکی بچپن کی دوست بھی تھی….
…..اس لئے وہ اسکو اتنی احمیت دیتا تھا پر عنایہ اس بات کو کچھ اور ہی سمجھ بیٹھی تھی وہ زرخان پر اپنا حق سمجھ بیٹھی تھی اسکو لگتا تھا کی زرخان پر صرف اسکا ہی حق ہی …..
……تو زر تم پارٹی کب دے رہے ہو عنایہ اپنے بال ایک عدہ سے پیچھے کرتے ہوئے بولی تھی….
…جبکی اسکی بات سنکر فیصل وہاں روکا نہی تھا..
….کل تو مجھے بہت امپورٹنٹ کام ہے ایک دو دن میں لے لینا تم زرخان ..فیصل کو دیکھتے ہوئے بولا جو اپنی کار کے پاس غصّے میں جا رہا تھا…..
…اتنا غرور اچھا نہی ہوتا زرخان تم دیکھنا ایک دن ضرور میں تمہارا یہ غرور توڑ دوں گا….فیصل غصّے سے سوچا اور اپنی کار میں بیٹھکر تیزی سے اپنی کار بھگا لے گیا تھا…..
..فیصل بھی اسی کیطرح ایک رئیس باپ کی اولاد تھا پر وہ بگرا ہوا رئیس زادہ تھا جبکی زرخان اس سے بلکل مختلف تھا…
…..چلو گھر چلتے ہیں رات بھی کافی ہو گئی ہے اب کی بار زرخان عنایہ کیطرف دیکھ کر بولا تھا تو وہ بھی اسکی بات سنکر اسکے ساتھ کار کیطرف چل دی تھی❤❤❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤اسکی کار ایک شاندار بنگلوں کے پورچ میں آکر رکی تھی…. سبھی لائٹس بند ہونے کی وجہ سے یہ شاندار عمارت چاند کی روشنی میں چمک رہی تھی ….جس سے یہ عمارت اور بھی شاندار لگ رہی تھی …یہ بات اسکے لئے بہت اچھے تھی کی گھر کی سبھی لائٹس بند تھی اگر کوئی اسکو اس وقت گھر آتے ہوئے دیکھ لیتا تو اسکے لئے مشقل ہو جاتی …ایسا نہیں تھا کی وہ کسی سے ڈرتا تھا بلکی گھر میں سبھی اس سے ڈرتے تھے …کیوں کی اسکو کب کس بات پر غصہ آ جائے یہ کوئی نہیں جانتا تھا ….
…ایسا نہی تھا کی وہ کسی سے محبت نہی کرتا تھا وہ اپنے گھر میں سبسے زیادہ اپنے ڈیڈ سے محبت کرتا تھا جتنی محبت تھی اتنا ہی وہ ان سے ناراض بھی تھا اور اپنی ناراضگی اور غصّہ وہ اس طرح ریسنگ کر کے ختم کرتا تھا….
….وہ بنا کوئی آہٹ کئے گھر میں داخل ہوا پورا گھر سنسان تھا وہ آہستہ سے چلتا ہوا اپر اپنے روم کیطرف جا رہا تھا….
….وہ تیزی سے جا ہی رہا تھا کی اچانک سامنے سے آتے وجود سے بری طرح ٹکرا گیا تھا…
….اسکو تو کچھ فرک نہی پڑا تھا پر سامنے والے کی چیخ اسکے کانوں سے ٹکرائی تھی اس سے پہلے کی وہ اور کوئی آواز کرتا زرخان نے جلدی سے اپنے سامنے موجود سخص کے منہ پر اپنا بھاری ہاتھ رکھ دیا تھا اور اس طرح اسکی اگلی چیخ کا گلا گھوٹ دیا تھا….اندھیرا ہونے کی وجہ سے وہ اسکی شقل بھی نہی دیکھ پایا تھا….
…اس سے پہلے کی کوئی اور بھی آئے زرخان اسکے منہ پر ایسے ہی ہاتھ رکھے سامنے موجود کچن میں لایا اور کچن کی لائٹ اون کی تھی اور اس دوران اسکی گرفت میں موجود وجود خود کو آزاد کرانے کی کوشش کر چکا تھا…پر اسکی مضبوط پکڑ کے آگے اسکی یہ کوشش ناقام رہی تھی….
…..لائٹ اون کرنے کے بعد اسکی نظر جیسے ہی اپنی گرفت میں موجود وجود پر پڑی تو ایک لمحہ لگا تھا اسکے ماتھے پر بل پڑنے میں..
…دوبارہ آواز نہ نکلے اگر تمھاری آواز سے کوئی اور اٹھ گیا تو بعد میں تمہارے خیر نہی ہے وہ اسکے منہ پر سے اپنا ہاتھ ہٹاتے ہوئے بولا اور ناگواری سے اسکو ایک جھٹکی میں اپنی پکڑ سے آزاد کیا تھا….
….جبکی وہ جو اسکی شقل دیکھ کر پہلے ہی ڈر چکی تھی اسکی وارننگ سنکر اسکے ڈر میں مزید اضافہ ہوا تھا….
….آ…آپ….اس وقت گھر پر او..اور مجھے یہاں کیوں لے کر آئے ہیں..
….حور نے ڈرتے ڈرتے بنا اسکی طرف دیکھ پوچھا تھا اس میں اتنی ہمّت کہاں تھی کی وہ اسکے غصّے برداش کر سکے …..
غلطفہمی ہے تمہاری میں تمہیں دیکھنا تو پسند نہی کرتا ہوں …اور یہ میرا گھر ہے میں یہاں کبھی بھی آ جا سکتا ہوں سمجھی تم ….زرخان نے میرا پر زور دیتے ہوئے حور سے کہا ….
