No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤کیا بات ہے ثنا آجکل تم کچھ زیادہ ہی خوش نظر آ رہی ہو ہمیں بھی تو پتا چلیں آخر وجہ کیا ہے تمہاری خوشی کہ…..
….وہ تینوں اس وقت یونی کے گیٹ پر کھڑی اپنی اپنی کار کا انتظار کر رہیں تھی….
….جب بیا نے ثنا کو چھیڑتے ہوئے کہا تھا جو ایک دو دن سے بہت خوش دیکھ رہی تھی اسکو….
…جبکہ حور اچھے سے جانتی تھی اسکی خوشی کہ وجہ…
…کتنی بری دوست ہو تم بیا تمھیں یہ نہی معلوم کہ میں خوش کیوں ہوں….ثنا منہ بناتے ہوئے بولی تھی اسکو بیا سے یہ امید نہی تھی کہ وہ اسکا برتھڈے بھول گئی تھی….
…بس بس میں مذاق کر رہی تھی یار اتنی جلدی برا کیوں مان جاتی ہو مجھے پتا ہے کی اس سنڈے آپکا برتھڈے ہے…بیا اسکو اپنے باہوں میں لے کر مناتے ہوئے بولی تھی جبکہ بیا کے اس طرح کرنے سے حور کھلکھیلا کر ہنس پڑی تھی …..
…فیصل جو ابھی کار سے نکلا ہی تھا حور کی ہنسی سن کر بس اسکو دیکھتا ہی رہ گیا تھا وہ آج آیا ہی اس لئے تھا کہ اس دشمن جاں کو دیکھ سکے.۔۔
..جب اسکو یہ معلوم ہوا تھا کہ حور زر کی کزن ہے تو اسکو شاک لگا تھا پر اسکو خود پر اتنا تو بھروسہ تھا کی یہ سب اسکے لئے ناممکن نہی ہے وہ جانتا تھا زر اسکو پسند نہی کرتا ہے پر زر کے ناپسند کرنے سے کچھ نہی ہوگا اسکو اس بات کا یقین تھا اب وہ جلد سے جلد کوئی فیصلہ کر لینا چاہتا تھا…
….تو پارٹی تو دے رہی ہو نہ تم بیا اسکو دیکھ کر بولی تھی….
….ہاں یار صرف گرلز پارٹی ہوگی اور ہم لوگ بہت مزا کریں گے…ثنا جوش سے بولی تھی…
….تم سچ کہ رہی ہو ثنا پھر تو بہت مزہ آۓ گا بیا اور حور بھی پرجوش انداز میں بولی تھی۔۔۔
۔۔۔ہاں یہ سچ کہ رہی ہے….فیصل ان لوگوں کے پاس آتے ہوئے حور کا چہرہ اپنی نظروں کے حصار میں لیتے ہوئے بولا تھا…
…آواز سن کر ان تینوں نے اسکو سلام کیا جس پر اسنے اچھے سے انکے سلام کا جواب دیا تھا…
….یہ تو بہت اچھی بات ہے بہت مزہ آۓ گا اس سنڈے کو بیا خوشی سے چہک کر بولی تھی اسکی بات پر سبھی مسکرا دئے تھے….
….اس بات سے انجان کہ دور اپنی کار میں موجود زر کے تن بدن میں آگ لگ گئی تھی یہ منظر دیکھ کر….
….وہ جو اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر آج آفس سے خاص کر ان دونوں کو گھر لے جانے آیا تھا اور آج ایسا پہلی بار ہوا تھا ۔۔
۔۔۔پر سامنے کا منظر دیکھ کر غصے سے اسکی رگے تن گئی تھی سٹیرئنک پر اسکی پکڑ سخت ہوئی تھی اسکا بس نہی چل رہا تھا کہ وہ ابھی وہاں جا کر فیصل کا حال ہی برا کر دے لیکن وہ خود پر قابو کرتے ہوئے ایک غصّیلی نظر حور اور فیصل پر ڈالتا کار کو سٹارٹ کرتا واپس چلا گیا تھا❤❤❤❤❤❤ ❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤ظفر بھائی یہ بھی سمجھا دے یہ میری سمجھ میں نہیں آ رہا ہے ….
