Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

❤❤❤❤❤❤میں جانتی ہوں بھائی میں نے
بہت غلط کیا ہے آپ سب کے ساتھ….
….او…اور… مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ آپ سب لوگ مجھسے کتنی نفرت کرتے ہیں …یھا…یہاں تک کہ آپ لوگ میری شقل تک دیکھنا نہی چاہتے ہیں….گل اٹک اٹک کر اپنے برابر میں بیٹھے سکندر صاحب سے بول رہی تھی اس وقت اسکو بولتے ہوئے بھی بہت تقلیف ہو رہی تھی پر آج اتنے سالوں بعد انکو دیکھ کر پھر سے اپنی غلطی کی ان سے معافی مانگ رہی تھی….
….نہی میری جان میں تم سے ناراض نہی ہوں اور میں نے تمھیں بہت پہلے ہی معاف کر دیا تھا کیونکہ ہم لوگ کون ہوتے ہیں کسی کو سزا دینے والے….سکندر صاحب تڑپ کر بولے تھے ان سے گل کی حالت دیکھی نہی جا رہی تھی وہ جو انکو کس قدر عزیز تھی آج اسکو زندگی اور موت سے لڑتا دیکھ کر انکا دل بھی تڑپ رہا تھا…..
….آپنے تو معاف کر دیا ہے بھائی پر باقی سب نے نہی میں انکی آنکھوں میں نفرت تو بہت پہلے ہی دیکھ چکی تھی اور…..اور…پھر وہ انکی بددعا بھائی سب کہ بددعا ہی لگ گئی ہے مجھے یہ سب کا دل دکھانے کے سزا ملی ہے مجھے ….اب بولتے بولتے گل کا سانس بھی پھولنے لگا تھا اسکا سب کچھ تو ختم ہو گیا تھا آج کچھ بھی تو نہی بچا تھا اسکے پاس….
…ایسا نہی کہتے…کوئی سزا نہی ملی ہی تمھیں سکندر صاحب سے اب اسکی یہ حالت برداشت نہی ہو رہی تھی اپر سے اسکی باتیں لیکن وہ سچ ہی تو کہ رہی تھی شاید سب کی بددعا ہی لگی ہے اسکو…
….بھائی مجھ سے آپ ایک وعدہ کریں گے…گل نے سکندر صاحب کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا…
….ہاں بولوں نہ کیا چاہتی ھو تم میں تمہارے لئے کچھ بھی کروں گا….سکندر صاحب سے اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تھا….
…..آ…آپ…تو جانتے ہی ہیں کہ میری بیٹی کا اس دنیا میں کوئی نہی ہے بس …م…میں آپ سے ایک وعدہ چاہتی ہوں بھائی کہ آپ میری ہانی میری حور کا خیال رکھیں گے بس ایک یہ ہی وعدہ چاہتی ہوں میں آپسے کیونکہ مجھے نہی لگتا کہ میں…
…..بس گل تم ٹھیک ہو جاؤگی تمھیں میں کچھ نہی ہونے دوں گا…سکندر صاحب اسکی بات کو کاٹتے ہوئے بولے تھے…
….جو میں نے کہا ہے وہ کرو گے نہ بھائی آپ مجھے بس یہ جاننا ہیں….
گل اپنی بات پر بضد ہوئی تھی…
….ہاں میں اسکا بلکل اپنی بیٹی کہ طرح خیال رکھوں گا بلکہ اپنی بیٹی بنا کر رکھوں گا اپنے بھائی پر یقین رکھو تم..
…سکندر صاحب گل کو یقین دلاتے ہوئے بولے تھے..
…بس بھائی مجھے آپ سے یہ ہی سننا تھا اب اگر مجھے موت بھی آ جائے تو کوئی غم نہی کیونکہ اب میری حور کو میں آپ کو سونپ چکی ہوں….سکندر صاحب کی بات سنکر گل مطمعین ہوئی تھی ….