حور اسکے لہجے میں چھپی اپنے لیے نفرت آسانی سے پہچان چکی تھی …..
اب کھڑی کھڑی میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو جاو یہاں سے ایک تو تمہاری شکل دیکھ کر میرا موڈ خراب ہو جاتا ہے …زرخان اسکی طرف پھر سے دیکھتے ہوئے غصّے سے بولا تھا اور اسکی بات سنکر حور رکی نہی تھی دوڑتی ہوئی وہاں سے چلی گئی تھی…
….اسکے جانے کے بعد زرخان بھی اپنا سر جھٹکتا ہوا لائٹس پھر سے بند کرکے اپنے روم کیطرف چل دیا تھا❤❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤اسکی آنکہ روز کے معمول پر کھلی تھی اسنے جلدی سے اٹھ کر نماز ادا کی جیسے ہی اسنے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو کل رات والا منظر اسکی آنکھوں کے سامنے گھوم گیا تھا…
..کیا کچھ نہی دیکھا تھا اسنے زرخان کی آنکھوں میں اپنے لئے…..نفرت۔۔ ناپسندیدگی ۔۔سبھی کچھ تو تھا
اور یہ سب دیکھ کر وہ ہر بار کی طرح آج پھر سے دکھ سے ٹوٹ گئی تھی یہ نئی بات نہی تھی اسنے اسکی آنکھوں میں ہمیشہ اپنے لئے یہ سب دیکھا تھا لقین پتہ نہی ایسا کیوں تھا کی وہ اسکی یہ بےرخی برداشت نہی کر پاتی تھی ….اسکو اب تک عادت نہی ہوئی تھی اسکے اس رویہ کی ….
…اسکی آنکھوں میں آنسوں ٹوٹ ٹوٹ کر اسکی ہتھیلی کو بھیگوں رہے تھے….
یا اللہ زرخان مجھسے اتنی نفرت کیوں کرتے ہے میں نے ایسا کیا کیا ہے جس وجہ سے وہ میرا چہرہ تک دیکھنا پسند تک نہیں کرتے ہے ….حور کی اب روتے ہوئے ہچکیاں بند گئی تھی …
یا اللہ میں نے ایسا کیا گناہ کیا ہے جسکی سزا وہ روز مجھے دیتے ہے …. اللہ میری مدد فرما کی میں اپنے آپ کو سمھبال سکوں…..حور نہ جانے کتنے دیر تک ایسے ہی روتے ہوئے دعا کرتی رہی تھی اپنے رب سے اپنے لئے صابر مانگتی رہی تھی ….
اسنے نماز کے بعد قرآن کی تلاوت کی پھر یونی لئے تیار ہونے چلی گئی …….❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤بیا اٹھو یونی نہی جانا کیا …
۔..حور نے تیسری بار بیڈ پر سوئی بیا کو اٹھایا تھا جو اسکے اٹھانے سے ٹس سے مس تک نہیں ہو رہی تھی ….
حور اور بیا دونوں بہت اچھی دوست ہونے کے ساتھ ساتھ کزن بھی تھی اور وہ دونوں ایک ہی روم میں رہتی تھی اور ایک ہی کالج میں جاتے تھے ….
…اگر تم اب نہ اٹھی تو میں اکیلی یونی چلی جاؤنگی …حور نے اسکے منہ پر سے چادر ہٹاتے ہوئے کہا….
…کیا ہے حور تم تو میری نیند کی دشمن بنی رہتی ہو سہی سے سونے بھی نہی دیتی ہو ….بیا نے برا سا منہ بناتے ہوئے کہا جبکی اسکے منہ بنانے پر حور کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی …..
…..اچھا جی میں تمہاری نیند کی دشمن ہوں ….حور نے مسکراتے ہوئے پوچھا …..
جی بلکل ہو آپ میری نیند کی دشمن ….بیا پھر سے خود پر چادر ڈالتی ہوئی لیٹ گئی تھی ……
ارے تم پھر لیٹ گئی تم اٹھ رہی ہو یا پھر پھوپھو کو بلاکر لاتی ہوں اب وہ ہی تمھیں اچھے سے اٹھا سکتی ہیں حور نے آخری دھمکی اسکو دی تھی جو کاراگار ثابت ہوئی تھی….
…میں پھر ٹھیک ہی کہتی ہوں تم سچ میں میری پکی والی دشمن ہو تم جانتی ہو کی امی نے آکر میرا کیا حال کرنا ہے….بیا منہ بناتے ہوئے اٹھ کر بیٹھ گئی تھی…
….میں تمہاری دشمن نہی ہو بلکی میں تو تمھیں پھوپھو کی ڈانٹ سے بچا رہی تھی جو کبھی بھی آ سکتی ہے تمھیں اٹھانے کے لئے حور اسکی غلطفہمی دور کرتی ہوئی بولی تھی …
….اپنی امی کا آنے کا سنکر ہی بیا ایکدم سے بیڈ سے اٹھی اور واشروم کیطرف بھاگی تھی اسکے اس طرح سے بھاگنے سے حور ایک بار پھر کھل کر مسکرائی تھی کیونکہ وہ یہ بات اچھے سے جانتی تھی کی وہ اپنی امی سے کتنا ڈرتی ہے….
…وہ مسکراتی ہوئی روم سے باہر نکلی تھی ابھی اسنے ایک دو قدم ہی بڑہی تھی کی سامنے سے آتے وجود سے بری طرح ٹکرائی تھی۔۔۔❤❤❤❤❤جاری ہے ……