…زر خان آفس سے تھکا ہوا گھر میں داخل ہوا تو اسکے کانوں میں حور کہ آواز پڑی.۔۔۔
حور کی آواز سنتے ہی اسکے قدم خود بہ خود لاؤنج کیطرف چل پڑے تھے……..
…السلام عليكم ….زرخان نے لاؤنچ میں آتے ہی انکو سلام کیا اور اپنی ٹائی کہ نوٹ ڈھیلی کرتا ہوا دوسرے صوفہ پر بیٹھا گیا تھا یوں کی حور بلکل اسکے سامنے بیٹھی ہوئی تھی…
… حور جو کچھ لکھ رہی تھی زرخان کی آواز سنتے ہی حور کا چلتا ہوا ہاتھ ایک پل کو رکا تھا ….
…وعلیکم السلام بہائی … زر خان کو دکھتے ہی بیا اور ظفر نے اسکے سلام کا جواب دیا…جبکی حور نے بہت آہستاگی سے اسکے سلام کا جواب دیا تھا جو شاید حور کے علاوہ کسی نے سنا ہی نہیں تھا……
…اچھا آج تم اس لئے جلدی آ گئے تھے آفس سے…زرخان ظفر کیطرف دیکھتے ہوئے بولا
…ہاں یار وہ ان دونو کو کچھ ہیلپ چاہئے تھی پڑھنے میں تو اس لیے میں آج جلدی آ گیا تھا …..
…ظفر زر کو جواب دے کر بیا کی طرف دیکھنے لگا جسکو ابھی بھی کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا ….
…شاید کل ظفر کی باتوں کا ہی اثر تھا کہ وہ اس وقت بیٹھی اس سے پڑھ رہی تھی …..
….ظفر کا جواب سن کر زر کی نظریں حور پر جا ٹھری تھی اس وہ سادہ سے سوٹ میں بھی بہت اچھی لگ رہی تھی اسنے اپنے بالوں کی چوٹی بنائی ہوئی تھی جن میں سے چند آوارہ لٹے اسکے چہرے کو چھو رہیں تھی ایک پل کے لئے تو زر اسکو دیکھتے ہوئے کھو سا گیا تھا ۔۔۔
لیکن اگلے ہی پل دوپہر والا منظر اسکی آنکھوں کے سامنے گھوم گیا تھا اور پل میں اسکے ماتھے پر بل پڑ گئے تھے….
…..حور بظاہر تو آرام سے بیٹھی ظفر کی بات سن رہی تھی جو وہ انکو سمجھا رہا تھا لیکن وہ خود پر جمی زر کی نظروں کو بہت اچھے سے محسوس کر رہی تھی جس وجہ سے اسکو اب گھبراہٹ ہو رہی تھی….
۔۔تبھی ظفر کا فون بجا تھا اور زر نے حور پر سے اپنی نظریں ہٹائی تھی..
…..تم دونوں یہ دیکھو میں ابھی آتا ہوں ظفر اپنا بجتا ہوا فون لے کر باہر بات کرنے گیا تھا….
….آج یونی کے باہر تم لوگ فیصل کے ساتھ کیا باتیں کر رہے تھے..
….ظفر کے باہر جاتے ہی زر نے اپنی بات کا آغاز کیا تھا وہ آفس سے ہی سوچ کر آیا تھا اور ظفر کی موجودگی میں وہ یہ بات نہی کرنا چاہتا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ظفر کو اسکی یہ فالتو ہی لگے گی کیونکہ وہ ظفر کو اتنا ناپسند نہی کرتا تھا جتنا کی وہ…
..وہ دونوں بیٹھی سوال حل کر رہیں تھی جب زر کی آواز انکے کانوں میں آئ تھی جس پر دونوں نے یکدم سر اٹھا کر سامنے دیکھا جو ان دونوں کو ہی دیکھ رہا تھا…
…کچھ نہی بھائی وہ تو ثنا کو لینے آۓ تھے تو بس سلام دعا ہوئی تھی جواب بیا نے دیا تھا حور جبکہ اسکی بات میں چھپے غصّے کو محسوس کر سکتی تھی…
….آج کے بعد میں تمھیں اس سے بات کرتے ہوئے نہ دیکھوں اسکی بہن اچھی ہے اس وجہ سے میں تمہاری دوستی پر کوئی پابندی نہی لگا رہا پر اس فیصل سے دور رہنا….آخری جملہ اسنے حور کیطرف دیکھتے ہوئے سخت لہجے میں کہا تھا…
…اسکی سختی سے کہی بات پر وہ دونوں اپنی اپنی جگہ ڈر گئی تھی انکو یہ بات سمجھ نہی آئ کی وہ فیصل سے دور رہنے کے لئے کیوں بول رہا تھا….