….بس اب تم زیادہ مت بولو آرام کرو میں ڈاکٹر سے مل کر آتا ہوں سکندر صاحب سے اب اپنے آنسوں روکنا مشقل ہو گیا تھا اس لئے وہ وہاں سے اٹھتے ہوئے بولے اور روم سے نکلتے چلے گئے تھے❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤بابا آپ سمجھایں نہ پھوپھو کو میری تو یہ سن ہی نہی رہی ہیں…
حور سکندر صاحب کے پاس آتے ہوئے بولی اور انکے برابر میں صوفہ پر ہی بیٹھ گئی تھی جبکہ اسکی بات پر راحت بیگم مسکرا دی تھی کیونکہ وہ اچھے سے جانتے تھی کی وہ اس وقت ان سے کیا بات کرنے آئ ہیں….
….تو بیٹا راحت کچھ غلط بھی تو نہی کہ رہی ہے ثنا تمہاری اتنی اچھی دوست ہے اگر تم نہی جاؤ گی تو اسکو برا لگ جائے گا اور پھر وہ تم سے ناراض ہو جائے گی تو کیا تمھیں اچھا لگے گا…..سکندر صاحب بھی راحت بیگم کا جملہ دوہراتے ہوئے بولے تھے….
…پر بابا آپ ہی تو دیکھ نہ میں بیا کے بغیر وہاں کیسے چلی جاؤں اسکے اور ثنا کے علاوہ میں اور کسی کو جانتی بھی نہی ہوں ….حور نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا…..
……آج ثنا نے اپنے برتھڈے کہ پارٹی دی تھی پر بیا کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے وہ نہی جا رہی تھی جس پر اسنے فون پر ثنا سے معذرت بھی کر لی تھی پر اس نے حور کو سختی سے آنے کے لئے کہا تھا پر حور بیا کے بغیر جانا نہی چاہ رہی تھی جس پر راحت بیگم اور اب سکندر صاحب اسے جانے کے لئے منا رہے تھی کیونکہ ثنا نے صرف اپنی دوستوں کو ہی پارٹی میں بلایا تھا جس پر سکندر صاحب کو کوئی اعتراض نہی تھا…..
….تو کیا ہوا وہاں ثنا تو ہوگی نہ اگر بیا نہی ہے تو …ابکہ بار راحت بیگم بولی تھی وہ حور کو صرف اس لئے بھیجنے پر بضد تھی کیونکہ وہ کہیں کم ہی جایا کرتی تھی اور اگر جاتی بھی تو صرف بیا کے ساتھ ہی جاتی تھی جبکہ بیا کہیں نہ کہیں چلی ہی جاتی تھی ناز بیگم کے ساتھ….
….پر پھوپھو میری بات تو سمجھنے کی کوشش کریں میں جاؤں گی کس کے ساتھ اور آنا بھی تو ہوگا نہ اور آپ جانتی ہیں آتے وقت دیر بھی ہو سکتی ہیں…اس بار حور کچھ مانتے ہوئے بولی….
….تو بیٹا میں چھوڑ آؤں گا تمہیں اور ثنا نے بولا ہے کہ وہ تمھیں گھر خود چھوڑنے آۓ گی تو اب اس میں اتنا سوچنا کیوں جاؤ جا کر تیار ہو جاؤ….سکندر صاحب اسکو سمجھانے والے انداز میں بولے…..
….پر بابا آپکی طبیعت بھی ٹھیک نہی ہے آپ جاؤ گے اور پھر آؤ گے بھی حور فکرمندی سے بولی….
….میں نے کہا نہ حور تم جاؤ اب بس میں کوئی بہانہ نہی سنوں گا سکندر صاحب کی بات پر وہ چپ چاپ تیار ہونے چل دی تھی اسکو جاتا دیکھ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا دئے تھے❤❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤چٹاخ کہ آواز پورے لاؤنج میں گونج تھی وہاں موجود سب ہی لوگوں نے حیران نظروں سے سکندر صاحب کو دیکھا تھا تھا جو اس وقت خونخار نظروں سے اپنے گال پر ہاتھ رکھے ناز بیگم کو گھور رہے تھے…..
…..بس ایک لفظ اور نہی ناز ورنہ مجھ سے وہ ہو جائے گا جس پر مجھے بعد میں پچھتانا پڑے…وہ انگلی اٹھا کر انکو وارن کرتے ہوئے بولے تھے انکی آنکھوں میں اس وقت خون سوار تھا….
….بولوں گی میں چپ نہی رہوں گی زر میرا بھی بیٹا ہیں اور آپ ایسے کیسے اسکا نکاح کسی سے بھی کر سکتے ہیں میں نہی مانتی اس نکاح کو پتانہی کس کا گندا خون ہے جسکو آپ میرے بیٹے کی بیوی….
سکندر صاحب کا ہاتھ ایک بر پھر اٹھا تھا اور ناز بیگم کا جملہ منہ میں ہی رہ گیا تھا…..
….سکندر یہ کیا کر رہے ہو تم تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے نہ ….. عمر صاحب بیچ میں آتے ہوئے بولے تھے جبکہ راحت بیگم اور عالیہ بیگم حیران کھڑی ی سب دیکھ رہی تھی….
…..دماغ میرا نہی تمہاری بہن کا خراب ہو گیا ہے اور کہ دو اس سے کہ حور اب سے اس گھر کہ بہو ہے یہ مانے یا نہ مانے سکندر صاحب ڈری سہمی کھڑی حور کو اپنے سے لگاتے ہوئے بولے تھے…
..آج گل کی حالت یکدم ہی خراب ہو گئی تھی انکی حالت کو دیکھ کر سکندر صاحب نے ایک فیصلہ لیا تھا وہ زر کو ہسپتال لے آۓ تھے اور یوں انہونے حور کو زر کے نام لکھ دیا تھا بارہ سالہ زر بس اپنے باپ کو یہاں سے وہاں پھرتا دیکھ رہا تھا جبکہ چار سالہ حور اپنی ماں کے بیڈ سے لگی کھڑی تھی…..
…..بھائی میں آپ سے بس ایک اور وعدہ چاہتی ہوں آپ گھر پر کسی کو مت بتانا کہ یہ میری بیٹی ہے کیونکہ میں نہی چاہتی کہ وہ لوگ مجھ سے جتنی نفرت کرتے ہیں اتنی ہی نفرت میری بیٹی سے کریں آپ اور اسکو میری غلطی کی سزا نہ دیں آپ کسی کو مت بتانا بھائی پلز جبتک ان لوگوں کے دل سے میرے لئے ناراضگی ختم نہی ہو جاتی تب تک آپ کسی کو کچھ مت بتانا کی یہ کسی بیٹی ہے…
….اور یہ آخری وعدہ لیا تھا گل نے سکندر صاحب سے اور سکندر صاحب نے بھی وعدہ کر دیا تھا اسکے کچھ وقت بعد ہی گل بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئی تھی سکندر صاحب کے لئے یہ بہت بڑا صدمہ تھا اور گھر آکر انہونے بس اتنا بتایا کہ یہ انکی دوست کی بیٹی ہے اور اب سے زر کہ بیوی جسے سنکر ناز بیگم پھٹ پڑی تھی اور حور کو غلط الفاظ کہنے لگی تھی جس پر سکندر صاحب کہ دو بار ہاتھ اٹھ چکا تھا ….
…نہی مانتی میں اسکو کچھ بھی نہ ہی میرا بیٹا مانے گا….ناز بیگم پھر سے چلا کر بولی اور زر کیطرف دیکھا جو اپنی ماں کو ہی دیکھ رہا تھا….