….کچھ دیر تو وہ ایسے ہی بیٹھا حور کو دیکھتا رہا تھا آج پھر فیصل کا حور کو دیکھنا اسکے پورے بدن میں آگ لگا گیا تھا اسکا بس نہی چل رہا تھا کی وہ اپنا سارا غصّہ حور یا فیصل پر ہی نکال دیتا پر وہ اس بار ایسا چاہ کے بھی نہی کر سکا تھا….
…ہاں تو کہاں تھے ہم لوگ ظفر پھر سے واپس آکر ان دونوں سے بولا تھا اور ان دونوں کو پڑھانے لگا…
…زر تھکا ہوا ہونے کے باوجود بھی وہیں حور کو اپنی نظروں کے حصار میں لئے بیٹھا رہا تھا اور اب حور کے لئے پڑھنا بھی مشقل ہو گیا تھا❤❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤اس نے دھیرے دھیرے اپنی آنکھیں کھولی تھی اور ایک درد کی شدید لہر اسکے پورے بدن میں ڈور گئی تھی…
…..پہلے تو اسکی سمجھ نہی آیا تھا کی وہ کہاں ہیں اس وقت اسکا پورا وجود مشینوں میں جکڑا ہوا تھا اس سے سانس بھی ٹھیک سے نہی لی جا رہی تھی….
۔۔۔ایک ایک کر کے سارا منظر انکی آنکھوں کے سامنے گھوم رہا تھا …
…گل..گل..تمھیں ہوش آ گیا یہ دیکھو میں ہوں…..تبھی اسکے کانوں میں بہت سالوں بعد ایک جانی پہچانی آواز گونجی تھی…
….گل نے گردن موڑ کر دیکھا تو بس دیکھتی ہی رہ گئی تھی کتنے ہی آنسوں اسکی آنکھ سے ٹوٹ کر گرے تھے….
..خان بھائی …اسکے ہونٹوں سے بےآواز یہ دو لفظ ادا ہوئے تھے…
…ہاں میری جان تمہارا خان بھائی تمھیں ہوش آ گیا ہے میں بہت خوش ہوں ورنہ مجھے لگا تم بھی انکی طرح… وہ شدت جذبات سے کہتے رو پڑے تھے ……
….خان بھائی ۔۔ ثاقب……م..میرے بچے….جب گل کو اپنے بچو اور شوہر کا خیال آیا تو وہ اٹک اٹک کر انکے بارے میں پوچھ رہیں تھی….
…گل کی بات سن کر وہ ایکدم سے چپ ہو گئے تھے ان میں ہمت نہی ہو رہی تھی کی یہ بتا سکتے کہ اسکا شوہر اور بیٹا اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں.۔۔
…آج جب وہ ایک بزنس میٹنگ کے لئے جا رہے تھے تو راستے میں اس حادثے والی جگہ پر انہونے اپنی کار کو روکا تھا اور گل کو اس اس جگہ اور اس حالت میں دیکھ کر انکے پیروں کے نیچے سے جیسے زمین ہی کھسک گئی تھی آج اتنے سالوں بعد انہونے گل کو دیکھا تھا وہ تو سوچتے تھے کہ وہ اس شہر سے ہی چلی گئی ہے مگر ایسا نہی تھا..
…انہونے کتنا ڈھونڈھا تھا اسکو پر آج ملی بھی تو اس حال میں وہ جلدی جلدی سے انکو ہسپتال لے کر آۓ تھے پر راستے میں ہی ثاقب اور عمر نے دم توڑ دیا تھا ہانی کو زیادہ چوٹ نہی آئ تھی پر گل کی حالت نازک تھی ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ انکے پاس بھی وقت بہت کم ہے اور یہ سب سن کر سکندر صاحب ٹوٹ سے گئے تھے…
….کچھ..ت…تو…بولیں…لالا..وہ انکو خاموش دیکھ کر پھر سے بولی تھی…
….اس بار وہ خود پر قابو نہی رکھ سکے تھے اور کتنے ہی آنسوں انکی آنکھوں سے ٹوٹ کر زمین پر گرے تھے…
….انکو روتا دیکھ کر گل کو بہت کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تھا…..