…..یہ تو وقت بتائے گا اور زر میرا بیٹا ہے جیسے آج اسنے میرا فیصلہ مانا ہے کل بھی وہ میرے اس فیصلے کو ضرور مانے گا….سکندر صاحب ایک غصّیلی نگاہ ناز بیگم پر ڈال کر حور کو اپنے ساتھ روم میں لے گئے تھے پر وہ نہی جانتے تھے کہ آگے چل کر کیا ہونے والا تھا…..
…..اور بس جب سے ہی ناز بیگم کے دل میں حور کے لئے نفرت بیٹھ گئی تھی اور یہ ہی نفرت وہ بچپن سے ہی زر کے دل میں ڈالتی چلی گئی تھی زر چھوٹا اور معصوم تھا اس معصوم کے دل میں انہونے حور کے لئے اتنی نفرت پیدا کر دی تھی کہ وہ اسکی شقل تک دیکھنا پسند نہی کرتا تھا بڑے ہوتے ہوتے یہ نفرت اور بڑھتی چلی گئی تھی اور اس نفرت کا فائدہ عنایہ اٹھاتی تھی جو شروع سے ہی زر کو پسند کرتی تھی اور صرف اس پر اپنا ہی حق سمجھتی تھی…
…..جتنی نفرت زر حور سے کرتا تھا اس کئیں زیادہ حور اس سے محبت کرتی تھی ❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
❤❤❤❤❤❤حور جلدی کرو دیر ہو رہی ہے …راحت بیگم حور کو دیکھ کر ایک پل کو رکی تھی جو اس وقت بہت پیاری لگ رہی تھی انہونے دل ہی دل میں اسکی نظر بھی اتاری تھی….
….جی پھوپھو بس جا ہی رہی تھی…حور ایک بار پھر سے آئینے میں خود کو دیکھتی ہوئی بولی اور انکو سلام کرتی جلدی سے روم سے نکلتی چلی گئی تھی …راحت بیگم اسکی جلد بازی پر مسکرا دی تھی ….
حور جلدی جلدی قدم اٹھاتی کار کیطرف جا رہی تھی جب اسکی نظر کار سے ٹیک لگے کھڑے زرخان پر پڑی تھی
۔۔زرخان کو دیکھتے ہی وہ تھوڑا حیران ہونے کے ساتھ ساتھ ڈر بھی گئی تھی اسنے نظر ادھر ادھر کر کے دیکھا پر بابا اسکو کہیں نظر نہی آۓ تھے اب وہ دھیرے دھیرے نظریں جھکا کر چلنے لگی تھی۔۔۔
زرخان نے جیسے ہی نظر اٹھا کر سامنے دیکھا تو بس دیکہتا ہی رہ گیا حور نے اس وقت ڈارک گرین کلر کے سوٹ پہنا ہوا تھا اور دونوں ہاتھوں میں میچئنگ چوڑیاں پہن رکھی تھی جبکہ آج اسنے بالوں کو کھولا چھوڑ رکھا تھا اس وقت وہ زر کو اپنے دل میں اترتی محسوس ہوئی تھی زر کو اس پر سے اپنی نظریں ہٹانا مشقل لگ رہا تھا آج کل وہ زر کے لئے امتحان بنی ہوئی تھی….
….جلدی بیٹھوں دیر ہو رہی ہے زر اسکے قریب آتے ہی اپنی کیفیت پر قابو پاتے ہوئے بولا تھا….