….اور پھر انکے بار بار پوچھنے پر انکو بتانا ہی پڑا تھا اور یہ سب سنکر گل کہ حالت مزید خراب ہو گئی تھی سکندر صاحب جلدی سے ڈاکٹر کو بلانے کے لئے بھاگے تھے..❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤❤…السلام عليكم پھوپھو کیسی ہیں آپ…
…عنایہ ناز بیگم کے گلے لگتی ہوئی بولی …
….ناز بیگم جو آج ملاذمہ سے گھر کہ صفائی کروا رہی تھی عنایہ کو دیکھ کر خوش ہو گئی تھی ….
..میں ٹھیک ہوں تم بتاؤ کیسی ہو اور گھر میں سب کیسے ہیں…..
….ناز بیگم عنایہ کو لانچ میں سوفہ پر بیٹھتی ہوئی بولی ……
…جی سب ٹھیک ہے پھوپھو آپ بتایں…
….عنایہ ناز بیگم کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیکر بولی….
… جی بیٹا سب خیریت ہے بس آج سوچا گھر کہ صفائی کروا لیتی ہوں تو بس وہ ہی کروا رہی تھی …ناز بیگم محبّت سے عنایہ کہ طرف دیکھتی ہوئی بولی اور ملاذمہ کو بلا کر عنایہ کے لئے کافی بنانے کے لئے کہا پھر عنایہ سے باتوں میں لگ گئی …..
…مما یہ اپکا فون اپر روم میں بج رہا تھا …
تبھی حور ناز بیگم کا بجتا ہوا فون انکو پکڑاتے ہوئے بولی..
..میں نے کتنی بار منا کیا ہے اپنی اس زبان سے مجھے مما مت بلایا کرو تو تمھیں سمجھ نہیں آتا ہے کیا ..
…ناز بیگم حور کے ہاتھ سے اپنا موبائل جھپٹتے ہوئے غصے سے بولی …
…عنایہ کے سامنے اتنی بی عزتی پر حور کہ آنکھوں میں پانی آ گیا تھا وہ سر جھکے اپنے آنسوں پینے کہ کوشش کر رہی تھی …
…جبکی عنایہ طنزیہ مسکراہٹ ہونٹوں پر سجا کر حور کہ طرف ہی دیکھ رہی تھی ….
…اب کھڑی کھڑی میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو دفا دفاع ہو جاؤ۔۔
…ناز بیگم نے چیختے ہوئے غصے سے کہا حور انکی غصے سے بھری آواز سن کر دوڑتی ہوئی جیسے ہی وہا سے جانے لگی تھی پاس ہی ٹیبل پر رکھا قیمتی واس حور کا ہاتھ لگنے کی وجہ سے نیچے زمیں پر گر کر ٹوٹ گیا تھا…..
….ایک کام ڈھنگ کا نہیں کر سکتی یہ لڑکی میرا اتنا قیمتی واس توڈ دیا…
تم کیا اندھی ہو کر چال رہی تھی .ناز بیگم تو جیسے فٹ پڑی تھی آج حور پر …
حور جلدی سے نیچے بیٹھ کر روتے ہوئے ٹوٹے کانچ کے ٹکڑے اٹھانے لگی تھی۔۔۔۔
۔۔ جلدی جلدی اٹھانے کہ وجہ سے ایک کانچ کا ٹکڑا حور کے ہاتھ میں لگ گیا تھا…..