…لیکن میں تو بابا…حور اپنی حیرانی پر قابو پاکر بولی تھی ورنہ اسکو تو یقین ہی نہی آ رہا تھا کی زر اسکو لے کر جا رہا ہے…
….بابا کہ طبیعت ٹھیک نہی ہے اور میں انکو جانے نہ دیتا ایسی حالت میں اب اگر مزید دیر کرنے کا ارادہ ہے تو شوق سے کھڑی رہو پھر….زر نے جب سنا کہ وہ حور کو چھوڑنے جا رہے ہیں تو مجبورن اسکو انکو جانے سے منا کرنا پڑا کیونکہ وہ ایسی حالت میں انکو ڈرائیو نہی کرنے دیتا تھا جبکہ اسکو یہ جان کر ہی غصّہ آ رہا تھا کی وہ فیصل کے گھر جا رہی ہے اسکا بس چلتا تو وہ جانے ہی نہی دیتا پر یہ بھی اسکی ایک مجبوری تھی..
….زر اسکی بات کا جواب دے کر کار میں بیٹھ گیا تھا تو حور بھی اسکی بات اور اسک میں چھپے غصّے کو محسوس کر کے جلدی سے کار میں بیٹھ گئی تھی….
….زر خاموشی سے ڈرائیو کر رہا تھا پر بار بار حور پر نظر بھی ڈال لیتا تھا جو باہر کے نظاروں میں کھوئی ہوئی تھی….
….یہ چوڑیاں اتارو۔۔حور جو باہر دیکھ رہی تھی زر کہ آواز پر اسکی طرف موڑ کر نہ سمجھی سے دیکھنے لگی تھی…..
…..میں نے کہا ہے یہ چوڑیاں اتارو ۔۔۔زر ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے بولا تھا….
….حور اسکی بات سن کر جلدی جلدی اپنی چوڑیاں اترنے لگی تھی اسکی سمجھ نہی آ رہا تھا وہ یہ کیوں کر رہا تھا پر وہ اسکے غصّے سے ڈرتے ہوئے یہ سب کر رہی تھی…..
…..زر نے اسکے ہاتھ سے چوڑیاں لے کر چلتی کار سے باہر پھینک دی تھی….
…اور یہ لیپسٹک بھی صاف کرو زر اسکی طرف ٹیشوں بڑہاتے ہوئے بولا تھا اور حور نے جلدی سے ٹیشوں لے کر اپنی لیپسٹک صاف کہ تھی جبکہ زر آرام سے کار ڈرائیو کر رہا تھا اور حور کو جلدی جلدی اسکی بات پر عمل کرتے ہوئے بھی دیکھ رہا تھا….
.اب ٹھیک ہیں..جب حور کہ ساری تیاری وہ اچھے سے خراب کر چکا تو ایک بار پھر اچھی طرح اسکی طرف دیکھ کر بولا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ فیصل بھی وہاں ہوگا اور وہ کہاں برداشت کر سکتا تھا کہ فیصل حور کو اس روپ میں دیکھتا اب جاکر اسکو کچھ سکوں ملا تھا….
…..اگر واپسی پر دیر ہو جائے تو فون کر دینا ورنہ کسی کے ساتھ بھی آنے کی ضرورت نہی ہے…فیصل کے گھر کے پاس آکر وہ کار روک کر بولا تھا حور اسکی بات سن کر بس گردن ہلا کر رہ گئی تھی…..
…..یہ بال بھی باندھ لینا….جب وہ کار سے اتر رہی تھی تو زر کا ایک اور حقم اسکو ملا تھا اس سے پہلے کی وہ کچھ کہتی زر گیٹ بند کر کے زن سے گاڑی بھگا لے گیا تھا…..
…..جبکہ حور بہت دیر تک کھڑی بس اسکی کار کو دور جاتا دیکھتی رہی تھی آج زر کا رویہ اسکی سمجھ سے باہر تھا اسکو سمجھ نہی آ رہا تھا کہ زر نے اس سے یہ سب کیوں کروایا تھا…
وہ سمجھ نہی پا رہی تھی کیسا تھا یہ شخص کبھی نرم تھا تو کبھی دھوپ کہ طرح گرم بھی تھا وہ اپنی انھیں سوچوں میں ڈوبی اندر کیطرف چل دی تھی ❤❤❤❤❤❤جاری ہے.