…کیا کر رہی ہو پاگل ہو گئی ہو کیا چھوڑوں اسکو۔۔ ۔۔.ابھی اسنے اپنے درد کو سہی سے محسوس بھی نہیں کیا تھا جب کسی نے بہت نرمی سے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اسکے ہاتھ سے کانچ کے ٹکڑے نیچے پہنکے تھے …
۔۔۔حور نے جب سر اٹھا کر دیکھا تو زرخان کو اپنی طرف دیکھتا ہوا پایا تھا زر کو دیکھ کر اسکی آنکھوں میں یکدم حیرانی نے اپنی جگہ لی تھی اپنے ہاتھ میں اٹھتی درد کی ٹیسوں کو وہ بھول ہی گئی تھی…
……وہ جو آج جلدی آفس سے گھر آیا تھا لیکن حور کے ساتھ یہ سب ہوتا دیکھ اور اسکو پتانہی کیوں برا لگا تھا..
اور پھر اسکے ہاتھ میں کانچ لگتا دیکھ خود پر قابو نہیں رکھ پایا تھا اور جلدی سے اسکے پاس آکر اسکے ہاتھ سے کانچ کے ٹکڑوں کو دور ڈالا تھا…..
….دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا جو تم یہ اٹھا رہی تھی تمہارے اٹھانے سے یہ سب واپس سے پہلے جیسی نہی ہو جاتا اور ویسے بھی ٹوٹنے والی چیز تھی ٹوٹ گئی….
….حور جو سوچ رہی تھی کی اب وہ بھی اسکو کچھ غلط بولے گا یا پھر سے اس پر غصّہ کرے گا پر اسکے یہ الفاظ سن کر حور اپنی جگہ جم سی گئی تھی زر کا اتنا مہربان روپ آج اسنے پہلی بار دیکھا تھا…..
….جاؤ جا کر اس پر کچھ لگا لو خون روکنے کے لئے زر آج پہلی بار اس سے نرمی سے بولا تھا حور کے لئے یہ سب ایک خواب کہ طرح لگ رہا تھا جیسے وہ اپنی آنکھیں کھولے گی اور سب یکدم بدل جائے گا….
….وہ دونوں ایک دوسرے سے میں اتنے مگن تھے کہ وہاں دو لوگوں کی موجودگی کا انھے احساس ہی نہی تھا جو بس زر کے اس رویہ کو حیرانی سے دیکھ رہیں تھی…..
….اب یہیں کھڑی رہوگی یا جاؤ گی بھی اس پر کچھ لگانے کے لئے….اسکو وہیں کھڑا دیکھ کر اس بار زر تھوڑا سختی سے بولا تھا…..
..حور جو بس اسکو دیکھے جا رہی تھی اس بار اسکے سخت الفاظ سنکر تیزی سے وہاں سے گئی تھی کیونکہ اسکا کوئی بھروسہ نہی تھا کی کب غصّہ آ جائے…..
…..اسکے جانے کے بعد زرخان بھی اپنی ماں اور عنایہ کو حیران پریشان سا وہیں چھوڑ کر اپنے روم میں چلا گیا تھا…
….جبکہ عنایہ کو آج ی سب دیکھ کر یقین ہو گیا تھا کی زرخان کے دل میں حور کے لئے جذبات ہیں اس دن ٹیبل پر اس نے اس بات پر اتنا غور نہی کیا تھا .. پر اب اسکو کچھ تو کرنا تھا اس سے پہلے کہ زر حور کی محبت میں نہ پڑ جائے وہ زر کہ پیٹہ کو دیکھتے ہوئے سوچے جا رہی تھی….
…حور اپنے کمرے میں آ کر بیڈ پر گرنے کے انداز میں لیٹی تھی آج زر کہ آنکھوں میں اس نے جو محسوس کیا تھا اسنے اسے بوکھلا دیا تھا…
….غصّہ….نہیں……نفرت…نہی….وہ خود ہی سوال جواب کرنے لگی تھی….
….محبت….نہی…..فکرمندی….ہاں….
…وہ یکدم اٹھ کر بیٹھ گئی تھی ہاں فکرمندی تھی…
…نہی لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے….اسنے نہیں میں سر ہلایا تھا…..
لیکن ایسا ھو بھی تو سکتا ہے اسکے اندر سے یک آواز آئ تھی تو وہ پھر سے لیٹ گئی تھی..
اللہ پلز میں نے بڑی مشقل سے خود کو سمبھالا ہے کوئی ایسی چیز جو میرے لئے نہی ہے مجھے اسکے وہم میں مبتلا نہ کر وہ کافی دیر بس اللہ سے دعا کرتی رہی تھی ❤❤❤❤❤جاری ہے
